62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

“نسواء آنکھیں بند نہ کرنا کچھ نہیں ہوگا آپ کو پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔”
نسواء کے بےجان وجود کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا نجیب نے۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔نجیب بہت دُکھ ہورہا ہے۔۔؟ نسواء اب واپس نہیں آئے گی۔۔ میرا بدلہ پورا ہوگیا۔۔۔ میرے بیٹے کو جیسے مارا میں نے بھی ویسے ہی مار دیا وہ دیکھو تمہارا بیٹا۔۔۔”
“مننان۔۔۔مننان بیٹا۔۔۔ “
نسواء کو اٹھائے وہ مننان کی جانب بھاگے تھے۔۔
مننان کی باڈی کو اٹھانے کی کوشش کی تھی جب قہقوں کی آواز اور بلند ہوئی تھی
سامنے گن لیکر کھڑے تھے وہ تین لوگ
عمارہ ظہیر حزیفہ
“اپنی بیٹی کو نہیں دیکھو گے۔۔اس بیچاری کی تو آخری سانسیں چل رہی ہیں۔۔”
“حورب۔۔ حورب۔۔”
اس سے پہلے نجیب اپنی بیٹی کی طرف جاتا پیچھے سے گولیاں لگنے سے وہ آخری سانسیں بھی بند ہوگئی تھی حورب۔۔۔
“نووو۔۔ نووو۔۔۔ نو۔۔۔ حورب بیٹا۔۔۔ مننان۔۔۔ نسواء۔۔۔”
وہ تینوں کو ایک ساتھ رکھ چکا تھا۔۔۔
“نسواء۔۔۔ آنکھیں کھولیں نسواء۔۔۔”
۔
“نجیب۔۔۔۔نجیب۔۔۔۔اٹھ جائیں۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔ رحم۔۔۔”
ایک دم سے کسی نے انہیں جھنجھورا تو وہ یہی کہتے اٹھے تھے۔۔ وہ جیسے ہی اٹھ کر بیٹھے نسواء نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر سامنے کیا مگر نسواء کا ہاٹھ جھٹک کر وہ اسے اپنی طرف کھینچ چکے تھے۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
“اب کبھی آنکھوں سے اوجھل ہونے نہیں دوں گا۔۔”
نسواء کو اپنے سینے سے لگائے وہ ایک ہی بات دہرا رہے تھے بار بار۔۔۔
“نجیب کیا ہوا۔۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
“نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔مجھے ابھی حورب کو دیکھناہے مننان کو دیکھنا ہے۔۔”
نسواء کے ہاتھ پر بوسہ دے کر وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ گئے تھے اور روم سے باہر چلے گئے تھے
“انہیں کیا ہوا۔۔؟؟”
وہ بھی ٹوٹے ہوئے گلاس کو دیکھتے ہوئے پیچھے گئی تھی۔۔۔
“میں تمہیں یہاں دیکھنا نہیں چاہتا نکل جاؤ۔۔۔”
“مننان ہوکیا گیا ہے۔۔۔؟؟”
لیزا اپنا ہاتھ چھڑاتی ہی رہ گئی تھی۔۔ مگر اوپر بیڈروم کا دروازہ کھلتا ہی دونوں رک گئے تھے
“مننان بیٹا۔۔۔”
“لو جی آگئے تمہارے طرف دار۔۔۔ آپ کو کہا نہیں تھا نکل جائیں میرے گھر سے۔”
“مننان۔۔۔”
نسواء جیسے ہی نیچے آئی مننان کی آنکھوں میں ایک دم سے نرمی آئی تھی مگر پھر سے ایک غصہ آگیا۔۔۔
“آپ انکو اپنے بیڈروم میں جگہ دہ چکی ہیں ماں۔۔؟؟ یہ شخص جو آپ کو نکال چکا تھا اپنے بیڈروم سے اپنے گھر سے۔۔۔”
“مننان میں تمہارے سوال جواب کی پابند ۔۔”
“کیوں پابند نہیں ہیں۔۔؟؟ میں نے آپ کے لیے اپنی زندگی۔۔۔”
“بس ایک اور لفظ نہیں مننان۔۔۔ میں نے کبھی۔۔۔ کبھی نہیں کہا تھا کہ ہم واپس آئیں گے بدلہ لیں گے۔۔ میں تو سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔”
وہ غصے سے بولی تھی
“جسٹ لائک ڈیٹ۔۔؟؟ سامنا نہیں کرنا تھا مجرموں کو سزا نہیں دینی تھی۔۔؟؟ سزا نہ دیتے تو کیا کرتے۔۔؟؟”
اور نسواء نے اپنے بیٹے کو اتنے دن کے بعد آج ان نظروں سے دیکھا تھا اور ایک ہی بات نے سب کو خاموش کردیا۔۔۔
“سزا دے کر کیا مل گیا۔۔؟؟ ایک جوان موت۔۔؟ ایک بیٹی کی آبرو چلی گئی۔۔۔
سزا دے کر تمہیں کیا مل گیا۔۔؟؟ تم نے۔۔۔ تم نے تو اپنی ماں کو بھی کھو دیا اس بدلے میں مننان۔۔۔”
یہ کہتے ہی پلٹ گئی تھی وہ نجیب کا ہاتھ پکڑ لیا تھا وہ لوگ دو سیڑھیاں ہی چڑھے تھے جب مننان نے لیزا کے دونوں کندھے پکڑ کر اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“تم جانتی ہو لیزا۔۔ مجھے کبھی تم سے محبت نہیں ہوئی تھی۔۔ میں نے دھوکا دیا۔۔ تمہیں استعمال کیا تاکہ تمہارے اس مامو کو تکلیف پہنچا سکوں۔۔”
“مننان بیٹا۔۔۔پلیز اسے کچھ مت کہو وہ پریگننٹ ہے۔۔ مجھے اکیلے میں جو کہنا ہے کہو۔۔۔”
مگر نجیب صاحب کی ہر بات کو اگنور کردیا تھا مننان نے۔۔ حورب اپنے روم سے باہر نکل آئی تھی ملازم جاگ گئے تھے لائٹس آن ہوگئی تھی۔۔۔
نسواء کی نظر ایک بار بھی پیچھے نہیں گئی کیونکہ اس نے اب ہار مان لی تھی وہ تھک چکی تھی اپنے بیٹے کو سمجھا سمجھا کر۔۔۔ تنگ آگئی تھی وہ سکون چاہتی تھی۔۔
اور وہ جان گئی تھی کچھ دنوں میں اسے وہ سکون مل جائے گا۔۔ اس کی بیماری اسے پہلے اتنی اچھی نہیں لگی تھی جتنا اب اسے احساس ہونا شروع ہوا تھا کہ اسکی بیماری اسے اسکی موت سے ملا کر وہ سکون دلا دے گی جو اس زندگی میں نہ مل سکا۔۔۔۔
‘موت’ لفظ دماغ میں آتے ہی اس نے سر جھکا لیا تھا اور جب اسکے آنسو اسکے اور نجیب کے بندھے ہاتھوں پر گرے نجیب صاحب بھی چہرہ واپس نسواء کی طرف کرچکے تھے
“میں اسے سمجھاؤں گا نسواء آپ پریشان۔۔۔”
“میں نے کبھی محبت نہیں کی۔۔ میں نفرت کرتا تھا تم سے۔۔شدید نفرت۔۔۔ اتنی نفرت کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ بچہ بھی میرا نہیں۔۔
اتنی نفرت کے جی چاہتا ہے تمہیں بھی ویسے برباد کردوں۔۔۔
اتنی نفرت کہ۔۔ میں اب اور برداشت نہیں کرسکتا تمہارے اس وجود کو۔۔۔
اور جاننا نہیں چاہو گی کہ مجھے کیوں جلدی ہورہی ہے تم سے پیچھا چھڑانے کی۔۔؟؟” مننان کی زیر آلودہ باتوں نے نجیب صاحب کے سارے حوصلوں پر پانی پھیر دیا تھا
اور لیزا۔۔۔ وہ تو پتھر بن گئی تھی مننان کے منہ سے یہ باتیں سن کر۔۔۔
“مننان۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو۔۔ میں جانتی ہوں تم مجھ سے بہت محبت۔۔”
“محبت میں تم سے نہیں کرتا۔۔۔ کسی سے نہیں کرتا سوائے اس کے۔۔۔
جاننا چاہو گی کون ہے وہ۔۔؟؟ تمہاری بڑی بہن۔۔ منیشہ۔۔ میں اس سے پیار کرتا ہوں بےپناہ پیار کرتا ہوں۔۔۔”
“تو پھر ۔۔۔ میرے ساتھ شادی کیوں کی۔۔؟؟”
اپنے کندھے سے مننان کے دونوں ہاتھ جھٹک دئیے تھے اس نے۔۔
“تاکہ اس شخص کو وہاں چوٹ پہنچا سکوں جہاں اس نے مجھے پہنچائی میری ماں کو پہنچائی۔۔۔
تمہیں بیٹی مانتے ہیں۔۔ اب تم۔۔ اس حالت میں طلاق لیکرجب میرے گھر سے نکلو گی تو حساب برابر ہوگا۔۔۔
جیسے میری ماں کو نکالا گیا تھا تب وہ بھی پریگننٹ تھی۔۔۔میں تمہیں۔۔”
“مننان۔۔۔۔”
وہ بے ساختہ پلٹے تھے۔۔۔
“تم منیشہ کے ساتھ جو کرچکے ہو مجھے وہیں تکلیف پہنچی ہے بیٹا اب بس۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ معافی مانگنی ہے تو گھٹنوں کے بل۔۔۔”
نسواء کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“مننان بس کرجاؤ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔”
“ابھی نہیں۔۔ ایک منٹ۔۔۔”
مننان پیچھے ہوگیا تھا ٹیبل پر پیپرز اٹھائے تھے اور لیزا کے ہاتھوں میں رکھ دئیے تھے
“میں تمہیں طلاق دہ چکا ہوں سائن کرچکا ہوں ڈائیورس پیپرز پر ۔۔۔اب اسی وقت نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔دفعہ ہوجاؤ۔۔۔”
اور پھر کسی کو کچھ سنائی نہیں دیا تھا۔۔۔ سوائے لیزا کے چلتے قدموں کے جو ان پیپرز کو اٹھائے دروازے کی جانب بڑھنے لگی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ناہید مجھ سے بار بار ایک ہی سوال مت کرو مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہورہا ہے۔۔
ان رپورٹس کو دیکھ کر مجھے تو شرم آنے لگی ہے وہ عورت اس گھر کی چھت تلے رہی اور دھوکا دیتی رہے اور وہ بےغیرت۔۔۔ وہ تو دوست تھا نجیب کا۔۔۔”
اپنے ہی کمرے میں آفندی صاحب نے غصے سے بہت چیزیں توڑ دی تھی
“وہ سب جھوٹ بھی تو ہوسکتا ہے نہ۔۔؟؟ کیا پتہ عمارہ بیٹی۔۔”
“نام مت لینا بیگم۔۔۔ اس عورت کو اب میں اس گھر میں نہ دیکھوں۔۔۔ اور۔۔”
“خدا کے لیے وہ مت کہیے گا ۔۔۔شزا”
“وہ لڑکی بھی اب اس گھر میں نظر نہ آئے۔۔ وہ ہمارا خون نہیں ہے “
“آپ غصے میں غلط۔۔۔”
“غلطی تو ہوئی ہے ناہید۔۔۔ غلطی ہوئی ہے۔۔۔میرا نجیب۔۔۔وہ کیسے یہ سب برداشت کررہا ہوگا۔۔؟؟ اسکی تو اپنی اولاد اسکی نہ ہوئی اور جو تھی۔۔ وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی۔۔”
“آپ بات کریں جاکر نسواء سے ماں جی کو لے جائیں۔۔”
وہ شوہر کے پاس بیٹھی تھی مگر وہ بھی جانتی تھی اب کچھ نہیں ہوسکتا۔۔
“نسواء۔۔۔۔۔ وہ جسے ہم برا بھلا کہتے رہے جس کے بچوں کو کبھی اپنا نہیں کہا۔۔
صحیح معنوں میں ہمارے خاندان کا نام اس نے اور اسکے بچوں نے روشن کیا۔۔
ناہید۔۔۔ مننان کبھی واپس نہیں آنے دے گا کسی کو بھی۔۔۔
ہمارا نجیب ادھوار رہ جائے گا۔۔”
۔
“بہت بڑی غلطی ہوگئی ہم سے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“”ایک ماہ بعد۔۔۔”
۔
“میں اس مڈل کلاس لڑکی سے معافی کیوں مانگو گا سمیرا۔۔۔؟ فار گاڈ سیک اسے چلتا کرو یہاں سے اب تو اسکے زخم بھی بھر گئے ہیں۔۔۔”
معاذ نے اپنا ہاتھ سمیرا کی گرفت سے چھڑا لیا تھا۔
“معاذ بس کیجیئے وہ سن لے گی اور ابھی آپ ایکسکئیوز کریں گے ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنی نفرت کیوں کررہے ہیں آپ اس سے۔۔۔ آپ نے اس سے پہلے کبھی کسی کا سٹیٹس دیکھ کر حقارت نہیں دیکھائی۔۔۔”
۔
“کیونکہ مجھے اس پر ابھی بھی یقین نہیں آرہا۔۔۔ نہ فیملی کا نام نہ خاندان کا۔۔ اس حالت میں آدھی رات کو کون باہر گھومتا ہے۔۔؟ اور اگر تم نے اسے یہاں سے نہ بھیجا تو میں پولیس کو رپورٹ کردوں گا۔۔۔ وہ اس سے پوچھ تاچھ کرلیں گی۔۔۔”
وہ منیشہ کے روم کے سامنے آگئے تھے کوئی شک نہیں کہ منیشہ نے سب باتیں سن لی تھی اور اس سے پہلے وہ کچھ کہتے منیشہ نے روم کا دروازہ کھول لیا تھا۔۔۔
اور معاذ صاحب کے فون پر اسی وقت رنگ ہوئی تھی جس سے انہیں بہانہ مل گیا تھا اپنی بیوی کی بات ماننے کا۔۔۔
وہ جیسے ہی کال پک کر کے کچھ قدم دور گئے۔۔ سمیرا نے شرمندگی سے دیکھا تھا۔۔۔
۔
“بیٹا معاذ اور میں تمہارے پاس آرہے تھے بیٹا وہ تم سے معافی مانگنا چاہتے تھے جو نیچے ہوا۔۔۔
ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ تم جاؤ۔۔۔جب تک۔۔۔”
“میں یہاں رہنا نہیں چاہتی۔۔۔اور آپ اپنے شوہر سے ایک بات کہہ دیجیئے گا جتنئ نفرت انہیں مجھ سے ہے اس سے کئی گنا زیادہ نفرت مجھے ہے ان سے۔۔۔”
منیشہ کی بات نہیں انہیں حیران کردیا تھا۔۔۔وہ نیچے جھک کر اپنا بیگ اٹھاتی ہے اور سمیرا کے پاس سے گزر کر جانے لگتی ہے جب سمیرا ہاتھ پکڑ لیتی ہے پیچھے سے۔۔
“منیشہ بیٹا۔۔ یہ نفرت۔۔۔”
“وہ کسی اور کے باپ ہونے سے پہلے میرے باپ رہ چکے ہیں۔۔۔وہ باپ جس نے کبھی باپ ہونے کا فرض نہیں نبھایا۔۔۔وہ باپ جو۔۔۔”
سمیرا کا ہاتھ نیچے گر گیا تھا اور منیشہ گہرا سانس بھر کر روم سے باہر نکل گئی تھی جاتے جاتے اس نے ایک بار مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اس شخص کو جس کے ہاتھ سے موبائل نیچے گر چکا تھا۔۔۔اور وہ دیوار کے ساتھ جا لگے تھے۔۔۔۔
منیشہ سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی نیچے گئی سمیرا معاذ کا نام چلاتے ہوئے روم سے باہر آئی تھی۔۔۔
“معاذ۔۔۔معاذ۔۔۔وہ لڑکی۔۔۔اپ کی بیٹی ہے۔۔۔جسے آپ اتنے سالوں سے ڈھونڈ رہے ہیں اسے روک لیں پلیز۔۔۔۔”
اور معاذ صاحب بیوی کی آواز سن کر اپنی کھوئی ہوئی دنیا سے باہر آگئے تھے اور ایک جھٹکے سے اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کرکے وہ بھی نیچے کی طرف بھاگے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر عدالتی نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔۔۔ انکی کمپنی کو۔۔۔ نجیب آفندی کے دونوں چچا زاد بھائی اس وقت پولیس کسٹڈی میں ہیں انکی فیکٹری میں وہ باکسز برآمد ہوگئے ہیں ۔۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔۔ نجیب آفندی نے کیا بیان دیا نیوز کو۔۔۔؟؟ ہرچینل پر اس خاندان کی خبریں چلنی چاہئے۔۔۔ہر جگہ۔۔”
سگریٹ کو جوتے کے نیچے کچل کر وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا جب ہانپتے ہوئے اسکے ایک گارڈ نے اسکا راستہ روکا۔۔۔
“مننان سر۔۔۔مننان سر۔۔۔۔”
مننان اسے درگزر کردیتا مگر اس گارڈ کی شکل دیکھتے ہی مننان کے ہاتھ گاڑی کے کھلے ہوئے دروازے سے ہٹھ گئے تھے اور وہ خود تیز قدموں سے اسکی جانب بڑھا تھا اور ایک ہی سوال پوچھا تھا
“وہ مل گئی ہے۔۔۔کہاں ہے وہ۔۔۔”
سر وہ اسٹیشن پر دیکھی گئیں ہیں ہمارے لوگ مس منیشہ پر نظر رکھیں ہیں آپ جلدی چلیں ٹرین کو آنے میں بیس منٹ۔۔۔”
“لیٹ کر دو۔۔۔ دو گھنٹے بس۔۔۔ایک اور کام کرکے میں وہیں ملوں گا تم خود جاؤ اور نظر رکھو۔۔۔”
وہ کہتے ہی واپس چلا گیا تھا گاڑی میں بیٹھ کر ایک اور اہم کام انجام دینے کے لیے۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک پل کو تو میں یقین نہیں کرپایا تھا۔۔ باپ کا رُتبہ دہ بیٹھا تھا آپ کو حزیفہ انکل۔۔”
بند کمرے میں گپ اندھیرا تھا جب اس نے کرسی اس کرسی کے سامنے رکھی جس پر ایک شخص کو رسیوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔۔
“مننان بیٹا ایک بار میری بات سن لو۔۔۔”
“بات سن لوں۔۔۔؟؟ ایک واحد شخص جسے میں عزت دیتا رہا جس کی عزت کرتا رہا۔۔
اب معلوم ہوا کہ کہ سب کچھ ایک ڈھونگ۔۔”
“کچھ بھی جھوٹ نہیں تھا۔۔ میری محبت تمہیں لیکر میری عزت تمہاری ما ں کو لیکر۔۔”
حزیفہ چلایا تھا اور غصے میں خود کو ان رسیوں سے چھڑوانے کی ناکام کوشش بھی کی
“اور کتنے جھوٹ بولیں گے۔۔؟ آج آپ کی غداری کی وجہ سے میری ماں واپس اس شخص کے پاس چلی گئی۔۔ اگر آپ اچھے نکلتے تو میں خود علیحدگی کرواتا۔۔ مگر نہیں۔۔
آپ کو خون بھی وہی خون نکلا۔۔۔ آفندی ۔۔۔ اگر میں نے ان لوگوں کو نہیں بخشا تو آپ کو کیسے موقع دوں گا میری فیملی کو نقصان پہنچانے کا۔۔؟؟
آفٹرآل میری ماں کی یہ حالت کے ذمہ دار تو آپ بھی ہیں۔۔۔ اتنے سالوں سے منصوبے جو بناتے رہے۔۔اور اس دوٹکے کی عورت کو بھیج دیا میرے باپ کی زندگی میں۔۔۔
اور وہ اولاد۔۔۔ آپ لوگوں کا خون تو میرے باپ سے زیادہ گندا نکلا۔۔”
“مننان۔۔۔ میں تمہیں جان سے مار دوں گا اگر تم نے اب کچھ الٹا کہا۔۔”
“ناجائز خون کہا۔۔۔گندا خون کہا۔۔؟؟ بُرا لگ گیا۔۔؟؟ کمال ہے۔۔۔
آپ کے بھائی اور بھابی۔۔اوہ سوری بیوی تو وہ میرے باپ کی تھی۔۔۔”
حزیفہ نے پھر سے اونچی آواز میں بات کرنا چاہی جب مننان نے اپنے گارڈ کو اشارہ کیا جس نے پیچھے سے سر پر وار کرکے حزیفہ کو بےہوش کردیا
“تم جانتے ہو کیا کرنا ہے۔۔؟؟ “
اپنا کوٹ پہن کر وہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا تھا اسکے پیچھے دو اور گارڈ بھی باہر نکلے تھے
“مننان سر۔۔ “
“ابھی نہیں ابھی ایک آخری اور ضروری کام کرنا ہے۔۔ اسکے بعد سکون سے سنوں گا سب کی۔۔۔”
مننان یہ کہتے ہی اس وئیر ہاؤس سے باہر نکل گیا تھا
“پر سر۔۔۔ جہاں آپ جارہے ہیں وہاں اب کچھ نہیں مس منیشہ تو وہاں سے غائب ہوگئی ہیں۔۔”
گارڈ نے پھر بھی اپنی بات مکمل کی جسے سن کر سب گھبرا گئے تھے اور پھر بلڈنگ سے باہر گئے تھے جہاں مننان گاڑی میں بیٹھ کر جاچکا تھا۔۔
۔
“منیشہ تمہیں لگتا ہے میں بہت سنگدل ہوں۔۔ مگر آج میں سب جھوٹ ثابت کردوں گا۔۔تمہیں یہ رنگ پہنا کر۔۔”
۔
کس کو معلوم تھا کہ تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرائے گی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یو باسٹرڈ یہیں رہنے کا کہا تھا۔۔ نظر رکھنے کا کہا تھا پھر کہاں گئی وہ۔۔؟؟”
“ایم سوری سر۔۔۔ بس ایک پل کو نظر ادھر ہوئی اور وہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔۔۔”
گیٹ لوسٹ۔۔۔ دفعہ ہوجاؤ۔۔۔ جتنی ٹرین جا چکی ہے سب کو رکوا دو۔۔سب۔۔”
وہ ابھی بات کررہا تھا کہ ایک پلر کے پیچھے سے چھپی ہوئی وہ پرچھائی سامنے آکھڑی ہوئی تھی مننان کے۔۔۔
“منیشہ۔۔۔”
“آپ سب جا سکتے ہیں۔۔۔ “
منیشہ نے جیسے ہی کہا تھا مننان کے اشارے پر وہ سب لوگ وہاں سے منٹوں میں غائب ہوگئے تھے۔۔
“منیشہ۔۔۔ منیشہ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔۔ڈرا دیا تھا تم نے۔۔۔”
وہ آگے بڑھا اور بڑھتے ہی اسے اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔
“تم نے ڈرا دیا تھا سچ میں اب میں تمہیں خود سے دور۔۔”
“میں جب جب سوچتی رہی کہ میں نے خود کو آپ کی پلاننگ سے آزاد کرلیا چھڑوا لیا
آپ تب تب میرے سامنے آجاتے ہیں کسی بُرے سائے کی طرح۔۔
مننان سر۔۔۔ ایسا کیوں ہے۔۔؟؟ اب تو مجھے محبت بھی نہیں رہی اب تو چاہت بھی نہیں رہی اب۔۔۔”
مننان کچھ قدم دور ہوا تھا۔۔ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کچھ ہوا ہو ایسا لگ رہا تھا جیسے کل کی بات ہو۔۔ سامنے وہ جھلی سی لڑکی کھڑی ہو اسکی ایک نظر کی منتظر۔۔۔
“ایسے کیسے محبت نہیں رہی۔۔؟؟ تمہیں یاد نہیں یہی محبت کے ہاتھوں مجبور تم میرے قدموں پر جھکی تھی منیشہ۔۔ آج جب میں دنیا اپنا دل سب کچھ تمہارے سامنے رکھ رہا ہوں تو تم ٹھکرا رہی ہو۔۔؟؟”
اسکی گرفت منیشہ کے کندھوں پر مظبوط ہوئی تومنیشہ کی آنکھوں میں ایک آگ جلتی دیکھائی دی مننان کو یہ تیور یہ غصہ اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ اسے پھر سے حاصل کر لے گا۔۔۔اس بار پورے حق سے۔۔۔
۔
“میں نے کب ٹھکرایا۔۔؟؟ میں نے تو بہت راتیں گزاری آپ کے ساتھ۔۔ محبت نہیں دہ رہی تو کیا ہوا۔۔؟؟ جسم تو دہ چکی تھی نہ۔۔؟؟ یہی بتایا تھا نہ میرے شوہر کو۔۔؟؟
کہ کیسے میں آپ کو اپنا جسم دینے آتی تھی۔۔؟؟ کتنی بار میں۔۔”
مننان کا ہاتھ اٹھ گیا تھا وہ پیچھے کی جانب گرنے لگی تھی جب مننان نے بازو سے پکڑے واپس اسے اپنی اوڑھ کھینچا تھا
“منیشہ۔۔۔”
“غصہ کیوں آرہا ہے۔۔؟؟ آپ کی کہی باتیں آپ کو بتا رہی ہوں۔۔
اور ایک اور بات بھی سن لیں۔۔ آپ کی باتیں سننے کے بعد میرے شوہر نے جو میرے ساتھ کیا۔۔۔”
مننان منہ پھیر چکا تھا۔۔۔ انکے ارد گرد ایک مجمع جمع ہوچکا تھا اس وقت سے جب منیشہ کو تھپڑ پڑا تھا۔۔۔ پر مننان کی ایک نظر نے ان سب کو جانے پر مجبور کردیا تھا۔۔
“منہ نہ پھیریں سن لیں اس رات جب میں اپنا آپ اپنی مرضی سے اپنے شوہر کو سونپنا چاہتی تھی۔۔۔ مجھے بھی لگنا شروع ہوگیا تھا کہ مجھے ماہیر سے محبت ہونے لگی ہے۔۔”
مننان کے دونوں ہاتھ مٹھی کی صورت بند ہوگئے تھے۔۔
۔
“میں اسے اپنے دل دینا چاہتی تھی اس نے بات جسم پر ختم کردی۔۔۔
اس رات۔۔۔اس نے مجھے حاصل نہیں کیا مجھے مار دیا تھا۔۔
مننان سر۔۔۔اس رات کے بعد آنے والی صبح سے پہلے میں اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی سوچتی تھی کہ آپ سے سامنا ہوا تو وہ طنز کیسے برداشت کروں گی جو آپ میرے شادی کے فیصلے کو لیکر کریں گے۔۔
سوچتی تھی اب کیا رہ گیا ہے۔۔؟؟ ایک عزت ہی تو تھی سب رشتے ناتے تو جھوٹے نکلے محبت فریبی نکلی تو۔۔۔”
وہ خاموش ہوئی تو مننان کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔۔۔
“میں۔۔ تمہیں اپنانے کو تیار ہوں اپنی آنکھوں میں بٹھا کر رکھوں گی۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ سیریسلی۔۔؟؟ ہو دا ہیل آر یو۔۔؟؟ جو مجھے اپنانے کو تیار ہیں۔۔؟؟
ابھی تھوڑی دیر پہلے پھر سے ٹھکرا دیا۔۔کیا سمجھ کیا رکھا ہے۔۔؟؟
باقی سب کی طرح میری زندگی برباد کردی۔۔ بدلہ بدلہ اور بس بدلہ۔۔۔
مننان میری بد دعا ہے جب اپنے بدلے مکمل کرلیں تو مڑ کر دیکھئے گا۔۔۔ خود کو اکیلا ہی پائیں گے۔۔۔ بدلہ لینے آئے تھے تو آپ کی ماں ساتھ تھی آپ کی بہن ساتھ تھی۔۔۔
میں۔۔۔ میں ساتھ تھی۔۔۔ اور جب بدلہ لیکر جائیں گے تو بالکل تنہا ہوں گے۔۔ یہ میری بددعا ہے۔۔۔اور۔۔۔”
اس بار وہ مننان کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
مننان کی آنکھوں میں دیکھ کر اس نے ایک ہی بات کہی تھی۔۔
“آپ ماہیر کے دل میں میرے لیے بدگمانی پیدا کرچکے تھے۔۔ مجھے ماہیر سے نفرت ہوگئی ۔۔۔مگر۔۔۔ میرے پیٹ میں پلنے والے ماہیر کے اس بچے کا کیا کریں گے۔۔؟؟
آپ ہوکر بھی کہیں نہیں رہے اور وہ جا کر بھی موجود ہے ہر جگہ۔۔۔”
مننان نے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا آنکھوں سے آنسو بےتحاشہ بہہ رہے تھے۔۔
“من۔۔۔منیشہ۔۔۔ میں نے تم سے بہت محبت کی۔۔میں اس بچے کو بھی۔۔۔”
“آپ بس نفرت کرسکتے ہیں اپنا نہیں سکتے۔۔آپ اس قابل نہیں ہے کہ آپ کو دوسری بار دیکھا بھی جائے دوسرا موقع دینا تو دور کی بات ہے۔۔۔”
۔
وہ جانے لگی تھی مگر جاتے جاتے اس نے ایک بار اس شخص کی آنکھوں میں آخری بار ضرور دیکھا تھا
“میں نے بہت پیار کیا تھا آپ سے مننان سر۔۔ پر۔۔۔ آپ نے سب برباد کردیا۔۔۔
خود کو بھی اور مجھے بھی۔۔۔”
۔
وہ آنکھوں کے سامنے اوجھل ہوگئی تھی۔۔اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اس خالی بنچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
وہ بربادی کی ایک نشانی جیسے بیٹھا تھا۔۔۔ اور دور کھڑا اس کا مجرم
نجیب آفندی۔۔ جو کچھ سال پیچھے چلا گیا تھا یہی جگہ تھی یہ عالم تھا جب اس نے اپنی بیوی بچے کو اپنی زندگی سے ایسےہی جاتے دیکھا تھا۔۔۔
اپنا کوٹ اتار کر وہ گاڑی مین رکھ چکا تھا اور شرٹ کی سلیو فولڈ کرتے ہوئے وہ آہستہ قدموں سے اس بنچ کی جانب بڑھنے لگا تھا جب وہ پاس آکر بیٹھا تو مننان نے سر اٹھا کر دیکھا تھا
“مننان۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔ دیکھیں آپ کتنا کامیاب ہوئے ہیں۔۔۔”
ایک ساتھ دونوں نے بولا تھا اور پھر دونوں ہی سر جھکا کر بیٹھ گئے تھے مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔
“مننان بیٹا۔۔۔ تمہاری ماں کا آپریشن ہے کچھ دیر میں تم۔۔۔”
نجیب کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب ایک گولی سینہ چیرتی ہوئی نکلی تھی اور خون کے چھینٹے مننان کے منہ پر گرے تھے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔۔” اس نے بےساختہ پکارا تھا۔۔۔ اور بہت سی فائر شروع ہوگئی تھی۔۔۔ مننان کے گارڈز نے ان دونوں کو کور کر لیا تھا پر جس کا چہرہ مننان کے سامنے آیا تھا اس نے اپنی ویسٹ سے گن نکال کر اس ایک آدمی کے ہاتھ پر فائر کردیا تھا۔۔
“یہ مجھے زندہ چاہیے اس کی ہمت کیسے ہوئی میرے باپ پر حملہ کرنے کی۔۔۔”
اس نے ظہیر کی طرف جیسے ہی اشارہ کیا تھا اور بہت سی کراس فائر ہونا شروع ہوگئی تھی
“مننان بیٹا۔۔۔ اپنی ماں کے۔۔ پاس ہاسپٹل چلے جاؤ میں جانتا ہوں وہ سرجری نہیں کروائے گی۔۔ جب تک تمہیں دیکھ نہ لے۔۔۔ جاؤ۔۔۔”
“شش۔۔۔ چپ کرجائیں۔۔۔ پلیز۔۔۔” زخم پر جیسے ہی ہاتھ رکھ کر دبانے کی کوشش کی تھی اسکے دونوں ہاتھ خون سے بھر گئے تھے۔۔۔
“تم۔۔۔ تم نے سچ کہا۔۔ میں ذمہ دار ہوں۔۔۔ تم سب کی برباد زندگی کا۔۔۔
جس دن تمہاری ماں نے مجھے دوسری شادی کرنے سے منع کیا تھا مجھے منع ہوجانا چاہیے تھا۔۔۔ میرے ایک غلط فیصلے نے سب کچھ برباد کردیا۔۔۔”
یہ کہتے ہی انکی آنکھیں بند ہوگئی تھی۔۔
“ہم دونوں ہاسپٹل چلیں گے آپ ساتھ چلیں گے۔۔ پلیز آنکھیں کھولیں۔۔”
مگر بالکل خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ظہیر کا بے جان وجود زمین پر گرا ہوا پایا پولیس نے ہر طرف سے کور کرلیا تھا جگہ کو۔۔۔ اور بنا کسی کو دیکھے وہ نجیب کو اٹھا کر گاڑی تک لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کی نظریں جس کی تلاش میں ہیں۔۔۔ بابا انہیں ہی لینے گئے ہیں ماں۔۔”
نسواء نے آنکھیں نیچی کرلی تھی
“حورب بیٹا یہ سرجری ضروری ہے۔۔؟ میں نے اپنی زندگی جی لی ہے بیٹا۔۔ میں نے زندگی سے زیادہ امیدیں نہیں لگائی اس لیے تم بھی وعدہ کرو مجھ سے تم بھی اس سرجری کے بعد ہر رزلٹ کو قبول کرو گی۔۔”
“ماں آپ ایسے۔۔۔”
“تم اپنی زندگی مکمل جینا۔۔ شادی کرنے سے پہلے پرکھ لینا۔۔ شادی کے بعد جہاں لگے کہ تمہاری عزت نفس تمہاری جگہ تمہارے شوہر کی زندگی میں کسی اور نے لے لی ہے تو تم بھی مکمل کنارہ کشی کرلینا۔۔
میری طرح انتظار کی سولی نہ چڑھنا۔۔ یاد رکھنا۔۔۔”
حورب نے ہاں میں سر ہلایا تھا نرس پاس سے نسواء کا سٹریچر آپریشن ٹھیٹر میں لے گئی تھی وہ اس خالی جگہ کو دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔
“آپ کہتی ہیں شادی سوچ سمجھ کر کرنا مگر میں کیسے بتاؤں مجھے اس لفظ سے بھی نفرت ہونے لگی ہے ماں۔۔”
وہ ابھی سوچ رہی تھی کہ ایمرجنسی سائرن نے اس راستے سے پیچھے ہونے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔ وہ تو لیب کوٹ سے اپنی پیجر نکال کر وارڈ میں جانے لگی تھی جب بڑے بھائی کی جرگتی ہوئی آواز اسکی سماعتوں کی نظر ہوئی۔۔۔
“راستے چھوڑو۔۔۔ ڈاکٹر۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ حو۔۔۔ گڑیا۔۔۔ یہ دیکھو۔۔ انہیں گولی لگی ہے۔۔ جلدی سے علاج شروع کرو۔۔۔”
حورب نے جیسے ہی خون میں لت پت سٹریچر پر دیکھا اسکی ایک نظر اپنی ماں کے اس کمرے پر گئی تھی۔۔۔
“حورب۔۔۔ بیٹا جلدی۔۔۔”
“انکی پلس بہت ویک ہیں سر۔۔۔ایم۔۔”
“سوری مت بولنا۔۔۔ یہ بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔ پمپ کرو۔۔۔ الیکٹرک شاک دو۔۔۔ کچھ بھی کرو۔۔۔ ڈاکٹر حورب۔۔۔ سن رہی ہیں آپ۔۔۔”
وہ جیسے ہی چلایا تھا حورب نے ساتھی ڈاکٹر کو جلدی سے شفٹ کرنے کا کہا تھا۔۔۔
ابھی وہ اپنی ماں کی تکلیف سے باہر نہیں آپارہی تھی اور اب یہ غم بھی۔۔۔اس نے ایک نظر بھائی کی خون سے بھری ہوئی شرٹ کو دیکھا تھا اور پھر جلدی سے وہ بھی ساتھ چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماں اب کیسی ہیں۔۔؟؟”
“ویسی ہی ہیں ابھی بھی سرجری کے لیے ہاں نہیں کی جائیں یہ شرٹ پہن کر انکے پاس انکی نظروں کو جس کا انتظار ہے وہ آپ ہیں۔۔۔”
“حورب۔۔۔”
“پلیز۔۔ میری ماں کی زندگی بہت اہم ہے میرے لیے۔۔ جائیں یہ وقت بہت سخت ہے۔۔۔
بابا کی بات مت کیجئے گا ہوسکے تو ۔۔۔”
وہ اٹھ کر واپس نجیب کے کمرے میں چلی گئی تھی مننان نے گہری سانس بھری تھی اور شرٹ لیکر چینج کرنے چلا گیا تھا۔۔۔
اور کچھ دیر میں وہ روم میں داخل ہوا تھا۔۔
“نجیب آپ نے پتہ کیا وہ کہاں۔۔۔”
نسواء کہتے کہتے چپ ہوئی تھی۔۔۔
“اووہ تو تمہیں فرصت مل گئی آنے کی۔۔؟؟”
“ہمم۔۔۔”
وہ کچھ دوری پر تھا جب ماں کے چہرے کو دیکھ کر اس نے اپنے آنسو روکے تھے۔۔۔
“ماں۔۔۔”
آواز بھاری ہوئی تو نسواء نے پلٹ کر دیکھا تھا۔۔ آج اسے وہ نفرت غصے سے بھرا مننان نہیں لگ رہا تھا۔۔ آج اسے وہ اپنا پانچ سالہ بیٹا نظر آرہا تھا اس نے ہاتھ ہاتھ آگے بڑھایا تھا ۔۔مننان نے ہاتھ پکڑ کر ماتھے کے ساتھ لگا لیا تھا۔۔۔
“آپ ٹھیک کہتی تھی۔۔۔ کچھ نہیں رکھا اس بدلے میں۔۔”
“مننان بی۔۔بیٹا کیا ہوا۔۔؟؟”
“کچھ نہیں۔۔۔ میرا دعا ہے آپ سدا سہاگن رہیں۔۔ اس سرجری کو کروا کر جلدی سے ٹھیک ہوجائیں۔۔۔”
وپ نسواء کے ماتھے پر بوسہ دے کر جلدی سے اٹھ گیا تھا وہاں سے۔۔ اور روم سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اس لڑکی کو بھی مار دو۔۔۔ پیچھا کرو۔۔۔”
سٹیشن سے باہر آتے ہی اس نے اس گاڑی کی ڈکی میں خود کو چھپا لیا تھا۔۔۔
“وہ شخص کبھی باز نہیں آئے گا۔۔۔”
منیشہ غصے سے کہتی ہے۔۔ مگر اسے معلوم نہ تھا اسے فالو کرنے والے مننان کے نہیں عمارہ کے غنڈے ہیں۔۔۔
جب وہ لوگ گاڑی کے پاس آئے تو ڈکی کا دروازہ آہستہ سے بند کرلیا تھا اس نے۔۔۔
اور کچھ منٹ بعد جب گاڑی سے نکلنے کی کوشش کی تو گاڑی چل چکی تھی۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔ کہاں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی مننان۔۔”
آنکھوں سے آنسو۔۔۔ جاری تھے۔۔۔ بند ڈکی میں اسکا سانس لینا دشوار تھا کہ ایک دم سے گاڑی رکی تھی۔۔۔
کچھ شور کے بعد خاموشی ہوگئی تھی وہ خود باہر آتی کہ کسی نے پیچھے سے ڈکی کا دروازہ کھولا تھا
“اب آپ باہر آسکتی ہیں میڈم۔۔۔سفر بہت لمبا ہے۔۔ اس چھوٹی جگہ میں دم نہیں گھٹ رہا۔۔۔”
“وہ۔۔ ایم سور۔۔۔”
باہر نکلتے وقت ہاتھ جیسے ہی پھسلا تھا اس شخص نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔
” سوری ایسے ایکسیپٹ نہیں ہوگا۔۔ ویسے کس ارادے سے چوری چھپے بیٹھی تھی۔۔؟؟”
“وہ میں نہیں بتا سکتی۔۔ایم سوری۔۔۔مجھے چلنا چاہیے۔۔۔”
“اوکے۔۔۔ اتنی اجاڑ اور ویران جگہ پر اگر آپ کو کوئی ٹیکسی مل جائے گی تو شوق سے جائیے۔۔۔ ورنہ میری گاڑی کی فرنٹ سیٹ تو حاضر ہے۔۔۔”
وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے فرنٹ سیٹ کا دروازہ اوپن کرتا ہے۔۔ ایک نظر منیشہ کو دیکھنے کے بعد اس نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرلی تھی۔۔۔
گاڑی کو تب تک ریس دی تھی جب تک منیشہ فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ نہیں گئی تھی۔۔۔
۔
“مجھے پاس ہی کسی ٹرین۔۔۔”
“فرحان ملک۔۔۔”
“میں نے نام نہیں پوچھا۔۔۔”
“کوئی بات نہیں۔۔ میں پوچھ لیتا ہوں مس۔۔؟؟ کیا نام ہے۔۔؟؟”
“دیکھیں۔۔”
“کس سے بھاگ رہی تھی۔؟؟”
“آپ کے سوال کا جواب۔۔”
کون تھے وہ لوگ۔۔؟؟ کچھ چرا کر بھاگ رہی تھی۔۔؟؟ شکل سے تو اچھے گھر کی لگتی ہیں۔۔”
“انفف۔۔۔”
“اوکے۔۔۔ اچھا نام بتا دیں۔۔۔”
منیشہ نے اپنا سر پکڑ لیا تھا۔۔۔ وہ ہر سوال کو ری جیکٹ کررہی تھی اور وہ بار بار نیا سوال پوچھ رہا تھا۔۔۔
۔
“میں رپورٹ کر دوں گی پولیس میں گاڑی روکیں۔۔”
“کس میں اتنی جرات ہے مئیر کے بھانجے کی گاڑی روکنے کی۔۔
اور آپ میرے احسان کا بدلہ ایسے دیں گے۔۔؟؟ بیڈ گرل۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بابا کو ہوش آگیا ہے آپ کو بُلا رہے ہیں۔۔۔ کچھ دیر میں ماں کی سرجری شروع ہوجائے گی۔۔۔”
“ان دونوں کا خیال رکھنا بچے۔۔۔”
حورب کے ماتھے پر ہاتھ رکھے وہ ہاسپٹل سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“یہ میری تربیت نہیں تھی مننان۔۔۔ تمہارے باپ کا خون حاوی ہوگیا میری تربیت ہار گئی۔۔۔”
“آپ نے کیا حاصل کرلیا مننان سر۔۔؟؟ بدلہ لیکر بھی آپ اسی جگہ کھڑے ہیں۔۔۔
بالکل اکیلے۔۔۔
اب تو ان دونوں لوگوں کو بھی کھو دیا جن کے ساتھ آئے تھے۔۔۔”
۔
گہرا سانس بھرا تھا اس نے۔۔۔اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔
گاڑی کی سپیڈ جیسے ہی فل کی وہ اس جانب چل دیا تھا جہاں وہ اپنی ناکامیوں کے ساتھ سکون سے سانس لے سکے۔۔۔
“مننان نجیب آفندی۔۔۔۔ نسواء نجیب آفندی کا بیٹا۔۔۔ محنت سے اپنی پوزیشن کو حاصل کرنے والا۔۔۔
اپنی بہن کا ہیرو۔۔۔
اس جھلی لڑکی محبت۔۔۔
نوجوان نسل کا آئیڈیل۔۔۔
اب نہیں رہا۔۔۔۔ شہر سے دور اسکی گاڑی اس اونچائی سے نیچے جاگری تھی۔۔۔
دھکتے شعلوں نے اس چراغ کو ہمیشہ کے لیے بُجھا دیا تھا جسے کبھی قبول نہیں کیا گیا۔۔۔
جو بچپن میں باپ کی محبت کو ترستا رہا۔۔۔ اور جوانی ماں کو اس کا حق دلوانے میں اپنی پہچان بنانے میں لگا دی۔۔۔
مننان آمین احمد سے شروع ہونے والا سفر۔۔۔
اگلی صبح نجیب آفندی کے بیٹے کے نام سے آنے والی اسکی موت کی خبر پر ختم ہوا۔۔۔
۔
ایک ہرجائی کا بدلہ لیتے لیتے وہ خود سب کا ہرجائی بنتا رہا۔۔۔
۔
دوسری شادی کے ایک فیصلے نے جانے کتنے ہرجائی بنا دئیے اس ایک کہانی نے کتنے فسانوں کو جنم دہ ڈالا اور کتنی زندگیاں نگل ڈالی۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔