Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 28
Rate this Novel
Episode 28
“آپ یہ شادی مت کریں مننان۔۔۔ میری زندگی میں وہ واحد امید ہیں آپ جس نے مجھے لڑکھڑانے نہیں دیا۔۔۔
بہت محبت ہوگئی ہے مجھے آپ سے۔۔۔ پلیز یہ شادی مت کریں۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں بیچ منجدھاڑ میں چھوڑ کر مت جائیں مجھے۔۔۔”
وہ گھٹنوں کےبل جیسے ہی گری تھی مننان نے رخ موڑ لیا تھا
“کسی ڈسپریٹ با۔۔بازاری عورت سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہی ہو تم مجھے اس وقت۔۔ چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔ میں آج ہی نکاح کررہا ہوں لیزا سے۔۔۔ اور۔۔۔ کل سے تمہیں آفس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
۔
“آپ بہت پچھتائیں گے مننان۔۔۔ رک جائیے اپنے بدلے کی آگ میں اتنا مت جلیں کےراکھ ہوجائیں۔۔۔
میں واپس نہیں لوٹ کر آؤں گی اگر چلی گئی تو۔۔۔ سوچ لیجئے۔۔۔”
“میں کبھی نہیں پچھتایا۔۔۔ تم میٹر نہیں کرتی۔۔۔”
“میں کہہ رہی ہوں۔۔ آپ پچھتائیں گے مننان آفندی۔۔۔ پچھتائیں گے آپ۔۔۔
مجھے کھونے پر پچھتائیں گے آپ۔۔۔ میرے لیے پچھتائیں گے مجھے لیکر پچھتائیں گے۔۔
میں کہہ رہی ہوں آپ کو۔۔۔”
۔
اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کا دریا بہہتا چلا گیا اور وہ اسے درگزر کرتا چلاگیا۔۔۔
۔
۔
“مسٹر مننان۔۔۔”
مننان ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا لیڈی ڈاکٹر جیسے ہی آئی سی یو سے باہر آئی تھی مننان کی نظریں بےساختہ روم کی طرف گئی تھی
“ڈاکٹر۔۔۔وہ منیشہ۔۔۔”
“ان کے ساتھ جو ہوا۔۔صاف واضح ہے زبردستی کی گئی۔۔۔ اور انکی خود سوزی کی وجہ بھی یہی لگ رہی ہے۔۔ ابھی بھی انکی حالت نازک ہے۔۔”
مننان ایک جھٹکے سے واپس گر گیا تھا جہاں وہ کچھ دیر پہلے بیٹھا ہوا تھا ڈاکٹر کی بات سن کر۔۔
“انکے ہزبنڈ مسٹر ماہیر کو انفارم کردیجئے۔۔ ہمیں نہیں لگتا یہ سروائیو کرپائیں گی۔۔۔”
۔
ڈاکٹر یہ کہہ کر ابھی ایک قدم بڑھی جب مننان نے ان کا راستہ روک لیا
“ڈاکٹر جو بات آپ میں مجھ میں ہوئی وہ ہم دونوں میں رہنی چاہیے۔۔ کسی تیسرے کو نہیں۔۔”
“پر پولیس کو فون کرچکی ہوں۔۔ “
“پولیس کو میں ہنڈل کر لوں گا اگر میڈیا تک یہ بات گئی تو یاد رکھنا میں پورے ہسپتال کو ختم کردوں گا۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔”
وہ ڈاکٹر گھبراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“منیشہ۔۔۔ “
آج اسکی آنکھیں اشک بہا رہی تھی جیسے اس کے نکاح والے دن اس لڑکی کی۔۔
۔
“منیشہ۔۔۔”
منہ کو ہاتھوں میں لئیے وہ وہاں بیٹھ گیا تھا۔۔
“میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔ مار دوں گا منیشہ۔۔۔”
وہ اس ہسپتال سے سیدھا اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی شہریار کو کال ملا دی تھی
“سر آپ کی میٹنگ پچھلے پندرہ منٹ سے۔۔”
“سب کینسل کردو۔۔ ابھی سب چھوڑ کر یہاں لائف کئیر ہاسپٹل میں آؤ۔۔ابھی۔۔۔ اور۔۔۔ اور اپنے ساتھ۔۔۔مہک کو لے آؤ۔۔ یہاں۔۔ منیشہ ایڈمٹ ہے۔۔۔”
اور جب شہریار نے سوال پوچھنے کی کوشش کی تو سٹئیرنگ پر ہاتھ مار کر اس نے سپیڈ اور تیز کردی
“کیوں ہے کیسے ہے۔۔ کس لیے ہے میں تمہارے باپ کا ملازم نہیں ہوں جو سوالوں کے جواب دوں تم نوکر ہو میرے ہاں۔۔اب جو کہا وہ کرو۔۔۔ یہاں اسکے پاس رہو جب تک میں نہیں آجاتا۔۔۔پھر ہم اسے پاکستان شفٹ کردیں گے۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پلیز ماہیر۔۔۔ تم یہ نہیں ہو۔۔۔رک جاؤ۔۔ ہمارے درمیان دوستی کے اس خوبصورت رشتے کو اس طرح برباد نہ کرو۔۔۔”
“دوستی۔۔؟ بیوی ہو تم میری منیشہ۔۔ ہمت کیسے ہوئی اپنا آپ کسی اور کو سونپنے کی۔۔ تم نے میرا یقین کیوں توڑ دیا۔۔ تم اس سے محبت کرتی تھی محبت دیتی جسم دینے کا گناہ کیوں کیا۔۔”
۔
“منیشہ۔۔۔”
سر پر ہاتھ رکھ کر وہ جیسے ہی اٹھا خود کو بالکونی پر پایا ہاتھ میں ڈرنک کی بوتل دیکھ کر اس نے ادھر اُدھر دیکھا اور سر پکڑ کر ان بیڈروم کی جانب بڑھا۔۔۔
ٹوٹی بکھری ہوئی چیزیں دیکھ کر اس نے ایک ہی سرگوشی کی تھی
“منیشہ۔۔۔ منیشہ۔۔۔”
کانچ پر چلتے ہوئے اسے اپنے پاؤں زخمی ہوتے محسوس نہ ہوئے تھے دروازے پر گرے ہوئے اس دوپٹے کو ہاتھوں میں لئیے وہ بستر پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“منیشہ۔۔۔منیشہ۔۔۔۔”
وہ چلایا تھا۔۔۔ آنکھیں آنسوؤں سے تر تھی۔۔۔وہ ایک دم سے اٹھا تھا۔۔
شرٹ پہنے وہ باہر کی جانب بھاگا تھا۔۔۔اور ہوٹل سٹاف سے ٹکرایا تھا۔۔۔
“منیشہ۔۔ میری وائف۔۔ وہ کہاں ہے اندر نہیں ہے۔۔”
چہرہ صاف کرتے ہی پوچھا تھا اس نے۔۔۔
“سر وہ تو اپنا بیگ لے کر پاکستان چلی گئی ہیں۔۔”
سرونٹ نے بہت اسانی سے اتنا بڑا جھوٹ بول دیا تھا۔۔۔
اور ماہیر واپس روم سے اپنا پاسپورٹ اور دوسری اہم چیزیں لیکر باہر نکل آیا تھا۔۔
۔
اپنا پاسپورٹ لیتے ہوئے بھی اس کی نظر اس دوسرے پاسپورٹ کی طرف نہ گئی تھی۔۔
وہ جیسے ہی نکلا تھا اس سرونٹ نے نوکر کے کپڑے کپڑے اتار کر ایک ہی پرسن کو کال کی تھی
“عمارہ میم آپ کا کام ہوگیا ہے۔۔۔ اب میں واپس آجاؤں۔۔”
“ابھی ایک آخری کام کرو۔۔ اس ہاسپٹل سے اس لڑکی کا کام تمام کرکے یہ قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کردو۔۔”
“جی بہتر۔۔۔”
اور وہ سرونٹ بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء میں بس ابھی آیا۔۔آپ یہیں رہئے گا ابھی ایک اور سرپرائز باقی ہے۔۔”
نجیب یہ کہتے ہی وہاں سے چلے گئے۔۔وہ جیسے ہی گئے ہوٹل سٹاف نے خوبصورت پھولوں کا گلدستہ ٹیبل کے سینٹر پر رکھ کا نسواء کی پسندیدہ ڈشز رکھنا شروع کردی تھی
رومینٹک نمبر چلنا شروع ہوا۔۔ وہ پورا سیکشن خالی تھا ہر طرف گلاب کی پتیاں جو اس پر اسکے ارد گرد گررہی تھی۔۔
اور پھر کچھ ہی پل میں نجیب واپس داخل ہوئے اور آتے ہی کوٹ پاکٹ سے وہ ریڈ روس نکال کر نسواء کو پیش کیا جو بہت شاک ہوئی تھی۔۔
“نجیب مجھے معلوم نہیں تھا یہ آپ کا سرپرائز ہوگا۔۔۔میں نے ایک ضروری بات کے لیے بلایا تھا آپ کو یہاں۔۔”
وہ پھول لینے سے بھی انکار کردیا تھا انہوں نے ایک قدم پیچھے ہوکر۔۔
“کیوں نسواء پسند نہیں آیا۔۔؟ کچھ کمی رہ گئی۔۔؟ آپ دو ماہ کے بعد مجھ سے ملنے کے لیے راضی ہوئی۔۔ میں ایسا موقع کیسے جانے دیتا۔۔؟؟
نسواء اب تو حورب نے بھی مجھے اپنا لیا ہے۔۔اور۔۔”
“جب میں گھر سے نکلی تھی تو حورب نہیں مننان کو ٹھکرایا تھا آپ نے۔۔ نجیب۔۔ ایک ہی بات کہتے ہیں آپ اور آج اسی بات کو ختم۔۔۔”
ڈور آرام سے کھلا ضرور تھا پر غصے سے بند بھی ہوا تھا جب حزیفہ تیز قدموں سے آگے بڑھا تھا
“تو یہ کہنے کے لیے بلایا تھا مجھے یہاں۔۔؟؟”
حزیفہ نے نسواء کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“حزیفہ میری بات۔۔”
“آپ نے اسے یہاں بلایا تھا نسواء۔۔؟؟مجھے لگا بس مجھے ہی یہاں۔۔”
نسواء نے ہاتھ آگے بڑھا کر ان دونوں کو چپ رہنے کا کہہ دیا تھا۔۔۔
۔
“نجیب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں نے ہمارے درمیان سب اختلافات بھلا کر آپ کے ساتھ جانے کے لیے بُلایا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔۔”
نسواء کی آنکھوں اور لہجے میں زرا سی بھی نرمی نہیں تھی۔۔ لب زہر اگل رہے تھے اور آنکھیں غصہ۔۔۔
“نسواء میں نے معافی مانگی تھی۔۔”
نجیب آفندی کو اس وقت فکر نہیں تھی کہ وہ اپنے دشمن کے سامنے کمزور پڑ رہے تھے۔۔ انہوں نے اتنا ہی نرمی سے کہا نسواء کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسکی طرف جھکے تھے
“نسواء میں سب کرنے کو تیار ہوں دنیا کے سامنے سماج کے رشتے داروں کے سامنے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔۔”
“معافی غلطیوں کی دی جاتی ہے گناہوں کی نہیں نجیب میرے لیے آپ کا پہلا گناہ ہمارے رشتے میں بےوفائی تھی۔۔۔زنا تھا جو آپ نے کیا۔۔ میں آپ کی سب غلطیوں کو بھلا کر معاف کربھی دوں پر ان گناہوں پر معاف نہیں کرسکتی۔۔”
“نسواء۔۔ اتنی ظالم نہ بنو گناہوں کی معافی تو رب بھی دہ دیتا ہے۔ میں انسان گناہوں کا پتلا ہوں مجھے ایک موقع۔۔”
اور نسواء نے ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔۔
“میں خدا نہیں ہوں میں بھی انسان ہوں۔۔ انسان شاید معاف کردے پر میں بیوی کے ساتھ ساتھ ماں بھی تو تھی۔۔؟؟ بیوی معاف کر بھی دے تو وہ ماں معاف کیسے معاف کر سکتی۔۔؟؟ چلے جائیں نجیب۔۔”
اور وہ نسواء کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک ایک قدم پیچھے جانا شروع ہوئے تھے
“ہاہاہاہاہا نجیب آفندی۔۔۔ناؤ گیٹ آؤٹ۔۔۔”
حزیفہ نے رہی سہی کسر نجیب کو پیچھے پش کرکے پوری کردی تھی اور وہ جانے سے پہلے اس ویٹر سے ٹکرائے تھے جو کیک لے کر اسی ٹیبل کی طرف آرہا تھا
وہ کیک نیچے گر گیا تھا۔۔ نجیب نے پلٹ کر ایک نظر دیکھا تھا۔۔۔
“سر یہ آپ کی ویڈنگ اینیورسری کا کیک تھا۔۔۔یہ تو خراب ہوگیا یو ایڈیٹ۔۔”
اسکے قدم رکے تھے اور نسواء کی سانسیں بھی۔۔۔یہ دن تو وہ بھول ہی گئی تھی۔۔۔
“مینیجر نے اپنے ہی ویٹر کو ڈانٹ کر بھیج دیا۔۔
“ایم سو سوری سر۔۔”
“اٹس اوکے ۔۔۔یہ بل ۔۔۔”
جیب سے سارے پیسے نکال کر مینیجر کو تھما دئیے تھے۔۔
“سب فلسفے سب باتیں سب یادیں ادھوری رہ گئی۔۔”
نجیب یہ کہتے ہی چلے گئے تھے۔۔۔
“نسواء آپ نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔فائننلی۔۔ آپ اس بوجھ سے آزاد ہونے لگی ہیں۔۔”
حزیفہ خوشی کے مارے آگے بڑھا تھا جب اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر نسواء نے اسے ویسے ہی پیچھے دھکیلا تھا جیسے کچھ دیر پہلے اس نے نجیب کو پیچھے پش کیا تھا
“نسواء۔۔۔”
“بیٹھ جائیں تھک گئے ہوں گے۔۔ بھائی کے پاس سے جو واپس آرہے ایک نئی پلاننگ کرکے۔۔۔ مسٹر حزیفہ آفندی۔۔۔”
اور نسواء خود بیٹھ کر سامنے والی خالی کرسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔۔
حزیفہ اتنا شاک تھا کہ اسے کچھ دیر لگی بیٹھنے میں تب تک وہ اپنی آنکھوں سے وہ آخری آنسو بھی صاف کر چکی تھی اس شیشے سے نجیب کو گاڑی میں بیٹھتے جاتے دیکھ اسے وہی پرانی تکلیف محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔
جو اسکے دل میں ہمیشہ سے رہتی تھی
۔
“نسواء میں بتانے ہی والا تھا ۔۔ ہم لوگوں کا ان سے اس نام سے کوئی تعلق۔۔”
“کب بتانے والے تھے۔۔؟ نجیب کو مار دینے کے بعد۔۔؟؟ یا مجھے اور میرے بچوں کو مار دینے کے بعد۔۔؟؟”
“نسواء۔۔؟؟”
وہ نسواء کا ہاتھ پکڑنا چاہتا تھا پر وہ ہاتھ ٹیبل سے پیچھے کرچکی تھی اور حزیفہ نے گہری سانس بھری تھی
“وہ میرے بچوں جیسے۔۔ میرے بچے ہیں نسواء حورب کو مننان کو آپ کو میں نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔ آپ تینوں ک لیے کیا کچھ نہیں کیا میں نے۔۔۔اور۔۔”
“وہ سب کچھ اپنے مفاد کے لیے کیا حزیفہ۔۔ صرف اپنی لالچ میں اپنے بدلے میں کیا مجھے میرے بچوں کو بیچ میں مت لاؤ۔۔ اور اب بتاؤ کے آگے کی پلاننگ کیا ہے۔۔؟؟
اور تمہیں کیا لگا تھا کہ میں نجیب کو چھوڑ دوں گی۔۔؟ جسٹ لائک ڈیٹ۔۔؟؟”
نسواء کے اس روپ نے حزیفہ کو پوری طرح سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔ اسے تو بولنے کا موقع بھی نہیں دہ رہی تھی
“یہ سب کیسے معلوم ہوا۔۔؟ کیا نجیب نے بتایا۔۔؟؟”
“اس دن جب نجیب پر اٹیک ہوا۔۔ اس وقت عمارہ کے اس ایرنگ اور تمہارے پرفیوم نے بہت کچھ عیاں کردیا تھا مجھ پر۔۔۔”
“تو کیوں خاموش رہی۔۔؟ میری تماشا دیکھنے کے لیے۔۔؟؟ مجھے تڑپتا دیکھنے کے لیے۔۔؟؟”
اس نے طیش میں آکر ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا
“نجیب کیوں خوش ہیں۔۔؟؟ کیوں سب کو نہیں بتا رہے اپنی بیوی عمارہ کی حقیقت۔۔؟؟
کیونکہ وہ جگ ہنسائی سے بچ رہے ہیں انکی غیرت یہ گنوارا نہیں کرتی۔۔ وہ باپ نہ ہوکر بھی
ماہیر اور شزا کو دنیا کے طعنوں سے بچا رہے ہیں اسی طرح۔۔۔ حزیفہ۔۔
میں بھی چپ ہوں۔۔۔ دنیا کو معلوم ہوا تو کیا سوچیں گے۔۔؟؟
کہ یہ کتنی بدنصیب عورت ہے جس نے اپنی زندگی میں صرف دو مردوں کو اہمیت دی اور دونوں ہی دھوکے باز فریبی نکلے۔۔؟
پر یہاں بھی اپنی رسوائی کا ڈر نہیں۔۔۔حزیفہ۔۔۔”
اس نے بےرخی سے آنسو صاف کئیے تھے۔۔اور حزیفہ جس کی آنکھیں بھیگ چکی تھی نسواء کے منہ سے دھوکے باز کا لقب سن کر۔۔۔
“میں ڈرتی ہوں کہ میرے بچوں کا دل ٹوٹ جائے گا۔۔۔
خاص کر مننان۔۔۔حزیفہ اچھا ہوگا کہ تم بنا کچھ کہے ہماری زندگیوں سے نکل جاؤ۔۔
کیونکہ تم جو دو کام کرنے آئے ہو وہ میں تمہیں کرنے نہیں دوں گی۔۔۔”
اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“ایک نجیب کو جان سے مارنے کا دوسرا میری اور نجیب کی طلاق۔۔۔ کیونکہ اس زندگی میں تو یہ ہونے سے رہا۔۔۔”
۔
اور وہ اس ہوٹل سے جانے لگی تھی جب جاتے جاتے اسی کیک پر اسکی نظر پڑی تھی۔۔۔
اور وہ دل پر پتھر رکھ کر باہر نکل گئی تھی۔۔۔
پر جیسے ہی گاڑی پر بیٹھنے لگی تھی کسی نے اسکے سر پر وار کردیا تھا۔۔۔
اور وہ وہیں گرنے لگی تھی جب دو لوگ اسے اٹھا کر دوسری گاڑی کی سیٹ پر لٹا کر وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جب تک میں نہیں آجاتا وہیں رہو سیکیورٹی کے ساتھ۔۔ اور جیٹ تیار کرواؤ ہم آج ہی پاکستان کے لیے نکلیں گے۔۔۔”
۔
مننان نے کال بند کرکے موبائل سیٹ پر پھینک دیا تھا۔۔
گاڑی ایک گرینڈ ہوٹل کے سامنے جیسے ہی رکی وہ بنا پارک کئیے اترا اور اترتے ہی ہوٹل میں داخل ہوگیا۔۔ اسکی جلد بازیاں دیکھ کر گارڈ نے اسے اندر جانے سے پہلے وزٹنگ کارڈ مانگا جسے ایک زور دار مکا مار کر وہ آگے بڑھا تھا۔۔
ریسیپشن پر جاتے ہی دوسری طرف کھڑی لیڈی کو اس نے ایک ہی سوال پوچھا
“ماہیر آفندی روم نمبر۔۔”
“سر ہنی مون سوئٹ پرائیویسی کی وجہ سے انفارمیشن ہائیڈ۔۔”
مننان نے شیشے پر ہاتھ مار کر مانیٹر کی سکرین اپنی جانب کرلی تھی اور فورا ہی نام لکھ کر سرچ کیا تھا۔۔اور جب تک وہ وہاں سے جانے لگا ایلویٹر کی طرف تو پیچھے سے پانچ چھ گارڈ آگے آگئے تھے۔۔
“سر شرافت سے باہر چلے ہمارے ساتھ آپ پہلے ہی رولز بریک کرچکے۔۔۔”
“میں اس باسٹرڈ کو یہاں سے مار کر جاؤں گا۔۔”
ایک گارڈ نے جیسے ہی اس پکڑنے کی کوشش کی اس نے لڑائی شروع کردی تھی۔۔
اسے اس وقت کچھ بھی دیکھائی نہیں دہ رہا تھا سوائے ماہیر کو مارنے کے۔۔۔وہ پاگلوں کی طرح اپنا غصہ ان لوگوں پر اتار رہا تھا۔۔۔اور جب کوئی لڑنے لائک نہ بچا تو ان بےہوش زخمی گارڈ کو پیچھے کرتے ہوئے وہ ایلویٹر کا ویٹ کرنے کے بجائے اوپر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“ماہیر۔۔۔ ماہیر آفندی کہاں چھپا بیٹھا ہے بے غیرت آدمی باہر نکل۔۔۔
تجھے تو مرد بھی نہیں بول سکتا۔۔۔ “
دروازہ توڑتے ہوئے وہ اندر تو داخل ہوگیا مگر اسے اپنے مطلب کا کچھ بھی نہیں ملا وہاں جس کو مار کر وہ اپنا غصہ نکال سکتا۔۔۔
۔
ٹوٹی ہوئی چوڑیوں نے اتنا واضح تو کردیا تھا کہ اسکی آنے والی زندگی اب پچھتاوے میں گزرنے والی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مو۔۔۔م۔۔۔۔ موم کو ایسے کہاں لے گئے ہیں۔۔؟؟ کون لوگ ہیں۔۔ یہ۔۔۔”
اس کیفے میں داخل ہوتے ہی اسکی نظر روڈ کے اس پار اس گاڑی کی طرف گئی تھی اور حورب الٹے قدم وہاں سے اپنی گاڑی کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔
“ارے میڈم۔۔۔ ایسے کیوں بھاگ رہی اتنا بڑا بھی نہیں لگ رہا ہماری فرسٹ ڈیٹ پر۔۔۔”
شہاب کی آواز سن کر وہ ایک دم رکی تھی۔۔
“شہاب۔۔۔ وہ۔۔ماما۔۔مجھے جانا ہوگا۔۔۔”
اسکا موبائل نیچے گر گیا تھا۔۔۔ گاڑی کو اسی گاڑی کے پیچھے لگا دیا تھا اس نے۔۔۔
“حورب۔۔۔”
شہاب کو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی۔۔ جیب سے چابی نکال کر اپنی بائیک سٹارٹ کرکے حورب کو فالو کرنا شروع کیا تھا مگر جانے سے پہلے اس نے اس کا موبائل اٹھا لیا تھا
۔
حورب کی کار کو سننسان روڈ پر جاتے دیکھ وہ پریشان ہوا تھا ۔۔۔کچھ سپیڈ اور تیز کی تو اسے دور تلک حورب کی گاڑی اور وہ دوسری گاڑی نظر نہیں آئی تو اس نے بائیک ہینڈل پر ہاتھ مارا تھا غصے سے۔۔۔
“اب کیا کروں۔۔۔ ان دو راستوں میں اسے ایک راستے پر حورب گئی ہے۔۔ کیا کروں ۔۔۔۔
کچھ سوچنے کے بعد اس نے جلدی سے حورب کا موبائل آن کیا اور ڈائل نمبر میں۔۔
مننان کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔اور پھر نسواء کا۔۔۔”
جو ایک بیل کے بعد آف ہوچکا تھا۔۔۔
“یہ دونوں نمبر نہیں مل رہے۔۔”
دن کی روشنی تو کب کی ڈھل گئی تھی۔۔۔ بنا کچھ سوچے اس نے نجیب کا نمبر ڈائل کردیا تھا
اسے اندازا تھا حورب کا اپنے ڈیڈ کے ساتھ اس کمزور رشتے کا پر وہ مجبور تھا۔۔
اس وقت وہ پولیس کو انفارم کرکے حورب اور اسکی موم کی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔۔
گہرا سانس لیکر اس نے نمبر ڈائل کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب۔۔۔ آپ آگئے میں کھانا لگا دوں یا روم میں لے آؤں۔۔؟؟”
“کتنی بار بولا ہے مجھے چھوا مت کرو۔۔ مجھے تمہارے وجود سے بھی گھن آتی ہے عمارہ۔۔۔
بخش دو میری جان۔۔۔”
وہ سیڑیاں چھڑنے لگا تھا جب والد صاحب کی گرجتی ہوئی آواز نے اسے روکا
۔
“یہ کیا طریقہ ہے بیوی سے بات کرنے کا نجیب۔۔ کیا سیکھ دہ رہے ہو بچوں کو۔۔”
“میں اسے بیوی نہیں مانتا۔۔جس دن سے اسے بیوی بنایا میری زندگی عذاب بن گئی۔۔
نہ میں نسواء کا رہا نہ اپنے بچوں کا۔۔۔اسکی مکروفریب نے میری شادی شدہ زندگی خراب کردی۔۔۔عمارہ۔۔۔ تمہارے ساتھ وہ آفس کا آفئیر،، بس وہی تک اچھا تھا۔۔ تمہیں گھر کی عزت بنا کر میں نے اپنی پہلی بیوی کی عزت کو تار تار کردیا۔۔۔”
“نجیب۔۔۔”
عمارہ کا ہاتھ اٹھ چکا تھا جسے نجیب نے پکڑ لیا تھا۔۔
“یہ غلطی مت کرنا۔۔۔تمہارا کوئی تعلق نہیں رہا۔۔ میں یہاں سب کے سامنے تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔
بس اب پرواہ نہیں۔۔ عزت کی خاندان کی۔۔۔
نکل جاؤ۔۔ “
اور نجیب اوپر روم میں چلے گئے تھے انکے جانے کے بعد بھی گھر والے ایک جگہ ہی کھڑے رہ گئے حیرانگی سے عمارہ کو دیکھ رہے تھے جس کی آنکھوں میں تو آنسو تھے اور ہاتھ غصے سے بند ہوگئے تھے وہ بھی روتے ہوئے اپنے روم کی طرف بھاگی تھی۔۔
“موم۔۔۔ مو۔۔۔ڈیڈ نے یہ اچھا نہیں کیا دادو۔۔۔ موم ہی نہیں ہم بھی یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔ نہیں چاہیے ہمیں یہ گھر۔۔اور ڈیڈ۔۔۔نہیں رہے وہ میرے ڈیڈ میں نہیں مانتی۔۔۔
پچھلے تین ماہ سے انکے اس ناجائز بیٹے نے کم تماشا لگایا جو اب انہوں نے یہ سب کردیا۔۔۔”
شزا عمارہ کے پیچھے گئی تھی۔۔جانے سے پہلے اس نے غصے سے جو منہ میں آیا بولنا شروع کردیا۔۔
اسے کسی نے بھی درست کرنے کی کوشش نہیں کہ اصل ناجائز کون ہے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء شاید یہ زندگی اب ساتھ نہیں چلنا چاہتی یا میں اس کے بوجھ تلے اور نہیں دب سکتا۔۔
اچھا ہے نجات لے لوں۔۔سب کچھ تو ہاتھوں سے پھسل گیا۔۔۔
آپ نہیں تو کچھ بھی نہیں نسواء۔۔۔ یہ نجیب آفندی بھی نہیں۔۔۔”
نجیب نے ہاتھ کی قید سے اس شیشی کو کھولا تھا۔۔منہ تک لے جانے لگے تھے جب ان کا موبائل اس خاموش کمرے میں کسی سائرن کی طرح بجا۔۔۔
جیب سے موبائل نکال کر دیوار پر مارنے ہی لگے تھے جب حورب کا نام سکرین پر فلیش ہوتے دیکھا۔۔۔
آنکھ بے ساختہ بھری انکی۔۔
“ایک آخری بار۔۔۔”
یہ کہتے ہی کال پک کی تھی پر حورب کی آواز سنائی نہیں دی ایک انجان آواز سن کر وہ الرٹ ہوئے۔۔
“السلام وعلیکم سر۔۔۔ آپ کی بیوی اور بیٹی اس وقت خطرے میں ہیں۔۔آپ بنا کسی کو بتائے اس جگہ پر آجائیں اور جلدی آئیں۔۔”
۔
“ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔کون بات کررہا ہے۔۔”
کال کٹ ہوتے ہی ایک میسج آیا تھا جس میں ایک ایڈریس تھا۔۔۔ نجیب جلدی سے اٹھے تھے۔۔۔کپبرڈ سے لاسٹ ڈراؤر سے اپنی گن نکال کر وہ روم سے نکل آئے تھے۔۔۔
“نجیب۔۔۔ “
والد کی بات اگنور کررکے وہ تیز قدموں سے گھر سے نکل آئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بےغیرت بھاگ گیا۔۔ پر میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
مننان ہسپتال کے اس سیکشن میں جیسے ہی داخل ہوا تھا سیدھا اس روم میں گیا تھا۔۔
۔
“سر مس منیشہ کو ہوا کیا ہے۔۔؟ وہ تو اپنے ہسبنڈ کے ساتھ ہنی مون ٹور پر آئی تھی اٹلی۔۔
اس حالت میں کیسے۔۔؟؟ ہوا کیا ہے ڈاکٹرز نہ اندر جانے دہ رہے نہ ہی انکی حالت بتا رہے۔۔”
“شٹ اپ مس مہک۔۔ خاموش کھڑی رہیں نہیں تو واپس چلی جائیں شہریار کے ساتھ۔۔
بلکہ جائیں واپس۔۔ میں منیشہ کو لے آؤں گا۔۔۔”
وہ اندر روم میں تو داخل ہوگیا تھا پر دروازہ بند کرتے ہی اسکی ہمت جواب دہ گئی تھی دروازہ بند ہونے پر نرس نے ایک نظر مننان کو دیکھا تھا۔۔ ماور پھر روم سے باہر چلی گئی تھی۔۔
۔
اسکے جاتے ہی وہ آہستہ قدموں سے بیڈ کی جانب آیا تھا۔۔ ہاتھ پر لگی آئی وی آر بکھرے بال اور چہرے پر انگلیوں کے نشان نے اسکے اندر نہ ختم ہونے والی نفرت پیدا کردی تھی ماہیر کے لیے۔۔۔
“تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔ منیشہ اور تمہیں پھر اس شیطان کے پاس جانے نہیں دوں گا۔۔
میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔۔”
منیشہ کے دوسرے ہاتھ کو ماتھے سے لگائے وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“کچھ نہیں ہوگا منیشہ۔۔۔ تمہیں اتنا بڑا قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔۔ کم سے کم ایک بار کہتی۔۔
دیکھو تمہارے اس غرور نے تمہیں کہاں لاکر کھڑا کردیا۔۔۔
میں کہتا رہا اس پر یقین نہ کرو۔۔ تم مجھے جھٹلاتی رہی اب دیکھو انجام۔۔۔”
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے پر اسکی باتیں۔۔۔ کسی طنز سے کم نہ تھی۔۔۔
وہ ابھی بھی خود کو سہی تسلیم کررہا تھا۔۔
کاش کوئی اسے شیشہ دیکھا سکتا۔۔ کوئی بتا سکتا کہ اسکےکہے جھوٹ نے منیشہ کو اس نہج پر پہنچا دیا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میری اجازت کے بغیر کون لایا نسواء کو یہاں۔۔؟؟آپ کو منع نہیں کیا تھا میں نے۔۔؟؟”
حزیفہ کی آواز سے نا صرف ظہیر اپنی چئیر سے کھڑا ہوا تھا بلکہ کرسی کے ساتھ بندھی ہوئی نسواء کی بھی آنکھیں کھل گئی تھی۔۔
“نسواء۔۔ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
“ڈونٹ ٹچ مئ۔۔۔کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔۔۔”
نسواء نے جیسے ہی نظریں پھیری تھی ظہیر حزیفہ کا ہاتھ پکڑ کر دوسری طرف لے گیا تھا
“حزیفہ۔۔ دادی اور بابا بس اتنا دور تھی اس عورت کو مارنے سے۔۔۔ بڑی مشکل سے بچایا ہے۔۔۔
اب یہ لو ڈائیورس پیپرز اس سے سائن کرواؤ اور لے کر جاؤ انہیں یہاں سے۔۔۔”
“مگر بھائی میں نسواء۔۔۔”
“تمہارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف پانچ منٹ ہیں۔۔۔”
اور پیپرز کھینچ کر وہ واپس نسواء کی جانب بڑھا تھا
“اس پر سائن کریں نسواء ہم یہاں سے دور چلے جائیں گے۔۔”
“کیا ہے یہ۔۔؟ حزیفہ میرے ہاتھ کھولو۔۔ میں کسی پیپر پر سائن نہیں کرنے والی۔۔”
“ڈائیورس پیپرز ہیں یہ نسواء۔۔ آپ جب تک سائن نہیں کریں گی یہاں سے نہیں جاسکیں گی۔۔”
“آپ روکیں گے میری ماما کو۔۔۔ آپ ڈائیورس دلوائیں گے۔۔؟؟ آپ ہوتے کون ہیں میرے موم ڈیڈ کو الگ کرنے والے۔۔؟؟”
“حورب۔۔۔وٹ دا ہیل۔۔۔ جاؤ یہاں سے بیٹا گو۔۔۔”
نسواء نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی تھی۔۔حورب کو وارننگ دینے کے بعد بھی وہ آگے نہیں بڑھی تھی
“حورب بیٹا۔۔۔ا بھی آپ جاؤ ہم بعد میں بات کریں گے۔۔”
حزیفہ کو بھی اگنور کرکے وہ اپنی مدر کی جانب بڑھی تھی
“حزیفہ جو آگیا وہ واپس نہیں جا سکتا۔۔۔ ہم مجبور ہیں۔۔۔”
اور حورب کو دو لوگوں نے پکڑ کے نسواء کے ساتھ پڑی کرسی پر زبردستی بٹھا کر باندھ دیا تھا
“چھوڑ دو میری بیٹی کو۔۔۔حزیفہ۔۔”
پر حزیفہ خاموش کھڑا سب دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
“ایم سوری نسواء۔۔ اگر آپ سائن نہیں کریں گی تو میں کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔”
اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ویل ویل ویل۔۔۔نسواء۔۔۔ نسواء بھابھی۔۔؟؟ کس سائیڈ سے کہوں۔۔؟؟
نجیب یا حزیفہ۔۔؟؟ میرے دونوں ہی بھائیوں کو دیوانہ بنا کر رکھ دیا۔۔ اور افسوس۔۔
اب دونوں ہی تمہیں حاصل نہیں کر پائیں گے۔۔۔”
اس نے گن نکالی تھی۔۔۔
“سر حزیفہ سر نے کیا کہا تھا۔۔ ہم انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔۔۔”
“یو ایڈیٹ۔۔۔ ہم نے کہاں نقصان پہنچایا۔۔؟؟ دونوں ماں بیٹی ہمیں مار کر بھاگنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ہمارے دو لوگوں کو گھائل کردیا۔۔”
“پر سر ہم تو ٹھیک ہیں۔۔”
ظہیر نے دو لوگوں کو شوٹ کیا تھا حورب جلدی سے اپنی والدہ کی طرف جھکی تھی اور نسواء کی کوشش تھی اپنی بیٹی کو بچانے کی عین اسی وقت نجیب وہاں شہاب کے ساتھ آپہنچا تھا۔۔
آتے ہی اس نے ظہیر کے گن پکڑے ہاتھ پر فائر کیا تھا۔۔۔
اسکے بعد جو ہوا وہ ایک طوفان جیسا تھا۔۔۔
“تم ان دونوں کے ہاتھ کھول کر لے جاؤ یہاں سے۔۔میں دیکھتا ہوں اس بےغیرت کو۔۔”
نجیب نے شہاب کو دوسری طرف دھکا دیا تھا۔۔ اور خود ظہیر کے پیچھے بھاگا تھا
۔
“آپ دونوں جلدی چلیں میرے ساتھ۔۔”
حورب اور نسواء کے ہاتھ کھولتے ہی شہاب نے کہا تھا۔۔۔ پر وہ ماں بیٹی باہر جانے کے بجائے اسی سمت جانے لگی تھی جہاں نجیب گیا تھا
“وہاں نہیں جانا۔۔۔ باہر جانا ہے چلیں۔۔۔”
“ڈیڈ اندر ہیں۔۔۔ تم ماما کو لیکر جاؤ میں ابھی آئی۔۔۔”
“اننف حورب تم باہر جاؤ میں لیکر آتی ہوں نجیب کو باہر۔۔۔”
“تم دونوں ابھی تک گئی نہیں۔۔؟ اور تم۔۔ میں تمہیں جتنا سمجھدار سمجھ رہا تھا تم اتنے ہی بیوقوف نکلے۔۔۔”
نجیب گن کو ویسٹ پر رکھے نسواء اور حورب کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گیا تھا اور شہاب وہیں اپنے آپ کو دیکھتا رہ گیا۔۔
“کیا فیملی ہے۔۔۔ ایک تو اتنا خطرہ موڑ لیا اوپر سے باپ بیٹی مجھے سنا رہے حد ہوگئی۔۔۔”
پیچھے سے گولی چلنے کی آواز سن کر وہ بھی باہر کی طرف بھاگا تھا
۔
“ابھی یہاں سے چلو باقی باتیں گھر چل کر ہوں گی۔۔”
نجیب نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی بیک سیٹ پر شہاب اور حورب جیسے ہی بیٹھے تھے نسواء نے اپنے دوپٹے کو فولڈ کرکے نجیب کی کمر کے ساتھ لگا دیا تھا
“ہم گھر نہیں سیدھا ہاسپٹل جارہے ہیں تمہارے ڈیڈ کو چوٹ لگی ہے۔۔”
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔ نسواء۔۔ بس ہلکی سی خراش ہے۔۔ پلیز چھوڑ دیں۔۔”
انکے لہجے میں اب بےرخی تھی جب نسواء کا ہاتھ پیچھے کیا تھا انہوں نے۔۔۔
“ضد مت کریں نجیب۔۔۔”
“اب تو ضد کرنا چھوڑی ہے نسواء۔۔۔”
“تو چلیں ہاسپٹل اگر ضد نہیں کررہے تو۔۔۔”
پیچھے بیٹھے وہ دو لوگ کبھی گردن گھما کر نسواء کو دیکھ رہے تھے تو کبھی نجیب کو۔۔۔
“مجھے تو لگا تھا یہ دونوں الگ ہیں۔۔۔ پر یہ تو پکے پکے خوشگوار شادی شدہ جوڑے کی طرح لڑ رہے۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
شہاب نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
“میں نہیں جارہا۔۔ تم دونوں گھر جارہے اور میں۔۔”
“اور آپ ہمارے ساتھ گھر جارہے ہیں۔۔۔”
“پر حورب انہیں چوٹ آئی ہے۔۔”
“اور میں ڈاکٹر ہوں موم۔۔۔ گھر میں بھی علاج کرسکتی ہوں۔۔۔ ڈونٹ ورری دو دو انجیکشن لگاؤں گی۔۔۔”
ماں کا موڈ چینج کرنے کی کوشش کی تھی پر نسواء تو نجیب کے چہرے کو دیکھتی رہ گئی جس نے ایک بار بھی نسواء کی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔
