Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 33
Rate this Novel
Episode 33
“آپریشن کامیاب ہوا بابا۔۔۔ ماں اب ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گی کہیں نہیں جائیں گی۔۔۔”
نجیب کے گلے لگ کر اپنی بےپناہ خوشی کا اظہار کیا یہاں تک کہ روم میں موجود نرس اور ڈاکٹر بھی حورب کو اتنا خوش دیکھ کر مسکرا دئیے تھے
“میں نسواء کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ ان سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔”
“ابھی نہیں بابا۔۔ابھی آپ ٹھیک نہیں ہیں۔۔”
“نہیں بیٹا۔۔میں ٹھیک ہوں ایک بار نسواء کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔”
حورب نے نرس کو اشارہ کیا تھا اور وہ کچھ دیر میں ویل چئیر روم میں لے آئے تھے
“بس بیٹا میں چل لوں گا تمہارا باپ اتنا کمزور بھی نہیں ہے۔۔”
حورب نے مسکرا کر دیکھا تھا نجیب کو اور آنکھیں صاف کئیے ایک ڈاکٹر کی مدد سے نجیب کو ویل چئیر پر سہارا دے کر چئیر پر بٹھا دیا تھا
“میں جانتی ہوں آپ کمزور نہیں ہیں مگر یہ جسم کمزور ہے ابھی۔۔ آپ نے ماں کا خیال بھی تو رکھنا ہے نہ۔۔؟؟”
“میری بچی۔۔۔ مننان یہیں ہے وہ نسواء سے ملا۔۔؟؟”
“نہیں ابھی نہیں۔۔”
اور وہ ویل چئیر کو سہارا دئیے باہر لے گئی تھی۔۔
راستے میں ملنے والے کالیگ ڈاکٹر اسے مبارکباد دے رہے تھے اسکی تعریف کررہے تھے اور نجیب آفندی کا سینہ فخر سے اور چوڑہا ہورہا تھا
۔
کل کی رات بہت طویل ثابت ہوئی تھی مگر اب انہوں نے خود سے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ اب اپنی بیوی اور دونوں بچوں کو پھر سے اپنی زندگی میں ایک ساتھ لے آئے گے۔۔
وہ جانتے تھے نسواء انہیں قبول کرچکی ہے حورب انہیں تسلیم کرچکی ہے وہ یہ بھی جانتے تھے مننان نے کل جس طرح اسے بابا کہا وہ دن دور نہیں تھا جب مننان بھی اپنا لے گا۔۔۔
۔
مگر کیا پتہ تھا کچھ گھنٹوں کے بعد زندگی کا ہر پل ایک سال کی طرح کٹنا تھا ان کا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہاری وجہ سے ہوا سب کچھ نکل جاؤ میرے گھر سے۔۔۔ میرا بیٹا مر گیا تمہاری اور تمہاری بیٹی کی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں۔۔”
“مجھے ایک بار ظہیر کو دیکھ لینے دیں ماں جی میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔”
مگر ظہیر صاحب کی دادی نے دروازہ کھول کر باہر دھکا دہ دیا تھا عمارہ اور ساتھ شزا کو۔۔
انہیں کوئی فکر نہیں تھی لوگ کی نظروں کی انہیں تو بس غصہ تھا اور وہ غصہ دوبالا ہوا جب دروازے پر دادی کو دیکھا تھا اپنی سوتن کو دیکھ کر انہوں نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی تھی مگر دادی کی چھڑی نے درمیان میں رکاوٹ کھڑی کردی تھی
۔
“اسکی کیا غلطی ہے بلقیس جب گناہ مجھ سے ہوا تھا تو مجھے سزا دیتی۔۔ کیوں بچوں کو درمیان میں لے آئی۔۔؟؟ کیوں تمہاری نفرت نے دو ہنستے بستے خاندانوں کو برباد کردیا ۔۔”
“تم کہہ رہی ہو یہ سب۔۔؟؟ خود سے پوچھو برباد کس نے کیا درمیان میں کون آیا تھا۔
میرا گھر برباد کیا تم نے تمہارے ہوس نے تمہاری ضد نے۔۔۔”
“اس لیے آئی ہوں معافی مانگنے تم سے تم کہو گی تو تمہارے قدموں میں گر جاؤ گی ۔۔
اب بس کردو یہ نفرتیں۔۔ وہ شخص کب کا چلا گیا جس کے پیچھے یہ سب ہوا۔۔”
“تمہارے لیے آسان ہے کہنا کیونکہ وہ شخص تمہارا ہوکر رہا تمہارے بچوں کا ہوکر رہا۔۔ مجھے کیا ملا۔۔؟ میرا جو تھا اب وہ بھی نہیں رہا۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔
تم جیسی عورتیں جو شادی شدہ مردوں کے ساتھ آفئیر چلا کر شادی کرلیتی ہیں یہ جانے بغیر کہ دوسری بیوی کے آجانے پر پہلی بیوی کی زندگی اور بچوں کی زندگی کسی جہنم سے کم نہیں ہوتی۔۔۔مگر پھر بھی تم جیسی باز نہیں آتی۔۔
تم دیکھ رہی ہو یہ بربادی۔۔؟؟ میری بددعا ہے تمہارے خاندان میں بھی جوان جنازے۔۔”
“ماہیر جاچکا ہے اس سے جوان موت کیا ہوگی۔۔؟؟ خدا کا واسطہ۔۔”
“ماہیر کونسا تمہارا خون تھا۔۔؟؟ یہی جوان جنازہ مننان کا ہوتا تب پوچھتی۔۔
میرا بدلہ کبھی ختم نہیں ہوگا کبھی نہیں۔۔تم۔۔۔”
انکے سینے میں درد اٹھی اور وہ پیچھے جاگری تھی۔۔۔
رشتے داروں نے دادی اور عمارہ کو بے عزت کرکے گھر سے نکال دیا تھا۔۔۔
گھر پہنچنے سے پہلے بلقیس بیگم کی موت کی خبر انہیں مل گئی تھی۔۔۔
۔
“میں خود کو کبھی معاف نہیں کرپاؤں گی آفندی صاحب اور آپ کو بھی نہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء۔۔۔”
“میں ابھی آئی۔۔”
نجیب کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے جب وہ نسواء کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے ہیں عین اسی وقت حورب ایکسئیوز کرکے وہاں سے چلی گئی تھی اور اپنے ساتھ نرسز کو بھی لے گئی تھی۔۔۔
باہر آتے ہی اس نے پہلا کام اپنے بھائی کو فون کرنے کا کیا تھا۔۔ جو آف جارہا تھا
“مننان بھائی کہاں ہیں آپ۔۔؟؟”
“ڈاکٹر حورب آپ کو ڈاکٹر سحر نے او ٹی میں رپورٹ کرنے کا کہا ہے۔۔”
نرس کی بات سن کر حورب نے ایک نظر شیشے کے اس پار اپنے پیرنٹس کو دیکھا تھا اور پھر وہ چلی گئی تھی وہاں۔۔
ڈیوٹی کے ہاتھوں وہ بھی مجبور تھی جانے سے پہلے ایک بار پھر بھائی کو کال ملائی تھی اس نے
۔
“یہ سب کیسے ہوا نجیب۔۔؟ آپ کوئی سپر ہیرو نہیں ہیں اس عمر میں کون کرتا ہے ایسے۔۔؟؟”
“ڈانٹنے کے بجائے جگہ دہ دیں نسواء۔۔ سکون کی نیند آجائے گی۔۔
نسواء کی بات ٹال دی تھی وہ مکمل بات نہیں بتانا چاہتے تھے ۔۔
“بس کچھ دن اور نسواء ہم پوری طرح نجات پا لیں گے ان گھٹیا لوگوں سے۔۔”
ویل چئیر سے جیسے ہی اٹھے نسواء نے ہاتھ آگے بڑھایا تھااور وہ پاس اسی بیڈ پر بیٹھ گئے تھے
“نسواء۔۔ بہت مبارک ہو آپ کا آپریشن کامیاب ہوگیا۔۔ اگر میں ٹھیک ہوتا تو یہی شکرانے کے نوافل ادا کرتا۔۔ اللہ نے آپ کو ایک نئی زندگی بخشی میری زندگی مجھے واپس مل گئی نسواء۔۔”
چہرے کی طرف جھک کر بوسہ لیا تھا نسواء کے ماتھے پر۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
“شش۔۔۔ “
ان دونوں آنکھوں پر بوسہ لیا تو نسواء کی پلکیں جھک گئی تھی جب نجیب کے لب ان کے ناک سے ٹکرائے تھے آنکھیں شاک سے بڑی ہوئی تھی
“نجیب۔۔۔شرم کریں حورب کسی بھی لمحے اندر آتی ہوگی۔۔نرس ڈاکٹر۔۔”
نجیب نے بے باکی دیکھاتے ہوئے وہ بھی کردیا تھا جس پر نسواء گھبرا رہی تھی
“سی اتنا مشکل بھی نہیں تھا۔۔؟؟”
“شرم کریں۔۔”
شرماتے ہوئے چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا اب نجیب کے چہرے پر ہنسی آئی تھی نسواء کے چہرے پر وہی ہنسی وہی رونق دیکھ کر۔۔۔
“نسواء۔۔۔زندگی کا ایک ہی مقصد رہ گیا ہے اور وہ آپ ہیں۔۔”
اور وہ پہلو میں لیٹ گئے تھے نسواء کے۔۔
“آپ کو درد ہورہا ہوگا میں حورب کو بلاؤں۔۔؟؟”
“نہیں اسکی ضرورت نہیں میرے تمام تر دردوں کو راحت مل جاتی آپ کے پہلو میں آکر نسواء۔۔ آپ کا ہونا میرا ہونا ہے۔۔۔”
“ہممم۔۔۔”
نسواء خاموش ہوگئی تھی وہ جانتے تھے ابھی بہت وقت درکار تھا نسواء کو پھر سے ویسا کرنے میں جیسی وہ پہلے تھی اپنی محبت کا اظہار کرنے والی پیار نچھاوڑ کرنے والی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ کیا بکواس کررہے ہیں۔۔۔ آفیسر میں تمہاری جان لے لوں گا اگر تم نے اب میرے بیٹے کو مرا ہوا کہا۔۔ سرچ کرو پورا ایریا سرچ کرو۔۔ ایک بھی جگہ نہ چھوٹے۔۔”
۔
پچھلے دو گھنٹے سے وہ اس جگہ پر موجود تھے زخم تازہ تھے تب بھی انہیں فکر نہ تھی
انہیں تو خبر بھی کسی نیوز چینل سے ملی تھی ہسپتال سے سیدھا یہیں آئے تھے وہ۔۔
۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ دو گھنٹے کچھ گھنٹوں میں اور دن شام میں ڈھل چکا تھا۔۔
“کچھ نہیں ملا تو اس کا یہی مطلب ہوا مننان کی گاڑی تھی وہ نہیں تھا۔۔حورب بیٹا تم ٹھیک کہہ رہی تھی ہوسکتا ہے مننان کی گاڑی کسی نے چرا لی ہو ہو۔۔
ہوسکتا ہے گاڑی کوئی اور چلا رہا ہو۔۔۔”
“بابا آپ بیٹھ جائیں سٹیچز سے بلڈ نکلنا شروع ہوگیا ہے مننان بھائی کو کچھ نہیں ہوگا آپ بیٹھ جائیں۔۔”
“سر ایک ڈیڈ باڈی ملی ہے۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے اپنا لینا چاہیے تھا نجیب۔۔۔ آپ کے دھوکے کو آپ کی دوسری شادی کو اس دوسری عورت کو اپنا لینا چاہیے تھا اگر اپنا لیتی تو آج میرا مننان اس بدلے کی آگ میں جل نہ جاتا۔۔۔ وہ تمہاری نفرت۔۔۔”
بات کرتے کرتے اس نے اس شخص کو وہ عزت نہیں دی تھی وہ جو آپ کہتی تھکتی نہ تھی وہ تم تمہیں کہہ کر مخاطب کر رہی تھی ۔۔۔
۔
“نسواء یہی فرق ہے ایک عورت اور مرد کی محبت میں۔۔
آپ میں کبھی کوئی کمی نہیں تھی۔۔ کمی مجھ میں تھی میری محبت میں تھی میری وفا میں تھی۔۔۔
میں نے بے وفا ہونا تھا تب نہ ہوتا تو کچھ سال بعد ہوجاتا۔۔۔ میں نے تو مکمل مستقبل سوچ رکھا تھا۔۔۔”
نسواء کا ہاتھ ہاتھوں میں بھر کر بہت چاہ سے دیکھا تھا نجیب نے۔۔۔
“میں اس وقت ایک شوہر ایک ہمسفر نہیں ایک مرد بن کر سوچتا رہا۔۔۔جسے دو عورتیں ایک ساتھ چاہیے تھی
نسواء میں نے تو مستقبل سوچ لیا تھا۔۔۔
دوسری شادی کرکے آپ پر مسلط کردینے کا مستقبل۔۔۔
عمارہ کو ہمارے گھر میں بیوی بنا کر لانے کا جس دن سوچا۔۔۔ تب یہ بھی سوچ لیا تھا کہ آپ کو زبردستی اپنانا پڑے گا مگر۔۔۔۔”
“مگر۔۔۔یہ کمبخت نسواء۔۔۔ جس نے دوسری بیوی کو کیا اپنانا تھا اس نے شوہر ہی ٹھکرا دیا۔۔۔”
نسواء نے بات مکمل کی تو گہری خاموشی چھا گئی تھی
“نجیب۔۔۔ مجھے اپنا لینا چاہیے تھا آپ کے فیصلے کو۔۔۔ میں اکیلی تھوڑی ہوں جس پر شوہر نے سوتن لاکر بٹھا دی۔۔۔؟
نجانے کتنی بیویوں پر یہ قیامت گزری ہوگی۔۔۔ نجانے کون کون سے بیوی یہ گھونٹ زبردستی پیتی ہوگی۔۔۔
مجھے بھی پی لینا چاہیے تھا۔۔۔
ایک بات بتائیں۔۔۔اگر میں اپنا لیتی تو کیا مننان کو آپ وہ محبت وہ رتبہ وہ باپ کا پیار دہ پاتے۔۔۔؟؟ جو نفرت آپ نے ہماری پیار کی نشانی کو ان پانچ سالوں میں دی تھی ۔۔”
۔
یہ وہی مدعا تھا یہی تو وہ اہم مرکز تھا۔۔۔
ان کا بیٹا مننان۔۔۔
“نسواء۔۔۔ آپ ابھی ٹھیک۔۔۔”
وہ گھٹنوں پر سے اٹھنے لگے تھے جب نسواء نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں واپس بٹھایا تھا۔۔۔
“کیا مننان کو آپ نے وہ محبت دینی تھی نجیب۔۔۔؟ آپ نے وہ محبت نہیں دینی تھی اسے۔۔ دوسری بیوی کے آنے پر آپ نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرے بیٹے کو نفرت کا نشانہ بنانا تھا نجیب۔۔۔۔
اور جب اولاد ہوجانی تھی تو سب نے مل کر اسے ٹارچر کرنا تھا۔۔۔۔
کہاں لے آیا نصیباں۔۔۔۔
جب وہ پاس تھا تو آپ دشمن تھے اور جب دور ہوا تو خود دشمن بن گیا خود کا۔۔۔ میری وجہ سے میرے لیے لیتا رہا وہ بدلہ۔۔۔۔
وہ کیوں بدلہ لیتا رہا۔۔۔؟
اسے سمجھ جانا چاہیے تھا جب ایک شادی شدہ رشتے میں شوہر باہر منہ مار لے تو بیوی میں کمی۔۔۔”
نجیب نے نسواء کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
۔
“آپ ایک اچھی بیوی بنی نسواء میں ایک اچھا شوہر نہیں بن پایا۔۔ میرے بچوں کی تربیت اس بات کی گواہ ہیں۔۔ میں نے اپنی ہوس کو درمیان میں آنے دیا ہمارے ہنستے بستے گھر کو برباد کردیا۔۔
اگر آپ رُک بھی جاتی۔۔۔ رک جاتی تب بھی میں مننان ہمارے بیٹے کو وہ رتبہ نہ دے پاتا۔۔۔
سچ بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ آپ کے چلے جانے کے بعد مجھے وہ قدر ہوئی آپ کی۔۔۔نسواء۔۔
اگر اس رشتے میں کوئی قصور وار ہے تو وہ ‘میں ‘ ہوں نجیب آفندی
آپ کا شوہر جس نے دوسری شادی تو کرلی اپنی ضد تو پوری کرلی مگر وہ سب چلا گیا
میری دوسری شادی میری پہلی شادی کو مکمل تباہ کرگئی۔۔
میں آج خالی ہوں۔۔ مننان کے نہ ہونے نے میرے وجود کو بھی ختم کردیا۔۔”
اور نسواء کو وہ سب باتیں پھر سے یاد آگئیں تھیں مننان کی موت کی خبر جس نے سہمی ہوئی اس ماں کو پھر سے اتاولا کردیا تھا۔۔
اس بار کھڑے ہوتے ہوئے اسے نجیب کے سہارے کی ضرورت پڑی تھی جب وہ باہر نکلی تھی اپنے شوہر کے ساتھ۔۔۔
۔
کون تھا باہر۔۔؟؟ جنازے پر رونے والا کون تھا۔۔؟؟ حورب کی چیخنے چلانے کی آوازیں پورے ہال میں گونج رہی تھی
نجیب آفندی کا پورا خاندان ایک سائڈ پر تھا مگر کوئی بھی اس طرف دیکھنا نہیں چاہتا تھا کوئی بھی نہیں۔۔۔
“ماں۔۔۔ مننان بھائی۔۔۔”
وہ ماں کے سینے سے لگے رونے لگی تھی مگر ماں کہاں جاتی جس کی کل کائنات ہی اسکا بیٹا تھا
وہ پتھر بن کر بیٹھ چکی تھی وہیں لوگ تعزیت کرنے نجیب صاحب کی طرف بڑھ رہے تھے جنہیں کچھ سد بد نہ رہی تھی یہ دوسرا جوان جنازہ تھا۔۔ ماہیر کے وقت تو وہ بہانہ بنا چکے تھے کہ انکا بیٹا نہیں مگر اب کیا بہانہ بناتے۔۔۔
۔
“نجیب بھائی۔۔ یہ سب کیا ہوگیا۔۔آپ کے ایک فیصلے نے سب بکھیر دیا۔۔
میری بیٹی چلی گئی اور اب آپ کا بیٹا بھی چلا گیا۔۔اب۔۔۔”
فضا کی باتیں ادھوری رہ گئی تھی جب اسکی بیٹی اندر حال میں داخل ہوئی تھی ۔۔
“کہانی مننان پر ہی ختم ہونی تھی مامو۔۔۔ شروع بھی تو اسی کی وجہ سے ہوئی تھی نہ۔۔؟
سب کی زندگیوں کو جہنم بنا کر وہ خود کتنی خاموشی سے چلا گیا۔۔
تمہیں ایسے نہیں جانا چاہیے تھا مننان تم نے تو جیت کا جشن منانا تھا۔۔ دیکھو نجیب آفندی کے ہر چاہنے والے کو خوں کے آنسو رلا دیا تم نے۔۔
اب کیوں چپ ہو اٹھو۔۔ اور بتاؤ سب کو۔۔۔”
میت پر ہاتھ مارتے ہوئے سر رکھ دیا تھا۔۔ اور بے تحاشہ رو دی تھی وہ۔۔
“مننان ہمارا بچہ بھی باپ کی محبت کو ترستا رہے گا جیسے تم ترستے رہے۔۔۔”
نجیب صاحب منہ پلٹ گئے تھے ہال سے باہر چلے گئے تھے وہ۔۔۔
اب انکی برداشت سے باہر ہوگیا تھا سب کچھ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء گھر چلیں۔۔ اس وقت قبرستان میں مت بیٹھیں گھر چلیں۔۔”
“کونسے گھر۔۔؟؟ کس کے گھر شوہر بہت پہلے گھر سے نکال چکا تھا۔۔۔
اور جس بیٹے نے چھت دی وہ خود چلا گیا۔۔ اب کس کے گھر چلوں۔۔”
ہاتھوں کو جھٹک کر وہ واپس مٹی پر بیٹھ گئی تھی ننگے سر ننگے پاؤں۔۔۔
وہ ماں پھر سے وہی اس قبر کے پاس بیٹھ گئی تھی۔۔
“ہمارے گھر۔۔ ہمارے بیٹے کے گھر نسواء۔۔ چلیں ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔”
“میں نے بھی ہاتھ جوڑے تھے نجیب۔۔ اگر رک جاتے تو آج یہ نہ ہوتا۔۔۔
نجیب آفندی۔۔۔ کیا مل کیا گیا دوسری شادی کرکے۔۔؟؟ کیوں میرا گھر اجاڑ دیا آپ نے کیوں۔۔؟؟”
نجیب کا کالر پکڑ کر وہ اٹھی تھی اور وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑے رہ گئے
“نسواء مجھے سزا دیں جو کہنا ہے کہیں مگر گھر چلیں۔۔”
“میں اپنے گھر میں ہوں۔۔ یہ میرا گھر ہے۔۔۔ میرا بیٹا جہاں ہے وہاں میرا گھر ہے نجیب۔۔۔
میرا مننان جہاں ہے۔۔ وہاں میرا گھر ہے۔۔”
“بس کرجائیں نسواء۔۔۔ خدا کے لیے۔۔۔”
“آپ بس کرجائیں نسواء۔۔گھر چلیں۔۔”
اسکی چادر بھی کندھوں سے سرک کر نیچے گھر گئی تھی
“آپ نے سوچ بھی کیسے لیا نجیب کے میں اپنے بچے کو یہاں تنو تنہا چھوڑ جاؤں گی۔۔؟؟
میرا مننان جس نے مجھے ایک لمحے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑا۔۔ جہاں جس جگہ میرے شوہر کو میرے ساتھ ہونا چاہیے تھا وہاں میرا بیٹا تھا۔۔
ہر حالت میں ہر حال میں۔۔میں کیسے چھوڑ جاؤں۔۔۔ مننان سن رہے ہو میرے بچے۔۔۔
تمہاری ماں تمہارے سوا کچھ نہیں ہے بیٹا۔۔ میرا وجود کچھ نہیں ہے۔۔ میں بھی مر جانا۔۔”
نجیب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔ اور وہ گر گئی تھی زمین پر۔۔۔
“بس کرجائیں نسواء ایک اور جنازہ نہیں اٹھا سکتا یہ کندھا۔۔ رحم کھا لیں مجھ پر۔۔
کوئی تو رحم کھا لے مجھ پر میری زندگی پر۔۔”
سسکتی ہوئی آواز نے دم توڑ دیا تھا جب وہ نسواء کے کندھے پر سر رکھ کر رو دئیے تھے
“نسواء بس کرجائیں۔۔پلیز ہاتھ جوڑتا ہوں بس کرجائیں۔۔گھر چلیں۔۔”
“نہیں چل سکتی گھر۔۔ میں نہیں جاسکتی کہیں بھی میں نے جاکر بھی یہیں آنا ہے۔۔
میرا وجود میرے بیٹے کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔۔ میں خاک ہوں نجیب۔۔ وہ خاک جسے اسے کے ظالم شوہر نے پاؤں کی دھول سمجھ کر اڑا دیا۔۔۔
میں وہ بدبخت ہوں جسے دوسری زندگی دی اسکے بیٹے نے۔۔ میں تو جی ہی اپنے مننان کے لیے رہی تھی۔۔
میں کچھ نہیں ہوں نجیب۔۔۔ میراوجود کچھ نہیں ہے۔۔
میں بس اسکے لیے جی رہی تھی وہ نہیں تو میں بھی نہیں یہ نسواء بھی نہیں۔۔۔”
سر اٹھا کر نجیب کی آنکھوں میں دیکھا تھا اب انہوں نے اپنے شوہر کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“نجیب میں مننان کے بغیر کچھ نہیں ہوں میری ممتا مر گئی میرے بیٹے کے ساتھ میں۔۔۔”
“نسواء۔۔۔یہ خون۔۔”
نسواء کے ناک سے بہتے خون نے انہیں پریشان کردیا اور اگلے ہی لمحے وہ بےجان گر پڑی تھی
“نسواء۔۔۔۔ نسواء۔۔۔”
نسواء۔۔۔”
اس وجود کو سینے سے لگائے چیخ اٹھے تھے وہ۔۔۔
۔
