Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 21
Rate this Novel
Episode 21
“موت بھی کم ہے آپ کی سزا نجیب۔۔۔ شاید موت آسانی سے بچا لے سزا سے۔۔”
“کیا آپ سچ میں میری موت۔۔۔”
“ہم ہاسپٹل پہنچ گئے ہیں ماں۔۔”
مننان کب دروازہ کھول کر بیک سیٹ پر آیا کب اس نے نجیب کو پھر سے اٹھایا اور وہاں سے لے گیا۔۔
نسواء اپنے خالی ہاتھ دیکھتے رہ گئی تھی
“میں نے آپ کی موت کبھی نہیں مانگی تھی نجیب کبھی بھی نہیں۔۔۔”
اور جلدی سے آنسو صاف کئیے وہ بھی مننان کے پیچھے اندر بھاگی تھی
۔
مننان تیز قدموں سے اندر جارہا تھا نجیب کو اٹھائے اسکے گارڈز لوگوں کو پیچھے کررہے تھے
دو بار گارڈ نے نجیب کو پکڑن کا کہا مگر مننان ایک نظر گارڈ کو دیکھتا اور تیز قدموں سے ایمرجنسی کی طرف بڑھتا چلا جاتا۔۔۔
پیچھے نسواء جتنے قدم اٹھا رہی تھی اس کا چلنا بوجھل ہوتا جارہا تھا اسکے لیے۔۔ جب نجیب کا بازو نیچے گرا اس وقت مننان کے قدم ہی نہیں نسواء ک قدم بھی رکے تھے۔۔۔
“نہیں۔۔۔کچھ نہیں ہوگا مننان بیٹا جلدی سے اٹھاؤ بابا کوہمت کرو۔۔۔انہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
وہ روتی ہوئی مننان کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہیں نجیب کے گرے ہوئے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا نسواء نے۔۔۔
اور اتنے سالوں کے بعد مننان نے اپنی ماں میں اس بیوی کو دیکھا تھا اس بیڈروم میں اپنے شوہر کو روک رہی تھی منتیں کررہی تھی دوسری شادی نہ کرنے کے لیے۔۔۔
۔
“کچھ نہیں ہوگا ماں۔۔۔چلیں۔۔۔”
اور گارڈز پہلے ہی ڈاکٹر ز کو ایمرجنسی کے باہر جمع کرچکے تھے۔
۔
سٹریچر پر جیسے ہی نجیب کو لٹایا گیا تھا نرس نے زبردستی نسواء کا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی جس پر وہ نرس پر ہی جھپٹ پڑی تھی۔۔۔
“ڈونٹ ٹچ می۔۔۔بات کررہی ہوں میں اپنے شوہر سے۔۔۔”
چلتے پھرتے لوگ رک گئے تھے نسواء کے چلانے سے جیسے وہ گارڈز۔۔۔ اور مننان۔۔۔؟؟
اس نے ایک نظر دیکھا تھا اپنی ماں کو اور مایوس ہوگیا تھا وہ کچھ قدم جانے کے لیے پیچھے ہوا تھا۔۔۔
“ڈاکٹر حورب سرجری کامیاب رہی سارا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے۔۔۔”
“نہیں ٹیم ورک تھا آپ سب نے بھی۔۔۔”
حورب کے قدم رک گئے تھے جب ماں اور بھائی پر نظر پڑی۔۔۔
اور قریب آنے پر جب اس شخص پر نگاہیں گئی تو اسکا بھی وہی ری ایکشن تھا جو نسواء کا۔۔۔
“ماں۔۔۔ یہ سب۔۔۔”
وہ نسواء کو لیکر جیسے ہی بنچ پر بیٹھ ڈاکٹر نجیب کو اندر لے گئے تھے۔۔۔
اور مننان۔۔۔ وہ تو چلا گیا تھا اس ہسپتال سے۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اس لمحے کرے تو کیا کرے۔۔۔ اسے وقت طور پر تکلیف ہوئی تھی پر اس نے ہسپتال سے باہر قدم رکھتے ہی اپنا دل بھی پتھر کا کرلیا تھا اس وقت۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“خاموشیوں کی زبان۔۔
کوئی نہ سمجھے یہاں۔۔۔”
۔
“ماں پلیز۔۔۔”
“ابھی کچھ نہیں جاؤ اندر بابا کو دیکھ کر آؤ۔۔۔ ہیلپ کرو ڈاکٹرز کی جاؤ۔۔۔”
“آپ یہاں بیٹھی ہمت ہار چکی ہیں بھائی یہاں سے چلے گئے ہیں خون میں لت پت دوسری بار دیکھ رہی ہوں انہیں اور آپ کہہ رہی ہیں میں اندر جاؤ﷽ں۔۔؟؟ نو نیور۔۔۔۔”
روتی ہوئی نسواء کو گلے سے لگا لیا تھا اس نے وہ لوگوں کا رش بھی ختم ہوچکا تھا وہ چہل پہل بھی تھم گئی تھی ان دونوں کی تیز دھڑکنوں کی طرح
۔
جیسے کوئی نرس باہر آتی نسواء ایک دم سے اٹھ جاتی تھی۔۔۔
وہ اس طرح کا ری ایکشن دہ گی کسے معلوم تھا۔۔ وہ اپنے کردار میں کبھی ایسی بوکھلاہٹ کا شکار نہیں ہوئی تھی خاص کر اپنے بچوں کے سامنے
جہاں مننان اس رد عمل پر مایوس ہوا وہیں حورب نے نسواء کو سمجھ کر سنبھالنے کی بہت کوشش کی تھی اس وقت۔۔۔
۔
“یہ سب ہوا کیسے ماں۔۔۔؟؟ کل تک تو وہ ٹھیک تھے۔۔۔”
اتنا کہنے کی دیر تھی اور نسواء کے چہرے پر اداسی کی جگہ غصے نے لے لی تھی اور اس نے بند مٹھی کھولی تھی جس میں ایک ہیرنگ تھا۔۔۔ وہ کوئی عام نہیں ڈائمنڈ کا تھا۔۔۔ اور نسواء نے یہ نجیب کے پاس سے اٹھایا تھا۔۔ پر یہ بات بھی وہ کسی کو ابھی نہیں بتانا چاہتی تھی
اسے ابھی کسی کی فکر نہیں تھی سوائے اس شخص کے جو اندر بےہوش تھا
۔
“مجھے کچھ معلوم نہیں بیٹا۔۔ میں تمہارے بابا سے کچھ ضروری بات کرنے انکے آفس گئی تھی اور۔۔۔یہ سب۔۔۔”
“ماں آپ پلیز ابھی چپ ہوجائیں آپ کا پورا جسم کانپ رہا ہے۔۔ دیکھیں ابھی آپ گھر جائیں۔۔۔”
حورب باتیں کرتی جارہی تھی اور نسواء اسی کمرے کو دیکھتی جارہی تھی۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہو نجیب کہاں ہے کچھ معلوم کرو پتہ نہیں کیوں بے چینی ہورہی ہے۔۔”
“نجیب کوئی بچہ ہے بیگم۔۔؟؟ جب دیکھو یہی فکر رہتی آپ کو۔۔۔سب ڈنر شروع کریں۔۔”
آفندی صاحب نے جیسےہی کہا سب نے ڈنر شروع کردیا تھا
“دادا جان ۔۔۔ آپ کی بات سب مانتے ہیں سب سمجھتے ہیں ایک بار اس بازاری عورت سے میرے بابا کی جان چھڑوا دیں۔۔۔”
“بازاری عورت کون۔۔۔؟؟”
دادی نے پوچھا تھا انکے لہجے کی کڑواہٹ نے سب پر ان کا غصہ عیاں کردیا تھا
“وہی جسے بابا اٹھا کر باہر لے گئے تھے۔۔۔ کیا نام لے رہے تھے نسواء جی یہی نام۔۔۔
دادا جان آپ ہی۔۔۔”
“بس چپ کر جاؤ ماہیر۔۔”
“کیوں ماما۔۔؟؟ مجھے بولنے دیں دادا جی کا حکم تو سب مانتے ہیں ڈیڈ بھی۔۔۔”
“ماہیر بیٹا۔۔۔ ایک کام کرنا تم یہی سوال اپنے ڈیڈ سے کرنا جب وہ گھر آئیں۔۔۔ وہ بتائیں گے تمہیں کہ وہ بازاری عورت کون ہے۔۔۔”
فضا کرسی سے اٹھ گئی تھی اس نے ایک نظر حقارت سے اپنے ماں باپ کو دیکھا تھا ان دونوں کی خاموشی نے اسے اور طیش دلا دی تھی۔۔
“کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلیں گی دادی۔۔۔ اس سے پہلے کہ کچھ برا ہو ۔۔
بچ جائیں۔۔۔ ‘بازاری عورت لفظ اس عورت کے ساتھ منسوب نہیں ہوتا۔۔۔
عمارہ بھابھی سمجھا دیجئے گا اپنے بیٹے کو۔۔۔”
۔
“انہیں کیا ہوا۔۔؟؟ ماہیر بھائی نے سچ ہی تو کہا۔۔۔”
شزا نے بھی اتنی ہی حقارت سے بولا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انکے پیٹ پر گھاؤ گہرا تھا ہم نے سٹیچز لگا دئیے ہیں۔۔۔انہیں دو سے تین ویپن سے گھائل کیا گیا تھا۔۔۔”
وہ ڈاکٹر بتا رہے تھے پر نسواء سننے کے بجائے اندر چلی گئی تھی۔۔
۔
“نجیب۔۔۔”
کس نے سوچا تھا اس شخص کی یہ حالت اسکی پتھر دل بیوی کو اتنا موم بنا دے گی
اگر نجیب آفندی کو معلوم ہوجاتا تو وہ تو بہت پہلے یہاں پہنچ جاتا۔۔۔
۔
“ندیوں کو احساس ہے ساغر میں بھی پیاس ہے
مانا کہ ہے اندھیرا گھنا۔۔۔ کس نے کیا تجھ کو منع
تاروں کی شمع جلا۔۔۔ سچ ہوتے سپنے بھی۔۔۔
میں ہے ایسا سنا۔۔۔”
۔
“آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
چہرے سے بال پیچھے کئیے وہ بیڈ پر آہستہ سے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“نجیب آفندی۔۔۔”
سسکیوں کی آوازیں اس کمرے میں گونج اٹھی تھی حورب جو روم ڈور اوپن کرکے اندر آنا چاہتی تھی وہ دروازہ مکمل بند کرکے باہر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
۔
“آپ بہت برے ہیں نجیب۔۔بہت تکلیف دی آپ نے۔۔۔اور اب جب میں سچ میں آپ کو چھوڑنا چاہتی ہوں تو آپ ایسے کررہے ہیں۔۔”
۔
نجیب کے کندھے پر سر رکھے وہ خاموشی سے رو دی تھی ۔۔اس شخص کے لیے جس نے سوائے درد کے کبھی کچھ نہ دیا تھا ان لوگوں کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عمارہ نجیب کو وہ وقت پر ہسپتال لے گئے تھے”
“وہ لوگ کون ظہیر۔۔۔؟؟”
عمارہ اس گھر میں جیسے ہی داخل ہوئی تھی جہاں کچھ لوگ پہلے ہی موجود تھے
“نسواء اور اسکا بیٹا مننان۔۔۔ وہ لوگ نجیب کو عین ٹائم پر ہاسپٹل لے گئے تھے۔۔۔وہ بچ گیا ہے باسٹرڈ۔۔۔”
ظہیر نے شیشے پر ہاتھ مار کر توڑ دیا تھا اور اس پر پڑے کاغذ بکھر کر رہ گئے تھے
“وٹ۔۔؟؟ نجیب ہمیں چھوڑے گا نہیں۔۔۔سب سے پہلے وہ گھر سے نکال دہ گا مجھے اور میرے بچوں کو۔۔۔ ظہیر کچھ کرو۔۔۔”
“تو کیا میں یہاں جھک مار رہا ہوں۔۔ پاگل عورت یہ نجیب کے وکیل ہیں۔۔ میں پہلے ہی پراپرٹی کو ماہیر کے اور تمہارے نام کروا چکا ہوں۔۔۔ بزنس کے اور ڈائیورس پر سائن حزیفہ نے کروا لئیے تھے۔۔۔کیوں حزیفہ۔۔؟؟”
اور وہ کھڑکی پر سے جیسے ہی روشنی میں آیا تھا عمارہ نے سکون کا سانس بھرا تھا
“شکر ہے سائن کروا لئیے تھے۔۔ اب اگر نجیب نے گھر سے نکالنے کی کوشش کی تو۔۔”
“ایسے موقع نہیں آئے گا اسکے گھر پہنچے تک اسکی ملکیت ختم ہوچکی ہوگی۔۔۔”
“سر۔۔۔میری بات سن لیں۔۔۔”
“ہاہاہا تمہاری ہی سنیں گے آفٹر آل تم اسکے ٹرسٹ ورتھی جو ہو۔۔۔کم عمارہ بیٹھ کر بات کریں حزیفہ دادی کو فون کردو جب شام کو ہم آفندی مینشن میں جائیں تو دادی ساتھ ہوں گی اور۔۔”
“سر پہلے یہ کچھ ڈاکومنٹس دیکھ لیں۔۔۔ مسٹر نجیب کی نئی ول۔۔۔”
“نئی ول وٹ۔۔؟؟ نجیب نے جو ول بنائی تھی وہ اسکی بیوی اور بچوں کی تھی”
“جی سر۔۔۔پر۔۔۔”
“پر کیا۔۔؟؟”
“وہ بیوی اور بچے جن کا ول میں نام ہے وہ مس نسواء اور مننان کا تھا”
“کیا بکواس کررہے ہو۔۔۔”
حزیفہ نے اسکا گریبان پکڑ لیا تھا ایک دم سے۔۔۔
“مسٹر نجیب آفندی نے صرف دو ول بنوائی۔۔ ایک مجھ سے اور ایک اب کسی اور سے۔۔۔
جو مجھ سے بنوائی تھی اس میں انہوں نے اپنی جائیداد کا پچاس فیصد حصہ اپنی پہلی بیوی نسواء کے نام کردیا تھا۔۔۔اور چالیس فیصد مننان کے ۔۔۔ باقی دس فیصد میں کمپنی کے کچھ شئیرز اور ایک پراپرٹی اپنی بیٹی شزا اور بیٹے ماہیر کے نام کئیے۔۔”
“اور میں۔۔۔؟؟ اسکی بیوی عمارہ۔۔۔”
عمارہ نے چلاتے ہوئے پوچھا تھا
“سوری میم آپ کے نام کچھ نہیں تھا۔۔۔اور۔۔۔۔”
“دوسری ول سناؤ۔۔۔”
ظہیر نے عمارہ کو بٹھا دیا تھا واپس۔۔۔ انکی جیت ایک ناکام میں بدل چکی تھی مکمل۔۔۔
“اب کی ول میں انہوں نے اپنے بزنس کو مننان کے نام کردیا تھا اور کمپنی کا سی ای او بنانے کا لیٹر بھی جمع کروا دیا تھا۔۔۔ اور۔۔۔ شزا اور ماہیر کے نام وہی دس فیصد رہا۔۔۔
اس بار انہوں نے مس نسواء کے نام تیس فیصد کرکے باقی مننان اور حورب کے نام کردیا تھا اور یہ ول انہوں نے مجھ سے نہیں کسی اور سے بنوائی تھی۔۔ مجھے شک ہوا تو میں نے یہ کاغذات نکلوائے۔۔”
وہ کاغذات جیسے ہی دیکھائے ظہیر نے جلدی سے کھینچ کر پھاڑ دئیے تھے۔۔۔
“قصہ ختم وکیل جو سائن ہم نے دئیے ہیں تم اس پر کام کرو۔۔۔”
“یہ کاپی ہے اصل کاپی رجسٹرڈ ہوچکی ہے جائیداد بزنس سب ٹرانسفر ہوچکا ہے سر۔۔۔
اور اب مسٹر نجیب کے نام پر کچھ بھی نہیں میں ان سائن شدہ کاغذات کا کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ اب بزنس وغیرہ سب ان تین ناموں پر ہے اور ایک بات۔۔۔”
“ایک اور بات۔۔۔؟؟ تم ایک بار میں بتا کیوں نہیں دیتے کہ ہم تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔۔۔”
“مس نسواء کے سائن اور پرمیشن کے بعد ہی آپ کے دونوں بچوں کو وہ دس فیصد حصہ ملے گا یہ بھی لکھوایا ہے۔۔”
عمارہ کی آنکھیں بھر گئی تھی
“اس شخص کے پیچھے اتنے سال گال دئیے اور یہ صلہ ملا ہے مجھے۔۔؟؟
ظہیر اسی وقت اسے گولی ماردیتے تاکہ مر جاتا۔۔۔”
عمارہ جلدی سے اٹھ گئی تھی وہاں سے۔۔۔
۔
“اب تم گھر جاؤ اور پھر ہاسپٹل۔۔۔ ہم اسکے گھر پہنچنے سے پہلے اسکا کام تمام کرنا وگا۔۔۔
کم آن موو فاسٹ۔۔۔ حزیفہ تم دادی کو منع کردو پلیز۔۔۔ ڈیڈ کو بھی معلوم نہ ہو کہ اتنے سال ہم پاگل بنتے رہے اور وہ بچ نکلا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب میرے بچے۔۔۔”
نسواء کی آنکھیں کھل گئی تھی دادی کی آواز سن کر اس نے جیسے ہی سر اٹھانے کی کوشش کی اسے کوئی مضبوط گرفت اٹھنے نہیں دہ رہی تھی اور جب آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو نجیب کی آنکھیں اس پر تھی۔۔
“آپ اٹھ گئے۔۔۔؟ نجیب آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟”
۔
پر نجیب آفندی کی فیملی نے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا اسکی والدہ دادی اور عمارہ اسکی بیٹی شزا جیسے ہی نجیب کے پاس آئی تھی نسواء خاموشی سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
کمرے کے اس شیشے سے وہ صاف دیکھائی دہ رہی تھی وہ بنچ پر جیسے ہی جاکر بیٹھی تھی پورا وقت نجیب کی نظریں اس پر تھی
“نجیب بیٹا کیا ہوا ہے کچھ تو بتاؤ۔۔۔”
“نجیب کچھ تو بتائیں۔۔”
اور اس ایک پل اس نے عمارہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ وہ اسکی ایک نظر میں نفرت کی تاب نہ لا پائی تھی اور خود اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا تھا اس نے
“دوبارا مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو ہاتھ توڑ دوں گا تمہارے دفعہ ہوجاؤ۔۔۔”
“نجیب۔۔۔ سمجھ گئی اس عورت کے پیچھے آپ یہ سب کرررہے ہیں۔۔؟؟”
عمارہ نے جھوٹ موٹ کا رونا روتے ہوئے سمپتی کارڈ کھیلا جس میں وہ کامیاب بھی ہوئی جب ناہید بیگم نے غصے سے شیشے کے آگے پردہ کردیا تھا۔۔۔
“آپ سب کے سب چلے جائیں یہاں سے۔۔۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔۔۔”
اس نے تھکن سے آنکھیں بند کرلی تھی
“تم سب جاؤ۔۔۔ میں یہیں ہوں۔۔”
دادی نے زبردستی سب کو گھر بھیج دیا ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“رات ہوگئی ہے بیٹا اب تم بھی گھر چلی جاؤ۔۔۔”
“اور ویسے بھی اب نجیب کی بیوی ہے اسکے پاس۔۔اسکے بچے ہیں تمہیں یہاں رہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
آفندی صاحب نے جیسے ہی کہا تھا نسواء بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی جانے کے لیے۔۔۔ پر جاتے جاتے عمارہ کے پاس سے گزرتے ہوئے اسکی نظر عمارہ کے چہرے پر گئی جہاں اس نے ایک چیز نوٹ کی تھی۔۔۔
اور پھر اسکی مٹھی اور زور سے بند ہوگئی تھی۔۔۔
اب وہ سمجھ چکی تھی کہ نجیب آفندی کی خاموشی کے پیچھے کا راز
اور یہی وجہ تھی کہ کچھ دیر پہلے پولیس کو بیان میں بھی کچھ نہیں بتایا تھا اس نے۔۔۔
“میں نے جب جانا ہوگا میں چلی جاؤں گی آپ کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں مسٹر آفندی۔۔۔”
اور وہ ان سب کے درمیان میں سے گزرتی ہوئی واپس وہیں بیٹھ گئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
رات کے تین بج رہے تھے جب نسواء کے پاس سے کوئی بہت خاموشی سے ہوکر اندر نجیب کے روم میں چلا گیا تھا نہ کوئی ڈاکٹر راؤنڈ پر تھا نہ کوئی نرس آس پاس تھی باہر تھرڈ بنچ پر نجیب کے والد اور چچا جو ٹیک لگائے آنکھیں بند کرچکے تھے اور نسواء کے بنچ پر دادی جن کے کندھے پر نسواء سر رکھے سو رہی تھی۔۔۔
پر روم کا دروازہ جیسے ہی بند ہوا نسواء جاگ گئی تھی۔۔۔ اور اس نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔۔
اندر داخل ہوئی تو مانیٹر کی بیپ بیپ اسے الرٹ کرچکی تھی اس نے تیز قدموں سے اس ہاتھ کو روک لیا تھا جو نجیب کے بازو سے نیڈل آلریڈی نکال چکا تھا۔۔۔
۔
“حورب۔۔۔۔۔حورب بیٹا۔۔۔۔جلدی آو۔۔۔۔”
اندھیرے میں اس پرسن کو ایک دم سے پیچھے دھکا دیا تھا اس نے شور کی وجہ سے ایک نرس اندر داخل ہوئی اور اور حورب کو لینے چلی گئی جو بھاگتی ہوئی آئی تھی۔۔۔
۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔ ماں آپ ٹھیک ہیں۔۔۔”
“بیٹا جلدی سے ٹھیک کرو مشین جلدی۔۔۔ کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔۔۔”
بس آدھی بات ہی کہہ پائی تھی اور نسواء نے عمارا کو بازو سے پکڑ کر زمین سے اٹھایا تھا۔۔۔
“کیا کررہی تھی کیا کیا نجیب کے ساتھ تم نے۔۔۔؟؟”
“یہ کیا ہورہا ہے عمارا تم یہاں۔۔؟؟”
دادی آگے بڑھی تو نسواء پیچھے ہوچکی تھی وہ نجیب کے پاس واپس چلی گئی تھی جسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی اور حورب کےچہرے پر گھبراہٹ چھا گئی تھی
“سسٹر سب کو باہر بھیجیں اور ڈاکٹر احمد کو جلدی لیکر آئیں فاسٹ۔۔۔”
“بیٹا کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟پلیز بتاؤ۔۔۔”
“پلیز ماں باہر جائیں پلیز۔۔۔”
حورب کی آنکھ سے جیسے ہی آنسو نکلا نسواء باہر چلی گئی تھی بنا کچھ کہے۔۔۔
۔
اندر کیا ہوا تھا۔۔۔؟؟ عمارا بیٹا تم وقت یہاں۔۔۔؟؟”
“جواب دو تمہارے سسر تم سے کچھ پوچھ رہے ہیں تم اس وقت نجیب کے روم میں کیا کررہی تھی کیا کردیا جو ایک دم سے مانیٹر کے نمبرز آگے پیچھے ہوئے اور نجیب کی طبیعت خراب ہوئی۔۔۔”
“میرا ہاتھ چھوڑو۔۔۔”
پر نسواء کی گرفت مضبوط ہوئی تھی یہاں تک کہ عمارا کے بازو میں درد ہونے لگا تھا۔۔
“نسواء بیٹا پلیز۔۔۔ تم بیٹھ جاؤ میں بات کرتی ہوں۔۔۔”
نسواء نے دادی کی بات سن کر اسکا بازو تو چھوڑ دیا پر وہ بیٹھی نہیں تھی زخمی شیر کی طرح روم ک باہر چکر کاٹنے لگی تھی
“دادی میں نجیب کو دیکھنے آئی تھی مجھ سے رہا نہیں گیا میں جیسے ہی نجیب کے پاس گئی تو اچانک سے نجیب کی طبیعت خراب ہوئی۔۔۔”
“ب۔۔۔”
نسواء گالی نکالتے نکالتے رہ گئی تھی۔۔۔
کچھ دیر میں حورب آئی اور حورب کی ایک بات نے نسواء کو اور جنونی بنا دیا تھا
“اندر مس گائیڈ کرنے ک کوشش کی گئی آکسیجن ماسک کو اتار کر انکی جان لینے کی ناکام کوشش کی گئی۔۔”
“جھوٹ۔۔۔ کون لے گا جان۔۔؟؟ تم دونوں ماں بیٹی جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔ملنے دو مجھے نجیب سے۔۔۔”
وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی نجیب آفندی ب ہوشی کی حالت میں بھی ایک ہی نام لے رہے تھے
“نسواء۔۔۔۔
نسواء۔۔۔۔
نسواء۔۔۔۔”
۔
“تمہیں تمہارا جواب مل گیا۔۔؟؟ اب جاؤ یہاں سے۔۔۔آؤٹ۔۔۔”
نسواء کی للکار نے عمارا ہی نہیں باقی سب کو بھی ایک وارننگ دہ دی تھی۔۔
۔
۔
اور اس دن کے بعد سے وہ سایہ کی طرح نجیب کے ساتھ ساتھ تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تھینکس۔۔۔یہاں تک آنے کے۔۔۔”
نجیب کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب نسواء گاڑی سے اتری اور نجیب کی سائیڈ کا دروازہ کھولا
“ہاتھ دیں۔۔۔نجیب۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نسواء نے جیسے ہی ہاتھ آگے بڑھایا نجیب نے فورا سے اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اور وہ اسے سہارا دیتی ہوئی آفندی میشن میں داخل ہوئی۔۔۔
جہاں سب کے منہ کھلے کہ کھلے رہ گئے تھے۔۔۔
۔
“نجیب بیٹا تم تو کل ڈسچارج ہونے والے تھے۔۔۔”
“کیوں ماں آج دیکھ کر برا لگ رہا ہے۔۔؟؟”
ناہید بیگم شاک ہوئی۔۔
“ایسے کیوں کہہ رہے ہو بیٹا۔۔؟ عمارا بہو نجیب کو اوپر بیڈروم۔۔۔”
“ضرورت نہیں ہے نسواء ہے میرے ساتھ چلیں نسواء۔۔۔”
وہ جو باہر سے اندر تک نسواء کے سہارے آرہے تھے اب سب کے سامنے نسواء کے کندھے پر ہاتھ رکھ لیا تھا انہوں نے۔۔ اوپر جانے سے پہلے وہ سینٹر میں کھڑے ہوکر سب کی توجہ حاصل کرچکے تھے
۔
“یہ نسواء نجیب آفندی ہیں۔۔ میری پہلی بیوی۔۔ میری پہلی محبت۔۔ میرے دو خوبصورت محنتی تعلیم یافتہ باشعور بچوں کی ماں۔۔”
۔
گھر کے بچوں تک یہ بات پہنچ چکی تھی
“یہ بازاری عوت۔۔۔”
ماہیر کو ایک زور دار تھپڑ مارا تھا نجیب نے۔۔۔
“تم۔۔۔ اپنی ماں سے پوچھو کون تھا بازاری۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔”
نجیب نے ایک اور تھپڑ مارا تھا ماہیر کو۔۔۔
“آئندہ زبان سنبھال کر بات کرنا ورنہ بولنے لائق نہیں چھوڑوں گا۔۔”
ان سب میں ایک بار اس نے ماہیر کی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا ایک بار بیٹا نہیں کہا تھا۔۔۔
وہ ان دنوں میں پہلی بار غصے میں آیا پہلی بار اس نے مکمل جملے بولے تھے
آج جو باتیں اس نے عمارا کو لیکر کر دی سب چپ ہوچکے تھے اس وقت۔۔۔
۔
“آپ اچھا نہیں کررہے۔۔۔”
“میں تمہیں۔۔۔۔”
نجیب کہتے کہتے چپ ہوگیا تھا۔۔۔ اس نے گہرا سانس لیا تھا پہلو میں کھڑی بیوی کے ہاتھوں کو پھر ہاتھ میں لیا تھا اور ایک بار پھر مڑ کر مخاطب ہوا تھا سب سے۔۔۔
۔
“میں وہ مرد ہوں جس نے جوانی کے نشے میں دولت کے نشے میں دوسری عورت کے نشے میں اپنی پہلی بیوی کی نا قدری کی مننان جیسی اولاد کو ٹھکرا کر نہ صرف خود کی تباہی کا آغاز کیا۔۔۔
میں نے ایک غلط فیصلہ لیا جس کا پچھتاؤا مجھے کبھی سکون سے جینے نہیں دے گا۔۔ اور وہ فیصلہ دوسری شادی کا تھا۔۔۔”
۔
وہ نسواء کا ہاتھ پکڑے اوپر چلا گیا تھا پر اپنے بیڈروم کی طرف نہیں اس کمرے کی طرف جو اس کا جو نسواء کا تھا جو بیڈروم تھا ان کا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان سر۔۔۔۔”
دروازے پر مننان کو اس حالت میں دیکھ کر اسکے ہاتھوں سے پرس گرگیا تھا۔۔۔
وہ ہاسپٹل جارہی تھی پر مننان کی حالت دیکھ کر وہ خود دو قدم پیچھے ہوگئی۔۔
“سر آپ ٹھیک ہیں۔؟؟”
“ٹھیک۔۔۔؟؟ میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔ یہ خون دیکھ رہی ہو۔۔؟؟ یہ میرے باپ کا خون ہے۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے لڑکھڑایا تھا جب منیشہ نے اسے سہارا دیا تھا۔۔۔
“سر پلیز اندر آجائیں۔۔۔آپ۔۔ اتنے دن سے کہاں تھے۔۔؟؟ آپ نے اس دن سے کپڑے نہیں بدلے یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے۔۔”
وہ جیسے اسے پکڑ کر اندر لائی تھی اور صوفہ پر بٹھا دیا تھا مننان ن اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“میں اب تھک گیا ہوں منیشہ۔۔۔کوئی رشتہ مخلص نہیں۔۔۔کوئی بھی۔۔ ماں پچھلے چار دنوں سے اس شخص کے پاس ہیں خدمت کررہی ہیں پہرہ دہ رہی ہیں۔۔۔
ایک بار۔۔۔ ایک بار نہیں پوچھا میرا۔۔۔میں کہاں ہوں کیسا ہوں۔۔۔؟؟”
“سر۔۔۔ آپ کبھی خود کو اپنی ماں کی جگہ رکھ کر سوچیں۔۔ انہوں نے ساری زندگی اپنی اولاد پر وار دی اب اگر وہ اپنے شوہر کا ساتھ چاہ رہی ہیں تو گناہ کیا ہے۔۔؟؟”
“وہ شخص اس قابل ہے۔۔۔؟؟”
مننان نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچ کر پوچھا تھا جس کے چہرے کے درمیان بھی کچھ فاصلہ تھا
“یہ فیصلہ کرنے کا حق آپ کی ماں کا ہے۔۔”
“یا رائٹ۔۔۔ ماں کا حق ہے۔۔ وہ تو معصوم ہیں پھر سے انکی باتوں میں آجائیں گی۔۔۔دھوکا دہ دیں گے وہ ماں کو پھر سے۔۔۔”
“تو کھانے دیں دھوکا۔۔۔ وہ بیوی ہیں ان کی۔۔۔ اتنا شعور تو انہیں بھی ہے۔۔۔ اگر چند لمحوں کی قربت کے لیے دھوکا کھا نا چاہتی ہیں تو کوئی بات نہیں۔۔۔ محبت کرنے والے اتنا کچھ برداشت کرجاتے وہ تو پھر بیوی ہیں انکی۔۔۔”
مننان نے منیشہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“میں کچھ لیکر آتی ہوں۔۔۔”
وہ جانے لگی تھی جب اس نے پھر سے بازو پکڑا تھا اس کا۔۔۔
۔
“مجھ سے شادی کریں گے مس منیشہ۔۔۔؟؟ مجھے محبت ہوگئی ہے آپ سے۔۔۔
آپ کی باتوں سے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔۔”
منیشہ نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا مننان کی آنکھیں بند ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
اس نے آہستہ سے ہاتھ چھڑا کر مننان کو پوری طرح لٹا دیا تھا صوفہ پر۔۔۔
“محبت۔۔؟؟ وہ بھی مننان آفندی کو مجھ سے۔۔؟؟ کبھی نہیں۔۔ سنا تھا لوگ نشے میں سچ بولتے ہیں۔۔۔ آپ نے جھوٹ بول کر سنی سنائی بات کو ہی جھٹلا دیا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
