62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

“بس کرجائیں نجیب میرے وجود میں اب اتنی سکت نہیں کہ آپ کی محبت اور سختی برداشت کرسکوں۔۔۔”
یہ بات سننے کی دیر تھی نجیب نے عمارہ کو بیڈ کی دوسری جانب دھکیل دیا تھا۔۔۔
سانسیں بحال کرتے ہوئے وہ کمفرٹ لئیے کروٹ لے چکا تھا۔۔ رات کے اس پہر ہر رات کی طرح وہ اسی طرح اپنی بیوی پر اپنی محبتیں نچھاور کرتا تھا جو کہ اسکی نظر میں محبت تھی مگر عمارہ کی نظر وہ کچھ گھنٹے کسی ٹارچر سے کم نہ تھے
“نجیب۔۔۔”
“بس سوجاؤ عمارہ۔۔۔ جب تک تم پریگننٹ نہیں ہوجاتی تب تک تمہیں اس سب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔ مجھے بس بچہ چاہیے۔۔۔”
“اور پھر کیا ہوگا۔۔بچہ آنے کے بعد۔۔۔؟؟”
اس نے خود کو کور کرتے ہوئے نجیب کی بیک کو دیکھا تھا جو منہ پھیرے آنکھیں بند کرچکا تھا۔۔۔یہ تو روز کا کام تھا اسے اذیت دے کر وہ شخص ایسے ہی سکون کی دن سوتا تھا ہر روز۔۔
مگر آگ اس نے ہمت کرکے وہ سوال پوچھنا شروع کردئیے تھے جو وہ کب سے پوچھنا چاہ رہی تھی
“بچہ آنے کے بعد۔۔ میں اسے بتاؤں گا کہ میں مکمل ہوں اسکے سوگ میں نہیں بیٹھا۔۔”
“اور اسے کیسے معلوم ہوگا بچہ آگیا ہے۔۔؟ نجیب جس کا آپ کو پتہ نہیں چلا ابھی تک اس تک کیسے جائے گی یہ بات۔۔۔؟؟”
“بیوقوف عورت۔۔ میں ایک بزنس ٹائیکون ہوں۔۔ جب میرا بچہ ہوگا تو میں کوئی نیوز چینل کوئی پیپر نہیں چھوڑوں گا یہاں یہ خبر شائع نہ ہو دنیا جہاں میں مشہور کروں گا دیکھ لینا۔۔۔”
۔
عمارہ اٹھ کر جانے لگی تھی جب نجیب نے اس شیٹ کو پیچھے سے کھینچا تھا عمارہ بیڈ پر گری تھی
“نجیب۔۔۔”
“پھر سے کوشش کرتے ہیں میری جان۔۔ اس بار محبت سے پیش آؤں گا۔۔۔”
اس نے یہ کہتے ہی باقی کا فاصلہ ختم کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک سال بعد۔۔۔”
۔
“بہت بہت مبارک ہو بیٹا ہوا ہے بیٹا۔۔۔”
۔
نجیب کی گود میں وہ بچہ پکڑانے لگے تھے جب نجیب نے دروازے پر کھڑے رپورٹر کو اندر آنے کا اشارہ کیا تھا
“فوٹوز لو۔۔ اور جیسا میں نے کہا ہے ویسا کرو۔۔۔”
وہ جھک کر عمارہ کے ماتھے پر بوسہ دیتا ہے جس کی تصویر جلدی سے اس رپورٹر نے لے لی تھی اور پھر اپنے بیٹے کے ماتھے پر جب نجیب نے بوسہ لیا تھا۔۔کچھ ایسا ہوا تھا جو نہیں ہوا چاہیے تھا۔۔
اسکے لب اپنے بیٹے کے ماتھے سے ٹچ نہیں ہوئے تھے جب اسکی آنکھوں میں کچھ سال پہلے کا منظر گھومنا شروع ہوگیا تھا۔۔
۔
۔
“نجیب۔۔۔ہمارے پیار کی نشانی۔۔۔۔ہمارا بیٹا۔۔۔”
“ہمم۔۔۔۔ہمارا مننان۔۔۔”
“وااہ۔۔۔ نام کب سوچا تھا۔۔؟؟”
“بس ابھی اسکی معصوم صورت اور آپ کےچہرے پر یہ مسکان دیکھ کر۔۔۔ہمارے پیار کی نشانی۔۔۔”
اس چھوٹے سے بچے کو اپنے سینے سے لگائے نجیب بھی نسواء کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں نجیب۔۔؟؟”
“دیکھ رہا ہوں۔۔ آپ کتنا خوش ہو اسکے آنے پر۔۔”
“اور آپ خوش نہیں ہیں۔۔؟؟”
“سچ بتاؤں تو آپ کے چہرے کی یہ خوشی دیکھ کر میں خوش ہوں۔۔”
“اور مننان۔۔۔؟؟”
“اسکے لیے بھی خوش ہوں۔۔۔ آپ کو شئیر نہیں کرنا چاہتا میں بس۔۔ اب یہ آگیا ہے تو خوف میں مبتلا ہورہا ہوں کہ کہیں مجھے نہ بھول جائیں آپ۔۔۔”
“نجیب۔۔ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا آپ کو بھول گئی تو کیا یاد رہے گا آپ کی نسواء کو۔۔؟؟ کم ہئیر۔۔۔”
نسواء نے نجیب کے چہرے پر ہاتھ رکھے ہونٹوں پر اپنے لب جیسے ہی رکھے تھے نجیب کی گود میں سورہے مننان نے رونا شروع کردیا تھا۔۔۔
“دیکھا۔۔۔ اس لیے کہہ رہا تھا”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ بالکل بچوں کی طرح منہ بنا رہے ہیں سویٹو۔۔۔”
“سویٹو۔۔؟؟ سیریسلی۔۔۔ گھر چلیں بیڈروم میں چل کر بتاؤں گا کتنا سویٹ ہوں۔۔”
“نجیب۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔ ڈرٹی ٹاکنگ۔۔۔”
“میں پریکٹیکل پر بی لئیو رکھتا ہوں بیگم۔۔۔”
مننان کی آنکھوں پر رکھے اس نے جلدی سے نسواء کے ہونٹوں پر بوسہ لے لیا تھا۔۔۔
۔
۔
“نجیب۔۔۔۔”
“نجیب بیٹا۔۔۔ جلدی کرو نہ ہماری بھی باری آنی ہے ابھی۔۔۔”
ماہ جبین نے جلدی سے آگے آکر کہا تھا۔۔۔ نجیب کی سب فیملی ممبرز اپنی اپنی محبت واار رہے تھے عمارہ اور اس بچے پر کسی کو پرواہ نہ تھی کہ انکا ہی خون انکی ہی بہو آنکھوں سے اوجھل تھی جس کا نام بھی نجیب کے ڈر سے کوئی لینا گنوارا نہ کرتا تھا۔۔۔
سوائے دادی کے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان بیٹا۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔ اس اخبار کو ایسے دیکھ رہے جیسے کچھ پڑھ لیا ہو۔۔
دیکھاؤ مجھے اج کی خبر۔۔۔”
مننان نے جلدی سے وہ صفحہ نکال کر باقی پیپر اپنے صاحب کو دہ دیا تھا۔۔
“بیٹا وہ جو گاڑی آئی ہے اسکے ٹائر چینج کرنے ہیں۔۔ اور جو دوسری والی ہے اسے ایک بار دیکھ لینا شام تک وہ چاروں گاڑیاں ٹھیک کرکے بھیجنی ہے واپس۔۔”
۔
“جی میں ابھی دیکھتا ہوں۔۔۔”
وہ جب سیٹ سے اٹھا تھا تو اس نے وہ پیپر اپنی جیب میں ڈال لیا تھا۔۔۔
اس گیراج میں کام کرتے ہوئے اسے تین سال ہوگئے تھے وہ اپنے ماں کے ساتھ اس ریسٹورنٹ میں بھی وقت دیتا تھا اور باقی کا کام وہ اس گیراج میں دیتا تھا۔۔۔
اس گیراج کی تنخواہ سے وہ چھوٹی بہن کی سکول فیس باآسانی پئے کردیتا تھا۔۔۔
۔
“بیٹا یہ اس میں ایک صفحہ کیا تمہارے پاس ہے۔۔”
دوسری طرف سے آواز آئی تو وہ بنا جواب دئیے چھت پر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اس نے جیب سے سگریٹ کا پیک نکالا تھا۔۔ اور لیٹر سے ایک سگریٹ سلگائے اس نے دوسری جیب سے اس اخبار کے پیج کو نکال کر دیکھنا شروع کیا تھا۔۔
۔
“ماہیر آفندی سن آف نجیب آفندی۔۔۔”
وہ ہونٹوں کے درمیان سلگتے اس سگریٹ کا دھواں منہ سے نکلتے ہی اس پیپر سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔
وہ اس شخص کو دیکھ رہا تھا وہ بلکل نہیں بدلا تھا۔۔ بلکہ اور ینگ لگ رہا تھا اور خوبصورت
اور پھر مننان کا دھیان اپنی ماں کی طرف گیا تھا جو کسی ریسٹورنٹ میں ایک معمولی نوکری پر تھی جو بیمار تھی اور اپنی عمر سے زیاہ لگنے لگی تھی اپنی بیماری میں۔۔۔
مننان کے اندر وہ جلن حسد اس لمحے دس گنا بڑھ گئی تھی
۔
ڈید۔۔۔نہیں۔۔۔ نجیب آفندی۔۔۔ آپ کا میرا سامنا بہت جلدی ہوگا۔۔ اور جب ہوگا تو اس آفندی ایمپائر۔۔۔ یہ خوبصورت فیملی۔۔۔ یہ شان و شوکت۔۔۔ اور یہ اولاد کا غرور سب چھین لوں گا۔۔۔
یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔ بس کچھ سال اور سہی۔۔۔”
۔
اس سگار سے اس نے اس کاغذ کو جلا دیا تھا سب سے آخر میں نجیب کی تصویر جلی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم خوش ہو۔۔۔؟؟ “
“نجیب بھائی سچ پوچھیں تو میں خوش نہیں ہوں۔۔ دل جلتا ہے جب جب معاز کو اسکے کمرے میں جاتے اور نکلتے دیکھتی ہوں۔۔
وہ لمحات قیامت کی طرح گزرتے ہیں۔۔خود کو اتنا لاچار اور بے بس محسوس کرتی ہوں۔۔۔”
نجیب نے بہن کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔ اسکے دماغ میں ایک ہی بات گھوم رہی تھی جو وہ کسی سے کہنا چاہتا تھا شئیر کرنا چاہتا تھا وہ بلآخر پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا تھا فضا کے سامنے
“تم اتنی محبت کرتی تھی اپنے شوہر سے تم نے سوتن برداشت کرلی۔۔پھر اسکی محبت میں اتنا ظرف کیوں نہیں تھا۔۔؟؟ اس نے میری خوشیوں کو ترجیح نہ دی۔۔۔”
۔
“نسواء بھابھی کی بات کررہے ہیں۔۔؟؟”
فضا نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“تو اور کس کی بات کروں گا۔۔؟؟اتنی حیران کیوں ہورہی ہو۔۔؟؟”
“اتنے سالوں میں پہلی بار آپ نے نام بات کی ہے۔۔۔ اور نام بھی نہیں لیا ان کا۔۔
اس لیے حیرانگی ہوئی۔۔۔
نجیب بھائی۔۔۔ آپ نے اپنی ضد کو بیاہا تھا۔۔ اپنی مرضی کو۔۔۔ یہ مت بھولئیے گا آپ نے وجہ اپنے بیٹے کو بنایا۔۔۔ نسواء بھابھی نے جتنی محبت آپ سے کی وہ اس بات پر بھی نرم پڑ جاتی۔۔۔ مگر آپ کا طریقہ غلط تھا بھائی۔۔۔
مجھے ایک بات سمجھ آگئی ہے۔۔۔ آپ نے بھابھی کی قدر نہیں پائی اور نہ ہی اپنی پہلی اولاد کی۔۔۔”
۔
“فضا۔۔۔ چلیں۔۔۔”
معاز جیسے ہی کمرے میں آیا تھا فضا اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“میری بہن کا خیال رکھنا۔۔۔”
“جی نجیب بھائی۔۔۔اور ایک بات۔۔۔ سمیرا کی والدہ کو جو دھمکی آمیز فون آپ نے کیا تھا وہ بند کردیں۔۔ آپ اور میں ایک ہی صف پر کھڑے ہیں۔۔۔ ایسی منافقت نہ کریں۔۔دیکھا جائے تو آپ نے مجھ سے زیادہ بُرا کیا تھا نسواء بھابھی کے ساتھ۔۔”
نجیب نے گریبان پکڑ لیا تھا معاز کا۔۔۔
“بھائی۔۔۔ بھائی چھوڑ دیں۔۔۔”
“کیا بکواس کی تم نے۔۔؟؟ کیا بُرا کیا میں نے اسکے ساتھ۔۔؟؟گھر گاڑی پیسہ عزت شہرت سب تو دیا تھا اسے۔۔۔”
“اور یہی سب احسانات کے بدلے آپ نے اپنی بیوی کو بے آبرو بھی کردیا۔۔
بھول گئے سب کے سامنے کیسے آپ نے الزام لگایا تھا ان پر کہ کیسے انہوں نے آپ کو آپ کے حقوق نہ دئیے۔۔۔”
“معاز۔۔۔”
اپنے منہ پر ہاتھ رکھے فضا باہر کی جانب بھاگی تھی سب بڑوں کو چیختے ہوئے پکارنے لگی تھی جب نجیب نے معاز کے منہ پر مکا مار کر اسے زخمی کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“کچھ سال بعد۔۔۔۔”
۔
۔
“ماں میرا ہاتھ تھام لیں اپنے بیٹے پر بھروسہ رکھیں۔۔ مجھے میرا مان میرا بھرم واپس لوٹا دیں جو اس گھر میں مجھ سے چھین لیا گیا۔۔۔
ایک بار اپنے بیٹے کو اپنا آپ سونپ دیں ماں کبھی گرنے نہیں دوں گا۔۔ ان آنکھوں میں ایک آنسو کا قطرہ نہیں آنے دوں گا۔۔۔ ایک بار۔۔۔ اس بیماری سے لڑیں میرے لیے چھوٹی کے لیے۔۔ وہ پیپر دے کر آئے گی تو ہم اسے ساتھ مل کر ویلکم کریں گے۔۔۔”
۔
اور جب نسواء نے رونا شروع کیا تھا وہ ہاتھ جو مننان نے آگے بڑھایا تھا وہ مایوسی میں پیچھے کرنے کی کوشش کی تو نسواء نے مظبوطی سے تھام لیا تھااس ہاتھ کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔۔۔آج کی یہ جیت تمہاری ہے اور تمہارے بچوں کی ہے۔۔۔”
اس ٹرافی کو مننان کے ہاتھ پکڑا کر نسواء نے اپنے دونوں بچوں کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
“آج کی یہ جیت میرے بچوں کی ہے۔۔۔”
“اب تم نے انٹرنیشنل کمپٹیشن میں پارٹی سپیٹ کرنا ہے اور جیتنا بھی ہے۔۔”
“جی موم۔۔۔”
“جی ماما۔۔۔”
حورب اور مننان دونوں نے دونوں سائیڈ سے گلے لگا لیا تھا
“آپ سب کے لیے اب تک میں وہ سب کررہی تھی جو نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔
مگر اب آپ لوگ چاہتے ہیں میں باہر کے ملک جا کر یہ سب کروں۔۔۔؟ حصہ لوں۔۔؟؟
ایم سوری میں یہ نہیں کرسکتی۔۔۔ یہاں تک مجھے پہنچانے میں میرے بیٹے نے دن رات ایک کردئیے محنت کرکے وہ یہ رجسٹریشن بھرتا رہا۔۔۔ مگر اب میں تمہیں اور پریشان نہیں کروں گی بیٹا۔۔۔”
مننان کے ماتھے پر بوسہ دے کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا اس نے وہ آبدیدہ ہوئی تو باقی سب بھی ہوگئے تھے خاص کر حورب۔۔۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اپنی ماں اور بھائی کو بس سٹریگل کرتے ہی دیکھا ۔۔۔ بھائی کو باہر کی دنیا سے لڑتے دیکھا اور ماں کو اس ظالم بیماری سے۔۔۔
۔
“ماں یہاں بیٹھے۔۔۔
صوفہ پر بٹھا کر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔۔۔نسواء کے ہاتھوں کو ہاتھوں میں لئیے بے ساختہ اس نے احترام سے ان ہاتھوں کو ماتھے سے لگا لیا تھا اپنے۔۔۔
“ماں۔۔۔ میں جو محنت کررہا ہوں وہ میں ہمارے لئیے کررہا ہوں۔۔ آپ کے لیے چھوٹی کے لیے۔۔۔کون ہے ہمارا۔۔؟؟ ہم تینوں ہیں ایک دوسرے کے۔۔ “
“مننان بیٹا۔۔۔”
“ایک منٹ ماں آج مجھے کچھ کہنے دیں۔۔”
ہاتھوں پر بوسہ لیکر کر مننان نے نسواء کو چپ کروا دیا تھا۔۔۔
“آپ کو میں ایک کمرے میں بند نہیں دیکھنا چاہتا۔۔ میں چاہتا ہوں دنیا آپ کو آپ کے نام سے جانے۔۔۔ جتنا بڑا آپ کا نام ہوگا اور چوڑا سینہ میرا ہوگا اتنا لمبا قد میرا ہوگا جتنا کامیاب آپ ہوں گی۔۔۔جتنے قدم زندگی کی طرف آپ بڑھائیں گی ماں اتنے ہی آپ کے بچے اس راہ پر چلیں گے۔۔۔”
“مننان۔۔۔”
“بھائی صیحح کہہ رہے ہیں ماما۔۔جب تک آپ ہمت نہیں کریں گی ہمیں موٹیویشن کیسے ملے گی۔۔؟ ہمارے پاس آگے بڑھنے کے لیے مقصد کیا ہیں۔۔۔”
“افف اللہ۔۔۔ تم دونوں کب اتنے بڑے ہوگئے۔۔؟؟”
دونوں کے چہروں پر ہاتھ رکھ کر نسواء نے پوچھا تھا۔۔۔
“جب سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بڑا نہیں سر پر۔۔”
مننان نے سرگوشی کی تھی جو کسی نے نہیں سنی تھی سوائے نسواء کے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ ہمارے لیے کیا ہمت نہیں کریں گی ماں۔۔۔؟؟”
مننان کی باتوں نے اسے اندر تک جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔۔۔
بیڈ پر بیٹھے وہ سائیڈ لمپ کبھی آن کررہی تھی تو کبھی آف۔۔
جب بےتابی نے اسے اور بےچین کیا تو اس نے پاس پڑے اپنے موبائل کو اٹھایا۔۔
اور وہی ایک سائٹ آن کی جہاں اسے وہ ہرجائی نظر آتا تھا۔۔۔
۔
آج بھی ایک آرٹیکل پبلش تھا جس میں ایک ویڈیو بھی تھی۔۔ اس نے اپنی اینزائٹی کو کنٹرول کرتے ہوئے وہ آرٹیکل پڑھنا شروع کیا۔۔۔
۔
“مسٹر نجیب اپنے دونوں بچوں کو لیکر اپنی وائف کے ساتھ ورلڈ ٹور پر ۔۔۔”
اس سے اور پڑھا نہیں گیا تھا۔۔ اس کی نظر بس نجیب پر تھی۔۔۔ جو آج بھی ویسا ہی تھا
خوبصورت جوان پرجوش۔۔۔”
ایک نظر نسواء نے خود کو دیکھا تھا اپنی حالت کو دیکھا تھا۔۔۔اور پھر نجیب کو۔۔۔
۔
“تیرے لیے میری عبادتیں وہی ہے۔۔۔
تو شرم کر۔۔۔ تیری عادتیں وہی ہے۔۔۔”
۔
“میں محبت تھی۔۔۔ مگر ہمارے درمیان ہمارا بیٹا بھی آپ کو پسند نہیں آیا۔۔ اور یہاں آپ نے ایک پرفیکٹ فیملی بنا لی۔۔۔ نجیب کیا سچ میں بہانا ہمارا بچہ تھا۔۔۔؟ یا آپ کی ہوس۔۔۔ جانے کب سے دھوکا دے رہے تھے شادی سے پہلے۔۔۔”
۔
“جن کے لیے ہم روتے ہیں۔۔ وہ کسی اور کی بانہوں میں ہوتے ہیں
ہم گلیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔۔۔ وہ سمندر کناروں پہ ہوتے ہیں۔۔”
۔
“آپ میری پہلی محبت تھے نجیب۔۔۔میری نادان محبت۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“حذیفہ۔۔۔ بیٹا۔۔۔”
“جی موم۔۔”
اس نے موبائل کی سکرین کو جلدی سے آف کردیا تھا اس فوٹو کو ہائیڈ کرنے کے بعد۔۔۔
“بیٹا آج بھی ڈنر کرنے نہیں آئے۔۔۔کیا بات ہے۔۔؟؟”
وہ اندر آکر حذیفہ کے پاس بیٹھ گئی تھی جو کچھ سیکنڈ پہلے اندھیرے میں بیٹھا اس ایک تصویر کو دیکھ رہا تھا جو کچھ دن پہلے اس نے چپکے سے لی تھی اپنے ریسٹورنٹ کی ایک شیف کی۔۔۔
“دل نہیں کررہا تھا۔۔۔ بھوک نہیں ہے۔۔”
“بھوک کیسے ہوگی۔۔۔؟ وہ شیف ریزائن کرچکی ہیں۔۔؟؟ اور مننان بھی۔۔۔”
“آپ۔۔ آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔۔؟ آپ کو کس نے کہا ایسا موم۔۔؟؟”
“سب رپورٹ ہے مجھے۔۔۔ اتنے سال سے یہی وجہ تھی جو تم شادی سے انکار کررہے ہو۔۔؟”
“یہ حمزہ نے بتایا آپ کو۔۔۔ اسے تو میں نوکری سے نکال دوں گا۔۔”
وہ موبائل پر کال ملانے لگا تھا جب والدہ نے موبائل کھینچ لیا تھا اور وال پیپر پر وہ تصویر واضح تھی انکے سامنے
“ماشاللہ یہ تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔لگتا نہیں ہے دو بچوں کی ماں ہے۔۔۔”
حذیفہ صاحب شرما گئے تھے اپنی والدہ کی تعریف پر۔۔۔
“مگر یہ کب تک چلے گا۔۔؟؟ اتنے سال تم نے ان لوگوں کے پیچھے ضائع کردئیے کچھ حاصل ہوا۔۔؟؟ وہ پرائی امانت ہے حذیفہ اس راستے پر تمہاری کوئی منزل نہیں ہے۔۔”
“امی کچھ سال پہلے اگر آپ سمجھاتی تو شاید میں پلٹ آتا۔۔ مگر اب نسواء کو بھلا دینا میرے بس میں نہیں۔۔۔ اس دل کو محبت ہوگئی ہے۔۔ وہ میری روح میں اتر گئی ہے۔۔”
“اس کا انجام کیا ہے۔۔۔؟؟ بیٹا تھک جاؤ گے وہ ابھی بھی نکاح میں ہے کسی کے۔۔”
“میں انتظار کروں گا اس کا۔۔۔ ابھی وہ لوگ جانا چاہتے ہیں تو چلے جائیں۔۔ میری قسمت میں نسواء کا ساتھ ہوا تو اللہ اسے میرا کردے گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وقت گزرتا چلا جارہا تھا۔۔۔ وہ دن دور نہ تھا جب ان تین کنٹیسٹنٹ میں نسواء بھی تھا۔۔۔
وہ چہرے پر ماسک لگائے پارٹی سپیٹ کرچکی تھی ۔۔۔
آج فنیلے تھا۔۔۔ آج اسکی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا کیونکہ آج و ہ اپنے بچوں کے لیے اس کمپٹیشن میں حصہ لے چکی تھی۔۔۔اور وہ جیتنا چاہتی تھی۔۔۔
اس نے اس کمپٹیشن میں اپنی دس منفرد ڈشز بناکر نمایا نمبر حاصل کرلئیے تھے۔۔۔
ورلڈ وائڈ لائم لائٹ مل رہی تھی اس شو کو اور ان تین کنٹیسٹنٹ کو۔۔۔
۔
۔
“مننان بیٹا۔۔۔”
مننان کے ہاتھ میں پکڑا ہوا آبجیکٹ اسکی انگلیوں کو زخمی کرگیا تھا مگر اسکی نظریں اس ٹی وی سکرین سے ہٹ نہیں رہی تھی جہاں اسکی ماں اس سٹیج پر کھڑی اس کمپٹیشن کی فائنل ڈش تیار کئیے ججز کے سامنے رکھ چکی تھی۔۔۔
فیصلہ کی اس گھڑی میں اس نے اس پرچے کو بھی اپنی مٹھی میں دبوچ لیا تھا۔۔
وہ جانتا تھا اگر اسکا ماں کامیاب لوٹی تو وہ اور حورب کو بھی آگے بڑھنے کا ایک مقصد مل جائے گا اگر آج اسکی ماں کو ناکامی ملی تو وہ خود کو بھی ناکارہ بنا ڈالے گا۔۔۔
وہ خود سے عہد کرچکا تھا۔۔
۔
۔
“بھیا۔۔۔۔ ماما جیت گئی ہیں۔۔۔۔ واااووووو۔۔۔۔۔”
بار سے چلاتی ہوئی مبارک بار کی آوزوں کی ساتھ اس نے بند آنکھیں کھولی تھی
سیدھا ہاتھ جیسے کھولا تھا ہاتھ سے خون کا فوارا نکلا تھا۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ میں دبوچے اس پرچے کو اس نے سیدھا کرکے گیراج کے مین آفس کا رخ کیا تھا۔۔۔جہاں اس کے باس اور گیراج کے اونر نے اسے مبارک باد پیش کی تھی۔۔۔
“سر یہ ہے وہ خاکہ جس پر میں نئی گاڑی کو ڈیزائن کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
“یہ۔۔۔ یہ تم نے بنایا ہے۔۔۔؟؟ “
وہ شاکڈ ہوگئے تھے مننان کی ذہانت اور اس ڈیزائن پر۔۔۔
اٹھ کر مننان کو گلے لگا کر انہوں نے مننان کو شاباشی دی تھی جس کا دھیان صرف اپنی والدہ کی طرف تھا۔۔
۔
“آپ نے کردیکھایا ماں۔۔۔ آپ نے آج مجھے ایک نئی زندگی دہ دی ہے۔۔۔ آپ کا اونچا نام میری پہچان ہے ماں۔۔۔ بس اسکے بعد آپ کو اور محنت نہیں کرنے دوں گا۔۔
اب آپ اپنے بیٹے کی کامیابی دیکھیں گی۔۔۔ اس جہاں کی خوشیاں آپ کے قدموں پر بچھا دوں گا۔۔۔
اور نجیب آفندی کا غرور بھی ماں۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔