Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ہ۔۔ہل۔۔ہلو
جھجکتی کانپکانپتی آواز میں اس نے کہا
اسلام وعلیکم
فیصل نے مئودبانہ انداز میں جواب دیا
وعلیکم سلام
جی کون
کون کا کیا مطلب آپ لے پاس میرا نمبر سیو نہیں ہے
ایمن کو تپ چڑھ گئی
ہاہاہاہا سوری مذاق کرہا تھا اچھا بتائو کیا کہنا ہے
وہ۔وہ۔میں یہ کہ رہی تھی کیسے ہے آپ
وہ اتنی نروس تھی کہ کچھ بول ہی نہ پائی
اچھا اچھا میں سمجھ گیا آپ کا جواب نا ہے کوئی نہیں اللہ نے جو نصیب میں لکھا
کیا میں نے ایسا تو نہیں کہا ہا ہے میری طرف سے راضی ہو میں
وہ فٹافٹ بولی
اچھا راضی ہے
وہ پھر بولا
ہائے اللہ یہ میں کیا بول گئی
اس نے زبان دانتوں تلے دبائی
I loveeee you
فیوچر کی مسز فیصل
اس نے یہ کہا اور کال کاٹ دی
پیچھے ایمن کا دل زور سے دھڑکا
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
آخر ربانیہ اور تیمور کی ڈیٹ فیکس ہوگئی ربانیہ نے بھی دل سے رضامندی دے دی تھی کیونکہ اب وہ مزید کسی آسرے میں نہیں رہنا چاہتی تھی اور تیمور اس کہ خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا پہلے اسے اس کی محبت ملنے والی تھی اور دوسرا اسے آفس سے نئی گاڑی ملی تھی اور آج وہ بہت خوش تھا
دل سے مانگی ہر دعا سیدھا عرش تک جاتی ہے اور تیمور کو لگا قسمت اس پر مہربان ہے
۔۔۔۔۔
آج ملک ویلا کے لوگ بھی شادی کی تیاریوں میں لگے تھے کیونکہ آج ربانیہ کی مہندی تھی
ایمن بھی گھر آئی ہوئی تھی اس نے تو باقائدہ ایک ایک فنکشن کے لیئے ڈریس لیے تھے
اس وقت وہ پیلے رنگ کے لمبے فراق میں ملبوس تھی جس پر قیمتی مکیش کا کام کیا گیا تھا
دوپٹہ اس نے بازوئوں میں فولڈ کیا تھا اور بیوٹیشن کے کیے گئے میک اپ سے وہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی اس کے لمبے کالے بال اس کی پشت کو چھو رہے تھے کانوں میں جھاری والے جھمکے ڈالے وہ کوئی پری لگ رہی تھی
دوسری طرف رایان صاحب نے بھی تیاری میں کوئی کمی نہ چھوڑی سفید رنگ کے کرتا اور گلے میں پیلے رنگ کا مہندی کے حساب سے دوپٹہ ڈالا ہوا تھا بالوں کو جیل سے سیٹ کیے آج وہ باقائدہ سیلون گئے تھے کیونکہ آج ان کی مس بلاسٹ جو شادی میں آنے والی تھی
وہ ایمن اور سلمی بیگم ایک ہی گاڑی میں حال گئے زایان نے انھیں ڈائرکٹ وہی آنے کا کہا تھا
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
ربانیہ بھی سیلون میں تھی آغوش کے ساتھ
اس وقت اس نے پیلے رنگ کا شرارہ اور شارٹ کرتی زیب تن کی ہوئی تھی جس پر نفاست سے نگینے کا کام ہوا تھا اس کے بازوں پر بہت ہی نفاست سے ڈیزائن بنایا گیا تھا
مہندی کے حساب سے اسے پھولوں والے زیور پہنائے گئے تھے ہلکے میک کے ساتھ اس کے لمبے سنہری بال ہاف ایک کندھے پر اور ہاف دوسرے کندھے پر تھے اس کی نیلی آنکھوں میں پرپل لینز لگائے گئے تھے جو اس کی خوبصورتی کو چارچاند لگا رہے تھے ہاتھوں میں پھولوں والے گجرے بہت پیارے لگ رہے تھے آج ربانیہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی
دوسرے جانب آغوش کی تیاری بھی قابل دید تھی پیلے اور لال رنگ کی میکسی پہنے ہلکے میک اپ اور بالوں کو پراندے کی شکل میں باندھا گیا کانوں میں شیشے کے بنے بڑے جھمکے اور آنکھوں میں بلیو لینز لگائے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی بیوٹیشن نے دونوں کی تیاری کی خوب تعریف کی خاص کر ربانیہ تو پورے پارلر کی مس بیوٹی بنی ہوئی تھی
جب وہ تیار ہوگئی تو آغوش کے بھائی کے ساتھ حال کیلیئے روانہ ہوگئ
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
مہندی کا فنکشن پنڈی کے سب سے مشہور حال قسرنور میں رکھا گیا تھا جہاں لوگوں کی آمد کا سلسہ ابھی شروع ہوا تھا
وہی تیمور بھی آگیا تھا سفید کرتے کے اوپر بلیک واسکٹ پہنے وہ محفل کی جان لگ رہا تھا بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ہوا تھا اس کے دوستوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا
۔۔۔۔۔۔
ابھی ملک ولا کے لوگ پہنچے ہی تھے دوسری فیصل اور اس کی امی بھی پہنچے دونوں گاڑیاں ایک ہی سائڈ پے پارک ہوئی
سب لوگ گاڑیوں سے اترے
سلمی بیگم گل بانو (فیصل کی امی) سے ملی اس کے بعد ایمن نے انہیں سلام کیا
فیصل اس وقت بادامی رنگ کے کرتے میں ملبوس تھا اور اس کی پرسنیلٹی اسے اور بھی پر کشش بنا رہی تھی
فیصل ایمن پر بنا ایک نظر ڈالے حال میں چلا گیا جسے ایمن نے مائنڈ کیا مگر پھر وہ سب حال میں چلے گئے
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آغوش اور ربانیہ بھی پہنچ چکے تھے ایمن بھی انہیں کا انتظار کر ہی تھی وہ اور آغوش ربانیہ کو حال تک لے آئے اسے سٹیج پر بٹھایا
مردوں کی جگہ دوسری سائڈ پہ تھی جب دولھن آگئی تو وہ سب بھی تیمور کو اندر سٹیج تک لے آئے
میوزک کی تیز آواز میں لڑکے تیمور کو سٹیج تک لائے اور وہ ربانیہ کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا
وہ جب بھی ربانیہ کو دیکھنے کی کوشش کرتا کوئی نہ کوئی اسے دیکھ لیتا اور اس کا مذاق بناتا
۔۔۔۔
پھر مہندی کا فنکشن شروع ہوا سب بڑوں نے باری باری تیمور اور ربانیہ کو مہندی لگائی اب ساری ینگ گینگ سٹیج پر ان دونوں کو گھیرے بیٹھی تھی
مہندی کا فنکشن اپنے جوش پہ تھا ..
ہر طرف رنگ و نور کا سماں تھا …
یار رابی ، تیمور بھائی یہ کیسی مہندی ہے آپ لوگوں کی …
بلکل روکھی پھیکی کوئی فن ہی نہیں ہے ..
آغوش جو کب سے خامشی سے بیٹھی رسمیں ہوتے ہوۓ دیکھ رہی تھی اور مکمل طور پر بور ہوچکی تھی …
اسلئے بلآخر دل کی بات بول ہی بیٹھی …
دیکھئے سالی صاحبہ اب ہم دونوں تو دلہا دلہن ہیں اسلئے آج ہم آرام سے بیٹھیں گے اور ہلّا گلّا آپ لوگ کریں گے آج …
کیونکہ آپ کی دوست دلہن بنی ہوئی ہلا گلا کرتی اچھی تھوڑی لگیں گی .. تیمور آنکھ دبا کر شرارت سے بولا
ارے یہ کیا بات ہوئی تیمور بھائی ..
دلہن بھلا ہلا گلا کیوں نہیں کر سکتی .. آغوش نا سمجھی سے بولی ..
رابی تو تو ہے ہی بورنگ بندی ..
قسم سے اگر میری شادی ہوتی نہ تو میں نے تو یہاں ہنگامہ مچادینا تھا .. آغوش کو جب احساس ہوا کہ کچھ فالتو ہی بکواس کر لی ہے تو بولتی بولتی زبان دانتوں تلے دباگئی ..
اور اس کی اس حرکت پر وہاں موجود سبھی لوگوں کو مشترکہ قہقہہ بلند ہوا ..
آغوش باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ ہنگامہ تم نے کیسے مچانا تھا ..
ایمن آغوش کو چھیڑنے کے لئے بولی ..
ارے ایمن آپی آپ کو نہیں پتہ آغوش میڈم دہشتگرد قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں ..
ہنگامے کروانا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ..
رایان جان بوجھ کر آغوش کو چڑانے کے لئے بولا 😋
اوہ ہیلو مسٹر ہو گے تم دہشتگردوں کے سردار ..
شکل سے ہی پورے کے پورے ڈاکو لگتے ہو ..
آغوش حسب توقع رایان پر چڑھ دوڑی ..
باقی سب ان کی بحث سے لطف اندوز ہونے لگے ..
رایان کو آغوش کے ساتھ بحث کرنے میں مزا آرہا تھا …
تبھی بات کو بڑھاوا دیتا ہوا بولا ..
بھئی آغوش اب تم مان لو محفل میں رونق تو ہم لڑکوں ہی سے ہوتی ہے ..
اوہ اچھا جی دیکھا نہیں تم لڑکوں نے اب تک کتنی رونق لگائی ہوئی ہے ..
اصل رونق تو لڑکیوں سے ہی ہوتی ہے .. مان لو ..
اوہ تو پھر آغوش صاحبہ ایسا کرتے ہیں ایک ڈانس کامپیٹیشن رکھتے ہیں ..
ابھی ثابت ہو جائے گا کہ لڑکے بیسٹ ہیں یا لڑکیاں ..
بولو منظور ہے ؟..
Challange accepted 💪
آغوش ناک چڑھاتی ہوئی بولی ..
تو پھر ایسا ہے مسٹر رایان ہم دو ٹیمز میں مقابلہ ہوگا ..
ٹیم اے میں ہونگے میں اور ایمن آپی …
اور
ٹیم بی میں آپ اور فیصل بھائی ..
ارے نہی نہیں آغوش میں نہیں .. مجھے نہیں آتا ڈانس وانس .. ایمن آغوش کے خطرناک منصوبے سننے کے بعد بولی ..
پلیز ایمن آپی ایسا تو نہ کہیں پلیز پلیز آئیں نہ آپ بھی ..
سوری آغوش پر میں نہیں آرہی ..
پلیز نہ آپی .. آغوش ، ایمن کو تاضی کرنے لگی تبھی پیچھے سے فیصل بولا ..
ارے آغوش رہنے دو ویسے بھی یہ ڈانس وانس ڈاکٹر صاحبہ کے بس کی بات نہیں ..
اوہ تو ایسی بات ہے .. ایمن سوچنے لگی ..
چلیں پھر مسٹر فیصل آج آپ بھی دیکھ ہی لیں کہ یہ ڈاکٹر صاحبہ کیا کر سکتی ہیں .. ایمن بھی اپنا فراک سنبھالتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ..
اور ایمن کے اٹھتے ہی ان سب کی تالیوں اور ہوٹنگ کی آوازیں فضا میں بلند ہوئیں …
اب وہ چاروں ڈانسنگ فلور پر تھے ..
تبھی فضا میں سونگ کی آوازبلند ہوئی …
نیٹ اٹھا کر بول دور سے ہاۓ
ٹیلر سے ٹائیٹ والا سوٹ بنواۓ
اس لئے تو سویٹی نکھرے دکھاۓ
ایمن اور آغوش سٹیپ کرتے ساتھ ساتھ فل نکھرے بھی دکھا رہی تھیں …
اور رایان اور فیصل ان کے گرد سٹیپ کررہے تھے
سویٹی ہاتھوں پہ جب مہندی لگوائے
نیٹ اٹھا کر بول دور سے ہاۓ
ٹیلر سے ٹائیٹ والا سوٹ بنواۓ
اس لئے تو سویٹی نکھرے دکھاۓ
اتنی کیوں نوٹی ہے تو بتا
باتوں کو ایسے نہ گھما
کرتی کے ایسے جیسے چِل تو
منڈے تے پھڑ کے بہ گئے دل نوں
رایان اور فیصل اب باقاعدہ ڈانسنگ فلور پر بیٹھ چکے تھے ..😂
کڑی دا جھمکا اااا..
نی اودا ٹھمکا
دل کڈ ساڈا لے نی اودا ٹھمکا
کڑی دا جھمکا اااا..
نی اودا ٹھمکا
دل کڈ ساڈا لے نی اودا ٹھمکا
عاشکاں توں نی سوہڑاں مکھڑا لُکا لے
سجن نے بوہے اوتے چھک تان لئی ..
چھک تان لئی اووو سئیاں چھک تان لئی ..
گورے گورے مکھڑے پہ ہائی لائیٹر لگواتی ہے
اچھے خاصے یاروں کو تو کیسے لڑواتی ہے
سونی سونی اسمائل دے کے ڈمپل دکھاتی ہے
قاتل اداؤںسے فلم دکھاتی ہے
نیناں تیز دھار تیرے سویٹی اوۓ
چھم چھم چمکے تیری بیوٹی اوۓ
سویٹی تو ڈسکو پہ بھی ٹھمکا لگائے
ہونٹوں میں انگلی میں سویٹی بجاۓ
سویٹی جب آنکھوں میں آنکھیں ملاۓ
پاس بلا کر پھر بولے باۓ باۓ …
کرتی کے ایسے جیسے چِل تو
منڈے تے پھڑ کے بہ گئے دل نوں
کڑی دا جھمکا اااا..
نی اودا ٹھمکا
دل کڈ ساڈا لے نی اودا ٹھمکا
اور گانا ختم ہوتے ساتھ ہی ہال میں سب کی تاکیوں اور ہوٹنگ کی آواز گونجی ..
رایان صاحب گانا ختم ہونے کے بعد اب گھور کر آغوش کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ مسکرا بھی رہے تھے ..
آغوش کی جیسے کی نظر اپنے برابر میں کھڑے رایان پر گئی اس نے کھینچ کر اپنا ہیل والا پاؤں رایان کے پاؤں پر مارا …
اور رایان کے چودہ طبق روشن کر دئیے