Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 08
Rate this Novel
Episode 08
“میں گاڑی تک چھوڑ دیتا ہوں نسواء۔۔”
حذیفہ کا دل نہیں تھا نسواء کو سیکیورٹی کے ساتھ چھوڑنے کا مگر اسے امپورٹنٹ کال آگئی تھی اسے لیے اسے واپس آفس جانا تھا
“نہیں آپ جائیں۔۔۔ میں مینیج کرلوں گی یہ دیکھ نہیں رہے سانڈ جیسے گارڈ رکھے ہیں مننان نے۔۔”
حذیفہ بےساختہ ہنسے تو نسواء اسکے چہرے کو دیکھتی رہ گئی تھی۔۔ کتنے سال اس چہرے کو اس نے سنجیدہ دیکھا اسے ابھی بھی وہ شام یاد تھی جب اس شخص نے مننان کے لیے آسانیاں پیدا کردی تھیں کہ مننان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنے ریسٹورنٹ سیل پہ لگا دئیے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ “
گارڈ بھی اپنی ہنسی کنٹرول کررہے تھے چہرہ پھر بھی سخت تھا۔۔
وہاں سب ہی خوش تھے مگر کوئی تھا جو یہ سب برداشت نہیں کرپارہا تھا خاص کر نسواء کا حذیفہ کو دیکھنا۔۔
کچھ منٹ میں حذیفہ جیسے ہی وہاں سے گئے نسواء کی ویل چئیر پارکنگ کی طرف لے جانے کی کوشش کی تو نسواء کی نظر فرسٹ فلور فٹ وئیر شاپ پر گئی جہاں رکھے ہوئے شوز دیکھ کر اسے خریدنے کی خواہش جاگی مننان کے لیے۔۔۔
“آپ گاڑی نکالے میں وہیں آتی ہوں۔۔”
“پر میم۔۔”
“پر ور کچھ نہیں۔۔۔”
وہ سختی سے کہتے ہوئے چئیر کا بٹن پریس کر چکی تھی
وہ نظریں تعاقب کررہیں تھی نسواء کا۔۔ مگر گارڈز پر بھی باقاعدہ نظر رکھے ہوئی تھی
۔
اور جب نسواء نے شوز خرید کر پئمنٹ کردی تو وہ باکس اپنی گود میں رکھ لیا تھا وہ بہت خوشی سے اس باکس کو دیکھ رہی تھی۔۔
اس سے وہ جوتے مننان کے لیے خریدے تھے اور وہ شخص یہ سوچ کر غصے سے آگ بگولا ہورہا تھا کہ نسواء نے کسی اور کے لیے خریدے۔۔
۔
نسواء تھوڑی دیر میں شاپ سے نکل کر پھر ایک لفٹ کی طرف بڑھی تھی اسے آگے پارکنگ کے لیے جانا تھا جہاں گارڈ انتظار میں تھے جو انڈر گراؤنڈ فلور پر تھی وہ لفٹ کے زریعے جیسے ہی لاسٹ فلور پر گئی اسے دیکھتے ہی وہ شخص بھی اپنے سیکیورٹی گارڈ کے کان میں کچھ کہہ کر گراؤنڈ فلور کی طرف چل دیا تھا
“جب تک نہ بلاؤں کوئی میرے پاس نہیں آئے گا اور ان لوگوں کو سنبھالوں۔۔”
نسواء کے گارڈز کی طرف اشارہ کرکے وہ تو وہاں چلا گیا
“سم باڈی پلیز کال فائر برگیڈ ارجنٹلی۔۔”
“فائر۔۔۔ فائر۔۔”
بہت سی آوازیں سن کر نسواء نے پیچھے دیکھا تھا۔۔
“میم آپ چلیں جلدی۔۔”
وہ گارڈ اسے گاڑی کی طرف لے جانے کو تھے جب نسواء نے انہیں منع کردیا
“آپ پلیز اوپر جا کر مدد کریں۔۔ وہاں بچے بھی ہیں۔ جلدی جائیں۔۔”
“ایم سوری میم ہماری ذمہ داری اس وقت آپ ہیں۔”
“اگر نہیں گئے تو میں خود چلی جاؤں گی۔۔”
اور تینوں چاروں لوگوں نے نسواء کی طرف دیکھا تھا نسواء کی ضد اور اسرار پر وہ لوگ اوپر کی سائیڈ پر بھاگے اور پلر کے پیچھے چھپا ہوا شخص آہستہ قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا
نسواء کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی شاید وہ پہچان گئی تھی ان قدموں کی آہٹ کو یا پھر اس کا دل۔۔ جو تیز تیز دھڑک رہا تھا
“نسواء۔۔۔”
پیچھے سے جیسے ہی اس نے چئیر ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر نسواء کے کانوں میں سرگوشی کی تو نسواء کی گرفت مظبوظ ہوئی۔۔
“نجیب۔۔۔”
نجیب چہرے کو اور پاس لے گیا تھا تھا بالوں کی مہک محسوس کرتے ہوئے نسواء کے کانوں کی لو کی اپنے لبوں سے جیسے ہی چھوا نسواء کی انگلیاں اس بٹن کو پریس کرنے لگی تھی جب نجیب نے کرسی کو اپنی طرف موڑ دیا تھا
“میرے قدموں کی آہٹ آج بھی محسوس ہوجاتی ہے تمہیں نسواء۔۔؟ دل آج بھی اتنی تیزی سے دھڑکتا ہے۔۔؟ آنکھیں اب بھی شرم سے جھک جاتی ہیں میرے قربت میں آنے کے بعد۔۔؟”
اسکے ہونٹوں نے چھو لیا تھا نسواء کی جھکی ہوئی پلکوں کو۔۔نجیب کی نزدیکی اسے آج بھی ویسے ہی دیوانہ کررہی تھی جیسے انکے بیڈروم میں کرتی تھی اور وہ خاموشی سے اپنا آپ اسے سونپ دیتی۔۔
“نسواء۔۔۔”
لبوں نے آنکھوں سے ہونٹوں تک کا فاصلہ تہہ کیا تو نسواء نے جھکی آنکھوں کو اٹھا کر نجیب کی آنکھوں میں دیکھا جو اس قدر قریب تھا کہ ایک پل کو اسے خود پر شدید غصہ بھی آیا۔۔
“نجیب۔۔۔”
وہ مخاطب ہوئی مگر نجیب اسکی آواز اگنور کرکے اسکے ہونٹو ں کی طرف جھکا وہ انکے لبوں کے درمیان وہ فاصلہ بھی ختم کرنے والا تھا جب نسواء نے نجیب کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے اسکی جگہ پر روک دیا۔۔ مدہوشی میں بند آنکھیں کھول کراس نے نسواء کے ہاتھ اور پھر اسکی طرف دیکھا
“خوبصورت بیوی ہے خوبصورت بچے ہیں۔۔ پھر معذور عورت کی ہوس کیوں ہورہی۔۔؟”
“ہوس۔۔؟؟ ڈیم اِٹ یہ محبت ہے میری۔۔”
وہ چلاتے ہوئے پیچھے ہوگئے تھے
“محبت۔۔؟؟ کتنوں لوگوں یا کتنی عورتوں سے محبت ہے آپ کو۔۔؟ آپ کی دوسری بیوی عمارہ یا آفس سیکریٹری۔۔؟ یا وہ ماڈل جس کے ساتھ راتیں رنگین کرتے آئے ہیں اتنے سالوں۔۔؟؟ سیریسلی محبت نجیب۔۔؟ محبت لفظ آپ جیسے بےوفا کے منہ سے سن کر اس لفظ سے نفرت ہورہی۔۔”
اس شخص کی ذاتی زندگی کے بارے میں بتا کر وہ اسے تو شاکڈ کرچکی تھی مگر نجیب کو غصہ اس بےوفا لفظ پر آیا تھا۔۔۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر نسواء کے کندھوں کو مظبوطی سے پکڑے اس بار وہ ان دونوں کے ہونٹوں کے درمیان کا فاصلہ ختم کرچکے تھے اتنے سالوں کے بعد۔۔۔ انکے اس بوسے میں بلا کی سختی تھی وہ غصہ اتارنے کی کوشش کررہے تھے پر ان سے ہو نہیں پایا۔۔ جیسے ہی نسواء کے ہاتھ انکےسینے پر ہاتھ مرنے لگے تو وہ مسکرا دئیے۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
انہوں نے جیسے ہی پیچھے ہوکر سانسیں بحال کی نسواء کے چہرے کو دیکھ کر وہ ایک بار پھر سے جھکے مگر اس پیچھے نہ ہونے کا ارادہ رکھ کر۔۔۔ان دونوں کے وہ لمحات وہ جو نجیب کو دنیا کے سب سے خوبصورت لمحے لگ رہے تھے انہی لمحوں کی چند قدموں کی آہٹ نے روک دیا تھا۔۔۔
“وہ رہا۔۔ پکڑو اور مار دو۔۔”
کسی نے نجیب کی طرف اشارہ کرکے کچھ لوگوں کو کہا تھا جو ہاتھوں میں ووڈن سٹیک پکڑےکھڑے تھے۔۔۔
“کون ہو تم۔۔”
نجیب نسواء کی ڈھال بن کرکھڑا ہوگیا تھا۔۔۔ مگر دوسری طرف سے آنے والے آدمی نے ہاتھ میں پکڑی ہاکی کا وار کردیا تھا نجیب کے سر پر۔۔۔
“آہ۔۔۔”
وہ سر پر ہاتھ رکھے گھٹنوں کے بل گرا۔۔
“نجیب۔۔۔”
وہ چلائی مگر نجیب کےبازو سے پکڑ کر وہ لوگ نسواء کی چئیر سے دور لے گئے تھے۔۔۔
“نجیب۔۔۔ وہ بےبسی سے چلائی جب ان لوگوں نے ایک بار پھر نجیب کی کمر پر اس سٹک سے وار کیا۔۔
“چھوڑ دو انہیں۔۔ کیوں مار رہے ہو۔۔حمید، جارج۔۔”
وہ اپنی گود سے وہ چادر اتارے قدم چئیر سے نیچے رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔۔
زمین پر گرنے کے بعد بھی وہ رینگتے ہوئے نجیب کے پاس پہنچ رہی تھی
“نجیب۔۔۔”
اب اسکی آواز پر نجیب نے سر اٹھا کر دیکھا تھا جو خون بہنے سے چکرانے لگا تھا۔۔۔
وہ ہاتھ آگے بڑھا رہا تھا جب کسی نے نسواء پر بھی وار کردیا تھا۔۔
“یو باسٹرڈ۔۔۔لئیو ہر۔۔”
اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔۔ نسواء کے ماتھے سے نکلتے خون دیکھ کر۔۔۔
“کیا کہا تھا مجھے مار دے گا۔۔؟؟ میں تجھے مارنے لگا ہوں۔۔”
وہ آدمی نجیب کے سر پر گن رکھ چکا تھا مگر نجیب کی نظر بس نسواء پر تھی جو باقی کے دو لوگوں سے خود کو بچا کر اسکی جانب بڑھ رہی تھی وہ کبھی نسواء کی ویل چئیر کو دیکھ رہا تھا
وہ اپنی بیوی کے اس روپ پر حیران رہ گیا۔۔ کچھ دیر پہلے تو اس نے عمارہ کی اپنے دوسرے بچوں کی تعریف کرکے جلانے کی کوشش کی تھی کچھ دیر پہلے تو اس نے معذور کہہ کر تذلیل کی تھی اور وہ اپنی حالت کو بھی درگزر کرکے اسکی مدد کو آگے بڑھی تھی
نجیب نے سر نیچے کرلیا تھا جب اسکی آنکھیں بھر گئیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جب مننان سر ایسے پاس سے گزر گئے تو میرے خاموش ہونٹوں سے ایک ہی بات نکلی ۔۔”
منیشہ نے بہت ڈرامائی انداز میں بتایا۔۔ریسیپشن میں سب کالیگ بریک میں ایسے ہی جمع ہوجاتے تھے جب آفس کے باس باسز نہیں ہوتے تھے
“کیا۔۔؟؟”
“کون ہے وہ جس نے دوبارا مڑ کے مجھے نہیں دیکھا۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ “
ایک بار پھر سے وہ لوگ قہقے لگا کر ہنسے تھے۔۔
“اور پھر پھر کیا۔۔؟؟”
“پھر کیا ہونا تھا وہ کھڑوس میرا باس نکل آیا۔۔۔ بس خون چوس رہا ہے۔۔۔ دیکھا نہیں کتنی دبلی پتلی ہوگئی ہوں۔۔ اب تو بریک فاسٹ کے لالے پڑے ہوئے ۔۔
اور وہ۔۔سینہ چوڑا کئیے اس چڑیل کے ساتھ کہیں ریسٹورنٹ میں بیٹھے لنچ کررہے ہوں گے اور میں یہاں جل رہی۔۔”
وہ بڑبڑائی تو اور ہوٹنگ ہوئی۔۔ مگر ایک دم سے سب منیشہ کے پیچھے کھڑے مننان کو دیکھ کر اپنی اپنی سیٹ اور کیبن میں بھاگ گئے تھے
“یا اللہ۔۔ ایسا سانپ تب ہی سونگھتا ہے جب کھڑوس۔۔۔”
آنکھیں بند کئیے وہ پیچھے مڑی تھی
“ایسا ممکن نہیں کہ آپ میری سیلری میں سے پانچ سو کاٹ لیں اور میری آنکھیں کھلنے سے پہلے اپنے کیبن میں چلے جائیں۔۔؟ پلیز پریٹی پلیز۔۔۔”
وہ آگ بگولا ہورہا تھا اس لڑکی کی بدتمیزی اور اسکے لیے کھڑوس لفظ کے چناؤ پر۔۔
“یو۔۔۔”
مننان نے جیسے ہی انگلی اسکی طرف اٹھائی تو ساتھ کھڑا مننان کا پارٹنر ہنسنا شروع ہوا۔۔
“ہاہاہاہاہا سیریسلی کھڑوس۔۔؟ اور تو سننے دیتا۔۔ مزہ آرہا تھا۔۔”
“شٹ اپ۔۔ اینڈ یو مس منیشہ۔۔۔ بریک فاسٹ بریک بند آج سے آپ کی آپ اس وقت میں صرف سٹور روم کی فائلز کو ترتیب دیا کریں گی۔۔”
“پر سر وہ تو ہزاروں کی تعداد۔۔۔”
شٹ اپ۔۔۔ میری ماں کی سفارش پر کچھ زیادہ ہی اچھل رہی ہو۔۔ ایک منٹ لگے گا تمہیں نکال باہر کرنے میں۔۔۔ یوز لیس۔۔۔”
وہ اونچی آواز میں کہتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا اپنے کیبن میں۔۔
“مننان۔۔ہیے ریلیکس۔۔ ڈونٹ کرائی۔۔”
اس نے کوٹ کی پاکٹ سے رومال نکال کر دیا تھا منیشہ کو جو روتے ہوئے اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ ٹھیک ہیں میم آپ بھی ریسٹ کیجئے ایسے تو آپ تھک جائیں گی۔۔میں ڈاکٹر حورب کو انفارم کردوں۔۔؟؟”
نسواء چونک گئی اچانک سے اب اس نے ہاسپٹل کا نام دیکھا تھا اور بےساختہ نفی میں سر ہلایا۔۔
“نہیں بالکل نہیں۔۔ مت بتانا دراصل یہ مجھے روڈ پرشاپنگ مال کی پارکنگ پہ ملے زخمی حالت میں۔۔۔”
“اور آپ کو یہ سرپر چوٹ کیسے آئی۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔ایکچولی۔۔ “نسواء کو کچھ بھی بہانہ نہیں مل رہا تھا جھوٹ بولنے کے لیے۔۔
“اٹس اوکے میم۔۔میں بس فکر مند ہورہی تھی ۔۔ اینڈ ڈونٹ ورری ڈاکٹر حورب کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔یہ میڈیسن ٹائم پر لینی ہے آپ نے اگر جلدی ٹھیک ہونا ہے تو۔۔۔”
پریسکریپشن دے کر وہ ڈاکٹر وہاں سے چلی گئی اور جانے کے وہ پھر سے تنہا تھی اس شخص کے ساتھ۔۔ جو ابھی بھی بےہوش تھا۔۔۔
۔
“نجیب۔۔۔”
وہ ایک نظر اس زخمی ہرجائی کو دیکھ رہی تھی اور ایک نظر باہر اسکے گارڈ پر تھے جنہوں نے عین وقت پر ان دونوں کو ریسکیو کیا بلکہ نسواء کے اسرار پر اسکی ویل چئیر نجیب کے روم میں بھی لیکر آئے۔ اور نسواء کے کہنے پر منہ بھی بند رکھا اپنا مننان کے سامنے ورنہ اب تک مننان سارا شہر سر پہ اٹھا چکا ہوتا ماں کے زخمی ہونے کا سنن کر۔۔۔
۔
“وفا نہ راس آئی۔۔۔ تجھے او ‘ہرجائی’۔۔۔”
۔
وہ لفٹ کا بٹن پریس کرکے وہاں سے چلی گئی تھی جاتے ہوئے اس کے دل میں ایک بار یہ ضرور آیا تھا وہ ایک آخری بار نجیب کا چہرہ دیکھ لے مگر اگلے ہی لمحے مننان کا چہرے اسکی آنکھوں کے سامنے آگیا تھا۔۔
۔
خدا حافظ۔۔۔
۔
“وعدوں کی لاشوں کو۔۔بول کہاں دفناؤں۔۔
خوابوں اور یادوں سے۔۔ کیسے تم کو مٹاؤں۔۔”
۔
۔
“میڈم پلیز اب چلیں مننان سر کی کال بار بار آرہی ہے۔۔”
۔
“میں اس سے بات کرلوں گی۔۔۔آپ بےفکر رہیں۔۔”
وہ لوگ ہاسپٹل سے جیسے ہی باہر آنے کو تھے ایمرجنسی روم سے حورب گلوووز اتارتے ہوئے باہر نکلی تھی اور جب ماسک اتار کر اس نے پاس سے والدہ کی چئیر کو گزرتے دیکھا تو اس کی نظر سیدھا ماتھے کی چوٹ پر پڑی تھی
“ماما۔۔۔؟؟”
“شٹ۔۔۔جلدی جلدی چلو۔۔۔”
وہ لوگ رکنے کے بجائے اور تیز ہوئے تھے
“سیریسلی ماما۔۔؟ پہچان لیا ہے میں۔۔”
وہ جلدی سے آگے آئی اور نسواء کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگی تھی
“حورب بیٹا میں ٹھیک۔۔”
“آپ نے جان بوجھ کر مکمل بینڈایج نہیں کروائی نہ۔۔؟ تاکہ ہمیں پتہ نہ چل جائے۔۔؟؟”
اسکی آنکھ سے آنسو کا قطرہ نکل کر نسواء کے ہاتھ پر گرا تھا۔۔
“ایم سوری میری جان۔۔اب میں ٹھیک ہوں “
حورب کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے نسواء نے تسلی دی
“جی بالکل وہ تو نظر آرہا ہے۔۔ یہ ٹھیک ہیں آپ۔۔؟؟ اتنا ڈیپ کٹ لگا ہے۔۔اور یہ دیکھیں۔۔۔ کس ڈاکٹر سے ٹریٹمنٹ کروایا۔۔؟؟ آپ کو سر پر چوٹ آئی۔۔اور تم لوگ۔۔؟؟”
وہ جتنی مسکرائی تھی نسواء کی ویل چئیر دیکھ کر اتنا ہی وہ غصے سے لال ہورہی تھی ماں کے سر پہ زخم دیکھ کر۔۔۔
بنا کچھ کہے اس نے ویل چئیر کا رخ موڑ دیاتھا اور اپنے کیبن کی طرف لے گئی تھی نسواء کا پروٹیسٹ بھی کسی کام نہیں آیا تھا نہ ہی کوئی ریکوئسٹ۔۔۔
“حورب بیٹا پلیز۔۔۔مننان کو مت بتانا۔۔وہ غصہ ہوگا۔۔”
“مجھ سے زیادہ نہیں۔۔اب چپ چاپ بیٹھ جائیں۔۔”
پھر سے نسواء کے زخم کو ایگزیمن کرنے کے بعد اس نے دوا لگائی تھی
اور پٹی کرنا شروع کی۔۔
نسواء کی آنکھیں بھر گئیں تھی وہ جب حورب کے کیبن میں آتی تو ایسے ہی جذباتی ہوجاتی تھی اپنی بیٹی کو اس مقام پر دیکھ کر۔۔۔
“ماما آپ جانتی ہیں آُ ایسے روئیں گی تو مجھے بھی رونا آئے گا اور میں آن ڈیوٹی جذباتی نہیں ہوتی۔۔”
“ہاہاہاہا اچھا سوری۔۔۔”
پٹی کرکے حورب نے نسواء کے سر پر بوسہ دیا تھا۔۔
“اب آپ یہیں رہیں۔۔ میں جوس بھیج رہی ہوں اور ساتھ دوائی درد نہیں ہوگا۔۔
ہم ساتھ گھر چلیں گے۔۔۔”
حورب کے پیجر پر ایمرجنسی کا نوٹیفیکیشن جیسے ہی آیا تھا وہ ماں کا چہرہ چوم کر اچھے سے اجازت لیکر گئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آپ کی دادی کو کل رات ہی ہارٹ اٹیک آیا ہے پلیز ہمیں اب واپس چلنا چاہیے اس سے پہلے کہ گھر سے کوئی آئے۔۔”
نجیب نے نظریں اٹھا کر کمرے میں دیکھا تھا جہاں کوئی نام و نشان نہ تھا نسواء کا
“دادی ٹھیک ہیں۔۔؟؟ اور نسواء۔۔۔نسواء کہاں ہے۔۔؟ وہ ٹھیک۔۔ ٹھیک تو ہے۔۔؟؟”
نجیب اٹھنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔۔اسکے لوگوں نے جو تھری پیس میں ملبوس تھے ایک دم سے اسے بازو سے پکڑ کر بٹھایا تھا
“سر وہ میڈم ٹھیک ہیں۔۔ کچھ دیر پہلے گئی ہیں۔۔”
“کہاں گئی ہیں۔۔؟ کس سے پوچھ کرگئی ہے۔۔ مجھے اسکے گھر کی اسکی زندگی کی سب انفارمیشن چاہیے۔۔۔”
۔
“سر۔۔ہمارے پاس انکی پراپر کوئی بھی تصویر۔۔”
“میں سینڈ کردوں گا۔۔ میں بھیج دوں گا اور جب میں پاکستان سے واپس آؤں تو مجھے سب معلومات چاہیے۔۔”
۔
نجیب کو سہارا دے کر وہ لوگ جیسے ہی اٹھانے کو تھے نجیب نے سب کا ہاتھ جھٹک دیا تھا
“ڈونٹ ٹچ مئ۔۔۔ٹانگیں نہیں ٹوٹی میری۔۔۔وہ لوگ کہاں ہے۔۔؟؟ جاوید پکڑا گیا یا نہیں۔۔؟؟ جس کی جرآت ہوئی میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی مجھے اسکے ہاتھ بیکار چاہیے۔۔”
“جی سر وہ سب ہماری گرفت میں ہیں آپ پاکستان سے واپس آجائیں تب تک انکے زخم روز تازہ کریں گے۔۔۔”
نجیب مطمئن ہوگیا تھا۔۔کچھ دیر میں اسکا پرائیویٹ جیٹ اسے وہاں سے لے جاچکا تھا۔۔
مگر اسکے دل و دماغ میں فقط ایک ہی چہرہ ایک ہی نام گردش کررہا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ سیکیور کیا میری ماں کو۔۔؟ یہ حفاظت کی۔۔؟؟ اسکے لیے منہ بھرتا ہوں تمہارا۔۔؟؟”
وہ شرٹ کی آستین چڑھاتے ہوئے سرونٹ کواٹر میں داخل ہوا تھا۔۔
“سر میم نے۔۔۔”
“یو باسٹرڈ۔۔۔۔زیرہ سیکیورٹی۔۔ اوپر سے مجھے جواب دیتے ہو۔۔”
وہ تو وہ مننان تھا ہی نہیں جو کچھ منٹ پہلے اپنی ماں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا رہا تھا۔۔
مننان کے پیچھے پیچھے اسکا دوست جو اسکا یہ روپ دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔۔
“مننان۔۔۔”
“یو سٹے آؤٹ آف دس۔۔۔ جاؤ یہاں سے۔۔”
مننان کا غصہ اسکا ہر گارڈ خاموشی سے برداشت کررہا تھا اسکی مار وہ چپ چاپ سہہ رہے تھے۔۔۔
ایک لمحہ ایسا آیا جب اسکا جنون اسکی وحشت۔۔ ہاتھوں میں خون اور وہ زخمی لوگوں کے درمیان اس ماں کا غرور اسکا مان اسکا بھرم گرا پڑا تھا
“مننان۔۔۔”
مننان کے ہاتھ سے چوکیدار کا راڈ نیچے گرگیا تھا جو ایگزیکٹلی نسواء کی چئیر کے پاس جا گرا تھا۔۔
نسواء کے لبوں سے نکلی سرگوشی پر مننان میں ہمت نہیں تھی کہ وہ پیچھے مڑ کر دروازے کی جانب دیکھے۔۔
“یہ۔۔یہ میری تربیت نہیں تھی مننان۔۔۔ تم۔۔تم کیا بن گئے ہو۔۔؟ تم میرے بیٹے ہی ہو۔۔؟ اتنا ظلم۔۔؟ تم نے ہاتھ کیسے اٹھا لیا۔۔؟؟”
“کیونکہ انکی وجہ سے آپ کو چوٹ آئی ماں۔۔۔”
“مر تو نہیں گئی تھی میں۔۔؟؟ چوٹ آئی تو میری غلطی تھی۔۔ اگر یہ لوگ نہ بچاتے تو ضرور مر جاتی۔۔۔یہ اور تم نے کوشش تو پھر بھی کی نہ ماں کو مارنے کی اپنا یہ روپ دکھا کر۔۔؟؟”
انکی باتوں کے درمیان سب روم سے باہر جا چکے تھے۔۔
“ماں۔۔۔”نیچے سے اٹھا کر وہ راڈ مننان نے نسواء کی گود میں رکھ دیا تھا
“آپ پلیز مجھے سزا دیں۔۔۔ مجھے ماریں مگر مجھ سے منہ نہ پھیریں ماں ۔۔۔ایم سوری معاف کردیجئے۔۔پلیز۔۔”
نسواء کے ہاتھوں کو ماتھے سے لگائے وہ سر جھکا چکا تھا اپنی ماں کے سامنے اسکے آنسو نسواء کے ہاتھوں کو مکمل بھگو چکے تھے وہ بچوں کے جیسے معافی مانگ رہا تھا نسواء اسے معاف کرنا چاہتی تھی لیکن اسکے اصول اسکی پرورش نے اسے مجبور کردیا تھا اپنے ہاتھ پیچھے کھنچنے پر۔۔
“یہ میری تربیت نہیں تھی مننان کسی کو نقصان پہنچانا سزا دینا۔۔ کسی کا بُرا سوچنا۔۔ کرنا تو دور کی بات ہے۔۔ تم تو ہر لمحہ میرے سامنے رہے تھے میرے بیٹا پھرتمہیں کیا ہوا۔۔؟ کب اتنے ظالم بن گئے۔۔”
“ماں۔۔۔”
“جب تک انکے زخم بھر نہیں جاتے تب تک میرے سامنے مت آنا۔۔۔”
۔
وہ یہ کہہ کر جیسے ہی اپنی چئیر کو باہر لے گئی تھی مننان نے شیشے کے دروازے پر ہاتھ مار کر مکمل توڑ دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“۔۔۔کچھ ماہ بعد۔۔۔”
۔
“ماہیر چھا گیا ہے یار۔۔۔ اتنی زبردست پارٹی ۔۔۔مزہ آگیا۔۔۔”
“ماہیر آئٹم چیک کر۔۔۔ریڈ سلوار سوٹ میں۔۔”
وہ جس طرف دیکھ رہے تھے اسی ڈائیریکشن سے فائلز پکڑے منیشہ اس وینیو میں داخل ہوئی تھی جہاں کوئی پارٹی چل رہی تھی جب منیشہ نے مننان کو فون کیا تو اس نے سیکنڈ فلور ‘ای-آئی-پی’ سیکشن میں وہ ڈاکومنٹس لانے کا کہا تھا۔۔ اتنے ڈانس کرتے لوگوں کی بھیڑ سے بچتے بچاتے وہ سیڑھیوں تک پہنچی تھی جب کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
۔
“بچھی پڑی ہے عاشقی تیرے قدموں میں۔۔۔”
ماہیر نے اس کے دوپٹے کو ہونٹوں کے قریب لے جاکر سرگوشی کی تھی جو اتنے قریب ہونے پر منیشہ کو سنائی دی تھی اپنا دوپٹہ کھینچ کر وہ مڑ ی تھی اس بدتمیز کو سبق سیکھانے کے لیے۔۔۔
“وااا۔۔۔۔ نور ہے بس نور ہے ان نظروں میں۔۔۔”
“ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔ بدتمیز۔۔۔”
اس نے ہاتھ اٹھا دیا تھا جو ماہیر نے پکڑ لیا تھا
“بےبی۔۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے اتنا وائلڈ ہونے کی۔۔؟ رات باقی ہے۔۔ کیوں فرینڈز۔۔؟؟”
منیشہ کو کھینچ کر اپنے دوستوں کی طرف پھینکا تھا۔۔۔
“کم آن لیٹس ڈانس۔۔۔”
وہ اسکے گرد دائرے کی صورت میں ایسے ہوٹنگ کرنے لگے تھے منیشہ بار بار اوپر شیشے کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں مننان کی میٹنگ چل رہی تھی مننان بیٹھا ہوا نظر آرہا تھا۔۔۔
“پلیز سر نیچے دیکھیں۔۔”
مننان کی نظریں تو نیچے نہیں پڑ رہی تھی ماہیر کی نظریں اس سے ہٹ نہیں رہی تھی
“کم آن۔۔۔ ڈانس کرو۔۔۔”
یہ کہتے وہ اور آگے ہوا تھا۔۔۔
“روپ کے جلووؤں کی ہائے کیا بات ہے۔۔۔
اک گناہ کردوں گناہ کی رات ہے۔۔۔”
ماہیر کہتے ہی منیشہ کا منہ ہاتھ میں دبوچ لیا تھا۔۔
“کم آن۔۔ پیسے دوں گا ریٹ بتاؤ۔۔۔”وہ فاصلہ جو ماہیر کم کرنا چاہتا تھا وہ کسی اور نے مزید بڑھا دیا۔۔ جو کوئی اور نہیں مننان خود تھا۔۔۔
ماہیر کو ایک مکا مار کر وہ منیشہ سے بہت دور کرچکا تھا
“گاڑی میں جاکر بیٹھو۔۔۔”
“پر سر۔۔۔”
“ایک بار میں سمجھ نہیں آتا۔۔؟؟”
وہ چلایا تو منیشہ ڈر کے ایگزٹ کی طرف بڑحی جب ماہیر کے دوست نے اسکا ہاتھ پکڑا
“اتنی بھی کیا جلدی ہے تمہارا عاشق زیادہ دیر ٹک نہیں پائے گا۔۔۔کیوں ماہیر۔۔؟”
ماہیر نے مننان پر وار کیا تھا۔۔۔ ان دونوں کی مسلسل لڑائی رہی اور مننان پھر اس کے دوستوں کو بے رحمی سے مار رہا تھا جب مننان کا ہاتھ کسی نے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“سرپلیز۔۔ چلیں یہاں سے۔۔۔آپ نہیں جانتے وہ کون ہے۔۔۔”
“کوئی بھی ہو مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔چلیں مس منیشہ۔۔۔”
وہ منیشہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے باہر لے جانے لگے تھا جب مینیجر نے نام لیا
“سر وہ نجیب آفندی کا بیٹا ہے ماہیر آفندی۔۔۔”
بس یہ سننے کی دیر تھی مننان شاک ہوا وہ کیسے نہ پہچان سکا اسے۔۔؟ شاید وہ ڈم لائٹ کی وجہ سے۔۔
مننان واپس زخمی ماہیر کی طرف بڑھا تھا سب کو لگا تھا وہ اس سے معافی مانگنے کے لیے ماہیر کے پاس جارہا ۔۔ مگر مننان کے ایکشن تو مخالف نکلے اس نے گریبان سے زخمی ماہیر کو اٹھا کر پھر سے مکے مار ے اور تب تک مارے جب تک وہ زخمی نہیں ہوگیا۔۔اور جب اس نے دیکھا لوگوں نے انکی ویڈیو بنانا شروع کردی تو اور غصے سے اس نے ماہیر کو انکے موبائل کیمرہ کے آگے پھینکا۔۔۔
“آج کے بعد کسی لڑکی کے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی کسی لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اسکی مرضی کے بغیر تو ہاتھ توڑ دوں گا۔۔۔چاہے تم کسی منسٹر کی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔۔”
۔
اسکی باتوں نے سامنے والے کا امیج اس قدر ڈیمیجڈ کردیا تھا اپنی باتوں سے کہ وہ تالیوں کی گونج اپنی گاڑی تک سن رہا تھا
“گاڑی میں بیٹھو۔۔۔”
وہ منیشہ کو بٹھا کر اپنے پرسنل گارڈ کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
“اس واقعے کو میڈیا کی زینت بنا دو۔۔۔ مگر منیشہ کا چہرہ کسی کو نظر نہیں آنا چاہیے۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب آفندی کے بیٹے کو ابھی تک ہوش نہیں آیا۔۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ اپنی فیملی کے ساتھ ہاسپٹل میں داخل ہوئے ہیں ۔۔”
میڈیا کو پارکنگ سے ہٹا دیا گیا تھا۔۔
نجیب آئی سی یو کے باہر کھڑا پینٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈالے اس شیشے سے اپنے بیٹے کو آپریٹ ہوتے دیکھ رہا تھا۔۔
سب فیملی ممبرز رو رہے تھے اور اسکے چہرے پر بلا کا غصہ تھا۔۔
اسکا ہیڈ آف سیکیورٹی آفیسر جیسے ہی اسکے پاس آیا تھا نجیب نے کالر سے پکڑ کر اسے اس شیشے کی ونڈو کے ساتھ پن کردیا تھا
“کس نے میرے بیٹے کی یہ حالت کی ہے۔۔؟ مجھے اس باسٹرڈ کا نام چاہیے۔۔ مجھے وہ ماہیر سے بھی بُری حالت میں نظر آئے۔۔”
“سر۔۔یہ لڑائی کسی لڑکی کی وجہ۔۔”
“مجھے وجہ نہیں چاہیے وہ باسٹرڈ چاہیے۔۔ کس کی ہمت ہوئی نجیب آفندی کے بیٹے پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟؟وہ یہاں کیوں نہیں ہے میرے قدموں کے نیچے۔۔؟؟”
نجیب نے اپنے ہی گارڈ کو بینچ پر پھینک دیا تھا
“نجیب بیٹا کنٹرول کرو خود پر۔۔۔”
نجیب کے والد نے کندھے پر ہاتھ رکھا تو نجیب نے ان کا ہاتھ بھی جھٹک دیا تھا
“کنٹرول کروں۔۔؟؟ اس حرام۔۔۔ نجیب گھر کی عورتوں کی طرف دیکھ کر چپ ہوگیا تھا گالی دیتے دیتے۔۔۔مجھے بس وہ چاہیے۔۔۔”
“کیسے لا دوں۔۔؟؟ وہ کوئی راہ چلتا شرابی نہیں ہے سر۔۔۔ میں بتا رہا ہوں اس لڑکی کے پیچھے ہوئی جس کو ماہیر سر حاصل کرنا چاہتے۔۔۔”
“تو وہ لڑکی ‘بھی’ لیکر آؤ اسکی فیملی لیکر آؤ۔۔۔ ماہیر کی آنکھ کھلنے سے پہلے وہ یہاں ہو۔۔
اگر وہ لڑکی ماہیر کی پسند ہے تو رشتہ کی بات کرو۔۔ ورنہ قیمت لگاؤ۔۔۔”
گارڈ نے ہونٹ سے خون صاف کرکے نجیب کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“آپ کو بیٹا نشے میں دھت اس لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کررہا تھا۔۔۔
وہ لڑکی سیکریٹری ہے اس کی جس نے آپ کے بیٹے کو اتنا زخمی کرکے ہسپتال پہنچا دیا۔۔
وہ بزنس کی دنیا میں آنے والا نیا نام ہے۔۔ اور اسکا نام کافی ہے اسکی کامیابی کی داستان بتانے کے لیے۔۔۔”
وہ گارڈ کہتے ہوئے جانے لگے تھے جب نجیب نے اسکو گریبان سے پکڑا تھا
“نام کیا ہے اس باسٹرڈ کا۔۔؟؟”
۔
“مننان آمین احمد۔۔۔’ این اینڈ ایچ کو، جیسے مشہور برینڈ کمپنی کے ‘سی ای او’۔۔۔”
۔
“میرے پاس لیکر آؤ اسے۔۔۔”
نجیب کو جو حیرانگی نام سن کر ہوئی تھی اس نے اگلے ہی لمحے وہ وہم یہ کہہ کر درگزر کردیا کہ اسکا بیٹا اتنا قابل کیسے ہوسکتا ہے۔۔ جس کی ماں ویل چئیر پر آگئی ہو۔۔۔”
“سر ہماری کمپنی پچھلے کچھ ماہ سے ان سے اپاؤنٹمنٹ لینے کی کوشش کررہی ہے جو ناممکن ہے اگلے سال تک۔۔۔”
“ڈیم اِٹ وہ مجھے میرے سامنے چاہیے۔۔۔ ہر حال میں۔۔ ایسے نہیں مانتا تو اسکی کمزوری پکڑو۔۔اور اسے۔۔۔”
“سر نیکسٹ منتھ ایک بال ایونٹ ہے۔۔ وہاں سب بزنس مین آرہے ہیں اور وہ بھی وہاں موجود ہوں گے۔۔۔”
“تو میں انتظار کروں اس کا۔۔؟ یہاں میرا بیٹا اسکی وجہ سے دیتھ بیڈ پر موجود ہے اور تم کہہ رہے ہو کسی پارٹی کے انتظار میں بیٹھوں۔۔؟؟”
ابھی انکی باتیں چل رہی تھی جب آفندی صاحب نے اپنے بیٹے کے کندھے پر پھر سے ہاتھ رکھا۔۔
“اس گھٹیا آدمی کو ہم پکڑ لیں گے بیٹا ابھی گھر کی خواتین کے سامنے ایسے بات نہ کرو۔۔ عمارہ کی حالت دیکھو۔۔اسکے پاس جاؤ اسے تسلی دو۔۔”
۔
“ہاں جیسے میرے پاس اور کوئی کام نہیں ہے اسکو تسلیاں دینے کے علاوہ۔۔؟؟
اور کر کیا رہی ہے وہ یہاں۔۔؟”
نجیب نے طیش میں آکر پوچھا تھا۔۔۔
“کیا مطلب کیا کررہی ہے۔۔؟ بہو ہے اس گھر کی بڑی بہو۔۔ اپنے بیٹے کے پاس۔۔۔”
“ہمارے خاندان کی بڑی بہو نسواء ہے۔۔۔”
نجیب آفندی کی آواز گونجی تو وہ سب کی توجہ حاصل کرچکی تھی
“نجیب۔۔۔”
“جی ۔۔ آپ نے ٹھیک سنا نسواء میری بیوی۔۔ آپ کی بڑی بہو۔۔ بہت جلدی واپس لے آؤں گا اسے۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
