Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ربانیہ کمرے میں داخل ہوئی …
اب وہ فرصت سے کمرے کا تفصیلی جائزہ لے رہی تھی ..
کمرے کے بلکل درمیان میں بلکل سفید گول بیڈ موجود تھا ..
جس کو اوپر رائیل بلو کلر کی بیڈ شیٹ سلیقے سے بچھی تھی …
بیڈ کے اوپر دیوار پر زایان کی فل سائز کی پکچر لگی تھی جس میں وہ بلو جینز کے اوپر وائیٹ کلر کی ٹی شرٹ پہنے بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا …
بیڈ کی لیفٹ سائیڈ دیوار میں قد آدم آئینہ نسب تھا اور ڈریسنگ ٹیبل پر زایان کے پرفیومز وغیرہ ترتیب سے رکھے تھے …
روم میں ہی اٹیچ باتھ موجود تھا …
تھوڑا سا آگے آنے پر ربانیہ کو ایک دروازہ نظر آیا ..
اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا اور اندر آئی یہ ڈریسنگ روم تھا جہاں دیواروں میں چاروں اطراف الماری بنی تھی ..
جہاں ایک خانے میں زایان کے فارمل اور ایک میں کیجول ڈریس موجود تھے …
ایک ڈراور میں اس کی تمام برینڈڈ گھڑیاں رکھی تھیں ..
اس کی کلیکشن دیکھ کر ربانیہ کو اندازہ ہوا کہ وہ ریسٹ واچز جمع کرنے کا شوق رکھتا تھا …
اس کے تمام جوتے الگ الگ باکسز میں ترتیب سے رکھے تھے ..
رابانیہ سراہتی نظروں سے ہر چیز کو دیکھ رہی تھی ..
وہ ڈریسنگ روم سے باہر آئی …
اور باقی روم کا جائزہ لینے لگی …
بیڈ کی پیروں والی سائیڈ رائیل بلو کلر کا کارپٹ بچھایا گیا تھا ..
اور بیڈ کی سامنے والی دیوار پر فل سائز ایل سی ڈی نسب تھی …
اور ایل سی ڈی کے بلکل نیچے ٹو سیٹر صوفہ موجود تھا ..
اور سامنے کارنر والی دیوار میں بک شیلفز بنے ہوۓ تھے ..
جس میں کئی کتابیں بلکل ترتیب سے لگی ہوئی تھی ..
اور انہی بک شیلفز کے نیچے وائیٹ کلر کی اسٹڈی ٹیبل موجود تھی ..
جہاں زایان کا لیپ ٹاپ ، فائلز اور دیگر سامان بلکل ترتیب سے رکھا تھا …
اور ساتھ موجود پوری دیوار کے آگے وائیٹ اور رائیل بلو دبیز پردے موجود تھے ..
رابانیہ نے ہاتھ بڑھا کر پردوں کو ہٹایا تو سامنے شیشے کے دروازے سے چاند بےحد خوبصورت لگ رہا تھا ..
رابانیہ نے دروازا کھولا ..
یہ کمرے سے منسلک بالکونی کا دروازہ تھا ..
بالکونی میں آتے ہی سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے وجود سے ٹکرایا …
بالکونی میں کھڑے ہوکر نیچے موجود لان کا نہایت حسین منظر دکھائی دیتا تھا ….
آنی کے گھر کا لان تو اسے پہلے سے بہت پسند تھا ..
اور اب اس نے محسوس کیا تھا کہ یہ لان یہاں سے دیکھنے میں اور بھی پیارا لگ رہا تھا ..
وہ اب بلکونی کا دروازہ بند کرتی ہوئی واپس روم میں آگئ ..
اس نے نوٹ کیا تھا کہ روم میں موجود ہر چیز وائیٹ اور رائیل بلو کلر کی تھی …
شاید رائیل بلو کلر زایان کا فیورٹ ہوگا وہ سوچ کر مسکرائی تھی …
مگر جو بھی تھا پورا کمرا ویل ڈیکوریٹڈ تھا …
اور اس کمرے میں رہنے والے فرد کے زوق کا منہ بولتا ثبوت تھا ..
وہ اس کمرے کو آج پہلی بار دیکھ رہی تھی …
کیونکہ آج سے پہلے کبھی وہ زایان کے روم میں آئی ہی نہیں تھی …
جس طرح کا وہ رویہ رکھتا تھا اس کے ساتھ اسے دیکھتے کبھی ہمت ہی نہیں کی تھی اسکے کمرے میں آنے کی …
جبکہ آج وہ پورے حق سے اس کمرے میں موجود تھی ..
اس نے اپنا ایک ڈریس نکالا کیونکہ ہڑبڑی میں اس نے چینج ہی نہیں کیا تھا اور چینج کرنے چلی گئی اس نے پنک کلر کی سادہ سی شلوار قمیض پہنی جس کا دوپٹہ بھی پنک ہی تھا جسے اس نے گلے میں سجائے رکھا اور اپنے لمبے سنہری بال کھلے چھوڑے۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے ڈریسنگ روم کا رخ کیا اور اس میں کپڑے سیٹ کرنے لگی اس نے وہاں ایک ہی الماری فری دیکھی اور وہ کافی بڑی تھی شاید آنی نے اسے کیلئے فری کروائی ہو۔۔۔۔۔
تقریبا ایک گھنٹے میں اس نے الماری سیٹ کی اسے بار بار ایک عجیب سی فیلنگ آرہی تھی کہ کیا وہ ٹھیک کررہی ہے زایان کو اس کی موجودگی بری نہ لگے مگر پھر اسے پھپھو کی کہی باتیں یاد آجاتی کہ “وہ مجھ سے کئی بار کہ چکا ہے کہ تمہیں لے آئو” پھر وہ ریلکس ہو جاتی
الماری سیٹ کرنے کے بعد وہ اس بڑے سے صوفے پر بیٹھ گئی اچانک اس کے فون پر رنگ ہوئی
ایمن کالنگ دیکھ کر اس نے فون اٹھایا
“السلام علیکم آپی”
ہمیشہ کی طرح وہی پر خلوص لہجہ
“وعلیکم سلام میرے بڑے والے بھائی کے چھوٹی سی بھابھی جی ویلکم ٹو آر ہوم”
پیچھے سے اس کی شرارت بھری آواز آئی
“شکریہ آپی”
“سوری بھابھی جی وہ کیا ہے نا مجھے جانا پڑا چھٹیاں بہت کرلی تھی ورنہ میں یہاں ہوتی تو تمہارا وہ دھوم دھام استقبال کرتی کہ دنیا دیکھتی” ۔۔۔۔۔
ایمن اس وقت بالکونی میں کھڑی باہر کے منظر کا جائزہ لے رہی تھی
وہ بس ہلکا سا مسکرائی
“اچھا رابی میں جلد آنے کی کوشش کرو گی تم جب بھی بور ہو مجھے کال کر لینا”۔۔۔۔۔
وہ شاید اس کا اکیلا پن دور کرنا چاہتی تھی
“جی آپی کیو نہیں”
اس کے بعد انھوں نے دو تین باتیں اور کی اور فون رکھ دیا
اچانک اسے بھوک کا احساس ہوا اس نے حسان کو تو صبح ناشتہ کروا دیا تھا مگر خود نہیں کیا تھا اور رات کا کھانا بھی اسے آنی نے حسان کے کمرے میں بھجوا دیا تھا ۔۔۔۔۔
مگر اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور اوپر سے آنی نے اسے کہا تھا کہ جب تک زایان نے آئے وہ کھانا نہ کھائے اسی کے ساتھ کھائے ۔۔۔۔
اسے بوریت ہونے لگی تو وہ کمرے سے باہر چلی آئی تاکہ ایک نظر حسان کو دیکھ لے
وہ نیچے آئی اور اس نے حسان کے کمرے کا رخ کیا
اس نے دروازہ کھولا اور اندر دیکھا تو وہ سو رہا تھا گہری نیند میں اس نے حسان کے کمرے کی لائٹس آف کردی کیونکہ اسے اندھیرے میں سونے کی عادت تھی وہ ربانیہ کے برعکس تھا ان دونوں کی اکثر باتیں ایک دوسرے کے برعکس تھی
وہ اس کو دیکھنے کے بعد آنی کے کمرے کی طرف گئی مگر ان کا کمرہ لاک تھا شاید وہ سو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
اسے اب شدید بوریت کا احساس ہونے لگا
اس نے سوچا کیو نہ وہ سو جائے
وہ اپنے کمرے میں آ گئی اور اس بیڈ نما صوفے پر لیٹ گئی سردی اتنی نہیں تھی کہ وہ بلنکٹ لیتی مگر اسے نیند ہی نہیں آرہی تھی وہ مسلسل کروٹیں لے رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر بالکونی کے دروازے پر گئی وہ اٹھی اور بالکونی میں آگئی ایک یہی جگہ تھی جو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی وہ گریل سے نیچے دیکھنے لگی یہ منظر اسے دنیا کا حسین منظر لگا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو رہی تھی وہ اپنی ہی میں مگن تھی کہ جب اسے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی چوکیدار نے دروازہ کھولا
اور زایان نے اپنی گاڑی اندر پارک کی اس کی نظر جب زایان کی گاڑی پر پڑی تو وہ بالکونی سے بھاگتی ہوئی کمرے میں آگئی اس نے زایان کو دیکھا تک نہیں کیونکہ اسے ابھی اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ تیمور کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ زایان نے کیا ہے اسے بہت سارے جواب چاہیے تھے زایان سے اگر وہ یہ سب نا کرتا تو شاید آج اس کی ماں زندہ ہوتی وہ اس سے ڈھیروں سوال کرنا چاہتی اس لیئے وہ مسلسل کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی اس کا انتظار کررہی تھی مگر پندرہ منٹ ہوگئے وہ کمرے میں نہیں آیا ۔۔۔۔
اسے مجبورن نیچے جانا کی پڑا
وہ سیڑھیاں اترتی بنا آواز کیے نیچے آئی اور حال میں آکر دیکھا تو زایان صوفے سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے ہوا تھا وہ دل ہی دل میں کئی وظیفے پڑھ رہی تھی اس وقت وہ واقعی تھکا ہوا لگ رہا تھا اس کے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے اس کا کوٹ صوفے پر پڑا تھا
وہ بوجھل قدموں کے ساتھ اس کے نزدیک آئی
س۔۔سن۔۔سنے اس کی آواز کسی کھائی میں سے آئی
مگر زایان ابھی بھی آنکھیں بند کیے ہوئے تھا
وہ بار بار اپنے ہاتھ رگڑ رہی تھی
اسے لگا کہ شاید وہ سو گیا ہے اور اب نہیں اٹھے گا تو وہ جانے لگی ابھی وہ سیڑھیوں تک ہی پہنچی ہوگی۔۔۔
“آخر تمہیں میرے پاس آنا ہی پڑا”
اس کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا اس کے قدم رکے وہ مڑی
زایان ابھی ویسے ہے صوفے سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے ہوئے تھا
وہ تو جیسے وہی جم سی گئی اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی
جب ربانیہ نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا تو اس نے اپنی آنکھیں کھولی اور صوفے پر سے اٹھا
وہ آنکھوں میں سرد تاثرات لیئے جیسے جیسے اس کے نزدیک آرہا تھا ویسے ویسے اس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار تیز ہوگئی ربانیہ نے اپنی نظریں نیچے کرلی
وہ جو سوچ کر آئی تھی کہ اس سے اپنے سوالوں کا جواب لے گی مگر اس کی آگے تو اس کی زبان کو تالا لگ گیا۔۔۔
وہ اس کے عین سامنے رکا اس کی آنکھوں میں ربانیہ کو سوائے تھکن کے اور کچھ نظر نہ آیا
وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو اس کی آنکھیں پلک جھپکانا بھول گئیں
ربانیہ کی نظریں مارے حیا کے آٹھ ہی نہیں رہی تھیں وہ مسلسل اپنے ہاتھ آپس میں رگڑ رہی تھی
زایان نے جب اس کی اس حرکت کو دیکھا تو اس کے ہونٹوں کو بے ساختہ مسکان نے چھوا
اس کے چہرے کو چھوتی کچھ آوارہ لٹیں زایان کی آنکھوں کو چبنے لگی اس نے اپنے ہاتھ آگے بڑھایا اور ان آوارہ لٹوں کو اس کے کان کے پیچھے کیا۔۔۔۔۔۔
اس کی اس ہرکت پر ربانیہ سمٹ سی گئی اس نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی
اچانک زایان کے چہرے کے نقوش بدلے اس کی آنکھوں میں غصہ بھر آیا اس نے غصے سے اس کے بازو کو دبوچا
“کیسا لگ رہا ہے ربانیہ تمہیں مسز زایان بن کر” ۔۔۔۔۔
وہ اسے حال سے لے کر کمرے تک گھسیٹتے ہوئے لے آیا اور اسے فرش پر لا پٹکا ۔۔۔
“چچ چچ چچ چچ مجھے بےحد افسوس ہے کہ تم زندگی میں ایک ایسا طوفان آنے والا ہے جس کیلئے اب تمہیں خود کو تیار کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔
وہ گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھا اور ربانیہ کا منہ دبوچ لیا
“پلیز مجھے درد ہورہا ہے چھوڑے مجھے”۔۔۔
وہ سسکتی اسے التجا کرنے لگی
ربانیہ کی بات سن کر وہ قہقہ لگائے ہنسا
“اس درد نہیں کہتے میری جان درد تو اب شروع ہوگا تمہاری اس بد چلن ماں کی سزا اب ساری زندگی تم بھگتو گی سمجھی ۔۔۔۔۔۔
طلاق چاہتی تھی مجھ سے اگر دوبارہ طلاق کا لفظ اپنے منہ سے نکالا تو زبان گدی سے کھینچ لونگا میں تمہاری
وہ چیخا “میں نے سوچا تھا تمہیں تمہاری اس ماں کے آگے تڑپائوں گا مگر وہ تو مر گئی مگر کوئی بات نہیں تم روئوں گی اسے تکلیف ہوگی ۔۔
اس نے بے دردی سے اس کی بازوں کے پکڑا اور کھڑا کیا “تمہیں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے نا آج میں تمہیں اندھیرا دکھاتا ہو چلو”۔۔۔۔
کہتے ہی اسے کھینچے لیتا چلا گیا
“نہیں پلیز نہیں میں آج کے بعد آپ کے سامنے بھی نہیں آئوں گی پلیز مجھے اندھیرے میں مت لے جائے پلیز”۔۔۔۔
وہ روتی اپنا بازو اس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کررہی تھی
زایان اسے ڈریسنگ روم میں لے گیا اور اسے دور پھینکا
اس نے وہاں کی لائٹس کا فیوز نکال لیا اور وہاں اندھیرا چھا گیا
“زایان زایان نہیں مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے پلیز مجھے اکیلا مت چھوڑے۔۔۔ وہ وہی بیٹھے چلانے لگی
مگر زایان نے اس کی ایک نہ سنی اور ڈریسنگ روم کا ڈور لاک کردیا
ربانیہ کو اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آرہا وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی مگر زایان ان آوازوں کو ان سنا کرتا بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا
اس کی ایک ہاتھ میں ریموٹ تھا اور چہرے پر اپنی جیت کی مسکراہٹ آخر وہ اس نے اپنا بدلہ کا ایک پہلو شروع کردیا تھا
ربانیہ ہمت کرتی اپنی جگہ سے اٹھی اور آخر ڈریسنگ روم کے دروازے تک پہنچی اور دروازہ پر زور زور سے ہاتھ مارنے لگی
“دروازہ کھولے پلیز کھولے دروازہ مجھ۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز دروازہ کھولے” ۔۔
اس کی آواز میں کیا نہ تھا درد مایوسی بےبسی
زایان کے کانوں میں جیسے ربانیہ کی آوازیں تیز ہوئیں اس نے ٹی وی کا ولیوم تیز کردیا
ربانیہ مسلسل دروازہ پیٹتی رہی اس سے رحم کی بھیک مانگتی رہی مگر وہ تو جیسے آج قسم کھاکر آیا تھا کہ مر جائے گا مگر رحم نہیں کرے گا ۔۔۔۔
ایک گھنٹہ گزر گیا مگر ربانیہ کی چیخوں میں کوئی کمی نہ آئی زایان ٹی وی دیکھتے دیکھتے سو گیا آخر تھک ہار کر ربانیہ بےحوش ہوگئی صبح سے بھوک پھر اندھیرے کے اس خوف نے اس کے حواسوں کو بے جان کردیا آخر اس کا قصور ہی کیا تھا اس نے تو آج تک کسی سے اونچی آواز میں بات تک نہ کی تھی پھر کس جرم کی سزا تھی جو اسے ملی تھی ۔۔۔۔۔۔
رات کے تین بجے زایان کی آنکھ کھلی وہ اکثر اس وقت جاگتا اور اپنے لیپ ٹاپ میں آفس کا کام کرتا رہتا جیسے ہی وہ بستر پر اٹھا سامنے ایل سی ڈی کھلی دیکھی اس نے وہ بند کی اچانک اس کے ذہن میں ربانیہ کا چہرہ آیا
“O MY GOD میں اسے کیسے بھول گیا”
وہ جلدی سے اپنے بستر پر سے اٹھا اور ڈریسنگ روم کی طرف بھاگا اس نے ڈور کھولا تو ہر طرف تاریکی ہی تاریکی اسے نظر آئی وہ دوبارہ روم میں آیا اور اپنا موبائل اٹھایا فلیش آن کی اور ڈریسنگ روم میں آگیا دروازے سے تھوڑا دور اسے ربانیہ کا وجود نظر آیا اس نے اپنی جیب سے فیوز نکالا اور اسے لگایا تو پورا ڈریسنگ روم روشن ہوگئی اس نے اپنا موبائل پاکٹ میں ڈالا اور ربانیہ کی طرف بھاگا
اس کا پورا چہرہ پسینے سے شرابور تھا ہاتھ ٹھنڈا پڑ گئے تھے
ربانیہ ربانیہ اٹھو وہ مسلسل اس کی ہاتھوں کو مل رہا تھا اسے امید ہی نہ تھی کہ ربانیہ اس قدر سہم جائے گی وہ اس کے وجود کو اپنی بازوئوں پر اٹھائے بیڈ پر لے آیا اور اسے لٹایا اس پر بلینکٹ اوھڑایا ۔۔۔۔۔۔
زایان نے اس کی نبض چیک کی تو وہ بہت سلو چل رہی تھی اس نے گلاس میں پانی انڈیلا اور اس کے منہ پر چھینٹے مارے مگر وہ حوش میں ہی نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔
“اب میں کیا کرو اس کا” اس نے پریشانی میں اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا
اس نے ایک بات پھر پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر مارے تو ربانیہ نے آنکھوں کو ہلکی سی جنبش دی
شکر اسے حوش آرہا ہے وہ دوسری سائڈ پر اس کے سرہانے آ بیٹھا اور اس کے ہاتھوں کو ملنے لگا
کھ۔۔کھل۔۔و۔۔پ۔لی۔ز۔کھول۔و۔۔
وہ بےحوشی کی حالت میں اپنے کہے الفاظ دوہرا رہی تھی
“ربانیہ اٹھو” اس نے ربانیہ کا چہرا تھپتھپایا مگر وہ نیند میں جا چکی تھی
جب زایان کو لگا کہ وہ ٹھیک ہے تو اس نے شکر کے کلمات ادا کیئے
پھر وہ ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلا گیا کیونکہ وہ ابھی بھی آفس گیٹ اپ میں تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
تیمور ابھی ابھی گھر آیا تھا تو سامنے عمر صاحب کو کرسی پر بیٹھے دیکھا
“ابا جان آپ جاگ رہے ہیں” وہ پریشان نظروں سے پوچھنے لگا
“تم بھی تو جاگ رہے ہو”
“یہ تو اب ساری زندگی کا روگ ہے خیر یہ بتائیں آپ کیو جاگ رہے ہیں”
وہ زمین پر بیٹھ گیا اور عمر صاحب کی گود میں سر رکھ دیا
“اپنے اکلوتے جوان بیٹے کو جو میرے بڑھاپے کا سہارا ہے ایسے مارا مارا دیکھو گا تو کیا میں چین سے سو پائوں گا”
ان کی اس بات سے تیمور کی آنکھیں بھیگ گئی
“نہیں ابا جان آج آفس میں کام بہت زیادہ تھا اس لیئے دیر ہوگئی”
“ارے تمہیں تو جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا” عمر صاحب نے فورن اس کا جھوٹ پکڑ لیا
“ابا جان میں کیا کرو آپ ہی بتائیں مجھ سے میرا سب کچھ ریت کی طرح پھسل گیا اپنی زندگی اپنی محبت سب کچھ کھو دیا میں نے آخر میرا قصور کیا تھا”
اس نے اپنا سر ان کی گود سے اٹھایا اور اپنی بھیگی آنکھیں صاف کی
“جانتا ہو بیٹا مگر کیا تمہیں ربانیہ اتنی عزیز تھی کہ تم اس کے غم میں مجھے بھول گئے کہ تمہارا بوڑھا باپ سارا سارا دن اکیلا پڑا رہتا ہے اور تم اسے دیکھنے ہی نہیں آتے “
“ابا جان مجھے معاف کردے اس وقت میرے بس میں کچھ نہیں” اس نے عمر صاحب کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے
“تو کیا کرو گے خدا کے فیصلے سے لڑ جائوں گے ارے پاگل جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں انسان کا اس میں کوئی بس نہیں چلتا یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ ربانیہ اور زایان کا نکاح ہوا تو پھر یہ روگ کیو”۔۔۔
“اللہ نہ کرے ابا جان کہ میں خدا کے فیصلے سے بھڑ جائوں اور میری یہی دعا ہے کہ اللہ ربانیہ اور زایان کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے بس مجھے سنبھلنے کیلئے کچھ وقت چاہیے”۔۔۔
“شاباش بیٹا مجھے تم سے ایسی ہی امید تھی اللہ میرے بیٹے کے نصیب میں بھی جلد خوشیاں لائے آمین اچھا تم فریش ہوجائو میں کھانا لگاتا ہو”۔۔۔۔
وہ یہ کہ کر اٹھ کھڑے ہوئے
“ابا جان آپ نے کھانا نہیں کھایا تھا اب تک” وہ باپ سے شکوہ کرنے لگا
“ارے نہیں کھایا تھا مگر اب چار بج رہے ہیں پھر بھوک لگ رہی ہے تو میں پھر کھائو گ”ا
وہ اس کا موڈ بہتر کرنا چاہتے تھے
“ہاہاہاہا ابا جان آپ بھی نا اچھا آپ کھانا لگائیں میں آتا ہو” وہ یہ کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا
عمر صاحب بھی کچن کہ جانب چل دیے
۔۔۔۔۔۔
زایان چینج کر کے روم میں واپس آیا گیلے بالوں کو ٹاول سے رگڑتے وہ شیشے کے سامنے آن کھڑا اس وقت وہ بلیک ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس تھا اس نے شیشے سے ایک نظر ربانیہ پر ڈالی جو دنیا جہان سے غافل سو رہی تھی اور سوتے ہوئے وہ کوئی پیاری سے گڑیا لگ رہی تھی
اپنے بالوں میں برش کرنے کے بعد وہ اپنی سٹڈی ٹیبل کی جانب آیا ۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنا لیپ ٹاپ ٹیبل سے اٹھایا اور بیڈ کی دوسرے سائڈ پر ٹانگیں پھیلائے ان پر لیپ ٹاپ رکھے کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔۔۔
آج اسے یہ تبدیلی شدت سے محسوس ہورہی تھی کہ اس کا کمرہ جہاں وہ کسی اور کو آنے بھی نہیں دیتا تھا بٹ چکا ہے اس نے لیپ ٹاپ آن کیا مگر اس کا کام میں دل ہی نہیں لگ رہا تھا اس کی نظریں بھٹک کر بار بار ربانیہ کے حسن کا طواف کررہی تھی
آخر احتجاج کی اس جنگ میں دل جیت گیا اس نے لیپ ٹاپ سائد پر رکھا۔۔۔۔۔۔
اور ربانیہ کو دیکھنے لگا وہ اتنے قریب سے اسے پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا
اس کے چہرے پر آنسوں بہ کر سوکھ چکے تھے ربانیہ کی گردن پر آتے بالوں کو اس نے آہستہ سے ہٹایا ۔۔۔۔۔
اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھنے لگا
“کاش بانی کاش کہ تم سمیرا احمد کی بیٹی نہ ہوتی کاش تم میں اس کی دی تربیت نہ ہوتی تو میں تمہیں اتنی محبت دیتا جس کا تم کبھی پیمانہ بھی نہیں کرسکتی”۔۔۔ شہادت کی انگلی سے وہ اس کے چہرے کے ایک ایک پور کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے بچپن میں پیار سے بانی کہتا وہ عمر میں اس سے تیرہ سال بڑا تھا مگر وہ اسے پسند کرتا تھا آخر ایسا کیا ہوا جو زایان اپنی ممانی کے گھر جانے کی ضد ہمیشہ کرتا اپنی بانی سے ملنے کو بےتاب رہتا آج ان کیلئے دل میں اتنی نفرت کیو
اس نے لائٹس آف کی اور ربانیہ کی طرف پشت کیے سو گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔
صبح آذان کی آواز پر ربانیہ کی آنکھ کھلی اس کی آنکھوں کے آگے ابھی بھی دھندلا پن تھا اس نے اٹھنے کہ کوشش کی مگر وہ پوری زایان کی گرفت میں تھی اس نے اپنا سر زایان کی بازو پر رکھا ہوا تھا اور زایان نے اپنا ایک ہاتھ اس اوپر پھیلایا تھا ۔۔۔۔۔ ان کے چہرے ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ سانسیں آپس میں ٹکڑا رہی تھیں
وہ گہری نیند میں سو رہا تھا رات کا سارا منظر ربانیہ کے ذہن میں آیا
“میں تو ڈریسنگ روم میں تھی تو یہاں کیسے اور یہ “۔۔۔۔۔اس نے ایک کوفت بھری نظر زایان پر ڈالی اور اٹھنے لگی مگر زایان نے گرفت سخت کردی تو مطلب وہ جاگ رہا تھا
“ہٹے مجھے اٹھنے دے”۔۔۔۔ وہ زایان کا بازو اپنے اوپر سے ہٹانے لگی مگر ناکام رہی
زایان اپنا بازو اس کی کمر کے گرد لے گیا اور اسے خود سے اور قریب کیا اپنی آنکھیں کھولی
“ہاں تو کیا کہ رہی تھی ذرا پھر بولو” ربانیہ کی پوری کھلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے کہا
“میں۔۔۔ تو ۔۔۔وہاں تھی۔۔۔ پھر ۔۔یہاں کیسے ۔۔۔آئی “
نظریں نیچی کیے وہ بولی اب بھی وہ زایان کی گرفت میں تھی
“پتا نہیں شاید کوئی بھوت لایا ہو تمہیں”۔۔۔۔ آنکھوں میں شرارت لیے وہ بولا ایک تو ربانیہ کو رات کا خوف تھا اوپر سے جب اس نے بھوت بولا تو وہ اور ڈر گئی کیونکہ کمرے میں صرف ایک لیمپ ہی آن تھا جو ذرا سی روشنی دے رہا تھا
اس نے ڈر کے مارے اپنے ہاتھ سے زایان کی گردن کو زور سے پکڑ لیا اور اس کے سینے میں سر چھپا لیا وہ پاگل سب بھول گئی جو زایان نے اسے رات کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس کی اس ہرکت پر زایان کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی
“ارے مذاق کررہا تھا میں ہی لایا تھا تمہیں یار اب تو بڑی ہوجائو”۔۔۔۔۔۔
“نہیں اب مجھے ڈر لگ رہا ہے پہلے آپ لائٹس آن کرے”۔۔۔۔۔ وہ ویسے ہی اس سے چپکی رہی
“کیو رومینٹک ہونے کا موڈ ہے کیا”۔۔۔۔
ہولے سے اس کے کان میں سرگوشی کی
اس کے اس طرح کہنے سے ربانیہ نے اس کی گردن پر اپنی پکڑ چھوڑ دی مگر سر ابھی بھی اس کے سینے میں تھا
“پلیز نہیں کرے مجھے نماز کیلئے دیر ہورہی ہے لائٹس آن کردے”۔۔۔۔۔
وہ اب التجا کرنے لگی
“جائو اور خود آن کرو تمہارا نوکر نہیں لگا میں”۔۔۔۔۔
زایان نے اسے ذور سے بیڈ سے دھکا دے کر نیچے گرایا اور اپنی آنکھوں پر بازو رکھے لیٹ گیا
آہ۔۔۔۔۔
گرتے ہی اس کا سر سائڈ ڈرور سے لگا اور ماتھے پر کٹ آگیا مگر زایان ویسے ہی لیٹا رہا اس نے ایک نظر اسے دیکھا تک نہیں
ربانیہ اس دھوپ چھائوں جیسے شخص کو نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی “کیا چاہتے ہیں آپ آخر “۔۔۔۔
آخر اس نے اپنا شکوہ ظاہر کیا” تمہاری چلتی سانسیں بند کرنا چاہتا ہوں”۔۔۔۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ بولا اگر مارنا ہی ہے تو ایک ہی دفعہ مار دے”۔۔۔۔ یہ کہتے ہی اس نے اپنے بالو کر رف جوڑے میں قید کیا
پھر اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی وہ ابھی بھی وہی سوچ رہی تھی کہ آخر زایان ایسا کیو کرہا ہے اس نے رات اس کی ماں کو ایسے القابات سے کیو پکارا وہ ان سب کا جواب لینا چاہتی تھی اس سے مگر ڈرتی تھی کہ کہی وہ پھر اسے اندھیرے میں بند نہ کردے ۔۔۔۔۔۔۔
نماز اس نے ڈریسنگ روم میں پڑھی اور جب بیڈ روم میں آئی تو زایان کو گہری نیند میں سوتا پایا
وہ چائے بنانے کمرے سے باہر چلی گئی