62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

“بیوقوف عورت کس سے پوچھ کر تم نے میرے بچے کو نقصان پہنچایا۔۔؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔ مار دیا میرے بچے کو جاہل عورت۔۔۔”
عمارہ کو بازو سے پکڑ کر وہ کھینچتے ہوئے گھر لایا تھا اور بیڈروم میں لے گیا تھا غصے سے سب کے سامنے اسکے منہ سے ادا ہوئے الفاظ سب نے ہی سن لئیے تھے
“دادی۔۔” دادی جیسے ہی پیچھے صوفے پر گری تھی سب دادی کی طرف بھاگے تھے
“اس گھر کی بربادی شروع ہوچکی ہے نسواء کے جانے کے بعد سب کچھ ہی غلط ہورہا ہے۔۔”
“امی پلیز آپ رونا بند کریں۔۔ آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی پلیز۔۔”
دونوں بیٹے دادی کو اٹھا کر انکے کمرے میں لے گئے تھے
“یہ سب کیا ہورہا ہے ماہ جبین بھابھی۔۔؟ ابھی پرسو ہی تو یہ خوش خبری ملی تھی اور آج یہ
سب۔۔۔؟”
“نوشین میں خود بھی نہیں جانتی۔۔ میں دیکھتی ہوں۔۔”
وہ اوپر جاتے جاتے رکیں تھی جب تھپڑ کی گونج اور پھر عمارہ کی چیخ انہیں سنائی دی تھی
انہیں نے واپس مڑ کر باقی خواتین کو دیکھا تھا پہلی بار۔۔ نجیب نے ہاتھ اٹھایا تھا کسی پر اور وہ اسکی اپنی بیوی تھی جسے وہ اتنے چاو سے بیاہ کرلایا تھا
۔
“نجیب۔۔۔مجھے لگا تھا کہ آپ کو بچے پسند نہیں آپ نے خود بتایا تھا مجھے آپ کے بیٹے کے آنے کے بعد آپ کی وائف کیسے آپ سے دور ہوتی چلی گئی۔۔ میں آپ سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی نجیب۔۔”
وہ روتے ہوئے نجیب کے قدموں پر گر گئی تھی نجیب نے مٹھی بند کرلی تھی غصے میں
“بس بکواس نہیں کرو۔۔ اپنی غلطی ماننے کے بجائے سارا الزام مجھ پر لگا رہی ہو۔۔؟
کچھ شرم کرو۔۔ آج سے تمہارا باہر جانا بند شاپنگ بند تمہارا خرچہ بند۔۔۔ جب تک تم پھر سے پریگننٹ نہیں ہوجاتی تمہیں کوئی آسائش نہیں ملے گی سنا تم نے۔۔۔”
اپنی ٹانگ سے وہ اسکا وجود پیچھے دھکیل چکا تھا۔۔
وہ باہر جانے کے لیے مڑا تھا اور دیوار پر غصے پر ہاتھ مارا تھا اس نے اور نفرت بھری نگاہ سے اپنی بیوی کو دیکھا تھا جو فرش پر سر رکھے زارو قطار رو رہی تھی
“وہ وہاں۔۔ اپنی اولد کے ساتھ ہے۔۔۔ اور تمہاری وجہ سے میں نامکمل ہوں۔۔ لوگوں کو تماشا دیکھنے میں مزہ آئے گا۔۔
مجھے نامرد سمجھے گے۔۔ سوچیں گے کہ میں پہلی بیوی کے سوگ میں آگے نہ بڑھ سکا۔۔؟
میں سب کو غلط ثابت کروں گا۔۔ میں آگے بڑھوں گا۔۔ میری اولاد ہوگی۔۔ اور جب نسواء مجھے اس اولاد کو محبت کرتے دیکھے گی تو وہ اپنے ہر فیصلے پر پچھتائے گی۔۔ اپنی ہر بغاوت پر وہ خون کے آنسو روئے گی۔۔۔ دیکھ لینا۔۔۔”
۔
اور دروازہ زور سے بند کرکے وہ گھر سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
۔
“ڈیم یو نسواء۔۔۔ “
گاڑی کے ٹائر پر کک ماری تھی اس نے۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں ہونے والی ہر ناکامی کا قصوروار اب نسواء کو ٹھہرانے لگا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء بیٹا اس آخری ٹیسٹ کے بعد ہم گھر چلے جائیں گی۔۔”
اوفینیج کی کیر ٹیکر اور اس ریسٹورنٹ کے مینیجر زبردستی نسواء کو ہسپتال لے آئے تھے۔۔ ان تینوں کے پیچھے پیچھے مننان خاموشی سے چل رہا تھا وہ کبھی اپنی ماں کے قدموں کو دیکھ رہا تھا تو کبھی اس ہسپتال ماحول کو۔۔
“مننان بیٹا آپ یہی رہو ہم لوگ یہ ایک ٹیسٹ کرو کے آتے ہیں واپس۔۔”
“ماما جہاں بھی جائیں گی میں ساتھ جاؤں گا سر۔۔”
دو سٹیپ وہ آگے آکر نسواء کا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جانم دیکھ لو۔۔ مٹ گئی دوریاں۔۔۔
میں یہاں ہوں۔۔ یہاں ہوں۔۔۔یہاں۔۔۔”
۔
“نجیب۔۔۔۔ اففو۔۔۔ ابھی میک اپ کیا تھا سب خراب کردیا۔۔۔پیچھے ہٹئیے۔۔۔”
وہ ساڑھی کے پلو کو واپس کندھے پر رکھے خود کو شیشے میں دیکھتے ہوئی بولی تھی
“نہیں ہٹوں گا۔۔ اور میں نے میک اپ کب خراب کیا نسواء بیگم۔۔؟ بس لپ اسٹک ہی خراب ہوئی ہے۔۔ اور اتنا ڈارک ریڈ کلر کون لگاتا ہے۔۔؟؟”
ساڑھی کی سلوٹیں ٹھیک کرتے ان ہاتھوں کو نسواء کی بیک پر مڑور کر اپنی طرف کھینچا تھا اسے
“جس نے ریڈ کلر پہنا ہو ظاہر ہے وہ ویسا ہی کلر لگائے گا۔۔ اب چھوڑئیے نہ۔۔۔”
وہ بےتاب ہورہی تھی مچلتے ہوئے خود کو نجیب کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش میں تھی جو اینجوائے کررہا تھا ہر اس لمحے کو۔۔
“چھوڑنے کے لیے نہیں لیا آغوش میں۔۔۔ اس کلر میں آپ مجھے اتنا ٹیمپٹ کرچکی ہیں کہ اب میرا ارادہ نہیں ہے یہاں سے کسی بھی گیٹ ٹو گیدر میں جانے کا۔۔۔”
“نجیب۔۔۔ آپ نے زبان دی تھی۔۔۔”
نسواء کے بگڑتے چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ بےساختہ ہنس دیا
“ایسا کیا ہے وہاں جو میری بانہوں سے جانے کی اتنی جلدی ہے۔۔؟ میں چاہتا تھا کہ ہم وقت ساتھ گزاریں۔۔مگر آپ۔۔۔”
۔
“وہ نسواء کو اپنی بانہوں کی قید سے آزاد کر کے ٹرن ہوچکا تھا۔۔۔وی جیسے ہی آگے بڑھا نسواء بیک سے اسے ہگ کرچکی تھی
“ایم سوری نجیب۔۔۔ کبھی کبھی بہت ہرٹ جاتی ہوں آپ کو۔۔۔؟؟”
کندھے پر ہونٹ رکھے اس نے نجیب کے سینے پر ہاتھ رکھے تھے
“کبھی کبھی۔۔؟؟ ہر وقت میری جان۔۔۔ “
ان ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے وہ خاموش ہوگیا تھا۔۔۔ کتنی دیر وہ ایسے ہی ایک دوسرے کی نزدیکی میں خود کو بھول بیٹھے تھے جب نسواء نے نجیب کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھے وہ جذبات پھر سے جگا دئیے تھے نجیب کی آنکھوں میں
“اب باہر نہیں جانا۔۔۔؟؟”
“نہیں اب باہر کی دنیا میں نہیں کھونا اب آپ کی آغوش میں گم ہونا ہے۔۔۔”
۔
۔
“سر۔۔۔سر۔۔۔”
کیبن ڈور ناک ہوا تو نجیب کی سیکٹری نے آہستہ سے دروازہ کھولا تھا۔۔
و ہ جیسے ہی مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوا ایک پل کو نجیب شاکڈ ہوا تھا اپنی پرسنل سیکٹری کی شارٹ ڈریسنگ دیکھ کر۔۔
“سر کافی۔۔۔”
وہ کافی مگ ٹیبل پر رکھے ہوئے اس قدر جھکی تھی کی لونگ شرٹ کے اوپن بٹن ایک الگ انویٹیشن دے رہے تھے۔۔
نجیب نے غصے سے ہاتھ بند کرکے کرسی کو باہر ونڈو کی طرف کرلیا تھا
“سر۔۔۔؟”
“یہاں رکھ کر دفعہ ہوجائیں۔۔ اور جب تک میں نہ بلاؤں مجھے ڈسٹرب نہ کرنا۔۔۔اور ایک بات۔۔۔”
وہ سیکٹری جاتے جاتے رکی تھی
“آئندہ کے بعد اتنے چھوٹے کپڑوں میں آفس میں قدم رکھا تو اسی وقت نکال دوں گا۔۔
یہ کوئی کلب نہیں ہے۔۔ ناؤ گیٹ آؤٹ۔۔۔”
۔
“شرمندگی سے اسکی آنکھیں بھر آئی تھی اور وہ جلدی سے نجیب کے کیبن سے باہر چلی گئی تھی
“ہاہاہاہ بہت اڑھ رہی تھی ہوا میں شیلا جی۔۔”
باہر کھڑی کولیگ نے قہقہ لگایا تھا
“ویسے اسے کیا پتہ تھا اسکے ساتھ اتنی بُری ہوجائے گی۔۔۔ ڈونٹ مائنڈ ہاں ہاہاہاہ۔۔۔”
“ہاہاہاہا وہ سب ہنس دئیے تھے۔۔۔”
“تم نے خود کو عمارہ سمجھ لیا ہے کیا۔۔؟؟ عمارہ بھی کچھ زیادہ دیر ٹک نہیں پائے گی نجیب سر نے اپنی پہلی بیوی کو جلانے کے لیے یہ شادی کی ہے۔۔”
“کیا واقع۔۔؟؟”
“تو اور کیا۔۔ میرے بھائی کے دوست ہیں نجیب سر۔۔۔ یہ دوسری شادی کا ڈرامہ پہلی بیوی کو سبق سیکھانے کے لیے کیا گیا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تو اتنی خوب صورت ہے فدا دیدار پہ تیرے۔۔۔
مکمل عشق ہو میرا زرا سا پیار تو دہ دے۔۔۔”
۔
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں سر۔۔؟؟”
“میں آپ کی مدر کی طبیعت کا پوچھنے آیا تھا۔۔ آپ آفس نہیں آرہی۔۔”
معاذ نے اندر آنے کی اجازت لئیے بغیر اندر قدم رکھ دیا تھا۔۔۔
“سر آپ نے آنے کی زحمت کیوں کی میں کل آنے والی تھی۔۔۔”
“سمیرا بیٹا کون آیا ہے۔۔؟؟”
اندر کمرے سے جیسے ہی آواز آئی تھی معاذ اسی کمرے کی جانب بڑھا تھا
“سر۔۔۔ سر آپ یہیں بیٹھے میں امی کو باہر لے آتی ہوں۔۔”
“نووو۔۔۔اٹس اوکے مس سمیرا۔۔۔”
پھولوں کا گلدستہ پکڑے معاذ اندر کمرے میں داخل ہوا تھا دروازہ ناک کرنے کے بعد۔۔۔
“السلام وعلیکم۔۔۔”
“وعلیکم سلام۔۔ بیٹا آپ۔۔۔”
“امی یہ میرے باس ہیں۔۔ آپ کا پتہ چلا تو حال پوچھنے آئے ہیں۔۔”
“آنٹی۔۔ میں دراصل آپ کی طبیعت کا پتہ کرنے آیا تھا اور مس سمیرا کا ہاتھ شادی کے لیے مانگنا چاہتا ہوں۔۔”
وہ انکے پاؤں کی جانب بیڈ پر بیٹھ گیا تھا اسکی بات نے دونوں ماں بیٹی کو حیران کردیا تھا
“بیٹا جی۔۔۔؟؟”
“سر آپ یہ کیا بات کررہے ہیں۔۔؟ آپ شادی شدہ ہیں۔۔”
“تو۔۔۔؟؟ مس سمیرا میں آپ میں اور اپنی پہلی بیوی میں مساوی معاملات رکھوں گا۔۔ میں صاحب اسطاعت ہوں۔۔ “
“ابھی کے ابھی نکل جائیے یہاں سے آپ۔۔۔”
“سمیرا بیٹا۔۔۔”
“نہیں امی۔۔ انکی جرآت کیسے ہوئی اتنی بڑی بات کرنے کی۔۔؟؟ جائیے آپ یہاں سے۔۔”
سمیرا آپے سے باہر ہورہی تھی معاذ نے زیادہ ری ایکٹ نہ کیا تھا وہ ایسے ہی رویہ اور بدتمیزی کی توقع رکھتا تھا اپنی خواہش پر۔۔۔
“آنٹی جی۔۔ کچھ دن پہلے سمیرا جب آفس سے آرہی تھی جو راستے میں ان غنڈوں نے کرنے کی کوشش کی میں اس رات کے بعد سے یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوا ہوں میں سمیرا کو اپنے نکاح میں لیکر اسکی سب ذمہ داریاں اپنے سر پر لینا چاہتا ہوں۔۔ اسکا محافظ بننا چاہتا ہوں۔۔ آپ بڑی ہیں آپ سوچ کر جواب دیجئے گا۔۔۔”
وہ انکے ہاتھ پر بوسہ لیکر اٹھ گیا تھا۔۔۔
“مس سمیرا کے پاس میرا نمبر ہے آپ مجھے اپنا جواب فون پر بتا دیجئے گا میں اپنی فیملی اور مولوی صاحب کو یہاں لے آؤں گا۔۔۔”
وہ اس روم سے جیسے ہی باہر آیا تھا سمیرا غصے سے پیچھے پیچھے آئی تھی اسکا پاؤں کارپٹ پر جیسے ہی اٹکا تھا وہ سیدھی معاذ کی بازؤں میں جا گری تھی
“مجھے نہیں پتہ تھا آپ کو اتنی جلدی ہے میری بانہوں میں آنے کی مس سمیرا۔۔؟؟
نکاح تک کا انتظار تو کیجئے۔۔۔”
معاذ نے اسے سنبھالتے ہوئے سرگوشی کی تھی
“سر۔۔۔”
“بہت جلدی آپ میرا نام لیں گی ان خوبصورت لبوں سے۔۔۔”
بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے وہ خود بھی پیچھے ہوگیا تھا۔۔
“آپ غلط کررہے ہیں آپ کی بیوی آپ سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔”
“اور مجھے آپ کی سادگی سے محبت ہوگئی ہے۔۔ میں کہہ رہا ہوں نہ میں ناانصافی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ یقین رکھئے مجھ پر۔۔۔”
۔
سمیرا سر جھکائے کھڑی تھی جب معاذ وہاں سے چلا گیا تھا وہ آخری بات کرکے۔۔۔
۔
“یا اللہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔؟؟ میں کیسے کسی سوتن بن سکتی ہوں۔۔؟ میں کبھی اس شادی کے لیے ہاں نہیں کروں گی۔۔۔
وہ خود کو مظبوط کرچکی تھی انکار کے لیے۔۔۔ مگر سمیرا کی والدہ نے جیسے تیسے اپنی قسم دے کر اپنی بیٹی کو راضی کرلیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ جو جگہ جگہ درد کی کہانیاں سناتا ہے۔۔۔
فریبی ہے۔۔ سب جھوٹ بتاتا ہے۔۔۔”
۔
“یہ آپ کو کس نے کہہ دیا۔۔؟؟ میری دونوں وائف بہت خوش ہیں۔۔
یو سی۔۔ دوسری بیوی میری فیملی کی پسند تھی۔۔ میری پہلی وائف سے میری بے انتہا محبت کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔۔۔”
۔
لایر۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی اور ٹی وی کو بند کردیا تھا۔۔ گھٹنوں پر سر چھپایا اس رات کی تاریکی میں وہ ایسے ہی بلکتی تھی روتی تھی سسکتی تھی۔۔۔
۔
“کتنوں کو سینے سے لگایا۔۔۔ میری طرح ساتھ سُلایا۔۔
آنکھوں میں تیری پانی نہیں ہے۔۔ سب کو تو نے کتنا رولایا۔۔۔”
۔
“جھوٹے ہیں نجیب۔۔ آپ کے سب وعدے وہ سب قسمیں یہ کیسی بے انتہا محبت ہے نجیب۔۔؟ جو شریک کرلیتی ہے دوسروں کو بھی۔۔؟ وہ محبت نہیں جسموں کی ہوس ہوتی ہے۔۔”
۔
“تو نے بڑا ستایا ہے مجھے۔۔۔ جا تو بھی ستایا جائے گا۔۔۔
ہائے بڑا رولایا ہے مجھے۔۔۔ ا تو بھی رولایا جائے گا۔۔۔”
۔
“میں ہی سمجھ نہ سکی تھی۔۔ سمجھ تب آئی جب آپ نے اپنے بیٹے کو دھتکار دیا۔۔
اس چھوٹے بچے کو نجیب۔۔۔”
وہ چہرے کو ہاتھوں میں لئیے بےتحاشہ رو دی تھی۔۔۔اور پیچھے کھڑا مننان جس کا چہرہ بھی تر تھا اسکے آنسوؤں سے۔۔۔
۔
“جب تک ۔۔جی رہی ہوں یہ دُعا کرتی ہوں۔۔۔
تُو ہر روز مرے۔۔۔ میں جس طرح مرتی ہوں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر اس دن اور رات کی “سی سی ٹی وی” فوٹیج اس ریلوے سٹیشن کی مل گئی ہے۔۔
جو باقی کی رہتی تھی۔۔۔میڈم کو ٹرین میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔ کیونکہ یہ ایک ہی خاتون ہے جو خود کو بار بار چادر میں چھپا رہی ہیں اور اپنے بچے کو بھی۔۔”
بڑی سی سکرین پر وہ پوائنٹ آؤٹ کررہے تھے کانفرنس روم میں بس وہ دو لوگ ہی موجود تھے نجیب جو گرینڈ چئیر پر بیٹھا خاموشی سے اپنے پی اے کی بریفنگ سن رہا تھا اور اسکی نظریں سکرین پر مرکوز تھی یہاں ہر کلیپ بہت سلو چل رہی تھی اسکا وجود سخت مگر آنکھوں میں بےچینی ابھری تھی
“ڈیم اِٹ یہ ایک کلپ پچھلے ماہ سے دیکھ رہا ہوں مجھے رزلٹ دو۔۔ جب یہ دونوں بیٹھے ہیں تو ایک ہی شہر میں اترے گے۔۔۔”
“سوری سر۔۔۔اس ٹرین نے بہت سے سٹاپ پر سٹے کیا تھا۔۔ بہت سے مسافر اترے۔۔ اور اسکے لاسٹ سٹاپ پر بھی ہمیں میڈم اترتی ہوئی نظر نہیں آئی۔۔۔اس کا ایک ہی مطلب ہوا۔۔۔”
اس نے چپ ہوکر نجیب کی طرف دیکھا تھا جو خود ڈوٹ سے ڈوٹ ملا کر اپنی کرسی سے کھڑا ہوگیا تھا
“اس کا مطلب ہوا کہ چادر بدل کر وہ انہیں میں سے کسی سٹاپ پر رکی اور اوجھل ہوگئی نظروں سے۔۔ مطلب ہوا کہ وہ چان چکی تھی کہ میں اسکا پیچھا کروں گا۔۔ اسکی ہار اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا تو انہوں نے یہ سب کیا۔۔”
وہ خود سے سرگوشی کرنے لگا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فضا۔۔۔ تم نے خود کشی کرنے کی کوشش کی۔۔ بچے ایسا بھی کیا ہوگیا تھا۔۔؟؟ وہاں کسی نے کچھ کہا۔۔؟؟ معاذ نے کچھ کہا ہے۔۔؟؟’
نجیب ہاسپٹل روم میں آتے ساتھ ہی بہن کے پاس آیا تھا جو بھائی کے گلے لگ کر بے تحاشہ رونے لگی تھی
“بتاؤ کیا بات ہے فضا۔۔ معاذ نے کچھ کہا میں اسے زندہ گاڑھ دوں گا۔۔”
“آپ کچھ نہیں کرسکتے بھائی۔۔۔ کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔ سب ختم ہوگیا۔۔ سب ۔۔”
“ہوا کیا ہے بیٹا۔۔؟ بتاؤ تو سہی۔۔۔”
سب فیملی کے لوگ بھی اندر آگئے تھے ڈاکٹرز ایکسکئیوز کرکے جیسے ہی گئے تھے فضا کا ہسبنڈ بھی اپنی فیملی کے ساتھ آگیا تھا
“یو۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو نقصان پہنچانے کی۔۔ کیا کیا ہے تم نے اسکے ساتھ۔۔”
نجیب نے کالر سے پکڑ کر دیوار پر دے مارا تھا اسکا وجود۔۔۔
“بس کیجئے نجیب بھائی۔۔۔ کچھ غلط نہیں کیا میں نے۔۔۔ نکاح کیا ہے دوسری شادی کی ہے۔۔۔ جو میرا شرعی حق تھا۔۔۔ آپ تو سمجھیں مجھے۔۔ میں صاحب حیثیت ہوں۔۔ دونوں بیگمات کو خوش رکھنے کا اہل ہوں۔۔۔ آپ کی بہن نے تماشا بنا دیا ہے۔۔
اب خود کشی کرنے کا کیا تُک بنتا تھا۔۔؟ میں نے کونسا کوئی گناہ کردیا۔۔؟”
وہ جتنی باتیں بول رہا تھا نجیب اتنے ہی قدم اس سے پیچھے ہوا تھا بہن کی سسکیاں اسکے کانوں میں اسی رات کی طرح گونج رہی تھی جب اسکی بیوی ایسے ہی رو رہی تھی اور وہ دوسری بیوی کے ساتھ اپنی دل جوئی کررہا تھا دوسرے کمرے میں۔۔۔
۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی دوسری شادی کرنے کی میری بیٹی کو دھوکا دینے کی۔۔”
ماہ جبین صاحبہ نے معاذ کے منہ پر تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا جب معاذ کی والدہ نے ہاتھ پکڑ لیا تھا
“آپ لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔۔۔ کچھ ماہ پہلے اپنے بیٹے کی دوسری شادی آپ اتنے فخر سے بتا رہی تھی اس دن سب کے سامنے اور آج میرے بیٹے کو یہ لیکچر دہ رہے ہیں۔۔۔
فضا۔۔۔ تم نے اپنے شوہر اور سسرال کا بہت تماشا بنا دیا۔۔ اب اگر گھر آنا ہوا تو آجانا ورنہ میرا بیٹا تو تمہیں بار بار منانے نہیں آئے گا۔۔۔”
۔
وہ لوگ معاذ کو وہاں سے لیکر چلے گئے تھے۔۔ وہاں بس گھر کے افراد رہ گئے تھے ایک طرف دادی خاموش بیٹھی تھی تو دوسری طرف آفندی صاحب۔۔ ان سب میں نجیب ونڈو کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ کچھ وقت کے لیے سب چپ ہوجائے ہر سو خاموشی ہوجائے اسکی بہن کی روتی ہوئی آواز اسے تکلیف پہنچا رہی تھی۔۔
اسکے گھر والوں کے دلاسے اسے اذیت دے رہے تھے
“فضا تم اس سے طلاق لے لو گی ہم تمہیں ایسے گھٹ گھٹ کر مرتے نہیں دیکھ سکتے۔۔”
“فضا تم اسے چھوڑ دو ۔۔”
“فضا بیٹا تمہیں ایسے بےوفا دھوکے باز شوہر کے ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”
“کس طرح کا مرد تھا۔۔؟؟ وہ تو تم پر جان دیتا تھا فضا اب اچانک سے شادی کرلی۔۔؟؟”
سب فضا کو باتیں سنا رہے تھے۔۔ مگر وہ باتیں نجیب کو خود سے مخاطب لگ رہی تھی۔۔۔
یہ وہی خواتین تھی نہ جو دوسرے کی بیٹی پر سوتن آنے پر اسکی کمر تھپتھپا رہی تھی اور آج یہ دوسرے مرد کو بُرا بھلا کہنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“بس کرجائیں۔۔۔فضا تم واپس معاذ کے پاس جاؤ گی۔۔۔ دوسری شادی کوئی گناہ نہیں ہے۔۔۔”
نجیب کہتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھنے لگا تھا جب فضا نے اپنی ایک بات کہہ کر اسے لاجواب کردیا تھا
“بھائی جب نسواء بھابھی آپ سے اتنی محبت کرنے والی۔۔ آپ کی دوسری شادی برداشت نہیں کرسکی تو میں کیسے کروں گی۔۔؟؟
نسواء بھابھی غریب تھی یتیم تھی اس لیے کوئی آپ سے جواب مانگنے نہیں آیا۔۔۔
مگر میں بن ماں باپ کے نہیں ہوں۔۔ میں نہیں جاؤں گی اس دھوکے باز شخص کے پاس۔۔۔
آپ یاد رکھئے گا۔۔۔اب جائیں یہاں سے ڈیڈ مجھے ان سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔”
نجیب کی اس قدر تذلیل شاید پہلی بار گھر کے کسی فرد نے کی تھی وہ بھی اسکی بہن۔۔۔
وہ غصے سے چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔”
۔
“بیٹا بہت بہت مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے۔۔۔”
نجمہ بی نے اس بچی کو نسواء کی گود میں ڈال دیا تھا۔۔
“نجمہ بی مننان کہاں ہے۔۔؟؟ وہ صبح سے نظر نہیں آیا۔۔وہ ٹھیک تو ہے نہ۔۔؟؟”
اپنی بیٹی کو اپنے سینے سے لگانے کے بعد اسکی ممتا اپنے بیٹے کے لیے بےچین ہوئی تھی
“وہ بھی یہیں ہے جاوید بھائی کے ساتھ کچھ دوائیاں لینے گیا ہے۔۔۔”
“آپ کو بہت تکلیف ہورہی ہے میری وجہ سے۔۔ اتنے پیسے لگ گئے ہیں آپ لوگوں کے اور پھر یہ ہسپتال کا خرچہ۔۔۔”
آغوش میں ماں سے لپٹی ہوئی بچی نے جب رونا شروع کیا تو وہ اور آبدیدہ ہوگئی تھی۔۔۔ اسکا دل ایک ہی نام پکار رہا تھا اپنی بیٹی کے نسوانی چہرے کو دیکھ کر
“نجیب۔۔۔”
“بیٹا۔۔ میں نہیں جانتی کہ کیا ہوا تھا تمہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے تم بہت صابر و شاکر ہو۔۔ مگر اب امتحان تمہاری ممتا کا ہے تمہیں اب اپنے بچوں کے لیے ایک مثال بننا ہے۔۔۔اپنے بچوں کے سر پر رہنا انکی تربیت اتنی اچھی کرنی ہے کہ دنیا دیکھے۔۔”
“آپ جانتی ہیں نہ میری حالت۔۔؟؟ میں بہت جلدی جانے والی ہوں۔۔ اس بیماری نے مجھے خالی کردیا ہے۔۔”
وہ تلخ باتیں کررہی تھی مگر اپنی بیٹی کے چہرے کو چومتے ہوئے وہ مسلسل مسکرا رہی تھی
۔
دوسری جانب مننان نے وہ آخری پلیٹ بھی دھو کر صاف کرکے ریک پر رکھ دی تھی۔۔
گیلا کپڑا لئیے وہ فرش کو صاف کرنے لگا تھا۔۔کچھ دیر میں وہ کچن سے لیکر باہر مین ہال تک سب صاف کرچکا تھا۔۔۔
اس بچے کو دیکھ کر سٹاف آفس میں کھڑے ہوئے دو لوگ بہت حیران ہوئے تھے
“اس بچے کو کون کام کروا رہا ہے یہاں۔؟؟”
ریسٹورنٹ کے اونر نے پیچھے کھڑے اسسٹنٹ سے پوچھا تھا
“سر جاوید صاحب کا کچھ لگتا ہے شاید وہ آج چھٹی لیکر چلے گئے تھے۔۔”
“تو بچے سے کام کرواؤ گے۔۔؟؟ اتنے چھوٹے بچے سے۔۔؟؟ بلاؤ اسے۔۔”
وہ اپنے روم میں چلے گئے تھے اور کچھ دیر میں مننان انکے اسسٹنٹ کے ساتھ روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔
“گڈ مارننگ سر۔۔۔”
وہ اندر داخل ہوتے ہی نہایت ادب سے بولا تھا۔۔۔
“تم جانتے ہو یہ عمر تمہاری پڑھنے کی ہے۔۔؟؟ نہ کہ کام کرنے کی۔۔۔”
“جب کام کرنے کے بعد جیب میں چار پیسے ہوں گے تو میں پڑھائی بھی مکمل کرلوں گا سر۔۔”
۔
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جواب دے رہا تھا۔۔
“تمہارے ماں باپ کہاں ہے۔۔؟؟ کوئی زبردستی یہ سب کروا رہا ہے تم سے۔۔؟؟”
اپنے شاکڈ ایکسپریشن کو چھپاتے ہوئے اس شخص نے ایک بار پھر ایک نیا سوال پوچھا تھا
“ماں ہسپتال میں ہیں اس وقت۔۔۔ باپ میرے پیدا ہوتے ہیں اس دنیا سے چلے گئے تھے۔۔۔ میں ہوں اپنے گھر کا کفیل۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔”
اس چھوٹے سے منہ سے اتنی بڑی باتیں سن کر وہ اٹھ کر مننان کی طرف آئے تھے۔۔۔
“جن گھروں کے مرد اس عمر میں کفیل بن جائیں وہ گھر والے بہت خوش نصیب ہوتے ہیں۔۔۔تمہاری تنخواہ آج سے ڈبل کرتا ہوں میں ۔۔۔اور۔۔”
“مجھے محنت کی کمائی کمانا ہے۔۔۔ احسان اور ہمددری کی بھیک نہیں چاہیے۔۔۔”
وہ وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔ اسسٹنٹ کو بہت غصہ آیا تھا
“اسکی اتنی ہمت۔۔ آپ کہیں تو جاوید صاحب اور اسے نوکری نکال دیں۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ کیوں نکالنا ہے۔۔۔؟؟ اس بچے میں مجھے آنے والا ایک کامیاب شخص نظر آیا ہے۔۔ ایسے لوگوں کو قدر کرنی چاہیے۔۔۔ جاؤ معلوم کرو اسکی والدہ کو کیا ہوا ہے۔۔ میڈیکل کا سب خرچہ بنا کسی کو خبر کئیے ہسپتال کو دو۔۔۔اور جاوید صاحب جیسے ہی آئے میرے پاس بھیجو۔۔۔”
وہ واپس بیٹھ گئے تھے اور اور ریموٹ پکڑے انہوں نے اس سکرین کو آن کیا تھا جو پورے ریسٹورنٹ کی ایکٹویٹی پر نظر رکھے تھے ساری کیمروں میں سے اس سکرین کو دیکھا تھا جو کچن کے اندر کی ایکٹویٹی دیکھا رہی تھی
۔
جس میں مننان ڈشز کو اٹھا کر انکی جگہ پر رکھ رہا تھا۔۔۔ کرسیوں کی تربیت ٹھیک کرتے ہوئے استعمال ہوئے کپڑوں کو بسکٹ میں ڈالے دوسرے کمرے میں لے گیا تھا۔۔۔وہ
باری باری ہال کی ہر کرسی ہر میز کو ٹھیک کررہا تھا۔۔ اور جب تک مننان ایک جگہ بیٹھا نہیں تھا تب تک اس شخص نے اپنی نظریں نہیں ہٹائی تھی اس سکرین سے۔۔۔
لینڈ لائن پر جیسے ہی کال آئی تھی ریسیپشن پر مننان بھاگتے ہوئے لپکا تھا اور فون اٹھا لیا تھا۔۔۔
اور اند ر اس نے بھی وہ فون اٹھا لیا تھا جو کنیکٹ تھا۔۔۔ وہ جاننا چاہتا تھا اس بچے کی جلد بازی اسکی بےچینی جو فون کی گھنٹی پر اس کے چہرے پر عیاں ہوئی تھی
“مننان بیٹا۔۔۔”
“سر۔۔۔ ماں کیسی ہے۔۔؟؟ اور سب ٹھیک ہے۔۔؟؟ بےبی ٹھیک ہے۔۔”
“ہاں بیٹا۔۔۔ چھوٹی سی پری آئی ہے۔۔میں حمزہ کو بھیج رہا ہوں آپ اسکے ساتھ آجاؤ۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ ابھی نہیں شام کو شفٹ ختم ہوتی ہے ماں کی میں انکی جگہ شام تک رہوں گا۔۔۔ آپ بس ان دونوں کا خیال رکھئیے گا۔۔۔پلیز۔۔۔”
“ہاں۔۔۔ بلکل۔۔ کچھ کھایا ہے آپ نے۔۔؟؟”
“نہیں سر۔۔ ماں اور حورب کے ساتھ کھاؤں گا ۔۔۔”
“ہممم۔۔۔ مننان۔۔۔بیٹا۔۔تمہاری ماں بہت خوش نصیب ہے۔۔۔”
“نہیں سر۔۔۔ میں بہت خوش نصیب ہوں۔۔۔ میری ذات کے لیے اپنی ذات بھلا دی۔۔۔”
۔
کچھ سیکنڈ اور بات کرنے کے بعد کال بند ہوگئی تھی۔۔
مگر مننان ریسیور کو کان پر لگائے وہیں کھڑا رہا تھا۔۔۔ پانچ منٹ بعد۔۔۔ اپنی آنکھوں سے وہ پانی صاف کرکے وہ واپس اپنے کام پر لگ گیا تھا۔۔۔
۔
اوپر کمرے میں بیٹھا وہ باس اس قدر اداس ہوگیا تھا کہ تھوڑی دیر روم میں آنے والے کھانے کو اس نے بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھ سے وعدہ کرو مننان۔۔۔ میرے جانے کے بعد گڑیا کا خیال رکھو گے۔۔ اسے کبھی میری کمی محسوس نہیں ہونے دو گے۔۔۔”
شور و غل میں اس ہسپتال کا ایک ایسا کمرہ بھی تھا جہاں ہر سو خاموشی تھی اور وہ ماں کے قدموں میں سر رکھے آنسو بہا رہا تھا
“آپ کو کچھ نہیں ہوگا ماں۔۔ آپ میرے ساتھ اس کمرے سے باہر جائیں گی۔۔”
“میرے بچے ہم دونوں میں یہ بات تہہ پائی تھی کہ اس سرجری کے بعد جو ہوگا وہ ہم دونوں چپ چاپ قبول کریں گے۔۔”
“ماں کی جدائی کون بیٹا قبول کرسکتا ہے۔۔؟ وہ تو آپ کو بہلا رہا تھا میں۔۔۔”
نسواء کے پاؤں پر پھر سے چومنے کے بعد مننان نے اپنی بیمار ماں کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“ہاہاہا اتنے بڑے ہوگئے ہو کہ ماں کو بہلانے کے لیے جھوٹ بولو گے۔۔؟؟
یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔”
نسواء نے بیڈ پر جیسے ہی جگہ بنائی تھی مننان پاس آکر بیٹھ گیا تھا وہ جیسے ہی وہاں بیٹھا تھا نسواء نے اسکے کندھے پر سر رکھ لیا تھا
“مننان۔۔ زندگی میں کچھ آزمائشیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں مکمل توڑ دیتی ہیں۔۔
تمہاری ماں بھی ٹوٹ چکی ہے۔۔ شاید یہ بیماری میری نجات ہے۔۔ میں تھک چکی ہوں۔۔ میں اپنی ناکام شادی میں اتنا الجھ کر رہ گئی کہ اپنے بچوں کی کمیوں کو پورا نہ کرسکی۔۔اور۔۔”
“شش۔۔۔ ماں۔۔ آپ اس بستر سے سہی سلامت اٹھ کر باہر جائیں گی۔۔
یہ دیکھیں۔۔ آپ کی رجسٹریشن بھی کرادی ہے میں نے۔۔۔
آپ نے نا صرف ا س کمپٹیشن میں حصہ لینا ہے بلکہ بیسٹ شیف ٹرافی جیتنی بھی ہے۔۔۔
اور ایسا تب ممکن ہے جب آپ میرا ہاتھ تھام کر اس ہسپتال کے کمرے سے باہر جائیں گی۔۔”
نسواء کے ماتھے پر بوسہ دے کر اس نے اپنی ماں کے سامنے اپنا یقین ، بھروسہ، مان بھرم سب رکھ دیا تھا۔۔ اس نے ہاتھ جیسے ہی بڑھایا تھا۔۔ کچھ دیر تو نسواء سر جھکائے لیٹی رہی تھی
اسکی ہارٹ بیٹ مانیٹر کرنے والی مشینیں بھی تیز ہوگئی تھی ۔۔۔کچھ سیکنڈ تک اسے سانس لینے میں دشوارہ ہونے لگی تھی۔۔
“ماں میرا ہاتھ تھام لیں اپنے بیٹے پر بھروسہ رکھیں۔۔ مجھے میرا مان میرا بھرم واپس لوٹا دیں جو اس گھر میں مجھ سے چھین لیا گیا۔۔۔
ایک بار اپنے بیٹے کو اپنا آپ سونپ دیں ماں کبھی گرنے نہیں دوں گا۔۔ ان آنکھوں میں ایک آنسو کا قطرہ نہیں آنے دوں گا۔۔۔ ایک بار۔۔۔ اس بیماری سے لڑیں میرے لیے چھوٹی کے لیے۔۔ وہ پیپر دے کر آئے گی تو ہم اسے ساتھ مل کر ویلکم کریں گے۔۔۔”
۔
اور جب نسواء نے رونا شروع کیا تھا وہ ہاتھ جو مننان نے آگے بڑھایا تھا وہ مایوسی میں پیچھے کرنے کی کوشش کی تو نسواء نے مظبوطی سے تھام لیا تھااس ہاتھ کو۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔