Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
“مجھے دھوکا دینے والے لوگوں کو ایک زندگی بھی پچھتانے کے لیے کم پڑ جاتی ہے مس منیشہ۔۔ابھی تمہارا پچھتاوا شروع ہوگا۔۔۔”
۔
“سر یہ وہ ڈیٹیکٹو کی انفارمیشن ہے۔۔جو آپ نے مانگی تھی۔۔”
“ہمم اب تم جا سکتے ہو۔۔۔اور اس ڈیٹیکٹو کو اندر بھیج دو۔۔اور مس منیشہ کو کہو دو کپ چائے لیکر آجائیں میرے کیبن میں۔۔”
وہ کانفرنس روم سے ڈائیرکٹ کیبن کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“سر آپ کو جو ڈاکومنٹس چاہیے تھے وہ یہ رہے۔۔ وہ بلڈ ریلیٹڈ ہیں مسٹر نجیب آفندی کے
انکی بہن کی پہلی اولاد۔۔ اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں مس منیشہ یہ سب جانتی تھی اور شاید وہ کسی پلان کے تحت۔۔”
ڈیٹیکٹو کی بات ختم نہ ہوئی تھی کہ کیبن کا دروازہ ناک ہوا مننان نے اندر آنے کا کہا تو وہ منیشہ کو دیکھ کر حیران ہوا تھا اور پھر مننان کی طرف دیکھا
“آپ اپنی رپورٹ جاری رکھیں۔۔”
“سر۔۔ یہ کلائنٹ نے جو سب سے بڑی بات آپ سے چھپائی وہ جان کر آپ شاید اپنے غصے پر کنٹرول نہ کر پائیں۔۔۔اور وہ کیا ہے۔۔؟؟”
“سر شوگر کتنی۔۔؟؟”
“مس منیشہ اتنی کافی ہے اب آپ جاسکتی ہیں۔۔”
مننان کو ایک دم سے جلدی ہوئی تھی وہ سچ جاننے کی
“یہاں تک میرا شک سہی ثابت ہواکیا ماں کو بھی دھوکا دہ رہی تھی یہ۔۔؟؟ کیوں ہے اتنی منافقت آفندی خون میں۔۔؟”
وہ اٹھ کر ونڈو کی طرف چلا گیا تھا
“کیا سچ ہے۔۔؟؟”
“سر۔۔ آپ کی موم۔۔۔ ان کا کینسر واپس آچکا ہے۔۔ اور یہ بات بھی مس منیشہ کو معلوم تھی وہ کافی بار میم کو ہسپتال لے کر جاچکی ہیں۔۔”
“بچ۔۔۔”
مننان نے ونڈو کے شیشے پر مکا مار کر توڑ دیا تھا۔۔۔
۔
سب کچھ یہاں رکھ کر چلے جاؤ۔۔۔”
کیبن کا دروازہ جیسے ہی بند ہوا تھا مننان نے دونوں ہاتھ ڈیسک پر مارے تھے وہ سب تصاویر سب ڈاکومنٹ پورے روم میں بکھر گئے تھے
۔
“میں جتنا سوچتا تھا کہ تم الگ ہو سب سے تم صاف دل کی ہے پر تم تو سب سے بدتر نکلی منیشہ۔۔ اب دیکھو تم کرتا کیا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔
میری ماں کو انکی بیماری کا مجھ سے چھپانے کو بھی تم نے کہا ہوگا۔۔ کچھ تو ہے جو انہوں نے اپنے نام نہاد شوہر کو بتا دیا تمہیں بتا دیا پر مجھے اور حورب کو نہ بتا سکی وہ۔۔؟؟”
ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔۔ جب پھر سے کیبن کا ڈور ناک ہوا۔۔
“مجھے کسی سے بات نہیں کرنی جائیں مس منیشہ ابھی آپ کی ضرورت نہیں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء۔۔۔”
بند آنکھوں سے جب بستر کی دوسر سائیڈ پر ہاتھ رکھا تو جگہ خالی تھی انکی آنکھ کھل گئی
“نسواء۔۔؟؟”
نہ وہ روم میں موجود تھی نہ انکا سیل فون سائیڈ ٹیبل پر تھا نہ ہی پرس اور وہ لگیج بھی نہیں تھا۔۔۔
۔
بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کی تو انہیں ایک ایسی ہی رات یاد آگئی تھی جب وہ دوسری شادی کے لیے اپنی بیوی کو ایسے ہی سوتا چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔۔
اب وہی سب انکے ساتھ ہورہا تھا تو انہیں تکلیف ہورہی تھی
“وہ کونسا کسی اور کے لیے مجھے چھوڑ کر گئی ہے۔۔ میں اتنا پریشان کیوں ہورہا ہوں۔۔؟؟ نسواء میری ہیں۔۔پر حزیفہ۔۔؟؟”
حزیفہ کا نام ذہن میں آتے اسکی ساری نیند اڑ گئی تھی۔۔۔
وہ کمرے سے جیسے ہی نکلا باہر ایک گارڈ کھڑا تھا جس نے نجیب کو باہر جانے سے روک دیا تھا
“سر نسواء میم کا حکم۔۔۔”
“اسے فکر ہے میری۔۔ میں اسے اس حیوان کے ساتھ ایسے نہیں چھوڑ سکتا ان تینوں سے بچانا ہوگا مجھے اپنے بچوں کو اپنی بیوی کو۔۔”
نجیب جلدی جلدی سے گارڈ کو پیچھے دھکیل کر نیچے اترا تھا اور جیسے ہی باہر جانے لگا جب والد نے نجیب کا راستہ روکا۔۔
“نجیب بیٹا ڈنر کرو ساتھ بیٹھ کر اس وقت باہر مت جاؤ،، آگے ہی تم اتنے بڑے حملے سے بچے ہو۔۔”
“ڈیڈ باہر سے زیادہ خطرہ مجھے یہاں ہے۔۔ اگر یہاں محفوظ ہوتا تو کبھی میری بیوی اس گارڈ کی ڈیوٹی نہ لگا کر جاتی یہاں۔۔”
۔
“ڈیڈ رک جائیں۔۔”
اس بار شزا نے راستہ روکا تھا۔۔ ڈیڈ لفظ نجیب کیسے خود کو ایک وقت نسواء سے زیادہ کامیاب سمجھنے لگا تھا اور آج وہی لفظ وہی بچے اسے زہر لگنے لگے تھے
“آئندہ میرا راستہ نہ روکنا۔۔۔”
۔
۔
وہ ڈرائیور کو ساتھ لئیے نسواء کے گھر تو پہنچ گیا پر وہاں نسواء کو حزیفہ کی گاڑی میں جاتے دیکھ نجیب آفندی خود کو سب ہارتے دیکھا تھا۔۔۔
جسے کچھ گھنٹے پہلے تک یہ یقین تھا کہ وہ بیوی کو جیت گیا ہے بچے بھی پا لے گا۔۔۔
مگر حقیقت تو کچھ اور ہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میم آپ پلیز مننان سر کو بتا دیں۔۔ ان سے مت چھپائیں۔۔ وہ ٹوٹ جائیں گے۔۔”
“میں نہیں بتا سکتی بیٹا۔۔ اور میں اس لیے آفس نہیں آئی کہ تم مجھے یہ باتیں کرکے ڈسٹرب کرو۔۔”
“ٹھیک ہے اگر آپ سر کو نہیں بتا سکتی تو آپ۔۔”
“میں نے کچھ بھی نہیں بتانا۔۔ اب جاؤ یہاں سے۔۔”
“میم۔۔”
نسواء کے اس لہجے پر منیشہ حیران ہوگئی تھی اتنے غصے سے پہلے کبھی اس نے ایسے بات نہ کی تھی اسکے ساتھ۔۔۔
“مس منیشہ جب انہوں نے کہہ دیا کہ آپ چلی جائیں تو جائیے۔۔میں ہینڈل کرلوں گا یہاں سے۔۔”
“جی۔۔”
وہ سر جھکائے چلی گئی تھی نسواء نے روکنے کی کوشش کی وہ شرمندہ ہوئی تھی اپنی اونچی آواز پر
“جانے دیں ماں۔۔۔ اب زرا ہم ماں بیٹے کی بات ہوجائے۔۔؟؟”
“مننان بیٹا۔۔”
“کب بتا رہی تھی اس بارے میں۔۔؟؟”
جب میڈیکل رپورٹ سامنے رکھی تو نسوا نے آنکھیں بند کر لی تھی
“آنکھیں بند لینے سے سچائی بدل نہیں جاتی۔۔ منہ پھیر لینے آپ مجھے جھٹلا نہیں سکتی ماں یہاں دیکھیں میری طرف۔۔۔
یہ دوسری بار ہوا ہے کیوں آپ یہ ثابت کرنے پر تلی ہیں کہ میں ایک نکما بیٹا ہوں آپ کا۔۔؟”
“مننان بیٹا پلیز ایسا مت سوچو میں تمہیں اور حورب کو پریشان۔۔”
“جب خاموشی سے چلی جاتی تو کیا ہم پریشان نہ ہوتے ہم دونوں کوستے نہیں خود کو۔۔؟ ہم کیا زندہ رہ لیتے آپ کے بغیر ماں۔؟ ہم بھی مر جاتے۔۔”
“اللہ نہ کرے میرے بچے۔۔”
مننان کا چہرہ ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی تو مننان پیچھے ہوگیا تھا۔۔
“مننان بیٹا پلیز ماں کو معاف کردو۔۔ میں بتانے والی تھی۔۔”
“میں ایسے جانے نہیں دوں گا۔۔ بس بہت ہوگئی آپ کی من مانیاں۔۔”
“میں ٹھیک ہوں مننان۔۔۔”
“وہ تو ڈاکٹر ڈیسائیڈ کریں گے اسی ہفتے کی فلائٹ ہے آپ کی آپ یہاں سے جارہی ہیں۔۔
اگر چاہتی ہیں میں ناراض نہ ہوں تو آپ کو میری ہر بات کو ماننا ہوگا۔۔حورب ساتھ جائے گی آپ کے بس میں بھی کچھ ضروری کام نمٹا کر وہی آجاؤں گا۔۔”
نسواء کا منہ شاک سے کھل گیا تھا سب کچھ تو تہہ کر چکا تھا ان کا بیٹا۔۔ وہ جو علاج سے دور بھاگ رہی تھی وہ بھی تہہ کرلیا تھا اس نے۔۔۔انہوں نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔مننان کیبن کے ڈور ہینڈل پر ہاتھ رکھے کھولنے لگا تھا جب ماں کی بات نے اسکے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی
“اگر تم چاہتے ہو میں خوشی خوشی علاج کرواؤں تو تم میری آخری خواہش سمجھ کر اس خواہش کو پورا کردو۔۔۔ منیشہ سے شادی کر لو۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ اس مڈل کلاس اس خو۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکا تھا۔۔
“بس یہ شرط مان لو میں بھی جانے کو تیار ہوجاؤں گی۔۔۔”
“یہی آخری فیصلہ ہے تو یہی سہی ماں۔۔ آپ کے لیے میری جان بھی قربان ہے۔۔
وہ مان جائے گی۔۔تو اسی ہفتے منگنی رکھ دیں باقی آپ کے آنے کے بعد سہی ماں اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کرنے والا۔۔”
“تھینک یو سو مچ بیٹا تم نے مجھے بہت خوش کردیا ہے۔۔۔بہت خوش کردیا۔۔”
نسواء اٹھ کر بیٹےکے پاس گئی تھی ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔
۔
انہیں کیا معلوم تھا جب وہ واپس آئیں گی تو جتنی محبت آج بیٹے سے ہورہی اتنی ہی نفرت کل اس سے کرنے لگی گی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کو نہیں لگتا ابھی آپ ٹھیک نہیں آفس نہ آتے۔۔”
“میں ٹھیک ہوں آپ اندر آئیں نسواء کیا منگواؤں چائےجوس۔۔؟”
انہوں نے نسواء کا ہاتھ پکڑنا چاہا جس پر نسواء نے ایٹیٹوڈ دیتے ہوئے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا
“میں جارہی ہوں یہاں سے نجیب۔۔ آج شام مننان کی منگنی ہے منیشہ کے ساتھ سوچا آپ کو بتا دوں۔۔”
نجیب کی خوشی مدھم پڑ گئی تھی
“کیا بیٹے کی خوشی۔۔”
“وللہ۔۔عالم ایسی بات نہیں۔۔ بیٹھیں۔۔”نسواء جس چئیر پر بیٹھی تھی سامنے والی چئیر پر نجیب بیٹھ گئے تھے
“مجھے لگا تھا خوش ہوں گے۔۔ آج غیر لوگ ہوں گے تو مجھے لگا باپ کو بھی بیٹے کی اس خوشی میں شریک ہونا چاہیے جب سب ہوں گے جب حز۔۔۔”
“جب وہ فادر فیگر ہوگا۔۔؟؟ نسواء کیا سچ میں آپ مجھے بلانا چاہتی ہیں یا آپ چاہتی ہیں میں اپنی بربادیوں کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔۔۔؟؟”
“آپ نے جو سوچنا ہے سوچیں۔۔”
نسواء اٹھ کر جانے لگی تھی جب نجیب نے بازو پکڑ کر کھینچا تھا اور نجیب کی گود میں آگری تھی۔۔
“نجیب۔۔۔آپ کو سٹیچز لگے ہوئے ہیں۔۔”
“درد نہیں ہورہا۔۔ بیرونی زخم کب درد دیتے ہیں جب اندر جب ناسور بن رہا ہو۔۔؟”
نسواء کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے انہوں نے جیسے ہی اسکا چہرہ اپنی طرف کیا تھا نسواء نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
۔
“یہ ناسور بننے سے پہلے زخم تھے نجیب انہیں بہت محبت اور وفا سے پالا آپ نے اب یہ ناسور بن گئے ہیں تو کیا ہوا۔۔؟؟ آپ کی محنت کی نشانیاں ہیں اور۔۔۔”
نسواء کے ہونٹوں پر انگلیاں رکھ کر چپ کروا دیا تھا نجیب نے
“آپ کو معلوم ہے بہت زیادہ بولنے کی عادت ہو گئی ہے آپ کو۔۔جب دیکھو۔۔۔
بولتی رہتی ہیں۔۔ تلخ بولتی ہیں خوبصورت عورت پر اتنی تیز زبان زیب نہیں دیتی۔۔”
نسواء کو چھیرتے ہوئے جیسے ہی کہا نسواء نے بھی آنکھیں دیکھا کر اٹھنے کی کوشش کی۔۔
“نجیب چھوڑیں مجھے جانا ہے۔۔”
“چھوڑ دوں گا۔۔ پر بتانا ہوگا کہاں جارہی تاکہ میں بھی چھٹی کی لئیو دہ کر پیچھے پیچھے آسکوں۔۔۔”
“چھٹی کی لئیو۔۔؟؟ سیریسلی۔۔۔؟؟”
نجیب کے چہرے کی معصومیت دیکھ کر اسکا غصہ اڑا لے گئی تھی
“ہمم چھٹی۔۔۔ میڈم نسواء۔۔ باس بہت سخت ہیں۔۔”
“سیریسلی نجیب۔۔؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔۔”
وہ ہنسی تو نجیب خود کو روک نہیں پایا تھا آگے بڑھنے سے
“نجیب اننف۔۔۔”
“ایم سوری۔۔۔ یہ کچھ لمحات ہی تو ہیں میرے پاس نسواء۔۔۔ جنہیں میں نے گنوا دیا اب جانے سے پہلے اسے تو مت چھینے۔۔۔”
“نجیب میری بات۔۔۔”
نجیب نے کوئی بات نہ سنی تھی۔۔۔ چہرے ک درمیان فاصلہ کم ہوتا گیا آنکھوں میں آنکھوں مرکوز تھی چہرے پر ہاتھ رکھے وہ نسواء کے لبوں پر اپنے لب رکھنے والے تھے جب ماتھے پر بوسہ دے کر انہوں نے نسواء کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا۔۔۔
خود کو بھی حیران کیا تھا اور اپنی بیوی کو بھی
“آپ کی قربت میں گزرا ہر لمحہ قیمتی آپ کی آغوش میں لپٹے ہر پل انمول ہے نسواء۔۔
سمجھ نہیں پایا کہ اتنی خوبصورت باوفا بیوی کے ہوتے ہوئے میں ہرجائی کیسے ہوگیا۔۔۔
اور جب سمجھ آئی تو اتنی دیر ہوگئی تھی مجھے۔۔۔”
نسواء خاموشی سے سب سن رہی تھی۔۔ وہ جانے سے پہلے ان آخری لمحات کو اپنے دل میں قید کرنا چاہتی کیونکہ وہ جانتی تھی جس علاج کے لیے وہ جارہی اس میں شاید ہیاسکی واپسی ہو۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“واااہ۔۔۔ منیشہ بھابھی۔۔۔ آپ تو بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔مننان بھائی فلیٹ ہی نہ ہوجائیں۔۔”
منیشہ نے شرما کر سر جھکا لیا تھا۔۔
“مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا حورب تمہارے بھائی نے اس شادی کے لیے ہاں کیسے کردی میرا مطلب ہے۔۔کہ کہاں میں ایک مڈل کلاس۔۔”
“شش۔۔۔ اب تم ایسی کوئی بات نہیں کرو گی اور یہ بھی مت سوچنا کہ انہیں کسی نے مجبور کیا۔۔ کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔ بھائی نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا۔۔۔”
۔
“چلو بیٹا جلدی سے منیشہ کو نیچے لے آؤ۔۔۔۔”
۔
منیشہ جیسے ہی حورب کے ساتھ سیڑھیاں اتر کر نیچے ارہی تھی مننان اپنی نگاہیں نہیں ہٹا پایا تھا اس پر سے۔۔ پر گیٹ پر نجیب آفندی کو آتے دیکھ اس نے ایک نظر اسے اور پھر ایک نظر منیشہ کو دیکھا تھا
“بہت جلدی آپ کو بہت بڑا سرپرائز دوں گا مسٹر نجیب آفندی بس میری ماں کو جانے دیجئے۔۔”
۔
“بیٹا پلیز ریلیکس۔۔”
“آپ نے بلایا انہیں۔۔؟؟ ماں میں نے ایک شرط مان لی اب۔۔”
“پلیز مننان۔۔”
مننان نے گہرا سانس بھر کر ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔
“موسٹ ویلکم مسٹر نجیب آفندی۔۔۔”
حزیفہ ایسے خوش ہوکر نجیب سے ملا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور نجیب نے بھی کچھ ظاہر ہونے نہیں دیا تھا۔۔۔ جب تک اسکی بیوی بچے اس شخص کی دسترس میں تھے وہ تب تک منہ نہیں کھولنا چاہتا تھا اپنا۔۔۔
۔
“تھینک یو۔۔۔ یہ آپ کے لیے نسواء۔۔”
گلاب کے پھول نسواء کی جانب بڑھاتے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔۔
“آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں نسواء۔۔ اینڈ یو ٹو بیٹا۔۔”
حورب کے سر پر پیار دے کر وہ مننان اور منیشہ کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو اللہ جوڑی سلامت رکھے۔۔”
“آپ میری ماں کے سامنے یہ ااچھے بننے کی ایکٹنگ کیا کریں سر وہ بیوقوف بن جاتی ہیں اس لیے تو ہر کوئی انکی محبت کا فائدہ اٹھا لیتا ہے۔۔ کیوں مس منیشہ۔۔؟؟”
منیشہ نے چونک کر مننان کو دیکھا تھا۔۔
“ایکسکئیوز مئ۔۔”
“ابھی کہاں۔۔؟؟ ابھی رنگ پہنانی ہ یہیں رک جاؤ۔۔ ۔۔”
“یہ کوئی طریقہ نہیں اپنی منگیتر سے بات کرنے کا۔۔بیٹا۔۔”
“ہونے والی منگیتر اور آپ رہنے دیں آپ نے جو عزتیں اپنی بیوی کو بخشی تھی میں واقف ہوں۔۔”
“ہممم ٹیک کئیر۔۔۔”
منیشہ کے سر پر پیار دئیے وہ واپس نسواء کی طرف بڑھے تھے۔۔اور جب نسواء کو حزیفہ اور اسکی فیملی کے ساتھ مشغول دیکھا تو وہ وہاں س باہر چلے گئے تھے۔۔
اس وعدے ک ساتھ کے وہ واپس ضرور آئیں گے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔”
۔
“شہریار سر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔”
“آج مننان سر کی شادی ہے۔۔ منیشہ میرے ساتھ چلئیے اور روک لیجئے۔۔ نہ حورب میڈم کا فون مل رہا نہ نسواء میڈم کا۔۔۔”
وہ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی جلدی سے۔۔۔ گاڑی اس گھر کی طرف جارہی تھی جو روشنیوں سے سج دھج رہا تھا۔۔ شہنائیوں کی آواز دور دور تک سنائی دہ رہی تھی جب گاڑی رکی تو مہمانوں کے جھرمٹ سے وہ ہوتے ہوئے اوپر روم تک جانے لگی پر ہال میں ٹھیک اسی جگہ اسکے قدم رکے جہاں اسکی منگنی ہوئی تھی مننان سے اس نے بےساختہ سامنے وال پر اسی فوٹو کو دیکھنا چاہا جو انکی منگنی کی تھی اب وہ تصویر بھی وہاں موجود نہ تھی۔۔
۔
وہ روم میں داخل ہوتے ہی ایک ہی بات کہتی ہے۔۔۔
“آپ میرے ساتھ یہ سب کیسے کرسکتے ہیں مننان۔۔؟”
اسکے الفاظ دم توڑ گئے تھے جب مننان اپنی شیروانی کے بٹن بند کرتے ہوئے پیچھے مڑا تھا
منیشہ کا لہجہ دھیما پڑ گیا تھا
“کیوں نہیں کرسکتا میں یہ شادی۔۔؟؟ آفٹر آل لیزا میری محبت ہے۔۔میرا سٹیٹس ہے میرا لیول ہے۔۔۔”
“تو میں کیا ہوں مننان۔۔؟؟”
۔
“آپ یہ شادی مت کریں مننان۔۔۔ میری زندگی میں وہ واحد امید ہیں آپ جس نے مجھے لڑکھڑانے نہیں دیا۔۔۔
بہت محبت ہوگئی ہے مجھے آپ سے۔۔۔ پلیز یہ شادی مت کریں۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں بیچ منجدھاڑ میں چھوڑ کر مت جائیں مجھے۔۔۔”
وہ گھٹنوں کےبل جیسے ہی گری تھی مننان نے رخ موڑ لیا تھا
“کسی ڈسپریٹ با۔۔بازاری عورت سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہی ہو تم مجھے اس وقت۔۔ چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔ میں آج ہی نکاح کررہا ہوں لیزا سے۔۔۔ اور۔۔۔ کل سے تمہیں آفس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
۔
“میں آپ سے کیا کہہ رہی ہوں مننان آپ کو سمجھ نہیں آرہی۔۔؟؟”
پر مننان کو صرف اپنی نفرت نظر ارہی تھی منیشہ میں اس خاندان کی شکل اور دشمنی کے اس بدلے نے اسے پتھر بنا دیا تھا اس وقت منیشہ کا ہاتھ پکڑے وہ بیڈروم سے باہر لے گیا تھا۔۔۔
۔
نکل جاؤ۔۔ اور بھول جاؤ اس منگنی کو۔۔”
“اور وہ ملاقاتیں۔۔؟ آپ کی وہ باتیں۔۔وہ سب کچھ۔۔؟؟”
“تمہیں کیا لگا تھا۔۔؟؟ میں تمہیں اپنی زندگی کے پانچ منٹ بھی دوں گا۔۔؟؟ جان چکا تھاتمہاری سچائی کس کا خون دوڑ رہا تمہاری رگوں میں۔۔ تمہیں لگا تھا مجھے بیوقوف بنا دو گی۔۔؟؟
جیسے تمہاری ماں نے میری ماں کی زندگی برداشت کی اب وہ دیکھے گے تمہاری حالت۔۔۔اور۔۔۔”
اور وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔۔۔
۔
“آپ بہت پچھتائیں گے مننان۔۔۔ رک جائیے اپنے بدلے کی آگ میں اتنا مت جلیں کےت راکھ ہوجائیں۔۔۔
میں واپس نہیں لوٹ کر آؤں گی اگر چلی گئی تو۔۔۔ سوچ لیجئے۔۔۔”
“میں کبھی نہیں پچھتایا۔۔۔ تم میٹر نہیں کرتی۔۔۔”
“میں کہہ رہی ہوں۔۔ آپ پچھتائیں گے مننان آفندی۔۔۔ پچھتائیں گے آپ۔۔۔
مجھے کھونے پر پچھتائیں گے آپ۔۔۔ میرے لیے پچھتائیں گے مجھے لیکر پچھتائیں گے۔۔
میں کہہ رہی ہوں آپ کو۔۔۔”
“روکو۔۔ ابھی پانچ منٹ رک جاؤ میری اور لیزا کے نکال کے بعد چلی جانا پیچھے بیک یارڈ میں سب آچکے ہیں۔۔۔”
منیشہ کا بازو پکڑ کر اس نے زمین سے اٹھایا تھا اسے اور اپنے ساتھ بیک یارڈ کی لے گیا تھا
“اگر آپ نے یہ شادی کی تو میں بھی ماہیر آفندی سے شادی کرکے اپنے دل میں آپ کی محبت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کردوں گی مننان رک جائیں۔۔”
“ہاہاہا۔۔ وہ پلے بوائے تم سے شادی کرے گا۔۔؟؟ دل بہلا رہا ہے تم اسے قابل ہو۔۔”
“تو ہاتھ چھوڑیں میرا۔۔”
اور جب مننان نے ہاتھ نہ چھوڑا تو منیشہ نے زبردستی اپنا ہاتھ چھڑوا کر مننان کو ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔
“اس میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ہے مننان یاد رکھئے گا۔۔وقت کروٹ ضرور لے گا اور اج جس نجیب آفندی سے آپ سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں کل کو انکی جگہ پر خو د کو پائیں گے۔۔۔یہ بھی یاد رکھئیے گا۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
