62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

“میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔ وہ میرا شرعی حق ہے نسواء آپ مجھے روک نہیں سکتی۔۔”
“شرعی حق۔۔؟ جب پہلی بیوی آپ کو اجازت دہ ہی نہیں رہی تو کس طرح کے حق کی بات آپ کررہے ہیں۔۔؟ میں سوتن برداشت نہیں کرسکتی میرا بیٹا یہ برداشت نہیں کرسکتا”
وہ بات کی گہرائی کو سمجھی نہیں تھی شاید وہ جس طرح سے اپنے شوہر کو بہت اطمنان سے سب سمجھانے کی کوشش میں تھی وہ بات کو نہیں سمجھی تھی باہر پیلس کسی دلہن کی طرح سجایا جارہا تھا اور وہ بات کی گہرائی کو سمجھی نہیں تھی حتی کی وہ اپنے شوہر کی بدلتی نگاہوں کو بھی موسمی تبدیلی سمجھ کر درگزر کررہی تھی پچھلے ایک سال سے۔۔
وہ بات کو سمجھی نہیں تھی یا سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔؟؟؟
“میں بھی اس سے دوری برداشت نہیں کرسکتا۔۔ پچھلے ایک سال سے۔۔ ایک سال سے میں سب دیکھ رہا تھا پچھلے ایک سال سے۔۔آپ کو جب جب اپنے پاس بلانا چاہا تو آپ نے ہمیشہ مننان کا بہانہ کیا۔۔۔ میں ایک مرد ہوں میری ضرورتوں کو آپ نے اگنور کیا۔۔
اب بس اور نہیں۔۔”
وہ جیسے ہی کمرے سے باہر جانے لگا تھا نسواء نے پیچھے سے جیسے ہی اپنے حصار میں لیا تھا نجیب کے کندھے پر سر رکھ کر اپنے ہونٹ اسکی گردن پر رکھ دئیے تھے
وہ ایک لمس جو اتنے ماہ بعد ااتنے قریب ہونے پر نجیب کو محسوس ہوا تھا وہ پاگل سا ہوگیا تھا
“اب سے میں آپ کو خود کودور نہیں کروں گی نجیب۔۔ میں جانتی ہوں مننان کو سارا وقت دیتی رہی ہوں۔۔ مگر آپ بھی جانتے ہیں ہمارے بیٹے کو میری ضرورت تھی۔۔
مگر اب میں آپ کو آپ کی ضرورتوں کو اگنور نہیں کروں گی۔۔۔”
نیل پینٹ لگی وہ انگلیاں سینے سے ہوتی ہوئی شرٹ کے بٹن کھولنے لگیں تھی۔۔۔
اور شرٹ کا بٹن کھولنے کے بعد وہ ہاتھ جب نجیب کی بلٹ پر پہنچے تھے وہ ہاتھ آج کانپ نہیں رہے تھے وہ تہہ کرچکی تھی آج اپنے شوہر کو پھر سے پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرے گی۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
اسکی انگلیوں کی حرکت پر نجیب اتنا شاکڈ ہوگیا تھا وہ مدہوش ہوگیا تھا جب نسواء نے شرٹ کے کالر سے پکڑ کر نجیب کو پیچھے بیڈ پر دھکا دہ دیا تھا۔۔۔
“آج نسواء نہیں۔۔۔ آج صرف نجیب۔۔۔ آض کے بعد سے صرف نجیب۔۔۔”
نائٹ گاؤن کو وہ اس سیڈکشن سے اوپن کررہی تھی کہ اسکی سانسیں گھبراہٹ اور نجیب کی دھڑکن ایکسائٹمنٹ سے تیز ہورہی تھی
“مائن۔۔۔۔۔۔۔بیوٹیفل۔۔۔”
اسکا سلکی گاؤن جیسے اسکے قدموں پر گرا تھا نجیب کے لبوں سے بےساختہ نکلا تھا۔۔۔
“یہ میں نے ہمارے ہنی مون پر گفٹ لیا تھا وکٹوریا سیکرٹ۔۔”
وہ سرگوشی کرتے ہوئے بیڈ پر آئی تھی آہستہ سے۔۔۔
“آپ مارنے کا ارادہ رکھتی ہیں مجھے۔۔؟؟ گوڈ۔۔۔”
نسوا کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اپنی جانب جیسے ہی کھینچا تھا وہ اس پر آگری تھی۔۔
“آج میں آپ کے سارے شکوے ختم کردوں گی نجیب۔۔۔”
نجیب کے دونوں ہاتھ بیڈ پر پن کرکے وہ سینے پر اپنے لب رکھ چکی تھی۔۔۔
اپنی محبت کے نشان وہ دیوانہ وار چھوڑے جارہی تھی۔۔۔
“اس دیوانگی کو میں ابھی تک جان نہیں پایا۔۔؟؟”
نجیب نے بالوں سے پکڑ نسوا کے چہرہ کو اپنے سینے سے اٹھائے اپنے ہونٹوں کے قریب کیا تھا
“میری دیوانگی سہہ نہیں پائیں گے آپ۔۔۔”
ان ہونٹوں پر اپنے ہونٹ نسوا نے جیسے ہی رکھے تھے اسکے بعد وہ سچ میں پاگل ہوتا جارہا تھا نسوا کی دیوانگی اسے بھی دیوانہ بناتی جارہی تھی۔۔
کپڑوں کی قید سے وہ خود بھی آزاد ہوگئی تھی اور لیٹے ہوئے اپنے مدہوش شوہر کو بھی کردیا تھا۔۔۔
“میں سب برداشت کرسکتی ہوں۔۔ مگر شئیرنگ نہیں۔۔”
ہونٹوں کو دانتوں میں لئیے اس نے جس شدت سے یہ بات کہی تھی نجیب کے کو مکمل شاکڈ کردیا تھا اسکے نچلے ہونٹ سے بہتا خون اس بات کی دلیل تھا۔۔۔
“میں جھوٹھی چیزوں کو دوبارا منہ نہیں لگاتی نجیب۔۔۔”
وہ اپنے دانت سے اسکے سینے پر اپنی محبت کے نشان چھوڑ رہی تھی اور اس کمرے کی ہر چیز گواہ تھی انکے ملاپ کی۔۔۔ ان چار دیواروں میں انکی سرگوشیاں ایسے گونج رہی تھی جیسے سمندر سے اٹھتی لہروں کا شور۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم میری پہلی محبت ہو اور رہو گی۔۔۔ مگر میں اسکے ساتھ اس سفر میں آگے نکل چکا ہوں نسوا۔۔۔ میں آپ کی حق تلفی کبھی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔”
پرسکون نیند میں سوتی ہوئی نسوا کے ماتھے پر بوسہ دے کر اس نے اپنے سینے سے لگا لیا تھا
وہ تاب نہیں لا پایا تھا اپنی بیوی کی محبت کی۔۔ وہ اس کی خوبصورتی پر بہت پہلے مر مٹا تھا مگر اسکی بیوی کے اس ہوٹ بولڈ روپ نے اسے اور پاگل کردیا تھا۔۔
مگر وہ مرد تھا اور وہ جانتا تھا اب وہ پیچھے قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔
وہ عمارہ کی اداؤں پر بھی فدا تھا۔۔۔ وہ اسکی محبت کا ذائقہ بھی چکھ چکا تھا۔۔ شاید یہی وجہ تھی وہ اسے بھی مکمل حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔
نسوا کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ کچھ گھنٹے ایسے ہی اسے اپنی آغوش میں لئیے جاگتا رہا۔۔۔ اور صبح کی پہلی کرن پر وہ اسے وہاں چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
“ماما آپ نے کہا تھا ڈیڈ۔۔ یہ شادی نہیں کریں گے۔۔۔”
چار سال کے اس بچے نے ماں کی آنکھیں صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
جو اس رات کے بعد ایسے ہی نم تھی۔۔
“بیٹا۔۔ڈیڈ شادی نہیں کررہے۔۔”
وہ کہتے ہوئے نظریں چرا گئی تھی ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل کو ایک بار پھر سے آن کرکے اس نے نجیب کو کال ملائی تھی جو پھر سے کینسل کردی تھی گئی تھی
اس رات اس نے اپنی محبت ہی نہیں اپنی سیلف ریسپیکٹ بھی اپنے شوہر پر نچھاوڑ کردی تھی۔۔
اپنی تمام تر شدتوں کو ظاہر کیا تھا اپنے تمام ڈر و خوف کو سامنے رکھا تھا۔۔۔
وہ اس ‘ہرجائی’ کو سب کچھ پھر سے سونپ چکی تھی جو اسکے تمام تر جذبوں پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
اس خوبصورت رات کی اگلی صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو اسکے ہاتھ بےساختہ بستر کی اس جانب بڑھے تھے جہاں اسکا شوہر تھا۔۔مگر آنکھ کھلنے پر جب اس نے خود کو بستر پر اکیلا پایا تو وہ خود کو اس احساس سے بچا نہیں پا رہی تھی جو اسے ہو رہا تھا۔۔۔
‘ایک بازاری عورت ہونے کا احساس جو کسی کی رات تو رنگین بنا سکتی ہے مگر صبح ہوتے ہی اسکا وجود بستر کی الجھی ہوئی شیٹ کی طرح ہوجاتا ہے استعمال شدہ’
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔”
“قبول ہے۔۔۔
قبول ہے۔۔۔
قبول ہے۔۔۔”
۔
وہ پرجوش طریقے سے جواب دیتا ہوا کہہ رہا تھا مولوی صاحب کو۔۔۔
اسکی جلد بازی پر پورے حال میں قہقے گونجے تھے اسکی خوشی میں اسکے سب اپنے خوش تھے سوائے اسکی دادی کے۔۔۔
وہ سب کی رضا مندی حاصل کرچکا تھا صرف اپنی ضرورتوں کا کہہ کر اپنے شرعی حق کا کارڈ وہ بخوبی استعمال کرچکا تھا۔۔۔۔
اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑے اس نے سب سے ملوایا تھا۔۔ اور اسے اپنے سجے سنورے گھر میں بڑی عزت و شان سے لیکر داخل ہوا تھا۔۔۔
۔
۔
“نجیب۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔ آپ جس طرح سے خاموش ہوگئے تھے نکاح سے پہلے۔۔
نا فون نا کوئی رابطہ ڈر گئی تھی میں۔۔”
وہ ایکسائیٹڈ ہوکر نجیب کا ہاتھ تھامے اس بیڈروم میں داخل ہوئی تھی جو اس نے آج سے شئیر کرنا تھا اپنے شوہر کے
“کیوں۔۔؟؟ میں نے کبھی ایسا فیل کروایا تمہیں۔۔؟”
بیڈروم ڈور لاک کرکے اسے نے اسے پن کردیا تھا۔۔
“نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔؟؟”
“تو کیا مطلب تھا جان۔۔؟”
گردن پر ہونٹ رکھ کر نجیب سے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“نجیب۔۔”
ان ہونٹوں کی درمیان وہ باقی کا فاصلہ بھی ختم کرچکا تھا۔۔
“اس گھڑی کا انتظار ناجانے کب سے تھا مجھے عمارہ۔۔ آج میں اور انتظار نہیں کروں گا۔۔”
“آپ کو اور انتظارکرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے نجیب میں آپ کی ہوچکی ہوں۔۔”
۔
وہ اسے اپنے بانہوں میں اٹھائے بیڈ پر لے گیا تھا۔۔وہ کامیاب ہوگیا تھا اسے حاصل کرنے میں۔۔۔ مگر اسے معلوم نہیں تھا اپنی زندگی کی انمول چیز کو کھو کر اسے یہ جسمانی سکون حاصل ہوا تھا۔۔
۔
عمارہ پر وہ اپنی محبتیں وار چکا تھا ان کچھ گھنٹوں میں۔۔۔
عمارہ کے سوجانے کے بعد وہ بستر سے اٹھ گیا تھا اپنے کپڑے چینج کرنے کے بعد وہ دبے پاؤں دروازہ بند کئیے اس کمرے کی جانب بڑھا تھا جو اس کا اور نسوا کا تھا۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرے اندر جانے سے پہلے باہر کھڑا ہوگیا تھا۔۔گھبراہٹ ہورہی تھی اسے۔۔
وہ جانتا تھا اس نے آج اپنی ضد پوری کی اپنی بیوی کو ہرٹ کیا ۔۔ وہ اس رات کے بعد ایسے جانا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔
مگر وہ جانتا تھا اگر وہ ایک پل بھی نسوا کے پاس رکا تو وہ کامیاب ہوجائے گی اسے یہ نکاح سے پیچھے ہٹنے کے لیے۔۔
وہ اس لیے لاتعلق رہا۔۔ اب جب شادی ہوگئی تھی تو اب اسے اور لاتعلق نہیں رہنا تھا نسواۓء سے وہ درواہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا تو اندر کا منظر بہت الگ تھا۔۔۔
بہت وقت کے بعد اس نے اپنے بیٹے کو نسوا کے ساتھ یوں اسکے کمرے میں سوتے ہوئے دیکھا تھا۔۔
جو نسوا کے سینے پر سر رکھے ہوئے پرسکون نیند میں تھا۔۔
نجیب کے دل میں جانے کیا آیا کہ اس نے اپنے موبائل سے ان دونوں کی بہت سی تصاویر لے لی تھی۔۔۔
کچھ دیر وہ یوں ہی ٹیک لگائے ان دونوں ماں بیٹے کو دیکھتا رہا اور پھر وہ آہستہ سے مننان کو اپنی گود میں اٹھا چکا تھا۔۔
وہ چاہتا تھا کہ وہ مننان کو اسکے کمرے میں لٹا کر وہ نسوا کے ساتھ باقی کی رات گزارے اسکے پہلو میں۔۔
وہ مننان کو آرام سے بیڈ سے اٹھا چکا تھا اسی وقت اسکی شرٹ پیچھے سے پکڑ کر نسوا نے روک دیا تھا اسے۔۔۔
“میں ابھی مننان کو اسے کمرے میں چھوڑ آؤں پھر آتا ہوں۔۔”
وہ نسوا کی بند آنکھیں اور شرٹ پر مظبوط گرفت دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔۔
وہ جانتا تھا اسکی بیوی اس سے زیادہ وقت کے لیے ناراض نہیں رہ سکتی اور اب اسکے چہرے پر وہ خاموشی دیکھ کر خوش ہوگیا مگر نسوا کی بات نے جیسے اسے مکمل بلینک کردیا تھا
“کیا آپ نے اپنی بیوی کے ساتھ اپنی شادی کنزیوم کرلی ہ نجیب۔۔؟؟”
“نسواۓء میں ابھی اسے چھوڑ کر آتا ہوں۔۔”
“کیا شادی کنزیوم کرچکے ہیں۔۔؟؟ یس آر ناٹ۔۔؟؟”
وہ ایک دم غصے سے بولی تھی اس کے بولے گئے الفاظ نے اسے اور نجیب دونوں کو حیران کیا۔۔
“یس۔۔۔نسواء تمہاری جگہ اور محبت۔۔”
“مننان کہیں نہیں جائے گا۔۔ غسل کئیے بغیر اس کمرے میں آنے کی جرات بھی کیسے کی آپ نے۔۔؟؟ بازاری وہ ہوئی یا میں۔۔؟”
وہ اٹھی اور مننان کو کھینچ لیا تھا اور واپس اپنے ساتھ لٹا لیا تھا۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے جیسے ہی لیٹی تھی کچھ منٹ بعد خود کو سنبھال کر اپنا غصہ کنٹرول کرکے نجیب ایک بار پھر سے بیڈ کی دوسری جانب بڑھا تھا نسوا کی بیک اسکی طرف تھی وہ جیسے ہی لیٹا تھا نسوا کے پیٹ پر ہاتھ رکھے اس نے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔کچھ فاصلہ بھی ختم کرنے کی کوشش کی تو نسوا نے مننان کو ان دونوں کے درمیان لٹا لیا تھا۔۔۔
۔
“نجیب۔۔۔ جب ایک بیوی ضرورتیں پوری کرنے آگئی ہے تو مجھے نہیں لگتا میری کوئی ضرورت رہ گئی ہے۔۔”
“نسوا بات کو بڑھاؤ مت۔۔۔ میں آپ کو یقین دلا چکا ہوں آپ کی حق تلفی نہیں ہوگی۔۔ سب ویسے ہی رہے گا۔۔ “
“حق تلفی۔۔؟ کرچکے ہیں۔۔ اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں۔۔ بیوی کے خلاف جاکر شادی کی اور اسی بیوی کو کہہ رہے ہیں کہ بات کو نہ بڑھاؤ۔۔؟؟”
“میں صبح ہوتے ہی چلی جاؤں گی۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔؟؟ کیا بکواس کئیے جارہی ہیں۔۔؟؟’
وہ چلاتے ہوئے بستر سے اٹھا تھا
“لائٹس آف کردیں مننان سو رہا ہے۔۔”
وہ پھر سے کروٹ لے چکی تھی جب نجیب بازو سے پکڑ کر اسے بیڈ سے اٹھا چکا تھا
“میرا ہاتھ چھوڑیں نجیب۔۔۔صبح تک کا وقت دیجئے۔۔ تماشا مت لگائیں۔۔۔”
انکے شور کی آوازیں کمرے سے باہر جارہی تھی
نجیب کا پارہ اس وقت ہائی ہوا جب اسکی نظر کپبرڈ کے پاس پڑے سوٹ کیس پر پڑی۔۔
“کس سے پوچھ کر پیکنگ کی آپ نے۔۔؟؟ کیا غلط کردیا میں نے۔۔؟ جو اس طرح کررہی ہیں۔۔؟ انوکھا کام نہیں کیا میں نے۔۔
چلیں آپ کو گھر کے بڑوں سے کنفرم کروا دیتا ہوں۔۔ اور تماشا آپ نے لگایا ہے نسواء۔۔۔”
وہ ہاتھ پکڑ کر سیڑیوں سے نیچے لے گیا تھا۔۔۔ نجیب نے اپنے ماں باپ کے کمرے کے باہر دستک دی اور پھر دادی کے کمرے میں۔۔۔
وہ سچ میں سب کو اٹھا چکا تھا ایک تماشا لگا چکا تھا۔۔ جو آج تک اس نے کبھی نہیں کیا تھا وہ اس خاندان کا سب سے سلجھا ہوا خاموش طبیعت شخص تھا۔۔ مگر وہ جس طرح نائٹ گاؤن میں ملبوس بیوی کو بنا دوپٹے کے کھینچتے ہوئے نیچے لایا تھا اس وقت نسواء کو وہ شخص اسکا نجیب نہیں لگا تھا۔۔
“نجیب بس کیجئے۔۔۔”
“آپ نے حد پار کردی ہے اب میں بس اس وقت کروں گا جب آپ سب کے سامنے تسلیم کریں گی کہ میں نے شادی کرکے غلطی نہیں کی۔۔”
وہ دونوں آپس میں بحث کررہے تھے جب سب باہر آگئے تھے انکے درمیان ایک دائرے کی صورت میں سب ہی فیملی ممبرز کھڑے تھے اور پہلی سیڑھی پر عمارہ جو بکھرے بالوں میں تھی نجیب کی شرٹ اور جینز پہنے وہ نسواء کے اندرونی زخموں پر اچھے سے نمک چھڑک چکی تھی
“موم ڈیڈ دادی۔۔۔ میری بیوی کو بتائیں کہ میں نے شرعی حق لیا ہے دوسری شادی کرکے اس میں گناہ کیا ہے۔۔؟؟”
“نسواء بیٹا میں تو تمہیں ایک پڑھی لکھی سلجھی ہوئی لڑکی سمجھتی تھی۔۔۔ نجیب کو اسکی خوشیوں سے دور نہیں کرسکتی تم۔۔”
“نسوا بیٹا۔۔ نجیب کو دوسری شادی کا حق دین اور معاشرہ دونوں نے دیا ہے۔۔۔”
نجیب ک والد کا لہجہ زیادہ دھیما تھا نجیب کی والدہ سے زیادہ نرم تھا۔۔۔
“دین اور معاشرہ چاہے اجازت دہ میں نے اجازت نہیں دی تھی پاپا جی۔۔”
وہ کوشش کررہی تھی مگر نجیب کی گرفت مظبوط تھی
“تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے میرے بیٹے کو۔۔ تم سٹیٹس میں اس قابل نہیں تھی پھر بھی ہم نے اجازت دی اسے تم سے شادی کرنے کی۔۔”
چچی کی آگ برساتی آواز نے اسے سر جھکانے پر مجبور کردیا تھا
“رخشندہ بس۔۔”
دادی نے اپنی بہو کو ڈانٹا اور خود نسواء کے سر کو اٹھا کر اپنی طرف کیا تھا
“اب شادی ہوگئی ہے نسواء میری پیاری بچی۔۔ اب لڑائی کا فائدہ نہیں۔۔”
“دادی انہوں نے اپنی مرضی کی۔۔ اب مجھے میری مرضی کرنے دیں۔۔”
“سن لیا دادی۔۔ یہ ناراض ہوکر جانا چاہتی ہے۔۔۔دیکھ لیں۔۔”
وہ اور اونچی آواز میں بولا تو نسوا خاموش ہوگئی تھی۔۔اور پھر گھر والوں کی نا ختم ہونے والی باتیں شروع ہوگئی تھی۔۔
وہ نسوا کے سٹیٹس سے لیکر اسکی غربت کو طنز و طعنوں کی نفرت میں لپیٹ چکے تھے۔۔ بس اس کا کردار تھا جس پر انگلی نہیں اٹھی تھی باقی تو اسکی بیوی کے حقوق بھی نجیب نے سامنے رکھ دئیے تھے اپنی اگلی بات کرکے۔۔ اس بات نے نسوا کو ناصرف شرمندہ کیا تھا بلکہ اسے اندر تک ایک نیا گھاؤ دہ دیا تھا
“ایک سال تک میں اپنے حقوق مانگتا رہا دادی تب کہاں تھی میری بیوی۔۔؟ پوچھیں اس سے۔۔ کیا میری ضرورتیں پوری کی اس نے۔۔؟؟”
اور سب کو لاجواب کردیا تھا نجیب کی بات نے۔۔۔وہ غصے میں بھول گیا تھا وہ اپنی بیوی اور اپنے رشتے کا اچھا خاصا تماشا بنا چکا تھا اس وقت۔۔
“ویسے افسوس کا مقام ہے نسوا۔۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تمہارے شوہر نے باہر آفئیر نہیں چلایا زنا نہیں کیا۔۔۔ نکاح کیا ہے۔۔۔”
دوسری چچی بھی بول پڑی تھی۔۔اور باری باری سب۔۔۔ نجیب اپنی بیوی کو شرمندہ کروا کر اب اسے چپ کروانا چاہتا تھا۔۔ وہ الٹا کرگیا تھا سب کچھ۔۔ وہ چاہتا تھا اسکی شادی کو پوری طرح اپنائے نسوا اور پھر اپنے شوہر کو اپنے سر کا تاج بھی بنا کررکھے۔۔
“نسوا بیٹا تم نجیب کو اسکے حق سے منع نہیں کرسکتی۔۔ تم کیوں گناہ گار بن رہی ہو۔۔؟”
“بیٹا نسوا اچھی بیویاں ایسے شوہروں کی نافرمانی نہیں کرتی۔۔”
“نسواء اب سب کی باتیں سن لی ہے۔۔؟ تم اتنے سال اچھی بیوی بنی رہی ہو یہ بھی تمہارا فرض ہے۔۔۔”
وہ واپس اسے کمرے میں لے جانے کے لیے واپس سیڑیوں کی طرف بڑھا تھا جب نسوا کی بات نے سب کے جاتے قدم روک دئیے تھے
“میں نجیب اور میرے راستے الگ کرنا چاہتی ہوں۔۔ میں نہیں رہنا چاہتی ایک چھت تلے اپنی سوتن کے ساتھ۔۔ میں نہیں کرنا چاہتی تھی اپنے شوہر کو کسی کے ساتھ شئیر۔۔ مگر میرے شوہر نام دار نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی ہے دادی۔۔ انہوں نے میرے خلاف جاکر شادی کی اب مجھے انکے خلاف جا کر علیحدگی لینی ہے۔۔”
اور نجیب کی گرفت کمزور پڑ گئی تھی اسکی کلائی پر۔۔۔ نجیب نے ہاتھ جیسے ہی چھوڑا تھا وہ بھی کچھ قدم پیچھے ہوگئی تھی
“ہاہاہاہا،،،، علیحدہ ہونا ہے۔۔؟؟ مننان کے ساتھ۔۔؟؟ جانا کہاں ہے۔۔؟؟ ویٹر بنو گی سرونٹ بنو گی۔۔؟ کیا ہے آپ کے پاس سروائیو کرنے کے لیے۔۔؟؟”
نسواء کو جیسے ہی پیچھے دھکیلا تھا وہ دادی کے پاس جا گری تھی جس گرتے ہوئے تھام لیا تھا دادی نے۔۔۔
“آئی ہیٹ یو ڈیڈ۔۔۔”
مننان بھاگتے ہوئے نیچے آیا تھا۔۔۔ نسواء کےہاتھوں کو اپنے چھوٹے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔۔
“مجھے بھی تم سے کچھ خاص محبت نہیں ہے۔۔ نفرت ہوگئی ہے۔۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہورہا ہے۔۔”
سیڑھیوں کے پاس پڑی بڑے سے گلدان پر ہاتھ مارتے ہوئے اپنے ہی بیٹے کو وہ الفاظ کہے تھے نجیب نے۔۔
“نجیب۔۔؟؟”
نسوا اٌنے بیٹے کو اپنے گلے سے لگا چکی تھی جب اس نے اپنے شوہر کے منہ سے یہ الفاظ سنے تھے
“آپ کو جانا ہے نہ۔۔؟ راستے الگ کرنے ہیں نہ۔۔؟ جائیں۔۔ میں آپ کو ایک روکوں گا نہیں۔۔ آپ جائیں۔۔ مگر جب باہر کی دنیا سے ٹھوکر کھا کر واپس آئیں گی تو آپ کو وعدہ کرنا ہوگا۔۔ آپ میرے اس رشتے کو اپنائیں گی بھی اور میرے اور ہمارے رشتے کو پہلے جیسا بھی کریں گی۔۔۔”
یہاں مننان کا دل توڑ کر اسکی ممتا کا گلا گھونٹ کربھی وہ شخص اسی بات پر اڑا ہوا تھا۔۔ نسواء دیکھتی رہ گئی تھی نجیب کو۔۔
“آپ کے لیے یہ ایک ہی رشتہ اتنا اہم کیوں ہوگیا ہے۔۔؟ کیا ہے آخر اس رشتے میں جسے میں ایکسیپٹ نہیں کروں گی تو کچھ نہیں ہوگا۔۔؟ سب تو ہوگیا ہے۔۔۔
نجیب۔۔ میں اتناسمجھ گئی ہوں۔۔ آپ بھی ان ٹپیکل مردوں میں سے ہیں۔۔ جو چاہتے ہیں ایک چھت تلے آپ کو دو جسم میسر ہوں۔۔ اسکا بھی اور میرا بھی۔۔۔
مگر میں آج سے اپنے وجود کو کبھی آپ کو نہیں سونپوں گی۔۔ جیسے آپ نے کیا کسی کے ساتھ خود کو شئیر کردیا۔۔ اب میں وہ نہیں کروں گی۔۔۔
“آ پ میرے لیے سب کچھ تھے نجیب۔۔مگر اپنے ہی خون کے لیے یہ سب۔۔؟”
“تو کیا کہوں۔۔؟؟ اور کیا کہوں۔۔؟” نسواء کو بازوں سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچا تو اس نے دونوں ہاتھوں کو نجیب کے سینے پر رکھ دیا تھا وہ اتن نزدیکی بھی سہہ نہیں پارہی تھی نجیب کے ساتھ اور یہ بات نجیب کو بھی تکلیف دہ گئی تھی
“میرا ہی خون میری خوشیاں کھا گیا ہے۔۔ ورنہ آپ میں اتنی جرآت تھی کہ آپ میرا سامنا کریں۔۔؟”
“فار گوڈ سیک۔۔۔ سوچ کر بولئیے کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟ آپ کا اپنا خون نہیں آپ کا یہ خمار ایک نئی بیوی کو لانا اپنی خواہشات کے لیے اپنا گھر آپ نے خود برباد کیا وہ اس عورت کو پانے کی حاصل کرنے کی چاہ نے کھا لیا ہمارے گھر کو۔۔
اب خدارا میرے بیٹے کو درمیان میں مت لائیے۔۔”
وہ مننان کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے اوپر روم میں چلی گئی تھی۔۔۔
“ڈیڈ مجھ سے ہیٹ کرتے ہیں موم۔۔؟؟ “
مننان نے روتے ہوئے پوچھا تو نسواء جلدی سے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھ چکی تھی
“مننان بیٹا۔۔۔”
“ماما مجھے اب ڈیڈ سے پیار نہیں رہا۔۔۔”
نسواء کے گلے لگ کر اس نے جس انداز میں کہا تھا وہ اس وقت اپنی عمر سے بہت بڑا لگ رہا تھا آنکھوںمیں اپنے باپ کے لیے نفرت لئیے اس نے جب اپنی ماں کو دیکھا تھا نسواء کی روتی آنکھیں اور رو دی تھی۔۔ کہ اب اسکی آنکھوں سے پانی نکل بھی رہا تھا تو جلن ہونے لگی تھی۔۔
وہ کچھ دیر میں کپڑے چینج کرکے روم سے سوٹ کیس پکڑ کر نیچے لے آئی تھی۔۔
“میں اس سوٹ کیس کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آخر مجھے ٹھکرا کر میرے دئیے ہوئے پیسے سے آپ یہ وقت گزاری کرو گی۔۔؟
میرا دیا ہوا چیلنج آپ میری محنت کی کمائی سے پورا کرو گی۔۔؟؟”
وہ کہتے ہوئے نیچے جھکا تھا نسواء کے ہاتھ سے سوٹ کیس کھینچ کر اس نے کپڑے نکالے تھے۔۔
نجیب کے ساتھ ساتھ سب کو ہی معلوم تھا نسواء نے لازمی اس بیگ میں مہنگی جیولری اور پیسے رکھیں ہوں گے ۔۔
کیونکہ وہ اس گھر کی واحد بہو تھی جس پر شوہر کی عنایت قیمتی تحائف کی صورت میں ہوتی تھی۔۔۔
نجیب نے ہر قیمتی جیولری اپنی بیوی کو گفٹ کی ہوئی تھی۔۔ وہ لاڈلی تھی نجیب کی۔۔
سب جانتے تھے پھر آج یہ سٹیج جو سجا ہوا تھا انکے رشتے کو لیکر اس نے تو ان دونوں کے رشتے کی حقیقت واضح کردی تھی
“کچھ۔۔۔بھی نہیں ہے۔۔؟؟ پیسے کہاں ہے۔۔؟ وومن۔۔۔ تم اس طرح باہر کی دنیا میں نکلو گی۔۔؟؟”
اس نے غصے سے وہ بیگ پیچھے پھینک دیا تھا۔۔ دنگ رہ گئے تھے سب
“اس میں صرف دو دو جوڑے کپڑوں کے ہیں۔۔ میرے اور میرے بیٹے کے۔۔
مجھے آپ کی مہنگی جیولری اور وہ پیسے نہیں چاہیے جو وقتی خوشی دیتے ہوں۔۔
مجھے وہ سب کبھی نہیں چاہیے تھا۔۔ مجھے وہ چاہیے تھا جو آپ نے چھین لیا مجھ سے۔۔۔
میرا سکون میری محبت۔۔ میرا مان اور بھرم وہ سب دوسری شادی کرکے آپ لوٹ چکے ہیں۔۔”
وہ مننان کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی تھی اب کے اس نے وہ بیگ اٹھانے کہ بھی زحمت نہیں کی تھی۔۔
“یہ پیسے لے لو۔۔ کچھ دن میں جب یہ آنا کا بخار اتر جائے گا تو واپس آجانا۔۔”
نجیب نے جب نسوا کے ہاتھ میں پیسے رکھنے کی کوشش کی تو مننان نے نجیب کے پیسوں والے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
“میں ہوں ماما کے ساتھ ہمیں آپ کے پیسوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔”
بیٹے کی بات سن کر اس نے بےساختہ اپنی بیوی کی آنکھوں میں دیکھا تھا جو نم ہوچکی تھی۔۔
وہ دونوں آنکھیں جیسے ایک دوسرے سے شکوہ کررہی ہوں
“میں کوشش کروں گی مننان کو سمجھا سکوں کہ آپ ‘میرے ہرجائی’ ہیں ہمارے بیٹے کے نہیں۔۔۔
نسواء آنکھوں کے آنسو صاف کئیے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔