Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 31
Rate this Novel
Episode 31
“وہ نہیں آئی نہ۔۔؟ میں نے تمہیں شادی کرنے سے پہلے ہی روکا تھا نجیب بیٹا۔۔ تم نے ایک نہ سنی۔۔ دیکھو کیا ہوگیا ہے ایک بیوی کے لیے تم نے اپنے اتنے سال کے رشتے کو داؤ پر لگا دیا۔۔۔ اب بھگتو۔۔۔”
۔
“دادی کس نے کہا میں بھگتوں گا۔۔؟؟ نسواء نے غلطی کی ہے وہ بھگتے۔۔ اور شاید بھگت بھی رہی ہوگی۔۔ میں خوش ہوں۔۔ کم سے کم میرے پاس چاہنے والی بیوی ہے۔۔
اسکے پاس کون ہے۔۔؟؟”
مٹی ڈال کر وہ پیچھے ہوگیا تھا۔۔نجیب آفندی کی آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ نہیں تھا
مگر اسی کے سامنے ظہیر اس قبر کے پاس بیٹھ کر زارو قطار رو رہا تھا
۔
بھابھی وہاں ہیں۔۔؟؟ اور مننان۔۔ وہ کیسا ہے۔۔؟”
“وہ کیسا ہوگا۔۔ اپنی ماں کی طرح ناکام۔۔ جیسے وہ شادی نبھا نہ سکی۔۔”
“موم۔۔۔”
“ماں ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں فضا۔۔”
نجیب نے ناہید کی سائیڈ لی تھی اور چائے کا سیپ بھرا تھا۔۔
“بھائی۔۔۔مننان آپ کا بیٹا ہے شو سم ریسپیکٹ۔۔”
“میں نے کونسا اسکی بےعزتی کردی۔۔؟؟ اس نے ان سالوں میں کونسی دنیا فتح کرلی ہوگی۔۔؟؟ میں جانتا ہوں۔۔ جیسے نسواء ایک بند ڈبی میں اتنے سال چھپ کربیٹھی رہی ویسے وہ بھی ہوگا۔۔ کسی چیپ سی جگہ پر ملازم۔۔۔”
نجیب کی بات نے اور شئے دہ دی تھی سب کو
“ہاہاہا ہ ہمارے ماہیر کو دیکھ لو نجیب کی چھوی ہے۔۔ باپ بیٹے ساتھ جاتے تو لوگ رک کر کر دیکھتے ہیں۔۔۔ مجھے تو شک ہے مننان میں ایک کوالٹی بھی ہوگی نجیب والی۔۔”
۔
“ماہیر میرے بچے۔۔۔اٹھو۔۔”
ظہیر کی دھارے مارتی آواز نجیب کو ماضی سے باہر لے آئی تھی۔۔
“دیکھ ظہیر اللہ کا انصاف۔۔۔ تو نے مجھ سے میرے بیوی بچوں کو دور کردیا۔۔
میرے بیٹے کے لیے میرے دل میں نفرت پیدا کی اور آج تو خود دیکھ کس مقام پر آپہنچا۔۔۔
جانتا ہے تیرے بیٹے نے جانے سے پہلے مجھے سے کیا کہا تھا۔۔؟؟”
نجیب اسکے لیول پر بیٹھ گئے تھے ظہیر کا گریبان پکڑ کر جیسے ہی جھنجھوڑا اس نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا
“تیرے بیٹے نے کہا تھا وہ تجھ سے نفرت کرتا ہے۔۔ اور وہ کبھی تیرے نام کو اپنے نام سے جوڑنا نہیں چاہے گا۔۔وہ مرتا مر جائے۔۔
وہ مجھے وہ جگہ دہ چکا تھا جو تیری تھی۔۔اب مکافات عمل پر یقین آیا۔۔؟؟”
حقارت سے اس کا گریبان چھوڑ کر وہ اٹھ گیا تھا
“تیرے اپنے خون نے کونسا تجھے اپنا لیا۔۔؟ تیرا بیٹا بھی ایسے ہی نفرت کرتا ہے نجیب۔۔
اور یہ جو جگہ خالی دیکھ رہا ہے کچھ دنوں میں اس میں تیرا بیٹا مننان ۔۔۔”
نجیب واپس پلٹا تھا اور اسے اتنے مکے اور تھپڑ مارے تھے
“تیری خواہش تیری ہی رہ جائے گی تو دیکھ میں ڈھال بن کر اپنی آخری سانس تک اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کروں گا۔۔”
وہ مارتا جارہا تھا اور ظہیر برداشت کرتا رہا۔۔
نجیب جیسے ہی وہاں سے گیا ظہیر نے موبائل سے حزیفہ کو کال ملا دی تھی
۔
“اب تمہارا لحاظ بھی نہیں کروں گا حزیفہ۔۔ میں اب ان لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”
۔
“ماہیر میں سب سے بدلہ لوں گا۔۔ انہیں بھی زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماں کچھ تو کھا لیں آپ نے دوائی بھی کھانی ہے۔۔۔”
“حورب بیٹا مجھے بار بار تنگ مت کرو کہا نہ نہیں کھانا کچھ۔۔ چلی جاؤ۔۔۔”
حورب خاموشی سے جانے لگی تھی جب نسواء نے اسے آواز دی
“بیٹا۔۔ نج۔۔اپنے ڈیڈ کے نمبر پر کال کرو۔۔ پتہ کرو کہاں پر ہیں۔۔
اور پلیز وجہ مت پوچھنا۔۔ بس جو کہا وہ کرو۔۔۔”
“اگر آپ کو اتنی پرواہ ہے انکی تو آپ خود فون کیجئے انہیں موم۔۔پلیز۔۔۔”
۔
حورب چلی گئی تھی پر جانے سے پہلے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر نسواء کے بیڈ کے پاس رکھ دیا تھا۔۔
۔
“آنکھیں بند کرلی تھی اس نے دادی کے ساتھ ہوئی اسکی باتیں نسواء کو بار بار تنگ کررہی تھی۔۔۔
۔
“آج میرے نجیب کا وہ آخری سہارا بھی چھن گیا جس پر وہ غرور کرتا تھا نسواء بیٹا اب تو اسے معاف کردو۔۔میرے بچہ مر جائے گا”
“دادی یہ دن نجیب کی خوشی غمی کے لیے نہیں ہے۔۔آپ ہاتھ مت جوڑیں۔۔”
“نجیب کا گناہ اتنا بڑا تھا نسواء۔۔؟ کہ ایک بیوی اسے معاف نہیں کرسکتی۔۔؟”
“آپ دوسری بیوی ہیں نہ اس لیے۔۔ پہلی ہوتی تو معلوم ہوتا شادی شدہ ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت سے آفئیر چلانا گناہ ہے یا غلطی۔۔۔”
۔
اپنی بات یاد آتے ہی وہ بیٹھ گئی تھی بیڈ پر۔۔۔
“نجیب۔۔۔ “
اپنے موبائل پر نمبر ڈائل کر کے کان پر موبائل جیسے ہی لگایا ایک کچھ بیل جانے کے بعد فون اٹھایا تھا نسواء نے۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
اس شخص کی بکھری ہوئی آواز نے نسواء کی آنکھیں بھی نم کردی تھی
“کہاں ہیں آپ۔۔؟؟”
نجیب نے جواب نہیں دیا تھا پر برستی بارش کی آواز نے نسواء کو اسکے سوال کا جواب دہ دیا تھا
وہ شال لپیٹے کمرے سے اور پھر گھر سے باہر نکل گئی تھی اسکے تیز قدم تیز بارش میں رکے تھے اور ایک دم سے گارڈ سر پر چھتری لیکر کھڑے تھے کچھ قدم اور چلنے پر اسکی نظر اس بنچ پر پڑی تھی جہاں وہ شخص بیٹھا ہوا نظر آیا تھا اسے۔۔
“میم۔۔۔”
“تم لوگ واپس جاؤ۔۔۔”
چھتری کو پیچھے جھٹک کر وہ پیدل چلنا شروع ہوگئی تھی سڑک کے اس جانب وہ چند قدم صدیوں جیسے تھے نسواء کے لیے۔۔۔
۔
“نجیب۔۔۔”
“نسواء۔۔۔دیکھیں نجیب آفندی۔۔۔ کبھی غرور سے بھرا بدن آج شکست کھائے وجود میں کیسے بدل گیا ہے۔۔”
وہ مکمل بھیگ چکے تھے اس بنچ پر بیٹھے بھیگ تو وہ بھی گئی تھی جب پاس آکر بیٹھی
“نسواء۔۔ میں ہمیں خوش ہوتا رہا۔۔ اپنے آپ پر غرورکرتا رہا میرے سامنے میرا غرور اللہ نے خاک میں ملا دیا۔۔
جو نعمت بیوی کی صورت مجھے ملی وہ میں نے ٹھکرا دی۔۔ آپ کو ٹھکرا دیا۔۔
نسواء۔۔۔آج خالی ہاتھ ہوں جو اپنا خون تھا اسے اپنایا نہیں اور جو نہیں تھا اسے سینے سے لگائے رکھا۔۔
یہ جان کر بھی وہ میرا خون نہیں نسواء۔۔ مجھے اسکے جانے پر بہت درد ہورہا۔۔میں۔۔”
نسواء نے نجیب کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا تھاپر وہ کسی بچے کی طرح نسواء کے گلے لگ گئے تھے
“ماہیر آپ کا خون نہیں تھا پھر بھی آپ نے دنیا کو نہیں بتایا یہ آپ کی اچھائی ہے نجیب۔۔”
“تو میں اتنا اچھا اپنے بیٹے کے ساتھ کیوں نہیں رہا نسواء۔۔؟؟ کیا گنا ہوگیا۔۔۔
نسواء۔۔۔”
ہونکوں کی لڑی بندھ گئی تھی جب آنسوؤں سے تر چہرے کو اوپر کئیے انہوں نے اپنی بیوی کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
“نسواء۔۔ آج میں خالی ہاتھ ہوں کچھ نہی آیا۔۔ پہلی بیوی کو میں نے اس لیے زندگی س دور کردیا کہ مجھے دوسری بیوی چاہیے تھی۔۔
اپنی پہلی اولاد کا خوشیوں کا دشمن سمجھتا رہا جبکہ ہمارے بچے نے ہمارے رشتے کو اور مظبوط کردیا تھا۔۔۔
آپ کی محبتوں کو چاہتوں کی ناشکری کرتا رہا۔۔ سوچتا رہا بیوی ہے دوسری عورت برداشت کرلے گی۔۔۔
پر یہ احساس نہیں ہوا کہ رشتے میں تیسرا شخص برداشت نہیں ہوتا۔۔۔ چاہے مرد ہو یا عورت۔۔۔
نسواء میں آپ سے قربانی مانگتا رہا میں نے کیوں کچھ قربان نہیں کیا۔۔؟؟
میں تو محبت کرتا تھا نہ۔۔؟ کیوں سمجھ نہیں پایا کہ میری بیوی اگر میرے پاس نہیں آتی تو کوئی تو وجہ ہوگی نہ۔۔۔؟؟ نسواء۔۔ کینسر جیسی بیماری سے آپ لڑتی رہی۔۔اور میں۔۔”
نسواء کے ماتھے پر ہونٹ رکھے وہ چپ ہوگئے تھے پر انکی سسکیاں نہیں برستی بارش اور تیز ہوئی تھی
“نسواء اگر یہ نجیب آفندی کا انجام تھا تو اگر یہ میرا انجام تھا تو میں اپنے ماضی میں سب بدلنا چاہتا ہوں۔۔ ایک مرد کا ایک غلط فیصلہ کیسے خاندان برباد کردیتا ہے یہ کوئی مجھ سے پوچھے
وہ دوسری بیوی جس کے لیے میں آپ کو داؤ پر لگا آیا وہ کبھی بیوی نہ بن پائی نسواء۔۔
کبھی آپ نہیں بن پائی اور میرا بیٹا۔۔۔ مننان۔۔۔آج وہ جس حال میں ہے میں ذمہ دار ہوں۔۔میرا مننان چھوٹا سا۔۔ میری ایک توجہ کے لیے کیسے گھومتا تھا میرے سٹڈی روم کے باہر۔۔۔ آج نفرتیں کرتا پھیر رہا ہے ۔۔۔
نسواء میں نے نہ ہوکر بھی اپنے بیٹے کی زندگی میں زہر گھول دیا۔۔۔”
نسواء کی گود میں سر رکھے وہ زارو قطار رونا شروع ہوگئے تھے
“نسواء مجھے کبھی معاف نہ کرنا آپ۔۔ کبھی نہیں یہ میری سزا ہے۔۔
میرے جیسے مردوں کو یہی سزا ملنی چاہیے جو بیوی کی محبت کو گرانٹڈ لے لیتے ہیں۔۔
جو ایک نئی عورت کے لیے پورے گھر کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔۔۔
یہی سزا ہونی چاہیے مجھے تنہائی ملے یہ رسوائی ملے۔۔۔ مجھے معافی نہ ملے۔۔”
“میں نے آپ کو معاف کردیا ہے نجیب۔۔۔”
نجیب کے چہرے کو اٹھائے نسواء نے اپنے بہت پاس کرلیا تھا۔۔
“نجیب آپ کی بیوی نے اپنے ہرجائی کو معاف کردیا ہے۔ میں خود آپ کو تنہائی دوں تو دوں۔۔
پر دنیا کے درمیان آپ کو تنہا دیکھوں گی مر جاؤں گی۔۔
میں سزا دوں تو دوں پر میں ہمارے بیٹے کو حق نہیں دیتی آپ کو سزا دینے کا۔۔
میں نجیب آفندی آپ سے نفرت کروں تو کروں۔۔ پر کسی کو حق نہیں دوں گی کبھی نہیں۔۔”
نجیب کے ماتھے پر بوسہ دے کر اس نے نجیب کے سینے پر سر رکھ دیا تھا جو اپتھر بن چکا تھا۔۔۔
“نسواء آپ۔۔۔”
“کس مئ۔۔نجیب آفندی۔۔۔اس لمحے کے بعد میں ماضی کی ایک بات نہیں سننا چاہتی۔۔۔آپ میرے ہرجائی تھے آپ کی سزا جزا پر میرا حق ہے۔۔۔
آپ ٹوٹے نہیں بکھرے نہیں ہیں۔۔ میں ہوں آپ کو تھامنے کے لیے۔۔۔”
“اتنا سب ہونے کے بعد بھی نسواء۔۔؟؟”
آنکھوں سے اور آنسو آگئے تھے
“اتنا سب ہونے کے بعد بھی نجیب۔۔”
نجیب آفندی نے باقی کا فاصلہ بھی ختم کرنا چاہا تھا جب تیز بارش کے ساتھ زور کی بجلی چمکی تھی
نسواء ڈر گئی تھی۔۔اور نجیب بے ساختہ ہنس دیا تھا اور پھر ہنستے ہوئے افسردہ بھی ہوگیا تھا
“نسواء۔۔ ماہیر یہ ڈیزرو نہیں کرتا تھا وہ بدل رہا تھا اس عورت نے اس بچے کے دماغ کو پوری طرح منفی کردیا تھا۔۔۔ منیشہ کے ساتھ اس نے جو بھی کیا وہ۔۔۔”
“مننان کا ہاتھ۔۔۔”
“نہیں نسواء۔۔ مننان کا ہاتھ نہیں ہے اس میں۔۔ وہ ایسا نہیں کرسکتا۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔”
نسواء اسکی آنکھوں میں مننان کے لیے یقین دیکھ کر خاموش رہ گئی تھی
“اللہ کرے مننان کا ہاتھ نہ ہو نجیب۔۔ ورنہ میں اپنے بیٹے کو کبھی معاف نہیں کرپاؤں گی”
“نسواء وہ ایسا کچھ نہیں کرسکتا ۔۔پلیز۔۔۔”
“چلیں اندر بیمار پڑ جائیں گے۔۔۔”
نجیب کی بات کو درگزر کردیا تھا اس نے اسکے دل میں شک کا بیج پہلے ہی بو دیا تھا مننان کی باتوں نے۔۔۔
نجیب جیسے ہی اٹھے تھے اپنا ہاتھ نسواء کے سامنے رکھا تھا جسے تھامے وہ بھی اٹھ گئی تھی۔۔
ایک نئی شروعات کے لیے
انہیں کیا معلوم تھا میاں بیوی کے امتحان چاہے ختم ہوگئے ہوں مگر ماں باپ کے امتحان شروع ہوئے تھے ابھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں اسے یہاں سے گھر شفٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔”
“اور جو گھر میں آپ کی وائف ہیں ان کا کیا۔۔؟؟”
مننان چلتے چلتے رکا تھا
“ایکسکئیوز مئ۔۔؟؟ تم کون ہو مجھ سے سوال جواب کرنے والے۔۔؟؟
وہ میری بیوی ہے وہ میرے گھر میں رہے ن رہے یہ میری مرضی ہے تمہاری نہیں۔۔”
“سر میں جانتا ہوں ایک ملازم سے زیادہ میری حیثیت کچھ نہیں مگر آپ کا پرسنل اسسٹنٹ ہونے کی بناء پر میں یہ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔
مسٹر ماہیر کی دیتھ کے بعد سب بہت تکلیف میں ہیں۔
آپ کی وائف پریگننٹ بھی ہیں انہیں گھر سے نکالنے پر۔۔”
“ہاہاہاہاہا شہریار کس نے کہا میں اسے نکال رہا ہوں۔۔؟ میں تو اسے اسکے مامو نجیب آفندی ک گھر بھیج رہا ہوں۔۔
تاکہ انکی عقل بھی ٹھکانے لگے۔۔۔”
وہ جیسے ہی ہسپتال کے اس سپیشل روم میں گئے جہاں منیشہ ایڈمٹ ہے۔۔
مننان نے شہریار کو باہر رکنے کا اشارہ کیا تھا اور خود اندر چلا گیا تھا۔۔
اندر موجود ڈاکٹرز سے بات کرنے ک بعد وہ ڈاکومنٹس لیکر باہر آیا تھا
“اب میری بات دھیان سے سنو۔۔ منیشہ کے آنے سے پہلے اس گھر سے لیزا کا نام و نشاں مٹ جائے۔۔ ابھی ملازموں کو ہائیر کرو گرینڈ گیسٹ روم تیار کرواؤ۔۔ ماں اور حورب سے بھی کہہ دینا۔۔۔
میں شام تک منیشہ کو ڈسچارج کروا کر گھر لے آؤں گا۔۔”
شہریار بہت کچھ کہنا چاہتا تھا جب مننان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے ڈس مس کردیا۔۔
اور جب وہ خود اندر جانے لگا تو شہریار نے وہ ایک ہی سوال کیا
“منیشہ کو کس رشتے سے گھر لے کر جانا چاہتے ہیں۔۔؟ جب اس نے رشتہ بنانا چاہا تو آپ نے ٹھکرا دیا اور اب اسکی بہوشی میں اسے اپنے ساتھ لے جانے والے ہیں آپ۔۔؟؟
کیا کریں گے۔۔؟ شادی کریں گے۔۔؟؟ پر کیسے۔۔؟ وہ رشتے میں آپ کی بیوی کی بہن بھی لگتی ہے۔۔ اور ابھی اسکی عدت شروع ہوگئی ہے۔۔۔
میرے خیال سے اس زندگی میں اتنے گناہ بہت ہیں مننان سر۔۔ “
شہریار اسے شاک کرکے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“باسٹرڈ۔۔۔ حسیب۔۔۔حسیب۔۔۔ شہریار کو ابھی نوکری سے نکالو۔۔۔ اور نئے اسسٹنٹ کا انتظام کرو۔۔۔”
اس نے فورا سے فون ملا دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ عورت اوپر تمہارے روم میں کیا کررہی ہے ظہیر۔۔؟”
“امی جان تو اور کہاں جائے گی وہ۔؟”
“کہاں جانا چاہیے اسے۔۔؟ اپنے شوہر کے جائے اپنے گھر جائے یہاں کیا کررہی ہے وہ۔۔؟
ایک کام ڈھنگ کا نہ کرسکی اب ڈرامے کررہی ہے۔۔”
انکی آواز اور اونچی ہوئی تھی ظہیر نے ملازم کو لیونگ روم سے باہر جانے کا کہہ دیا تھا
“امی آپ اب اس وقت یہ باتیں کررہی ہیں۔؟؟ میرے جوان بیٹے کی قبر کی مٹی بھی سوکھی نہیں ہوگی اور آپ پھر سے۔۔”
“جوان بیٹا۔۔؟؟ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ تو نجیب آفندی کا بیٹا نہیں۔۔
اور دنیا والوں کے سامنے بھی۔۔۔ تم کون ہو۔۔؟؟ وہ کون ہے تمہارا کیا ثبوت ہے۔۔؟؟
یہ پلان تھا۔۔؟؟ اتنا گھٹیا گرا ہوا۔۔؟؟ لعنت ہے”
وہ اٹھ گئی تھی ظہیر خاموش بیٹھا دیکھتا رہ گیا تھا اپنی والدہ کو
“میرا بیٹا آپ کے اس بدلے کی بھینٹ چڑھا ہے اور اب کوئی پیٹھ پیچھے وار نہیں ہوگا میں اب سامنے سے برباد کروں گا مننان کو اس کے خاندان کو۔۔”
“آپ اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے بھائی۔۔”
وہ جو ایک جگہ خاموش بیٹھا ہوا تھا بلآخر بول ہی پڑا۔۔
“بس حزیفہ بس۔۔ ایک لفظ نہیں ورنہ۔۔”
وہ دونوں بھائی جیسے ہی آمنے سامنے ہوئے بلقیس بیگم دیکھتی رہ گئی تھی
“ورنہ کیا۔۔؟ اپنا بیٹا اپنی کرتوں کی وجہ سے گیا ہے ،مننان کی کیا غلطی ہے۔۔؟؟
شرابی کہیں کا کہیں پی کر۔۔۔”
حزیفہ کو ایک ہی تھپڑ مارا تھا ظہیر نے جس پر حزیفہ نے گریبان پکڑ لیا تھا۔۔
“جس مننان کی طرف داری تم کررہے ہو حزیفہ وہ کوئی دودھ کا دھلا ہوا نہیں۔۔
پچھاڑ کر رکھ دیا اس نے ہم سب کو۔۔ نجیب آفندی کے بزنس کو کہاں سے کہاں لے آیا۔۔
اس گھر میں کیسے داخل ہوا نجیب کی بھانجی سے محبت اور پھر شادی کرلی۔۔
منیشہ کو تکلیف پہنچائی نجیب کو ڈائیریکٹ کیا میسج دیا اس نے۔۔؟؟ ابھی بھی تم کہتے ہو مننان کو کچھ نہ کہوں۔۔؟؟ میں تو اسے جان سے مار دوں گا۔۔”
اپنے گریبان سے حزیفہ کے ہاتھ جھٹک دئیے تھے ظہیر نے۔۔۔
“آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔”
“بس کرجاؤ ظہیر حزیفہ۔۔ بس کرو۔۔”
مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں بھائی ایک دوسرے کو مارنا شروع ہوئے تھے کہ وہ خاتون حیرانگی سے دیکھتی رہ گئی تھی
“آج اتنے سال کے بعد جب ہم اپنی منزل کے اتنا قریب ہیں تو تم دونوں ایک دوسرے کی جان کے در پہ ہو۔۔؟
حزیفہ مت بھولو نسواء نے کیا کیا تمہارے ساتھ۔۔۔”
“میں کچھ نہیں بھولا۔۔ میں دوں گا سزا اسے۔۔ مگر ایک بار اسےمیرا ہونے تو دیں۔۔ میں ہار تسلیم نہیں کرسکتا ہوں۔۔
میں اس بار کوئی رسک نہیں لوں گا۔۔۔”
وہ تیز قدموں س نکل گیا تھا گھر سے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ لیجئے جلدی سے کپڑے چینج کریں میں گرما گرم سوپ لیکر آئی۔۔”
وہ دونوں جیسے ہی گھر میں داخل ہوے حورب نے دونوں کے ہاتھ میں ایک ایک ٹاول تھمادیا تھا اور بنا کچھ سوال پوچھے واپس کچن میں چلی گئی تھی۔۔۔
“نسواء۔۔۔ اوپر سیدھا جاکر لیفٹ روم ۔۔۔”
“گیسٹ روم۔۔؟؟
“میرا بیڈروم ہے۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔۔”
نجیب نے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
“ایک پل کو لگا آپ پھر سے وقت مانگے گی۔۔۔نسواء میں۔۔۔”
نسواء نے جیسے ہی نجیب کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا تھا نجیب نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر باقی کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا اسے اپنے اتنا قریب کرلیا تھا۔۔
“آہم۔۔۔۔ آپ دونوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک جوان بیٹی ہے۔۔۔ بیشک میں ڈاکٹر ہوں۔۔ مگر گھر سے باہر۔۔۔ گھر میں مجھے معصوم اور جھلی سمجھا جائے۔۔۔ میرے سامنے ایسے سینسر والے سین نہ کئیے جائیں میں۔۔۔”
نسواء نجیب کو اوپر بھیج رہی تھی۔۔حورب کی ٹیزنگ سن کر خود اوپر کی جانب بھاگ گئی تھی۔۔
“ہاہاہاہاہا موم آہستہ سے گر جائیں گی۔۔۔ اب کے ڈیڈ کی محبت میں نہیں سیڑھیوں سے۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔”
“میں۔۔۔”
آپ بھی جائیں میں روم میں کھانا لاتی ہوں۔۔۔”
“بیٹا میں۔۔۔”
“ابھی نہیں۔۔ آپ موم کو خوش رکھیں ہم سب بھی خوش رہیں گے۔۔۔
اور زندگی پڑی ہے اب تو ان باتوں کے لیے گلے شکووں کے لیے۔۔۔”
حورب کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہی وہ آگے جھکے تھے اسکے سر پر بوسہ دینے کے بعد وہ اوپر چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
“ابھی بہت لمبا سفر پڑا ہے بابا۔۔۔ موم وہ واحد نہیں تھی جن کا دل توڑا۔۔ مننان بھائی بھی ہیں جن کو اپنانا ہے آپ نے پھر سے۔۔۔”
۔
۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔”
۔
“تم کس کردار کی لڑکی نکلی منیشہ۔۔؟ میرا بھائی تم پر جان دیتا تھا اور آخر کار مر گیا۔۔
مار ڈالا تم نے اور تمہارے یار نے۔۔”
“بس بکواس بند کرو اپنی۔۔ گارڈ۔۔سیکیورٹی۔۔۔”
مننان نے منیشہ کو اپنے پیچھے کردیا تھا اور خود فضا کے سامنے کھڑا ہوا تو بجائے ڈرنے کے اسکی آواز اور تیز ہوگئی تھی۔۔
“تم جانتی بھی ہو تمہارے بھائی نے کیا کیا میرے ساتھ۔۔؟؟ وہ جانور تھا۔۔ وہ ایک ڈھونگ کررہا تھا ماہیر ایک جھوٹ تھا ایک فراڈ۔۔۔”
“منیشہ بیٹا۔۔۔”
نسواء نے جلدی سے منیشہ کو سہارا دیتے ہوئے صوفہ پر بٹھایا تھا۔۔۔
سب میں اگر کوئی چپ تھا وہ نجیب آفندی۔۔
“جھوٹ۔۔؟؟ میرے بھائی کا سچ جان کر تم نے مرجانا ہے منیشہ۔۔ وہ سچا تھا۔۔
اسے جانور کس نے بنایا۔۔؟ تمہارے اس سو کالڈ مننان نے۔۔ جس نے کیا کچھ نہیں کہا تھا۔۔
جانتی ہو۔۔، ماہیر کو کیا کہا تھا۔۔؟؟ تم میں سننے کی ہمت ہے۔۔”
فضا کی بات پر مننان نے گھبراتے ہوئے اپنے گارڈز کو دیکھا تھا جو جلدی سے بازو سے پکڑتے ہوئے اسے باہر کی طرف گھسیٹنے لگے تھے۔۔۔
“لے جاؤ اور میری پراپرٹی۔۔”
“اس نے ماہیر بھائی سے کہا تھا کہ تم شادی سے پہلے اس کے ساتھ راتیں گزار چکی ہو۔۔
اس نے تصویریں دیکھائی تھی۔۔۔
اس نے میرے بھائی کو جانور بننے پر مجبور کیا۔۔۔ منیشہ۔۔ جس کے گھر میں تم نے پناہ لی ہوئی ہے۔۔ یہ مجرم ہے۔۔ میرے بھائی نے اپنے گناہ کی سزا دہ دی خود کو مار کر۔۔
اب اسکی سزا کیاہے۔۔؟؟
یہاں اس گھر میں ایک گھر آباد ہے۔۔
سب خوش ہیں۔۔۔ ڈیڈ آپ۔۔۔ کیوں خوشیاں منا رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟
منیشہ۔۔۔ یہ شخص مننان نجیب آفندی۔۔ اس نے خوب بدلہ لیا۔۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس سے بچاتا رہا میرا بھائی تمہیں۔۔
اس نے تمہیں ٹھکرایا۔۔ پھر برباد کیا۔۔ اور اب مسیحا بن رہا تمہارا۔۔۔؟؟
پوچھو جس شخص کا ذکر ماہیر بھائی نے کیا تھا وہ کون تھا۔۔؟؟
کون تھا اس ہوٹل میں۔۔ کس سے ملنے گئے تھے ماہیر بھائی۔۔۔”
اسکی آوازیں گونجنے لگی تھی اسے تو سیکیورٹی باہر لے گئی تھی مگر آوازیں اب بھی اندر آرہی تھی۔۔۔
۔
“مننان بیٹا۔۔۔”
“رک جائیں نجیب۔۔ آج اس نے سب حدیں پار کردی یہ۔۔۔”
“کیا یہ سچ ہے۔۔؟؟”
“منیشہ نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“منیشہ میری بات سنو۔۔۔”
“کب گزاری تھی راتیں تمہارے ساتھ۔۔؟؟ کب حرام رشتے باندھے تھے میں نے جواب دو۔۔۔”
مننان کا گریبان جیسے ہی پکڑا تھا نسواء نے مایوسی دیکھا تھا اپنے بیٹے کو اور اوپر روم میں چلی گئی تھی۔۔۔
جانے سے پہلے تھپڑ کی گونج انہیں سنائی ضرور دی تھی۔۔
آنکھوں سے آنسو صاف کرتے وہ باقی کی سیڑھیوں کو بھی ختم کرچکی تھی
“میری تربیت ہار گئی۔۔۔”
۔
“منیشہ میری بات۔۔۔”
“میں نے اپنی زندگی میں آپ جیسا گھٹیا شخص نہیں دیکھا ۔۔۔ سب کی خوشیوں کو نگل گئے مجھے بخش دیتے میں نے کیا بگاڑا تھا۔۔؟؟”
اسے اور جھنجھوڑا تھا اس نے۔۔۔
اور پھر پیچھے ہوتی گئی تھی
“غلطی آپ کی نہیں تھی۔۔۔ میری تھی مننان نجیب آفندی۔۔ آپ جیسا شخص اس قابل نہیں تھا کہ کوئی اس سے محبت کرتا۔۔۔ آپ صرف نفرت کرنے کے قابل ہیں۔۔آپ۔۔
صرف لوگوں کی نفرت کے قابل ہیں۔۔۔
ہر وقت بدلہ بدلہ بدلہ۔۔۔ کھا گیا آپ کا بدلہ میری زندگی۔۔۔ نگل لی میری خوشیاں آپ کے بدلے نے۔۔۔
میری بد دعا ہے آپ اپنی اس جیت کے ساتھ بھی کبھی خوش نہیں رہیں گے۔۔۔
ایسے ہارے ہوئے۔۔۔”
۔
وہ اس گھر سے روتے ہوئے باہر بھاگ گئی تھی۔۔۔اس اس بڑے سے ہال میں اب وہ دونوں باپ بیٹے کھڑے رہ گئے تھے۔۔
بیٹے کا سر جو آج تک کبھی جھکا نہیں تھا اب وہ جھک چکا تھا ۔۔۔
اور نجیب آفندی اپنے بیٹے کو پہلی بار ویسے اکڑا ہوا کھڑوس دیکھنا چاہتا تھا
۔
نجیب آفندی کی زندگی کی ساری فلم دہرا دی گئی تھی۔۔۔ آج انہیں وہ پچس سالہ جوان لڑکا نہیں پانچ سالہ چھوٹا سا بیٹا نظر آرہا تھا جسے گھر سے نکال دیا تھا انہوں نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے سمجھ نہیں آرہی ڈیڈ آپ کیوں اتنا غصہ کررہے ہیں۔۔؟ یہ شہر میں تو آپ پلے بڑے ہیں۔۔؟؟ کیوں موم۔۔”
بیک سیٹ پر بیٹھی اس خاتون نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھا تھا جن کے چہرے پر بلا کا غصہ تھا۔۔۔
“بس کرو اور ڈرائیو کرو فلائٹ لیٹ ہوجائے گی اور میں بتا دوں سنی یہ آخری بار آیا ہوں تمہاری سن کر ہم شادی کے سارے فنکشن۔۔۔”
“سنی بیٹا سامنے دیکھو۔۔۔”
والدہ کی آواز سے پہلے ہی گاڑی سے کسی کی ٹکر ہوگئی تھی۔۔۔
“او۔۔ شٹ۔۔۔”
“بس یہی ہونا باقی رہ گیا تھا۔۔۔۔”
“کیا ہوگیا ہے معاذ۔۔ جلدی باہر نکل کر دیکھیں سنی کی مدد کریں۔۔”
“میں نے کہا تھا۔۔ لاپروائی سے سڑک پر چلتے ہیں یہ لوگ۔۔”
والد کی باتوں کو درگزر کرکے سنی نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔۔
“موم۔۔ہیلپ کریں یہ کوئی لڑکی ہے۔۔”
بیک سیٹ سے اٹھ کر والدہ بھی باہر چلی گئی تھی۔۔
کچھ سیکنڈ میں اس لڑکی کو اٹھا کر بیک سیٹ پر لٹا دیا تھا۔۔
“موم آپ انکے سر پر یہ کپڑا رکھیں خون بہہ رہا۔۔ڈیڈ آپ۔۔”
“ایمبولینس بلاؤ۔۔ ہم اب اسکی مرہم پٹی کرنے سے تو رہے۔۔”
“بس کرجائیں معاذ۔۔۔”
“سمیرا ہماری فلائٹ ہے۔۔ کچھ پیسے دے کر اسے ایمبولینس میں بھیج دیتے ہیں۔۔
ویسے بھی یہاں یہ ٹرینڈ ہے امیر لوگوں سے پیسے بٹورنے کا۔۔۔”
انکی اونچی باتوں سے بےہوش ہوتی اس لڑکی کی آنکھیں کھلنے لگی تھی
“پلیز بیٹا ریلیکس ہوجاؤ۔۔۔ سنی ہاسپٹل کی طرف لے چلو۔۔”
۔
۔
کچھ دیر میں انکی گاڑی ہسپتال کے باہر تھی۔۔۔
سنی نے سٹریچر بلوا کر جلدی سے اسے وہاں لٹا دیا تھا اور اندر لے گیا تھا
“معاذ اندر چلیں۔۔۔”
“میں یہیں ٹھیک ہوں تم دونوں کے پاس بس پانچ منٹ کا وقت ہے۔۔ورنہ میں چلا جاؤں گا۔۔۔”
۔
پر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔
۔
“ڈاکٹر وہ اب کیسی ہیں۔۔؟؟”
“شئ از پریگننٹ۔۔۔ خون بہت بہہ گیا ہے۔۔۔ او نیگٹیو کی اشد ضرورت ہے۔۔ آپ ارینج کردیں یہ ہمارے بلڈ بنک میں ابھی نہیں۔۔۔جلدی کیجئے گا۔۔”
“موم۔۔۔ڈیڈ۔۔۔”
“معاذ”
دونوں ماں بیٹے نے ایک ساتھ کہا تھا اور کچھ ہی منٹ میں معاذ کو مناتے ہوئے ہسپتال میں لے آئے تھے۔۔۔
اور پھر جو شخص اس لڑکی کو دیکھنے کو بھی راضی نہیں تھا وہ ساتھ والے بیڈ پر لیٹے اسے اپنا خون دہ رہا تھا۔۔۔
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔
