62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“تم اس لڑکی سے شادی نہیں کرو گے میں نے کہہ دیا ہے ماہیر۔۔”
عمارہ کہتے ہی غصے سے کھڑی ہوئی اور ساتھ باقی سب لوگ بھی کھڑۓے ہوگئے
“ماہیر بہو کیا کہہ رہی ہے۔۔؟”
آفندی صاحب نے اس بار سختی سے پوچھا
“میں منیشہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کرچکا ہوں دادا جی۔۔”
“کیا۔۔؟؟ منیشہ۔۔؟؟”
فضا کے چہرے پر حیرانگی تھی اور وہ اٹھ کر ماہیر کی طرف آئی تھی
“تم باز نہیں آئے ماہیر اور کتنی لڑکیوں کی زندگیاں برباد کرو گے۔۔؟ منیشہ کو تو چھوڑ دو۔۔”
“فضا پھوپھو۔۔ میں اس سے پیار کرتا ہوں۔۔۔”
فضا کا ری ایکشن سب سے زیادہ حیران کن تھا جب اس نے ماہیر کے منہ پر تھپڑ دہ مارا تھا
“جھوٹ مت بولو۔۔ اس معصوم کو تو بخش دو۔۔”
“پر میں اس سے پیار کرنے لگا ہوں۔۔۔”
وہ چلایا تھا
“تمہیں پیار کرنے کے لیے وہ فٹیچر ہی ملی تھی ماہیر۔۔؟ بس کر جاؤ۔۔ پہلے تمہارے ڈیڈ اور اب تم۔۔؟؟ مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ لوگ ہی سمجھائیں۔۔”
“ماہیر میں اس شادی کی اجازت نہیں دوں گا۔۔ اور نہ ہی سٹیٹس سے نیچے کسی لڑکی کو اس گھر میں آنے کی اجازت دوں گا۔۔”
آفندی صاحب کے فیصلے پر سب نے ہاں میں سر ہلایا تھا جبکہ فضا اپنے والد کو دیکھتی رہ گئی تھی۔۔
سچائی جاننے سے پہلے وہ بھی تو اس بچی کو ایسے ہی ناموں سے پکارتی تھی۔۔آج جب معلوم ہوا کہ اپنا خون ہے تو ممتا جاگ گئی اسکی۔۔۔
۔
“آپ لوگ سمجھ کیوں نہیں رہے پھوپھو آپ تو ہمیشہ مجھے سپورٹ کرتی آئی ہیں میں تو بیٹوں جیسا رہا آج کیوں اپنے بیٹے پر یقین نہیں کررہی ہیں آپ۔۔؟؟”
۔
اور فضا لا جی اس وقت چاہ رہا تھا کہ وہ ایک اور تھپڑ مارے ماہیر کو۔۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ماہیر۔۔؟ اور مجھ سے امید رکھ رہے ہو کہ میں تمہیں سپورٹ کروں گی۔۔؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ ایک بار پھر سوچ لیں نسواء۔۔ مجھے یہ سب غلط لگ رہا ہے۔۔”
“کمال ہے نجیب۔۔ جس بیٹے کو سینے سے لگا کر رکھا جسے پیار کیا۔۔ جو آپ کا لاڈلا رہا آج اپنی جائیداد دیتے ہوئے آپ اتنا گھبرا رہے۔۔”
“نسواء۔۔”
وہ اٹھ کر بالکونی کی طرف چلے گئے تھے۔۔ہوٹل کے اس سوئٹ میں وہ پچھلے ایک گھنٹے سے موجود تھے ٹیبل پر پڑا بھی کھانا ٹھنڈا پڑ گیا تھا
اور وہ بکھرے کاغذات اس بات کا ثبوت تھے کہ وہاں ان دونوں میں بحث مباحثہ حد سے زیادہ تجاوز کرگیا تھا۔۔
۔
“آپ جانتی ہیں وہ میرا بیٹا نہیں میرا خون نہیں ہے۔۔ ڈیم اِٹ پھر کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑک دیتی ہیں آپ۔۔”
۔
“نہیں میں بار بار کہہ کر اپنی حیرانگی کا اظہارکرتی ہوں نجیب۔۔۔ جو آپ کا خون تھا آپ کو بیٹا تھا اسے آپ نے دھتکار دیا۔۔ اور جس بیٹے کو سینے سے لگا کر رکھا معلوم ہوا کہ وہ تو خون ہی نہیں آپ کا۔۔
حیرت ہوئی نجیب پر پھر سمجھ آئی کہ مکافات اسے ہی تو کہتے ہیں نہ۔۔؟؟”
نسواء نجیب کے پاس جا کر کھڑی ہوچکی تھی اسکی بیک رئیلنگ کی طرف تھی اور اسکے ہاتھ نجیب کے چہرے پر جب اس نے آہستہ سے نجیب کے کالر کو ٹھیک کرتے ہوئے اسکی توجہ حاصل کی تھی
“مکافات اسے ہی کہتے ہیں نجیب بیوی کی وفا کی قدر نہ کی سوتن لاکر بٹھا دی
بیٹے کی محبت کو نفرت سمجھ لیا اور اپنے ہی خاندان کے سامنے اس پانچ سال کے بچے کو اپنی خوشیوں کا دشمن بنا دیا۔۔
آپ نے ہمیں ٹھکرا کر جنہیں اپنایا آج وہ آپ کے ہوکر بھی آپ کے نہیں۔۔۔
کیا یہ مکافات نہیں۔۔؟؟ یہی مکافات ہے نجیب۔۔ اور جب تک زندہ رہوں گی جب تک آپ سے سامنا ہوتا رہے گا کوشش کرتی رہوں گی کہ آپ کو یاد دلاتی رہوں۔۔”
وہ جانے لگی تھی جب نجیب نے اسے واپس وہیں اسی رئیلنگ کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔
۔
“میں اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوں نسواء۔۔ دوسری بیوی کی بےوفائی سے پہلے آپ سے جُدائی کے ان سالوں نے مجھے بتا دیا تھا کہ میں سب پا کر بھی خالی ہاتھ ہوں۔۔
میرے اپنوں کا ہونا بھی وہ خلش پوری نہ کرسکا جو آپ کے مننان کے جانے سے اس دل میں میری زندگی میں گھر کر گئی تھی۔۔
میں اپنے مکافات کو پہنچ گیا ہوں۔۔ سزا اس قدر مل چکی ہے اب اور کیا چاہتی ہیں آپ بتا دیجئے میں وہ بھی کر گزروں گا۔۔؟؟”
نسواء کے کندھے پر سر رکھ دیا تھا انہوں نے بات مکمل کرنے کے بعد۔۔۔
۔
“کمپنی کا ‘ سی ای او ‘ بنا دیں ماہیر کو۔۔ اپنی جائیداد منیشہ کے نام کردیں تاکہ آپ کی فیملی میں وہ ایک غریب یتیم نہ سمجھی جائے تاکہ آپ کا بیٹا ماہیر اسے سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھے۔۔
وہ اندر کاغذات پر سائن کردیں۔۔ مجھے بس یہی چاہیے۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر خود کو نجیب کی گرفت سے آزاد کروا چکی تھی اس نے واپس جانے کے لیے قدم بڑھائے تو نجیب کی بات نے اسے شاک کردیا۔۔
“مننان ملا تھا مجھ سے۔۔ اس نےکہا وہ مجھے سب بھلا کر اپنا لے گا۔۔ اگر میں ماہیر سے شادی روک دوں منیشہ کی۔۔۔نسواء۔۔۔ میں۔۔ یہ شادی روکنا چاہتا ہوں۔۔ میں ماہیر کو سمجھا لوں گا۔۔آپ۔۔۔”
“پھر تو آپ کو جلدی اس شادی کو کروانا چاہیے۔۔۔ مننان نجیب آفندی کو اپنی اوقات سمجھ آجانی چاہیے کہ کسی عورت کی محبت ٹھکرا کر اسے ذلیل کروا کر اگر آپ اسکے واپس آنے کی امید رکھتے ہو تو انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔
میں چاہتی ہوں ایسے مردوں کا انجام ایسا ہونا چاہیے کہ انکی محبت کوئی اور اپنا لے۔۔۔”
۔
وہ ایک ہی بات میں بیٹے اور باپ کو انکی جگہ دیکھا گئی تھی۔۔۔
۔
“میں برداشت نہیں کرپارہا آپ کی جُدائی نسواء تو میرا بیٹا کیسے برداشت کرسکے گا۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دادا جان پلیز میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا مجھے ایسا کرنے پر مجبور نہ کریں۔۔”
“میں مجبور نہیں کررہا فیصلہ سنا رہا ہوں۔۔۔ماہیر تم اس لڑکی سے۔۔”
“ماہیر اسی لڑکی سے شادی کرے گا ڈیڈ۔۔ میں اجازت دیتا ہوں اس بات کی۔۔۔ اور
کمپنی کا ‘سی ای او ‘ میں ماہیر کو بنا چکا ہوں۔۔۔ آپ سب تیاریاں کریں شادی کی۔۔۔”
وہ فائل ماہیر کے ہاتھ میں پکڑا کر نجیب صاحب اپنے روم کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔
اپنے کزنز کو غصے میں اپنے والدین کو شاک چھوڑ کر۔۔
ماہیر وہیں کھڑا دیکھتا رہ گیا تھا۔۔اور بھاگتے ہوئے نجیب کے پیچھے بھاگا تھا
“تھینک یو۔۔۔ تھینک یو سو مچ ڈیڈ۔۔۔آپ گریٹ ہیں۔۔”
سیڑھیوں پر ہی نجیب کے گلے لگنے کے بعد گال پر بوسہ دے کر اس نے واپس فائل نجیب کو پکڑا دی تھی
“ڈیڈ بس منیشہ کا ساتھ چاہیے۔۔ تھینک یو۔۔ میں ابھی اسے بتا کر آیا۔۔۔”
وہ بھاگتا ہوا پرجوش انداز میں گھر سے باہر چلا گیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ جیسے ہی گھر داخل ہوئی گپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ہال میں سینٹر ٹیبل پر ایک لیمپ آن تھا جس کی ہلکی سی روشنی اس شخص کی موجودگی پتہ دہ رہی تھی۔۔ نسواء پہچان گئی تھی اور اس کی موجود کو نظر انداز کر جب وہ اوپر اپنے روم کی طرف جانے لگی تو ایک دم سے ہال کی لائٹس آن ہوگئی تھی۔۔۔
“کہاں سے آرہی ہیں آپ ماں۔۔؟ پورا دن انتظار کرتا رہا میں۔۔”
“میں نے کہا تھا انتظار کرنے کو۔۔؟؟ راستہ چھوڑو۔۔”
“میں پریشان ہورہا تھا ماں۔۔آپ میرا نمبر بھی نہیں اٹھا رہی تھی حورب کوبھی معلوم نہیں تھا آپ کہاں ہیں۔۔”
نسواء کے ہاتھ پکڑنا چاہا تو وہ دو قدم پیچھے ہوگئی اور اب اس نے چلتی لائٹس میں اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا ٹائی گلے میں لٹکائی ہوئی تھی شرٹ کے پہلے دو بٹن اوپن تھے بال بکھرے ہوئے تھے آنکھیں ایسے تھی جیسے تھکن سے چور
اسکی ممتا نے جوش مارنے کی کوشش کی ہاتھ بھی اٹھا مننان کے چہرے پر رکھنے کے لیے پر منیشہ کا چہرہ سامنے آتے ہی ہاتھ پیچھے کرلیا تھا اس نے۔۔
“ماں۔۔ایسے کیا دیکھ رہی ہیں۔۔؟”
“دیکھ رہی ہوں تمہیں احساس بھی ہے میری غیرموجودگی کا۔؟ پریشان بھی لگ رہے ہو۔۔؟؟”
“آپ جانتی ہیں ماں میں کتنی کئیر۔۔۔”
“پلیز ڈونٹ کمپلیٹ دس سنٹینس مسٹر مننان۔۔ آپ کی کئیر احساس دیکھ لیا تھا جب اپنی ماں کی پسند کو ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا تھا۔۔۔
مجھے سب بتا دیا تھا آپکے ایکشنز نے۔۔۔اور اب آپ بھی سن لیں آپ نے منیشہ کو نہیں مجھے نکال باہر کیا تھا اپنی زندگی سے۔۔۔”
“ماں پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔”
مننان گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔۔ماں کے ہاتھوں کو بار بار آنکھوں پر لگا کر وہ معافی مانگنے لگا تو نسواء کا دل بھی موم کی مانند پگھلنے لگا
“ماں میں اسے کسی اور سے شادی۔۔۔”
“ڈونٹ یو ڈیرھ۔۔۔تم جاؤ اپنی بیوی۔۔”
“اووہ تو آپ ہیں وہ گریٹ مدر جنہیں اپنے بیٹے کی زرا فکر نہیں ۔۔؟ پورا دن آپ کی وجہ سے مننان پریشان رہے اور ہمارے سارے پروگرام۔۔”
“شٹ اپ۔۔ لیزا روم میں جاؤ۔۔”
مننان نے زور سے اسکا کا بازو پکڑ کر کہا تھا
“کیوں۔۔؟ انہیں معلوم نہیں پورا پورا دن غائب رہتی کیا کرتی ہیں۔۔؟ کس کے ساتھ ہوتی ہیں۔۔ اور تم پریشان تھے۔۔؟ یہ تو ٹھیک ہیں۔۔اور آپ ۔۔ آپ کو زرا سی بھی شرم۔۔”
مننان کا ہاتھ اٹھ چکا تھا۔۔ مگر عین ٹائم پر نسواء نے اسکے ہاتھ کو روک کر ایک ہی نظر اسے دیکھا تھا
“میں کیا کرتی ہوں کیا نہیں یہ مجھے تمہیں یا تمہارے شوہر کو بتانے یا اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔۔ یہ میری چھت ہے جسکے نیچے تم دونوں ہو اس وقت۔۔۔
اس لیے کمرے میں جاؤ۔۔ مجھے بےوجہ کا شور شرابہ پسند نہیں۔۔”
“ماں۔۔”
پر نسواء اوپر روم میں جاچکی تھی۔۔
“وہ جیسے ہی وہاں سے گئی مننان نے غصے سے لیزا کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا
“تم اپنی زبان بند نہیں کرسکتی تھی۔۔؟ لیزا مجھے کوئی سٹیپ لینے پر مجبور نہ کرو۔۔”
لیزا مننان کے غصے سے ڈر گئی تھی وہ جیسے ہی پیچھے ہوئے ٹیبل سے ٹکرائی تو لیمپ نیچے گر چکا تھا۔۔اور اسی وقت مین گیٹ اوپن ہوا۔۔ حورب فائلز اور لیب کوٹ اٹھائے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
مننان کا غصہ تو جیسے چلا گیا چھوٹی بہن کو دیکھ کر پر لیزا اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا اس بات کا۔۔
“کیا کرو گے مارو گے مجھے۔۔؟؟ آئیں ڈاکٹر حورب دیکھیں میں کس حالت میں ہوں اور آپ کے بھائی صاحب مجھے دھمکی دہ رہے یہ دیکھیں نشان۔۔۔”
انگلیوں کے نشان ہاتھ پر واضح ظاہر ہورہے تھے۔۔ حورب مننان کی طرف دیکھتی ہے تو وہ انگلی کی وارننگ لیزا کو دہ کر چیزیں گراتے ہوئے گھر سے باہر نکل آیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
“نسواء۔۔۔ جیسے آپ نے کہا تھا سب کچھ ویسے ہی ہوا ہے۔۔ میں پھر سے کہتا ہوں نسواء ایک بار کہیں یہ شادی اسی لمحے روک دوں گا۔۔”
گاڑی کا دروازہ کھولے جیسے ہاتھ آگے کیا تھا نجیب نے۔۔ نسواء نے ایک نظر انکی آنکھوں میں دیکھا اور پھر انکے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔
“نسواء ایک بار سوچ لیں۔۔۔”
پر نسواء نجیب کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑے گاڑی سے باہر آگئی تھی وہ لوگ جیسے ہی اس ریڈ کارپٹ پر قدم سے قدم ملا کر چلنا شروع ہوئے بہت سے فلش روشن ہوئے تھے۔۔
اور جب نجیب صاحب نے نسواء کی ویسٹ پر ہاتھ رکھا تو سب کی نظریں ان دونوں کی کلوزنیس پر مرکوز ہوچکی تھی
“بس نکاح شروع ہونے والا ہے آپ بیٹھے میں کچھ جوس لیکر آیا۔۔ دوائی کھا لی تھی آپ نے۔۔؟؟”
نجیب جتنی احتیاط سے نسواء کو مین ہال میں لائے تھے سب حیران تھے انکی یہ سائیڈ دیکھ کر۔۔
“میں اس نکاح سے پہلے آپ کے بیٹے ماہیر سے کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں نجیب۔۔”
“نسواء۔۔ میں اس بات کی اجازت نہیں دوں گا۔۔ وہ بدتمیزی کرسکتا ہے۔۔اور پلیز میرا بیٹا مت کہیں اسے۔۔”
“اوکے فائن۔۔ میں خود ڈھونڈ لوں گی۔۔۔”
وہ جانے لگی تھی جب نجیب نے اپنی اوڑھ کھینچا اور ہیلز زرا سی سلپ ہوئی وہ اگلے لمحے نجیب کی بانہوں میں تھی۔۔
انکا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا جب نجیب صاحب نے انکے ماتھے سے بال پیچھے کئیے گال پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
اور شیشے کا گلاس ٹوٹنے کی آواز پر نسواء اور شاک ہوئی تھی سب کی نظریں خود پر دیکھ کر۔۔
۔
“نجیب۔۔ سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔”
“اوپر جاکر رائٹ پر روم ہے۔۔ پر یاد رکھئے گا اگر ماہیر نے زرا سی بدتمیزی کی تو میں سارے وعدے بھول جاؤں گا جو آپ سے کئیے اور گھر جائیداد سے نکال باہر کروں گا۔۔۔”
“اوکے۔۔ اب چھوڑیں۔۔۔پلیز۔۔۔”
پر نجیب کی گرفت اور مضبوط ہوئی تھی نسواء کی ویسٹ پر۔۔۔
“مہرون کلر کی اس ساڑھی میں بہت خوبصورت۔۔ بہت ہوٹ لگ رہی ہو۔۔ کوئی دیکھے گا تو کہے گا سنگل ہو۔۔۔ اس لیے اپنے نام کی مہر لگا رہا ہوں نسواء۔۔۔”
ماتھے پر بوسہ دے کر وہ پیچھے ہوگئے تھے اور نسواء جلدی سے بھاگی تھی سب کی حیران کن نظروں سے دور۔۔۔
۔
“نسواء۔۔۔۔”
چہرے پر مسکراہٹ سجائے نجیب کی ہونٹوں نے سرگوشی کی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“موم آئی ایم شاکڈ لائک سیریسلی۔۔؟ آپ یہاں بھائی کو شادی سے روکنے آئی تھی”
“شزا میں نے اپنا فیصلہ بدل دیا ہے۔۔ تمہارے ڈیڈ نے ماہیر کے نام کمپنی کردی ہے۔۔
اب پھر سے ہم لوگوں کی حکمرانی ہوگی اس گھر میں ہمیں اور کیا چاہیے۔۔؟؟”
اور ایک ناک سے وہ لوگ خاموش ہوگئے تھے
“میں ماہیر سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
“نسواء۔۔؟؟ میرے بیٹے سے کیا بات کرنی ہے اگر تم سوچ رہی ہو کہ یہ شادی رکوا دو گی تو تمہاری غلط فہمی ہے۔۔”
“موم پلیز۔۔ آپ دونوں جائیں یہاں سے۔۔۔ مجھے بھی کچھ بات کرنی ہیں ان سے۔۔”
شیروانی کا لاسٹ بٹن بند کرکے وہ ڈریسنگ سے پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
“ماہیر بیٹا تم جانتے نہیں ہو اس عورت نے کیسا جادو کیا تمہارے ڈیڈ پر اب تمہیں منع کرے گی ۔۔”
“موم۔۔۔”
آواز میں سختی آئی تو عمارہ منہ بنا کر اپنی بیٹی کو باہر لے گئی تھی
“مجھے تم سے۔۔”
“میں جانتا ہوں کیا بات کرنے آئی ہیں آپ۔۔ بے فکر رہے جو آپ کے بیٹے نے آپ کی بیٹی جیسی لڑکی ک ساتھ کیا میں ویسا کچھ نہیں کروں گا۔۔”
نسواء شاکڈ ہوگئی تھی
اور ماہیر نے ہاتھ پکر کر اسے بیڈ پر بیٹھنے کا کہا تھا۔۔
“آپ حیران ہورہی ہوں گی۔۔سوچ رہی ہوں گی کہ میں جائیداد کی لالچ میں یہ کررہا یا آپ کے بیٹے سے بدلہ لینے کے لیے کررہا۔۔؟؟
منیشہ سے نزدیکی میں نے بدلہ لینے کی غرض سے بڑھائی تھی۔۔۔پر جس طرح آپ کے بیٹے نے اسے ٹھکرایا۔۔ اسے خواب دیکھا کر ان خوابوں کا خون کردیا۔۔
وہ میری برداشت سے باہر تھا۔۔۔ اس رات مجھے اس لڑکی سے بےلوث محبت ہوگئی تھی۔۔۔اور میں نے قسم کھا لی کہ اب میں کسی کو بھی اسے تکلیف پہنچانے نہیں دوں گا۔۔”
وہ چپ چاپ سنتی رہ گئی تھی۔۔۔اسے آج وہ ماہیر عیاش بدتمیز بدلحاظ نہیں لگاتھا۔۔۔
اور جب ماہیر کی بات ختم ہوئی تو وہ بھی جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی
“میں جانتا ہوں آپ نے یہ سب کروایا یہ شاندار شادی یہ ‘سی ای او’ کی کرسی ورنہ ڈیڈ۔۔۔
میں ان کا بیٹا نہیں ہوں میں یہ بھی جان چکا ہوں۔۔شاید۔۔ یہی وجہ تھی کہ اب میں ان رشتوں کے دھوکوں سے کوسوں دور جانا چاہتا منیشہ کے ساتھ جس کا دل چاند کی اس سفیدچاندنی کی طرح صاف ہے۔۔۔
اور میں یہ بھی جان گیا ہوں۔۔۔ کہ آپ نے منیشہ کو بیٹیوں کی طرح چاہا۔۔
اس لیے آپ کو اتنی تسلی دہ رہا ہوں کہ بےفکر ہوجائیں میری طرف سے۔۔
میں اللہ کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ میرا دل میری نیت میرے ارادے بالکل نیک ہے اسے لیکر۔۔۔”
۔
اور نسواء آنکھ سے آنسو صاف کئیے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“کاش مننان آج تم اس بچے کی جگہ ہوتے۔۔۔ کاش۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔”
مولوی صاحب کے دوسری بار پوچھنے پر بھی منیشہ کی طرف سے خاموشی تھی اس خاموشی میں ان دو لوگوں کی جان اٹکی ہوئی تھی ایک جو اسکے سامنے تھا ایک وہ جو دور کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا
“نوووو پلیز۔۔۔۔”
مننان کے دل میں ایک امید جاگی تھی
“منیشہ۔۔۔”
“قبول ہے۔۔۔”
ماہیر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے منیشہ نے ایک بار نہیں تین بار وہ دو بول دہرائے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان رک جاؤ بیٹا۔۔۔”
“زندگی میں پہلی بار کچھ مانگا تھا آپ سے ڈیڈ۔۔۔”
اسکے بھاری لہجے نے نجیب کے قدم روکے تھے
“مننان بیٹا۔۔۔میرے بس میں کچھ نہیں تھا۔۔”
“جب مجھے میری ماں کو گھر سے نکال رہے تھے تب بس میں سب کچھ تھا۔۔؟؟
پچھلے سال سے معافیاں مانگ رہے گڑگڑا رہے تب سب کچھ تھا بس میں۔۔؟؟
اب جب میں نے کچھ مانگ ہی لیا تھا تو بس میں نہیں تھا۔۔؟؟
یو نو وٹ۔۔؟؟
جو میں پہلے نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اب کروں گا۔۔۔
مسٹر نجیب آفندی۔۔۔ دیکھیں گے آپ اور یہ دنیا والے۔۔۔”
وہ جاتے جاتے رکا تھا
“جس بیٹے کو وہ لڑکی دی ہے میں اس سے بھی چھین لوں گا۔۔ یہ میرا وعدہ ہے۔۔
پر اس قابل نہیں چھوڑوں گا آپ لوگوں کو۔۔۔ جائیں اپنے خاندان کے ساتھ یہ خوشیاں منا لیں۔۔
کیونکہ یہ آخری خوش ہوگی جو یہ آفندی گھرانہ دیکھے گا۔۔”
۔
“مننان بیٹا وہ گناہ نہ کر بیٹھنا جو میں نے کئیے تھے۔۔۔پچھتاوے جتنا وقت بھی میسر نہیں آئے گا۔۔۔”
۔
پر ان کی بات ان سنی کرکے مننان چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔