62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

“مننان بیٹا ہماری فیملی میں موسٹ ویلکم۔۔۔”
“نانو آپ نہیں ملیں گے مننان کو۔۔؟؟”
لیزا آفندی صاحب کو کھینچ کر مننان کے سامنے لے آئی تھی۔۔کیا وہ لوگ اتنے ناسمجھ تھے جو مننان کو پہچان نہیں پارہے تھے۔۔؟
کیا یہ بھی مننان کا پلان تھا۔۔؟ لیزا بھی ری ایکٹ نہیں کررہی تھی
یا سب جان بوجھ کر نسواء یا مننان کی فیملی کا پوچھ نہیں رہے تھے۔۔؟؟
۔
“میٹ مائی ہزبنڈ مننان امین احمد۔۔۔”
اپنے کزنز سے ملواتے ہوئے بہت فخر سے اس کا پورا نام لے رہی تھی۔۔
نکاح ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا۔۔اور اس ایک گھنٹے میں جانے کتنی بار مننان نے گیٹ کی جانب دیکھا تھا
۔
“میں ابھی آیا۔۔”
لیزا کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ واپس گھر کی جانب گیا تھا اور ٹھیک اسی جگہ جہاں منیشہ کو چھوڑ کر گیا تھا۔۔
پر اب وہاں کچھ نہیں تھا۔۔ لیکن زمین پر ایک چمکداار چیز دیکھ کر وہ جھکا تھا۔۔اور وہ انگوٹھی دیکھ کر حیران ہوا تھا وہ جو اس نے منگنی والے دن اسے پہنائی تھی۔۔
۔
“ابھی اور بہت ہے مس منیشہ۔۔ ابھی تو میرا بدلہ شروع ہوا ہے جب تک تم اعتراف نہیں کرو گی اپنی سازش کا تب تک میں تمہیں سزا دیتا رہوں گا۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم اس قابل نہیں ہو کہ کوئی تم سے شادی کر سکے۔۔”
مننان کی کہی باتیں گول دائرے کی طرح اسکے گرد گھومنے لگی تھئ
“میں اس قابل کیوں نہیں ہوں۔۔؟ میں کس قابل ہوں ماہیر۔۔؟؟”
ماہیر نے گاڑی اپارٹمنٹ کے سامنے روک دی تھی پر منیشہ کا رونا تھم نہ سکا
وہ بہت مشکل سے اسے یہاں تک لیکر آیا تھا۔۔ابھی تک اسے لگ رہا تھا کہ مننان اسکی کزن سے شادی نہیں کرے گا کوئی کیسے منیشہ جیسی لڑکی کو ٹھکرا سکتا ہے۔۔؟
پر آج شاید اس نے مننان کا اصل روپ دیکھ لیا تھا
“خبر دار ایسا کچھ سوچا تو۔۔ ابھی تم تھک گئی ہو ہم کل صبح بات کریں گے۔۔”
وہ اسے سہارا دیتے ہوئے اسکے اپارٹمنٹ میں لے گیا تھا اسکے پرس سے چابی نکالے جیسے ہی دروازہ کھولا وہ دیوار کے ساتھ لگ کر زمین پر بیٹھ گئی تھی۔۔
“میں نے اس سے بہت محبت تھی میری پہلی محبت اتنی ظالم کیسے ہوگئی وہ میرا منگیتر بھی تھا۔۔وہ۔۔”
“وٹ ربیش منیشہ۔۔۔ مننان اور تمہارا فیانسی۔۔؟ “
“یقین نہیں آرہا۔۔؟ کیوں آئے گا۔۔ اس شخص نے کسی کو خبر نہ ہونے دی اب سمجھ آئی مجھے۔۔ میں بس۔۔”
گھٹنوں میں سر چھپائے وہ روتے ہوئے ماہیر کی ہر توجہ کو حاصل کرچکی تھی
“منیشہ یہ وقت گزر جائے گا۔۔ میں کہہ رہا ہوں تم۔۔۔”
منیشہ جیسے اسکے گلے لگی تھی اسکی بولتی بند ہوگئی تھی۔۔کتنی دیر وہ سسکیاں لیتی اس لڑکی کو چپ کرواتا رہا۔۔جو کچھ دن پہلے اسے حاصل کرنے کے پلان بنا رہا تھا اب وہ اسکے اتنا قریب تھی تو اسکے دماغ میں کوئی پلان نہیں چل رہا تھا بلکہ دل میں ایک درد ہورہا تھا اس لڑکی کو تکلیف میں دیکھ کر۔۔
“میں اسے دیکھ لوں گا منیشہ۔۔ اس نے جان بوجھ کر تمہارے ساتھ یہ سب کیا۔۔
میں دیکھ لوں گا اسے۔۔”
منیشہ کی طرف سے کوئی جواب نہ پاکر جب اسکے چہرے سے بال پیچھے کئیے تو اسے گہری نیند سویا ہوا پایا۔۔
“میرا وعدہ ہے میں اسکا سایہ بھی تم پر پڑنے نہیں دوں گا۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“منیشہ۔۔۔منیشہ۔۔۔”
وہ سب کمرے چھان چکا تھا مگر اس لڑکی کا نام و نشان نہ ملا آخر کار اس نے گیٹ کیپر سے پوچھا جس نے منیشہ کے ساتھ جانے والے اس شخص کا بتا کر مننان کو شاکڈ کردیا تھا
“اسکی اتنی ہمت کیسے ہوئی وہ۔۔”
“مننان بیٹا۔۔۔”
دادی کی آواز نے اس چونکا دیا تھا
“تم نسواء کے بیٹے ہو نہ۔۔؟ مننان میرے بچے۔۔”
مننان کے ماتھے پر بوسہ دینے لگی تھی جب مننان پیچھے ہوگیا تھا
“میں کسی کا بچہ نہیں ہو مسز آفندی۔۔ مجھ سے رشتے داری بنانے کی کوشش بھی مت کیجئے گا۔۔”
وہ انہیں لاجواب چھوڑ گیا تھا
“نسواء کہاں ہے۔۔؟؟ کہیں میرا شک سچ ثابت نہ ہواجائے کہیں بدلے کی آگ میں مننان سب برباد نہ کردے۔۔”
دادی نے آنکھیں صاف کرکے چشمہ پھر سے پہن لیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“لیزا کے ساتھ وہ اس وقت بہت خوش نظر آرہا تھا۔۔ اسکی فیملی کے ساتھ وہ خوش تھا۔۔
لیزا کی موم بار بار نظر اتار رہی تھی یہاں ایک جشن کا سما تھا
اور وہاں انہی کی بیٹی غیر کی بانہوں میں اپنی اجڑی دنیا کا رونا رو رہی تھی۔۔۔
۔
اور دوسری طرف وہ ماں جو خوشی خوشی اپنے علاج کی شروعاتکر چکی تھی
جو کھیل مننان نے شروع کیا تھا اگر اسکے بھیانک اختتام کی بھنک اسے لگ جاتی تو شاید۔۔ شاید وہ آج شادی جتنا بڑا قدم اٹھان سے پہلے سوچ لیتا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تھینک یو سو مچ سر۔۔”
“آپ کی مدر نے ٹریٹمنٹ میں زرا سی دیر کردی ہے ڈاکٹر حورب ورنہ چانسز تو 70 فیصد تھے”
“پلیز ڈاکٹر ایسے نہ کہیں ہم بہت امید کے ساتھ یہاں آئے ہیں آپ نے وہ وہ کیس بھی حل کئیے جن میں چانسز صرف پانچ فیصد تھے”
“ڈونٹ ورری ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے بس میڈیسن آج سے شروع کریں۔۔ “
کچھ دیر اور انسٹرکشن دینے کے بعد ڈاکٹرز کی ٹیم وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
حورب جلدی جلدی پرائیویٹ روم میں داخل ہوئی تھی جب نسواء بوکھلاہٹ میں پانی کا گلاس نیچے پھینک کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی پردے کے آگے
“بیٹا۔۔اتنی جلدی واپس آگئی۔۔؟ مجھے لگا تھا لیٹ ہوجاؤ گی۔۔اب ہم چلیں گھر۔۔؟”
وہ پردے کے آگے سے ہٹ نہیں رہی تھی جس پر حورب کا شک یقین میں بدل گیا تھا جب اس نےشوز دیکھے تھے جو بتا رہے تھے پردے کے پیچھے کسی کے چھپنے کا۔۔”
“جی ابھی کے لیے گھر جارہے ہیں آپ جلدی سے کپڑے چینج کرلیں۔۔”
نسواء آہستہ آواز میں کچھ کہہ کر گئی تھی جو حورب کو سمجھ نہ آئی پر پردے کے ہلنےپر اسکے منہ پر بےساختہ ہنسی چھا گئی تھی
“اب آپ باہر آسکتے ہیں۔۔”
پر وہ شوز اور پیچھے ہوچکے تھے اور اندر چھپ چکے تھے باہر آنے کے بجائے۔۔
اور آہستہ آہستہ پردہ ہٹایا تو نجیب صاحب سر جھکا کر کھڑے ہوگئے تھے
“دیکھیں زرا کتنے جالے لگ گئے ہیں۔۔”
چہرے پر سے ٹشو سے ڈس صاف کرتے ہوئے اس نے ہاتھ پکڑ کر جیسے ہی نجیب کو اس جگہ سے باہر لائی نسواء بھی باتھروم سے باہر آچکی تھی
“میں نے کہا تھا جائیں۔۔پکڑے گے نہ۔۔”
“مجھے کیا پتہ تھا نسواء میں تو پوری کوشش کررہا تھا چھپنے کی۔۔”
“اسے چھپنا کہتے ہیں۔۔؟؟ بابون جیسے آپ اتنی سی جگہ میں چھپ سکتے تھے بھلا۔۔؟”
“آپ مجھے موٹا کہہ رہی ہیں نسواء۔۔؟؟ “
“اتنی باتوں میں آپ کو ایک ہی بات نظر آرہی ہے۔۔؟ اب وہ کیا سوچتی ہوگی۔۔؟”
بیٹی کو اگنور کئیے وہ دونوں اپنی بحث میں مصروف ہوچکے تھے جب حورب کی ہنسی نے ان دونوں کو چپ کروایا تھا
“ہاہاہاہاہاہا بابون۔۔؟؟ موم سیریسلی۔۔؟؟”
اور نسواء بھی قہقہ لگا کر ہنسی تھی اور نجیب صاحب منہ بنا کر بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔۔
“دیکھیں ابھی بھی جالے لگے ہیں۔۔ موم آپ صاف کیجئے میں ابھی آئی۔۔”
وہ ٹشو باکس نسواء کو دہ کر چلی گئی تھی
“سیریسلی نجیب۔۔؟ آپ یہاں کر کیا رہے ہیں۔۔؟؟ یہاں بھی لگا ہوا ہے۔۔”
نسواء نے ٹشو دیا تھا پھر نجیب نے پکڑا نہیں اور ویسے ہی منہ بنا کر بیٹھے رہے
نسواء نے ٹشو لیکر خود انکے پاس بیڈ پر بیٹھ کر انکا چہرہ اپنی طرف کئیے صاف کرنا شروع کردیا۔۔
“ویسے کہنا تو نہیں چاہیے۔۔ پر آپ ایسے ناراض بیٹھے بہت کیوٹ لگ رہے ہیں کسی معصوم بچے کی طرح۔۔”
“پہلے بابون کہا پھر بچہ اور اب کیوٹ۔۔ نسواء آپ کرلیں تنگ جتنا کرنا ہے۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ یا اللہ۔۔۔”
ہنستے ہوئے کب انہوں نے نجیب کی ناک پر کس کرکے انہیں اور خود کو شاک دہ دیا۔۔۔
“نسواء۔۔۔”وہ نسواء کی آنکھوں میں کھو گئے تھے پر حورب کے گلہ صاف کرنے کی آواز نے ایک جھٹکے سے نسواء کو اٹھنے پر مجبور کردیا۔۔
“ایم سوری۔۔ پر یہ ہاسپٹل ہے اور میں سخت خلاف ہوں اوپن رومینس کے۔۔ اور پلیز۔۔اپنی ایج کا لحاظ کریں۔۔ جوان بیٹی آگے پیچھے گھوم رہی ہے اور آپ دونوں۔۔؟؟”
ہاتھ باندھے اس نے دونوں کی کلاس لے دی تھی جو کسی مجرم کی طرح کھڑے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔اوکے۔۔۔ ایم سوری۔۔۔۔ہاہاہاہا آپ دونوں اپنے فیس دیکھیں۔۔۔
ہاہاہاموم۔۔۔”
“حورب کی بچی۔۔۔”
وہ ماں بیٹی روم سے باہر چلی گئی تھی پیچھے مسکراتے ہوئے نجیب کو چھوڑ کر۔۔۔
“دوسری شادی کے چکر میں مرد سچ میں پاگل ہوجاتا ہے جو اسے اپنی بےپناہ خوشیاں بھی نظر نہیں آتی۔۔۔
پر اب نہیں نسواء۔۔ ساری زندگی آپ کے لیے جو نہ کر سکا وہ اب کروں گا۔۔
سب ٹھیک کرکے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“منیشہ۔۔۔منیشہ اوپن دا ڈیم ڈور۔۔۔”
مننان کی آواز ہر سو گونج رہی تھی پر اندر سے کوئی جواب نہ ملا تھا
وہ رات کے اس پہر پچھلے تین گھنٹے سےایسے ہی دستک دہ رہا تھا پر کوئی جواب نہ تھا
“میں جانتا ہوں تم سن رہی ہو مجھے۔۔۔ منیشہ کیا لگ رہا ہے۔۔؟؟ تمہیں کیا لگا تھا میں بیوقوف بنتا جاؤں گا۔۔؟؟ تمہاری رگوں میں جس کا خون ہے وہ میرے دشمن جن کے ساتھ مل کر تم نے ابھی تک یہ سب ڈرامہ کیا۔۔
مس منیشہ آپ کی محنت تو بیکار چلی گئی دیکھو میری شادی ہوگئی ہے۔۔اور کل ہنی مون پر بھی جا رہا ہوں میں۔۔۔منیشہ۔۔۔۔”
وہ جو کانوں پر ہاتھ رکھے اسی دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی
مننان نے جس طرح اسکا نام پکارا ایسا لگا جیسے اسکے جسم میں پھر سے جان ڈال دی ہو۔۔
“منیشہ۔۔ میں نے تم سے کبھی پیار نہیں کیا تھا۔۔۔ میں نے لیزا سے محبت کی ہمیشہ۔۔ اور دیکھو شادی بھی اسی سے کی۔۔ اب تمہیں اپنی اوقات کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔۔؟؟”
اندر بیٹھی وہ ہاں میں سر ہلائے جا رہی تھی
“ہاں ہوگیا اندازہ۔۔۔ ماں باپ نے یتیم خانے پھینک دیا ایک بڑے خاندان نے پہچاننے سے انکار کردیا۔۔ اور آپ نے اپنانے سے مننان۔۔ مجھے اپنی اوقات کا اندازہ ہوگیا ہے”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔”
۔
“ماں ابھی آپ واپس نہیں جاسکتی اسی ویک سرجری ہے۔۔”
“بیٹا میری بات نہیں ہوئی منیشہ سے۔۔ مننان بس ایک بار ملنے آیا تھا۔۔ وہاں کچھ تو گڑ بڑھ ہے جو منیشہ نے فون تک اٹھانا بند کردیا ہے میرا۔۔”
“موم میں بات کروں گی۔۔ بلکہ اسے یہاں لے آؤں گی۔۔۔”
“میرے وہاں جانے پر کیا مسئلہ ہے۔۔؟ میں۔۔”
“میم۔۔”
دروازے پر مننان کے اسسٹنٹ کو دیکھ کر نسواء کے دل میں ایک بےچینی ہوئی تھی
“شہریار بیٹا۔۔ آپ یہاں۔۔؟ سب خیریت ہے۔۔؟؟”
“میم۔۔۔ ایم سوری۔۔ میں بہت مجبور ہوکر یہاں آیا ہوں۔۔مننان سر نے انتہا کردی ہے اس لڑکی کی زندگی برباد کرنے میں۔۔ شادی کرنے کے بعد بھی وہ اسے۔۔”
“کونسی شادی۔۔؟؟ کیا بات کررہے ہو۔۔؟؟ مننان نے کیا کردیا ہے۔۔؟؟”
“آپ کو کچھ نہیں معلوم۔۔؟؟ مننان سر نے مس لیزا سے شادی کرلی تھی۔۔اور۔۔”
“ایک منٹ۔۔۔”
حورب نے اس شخص کو جلدی سے روک دیا تھا اپنی ماں کی حالت دیکھ کر
“مسٹر شہریار۔۔ماں بیمار ہے اسی ہفتے سرجری ہے اور آپ یہ سب جھوۓٹ باتیں بتا کر انہیں پریشان۔”
حورب نے آنکھ کے اشارے سے شہریا ر کو خاموش ہونے کا کہا تھا
“بس حورب بیٹا۔۔۔ روم سے باہر جاؤ۔۔۔آپ نہیں مسٹر شہریار آپ یہیں بیٹھیے اور بتائیں مجھے کیا کیا میرے بیٹے نے۔۔”
“موم آپ کی طبیعت۔۔”
“آؤٹ۔۔۔ناؤ۔۔۔”
غصے سے مٹھی بند کئیے نسواء نے جیسے ہی کہا حورب وہاں سے چلی گئی تھی پر جاتے ہی جلدی جلدی نجیب صاحب کا ہاتھ کھینچ کر وہاں روم کے باہر چھوڑ گئی تھی
“اندر موم کے پاس جائیں پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔”
“پر بیٹا۔۔”
وہ اندر بھیج کر دروازہ بند کرچکی تھی۔۔۔ نسواء کا منہ دوسری طرف تھا اور وہ شہریار کو سب بتانے کا کہہ چکی تھی
۔
اور جو باتیں شہریار نے بتانا شروع کی تھی وہ اسکے ذہن و گماں میں بھی نہیں تھی کہ اسکا بیٹا ایسا بھی کرسکتا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان کہاں ہے۔۔؟؟”
“میم سر ایک ضروری میٹنگ میں ہیں آپ انکے کیبن میں بیٹھے۔۔”
نسواء تو جیسے مشن پر تھی۔۔۔ وہ سٹاف کو پیچھے کرتی ہوئی کانفرنس روم تک جا پہنچی تھی
“ماں آپ۔۔؟؟ میں آج شام کی فلائٹ سے۔۔”
مننان انکے سامنے جیسے ہی آیا تھا ایک زور دار تھپڑ سے اسکا منہ دوسری طرف ہوگیا تھا۔۔
مننان کے اسسٹنٹ نے جلدی سے سب ممبرز کو روم سے باہر جانے کا کہہ دیا تھا کچھ منٹ میں بس وہ دونوں تھے اور دروازے پر نجیب جو نسواء کو روکنے آئے تھے
“ماں۔۔”
“مر گئی تمہاری ماں مار دیا تم نے اسے۔۔ تمہیں شرم نہ آئی اس یتیم بچی کے ساتھ ایسے کرتے ہوئے۔۔؟ کیا قصور تھا منیشہ کا۔۔؟؟”
“وہ ملی ہوئی تھی اس خاندان کے ساتھ آپ جانتی ہیں وہ کون ہے۔۔؟؟ وہ نجیب آفندی کی بھانجی ہے ماں۔۔ اس عورت کی بیٹی جس نے اس شخص کی دوسری شادی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا آپ کی زندگی تباہ کرنے میں اس عورت کا اتنا ہی ہاتھ تھا وہ بیٹی ہے اس عورت کی۔۔۔”
“ہاں تھی تو۔۔؟؟ جانتی ہوں پہلے دن سے میں اسے۔۔ پر کیا تم نے سچ جاننے کی کوشش کی۔۔؟ کوشش کی کیوں مجھے اس بچی کے ساتھ اتنا لگاؤ تھا۔۔؟؟”
وہ ماں بیٹے کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی جب نجیب الٹے قدم اس روم سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔ اس بچی کی تلاش میں جسے بچپن میں یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ وہ اس آدمی کا خون ہے جس نے انکی بہن کو دھوکا دیا۔۔۔
۔
نجیب آفندی اس بچی کو ڈھوندنے کے لیے نکل گئے تھے مننان کے آفس سے۔۔
۔
“آپ کچھ نہیں جانتی۔۔ معصوم ہیں آپ اس لڑکی نے فائدہ۔۔”
“پانچ سال کی عمر میں اس بچی کو ایک یتیم خانے میں چھوڑ دیا گیا تھا پانچ سال کی عمر میں۔۔۔
میں سمجھتی تھی یہ خاندان والے بس میرے لیے اتنے ظالم تھے۔۔۔انکے ظلم کی انتہا میں نے اس بچی کے روپ میں دیکھی۔۔۔تب سے اب تک وہ محنت کرتی رہی اپنا مقام بناتی رہی۔۔ اس نے۔۔۔ اس میں مجھے میں نظر آتی تھی۔۔ وہ اتنی اذیتوں بھری زندگی گزارتی رہی۔۔۔ میں چاہتی تھی اسکی شادی تم سے ہو مننان۔۔ تم اسکے غموں کا مداوا کرو مرہم رکھنا اسکے زخموں پر یہ میں چاہتی تھی پر تم نے۔۔۔
تم نے کیا کردیا۔۔؟؟”
ایک اور زور دار تھپڑ اپنے بیٹے کو مارا تھا انہوں نے۔۔۔
“وہ میری پسند سے جسے تم نے ٹھکرا کر ایک ایسی لڑکی کو اپنی پسند بنایا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے منیشہ جانتی تھی اس خاندان کو پہچانتی تھی۔۔۔
اپنی چھوٹی بہن کی شادی اس شخص سے ہوتے دیکھ کیا گزری ہوگی۔۔؟؟ اسکی نظروں میں میں بھی جھوٹی مکار ثابت ہوگئی۔۔”
“ماں۔”
“مت کہو مجھے ماں۔۔ مر گئی تمہاری ماں تمہارے لیے۔۔۔ تم نے آج ثابت کردیا خون کی تاثیر نہیں بدلتی تم میں میری تربیت نہیں نجیب آفندی کا خون بول رہا ہے۔۔لے لیا بدلہ۔۔؟؟ اس بدلے میں تم نے سب کچھ پا کر اپنی ماں کو کھو دیا ہے۔۔۔
جو منیشہ کے ساتھ تم نے کردیا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی یاد رکھنا
مننان نجیب آفندی۔۔”
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔