Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
“وی سلیپٹ ٹوگیدر بیفور میرج نسواء۔۔۔۔ وہ پریگننٹ ہوچکی تھی۔۔
نکاح سے پہلے چیٹ کیا تھا میں نے آپ کو۔۔۔ وہ افئیر نہیں تھا زنا تھا۔۔
میں۔۔۔۔”
ایک زور دار تھپڑ نے نجیب کا چہرہ دوسری طرف کردیا تھا
جس طرح نسواء کو یقین نہیں تھا اس سچ پر جو نجیب نے آج اتنے سالوں کے بعد بولا اسی طرح نجیب کو بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ نسواء نے اس پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔
وہ اس قدر مغرور اور آنا پرست مرد تھا کہ بیوی سے پڑنے والے اس تھپڑ نے اسکے تن بدن میں آگ لگا دی تھی اسکی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں بےیقینی سے وہ طیش میں کھڑا ہو گیا تھا منہ پھیر لیا تھا
“آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا نسواء۔۔۔؟؟”
“بہت پہلے اٹھانا چاہیے تھا نجیب غلطی ہوگئی شوہر پہ اندھا یقین کرکے اسے کھلا چھوڑ کر کاش میں مر جاتی اس غلیظ سچ کو سننے سے پہلے۔۔۔
وہاں میں لڑتی رہی جینے کے لیے اور آپ مجھے مارنے کی تیاریاں کرتے رہے۔۔”
اس بلڈنگ میں بہت سے گارڈز نے ان دونوں کو کور کرلیا تھا
“میم آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟ چلیں سر آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں پلیز۔۔۔۔”
نسواء کے گارڈ اسے وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔
جبکہ نجیب۔۔۔۔نجیب آفندی ابھی بھی اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے وہاں کھڑا تھا۔۔۔ نسواء نے اس پر ہاتھ اٹھاکر اسکی غیرت اسکی آنا کو للکارا تھا اس نے اس وقت قسم کھائی تھی وہ نسواء کے غرور کو چکنا چور کردے گا اسے واپس اپنی زندگی میں شامل کرکے۔۔۔۔
“نسواء آپ کو ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا آپ نے غلط کیا بہت۔۔۔”
اسے کیوں تکلیف ہورہی تھی۔۔۔؟
کیا اس لیے کہ جس بیوی نے کبھی نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا تھا آج اس نے ہاتھ اٹھا دیا۔۔۔؟
اسے کیوں اتنا درد ہورہا تھا نسواء کی آنکھوں میں خود کو گرتے دیکھ کر۔۔؟
اسے کیوں اذیت پہنچی تھی جب بنا کچھ کہے وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
وہ تو بار بار اسے موقع دے رہا تھا واپس آنے کا۔۔۔
وہ تو احسان کررہا تھا اسکی معذوری کا جان کر بھی پھر بھی نسواء کی اکڑ نے نجیب کو طیش دلا دی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آفندی۔۔؟؟”
“ہاشمی۔۔۔”
اپنے بہت پرانے جگری دوست کو دیکھتے ہی اس نے اپنی ڈرنک کا گلاس دوسری طرف رکھ دیا تھا
“مجھے معلوم نہیں تھا دوبارا پینا شروع کردی۔۔؟؟”
ظہیر ہاشمی نجیب کے گلے ملتے ہی پوچھنے لگا تھا
“میں نے چھوڑی کب تھی۔۔؟؟ “
“ہاہاہا۔۔۔ کیا عمارہ نے لڑائی کی ہے۔۔؟”
وہ دونوں دوست واپس چئیر پر بیٹھ گئے تھے پیچھے سے لاؤڈ میوزک اور ڈانس کرتےلوگ نجیب کو زہر لگ رہے تھے مگر مجبوری تھی اسکی بھی۔۔ وہ لندن میں رکا ہوا تھا اور وہ ناکام واپس لوٹ کرنہیں جانا چاہتا تھا۔۔
۔
“وہ کون ہے۔۔؟؟ “
“ہاہاہاہا اپنی بیوی بھول گئی نشہ چڑھتے ہی۔۔؟؟”
“دوسری بیوی۔۔۔”
نجیب نے پھر سے ویٹر کو اشارہ کیا تھا ویٹریس ڈرنک رکھتے ہی نجیب کے کندھے کی طرف جھکی تھی
“اینی تھنگ ایلس سر۔۔؟؟”
“گیٹ لوسٹ۔۔۔کیا کہہ رہے تھے تم۔۔؟؟”
نجیب نے روڈلی کہتے ہوئے واپس ظہیر کو دیکھا تھا
“وہ اب پہلی بیوی ہی ہوئی نجیب۔۔۔ کیونکہ جس طرح اس عورت نے تمہیں ذلیل کیا سب کے سامنے تمہاری مردانگی کو للکارا تم ابھی بھی اسے اپنا نام دئیے بیٹھے ہو۔۔”
نجیب نے منہ نیچے کرلیا تھا تب اور جوش سے ظہیر نے ہمدردی سے نجیب کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“یو نو وٹ۔۔؟ تمہارے پاس ایک پرفیکٹ فیملی ہے بڑا بزنس ہے ماہیر کو اپنی سیٹ دے کر تمہیں اب ریسٹ کرنا چاہیے۔۔۔یہاں کا بزنس تو ویسے بھی میں سنبھال رہا ہوں۔۔”
“اسی لیے تمہیں بلایا ہے میں نے ہاشمی۔۔۔ میں یہاں کا بزنس واپس سنبھالنا چاہتا ہوں۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
ظہیر جتنی بری طرح شاکڈ ہوا تھا نجیب نے اسے ایک نظر دیکھا اور واپس گلاس بھر لیا تھا
“کیوں۔۔؟؟ یار تو آگے ہی پریشان رہتا ہے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ جاؤ کہیں گھومنے پھیرنے۔۔۔ ویسے بھی تمہارے اس بدتمیز بیٹے مننان اور نافرمان بیوی کو ڈھونڈنے کے چکر میں تم نے کتنے سال برباد کردئیے۔۔۔”
نجیب نے غصے سے گلاس کو پکڑا تھا پر وہ کہہ نہیں پایا تھا اپنے دوست کو۔۔
وہ کیوں اپنی بیوی اور بیٹے کے خلاف بولنے والوں کو کچھ کہہ نہیں پاتا تھا۔۔؟؟ اسکی آنا کو کیا سکون ملتا تھا ان دونوں کی بےعزتی سن کر۔۔؟؟
اسکا جواب تو اسکے پاس بھی نہیں تھا۔۔۔
وہ اتنا جانتا تھا ظہیر اسکے بچپن کا ساتھی تھا اسکے خون سے بھی زیادہ اپنا تھا۔۔۔
اور وہ جانتا تھا اس شخص کا بہت بڑا ہاتھ تھا نجیب کو اسکے بیٹے اسکی بیوی کت خلاف کرنے میں۔۔۔
“نجیب ۔۔”
“میں تیرے بزنس کی بات نہیں کرررہا اپنا بزنس واپس مانگ رہا ہوں جب تک میں یہاں ہوں۔۔۔ ‘ویسے بھی اسے منانے میں وقت لگ جائے گا۔۔۔’
آخری بات نجیب نے خود سے کی تھی وہ عہد کرچکا تھا نسواء کو واپس لے جانے کا۔۔ جیسے پیس آف کیک ہو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہزاروں منزلیں ہوں گی۔۔ ہزاروں کارواں ہوں گے
نگاہیں ہم کو ڈھونڈیں گی۔۔ ناجانے ہم کہاں ہوں گے۔۔۔”
۔
“مس منیشہ۔۔۔”
“منیشہ کی کھوئی نظریں واپس سامنے کھڑے شخص پر آگئی تھی جو دوسرے ٹیبل پر بیٹھے ہنستے ہوئے کھانا کھلا رہا تھا لیزا کو۔۔۔
“منیشہ۔۔”
منیشہ نے نظر ہٹا لی تھی اورجاوید کی طرف دیکھا تھا
“تمہیں نہیں آنا چاہیے تھا منیشہ۔۔اس شخص کو کسی اور کے ساتھ ایسے خوش دیکھ کر جو تم پہ گزر رہی ہے میں وہ محسوس کرسکتا ہوں۔۔”
جاوید نے منیشہ کے ہاتھ پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا مننان کی نظر لیزا سے ہٹ کر انکے ٹیبل پہ پڑی تھی
“آپ کیسے وہ محسوس کرسکتے ہیں جو آپ پر بیتی نہیں ہے سر۔۔؟؟ اور آپ کو لگتا ہے میں شوق سے آئی ہوں یہاں۔۔؟؟ مننان ‘صاحب’ کا حکم تھا میں اس میٹنگ میں رہوں۔۔۔”
منیشہ نے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا۔۔
“تم ابھی واپس جاسکتی ہو۔۔ رکو میں مننان سر سے پرمیشن لے آؤں ساتھ چلتے ہیں میٹنگ ویسے بھی ختم ہوچکی ہے۔۔”
جاوید نے منیشہ کی بھری آنکھیں دیکھ کر کہا تھا اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا منیشہ کی یہ حالت اس لڑکی کو ہمیشہ ہنستے اور دوسروں کو ہنساتے دیکھا تھا سب نے۔۔۔
“مگر جاوید سر۔۔”
جاوید کا ہاتھ پیچھے سے جیسے ہی پکڑا تو مننان اپنے ٹیبل سے اٹھ کر انکی طرف بڑھا تھا
“جاوید تم ابھی تک گئے نہیں ہو۔۔؟ آفس کے کام ختم ہوگئے ہیں۔۔؟؟”
اس نے طنزیہ کہا تو منیشہ کرسی سے کھڑی ہوگئی تھی
“نہیں سر ہم جارہے ہیں چلیں مس منیشہ۔۔۔”
“منیشہ۔۔ مس منیشہ میرے ساتھ آجائیں گی۔۔”
مننان کہتے ہی ٹیبل کی جانب بڑھنے لگا تھا جب منیشہ نے اسے مخاطب کیا
“اٹس اوکے سر میں جاوید سر کے ساتھ جا رہی ہوں آپ ایزی ہوکر ڈنر کیجئے۔۔ چلیں سر۔۔”
اس نے اپنا پرس پکڑ لیا تھا۔۔اور مننان کے جواب کا بھی انتظار نہیں کیا تھا منیشہ نے۔۔
“سوری سر۔۔ منیشہ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔”
“مس سے سیدھا نام پر۔۔؟ نزدیکیاں کچھ زیادہ نہیں بڑھ رہی جاوید۔۔؟؟”
اپنے اسسٹنٹ کو غصے سے دیکھا تھا مننان نے۔۔
“سر ایسی بات۔۔”
“ایسی بات ہونی بھی نہیں چاہیے۔۔۔ آفس رولز کو توڑنے کی کوشش کی تو ساری زندگی نوکری کرنے کے قابل نہیں رہو گے۔۔”
اسکے الفاظ میں ایک پوشیدہ وارننگ تھی۔۔ جاوید کے جانے تک گاڑی تک پہنچنے اور منیشہ کے لیے دروازہ کھولنے تک مننان ان دونوں کو دیکھتا رہا تھا۔۔۔
۔
“یہ سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔؟؟”
اور شدید غصے کے عالم میں واپس لیزا کی طرف آیا تھا۔۔
۔
“مننان کیا ہوا غصے میں لگ رہے۔۔؟؟”
“نہیں۔۔ تم بتاؤ کیا کہہ رہی تھی۔۔؟ پاکستان کب جارہی ہو۔۔؟؟”
اس نے بات بدل دی تھی
“میں نجیب مامو ں کے ساتھ چلی جاؤں گی۔۔ وہ بھی یہیں ہیں۔۔۔”
مننان کی گرفت ہاتھ میں پکڑے موبائل پر مظبوط ہوئی اسکی آنکھوں میں وہی غصہ اتر آیا تھا جو اس رات حزیفہ کی برتھ ڈے پارٹی پر اس شخص کو دیکھ کر آیا تھا
“اووہ۔۔۔ویسے تمہارے نجیب ماموں بہت کلوز ہیں تمہارے۔۔ کیا کرتے ہیں۔۔؟”
“ٹاپ کے بزنس مین ہیں کامیاب ہزبنڈ پرفیکٹ فادر۔۔ اچھے بیٹے۔۔بھائی مامو۔۔ ہاہاہا۔۔”
وہ بتاتے ہوئے ہنس دی تھی
“یہ تو وقت بتائے گا۔۔ کامیاب بزنس مین بیٹے باپ بھائی کتنے کامیاب۔۔”
“کچھ کہا تم نے۔۔؟؟”
“نہیں جلدی سے سب فنش کرو میری ضروری میٹنگ ہے۔۔”
“نہیں مننان تم نے وعدہ کیا تھا ماموں سے ملو گے۔۔پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔”
“لیزا میں۔۔۔”
“پلیز مننان۔۔۔”
“اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔جگہ اور وقت میں بتا دوں گا۔۔۔”
” تھینک یو تھینک یو۔۔۔ آئی لو یو سو مچ۔۔۔”
لیزا خوشی سے اٹھی اور مننان کے گلے لگی تھی
“فائنلی مسٹر نجیب آفندی۔۔۔ ملاقات ہوگی پہلے اس روپ میں جس میں آپ دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسرا اس روپ میں جو میں آپ کو دیکھانا چاہتا ہوں۔۔۔
لیٹس میٹ۔۔”
مننان لیزا کو ہوٹل ڈراپ کرنے کے بعد اپنے خاص ملازم کو فون کیا تھا۔۔۔
۔
“ہادی۔۔ میں نے جو کہا تھا سب انتظام ہوگیا ہے۔۔؟؟”
“جی سر۔۔ وہ لڑکا ڈھونڈ لیا ہے اور وہ کریمینل فائل بھی نجیب آفندی کے سامنے ہوگی۔۔ پر سر آپ کیوں چاہتے ہیں کوئی آپ بن کر انکے سامنے جائے۔۔؟؟”
“میں ان لوگوں کو خوش کرکے دھچکا دینا چاہتا ہوں۔۔۔اور بہت جلدی دوں گا۔۔”
مننان نے فون بند کردیا تھا۔۔۔وہ یہاں خوشی خوشی گھر جارہا تھا اسے کیا معلوم تھا گھر جاکر اسکی ساری خوشی ایک سوگ میں بدل جائے گی اپنی ماں کی اداس حالت دیکھ کر۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما۔۔۔”
“مت جاؤ وہاں چھوٹی۔۔۔ ماں کو ابھی ہماری ضرورت نہیں ہے۔۔ وہاں مت جاؤ ابھی۔۔۔”
مننان جلدی میں اپنے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔اور حورب پاؤں سمیٹے نیچے ہال میں ہی بیٹھ گئی تھی آہستہ آہستہ سب لائٹس بند ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔
وہی دھن گونجی تھی جو وہ بچپن میں سنتی تھی۔۔۔ وہ اس دھن کو سن کراتنا سمجھ گئی تھی آج اسکی ماں پھر سے اتنی تکلیف میں ہیں جتنا وہ کچھ سال پہلے تھیں۔۔۔
۔
“وی سلیپٹ ٹوگیدر بی فور میرج۔۔۔”
وہ ایک بات گونج رہی تھی اسکے کانوں میں۔۔اس نے نظریں گھمائی تو اس کمرے میں وہی شخص تھا۔۔۔ وہ شخص جس سے اسے محبت ہوگئی تھی شادی سے پہلے۔۔۔
نجیب آفندی۔۔۔ جو اس کے لیے کسی پرنس چارمنگ سے کم نہ تھا۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
آنکھیں بےساختہ بھر آئی تھی وہ اس روم کے سینٹر میں تھی ویل چئیر کو اس سائیڈ پر لے گئی تھی جہاں ایک کارنر پر اس نے انسٹرومنٹ رکھ دیا تھا اور قسم کھائی تھی پھر کبھی وہ یہاں نہیں آئے گی اس کمرے میں جو لاک پڑا تھا سالوں سے۔۔۔
پر۔۔۔ آج وہ شخص کامیاب ہوگیا تھا اسکے دل کے ارد گرد بنی ان ضبط کی دیواروں کو توڑنے میں۔۔۔
۔
“کیوں ہوگئے آپ ایسے۔۔؟؟ کیوں گر گئے میری نظروں سے۔۔ میں تو آپ کو شرعی حق نہیں اپنا پائی تھی میں دوسری شادی ایکسیپٹ نہیں کرپائی تھی نجیب۔۔
آپ نے یہ حقیقت کیونکر آشنا کردی مجھ پہ۔۔۔؟؟”
وہ وائلن اس نے جیسے ہی پکڑا تھا وہ ایک ہی دھن پر اسکے ہاتھ اور انگلیاں چلنا شروع ہوئی تھی جو وہ کالج کے ٹائم پر سیکھنے کے کوشش کرتی تھی
۔
“عورت بیوی کے روپ میں سب وار دیتی ہے مگر مرد شوہر کے روپ میں کیوں وہ سب نہیں دے پاتا جو ایک عورت کو چاہیے ہوتا وہ کیوں شراکت سے پاک رشتہ دے نہیں پاتا۔۔؟ کیونکہ وہ دل لگی کرنے کی بغاوت کر بیٹھتا ہے۔۔؟ کیوں کسی اور عور ت کو شریک بنا دیتا ہے۔۔؟
مرد شوہر کے روپ میں اتنا ظالم کیسے ہوجاتا ہے۔۔۔”
۔
“وہ دھن میں کیا درد پوشیدہ تھا کہ مننان سر جھکائے بیٹھ گیا تھا جیسے اسکی آنکھیں بھری ہوئی تھی ویسے ہی نیچے ہال میں بیٹھی حورب کا چہرہ بھی اسکے آنسوؤں سے تر تھا۔۔۔
اگر وہ لوگ یہاں وہاں دیکھتے تو جان جاتے گھر کا ہر ملازم اشکبار تھا۔۔۔
اس بیوی کا درد محسوس کررہے ہوں جیسے۔۔۔
۔
“کیوں کوئی شوہر سمجھ نہیں پاتا اپنی بیوی کا درد جب وہ کسی دوسری عورت کو مسلط کردیتا ہے پہلی بیوی پر۔۔؟
کیوں شوہر سمجھ نہیں پاتا بیوی کے اس نازک دل کو جس میں وہ خود اکیلا وارث ہوتا ہے مگر اپنے دل میں وہ کسی دوسری کو جگہ دہ دیتا۔۔؟
کیوں دوسری شادی کا نام آتے ہی مرد بےحس بن جاتا ہے۔۔؟”
“کیوں کیا میرے ساتھ ایسا نجیب۔۔۔ کیوں اتنے سالوں کے بعد اس سچائی سے پردہ اٹھایا۔۔۔ اب کیسے اس چہرے کو دیکھوں گی جس سے اتنی محبت کی میں نے۔۔۔”
۔
“شوہر جب سنگدل ہوجائے تو وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔۔۔
اور اگر بیوی سنگدل ہوجائے تو کیا ہوتا ہے آپ دیکھ لیں گے نجیب۔۔۔
جس معزوری کا طعنہ آپ مجھے دے رہے ہیں میں بہت جلدی اپنے پیروں پہ کھڑی ہوکر دیکھاؤں گی۔۔ جس بیٹے کو آپ نکما نکارا سمجھ رہے وہ جس دن آپ کے سامنے آئے گا آپ کی آنکھیں جھک جائیں گی اسکی عزت اسکی کامیابی دیکھ کر۔۔۔”
۔
وہ اور رو دی تھی آخری بات پر۔۔
“کس طرح کے باپ ثابت ہوں گے آپ۔۔؟؟ بیٹے کی کامیابی دیکھ کر باپ کا سینہ فخر سے چوڑہا ہوجاتا ہے اور آپ اپنی ہی باتوں پہ شرمندہ ہوجائیں گے۔۔۔
کیوں۔۔۔”
۔
شاید جواب نہیں تھا۔۔۔ اس نے فیصلہ کرلیا تھا وہ حورب کو اس کانفرنس میں جانے کی اجازت دہ دے گی جس پر جانے سے اس نے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔
۔
اس نے فیصلہ کیا تھا اب وہ چھپ چھپا کر زندگی بسر نہیں کرے گی۔۔
اس نے فیصلہ کیا تھا اب وہ ہر ایک کا سامنا کرے گی سر اٹھا کر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پہلے میری ماں کا ٹریٹمنٹ ہوگا نظر نہیں آرہا انہیں چوٹ لگی ہے۔۔”
“دیکھیں میم ابھی سب ڈاکٹرز ایک ضروری کانفرنس اٹینڈ کررہے ہیں آپ انہیں سٹریچر پر لٹا دیں ہماری قابل نرس انہیں دیکھ لیتی ہیں۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ ڈیڈ آپ کچھ کہتے کیوں نہیں ہیں انہیں۔۔ میری ڈیڈ ایک منٹ میں یہ ہاسپٹل بند کروا دیں گے۔۔”
“شزا بیٹا ریلیکس۔۔۔”
ان لوگوں نے بہت تماشا کردیا تھا کہ لوگ اکٹھے ہوگئے تھے وہاں۔۔
“آپ نے جو کرنا ہے آپ کرلیجئے میں آپ کو اس سے زیادہ ریلیف نہیں دے سکتی۔۔۔”
وہ جیسے ہی جانے لگی تھی جب ماہیر نے اس کا بازو پکڑ کر واپس شزا کے سامنے کھڑا کردیا تھا
“ہمیں یہاں پر ڈاکٹر چاہیے دو ٹکے کی نرس نہیں۔۔ “
“سر میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔”
ماہیر نے جتنی بےدردی سے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ریسیپشنسٹ کی آنکھیں بھر گئی تھی
“ماہیر چھوڑ دو چھوٹے لوگوں کے منہ نہیں لگتے بیٹا۔۔ میں ابھی اس ہاسپٹل کو بند۔۔”
نجیب آفندی بات مکمل نہیں کرپائے تھے جب پیچھے سے کسی نے تالیاں بجا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا
“مجھے لگ رہا تھا انکی تربیت کرنے والے شاید سمجھدار ہوں گے اور آپ اپنے بیٹے کو قصوروار ٹھہرائیں گے۔۔۔مگر سر آپ تو اس سے زیادہ بگڑے ہوئے غرور میں چور لگ رہے ہیں۔۔۔آپ اپنی مسز کو لیکر کسی الگ ہسپتال چلے جائیں یہ چھوٹے لوگوں کے ہاسپٹل میں کیا لینے آئے ہیں۔۔؟؟”
“ڈاکٹر حورب جانے دیں پلیز۔۔۔”
“کیوں جانے دیں۔۔۔؟؟ انکے باپ کی جاگیر تھا۔۔؟؟ کتنی دیدہ دلیری سے آپ کو مس ہینڈل کیا یہ مرد ہے۔۔؟؟ اور آپ ۔۔۔ مسٹر “
نجیب کی طرف انگلی سے وارننگ کا اشارہ کیا تھا حورب نے جب نجیب صاحب نے پلٹ کر حورب کی جانب دیکھا تھا
وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران ہوئے تھے
“یو بچ یہ میرے ڈیڈ ہیں جن کے ساتھ بدتمیزی کررہی ہو تم اور ہم کون ہیں جانتی ہو۔۔۔”
شزا کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا حورب نے اسکے چہرے پر بلا کا غصہ تھا وہ پھر سے ہاتھ اٹھانے لگی تھی جب سینئر ڈاکٹر نے حورب کو روک دیا تھا
“ہاؤ ڈیرھ یو۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی مجھے گالی دینے کی۔۔۔ بدتمیز۔۔۔ تربیت نہیں سیکھائی گھر والوں نے۔۔ سر جتنے ویل ایجوکیٹڈ مجھے اس دن آپ لگے تھے آج مجھے سمجھ آرہی ہے آپ کی تہذیب۔۔۔ بچوں کو صرف دولت کی لت لگائی ہے بول چال کا ہنر دینا بھول گئے آپ۔۔؟؟”
نجیب ایک لفظ بھی بول نہیں پایا تھا۔۔ مگر اپنی تربیت پر بات آتے ہی وہ حورب کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“اس دن تم نے میری جان بچائی تھی اس لیے میں آج تمہارا لحاظ کررہا ہوں۔۔۔
تم جانتی نہیں ہو میں کیا کرسکتا ہوں تمہارے ساتھ تمہارے کیرئیر کے ساتھ۔۔”
وہ کہتے ہی واپس مڑنے لگے تھے شزا کے گال پر ہاتھ رکھے انہوں نے اپنا غصہ پینے کی کوشش کی تھی ایسا پہلی بار ہوا تھا انکے سامنے کسی نے انکی بیٹی کے سامنے ہاتھ اٹھایا اور وہ کچھ نہ کرپائے۔۔۔
“کیا کریں گے آپ۔۔؟؟ میرا کیرئیر دولت کی بنیاد پر نہیں ٹکا ہوا مسٹر۔۔ محنت کرکے یہاں تک پہنچی ہوں کیا برباد کریں گے آپ۔۔؟؟ جس شخص کو سہی غلط کا معلوم نہیں جو اپنے بچوں کو بدتمیز اور بےحیا۔۔۔”
نجیب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا حورب پر۔۔۔۔
مگر وہ تھپڑ حورب کو محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔ حورب نے ایک خوف میں اپنی آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔اسے یقین نہیں تھا جس شخص کی زندگی اس نے اس دن بچائی وہ ایسے ہاتھ اٹھا دے گا۔۔۔
۔
اور جب کچھ سیکنڈ تک خاموشی چھائی رہی اسے کچھ محسوس نہ ہوا تو اس نے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔
نجیب آفندی کا ہاتھ کسی نے سامنے سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔
اور جب اپنے دوسری طرف نظر دہرائی تو اپنی ماں کو دیکھ کر حورب حیران رہ گئی تھی
“ماں آپ۔۔۔؟؟ آپ پاکستان میں کیا کررہی ہیں۔۔۔”
مگر نسواء نے تو کسی کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔ نجیب کا ہاتھ جھٹک دیا تھا اور ان دونوں کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ تھا۔۔۔ وہ اس قدر قریب ہوئی تھی اسکی ہائیٹ اتنی تھی کہ وہ نجیب آفندی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی
“مسٹر نجیب آفندی۔۔۔ میری بیٹی پر دوبارا ہاتھ اٹھانے کی جرآت کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔”
۔
وہ حورب کا ہاتھ پکڑے اسے ایمرجنسی وارڈ سے لے جانے لگی تھی وہ نجیب کے پاس سے گزرے تھے جو کچھ بولنے سننے اور سمجھنے کی سلاحیت کھو چکا ہو۔۔۔ اسکا وجود ایسے تھا۔۔ وہ ۔۔
“موم رکیں زرا۔۔۔ میری میٹنگ چل رہی تھی میں اٹینڈ کرکے آتی ہوں آپ تب تک ویٹ کیجئے پلیز۔۔۔”
حورب واپس نجیب کے پاس سے گزری تھی اور کانفرنس روم کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ شزا اور ماہیر غصے سے اس عورت کو دیکھتے رہ گئے تھے جس نے ابھی انکے ڈیڈ کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
“ڈیڈ آپ کہیں تو میں اس عورت اور اسکی۔۔۔”
“ڈونٹ۔۔۔”
نجیب کہتے ہی واپس اس سمت گیا تھا جہاں نسواء گئی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔۔۔”
نجیب نے موبائل واپس رکھ دیا تھا وہ لوگ ہاسپٹل سے واپس آگئے تھے۔۔۔ وہ بیڈروم میں کسی گھائل شیر کے جیسے چکر کاٹ رہا تھا جب روم کا دروازہ اوپن ہوا اور عمارہ کھڑی تھی ہاتھ میں چائے کا مگ لئیے۔۔
“کیا کررہی ہو یہاں۔۔؟؟ منع کیا تھا اس کمرے میں آنے سے۔۔۔”
نسواء اور نجیب کی شادی کی تصویر دیکھ کر وہ ہنس دی تھی
“آپ ابھی بھی اس کمرے میں سکون ڈھونڈنے آتے ہیں۔۔؟؟
آج تو اس کمرے میں آنے پر اذیت ہونی چاہیے تھی۔۔”
وہ مگ رکھ کر اسکے مقابل کھڑی ہوئی تھی۔۔نجیب نے اسے درگزر کردیا تھا کوٹ اتار کر چئیر پر رکھا اور پھر وہ موبائل پر نمبر ڈائل کرنے لگا تھا جب عمارہ نے اسے وہ بات کہہ دی تھی جسے سن کر اسکی روح تک کانپ اٹھی تھی
“آپ یہاں اسکے انتظار میں بیٹھے تھے اور وہ وہاں عیاشیاں کرتی رہی اسکی ناجائز بیٹی آپ کے سامنے تھی۔۔ اسکی بےوفائی کا جیتا جاگتا ثبوت۔۔۔ وہ وہاں کسی غیر مرد کے ساتھ راتیں رنگین۔۔”
عمارہ کو جتنی زور سے تھپڑ مارا تھا وہ بیڈ پہ جاگری۔۔
“ایک اور لفظ نہیں بے شرم عورت۔۔ وہ میری نسواء ہے میری بیوی۔۔ اونر ہے میرا۔۔
اسکے کردار پر آنکھیں بند کرکے یقین ہے مجھے۔۔ وہ ناجائز نہیں میری جائز اولاد ہے۔۔
میری بیٹی ہے۔۔۔ شرم کرو کچھ لحاظ کرلیتی۔۔ جی تو چاہتا ہے جان لے لوں تمہاری۔۔۔
نکل جاؤ میرے کمرے سے۔۔”
نجیب نے عمارہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر نکال دیا تھا جو دادی کے قدموں پہ جا کر گری تھی۔۔
۔
“اگر اتنی ہی محبت تھی تو کیوں کی میرے ساتھ شادی۔۔ کیوں لائے مجھے۔۔ کیوں عذادب بنا دی میری زندگی۔۔۔”
وہ دادی کے گلے لگ کر روئی تھی اور چلائی تھی۔۔۔
“کیونکہ عمارہ بیگم جس دلدل میں مجھے تم نے دھکیلا تھا اس میں دھنسنا تمہیں بھی تھا۔۔
زندگی عذاب کیسے بنتی ہے ابھی تمہیں معلوم نہیں ہوا گستاخ عورت اگر پھر میرے سامنے اونچی آواز میں بات کی تو طلاق دہ دوں گا۔۔”
نجیب نے دروازہ اسکے منہ پر بند کردیا تھا وہ گھر والوں کو حیران کرچکا تھا اپنی بات سے۔۔ اور عمارہ تو زاروقطار رونا شروع ہوگئی تھی طلاق کے نام پر۔۔۔
“عمارہ کو کمرے میں لیکر جاؤ بہو۔۔ یہ تو شکر ہے بچے گھر پہ نہیں ہیں۔۔جب سب آفس سے آجائیں تو میرے کمرے میں بھیج دینا نجیب کا غصہ حد سے تجاوز کررہا ہے اب۔۔”
دادی سختی سے کہتی ایک نظر بند دروازے پہ ڈالے واپس چلی گئی تھی۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
