62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

“یہ کیا بکواس کررہے ہو نجیب۔۔؟ تمہارا بیٹا اس حالت میں ہے تمہاری بیوی رو رو کر ہلکان ہوگئی ہے اور تم اس عورت کی بات کررہے ہو جو تمہیں چھوڑ گئی تھی۔۔۔ٹھکرا گئی تھی۔۔”
نجیب کی والدہ نے اپنے بیٹے کو بازو سے پکڑ کر اپنی بات سختی سے کی۔۔
“وہ۔۔ میرا اور میری بیوی کا نجی معاملہ ہے آپ درمیان میں نہ آئیں۔۔ نسواء کے اور میرے درمیان کوئی بھی آیا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔”
۔
نجیب نے آخری بات عمارہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہی تھی
وہ شخص اسکا نہ ہوسکا وہ جانتی تھی۔۔ مگر اسکی محبت نسواء کے لیے آج اس نے نجیب کی آنکھوں میں دیکھی۔۔۔
“اور ماہیر پر جس نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی دیکھئیے گا میں اسکے ہاتھ توڑ کے رکھ دوں گا۔۔”
وہ اپنا موبائل نکالے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
۔
“نسواء۔۔ ہماری نسواء کی بات کررہا تھا نجیب۔۔؟؟ وہ زندہ ہے۔۔ مننان کیسا ہے کہاں ہے۔۔؟مجھے مننان کو دیکھنا ہے۔۔”
دادی کی بےچینی نے اور آگ بگولا کردیا تھا کچھ لوگوں کو۔۔
۔
“بھائی صاحب میری بات سنیئے گا ۔۔۔”
نجیب کے چچا جان نے دوسرے بھائی کے کان میں کچھ الفاظ کہے اور وہ دونوں آفندی صاحب کو تسلی دے کر چلے گئے تھے آفس واپس۔۔۔
۔
“یہ سب کیا ہورہا ہے ذیشان بھائی صاحب۔۔؟؟”
“میں خود حیران ہوں یہ تو سب کچھ برباد ہورہا ۔۔ ماہیر کی لاپرواہی پر جتنا مطمئن ہم تھے اب نجیب اپنے اور وارث ڈھونڈ ڈھونڈ کرلا رہا ہے۔۔”
“مننان بڑا بیٹا ہے اگر وہ ماہیر سے زرا سا بھی ہوشیار نکلا تو ہمارا کیا ہوگا۔۔؟ ہمارے بچوں کا کیا ہوگا۔۔؟ میرے بیٹے کب تک نجیب کے آگے جی جی کرتے پھیریں گے۔۔؟”
وہ دونوں ذیشان کے کیبن میں آبیٹھے تھے۔۔ دونوں بھائی ہی پریشان تھے دونوں آفندی صاحب سے چھوٹے تھے۔۔
“پہلے ابا جی نے ناانصافی کی بھائی صاحب کے نام سب کردیا ہمارا گارڈئین بنا دیا جو آگے اپنی اولاد کو اپنی گدی نشین کرچکے تھے۔۔”
“ظہیر فکر نہ کرو ماضی کو نہ کریدو۔۔ تم جانتے ہو بھائی نے ہمارے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا ہمیں پیار دیا اپنے جیسی زندگی دی۔۔۔”
“میں نہیں مانتا۔۔۔ نجیب کو جو ملا وہ میرے بیٹوں کو نہیں ملا۔ وہ نوکری بھی کررہے تو باہر کررہے ہیں۔۔اور جو کمپنی میں ہے انکی حالت کیا ہے۔۔؟؟”
“مجھے بس مننان کی وجہ سے انسیکیورٹی ہورہی ہے۔۔”
“مجھے یقین ہے نجیب بھائی کا بڑا بیٹا ماہیر سے بھی زیادہ نکما اور نکارہ ہوگا۔۔
عمارہ اور یہ گھر والے اسے عیاشی میں برباد کرچکے ہیں تو نسواء تو خالی ہاتھ گئی تھی غریب تھی وہ وہ کیسے اتنا لائق فائق کرسکتی ہوگی۔۔؟ مننان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔”
“ہاہاہا یہ بھی ٹھیک کہا آپ نے۔۔ ہمیں اب ہمارے بچوں کی جگہ گھر اور کمپنی میں مظبوط کرنی ہے۔۔”
۔
وہ دونوں آگے کی پلاننگ سوچ چکے تھے یہ جانے بغیر کے انکے آنے والے دنوں کو وہ عذاب بنا کررکھ دے گا انکی کمپنیز کی طرح۔۔
جسے وہ معمولی سمجھ رہے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سینے میں دل دل میں دھڑکن،، دھڑکن میں کیا ہے تیری پیاس ہے
ہر پیاس میں درد ہے صنم۔۔ یہ درد تیرا احساس ہے۔۔۔”
۔
“تم ٹھیک ہو۔۔؟”
مننان گاڑی چلاتے ہوئے بار بار پوچھ رہا تھا اس سے۔۔ وہ جو کھڑکی طرف منہ کئیے مسلسل روئے جارہی تھی
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں مس منیشہ۔۔”
“ڈونٹ ٹچ مئ ۔۔ اب احساس کرنے کی ضرورت ہے نہیں جب ضرورت تھی تب تو اس چڑیل کے ساتھ بیٹھ کر گپے لڑا رہے تھے۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ وہ چڑیل بزنس پارٹنر ہے میری۔۔۔غلطی بھی تمہاری تھی۔۔”
“میری غلطی۔۔؟ میں نے اس گھٹیا شخص کو کہا تھا میرے ساتھ بدتمیزی کرے۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی چلائی تھی اسکے آنسوؤں سے بھرے چہرے کو دیکھ کر مننان نے آگے جواب نہ دیا کوئی اور خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا تھا
“میں پاکستان نہیں آنا چاہتی تھی مگر آپ لیکر آئے مجھے۔۔۔زبردستی۔۔۔”
“کیونکہ تم ہو میری پرسنل سیکریٹری۔۔ تم لندن میں اس پروجیکٹ کو فالو اپ کررہی تھی۔۔”
“آفس میں تو دانت چبا چبا کربےعزت کرتے ہیں مجھے اب وہ مراثی کہاں گیا جو آپ کا اسسٹنٹ بنا پھرتا ہے۔۔؟ ٹھنڈا لطیفہ۔۔۔”
وہ ناک پونچتی جیسے ہی بولی تھی شاکڈ سے مننان کی آنکھیں بڑی ہوگئی تھی اس لڑکی کی بدتمیزی اور طنز پر۔۔۔
۔
“غلطی ہوگئی تمہیں ساتھ لے آیا۔۔۔اب ہوٹل جاکر پیکنگ کرلینا۔۔”
“غلطی آپ سے نہیں مجھ سے ہوئی ہے سر ہے۔۔”
اب کی بار منیشہ نے آنکھوں سے پانی کا وہ آخری قطرہ بھی پونچھ لیا تھا
“گیٹ آؤٹ۔۔۔ غلطی سدھارو اپنی۔۔۔تمہاری فالتو کی بکواس کی وجہ سے رستہ بھول گئے۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
وہ خاموشی سے گاڑی سے اتر آئی تو مننان نے بھی آنا کے ہاتھوں مجبور ہوکر اسے پھر بیٹھنے کا نہ کہا اور گاڑی چلا دی۔۔
“یوزلیس۔۔”
وہ بڑبڑایا تھا۔۔۔گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی بھری ہوئی پلکیں جھلک گئی۔۔۔
۔
“تیری میری باقی ہے کہانی تیری میری آدھی ہے کہانی
آگئی وہ موڑ پر۔۔تو گیا چھوڑ کر۔۔
میرے دل کو توڑ کر کیا مل گیا۔۔۔”
۔
“اگر وہ لندن میں ہوتی تو شاید گھبرا جاتی ممکن تھا ڈر جاتی انجان ملک میں انجان شہر کی انجان گلی سے۔۔
مگر اس روڈ سے منیشہ کے قدم چلتے جارہے تھے۔۔۔
راستے جانے پہچانے لگ رہے تھے اسکے قدم ایک سوسائٹی کی طرف لے گئے تھے۔۔۔
چلتے چلتے وہ ایک بند گھر کی طرف آپہنچی تھی۔۔۔۔
نمبر پلیٹ پر لکھا نام۔۔۔اور اس نام پر لگی ہوئی مٹی کو اس نے اپنی انگلیوں سے صاف کرکے پڑھا تھا
‘معاذ حیدر’
۔
“اس کے ہاتھ نے بےساختہ مٹی کے گلدان کے پیچھے سے چابی نکالی تھی جب دروازہ کھولا تو وہ سمجھ گئی تھی یہاں کوئی نہیں آیا ہوگا اس دن کے بعد۔۔۔
وہ دن جب اس نے ماں باپ دونوں کو کھو دیا تھا۔۔۔
۔
مکڑی کے جالوں کو صاف کرتی وہ اندر گئی تھی سب فرنیچر سفید پردوں سے کور کیا ہوا تھا
“منیشہ۔۔۔”
منیشہ نے چونک کر پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔۔۔
ماں کی آوازیں اسکی سماعتوں میں گونج رہی تھی
“ماما۔۔۔”
“فضا اگر تم نے دوبارا طلاق کی بات کی تو میں لحاظ نہیں کروں گا۔۔”
“تو مت کرو۔۔ احسان مت کرو مجھ پر جب زندگی دوسری بیوی کے ساتھ گزار رہے ہو تو یہ ڈرامہ کیوں۔۔؟؟”
“فضا۔۔۔”
“ماماما۔۔۔”
“بیٹا آپ اپنے روم میں جاؤ۔۔۔”
“کہیں نہیں جائے گی وہ۔۔ بیٹا یہیں رکو اور دیکھو اپنے باپ کی کرتوتیں۔۔”
“فضا۔۔۔”
تھپڑ کی گونج اسے اسکی دنیا سے واپس لے آئی تھی۔۔
۔
“رنجیشوں کی ماری میں۔۔ قسمتوں سے ہاری میں
کوئی آکے دیکھ لے ۔۔۔ہوں ٹوٹی ساری میں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آپ کچھ لیں گے۔۔؟؟”
“تمہیں ایک بار میں سمجھ نہیں آرہا۔۔؟ دفعہ ہوجاؤ نظر نہ آئے مجھے کوئی یہاں پر۔۔۔”
وہ ڈب سٹوری گھر تھا جہاں نجیب ہاتھ میں کیک کا باکس پکڑے داخل ہوا تھا۔۔
وہ ووڈن ہوم تھا جو بہت یونیک ڈیزائن سے بنایا گیا تھا گھر دیکھنے میں اتنا خوبصورت لگ رہا تھا جیسے ہر چیز خود ہاتھوں سے سجائی گئی ہو۔۔۔
کیک کا باکس وہ سیدھا بیڈروم میں لے گیا تھا۔۔۔بیڈروم بہت لارج تھا بیڈ کے سامنے ٹیبل اور دو چئیر رکھی ہوئی تھی ہر طرف کینڈل روشن تھی۔۔
اسکے آنے سے پہلے ملازمہ اسکی انسٹرکشن کے بعد یہ سب سیٹنگ کرکے گئی تھی جو ہر سال کی جاتی تھی۔۔۔
نجیب نے کیک ٹیبل پر رکھا تو ریموٹ پر کچھ پریس کرنے سے وہ سب فوٹو فریم روشن ہوگئے تھے جس میں اسکی اور نسواء کی تصاویر تھی
“ہیپی ویڈنگ اینیورسری نسواء۔۔۔”
بارہ بجنے کے بعد اس نے کیک کاٹا اور ایک بائٹ نسواء کی فوٹو فریم کی طرف بڑھائی تھی۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
اسکا لہجہ بھاری ہوا تو اس نے وہ بائٹ خود کھا لی تھی۔۔۔
“تمہیں یاد ہے ہم یہ رات کیسے مناتے تھے۔۔؟؟”
وہ بیڈ پر بیٹھ گیا تھا نسواء کی اور اسکی تصویروں سے پورا کمرہ بھرا پڑا تھا۔۔۔
۔
“کبھی جو بادل برسے۔۔
میں دیکھوں تجھے آنکھیں بھر کے
تو لگے مجھے پہلی بارش کی دعا۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا آپ مجھے پکڑ نہیں سکتے مسٹر نجیب بڈھے ہوگئے ہیں۔۔ہاہاہاہا۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ نسواء کی بچی۔۔۔”
ٹھنڈی گیلی ریت پر قدم اور تیز ہوئے تو کچھ فاصلے کو بھی ختم کرکے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا تھا نسواء کو۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ یہ چیٹنگ ہے نجیب۔۔۔پانی میں نہیں۔۔۔”
“میں تو ایسے ہی اپنا بدلا لوں گا۔۔۔”
نجیب نے پانی میں جیسے ہی نسواء کو پھینکا وہ خود پیچھے بھاگا تھا۔۔
“ہاہاہا۔۔۔مس نسواء۔۔۔کیسا فیل ہو رہا۔۔۔”
“آئی ہیٹ یو۔۔۔؟؟؟”
سمندر سے آتی لہروں کے کنارے نجیب نے پن کردیا تھا
“نفرت۔۔۔نفرت۔۔بہت بڑا لفظ ہے نسواء ڈونٹ یو تھنک۔۔؟؟”
وہ اس طرح نسواء پر جھکا تھا نسواء کی سانسیں تھم سی گئی تھی۔۔
سمندر سے آتی لہریں انہیں اور بھگا رہی تھی تیز دھڑکنیں بھیگے وجود اور لہروں کا شور ایک الگ سما باندھ رہا تھا۔۔
“نسواء۔۔۔”
نجیب کی نزدیکی نے نسواء کو پلکیں جھکانے پر مجبور کردیا تھا۔۔
۔
“دیکھتی ہیں۔۔جس طرح سے۔۔تیری نظریں مجھے
میں خود کو چھپاؤں کہاں۔۔۔۔”
۔
“نجیب۔۔ ایم سوری میرا وہ مطلب۔۔”
“شش۔۔۔محبت کے لیے الفاظ نہیں ثبوت چاہیے مجھے۔۔۔ڈئیر وائفی۔۔”
نسواء کے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے ہوئے نجیب نے اسکےچہرے کو پھر سے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔ آنکھوں میں ایک الگ ہی جنون تھا جب نسواء نے نظریں اٹھائی۔۔۔
چہرے پر غصہ دیکھ کر نسواء کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اسے وہ لفظ نہیں بولنے چاہیے تھے
نجیب کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اس نے شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھا
“اور ثبوت کیسے دوں۔۔؟؟ میں بہت کچی ہوں ان معاملات میں مسٹر نجیب۔۔ تھوڑا سا ٹیچ کردیں۔۔۔”
نجیب کے نک پر دونوں بازؤں کا ہار بنائے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو نجیب کے چہرے پر بےساختہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔
“ایسے۔۔۔”
نجیب نے جلتے ہوئے ان وجود کے درمیان فاصلہ ختم کرتے ہوئے اپنے لب جیسے ہی نسواء کے ہونٹوں پہ رکھے تو وہ وقت تھم گیا تھا ان دونوں کے لیے۔۔۔
نسواء کی انگلیوں کی گرفت اور مظبوط ہوئی نجیب کے بالوں پر جب نجیب کے ہونٹوں نے لبوں سے گردن تک کا سفر تہہ کیا۔۔۔
۔
“بانہوں میں تیری۔۔۔یوں کھو گئے ہیں۔۔
ارمان دبے سے۔۔۔ جگنے لگے ہیں۔۔۔
جو ملے ہو آج ہم کو۔۔ دور جانا نہیں۔۔۔
مٹا دو ساری یہ دوریاں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما۔۔۔۔ موم۔۔۔ ممی۔۔۔ ماں۔۔۔ اماں جی۔۔۔؟؟
نہیں اماں جی کافی اولڈ ہوجائے گا نئی۔۔؟؟”
حورب روم کے باہر کھڑی جیسے ہی بولنا شروع ہوئی نسواء نے فوٹو فریم کے اندر چھپی ہوئی فوٹو کو کور کرکے فوٹو فریم گود میں رکھی چادر کے نیچے چھپا لیا تھا
“ماما۔۔۔؟”
“حورب بیٹا میں ابھی بات۔۔”
“جانتی ہوں آج کا دن آپ ایسے ہی گزارتی ہیں۔۔اکیلے تنہا۔۔ اس کمرے کے اندھیرے میں۔۔۔ ہر سال تو میں تنگ نہیں کرتی تھی کیونکہ مننان بھائی ہر بار کور کرلیتے تھے آپ کی غیر موجودگی۔۔۔پر ماں آج مننان بھائی بھی نہیں ہیں۔۔۔تو کیا ماں بیٹی کچھ باتیں کرلیں آج کے دن کو لیکر۔۔؟؟”
وہ ایک ساتھ بولتے ہوئے دروازہ کھول چکی تھی۔۔ کھڑکی سے آتی ہوئی چاند کی روشنی نسواء کے چہرے کو اور روشن کررہی تھی وہ ویل چئیر پر بیٹھی تھی ونڈو کے پاس۔۔۔ پورا کمرہ اندھیرے سے بھرا پڑا تھا۔۔
“حورب بیٹا۔۔ آج کا دن کچھ خاص نہیں۔۔”
“ماں خاص نہ کہہ کر تذلیل مت کیجئے آج کے دن کی۔۔۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اپنی ماں کو اس دن اپنی اولاد سے ہٹ کر دیکھا۔۔
یہ دن اتنا خاص ہے کہ آپ مننان بھائی اور مجھے دیکھتی بھی نہیں۔۔”
وہ کھانے کی پلیٹ رکھ کر نسواء کی چئیر کے پاس جا کر بیٹھ گئی تھی فرش پہ۔۔۔
“بیٹا یہاں نہ بیٹھو۔۔ بیڈ پر بیٹھ جاؤ۔۔ ہاسپٹل نہیں جانا کپڑۓے خراب ہوجائیں گے”
“آج ماں بیٹی باتیں کریں گی باقی سب گئے چھٹی پر۔۔”
نسواء کی گود پر سر رکھے اسکے ہاتھوں پر بوسہ لیا تھا حورب نے۔۔
“کیا بات ہے بوڑھی ماں پر بہت پیار آرہا۔۔؟”
حورب کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا تھا نسواء نے۔۔۔
“بوڑھی۔۔؟؟ جائیں جائیں۔۔ آپ جب ساتھ چلتی ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں آپ بڑی بہن ہیں میری۔۔۔ ہاسپٹل کے سینئر ڈاکٹر کی امی کہہ رہی تھی اگر آپ سنگل ہیں تو رشتہ۔۔”
“ہاہاہاہا بدمعاش۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔توبہ ہے حورب۔۔۔”
نسواء کھلکھلا کرہنسی تو حورب بھی ہنس دی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ آپ کہاں سے بوڑھی ہیں ویسے۔۔؟؟ ماشاللہ مجھ سے زیادہ مینٹئینڈ تو آپ خود کو رکھتی ہیں ۔۔۔خیریت ہے نہ۔۔؟؟ حزیفہ انکل بھی کچھ کم۔۔۔”
“ہاہاہاہا شرم کرو لڑکی ماں سے بات کررہی ہو۔۔۔”
“اوکے اوکے۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔”
وپ دونوں پھر سے ہنس دئیے تھے۔۔۔
۔
“کیا آج کا دن پاپا سے ریلیٹڈ ہے ماں۔۔؟؟”
حورب کے اچانک پوچھے گئے اس سوال نے نسواء کے وجود کو ساکن کردیا تھا
“حورب۔۔۔”
“ماں بچپن سے محنت کرتے ہوئے دیکھا۔۔ بھائی کو مجھے سمجھاتے ہوئے آپ کو سنبھالتے ہوئے دیکھا۔۔ مجھے یاد نہیں کہ بچپن میں میں نے کبھی پاپا کا پوچھا ہو۔۔۔
مگر جب سے ہوش سنبھالا میں اتنا سمجھ گئی تھی کہ انکا پوچھنا آپ کو ہرٹ کرجائے گا۔۔
میں نے کبھی نہیں پوچھا۔۔۔ ماں۔۔۔ آپ کی سٹرگل مننان بھائی کی زندگی میرے لیے اس چیز کا ثبوت تھی کہ وہ جو کوئی بھی ہیں۔۔ آپ کے بےوفا ہیں۔۔۔؟؟”
“میرا ہرجائی ٹھہرا وہ شخص۔۔۔”
نسواء نے سرگوشی کی مگر حورب سن چکی تھی۔۔۔ اپنی ماں کے الفاظ میں چھپے درد نے اسکی آنکھیں بھگا دی تھی۔۔۔
۔
“ماں۔۔۔ ہرجائی۔۔؟؟”
“تم نہیں سمجھوں یہ ایک چھوٹا سا لفظ کافی ہے کسی بیوی کی اجڑی ہوئی زندگی کو بیان کرنے کے لیے۔۔۔”
“تو پھر ہرجائی کے لیے آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں ماں۔۔؟؟ میں پورا سال آپ کو خوش دیکھتی ہوں مگر یہ ایک دن۔۔۔ اس میں کسر پوری ہوجاتی ہے نہ۔۔؟؟
وہ جو بھی ہیں۔۔ بہت خاص مقام رکھتے ہیں آپ کے دل میں۔۔؟؟”
حورب نے سر پہ نسواء نے اپنا سر رکھ دیا تھا دونوں ہی خاموش ہوگئے تھے
۔
“سجدے میں ہم نے مانگا تھا۔۔ عمر بھی ہماری لگ جائے تم کو
خود سے ہی توبہ کرتے تھے۔۔۔ نظر نہ ہماری لگ جائے تم کو۔۔۔
۔
ہم مگر ناگوارا تمہیں۔۔۔کس طرح ہوگئے۔۔۔
کہ تم سے جدا ہوکے ہم۔۔۔تباہ ہوگئے۔۔۔”
۔
“بس یہ سمجھ لو اس دنیا میں ہم تینوں ہی ہیں ایک دوسرے کے اپنے اور کوئی نہیں بیٹا۔۔۔”
۔
اس رات پھر کوئی اور بات نہ ہوئی تھی ماں بیٹی میں۔۔۔
حورب کے دل میں اتنے ہی زخم لگ رہے تھے نسواء جو خاموشی سے رو رہی تھی اسکے آنسو حورب کا چہرہ بھی بھگو رہے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دی نہیں دعا بھلے نہ دی کبھی بددعا۔۔۔
نہ خفا ہوئے نہ ہم ہوئے کبھی بےوفا۔۔۔
۔
تم مگر بےوفا ہوگئے۔۔کیوں خفا ہوگئے
کہ تم سے جُدا ہوکے ہم تباہ ہوگئے۔۔۔”
۔
“نسواء۔۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا تھا۔۔ ہاتھوں میں ڈرنک کی بوتل جیسے ہی گری تھی نجیب نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی سورج کی کرنیں اسکی نیند خراب کرچکی تھی وہ نیند واحد راستہ تھی جس میں بنا کسی رکاوٹ کے وہ نسواء کو اپنے قریب پاتا تھا۔۔
۔
“نسواء۔۔۔”
نجیب کی نظر اس آدھے کیک پہ جاپڑی تھی۔۔۔ کمرے کی خوبصورت ڈیکیوریشن ایک نظر دیکھنے پر ہی وہ مسکرا دیا تھا اتنے سالوں میں پہلی بار۔۔۔
اور پھر پاؤں میں گری خالی ان بوتل اور سگار کے پیک پر وہ اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
کچھ دیر میں وہ جیسے ہی باہر آیا تو اپنا کوٹ پہن کر شیشے کے سامنے کھڑا ہوا آنکھیں سرخ ہوچکی تھی جیسے سوجھی ہوں رو رو کر۔۔ مگر نجیب آفندی ان کمزور مردوں میں سے نہیں تھا جو محض کسی عورت کی جدائی میں روئے۔۔
کیا وہ کمزور تھا۔۔؟؟۔
۔
“میں آپ کو واپس لے آؤں گا نسواء۔۔۔”
۔
ایک اور وعدہ کرکے وہ وہاں سے سیدھا ہاسپٹل گیا تھا اپنے بیٹے کو دیکھنے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے ابھی تک کوئی خبر نہیں ملی ڈیم اِٹ وہ لڑکی اسسٹنٹ ہے میری ذمہ داری ہے جاؤ پتہ کرو وہ کل رات سے کہاں۔۔”
وہ ابھی ریسیپشن میں لوگوں کو آرڈر دے رہا تھا جب منیشہ ہوٹل میں داخل ہوئی تھی پورا وجود بارش میں بھیگا ہوا تھا۔۔ تب مننان کی نظر باہر موسم پہ گئی۔۔۔ اور وہاں کھڑے مردوں پہ جو بےشرمی سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھ رہے تھے
۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔ بیک ٹو ورک۔۔۔”
وہ چلایا تو سب نے نظریں نیچی کرلی تھی۔۔۔مننان جلدی سے اپنا کوٹ اتارے منیشہ کی جانب بڑھا اس نے جیسے ہی منیشہ کے کندھے پر کوٹ رکھنا چاہا وہ خود کو دس قدم دور کرچکی تھی۔۔
“یہ غیرت اس وقت یاد نہیں آئی جب مجھے سنسان روڈ پر اتار کر چلے گئے تھے مسٹر مننان۔۔؟؟ اب بہت مرد بن رہے ہیں۔۔ نہیں چاہیے ایسی عزت جو ذلت کے بعد ملے۔۔۔”
وہ لفٹ کی جانب بھاگی تھی۔۔۔اور اپنے روم میں چلی گئی تھی مننان کو لاجواب چھوڑ کر۔۔
۔
“مننان سر۔۔ آئی تھنک آپ کو منیشہ سے اکیلے میں بات کرنی چاہیے یہاں بہت تماشا ہوچکا ہے۔۔”
“اب تم بتاؤ گے۔۔؟ نوکر ہو میرے نوکر بن کر رہو۔۔”
اسکے کالر کر پکڑ کر کہا اور ایک جھٹکے میں پیچھے دھکیل دیا تھا ۔۔۔اور غصے سے وہ بھی منیشہ کے پیچھے گیا تھا۔۔۔
۔
“سمجھتی کیا ہو تم خود کو۔۔؟ اوقات کیا ہے تمہاری۔۔؟؟ نیچے کیا بکواس کرکے آئی ہو۔۔؟؟”
وہ دروازہ کھولنے کی کوشش کررہی تھی جب مننان نے کندھے سے پکڑ کر اسے دروازے کے ساتھ واال پر پش کیا۔۔
“آپ دور رہیں مجھ سے۔۔ واپس جانا ہے مجھے اس عذاب سے۔۔ ارو بار بار میری اوقات یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
مننان کو ایک ہی دن میں دوسری بار جھٹک دیا تھا جومننان کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔
اسکی گرفت اور مظبوط ہوئی تو منیشہ کی آنکھیں بھر آئی تھی
“ایک اور بدتمیزی میں تمہیں کمپنی سے نکال باہر کروں گا۔۔۔”
“کیجئے شوق سے کیجئے۔۔ میں بھی کوشش کروں گی آپ کو اپنے دل سے نکال باہر کروں مننان۔۔۔”
مننان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے آہستہ آواز میں کہا تھا اس بار غصے سے نہیں بہت آہستہ سے خود کو مننان کی گرفت سے آزاد کروا کر وہ کمرے کا لاک کھول کر داخل ہوگئی تھی ور دروازہ بند کرلیا تھا۔۔۔ مننان وہیں کھڑا اس خالی جگہ کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔
اس کا دل جو اسے لگتا تھا پتھر بن چکا وہ پہلی بار دھڑکا تھا۔۔
اور اسکی جیب میں پڑا اس کا موبائل ایک دم سے بجا تو مننان اس حصار سے باہر آیا جو منیشہ کے الفاظ نے اس پر طاری کردیا تھا۔۔۔
۔
بےدھیانی میں اس نے کال اٹھا کر کان کے ساتھ موبائل لگایا ۔۔
۔
“ہیے جان گیس وٹ۔۔؟ میں اپنے موم ڈیڈ کے ساتھ واپس آرہی ہوں۔۔
نجیب ماموں سے بات کروں گی تمہاری اور میری شادی کی۔۔۔۔”
۔
اور بھی باتیں چل رہی تھی مگر اس ایک بات نے مننان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ بکھیر دی تھی
ایک شیطانی مسکراہٹ۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماہیر۔۔۔”
نجیب جیسے ہی روم میں داخل ہوا سب لوگ پیچھے ہوگئے تھے عمارہ نے آنکھیں صاف کرکے نجیب کی طرف دیکھا جس نے اسکی طرف دیکھنا بھی گنوارا نہ کیا اور ماہیر کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا
“میں میڈیا اور لوگوں کی باتوں پر یقین نہیں کررہا ماہیر۔۔ مجھے اپنے خون پر یقین ہے تم میرا نام میرے باپ دادا کا نام خراب کرنے کا سوچ نہیں سکتے پھر کیا ہوا بیٹا۔۔؟؟”
نجیب کی ہلکی اور سخت آواز نے ماہیر کے ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی خوف میں مبتلا کردیا تھا
سب جانتے تھے نجیب آفندی کو ماہیر کی ایک غلط بات اور نجیب کا قہر کسی قیامت کی طرح آگرنا تھا۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔ڈیڈ وہ میں۔۔۔”
“کیا تمہیں وہ لڑکی پسند ہے۔۔؟ یا تم سچ میں زبردستی۔۔؟؟”
نجیب کی باتوں نے ماہیر کو ایک آسان راستہ دہ دیا تھا۔۔۔اور اس نے چہرے پر بےبسی کے تاثرات اور واضح کئیے تھے۔۔
“ڈیڈ۔۔ میں اس لڑکی سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔ اس رات بھی۔۔ وہاں اسے منانےگیا تھا۔۔۔ڈیڈ مگر اس شخص نے۔۔۔”
۔
“وہ تمہیں ہی ملے گی۔۔ تمہاری شادی ہوگی اس سے بےفکر رہو۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔