Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
“شام کو میٹنگ ہے امپورٹنٹ کوئی ڈسٹرب نہ کرے مجھے۔۔۔”
“اوکے سر۔۔ ہیو آ گڈ ڈے۔۔۔”
مننان کپڑے اتار کر واشروم میں چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“میں بھی کوشش کروں گی آپ کو اپنے دل سے نکال باہر کروں مننان۔۔۔”
۔
“ڈیم اِٹ۔۔۔۔”
شاور آن کئیے وہ گرتے ہوئے پانی میں ایک ہی چہرے کو بار بار دیکھ رہا تھا۔۔
اور جب منیشہ کی بات اسکے دماغ میں گھومنا شروع ہوئی تو اس نے وال پر زور سے ہاتھ مارا۔۔
عین اسی وقت پیچھے سے کسی نےاسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا
“لیزا۔۔۔”
سینے پہ ٹیز کرتی ان انگلیوں کو مظبوطی سے پکڑے وہ اس وجود کو اپنے سامنے لا چکا تھا شاور کے نیچے وہ لڑکی بھیگ رہی تھی جس کی آنکھوں میں شرارت تھی مننان کو ایسے دیکھ کر
“لکنگ ہوٹ مسٹر۔۔۔”
وہ ہاتھوں کو مننان کے بالوں سے پھیرتے ہوئے گردن تک لے آئی تھی۔۔۔
“تم سے کم لگ رہا ہوں۔۔۔”
لیزا کے ہاتھ اپنے نک سے ہٹائے اس نے موڑ دئیے تھے اور قریب کرلیا تھا
“پلان تو پاکستان میں ملنے کا تھا۔۔؟؟”
مننان نے اسکے کندھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے سرگوشی کی تھی۔۔
“اب اور دوری برداشت نہیں ہورہی تھی جان۔۔۔کس مئ۔۔۔”
اسکے ہونٹوں کی طرف دیکھےوہ ڈیسپریٹ ہوکر بولی تو اگلے ہی لمحے مننان نے اسکی یہ خواہش بھی پوری کردی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان صاحب نے منع کیا ہے ہے میم۔۔”
“انہوں نے کچھ بھی نہیں کھایا تم چاہتے ہو وہ بھوکے رہیں۔۔؟؟”
“پر منیشہ میم اندر جانا آپ کے لیے سہی نہیں۔۔”
مننان کے اسسٹنٹ نے ہڈن وارننگ دی تھی وہ جانتا تھا مننان کے بند کمرے میں کیا ہورہا ہوگا اس نے اس لڑکی کو فلا اتھارٹی کے ساتھ اس روم میں جاتے دیکھا تھا جو مننان کا پرائیویٹ روم تھا جس کا لاک پاسورڈ اس لڑکی کو آلریڈی معلوم تھا۔۔۔
۔
“منیشہ تمہارا اس وقت وہاں جانا ٹھیک نہیں۔۔”
ایگزیکٹ دوسری طرف روم کو دیکھتے ہوئے سینئر گارڈ نے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی تھی منیشہ کو وہ جو عمر میں بڑے تھے اور منیشہ کو بیٹی کی طرح ٹریٹ کرتے تھے آفس میں۔۔۔
سب کو ہی معلوم تھی منیشہ کی فیلنگس مننان کو لیکر۔۔۔
“دیکھو منیشہ۔۔۔”
“میں ایسے باز نہیں آنے والی ڈنر دے آؤں پکا۔۔”
وہ اپنی ناراضگی بھلا کر مننان کے لیے کھانا لے جارہی تھی وہ اپنی آنا بھول کر اس روم کی جانب بڑھی تھی
“منیشہ نے آہستہ سے ناک کیا تھا مننان کی غصے سے بھری آواز آئی تھی
“میں نے بکواس کی تھی کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔۔”
مننان باتھروب سوٹ کی نوٹ بند کرتے ہوئے دروازہ کھولتا ہے۔۔
وہ پہلی بار مننان کو کیچئول میں دیکھ رہی تھی اسکی چہرے پہ مسکان آئی۔۔ گالوں پر ہلکا ہلکا سا بلش ابھرا۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ ایک الگ آواز آئی تھی اندر سے اور منیشہ کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے جب ایک لڑکی مننان کی شرٹ پہنے بئیر لیگز کے ساتھ مننان کے پاس آکر کھڑی ہوگئی تھی
“ہنی اتنی دیر لگا دی بعد میں ڈانٹ لینا بیچاری کو۔۔۔”
وہ کھانے کی ٹرے ہاتھوں سے گر گئی تھی۔۔۔
“ایم۔۔۔ ایم سو سوری۔۔۔”
وہ جلدی سے نیچے جھکی تھی اور ٹوٹے کانچ کو اٹھا کر واپس اٹھانے لگی تھی
“تم جاؤ میں کسی سرونٹ سے صاف کروا لوں گا۔۔”
“اٹس اوکے سر آپ جائیے میں کرلوں گی۔۔”
اسے درد نہیں ہوا تھا اسکے ہاتھ پر کانچ چبھ گیا تھا خون بہہ رہا تھا جب مننان نے اسے کندھے سے پکڑ کر اٹھایا تھا
“جاؤ اپنے روم میں۔۔ پیکنگ کرو۔۔ اور اب۔۔۔ نظر مت آنا یہاں۔۔”
منیشہ کی بھیگی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
“جی۔۔۔”
وہ بازو چھڑا کر پیچھے ہوگئی تھی ایک نظر اس لڑکی کو دیکھ کر منیشہ مڑ گئی تھی۔۔۔
۔
“مننان۔۔۔”
وہ اسے جاتے دیکھ رہا تھا اور ان خون کے قطروں کو جو اسکے زخمی ہاتھ سے گررہے تھے
“کیا ہوا۔ کون تھی وہ۔۔؟تم دسٹریکٹ لگ رہے ہو کیا ون نائٹ سٹینڈ۔۔۔میرے مقابلے پر”
“اپنی بات مکمل مت کرنا۔۔۔”
مننان نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“وہ میرا سٹینڈ نہیں ہے۔۔ نوکر ہے میری کمپنی میں۔۔اورتم میرے دل کی مالک۔۔”
“آئی لوو یوو۔۔۔”
مننان کے لبوں نے اسکے ہونٹ جیسے ہی چھوئے تھے منیشہ اپنے روم کا دروازہ بند کرچکی تھی۔۔
بند دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے وہ زمین پہ بیٹھ چکی تھی گھٹنوں پہ سر چھپائے۔۔
اسکی روتی آواز اسی کمرے میں گونج اٹھی تھی۔۔۔
۔
“سو درد ہیں۔۔ سو راحتیں۔۔۔
سب ملا دلنشین۔۔۔
اک تو ہی نہیں۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فضا۔۔۔ او مائی گاڈ تم کب آئی۔۔۔ جنید بھائی موسٹ ویلکم۔۔۔”
گھر والے گھر کی لاڈلی بیٹی کو دیکھ کر اتنا خوش ہوئے تھے۔۔۔
“نجیب بھائی کہاں ہے۔۔؟”
فضا نے سب کو ملنے کے بعد پوچھا تھا
“نجیب بھی یہیں ہے یہ بتاؤ لیزا کہاں ہے۔۔؟؟”
ناہید بیگم نے پھر سے فضا کے ماتھے پر بوسہ دے کر پوچھا تھا
فضا کی بیٹی کو سب اس سے بھی زیادہ پیار کرتے تھے خاص کر نجیب۔۔۔
کیونکہ کچھ سال پہلے جو فضا کے ساتھ ہوا اسکا قصور وار نجیب خود کو سمجھنے لگا تھا اور اپنی دولت شہرت سے اس سے جو بن پڑا اس نے کیا فضا کی زندگی کو پھرسےسیٹل کرنے کے لیے۔۔۔
۔
“بھابھی کہاں ہیں۔۔؟ نظر نہیں آرہی۔۔؟؟”
“عمارہ ابھی اپنی دوست۔۔۔”
“موم میں عمارہ نہیں نسواء بھابھی کی بات کررہی ہوں۔۔ مجھے دادی نے جیسے ہی بتایا مجھ سے تو رہا نہیں گیا کہاں ہیں وہ۔۔؟”
ناہید کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ چھڑائے وہ ہال میں ہنستے ہوئے گھومی تھی۔۔۔ اور اوپر اسی کمرے کی طرف بھاگی تھی جو کبھی نجیب اور نسواء کا تھا
“اور مننان۔۔؟؟ ہمارا مننان۔۔۔؟ وہ کیسا ہے۔۔؟ بڑا ہوگیا ہوگا۔۔؟ نجیب بھائی پر گیا ہے۔۔؟ قد کاٹھ میں۔۔؟ اور ہینڈسم بھی۔۔۔”
وہ کہتی جارہی تھی کہتی جارہی تھی دادی کی آنکھیں بھیگ چکی تھی پر باقی سب افراد غصے سے دیکھ رہے تھے فضا کو۔۔۔
“وہ نہیں ہے۔۔اور کبھی واپس آئے گی بھی نہیں۔۔ تمہارا بھائی پاگل ہوگیا ہوا ہے اسے وہ چاہیے۔۔؟ جب وہ تھی تو نسواء چاہیے تھی۔۔ اور اب وہ ماڈل۔۔۔”
ناہید طیش میں کہنے لگی تھی یہ سوچے بنا کہ جنید بھی وہاں موجود تھا اور باقی ملازم بھی
“موم کوئی بھی آجائے۔۔۔ چلی جائے۔۔۔ مگر نجیب بھائی نسواء کے تھے ہیں اور رہیں گے آپ بھی جانتی ہیں۔۔۔کیا نہیں جانتی۔۔؟ پچھلے سالوں میں نجیب بھائی کی محبت نسواء بھابھی کے لیے۔۔۔”
“ہاہاہاہا محبت۔۔؟؟ میں نہیں مانتی نجیب کو محبت ہوگی۔۔؟ اگر ہوتی تو کسی اور کو بیاہ کر نہ لاتا بیٹا ناہید باجی ٹھیک کہہ رہی۔۔ ہمارا نجیب اس عمر میں بھی دل لگی سے باز نہیں آیا۔۔
اور نسواء۔۔۔ وہ۔۔”
چچی کہتے کہتے چپ ہوئی تھی جب نجیب اپنی فیملی کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تھا جو سن چکا تھا چچی کی باتیں۔۔
نجیب نے ملازموں کو اشارہ کیا تھا جو ماہیر کی ویل چئیر نیچے والے فلور کے گیسٹ روم میں لے گئے تھے
“شزا جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔”
اسکی بیٹی خاموشی سے چلی گئی تھی بنا فضا اور جنید کو ملے یہی رویہ ماہیر کا بھی تھا۔۔
“بھائی۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے نجیب کے گلے لگی تھی جبکہ نجیب کی نظریں ابھی بھی چچی اور اسکی ماں پر تھی
“آپ ایسے ویلکم کریں گے گھر کے داماد کا۔۔؟ جنید۔۔۔”
فضا کے ماتھے پر بوسہ دئیے انہوں نے جنید کو اپنے گلے سے لگایا تھا
“اور ہماری پرنسز کہاں ہے۔۔؟”
“ہاہاہا وہ بس شام کی فلائٹ سے آجائے گی لندن رک گئی اسکی دوست کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا”
وہ باتیں کرتے کرتے لیونگ روم کی طرف چل دئیے تھے
“لندن۔۔؟ مجھے بتا دیتی میں بھی وہی سے آیا ہوں میرے ساتھ آجاتی۔۔”
“آپ کیا کرنے گئے تھے وہاں۔۔؟؟”
نجیب کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا۔۔
“بس اپنی زندگی کو واپس لینے گیا تھا۔۔۔”
“اووہ۔۔۔”
عمارہ اٹھ کر جانا چاہتی تھی فضا کے آنے کے بعد اسکی عزت ویسے بھی دو کوڑھی کی رہ جاتی تھی مگر وہ نجیب کے غصے کا سبب بھی نہیں بننا چاہتی تھی تو وہ خاموشی کے ساتھ سب باتیں سنتی رہی۔۔
“بھابھی وہاں ہیں۔۔؟؟ اور مننان۔۔ وہ کیسا ہے۔۔؟”
“وہ کیسا ہوگا۔۔ اپنی ماں کی طرح ناکام۔۔ جیسے وہ شادی نبھا نہ سکی۔۔”
“موم۔۔۔”
“ماں ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں فضا۔۔”
نجیب نے ناہید کی سائیڈ لی تھی اور چائے کا سیپ بھرا تھا۔۔
“بھائی۔۔۔مننان آپ کا بیٹا ہے شو سم ریسپیکٹ۔۔”
“میں نے کونسا اسکی بےعزتی کردی۔۔؟؟ اس نے ان سالوں میں کونسی دنیا فتح کرلی ہوگی۔۔؟؟ میں جانتا ہوں۔۔ جیسے نسواء ایک بند ڈبی میں اتنے سال چھپ کربیٹھی رہی ویسے وہ بھی ہوگا۔۔ کسی چیپ سی جگہ پر ملازم۔۔۔”
نجیب کی بات نے اور شئے دہ دی تھی سب کو
“ہاہاہا ہ ہمارے ماہیر کو دیکھ لو نجیب کی چھوی ہے۔۔ باپ بیٹے ساتھ جاتے تو لوگ رک کر کر دیکھتے ہیں۔۔۔ مجھے تو شک ہے مننان میں ایک کوالٹی بھی ہوگی نجیب والی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ “
“ہاہاہاہا۔۔۔ مجھے بھی ہمارے تو ملازم بھی اتنے تعلیم یافتہ ہیں کیا مننان کو تعلیم دلوا سکی ہوگی نسواء۔۔۔”
“ہاہاہاہا وہ خود کونسا اتنا پڑھی لکھی تھی۔۔؟؟”
نجیب کی دونوں چچیاں باقی سب بڑوں کے ساتھ قہقے لگا کر ہنسی تھی۔۔۔
جو مذاق ہنسی ٹھٹہ نجیب نے شروع کیا تھا جو کچھ سیکنڈ پہلے اینجوائے کررہا تھا اسے کیوں ایک دم سے اپنی فیملی کی تذلیل کا احساس ہونا شروع ہوا تھا۔۔
“نسواء کو تو ساری زندگی نجیب کے پاؤں دھو کر پینے چاہیے تھے جس شوہر نے اس سڑک سے اٹھا کر مالکن بنا دیا تھا۔۔کیوں ناہید بھابھی۔۔؟؟”
“وہ احسان فراموش ہی رہی تھی شروع سے۔۔ اسکو ایک ہی بات چاہیے تھی نجیب اور وہ بھی سارے کا سارا۔۔۔”
“ایکسکئیوز مئ۔۔۔”
نجیب اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔
“نجیب بھائی۔۔۔”
فضا بھی نجیب کے پیچھے پیچھے اسکے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔
“آپ نے کہا آپ لے آئیں گے۔۔ کیا وہ روڈ پر پڑے ہیں جنہیں دل چاہا پھینک دیا اور اٹھا لیا۔۔؟؟”
“فضا۔۔؟؟”
نجیب نے کوٹ اتار کر رکھ دیا تھا چئیر پہ وہ حیران ہوگیا تھا فضا کے طنز پر
“آپ نے نیچے ماں کی بات سنی۔۔؟ نسواء بھابھی کو وہ دولت شہرت پیسہ بڑا مکان نہیں آپ چاہیے تھے۔۔۔
آپ نے سب دیا مگر خود کو بانٹ دیا۔۔۔ اب بھی آپ دوسری عورتوں کے ساتھ ہیں اور خواہش نسواء بھابھی کی۔۔۔؟؟”
“وٹ ربیش۔۔۔ فضا یہ سب کیا بول رہی ہو۔۔۔ میں نے کہا تھا نسواء اور میرے معاملے میں کوئی نہ بولے۔۔”
“وہ اونچی آواز میں بولا تھا جس پر فضا کی آنکھیں بھر آئی تھی
“نجیب بھائی عورت سب شئیر کرسکتی ہے پر اپنا مجازی خدا نہیں۔۔اور آپ تو محبت بھی تھے نہ۔۔؟؟ وہ جو یہاں سب چھوڑ گئی تھی۔۔ دوسری بیوی کے آنے پر۔۔ کیا وہ اتنی گئی گزری ہوگئی ہے کہ آپ کے آفئیرز اور دوسری عورتوں کے ساتھ اٹیچمنٹ کے باوجود آپ کو اپنالے گی۔۔؟؟”
“گیٹ لوسٹ۔۔۔”
نجیب کا ہاتھ اٹھ گیا تھ مگر اس نے مارا نہ تھا فضا کو وہ خود پلٹ گیا تھا اور اسے روم سے باہر جانے کا کہہ دیا تھا
“بھائی۔۔ ۔میں نہیں چاہتی نسواء بھابھی واپس آئیں آپ بہت خود غرض ہیں آپ نے اپنی زندگی کے اتنے سال برباد کردئیے اب اگر وہ آپ کے ساتھ واپس آئی تو وہ عورت ذات کے ساتھ بےوفائی کریں گی۔۔۔”
۔
“ڈیم اِٹ۔۔۔۔”
شیشے کی کھڑکی پہ ہاتھ مارا تھا جو کچھ سیکنڈ میں ٹوٹ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بےجان دل کو تیرے عشق نے زندہ کیا۔۔۔
پھر تیرے عشق نے ہی اس دل کو تباہ کیا۔۔۔”
۔
آج انکی واپسی تھی مننان کے پرائیویٹ جیٹ میں سب ویسے ہی تھا مگر اس بار منیشہ اسکے سامنے والی سیٹ پر نہیں بیٹھی وہ پیچھے لاسٹ والی سیٹ پر بیٹھی تھی مننان کوئی فائل مانگ بھی رہا تھا تو منیشہ وہ اسکے اسسٹنٹ کے ہاتھوں آگے بھیجتی تھی۔۔۔
۔
“مس منیشہ میں نے آپ سے یہ فائل منگوائی۔۔۔”
“سوری سر آپ کو فائل چاہیے کون لا رہا کون دے رہا اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
وہ اسسٹنٹ کے ہاتھوں سے فائل کھینچ کر مننان کے سامنے ٹیبل پر پٹک کر واپس پچھی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئی تھی مننان نے ایک نظر اسے غصے سے دیکھا اور پھر اپنے سٹاف کو۔۔
“مس۔۔۔”
“اٹس اوکے سر۔۔۔ بار بار نہ بلائیں انکے ہاتھ بھی زخمی ہیں اور دل۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا تھا
“تمہیں بڑا احساس ہورہا ہے اسکا۔۔۔؟؟ میرے سامنے بیٹھے کیا کررہے ہو۔؟ پیچھے دفعہ ہوجاؤ تیماداری اسکی۔۔۔”
“جی سر۔۔۔”
مننان کا اسسٹنٹ منیشہ کے سامنے والی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا تھا جس پر اور شدت سے غصہ آیا اسے مگر وہ گارڈ اور جیٹ عملے کے سامنے تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا کوئی۔۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ سیریسلی شام سر۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔”
اسکی سیکریٹری اور اسسٹنٹ کے قہقے اسے آگے تک سنائی دے رہے تھے۔۔
وہ سمجھ نہیں پارہا تھا اسے اتنا غصہ کیوں آرہا تھا منیشہ پر۔۔؟؟
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما پلیز۔۔۔ تمام سینئر ڈاکٹرز کی کانفرنس ہے۔۔ میں بھی ان سپیشل ڈاکٹرز میں ہوں سو۔۔۔”
حورب نے سوپ کا باؤل اپنی گود میں رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
“بیٹا۔۔۔میں۔۔۔ جب تم دونوں ڈیسائیڈ کرچکے ہو تو پھر مجھ سے بار بار اجازت نہ مانگو۔۔
میں کون ہوں منع کرنے والی۔؟؟”
“موم پلیز۔۔۔”
“لئیو مئ آلون۔۔۔”
“آپ کیوں خوف زدہ ہوجاتی ہیں میرے یا مننان بھائی کے پاکستان جانے سے۔۔؟؟”
“میں تمہیں ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی ناؤ لئیو۔۔”
نسواء کے تلخ لہجے پر حورب نے گہرا سانس بھرا تھا اور سپون نسواء کے ہونٹوں کی جانب کیا تھا۔۔
“ماں منہ کھولیں۔۔۔پلیز۔۔۔”
حورب کی آنکھوں میں پانی دیکھ کر نسواء انکار نہیں کرپائی تھی اور جیسے ہی منہ کھولا تھا وہ سوپ پیلانا شروع ہوئی تھی۔۔۔اور جب باؤل ختم ہوگیا تو حورب نے نسواء کے ہاتھوں کو چوم کر ماتھے سے لگایا تھا
“ماں آپ فکر نہ کریں میں نہیں جاؤں گی انفیکٹ کبھی نہیں جاؤں گی۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر باہر چلی گئی تھی جب نسواء نے چہرہ دوسری طرف کیا تو شیشے میں خود کو دیکھا تھا
“کیوں خوفزدہ ہوں میں۔۔؟ کیوں میں نہیں چاہتی میرے بچے اس ملک اس شہر میں نہ جائیں جہاں سے مجھے بےآبرو کرکے نکال دیا گیا۔۔۔
کیا حورب کا وجود کبھی نجیب پہ ظاہر نہیں ہوپائے گا۔۔؟ کیا وہ ڈیزرو کرتا ہے اپنی بیٹی۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے ابھی تک انفارمیشن نہیں ملی ڈیم اِٹ۔۔ کہاں ہے وہ۔۔؟؟ مننان نجیب آفندی نسواء نجیب آفندی۔۔۔ دونوں کی انفارمیشن چاہیے لندن میں ہیں دونوں۔۔ اب اس سے زیادہ ہنٹ کیا دوں۔۔؟؟”
“سر پلیز اس کا کالر چھوڑ دیں وہ مکمل معلومات لائے گا۔۔۔”
“مسٹر شبیر سمجھا دیں اسے۔۔۔”
نجیب نے اسکا گریبان چھوڑ دیا تھا
“اور کیا بنا اس کا جس نے ماہیر پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔؟؟ کہاں ہے سب سب انفارمیشن۔۔؟؟
ابھی میٹنگ روم ریڈی کرو مجھے وہ لوگ چاہیے جو اس کی کمپنی اور اسکی انفارمیشن رکھتے ہیں۔۔۔”
وہ ڈسمس کرچکا تھا۔۔۔آفس ونڈو پر بھی پیچھے لگے بڑے سے فوٹو فریم کا عکس اسے نظر آرہا تھا وہ تصویر جو ایک کلک پر واضح ہوجاتی تھی نجیب جب اپنے کیبن میں قدم رکھتا تھا۔۔۔
وہ صرف ایک ہی تصویر تھی وہ ایک ہی چہرہ تھا جو حکومت کررہا تھا اسکی جاگیر پر اسکے دل پر۔۔۔
“نسواء۔۔۔ اگر آپ کا غرور توڑ کر آپ کی واپسی ممکن ہے تو وہی سہی۔۔۔ “
نجیب نے کچھ منٹ بعد میٹنگ روم کا رخ کیا تھا۔۔۔
۔
جہاں سب لوگ پہلے سے موجود تھے مگر نجیب حیران ہوا تھا صرف پانچ لوگوں کو دیکھ کر۔۔
“سب لوگ آگئے ہیں۔۔؟؟ یا کسی نے آنا ہے۔۔؟؟”
“سر سب آگئے ہیں یہ ہمارے بزنس پارٹنرز ہیں اور باقی دو ہماری کمپنی کے میجر بورڈ آف ڈائریکٹر ممبرز۔۔۔”
نجیب نے بنا نام پوچھے سب کو بیٹھنے کا کہا تھا
“میں گھما پھیرا کر بات نہیں کروں گا۔۔ مجھے ‘مننان آمین احمد’ کی ہر ایک انفارمیشن چاہیے اسکے بزنس اسکی کمپنی اسکی فیملی سب کی۔۔ آپ لوگوں میں سے کون کون ملا ہے اس سے۔۔؟؟”
“میں۔۔۔”
کچھ دیر خاموشی کے بعد ایک بزنس پارٹنر نے ہاتھ اٹھایا تھا
“کیسا دکھتا ہے وہ۔۔؟؟ کیسا لگتا ہے وہ۔۔؟ کیا کرتا ہے۔۔؟ “
“ہم۔۔ آپ کے جیسا۔۔۔ “
“وٹ۔۔۔”نجیب کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“میں یہاں مذاق نہیں کررہا مسٹر طلحہ۔۔۔”
“میں بھی مذاق نہیں کررہا میرا مطلب تھا۔۔۔ آپ جیسا تقریبا آپ کا ینگ ورژن لائک سٹریکٹ۔۔ سٹریٹ فارورڈ،،شریوڈ۔۔۔”
“اننف۔۔۔”
نجیب نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر مارے تھے۔۔۔
“کسی کے پاس اسکی تصویر ہے ۔۔؟؟”
“نوو سر۔۔۔ انکی سیکیورٹی میں اجازت نہیں اس لیے آپ کو نیوز پیپرز میں انکا سائیڈ پوز ہی نظر آئے گا۔۔۔”
“وہ کیا لینڈ لورڈ ہے جو اسکے لیے میڈیا اتنا سنجیدہ ہے۔۔؟؟ “
“سر۔۔وہ ینگ ہے مگر مینوپلیٹ کرنے والا۔۔ وہ رولز اور پرنسیپلز کے مطابق چلتا ہے۔۔وہ ابھی تک ڈیلز جیت رہا ہے ہارنے والوں کو اس طرح کراس کرتا ہے کہ پھر۔۔”
“بس۔۔۔مجھے اسکی اگلی ڈیلز اسکی ہر نقل و حرکت کی خبر چاہیے،،، میں اس سے ڈائیکٹ میٹنگ کرنا چاہتا ہوں۔۔”
“آپ کیوں ملنا چاہتے ہیں۔۔؟؟”
“اسے مارنے کے لیے۔۔۔ اس باسٹرڈ نے ہاتھ اٹھایا میرے بیٹے پر۔۔۔”
“تو آپ کا بیٹا کونسا نیک کام کررہا تھا۔۔؟ جیسے کام کرے گا پٹے گا۔۔۔ اور سر آپ کو اسے ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔۔ جس ڈیل کے پیچھے ہماری کمپنی پچھلے دو مہینے سے ہے سنا ہے وہ ڈیل کے لیے اسکی کمپنی نے بھی بڈنگ لگائی ہے۔۔۔”
وہ پارٹنر تو چلے گئے تھے ایکسکئیوز کرکے مگر نجیب کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔
مسٹر شبیر نے باقی سب کو بھی جانے کا کہہ دیا تھا نجیب اکیلا رہ گیا تھا ۔۔۔
وہ منجھا ہوا بزنس مین تھا یہاں کے ٹاپ بزنس مین میں سے ایک۔۔ وہ چاہتا تھا ماہیر کی ریکوری سے پہلے اس سرپرائز دے اس لڑکے کو زخمی حالت میں اپنے بیٹے کے قدموں پہ لے جا کر پھینک دے تاکہ وہ معافی مانگ سکے۔۔۔
مگر یہاں یہ انفارمیشن نجیب کی بگ ٹائم ایگو کو ہرٹ کرگئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔”
۔
۔
“نسواء۔۔۔ جو آج آپ نے میرے لیے کیا ہے میں سچ میں بھول نہیں پاؤں گا۔۔”
“حزیفہ انکل جذباتی مت کریں کیک کاٹے۔۔۔”
حورب حزیفہ کی والدہ کو حزیفہ کے ساتھ کھڑا کرچکی تھی۔۔۔ اس پارٹی میں گنے چنے لوگ تھے جتنے لوگ تھے وہ حزیفہ کے قریب تھے جو بزنس پارٹنز تھے اسکے دوست احباب۔۔۔
۔
“ماں۔۔۔”
حزیفہ نے پہلی بائٹ اپنی والدہ کو کھلائی تھی اور پھر نسواء کو کھلانے کے بجائے حورب کو کھلائی تھی
“اب یہ اپنی ماما کو کھلاؤ۔۔۔”
اتنے سالوں میں اتنی عزت اور احترام تو وہ کرتا ہی تھا اپنی حدودکو بخوبی جانتا تھا وہ۔۔۔
۔
“نسواء آؤ میں تمہیں اپنی بہن اور حزیفہ کی دادی سے ملواؤں۔۔۔”
کچھ دیر بعد نسواء کو بہت محبت اور عزت سے سب سے ملوا رہی تھی۔۔۔
عین اسی وقت ایک گاڑی باہر رکی تھی جس میں سے نجیب باہر نکلا تھا
“افففو نجیب کبھی تومیرے لیے دروازہ کھول دیا کریں۔۔”
“ان بیکار کے چونچلوں کے لیے وقت نہیں ہے میرے پاس تم نے صرف پندہ منٹ مانگے ہیں۔۔اسکے بعد میں یہ پارٹی سے لئیو کرجاؤں گا۔۔”
“شش۔۔۔شش۔۔ موڈ خراب مت کریں۔۔”
نجیب کے بازو میں بازو ڈالے وہ لڑکی اسے اندر وینیو میں لے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
۔
۔
“میٹ مائی فیانسی نجیب آفندی۔۔نجیب یہ حزیفہ ہیں ڈیڈ کے بزنس پارٹنر۔۔۔اور برتھ ڈے بوائے۔۔۔”
ایلینا نے دونوں کو انٹرڈیوس کروایا تھا۔۔ مگر نجیب کی نگاہیں نسواء سے ٹکرائی تو وہ ایلینا کا ہاتھ چھوڑنے پر مجبور ہوگیا تھا۔۔
نفرت۔۔۔ اسے جس لفظ سے نفرت تھی جو لفظ وہ کبھی مذاق میں بھی برداشت نہیں کرتا تھا اسکے لبوں سے آج اسی کی آنکھوں میں اپنے لیے بےشمار محبت دیکھ کر وہ شاکڈ ہوگیا۔۔۔
“اور یہ کون ہیں۔۔۔”
“ایکچولئ آج کا ایونٹ انہوں نے آرگنائز کیا خاص کر کھانا۔۔ اور سپیشل کیک۔۔۔
کیوں مس نسواء۔۔؟؟”
“ایکسکئوزمئ۔۔۔”
وہ جلدی سے چئیر ٹرن کرچکی تھی یہ پارٹی حزیفہ کے مینشن ٹیرس پر آرگنائز کی گئی تھی نسواء چاہتی تھی کھلے آسمان کے نیچے وہ ایک خاص دن کو حزیفہ کے لیے اور خاص بنا دے مگر۔۔ وہ خود سرپرائزڈ ہوگئی تھی
“نجیب آفندی۔۔۔رئیلی۔۔؟؟ بچوں کی شادی کی عمر ہے اور اس شخص کی آوارگی نہیں جارہی۔۔۔”
وہ اتنے رش اور گیسٹ کی چہل پہل میں خاموش جگہ ڈھونڈ رہی تھی جب نجیب جلدی جلدی اسی طرف آیا تھا اور نسواء کی چئیر پیچھے سے پکڑے ایک سائیڈ پر لے گیا تھا جہاں کوئی نہیں تھا۔۔
۔
“نسواء۔۔۔”
“اس عمر میں جسموں کی پیاس باقی ہے۔۔؟؟ عمر دیکھی ہے آپ نے۔۔؟؟”
وہ غصے سے چلائی تھی اپنے ایموشنز پر قابو نہیں رہا تھا اس کا۔۔
“عمر۔۔؟؟ وہ تو کہتی ہے میں بیڈروم میں بہت ینگ۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔”
وہ پلٹ چکی تھی۔۔دل درد سے پھٹ رہا تھا اسکا۔۔۔ آنکھیں تھی کہ چھلکنے کو تیار تھی
“تمہیں غصہ کیوں آرہا ہے۔۔؟؟ وہ ینگ ہے اس لیے یا وہ بہت کامیاب ماڈل ہے اس لیے۔۔؟؟ مجھ سے محبت کرتی ہے عزت کرتی ہے۔۔۔۔۔ اور۔۔۔
بیڈروم میں بھی مجھے بہت خوش رکھتی ہے وہ۔۔۔”
“وہ جائے بھاڑ میں اور جائیں بھاڑ میں آپ۔۔ مجھے غصہ نہیں اور نہ ہی فرق پڑتا ہے۔۔”
“کیوں فرق نہیں پڑتا۔۔؟؟ تمہیں فرق پڑنا چاہیے۔۔ تم مجھ سے الگ ہو کر دو ٹکے کی ملازمت کررہی ہو لوگوں کے کھانے بنا رہی ہو۔۔ ۔ اور۔۔”
“یو نو وٹ ۔۔۔۔ مجھے جتنی نفرت آپ سے ہورہی ہے نجیب شاید ہی کبھی کسی سے ہوئی ہوگی۔۔۔آپ ڈیزرو نہیں کرتے تھے مجھے۔۔۔ آپ جیسا حسن پرست۔۔ ہوس پرست شخص کو کیا پتہ ہوگا۔۔۔آپ۔۔۔صرف قدر جانتے ہیں ان جسموں کی جو بستر کی شیٹس میں ملے آپ کو۔۔کیونکہ آپ۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوگئی تھی اسکی سچی کڑوی باتیں دل و دماغ پہ لگی تھی نجیب کے
نسواء ہاتھ چھڑا کر چلی گئی تھی۔۔۔
“وہ سیڑھیوں سے بچتے ہوئے دوسری طرف جارہی تھی جب پیچھے سے ایک ہی دھکا لگنے پر اسکی کرسی نیچے گرنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
اس سے پہلے وہ چند سیڑھیوں کے فاصلے سے وہ گرتی اسکی ویل چئیر کو دو ہاتھوں نے پکڑ لیا تھا۔۔۔
نیچے سے مننان کے دونوں ہاتھوں نے کرسی کو پکڑ لیا تھا اور پیچھے سے نجیب نے۔۔۔
ان دونوں کے چہرے کے رنگ اڑھ گئے تھے وہ دونوں ہی بھاگتے ہوئے آئے تھے نسواء کو بچانے۔۔۔
“آپ ٹھیک ہیں نسواء۔۔۔؟؟”
نجیب نے نسواء کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لئیے پوچھا تھا اور مننان چہرہ دیکھتا رہ گیا تھا اپنے باپ کا۔۔۔۔
۔
“باپ۔۔؟؟”
مننان نے خود سے سوال کیا تھا۔۔۔
۔
لائٹس ڈم ہونا شروع ہوئی تو ایک رومینٹک سونگ نے ماحول ٹوٹلی چینج کردیا تھا۔۔۔
“نسواء۔۔”
نجیب نے نسواء کی ویل چئیر کو کئیر فلی نیچے رکھا تھا اسے سہارا دیتے ہوئے۔۔۔
“تھینک یو ۔۔میں مینیج کرلوں گا۔۔۔”
مننان کو اگنور کردیا تھا نجیب نے جو ساکت تھا۔۔۔ اور نسواء۔۔۔ وہ شکر کررہی تھی وہاں موجود اندھیرے کا اسے یہ خوش فہمی تھی کہ مننان نے نجیب کا چہرے نہیں پہچانا۔۔۔ مگر مننان پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔ وہ ہر مومنٹ کو نوٹ کررہا تھا اس شخص کی جو نسواء کو ایک کارنر پر لے گیا تھا
“نجیب آفندی۔۔۔”
مننان نے غصے سے اپنا فون نکالا تھا
“یو ایڈیٹ۔۔ نجیب آفندی لندن میں ہے تم نے بتایا نہیں۔۔”
“سوری سر لاسٹ مومنٹ پر پتہ چلا وہ اپنی منگیتر کے ساتھ پارٹی۔۔۔”
“منگیتر۔۔۔؟؟؟”
مننان نے سرگوشی کی مگر دوسری جانب سن لیا تھا۔۔
“جی سر وہ فیمس ماڈل ایلینا۔۔۔”
مننان فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔اور جب واپس اس کارنر کی طرف دیکھا تو نہ نجیب تھا اور نہ ہی نسواء۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آخر ثابت کیا کرنا چاہتی ہیں آپ نسواء۔۔؟؟ گر سکتی تھی چوٹ لگ سکتی تھی مجھ سے کتنا بھاگے گی۔۔؟؟ سمجھ نہیں آتا میں ہوں مقدر آپ کا۔۔۔ نصیب آپ کا۔۔”
وہ کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا تھا نسواء کو۔۔
“آپ مقدر تھے۔۔ نصیب تھے مگر اب آپ نہیں ہیں۔۔۔ پیچھا چھوڑ دیں اندر آپ کی منگیتر انتظار کررہی ہے۔۔۔”
“وہ انتظار کرلے گی کیونکہ محبت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔ اور میں آپ سے کب سے انتظار میں ہوں۔۔۔۔”
مگر نسواء تو جیسے پتھر بنتی جارہی تھی۔۔۔
“آپ کو زرا شرم نہیں آتی۔۔؟؟ کس طرح کے مرد ہیں۔۔۔ میں نے آپ کی دوسری شادی برداشت نہیں کی آپ ایک اور بےحیائی والا ریلیشن میرے منہ پر مار کر اپنی محبت کا اظہار کررہے ہیں۔۔۔”
وہ چلائی تو نجیب نے یہاں وہاں نظر گھمائی تھی۔۔۔
“آہستہ بولیں۔۔کوئی سن لے گا تو۔۔۔”
“ڈر لگ رہا ہے آپ کی ینگ ماڈل نہ سن لے۔۔؟؟ اسے بھی پتہ چلنا چاہیے کیسے مرد کے ساتھ بستر شئیر کررہی ہے۔۔۔”
“نسواء۔۔۔۔بس میرا ہاتھ اٹھ جائے گا۔۔۔”
وہ پہلی بار اتنی سختی سے اس لہجے میں نسواء کے ساتھ بولا تھا۔۔۔۔
۔
“میں آپ کی دسترس میں نہیں ہوں نجیب۔۔۔ الفاظ اور ہاتھ دونوں سوچ سمجھ کر استعمال کیجئے گا۔۔۔”
وہ واپس جانے لگی تھی جب نجیب گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا اسکے سامنے۔۔۔
“نسواء۔۔۔ میں ایک پل بھی جدائی برداشت نہیں کرسکتا۔۔
میں عمارہ کو طلاق دہ دوں گا۔۔۔ ایلینا کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں آپ کے سوا کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔۔۔ پلیز واپس گھر چلیں۔۔۔”
نجیب نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر اپنا ماتھا نسواء کے ماتھے پر رکھ دیا تھا۔۔
نسواء کی آنکھیں بےساختہ بھر چکی تھی
“اگر یہ الفاظ اس وقت بولے ہوتے جب میں گھر چھوڑ کر جارہی تھی تو شاید کچھ ہوجاتا نجیب۔۔۔ شاید میں بدل جاتی رک جاتی مڑ جاتی۔۔۔”
نجیب نے اسکی آنکھوں کے آنسو صاف کرکے پلکوں پر بوسہ دیا تھا
“میں۔۔۔۔ میں مننان کو دل سے اپناؤں گا۔۔۔ اسے بزنس میں حصہ دوں گا۔۔۔
میں اسے سب کچھ دوں گا۔۔۔ میں اسے اس قابل بناؤں گا کہ وہ میرے بیٹے ماہیر کے جیسا ویل ایجوکیٹڈ بن سکے۔۔۔ میں اسے۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔”
“شٹ اپ مسٹر نجیب آفندی ایک لفظ نہیں۔۔۔”
“پلیز نسواء۔۔۔”
“کیا سمجھتے ہیں آپ۔۔۔؟؟ آپ کی بےوفائی کو بھلا کر وہ تذلیل بھلا کر وہ دھوکا بھلا کر میں واپس آجاؤں گی۔۔؟ “
“واپس نہ آنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔۔۔”
وہ واپس اسی غرور میں آگیا تھا جب نسواء نے ویل چئیر کا رخ موڑا تھا
“اب یہ آپ بتائیں گے۔۔؟؟ کیا لگتا ہے ہم آپ کے بغیر جی نہیں رہے تھے۔۔؟؟ کیا لگتا ہے ہم ناکام رہے ہوں گے۔۔؟ کیا لگتا ہے اب آپ کی دوسری بیوی کا بیٹا میرے بیٹے کو سیکھائے گا۔۔؟؟ آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔”
اس نے بےرخی سے چہرہ صاف کرکے بفرت بھری نظروں سے نجیب کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“لگتا نہیں ہے میں دیکھ رہا ہوں۔۔۔آپ اس حالت میں ہو۔۔۔ کسی جگہ انفارمیشن نہیں آپ دونوں کی اتنی لو لائف گزار رہے ہو ۔۔۔میں آپ کی محبت کے لیے فقط آپ کے لیے مننان کو واپس اپنانے کے لیے تیار۔۔۔”
“آپ جانتے ہیں آپ کے اپنانے یا نہ اپنانے سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ میرا بیٹا آپ کو اپنانا نہیں چاہتا۔۔۔ میں آپ کو واپس اپنی زندگی میں لانا نہیں چاہتی۔۔۔
اگر شو آف کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کتنا کامیاب ہے تو آج سے میں اور میرا بیٹا ہر ایک مقام پر شو آف کریں گے۔۔۔
اور آپ ہماری کامیابیوں کے دیکھ کر اتنا ہی شرمندگی کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے۔۔۔”
“میں نے پیار سے سمجھانا چاہا تھا نسواء۔۔۔ مگر اب میں دوسرے طریقے اپناؤں گا۔۔ اگر آپ ایسے واپس نہ آئی تو میں اس زندگی کو تلخ کردوں گا آپ پر اور مننان پر۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر جانے لگے تھے جب نسواء نے نجیب کا ہاتھ پکڑا تھا
“نجیب۔۔۔۔ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا میں کبھی یہ الفاظ ادا کروں گی۔۔۔
مگر۔۔۔۔”
نجیب کی سانسیں رکنے لگی تھی۔۔۔ اسکے دل میں ایک ڈر لاحق ہوگیا تھا۔۔۔ اسے لگ رہا تھا اس پل کہ اس کا سب سے بُرا خواب آج سچ ثابت ہونے کو تھا
“میں۔۔۔ علیحدگی چاہتی ہوں۔۔۔ آزادی چاہتی ہوں آپ سے۔۔۔ اس رشتے سے۔۔۔
نجیب۔۔۔ میں کسی اور کے ساتھ زندگی گزار۔۔۔۔”
نسواء کے چہرے پر نجیب کے ہاتھ کی گرفت اتنی مظبوط ہوئی تھی جب نجیب نے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے تھے۔۔۔
اس بوسے میں وہ اپنی محبت کی شدت اپنا غصہ ناراضگی سب ظاہر کررہا تھا۔۔۔
اور جب اسکی آنکھ سے وہ پانی کا قطرہ نکل کر نسواء کے گال پہ جاگرا نجیب پیچھے ہٹ گیا تھا
“آپ صرف نجیب آفندی کی ہیں۔۔۔ نسواء۔۔ میں مرتا مر جاؤں گا مگر آزاد نہیں کروں گا آپ کو۔۔۔یہ بات یاد رکھئیے گا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
