Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 30
Rate this Novel
Episode 30
“ایک پل کو لگا تمہیں مجھ سے چھین لیا جائے گا
ایک پل کو لگا یہ دل دھڑکتے ہو رک جائے گا
ایک پل کو میں چاہتا تھا دنیا رک جائے
اور میں تمہیں اس چھین کر لے جاؤں
ایک پل کو لگا تھا میں تمہیں کھو دوں گا۔۔۔
اور وہ اک پل بہت جان لیوا ثابت ہوا تھا۔۔۔
منیشہ۔۔۔۔”
وہ منیشہ کے سامنے گھٹنوں کے بل جیسے ہی بیٹھا تھا منیشہ کی دھڑکن رک گئی تھی۔۔۔
۔
“پھر اگر مجھے تو کبھی نہ ملے۔۔۔۔
ہمسفر تو میرا پھر بنے نہ بنے۔۔۔”
۔
“چھوٹا ہے گھر کرائے کا ہے مگر اپنا بھی ہوگا۔۔۔ مسز ماہیر۔۔کم آن۔۔۔ آجائیں۔۔”
ماہیر کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ اس نے جیسے ہی رکھا تھا ہاتھوں پر بوسہ دے کر وہ اٹھا تھا اور منیشہ کو اپنی بانہوں میں اٹھائے گھر میں داخل ہوگیا تھا۔۔۔ منیشہ کی چیخ پر وہ بھی ہنس دیا تھا۔۔
اس کا یوں بانہوں میں اٹھانا منیشہ کو حیران کرگیا تھا۔۔۔
۔
“فاصلوں سے میراا پیار ہوگا نہ کم۔۔
تو نہ ہوگا کبھی اب جُدا۔۔۔۔
دھڑکے گا تو مجھ میں سدا۔۔
میں نے تیرا نام دل رکھ دیا۔۔۔”
۔
“ماہیر نیچے اتار دو میں گر جاؤں گی۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ نہیں گرنے دوں گا۔۔۔”
“ماہیر۔۔۔۔”
“ہی از نوو مور۔۔۔”
۔
“ماہیر۔۔۔۔”
۔
پورے کمرے میں ہر طرف خاموشی ملی تھی منیشہ کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“حورب بیٹا میں اب تھک گئی ہوں۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی اسے ہو کیا گیا ہے۔۔”
“اوہ رئیلی۔۔؟؟”
نسواء ابھی سر پکڑ کر بیٹھی تھی صوفہ پر جب لیزا نے طنزیہ انداز میں کہا تھا
“آپ ابھی جائیں یہاں سے دیکھ رہی ہیں نہ موم کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔”
“اچھی بات ہے۔۔۔ انہوں نے سب کی زندگی ڈسٹرب کردی ہے تو “
“شٹ اپ۔۔۔”
“اٹس اوکے حورب بیٹا۔۔۔میں ویسے بھی روم میں جارہی ہوں۔۔اگر وہ آئے تو اسے کہہ دینا مجھے اپنی شکل مت دیکھائے۔۔۔”
“آپ چلیں میں کھانے لیکر آتی ہوں۔۔”
لیزا کو ایک نظر غصے سے دیکھے وہ کچن میں چلی گئی تھی
“آپ کو دوبارا کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔ میں مننان کو بہت دور لے جاؤں گی یہاں سے۔۔”
نسواء درگزر کرکے اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی جب لیزا کے موبائل پر رنگ ہوئی تھی
اور اسکی ایک چیخ نے سب کو الرٹ کردیا تھا۔۔اگلے ہی لمحے وہ بےہوش ہوکر گر گئی تھی صوفہ پر۔۔۔
“لیزا۔۔۔حورب بیٹا۔۔۔ کال دا ایمبولینس۔۔۔ ۔۔ملازمہ کو بلاؤ۔۔ہم ہاسپٹل لے جاتے ہیں۔۔۔”
دو تین ملازمہ نے حورب کی مدد سے گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹا دیا تھا لیزا کو۔۔
حورب اور نسواء اسے ہسپتال لے گئے تھے۔۔
اور ان چوبیس گھنٹو ں میں پہلی بار نسواء نے اپنے بیٹے مننان کے نمبر پر فون کیا تھا
“ماں۔۔ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟ حورب ٹھیک ہے آپ نے اس وقت فون۔۔”
“تمہاری بیوی کو ہسپتال لے جارہے پہنچ جاؤ۔۔اگر تم اب اپنی زمہ داریوں سے بھاگے تو میں اسے اسکے ماں باپ ک گھر بھجوا دوں گی یاد رکھنا۔۔”
یہ کہتے ہی فون بند کردیا تھا اس نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ ہ تمہارے اس بیٹے کی کامیابی۔۔؟؟ ہمارا پانچواں پروجیکٹ چھین لیا ہے اس نے۔۔۔
کمپنی کے بورڈ آف ممبرز کے شئیرز خرید کر وہ ثابت کیا کرنا چاہتا ہے نجیب۔۔؟”
آفندی صاحب نے سب کے سامنے ٹیبل پر وہ پیپرز پھینکے تھے
“تو۔۔۔؟؟ بزنس مین ہے۔۔ جب میں کسی کمپنی کے شئیرز خریدتا تھا تب تو آپ ایسے نہیں کرتے تھے۔۔؟؟ شاباشی دیتے تھے مجھے۔۔
بزنس کا پہلا اصول ہی یہی ہے۔۔”
نجیب پانی کا گلاس اٹھانے لگے تھے جب آفندی صاحب نے ایک اور فائل پھینکی۔۔
اب کے سب اٹھ گئے تھے ڈائننگ ٹیبل سے۔۔
“تب تم غیر لوگوں کی کمپنیز فتح کرتے تھے۔۔یہ اپنوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے۔۔
لوگ ہنس رہے ہیں نجیب اور جو تم نے اپنے بزنس پارٹنرز کو بتا دیا کہ وہ تمہارا بیٹا ہے۔۔
لوگ تمہارا مذاق اڑا رہے بول رہے ہیں بیٹا باپ کو مات دہ رہا۔۔۔”
“آپ نے کب سے مان لیا وہ بیٹا ہے میرا۔۔؟؟ جب آپ نے اسکی عزت نہیں کی تب مسئلہ نہیں تھا۔۔؟؟ اب کیوں ہورہا جب وہ عزت کروا رہا۔۔؟”
پانی کا گلاس پی کر وہ اٹھ گئے تھے۔۔
“نجیب۔۔ دیکھو۔۔ اسے کہو وہ بیٹھ کر بات کرے۔۔ وہ داماد بھی ہے اس گھر کا۔۔ میں اسے اپنا لوں گا اگر وہ یہ سب بند کردے گا معافی مانگ لے گا۔۔”
“معافی۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہا۔۔۔ بھول جائیں ڈیڈ۔۔ معافی کیوں مانگے وہ۔۔؟ کیا غلط کردیا۔۔؟
جو میں نے اس سے چھینا۔۔ وہ اپنی محنت سے حاصل کررہا۔۔”
“وہ کہتے ہی روم میں جانے کے لیے مڑے تھے
“وہ محنت سے حق نہیں بدلہ لے رہا ہے تم جانتے ہو تم سے بدلا لے رہا ہے وہ۔۔
اور اس جنون میں وہ سب برباد کردے گا
ہماری شان و شوکت عزت ہمارا بزنس۔۔۔اور۔۔”
“پاپا۔۔۔۔ پا۔۔۔
شزا بھاگتے ہوئے کمرے سے نیچے آئی تھی۔۔۔
“پاپا۔۔۔۔”
شزا بیٹا کیا ہوا۔۔۔”
عمارہ جلدی سے اپنی بیٹی کے پاس آئی تھی جس کا منہ آنسوؤں سے تر تھا
“وہ۔۔ ماہیر۔۔۔ ماہیر بھائی۔۔۔ پاپا۔۔ ماما۔۔۔ وہ۔۔۔”
“ماہیر کیا۔۔؟؟”
سب نے ہی ایک سوال پوچھا تھا سوائے نجیب ک جیسے انہیں ماہیر کی کسی بات سے کوئی غرض نہ ہو۔۔
“پھر کچھ کردیا۔۔؟؟ اب کونسے تھانے جا کر بیل کروانی ہوگی اسکی۔۔؟؟”
“پاپا۔۔۔؟؟”
نجیب کی بات پر شزا انکے گلے لگ گئی کر اور رونا شروع ہوئی تھی
“پاپا۔۔ اب کبھی تھانے جانا نہیں پڑے گا۔۔ ماہیر بھائی چلے گئے ہیں۔۔۔ اس دنیا سے۔۔
وہ۔۔۔”
۔
“ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ وہ تو منیشہ کے ساتھ ٹریپ پر گیا۔۔ فالتو بکواس نہیں کرو۔۔”
“موم۔۔۔ بھائی چلے گئے ہیں۔۔”
“نجیب۔۔ یہ دیکھیں کیا بکواس کررہی ہے ہمارا بیٹا ہمیں چھوڑ کر۔۔۔”
“تمہارا بیٹا۔۔۔ عمارہ۔۔ تمہارا بیٹا۔۔۔ وہ میرا بیٹا نہیں۔۔۔ تھا۔۔۔”
عمارہ کے ہاتھ کو کندھے سے پیچھے کئیے شزا کو پیچھے کئیے وہ واپس کمرے میں چلے گئے تھے
پر کمرے میں جانے سے پہلے آنکھ سے نکلے والے آنسو کو صاف کرتے ہوئے اس کمرے کو دیکھا تھا جو پچھلے چار ماہ سے بالکل بند ہوگیا تھا۔۔۔
ماہیر کا روم
۔
“نجیب آفندی۔۔ اگر یہ آپ کے بیٹے نے کیا ہوگا تو یاد رکھنا میں آپ کی اولاد کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔”
وہ للکارتے ہوئے چلی گئی تھی شزا کے ساتھ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ اندر نہیں جا سکتے سر ڈیڈ باڈی باہر آنے کا ویٹ کریں۔۔۔”
مننان کو زبردستی گارڈ نے پکڑا ہوا تھا
“ڈیم اِٹ وہاں اندر وہ اکیلی ہے مجھے دیکھنے دو اس نے کچھ نقصان نہ پہنچا دیا ہو۔۔
جانے دو۔۔”
اتنی دیر میں سٹریچر پر ماہیر کی باڈی پاس سے لے گئے تھے
“وہ بےہوش ہوگئی ہیں۔۔ سر آپ اندر نہیں جاسکتے۔۔۔”
نرس کو پیچھے دھکیل کر وہ اندر چلا گیا تھا۔۔
خون کو دیکھتے ہی تیزی سے منیشہ کے پاس گیا تھا۔۔
“منیشہ۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔؟؟ تم۔۔”
“پلیز سر آپ اگر انکی فکر کرتے ہیں تو باہر چلے جائیں یہ گہرے صدمے میں انکے سامنے انکے شوہرنے خود کو شوٹ کرلیا۔۔۔آپ باہر جائیں۔۔۔”
وہ جو ماہیر پر غصہ تھا اسے لگ رہا تھا ماہیر نے پھر سے منیشہ کو نقصان پہنچانے کی مگر اب ڈاکٹر کی بات نے اسے چونکا دیا تھا۔۔
وہ جو جھکا تھا منیشہ کے ماتھے پر بوسہ دینے کے لیے وہ شوہر لفظ سن کر پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
ایک نظر منیشہ کے چہرے کو دیکھ کر وہ پیچھے جانے لگا تھا۔۔۔
۔
“اچھا ہوا خود مر گیا۔۔ “
اسکی بات نے ڈاکٹر کو اس نرس کو یہاں تک کہ باہر کھڑے گارڈز کو بھی ہکا بکا کردیا تھا
وہ ایسے باہر چلا گیا تھا۔۔یہ جانے بغیر کہ اسکی نفرت میں بوئے بیج مستقبل میں اسے ہی کاٹنے پڑ جانے تھے۔۔۔
آج جو زمین پر بکھرے خون کو دیکھ کر نرم نہیں پڑ ا جب آنے والے کل میں اس نے خون کے آنسو رونا تھا اور پھر کسی اپنا کا دل بھی نرم نہیں پڑنا تھا اسکے لیے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب بیٹا۔۔۔ نیچے آجاؤ۔۔۔ وہ لوگ ماہیر کو لے آئے ہیں۔۔”
“آپ چلیں۔۔ میں آتا ہوں۔۔۔”
نسواء کی فوٹو فریم واپس ٹیبل پر رکھ دی تھی اس نے۔۔ کب رات ڈھلی کب دن ہوا اسے پتہ نہیں چلا کتنے ہی گھر کے لوگ اس کمرے میں آکر جا چکے تھے اسے بلانے کی غرض سے۔۔
اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے۔۔
ایک طرف عمارہ کا دھوکا اور ایک طرف ماہیر کی اچانک موت۔۔۔
ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب اسکے پاس آکر کوئی بیٹھ گیا ۔۔۔
اور بند آنکھوں سے بھی نجیب نے اسے پہچان لیا تھا
“نسواء۔۔۔”
“نجیب نیچے چلیں۔۔۔وہ آپ کا بیٹا۔۔۔”
“نہیں ہے۔۔ وہ بھی جان گیا تھا۔۔۔ اور میں بھی۔۔۔ میں ہمت نہیں جٹا پارہا۔۔۔
وہ میرا بیٹا نہیں تھا۔۔ نفرت کرنے لگا تھا اسکے وجود سے۔۔۔ اس عورت سے۔۔
اسکے ہر فریب سے۔۔سوچا تھا بس بہت ہوگیا اسکے واپس آتے ہی سب کو سب بتا کر
اس گھٹیا شخص کی ساری پلاننگ بتا دوں گا مگر وہ بھی نہ ہوسکا۔۔۔اور۔۔۔”
وہ بڑبڑائے جارہے تھے جب نسواء نے نجیب کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کیا تھا
“نجیب۔۔۔ اتنے سال وہ آپ کا بیٹا ہی رہا۔۔ آپ نے پالا اسے۔۔۔جوان کیا۔۔
اب وہ آخری سہارا چاہتا ہے۔۔ اسکے جنازے کو کندھا دہ کر وہ فرض بھی پورا کریں۔۔
میں جانتی ہوں آپ فہرے صدمے میں ہیں۔۔۔آپ۔۔۔”
نجیب اسکے گلے سے جیسے ہی لگے اسکے لب بند ہوگئے تھے
“مجھے یہی سمجھ نہیں آرہی۔۔ وہ نیچے اس شخص کو دیکھ رہا ہوں کیا ہوگیا نسواء
میرے ایک گناہ نے سب کچھ دھرم بھرم کردیا۔۔ وہ مرنے والا اسے تو زندگی میں اپنے اصل باپ کا نام نہ مل سکا۔۔آج میرے پاس موقع ہے ان لوگوں کو ذلیل کرنے کا۔۔۔
پر میں ماہیر۔۔”
“اپنے بچوں کو رسوا کردیں گے۔۔ چاہے آپ کے نہ ہوں۔۔
ہماری زندگی تو گزر گئی نجیب۔۔۔اب جو جیسے چل رہا ہے چلنے دیں۔۔۔”
نجیب کی آنکھوں سے آنسو صاف کئیے وہ کتنی دیر ان آنکھوں میں دیکھتی رہی تھی۔۔
۔
“نجیب جتنا غلط آپ نے میرے ساتھ کیا اس سے زیادہ بُرا آپ کے ساتھ ہوا۔۔
ابھی تو اس غم کو اس لیے محسوس نہیں کررہے کہ وہ آپ کا بیٹا نہیں۔۔۔
اگر ہوتا تو کیا برداشت کرپاتے۔۔؟
میں۔۔ آپ کو اس وقت اور اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی۔۔بس اتنا چاہتی ہوں۔۔
جیسے آپ نے مننان کے ساتھ کیا وہ ماہیر کے ساتھ نہ کریں نیچے چلیں اور۔۔۔”
نجیب کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ وہ چپ ہوئی تھی۔۔
۔
“میرے غلط فیصلوں نے میری زندگی کو ایک دائرے میں لاکر چھوڑ دیا ہے نسواء۔۔
جب آنکھیں کھولوں تو ضمیر ملامت کرتا ہے۔۔ میں نے اپنے خون کو خود سے دور کردیا
اور دوسری کی اولاد پالتا رہ گیا۔۔۔ ابھی بھی دل ایسے ہے اور دماغ بغاوت کرنے کا کہہ رہا ہے مجھے۔۔۔”
۔
“نجیب یہاں دیکھیں میری طرف۔۔۔ وہ ابھی بھی آپ کا بیٹا ہے۔۔۔وہ۔۔”
“ماہیر۔۔۔ماہیر بیٹا آنکھیں کھولو۔۔۔”
ایک آواز نے ان دونوں کی توجہ حاصل کرلی تھی
“یہ بےغیرت یہاں کیا کررہا ہے میں آج اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
“نجیب رک جائیں۔۔۔”
مگر وہ غصے میں الماری سے اپنی گن پکڑے نیچے چلے گئے تھے۔۔۔
“ماہیر میرے بچے آنکھیں کھولو۔۔دیکھو۔۔۔”
“کونسا بیٹا۔۔۔؟؟ تیری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں داخل ہونے کی۔۔۔”
ظہیر کو کالر سے پکڑ کر اس نے دور پھینک دیا تھا اسے۔۔
“نجیب۔۔ تیری مجھ سے جو بھی دشمنی ہے ہم بعد میں کریں مجھے ابھی میرے بیٹے کو گلے لگانے دے۔۔”
ظہیر کی آواز اتنی ہلکی ہوگئی تھی جب اس نے بیٹا کہا تھا۔۔
“ظہیر۔۔ یہ تیرا بویا ہوا بیج ہے دیکھ آج تو دولت کی نشے اور بدلے کے جنون میں کہاں کھڑا ہے۔۔
اپنے بیٹے کو آخری بار گلے نہیں لگا سکتا اسکے مرنے کے بعد بھی۔۔۔
جیسے۔۔۔میں اپنے زندہ بیٹے کو۔۔”
ظہیر کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا۔۔
“نجیب اسے ملنے دو۔۔”
“ایک لفظ نہیں۔۔ آج شام کے بعد تمہیں بھی اس گھر میں نہ دیکھوں میں۔۔”
ظہیر کا بازو پکڑ کر وہ ہال سے لے گیا تھا۔۔سب ک روکنے کے باوجود بھی
“نجیب چھوڑ دو اسے۔۔ ماہیر اسکے بھی بچوں جیسا ہے اسکا حق ہے بچپن سے وہی تمہارے بچوں کے پاس رہا جب تم انہیں وقت نہیں دیتے تھے۔۔
“نجیب کے والد اور چچا نے اسکا راستہ روک دیا تھا۔۔
“آپ دونوں کو درمیان میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”
“بس کر جاؤ نجیب تمہارے بیٹے نے کم تماشا لگایا ہے جو تم بھی شروع ہوگئے دیکھو دنیا دیکھ رہی لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔”
“مجھے پرواہ نہیں اسے دفعہ کریں یہاں سے میرے گھر میں نظر نہ آئے۔۔۔
اور ظہیر۔۔۔ اس سے بڑی سزا کیا ہوگی۔۔؟ تم نے جو مجھ سے چھینا اللہ نے تم سے بھی چھین لیا۔۔۔ناؤ گیٹ آؤٹ۔۔۔”
“نجیب۔۔۔بس کرجائیں۔۔۔ اندر جوان بیٹے کا جنازہ پڑا ہے یہ وقت حساب برابر کرنے کا نہیں ہے سنا آپ نے۔۔”
وہ جو سب کا ہاتھ بار بار جھٹک رہا تھا نسواء کے لیے کتنا آسان تھا اس شخص کو قابو کرنا وہ کتنے لوگوں میں نجیب کا ہاتھ پکڑ کر واپس اندر لے گئی تھی عمارہ کی آنکھیں بھر گئیں تھی وہ ایک کونے پر بیٹھ گئی تھی گھٹنوں کے بل۔۔۔
“عمارہ۔۔۔”
“ظہیر۔۔۔ ہمارا۔۔بیٹا نہیں رہا۔۔ وہ چلا گیا۔۔ ظہیر۔۔۔”
ظہیر کے کندھے پر جیسے ہی سر رکھ کر وہ رونا شروع ہوئی تھی اس نے وہاں بہت لوگوں کو شاک کردیا تھا سب سے زیادہ اپنی بیٹی شزا اور اپنے سسر آفندی صاحب کو۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہر روز اسی بات پر لڑائی ہو رہی ہے منیشہ۔۔ فار گوڈ سیک۔۔ ماضی کو بھول جاؤ ورنہ یہ تمہاری آنے والی خوشیاں نگل جائے گا۔۔”
“اب میں غلط ہوں۔۔ ہر وقت میں بیچ میں لیکر آتی ہوں اسے۔۔؟؟”
“میں نے ایسا نہیں کہا تھا۔۔۔”
“تو کیا کہا تھا ماہیر۔۔؟؟ کھانا نہیں کھاتی تو نام لیتے ہو اس کا سوتی نہیں ہون تب اسکا نام
ہر وقت تم مجھے ماضی یاد دلاتے ہو۔۔۔”
“تو کیا کروں۔۔؟؟ نہیں ہوتا برداشت شادی ہوئے ایک مہینہ ہوگیا اور تمہاری شکل ایسی ہے جیسے بیوہ ہو۔۔۔ کیا کروں تمہارے لیے۔۔؟ کیسے قابل بناؤں۔۔تم۔۔”
“السلام وعلیکم۔۔۔”
انکی اونچی آوازیں بند ہوگئیں تھی دروازے پر نسواء اور حورب کو دیکھ کر جو شاپنگ سے سیدھا یہیں آئی تھی منیشہ سے ملنے کے لیے۔۔۔
“وعلیکم سلام۔۔۔”
ماہیر کہتے ہی لیونگ روم سے چلا گیا تھا بیڈروم کی جانب۔۔
“آپ ۔۔ دونوں۔۔آئیں پلیز۔۔۔”
حورب تو منیشہ کے گلے لگی تھی پر نسواء۔۔ وہ اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر اسی طرف بڑھی تھی جس طرف ماہیر گیا تھا۔۔۔ اور جب کمرہ پر دستک دی تو دروازہ کھل گیا تھا روم کی بکھری حالت اور کھڑکی کی طرف کھڑے ماہیر کو دیکھ کر اس نے گہرا سانس بھرا تھا
“ماہیر بیٹا۔۔۔”
“مت کہیں بیٹا مجھے بیٹا نہیں ہوں میں کسی کا۔۔۔بیٹا تو وہ ہے۔۔
جو نہ ہوکر بھی تھا۔۔اور میں ہوکر بھی نہیں۔۔نہ اپنے پالنے والے باپ کی محبت حاصل کرسکا نہ پیدا کرنے والے باپ کی۔۔۔”
“ماہیر بیٹا۔۔۔ منیشہ غلط نہیں ہے۔۔ جو بھی غلط فہمی ہے وہ مننان کی وجہ سے ہے میں معافی مانگتی ہوں۔۔”
اس سے پہلے وہ ہاتھ جوڑتی ماہیر انکے سامنے تھا۔۔
“ان سب میں اگر کوئی مظلوم ہے اگر کوئی بےگناہ ہے تو وہ آپ ہیں۔۔
میری ماں وہ شخص۔۔اور میرے ڈیڈ۔۔۔
میں بار بار ڈیڈ کہہ رہا ہوں۔۔۔پر و ڈیڈ نہیں میرے۔۔ مگر میرا غرور میرا فخر وہی رہے ہیں۔۔۔
نجیب آفندی۔۔۔”
نسواء کے ہاتھ پکڑے سر جھکا لیا تھا ماہیر نے۔۔
“منیشہ بہت اچھی لڑکی ہے میرے بیٹے یا کسی کو بھی درمیان میں آنے مت دو بیٹا۔۔
وہ اسے وقت دو۔۔ یہاں سے سب سے دور لے جاؤ کچھ وقت کے لیے۔۔ اپنا اعتماد دو اسے۔۔
اسے بھروسہ دو محبت دو۔۔”
ماہیر کے گال پر ہاتھ رکھے بہت پیار سے سمجھایا تھا نسواء نے۔۔
آج ماہیر میں اسے عمارہ کی پرچھائی نظر نہیں آرہی تھی آج اس کی آنکھوں میں نفرت نہیں تھی
بلکہ ماہیر کی آنکھوں میں وہ تنہائی دیکھ کر ہمدردی ہوئی تھی
۔
“بس اپنے بیٹے سے کہیں دور ہوجائے میرے پاس منیشہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔۔
بچپن سے اب تک بس پیسہ ملا گھر ملا وہ عیش و عشرت ملی سوائے ڈیڈ کی محبت کے۔۔
آج عمر ک اس حصے میں پہنچ کر پتہ چلا کہ میں کون ہوں۔۔ اور میں اس حقیقت کو اپنا نہیں سکتا دنیا کے سامنے۔۔۔
بس منیشہ میری اپنی ہے۔۔ آپ پلیز بات کریں۔۔ میں منیشہ کو کھونا نہیں چاہتا۔۔۔”
“بیٹا میں۔۔”
“میں لڑائی بھی نہیں کرسکتا آپ کے بیٹے جتنا پیسے والا نہیں رہا میں چھوڑ چکا ہوں اپنے ڈیڈ کا گھر وہ آفس۔۔۔وہ پہچان۔۔”
“بس چپ کرجاؤ۔۔ میں بات کروں گی مننان سے۔۔ وہ تنگ نہیں کرے گا۔۔”
“وعدہ کیجئے۔۔۔”
۔
۔
“کلمہ شہادت۔۔۔۔”
۔
نسواء اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
چیخ و پکار میں اس بلکتی ہوئی ماں پر اسکی نظر گئی تھی جو ماہیر کا نام لے لر کر بے ہوش ہورہی تھی۔۔
جوان بیٹے کی موت کا دکھ سنتی آئی تھی آج دیکھتے ہوئے اسکا وجود کانپ گیا تھا۔۔
نجیب آفندی چاہے پتھر بنے جنازے کو کندھا دہ رہے ہوں وہ جانتی تھی نجیب نے ان بچوں پر اپنی زندگی واری تھی نجیب چاہے مکر جائیں مگر وہ اس شخص کو جانتی تھی اسکی تکلیف نسواء کو بھی درد پہنچا رہی تھی۔۔۔
۔
کبھی وہ روتے ہوئے ظہیر کو دیکھ رہی تھی تو کبھی وہ عمارہ کو اور پھر اپنے ہرجائی کو۔۔۔
سب کے سب خالی ہاتھ کیا حاصل ہوا آخر۔۔؟؟
کون جیتا۔۔؟؟ کون ہارا۔۔۔؟؟؟
بےوفائی کے اس کھیل میں۔۔ دوسری شادی کی ضد میں کون آباد ہوا اور کون برباد۔۔۔؟؟
“چلیں ماں ۔۔۔”
حورب نسواء کے ہاتھ پکڑ کر انہیں سوگواروں کے درمیان سے باہر لے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
۔
