No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ربانیہ روتے روتے کمرے کی طرف بھاگی اور دروازہ بند کردیا دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے وہ روتی روتی بیٹھ گئی
“کیو تیمور کیو آخر میرا قصور کیا تھا اگر یہی سب کرنا تھا تو سنہرے مستقبل کے خواب کیو دکھائے مجھے مجھے خود سے محبت کرنے پر مجبور کیو کیا دل نے آپ کی محبت کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے آپ کی پاکیزہ محبت نے مجھے قائل کر لیا تھا پھر کیو کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا کیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ پڑا گلدان اس نے زور سے دیوار پر مارا
۔۔۔۔۔۔۔
“یا اللہ یہ آواز کیسی تھی ” سمیرا بیگم پریشانی میں بولی نکاح کے بعد مولوی صاحب اور باقی گواہ جا چکے تھے صرف عمر صاحب اور ملک ویلا کے لوگ ہی تھے ایمن اور آغوش بھی جاچکی تھی
“آپا کہی وہ اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا لے “۔۔۔۔
سمیرا بیگم نے پریشانی سے کہا
اتنے باہر کا دروازہ زور سے بجا
زایان سمجھ گیا کہ کون آیا ہے اس لیئے وہ اب ذرا سنجیدہ ہوگیا
“اس وقت کون آیا ہے”۔۔۔ عمر صاحب باہر دیکھنے گئے
تیمور تم ۔۔۔۔۔۔۔
تیمور بکھری اجڑی حالت میں گرد کپڑوں کے ساتھ کھڑا تھا
اس نے اپنے باپ کو دیکھتے ہی انہیں گلے لگا لیا
“کیا ہوا تمہیں کہاں سے آرہے ہو ۔۔۔۔۔۔
تیمور کی حالت انہیں ٹھیک نہ لگی
“ابا جان آپ اندر چلے میں سب بتاتا ہو۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آواز کسی کھائی میں سے آئی
وہ اسے سہارا دے کر اندر لے آئے
تیمور جب اندر آیا تو اس کی حالت سب لوگوں کے حواس باختہ کر گئی ۔۔۔۔۔۔
سب لوگوں کے اسے دیکھ پسینے چھوٹنے لگے سوائے زایان کے وہ اسے دیکھ کر ریلکس تھا شاید یہ نئے آنے والے طوفان کی گھنٹی تھی ۔۔۔۔۔
عمر صاحب نے اسے صوفے پر بٹھایا
تیمور تم کہاں چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔ سلمی بیگم نے آخر خاموشی کا بان توڑا
“پھپھو جان میں سب بتاتا ہو آپ پہلے ربانیہ کو بلائے کہا ہے وہ۔۔۔۔ وہ تو پریشان ہوگئی ہوگی۔۔۔۔۔ نہ
اس کی بات سن کر سب کی نظریں جھک گئی ندامت سے شاید وہ تھوڑا انتظار کرلیتے تو یہ سب نہ ہوتا
کہا ہے ربانیہ بلائے اسے کسی کا جواب نہ پاکر وہ پھر بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان یک ٹک اسی کو دیکھ رہا تھا
“ربانیہ کہا ہو دیکھو میں آگیا”۔۔۔۔ اس نے ربانیہ کے کمرے کی طرف دیکھ کر زور سے آواز لگائی
ربانیہ جو اپنے کمرے میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی رورہی تھی تیمور کی آواز سن کر اس نے سر اٹھایا
“تیمور آپ آگئے۔۔۔۔ وہ اٹھی اور دروازہ کھولا تو سامنے تیمور کو بیٹھا دیکھا
اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
تیمور۔۔۔۔ اس نے اسے آواز لگائی
ربانیہ۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھا وہ اس کی طرف بھاگی آئی
“کہا چلے گئے تھے آپ ہاں۔۔۔۔۔۔۔
ربانیہ نے اس کا گریبان پکڑ لیا اس سے پہلے تیمور اسے چھوتا
زایان نے غصے میں اس کا ہاتھ تیمور کے گریبان سے ہٹایا اور اسے تیمور سے دور کیا
“تمہیں شرم نہی آتی شوہر سامنے کھڑا اور ایک نا محرم کا گریبان پکڑ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔
وہ دھاڑا
ربانیہ کے ہاتھ پر اس کی گرفت سخت تھی کہ وہ درد سے کراھ اٹھی
تیمور ان دونوں کی طرف ناسمجھ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ان کی طرف آیا اور ربانیہ کا ہاتھ زایان کے ہاتھ سے چھڑانے لگا ۔۔۔۔
“چھوڑو اسے کیا کر رہے ہو یہ۔۔۔۔۔۔
“تم درمیان میں مت بولو اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ اب میری بیوی ہے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا ہے میں نے اسے۔۔۔۔۔۔ ربانیہ کا ہاتھ چھوڑے اس نے تیمور کا گریبان پکڑا اس کی بات سن کر تیمور جم سا گیا
زایان چھوڑو اسے کیا کر رہے ہو۔۔۔۔ عمر صاحب نے اسے زایان کی گرفت سے چھڑایا
“ابا جان یہ کیا کہ رہا ہے نکاح کیا ہے اس نے”۔۔۔
وہ اپنے باپ سے حیران نظروں سے پوچھنے لگا
ربانیہ ابھی بھی زایان کے پیچھے کھڑی رورہی تھی
“ہاں ابھی نکاح ہوا ہے ان دونوں کا میاں بیوی ہے یہ دونوں تم بس چلو یہاں سے۔۔۔۔۔ عمر صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے جانے لگے مگر وہ اس جگہ جم گیا ہلا ہی نہیں
جھوٹ بول رہے ہیں آپ ایسا ۔۔ ربانیہ وہ اس کی طرف پھر بڑھا مگر زایان نے ربانیہ کا ہاتھ پکڑ لیا
وہی رک جائو” میں بےغیرت نہیں ہو جو تمہاری ان حرکتوں کو برداشت کرو۔۔۔۔۔۔
اس کی باتوں نے تیمور کے قدم وہی روک دیے
“پھپھو جان یہ جھوٹ بول رہا ہے یہ سب اس کی اور اسکے بھائی کے سازش تھی ان دونوں نے مجھے ٹریپ کیا ہے ۔۔۔۔۔وہ سمیرا کے آگے چیخ چیخ کر اپنی صفائی دینے لگا
اس کی باتوں ان سب کے ذہنوں میں ایک نیا بم پھوڑا ۔۔۔
ربانیہ اب زایان کو حیرانی سے دیکھنے لگی
“کیا مطلب ہے تمہارا تیمور۔۔۔۔ عمر صاحب نے اسے پوچھا
ابا جان یہ اس کی سوچی سمجھی سازش تھی انھوں مجھے جوس میں کچھ ملا کر دیا اور میں وہی بےحوش ہوگیا پھر مجھے نہیں پتا کہ کیا ہوا مجھے جب ہوش آیا تو میں ایک ویران سنسان جگہ پر پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک بعد ایک بم پھوڑا
ربانیہ نے اپنا ہاتھ زایان کے ہاتھ سے کھینچا
آپ اتنا گر گئے کہ آپ نے تیمور کے ساتھ۔۔۔۔
“نہیں رہنا مجھے آپ کے نکاح میں آپ جیسے گھٹیا شخص کے نکاح میں طلاق چاہیے مجھے آپ سے ۔۔۔۔۔۔
وہ چیخ کر بولی اس کی بات سن کر زایان اپنے آپے سے باہر آنے لگا اس آنکھیں سرخ ہوگئی
“ربانیہ نہیں بیٹے ایسے نہیں کہتے شوہر ہے وہ تمہارا دوبارہ میں تمہارے منہ سے ایسا نہ سنو ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے ڈانٹا
سمیرا بیگم جو کب سے بت بنی کھڑی ساری کاروائی دیکھ اور سن رہی تھی اچانک ان کے دل میں درد شروع ہوگیا اور وہ گر گئی اور بےحوش ہوگئی
پھپھو ۔۔۔۔۔تیمور ان کی طرف بھاگا امی ربانیہ اور باقی سب بھی ان کی طرف بھاگے
امی امی اٹھے نا امی کیا ہوگیا۔۔۔ وہ ان کا چہرا تھپتھپا رہی تھی” زایان گاڑی نکالوں جلدی ۔۔۔۔عمر صاحب نے اسے کہا “آپ انہیں باہر لے آئیں میں گاڑی سٹارٹ کرتا ہو۔۔۔۔۔۔
وہ ہڑبراہٹ میں وہاں سے نکلا
۔۔۔۔۔۔
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ہسپتال میں تھے ربانیہ کرسی پر بیٹھی مسلسل روئے جارہی تھی اور سلمی بیگم اس کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
زایان اور تیمور وارڈ میں پریشانی سے ٹہل رہے تھے ۔۔۔۔
عمر صاحب سمیرا بیگم کمرے کے باہر کھڑے تھے
پھپھو یہ کیا ہو گیا امی کو وہ سلمی بیگم کے گلے لگے رورہی تھی۔۔۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا بیٹے وہ بلکل ٹھیک ہے ابھی دیکھنا ڈاکٹر اچھی خبر دے گے انشاءاللہ وہ اس سمجھا رہی تھی ۔۔۔۔
تیمور بھی ربانیہ کو گیلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا
زایان کا پورا فوکس اسی پر تھا وہ اس کے پاس آیا” اپنی نظروں کا قابو میں رکھو ورنہ مجھے آنکھیں نکالنی آتی ہے” اس نے شہادت کی انگلی دکھا کر اسے وارن کیا حالانکہ وہ ہمدردی میں اسے دیکھ رہا تھا
“زایان اپنے آپ کو قابو میں رکھو یہ ہسپتال ہے میں یہاں کوئی تماشہ برداشت نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔ انھوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے وہ تیمور پر ایک قہر برساتی نظر ڈالے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
تقریبا دو گھنٹے کے بعد ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر آئے
“آپ میں سے سلمی کون ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے ہڑبراہٹ میں کہا
“میں ہو سلمی ڈاکٹر سب خیریت ہے نہ ۔۔۔۔وہ جلدی جلدی بولی
“جی مریضہ آپ کو بلا رہی ہے پلیز جلدی آئے۔۔۔۔۔
“بھائی صاحب آپ ربانیہ کا خیال رکھیے میں آتی ہو ۔۔۔۔انھوں نے عمر صاحب سے کہا اور کمرے میں چلی گئی
“ماموں آپ ڈاکٹر سے پوچھے تو صحیح امی ٹھیک ہے کہ نہیں۔۔۔۔ وہ عمر صاحب سے التجا کرنے لگی
“ہاں بیٹا سب ٹھیک تم پریشان مت ہو ۔۔۔انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
۔۔۔۔
سلمی بیگم باہر آچکی تھی سب نے ان سے پوچھا سمیرا بیگم کے بارے میں مگر وہ چپ رہی اور یہ کہ دیتی کہ وہ کہ رہی تھی ربانیہ کا خیال رکھنا جب ربانیہ یہ بات سنتی تو رونا شروع کردیتی حسان گھر پے ہی تھا ان کی پڑوسن اس کا خیال رکھ رہی تھی۔۔۔۔
رات سے صبح ہوگئی مگر ڈاکٹر صرف اتنا بتا رہے تھی کہ انہیں میجر ہارٹ اٹیک آیا ہے اور ان کیلئے دعا کرے ۔۔۔۔۔۔
صبح تقریبا دس بجے سب وارڈ میں بیٹھے تھے ربانیہ سلمی بیگم کے کندھے پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی
کہ اچانک ڈاکٹرز سمیرا بیگم کے کمرے میں بھاگتے ہوئے گئے سب یہ دیکھ کر پریشان ہوگئے ربانیہ کی بھی آنکھ کھل گئی
“پھپھو کیا ہوا امی ٹھیک تو ہے نہ۔۔۔۔ اس نے سلمی بیگم سے پوچھا” ہاں میری جان ٹھیک ہے وہ ابھی ڈاکٹر گئے ہیں۔۔۔۔
سلمی بیگم محض اسے ترسلیاں دے رہی تھیں مگر اصل میں وہ خود بھی ڈری ہوئی تھیں
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آئے
“ڈاکٹر صاحب سب ٹھیک تو ہے نہ۔۔۔۔ تیمور نے ان سے پوچھا زایان بھی وہی آگیا
“ایم سوری بٹ شی از نو مور ان کا ہارٹ اٹیک میجر تھا اور وہ ریکور نہ کر پائی۔۔۔۔۔۔
وہ فروشینل انداز میں کہتا چلا گیا
۔۔۔۔۔
ایک ہفتے بعد
آپی امی کیو چلی گئی”۔۔۔
وہ دونوں اس وقت سیڑھیوں میں بیٹھے رو رہے تھے جس گھر میں پہلے ان سب کی کھلکاریاں گونجا کرتی تھی اب اس گھر میں ماتم کا سما چھایا ہوا تھا
ربانیہ نے اسے گلے لگایا ۔۔۔۔۔
“نہیں میری جان وہ ہمارے پاس ہی ہیں ہمارے ساتھ “۔۔۔۔۔
وہ خود ایک کمزور لڑکی تھی مگر آج وہ حسان کیلئے خود کو مضبوط بنا رہی تھی ۔۔۔۔
“تو پھر انہیں بلائے نہ ہم دونوں اکیلے رہے جائے گے ہمارا تو امی کے سوا کوئی نہیں “۔۔۔۔۔وہ معصوم ٹوٹ گیا تھا ربانیہ خود بھی رورہی تھی
“ہاں میری جان میں انہیں بلاتی ہو تم بس رونا بند کرو اس نے اس کی آنکھوں سے آنسوں صاف کیئے۔۔۔
وہ یہی سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی اگر پھپھو اسے اپنے گھر کے گئی یا زایان خود لے گیا تو حسان کا کیا ہوگا زایان کی گئی باتیں اسے مزید پریشان کررہی تھی تین دنوں میں اس کے ساتھ کیا کیا نہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم کے تین دن بعد تیمور اور عمر صاحب اپنے اپارٹمنٹ چلے گئے سلمی بیگم بھی آج صبح چلی گئی تھی انھوں نے کہا تھا کہ وہ رات کو واپس آجائے گی مگر زایان جاتے جاتے اسے یہ کہ گیا تھا کہ وہ اسے جلد لینے آئے گا اور یہی بات اس کی جان کا عذاب بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
رات کے تقریبا آٹھ بجے جب ربانیہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اور حسان سو چکا تھا تب ان کے دروازے پر کسی نے دستک دی
ربانیہ نے دروازہ کھولا کیونکہ وہ جانتی تھی سلمی بیگم ہوگی اور وہی تھی
“السلام علیکم آنی”
“وعلیکم سلام بیٹے کیسی طبیعت ہے اب تمہاری”
وہ صوفے پر براجمان ہوئی
“جی میں ٹھیک ہو”
“اچھا ایک کام کرو کہ اپنا اور حسان کا ضروری سامان پیک کرلو میں تم دونوں کو لینے آئی ہو”۔۔۔۔
انھوں نے اطمینان سے اپنی بات کہی “مگر آنی میں ابھی نہیں جانا چاہتی”۔۔۔ مسلسل اپنے ہاتھ رگڑتی نظرے نیچے کیئے وہ بولی
“ادھر آئو بیٹھو میرے پاس بیٹھو” انھوں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بلایا
وہ صوفے کی دوسری سائڈ پر آبیٹھی
“دیکھو میں جانتی ہو تمہیں زایان سے خوف آرہا ہے مگر بیٹا یقین مانو وہ دل کا برا نہیں ہے بس جذباتی ہوجاتا ہے اور اب وہ تمہارا شوہر ہے “۔۔۔
شوہر کے لفظ پر اس نے سلمی بیگم کی طرف حیرانی سے دیکھا وہ یہ لفظ کئی بار سن چکی تھی مگر آج اس نے اس بات پر غور سے نوٹس کیا اور اس کا دل زور سے دھڑکا
سلمی بیگم اس کی نظروں کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئی
“ہاں بیٹا اب وہ تمہارا شوہر ہے اور تم اس کی بیوی وہ مجھ سے کئی بار کہ چکا ہے کہ تمہیں لے آئو ۔۔۔۔۔۔۔
مگر میں تمہیں کچھ ٹائم دینا چاہتی تھی اور اب مجھے لگتا تم دونوں کا یہاں اکیلے رہنا ٹھیک نہیں اس لیئے چلو شاباش اپنا سامان پیک کرو اور چلنے کی کرو ۔۔۔۔۔
“جی آنی” اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا سامان پیک کرنے چلی گئی
۔۔۔۔۔
وہ لوگ ملک ولا پہنچ چکے تھے ایمن اپنی یونیورسٹی جا چکی تھی اور رایان اپنے کیے پر بےحد شرمندہ تھا اس لیے وہ سمیرا بیگم کے تیسرے دن ہی گھر آیا اور اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزارتا ۔۔۔۔
وہ لوگ اندر آئے” حسان بیٹا تمہارا کمرا میں نے سیٹ کروا دیا تم جائو شاباش سو جائو “۔۔۔
انھوں نے حسان کو نرمی سے تاکید کی
وہ زیادہ کسی سے بات نہی کرتا تھا حالانکہ وہ سات سال کا تھا اور اس عمر کے بچے تو اپنا زیادہ تر وقت کھیلنے میں گزار دیتے ہیں مگر وہ سنجیدہ رہتا تھا اور زیادہ تر وقت پڑھائی کو دیتا
“چلے آپی ہم کمرے میں چلتے ہیں”۔۔۔ اس نے ربانیہ سے کہا
ہاں چلو۔۔۔۔ وہ دونوں جانے ہی لگے تھے کہ سلمی بیگم نے انہیں روکا
“حسان بیٹا ربانیہ تمہارے زایان بھائی کے کمرے میں رہے گی تم اپنے کمرے میں جائوں شاباش ۔۔۔۔۔
انھوں نے حسان سے کہا تو وہ ربانیہ پر ایک خفا نظر ڈالے چلا گیا
آنی میں ان کے کمرے میں کیسے۔۔۔۔۔
“ربانیہ بیٹے بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں ہی اچھی لگتی ہے ابھی زایان نہیں ہے گھر پر لیٹ آئے گا تمہارا سامان میں نے اس کے کمرے میں رکھوا دیا ہے تم تب تک اپنا سامان واڈروب میں سیٹ کرلو ۔۔۔۔۔
جی پھپھو۔۔۔۔ وہ اثبات میں سر ہلائے چلی گئی
۔۔۔۔۔
