62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

“ماہیر آفندی۔۔۔”
صبح کے چھ بج گئے تھے اسے جاگتے ہوئے اس دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے
ایک طرف اسے وہ چہرہ بھول نہیں رہا تھا جس نے اسکے ساتھ اس رات کو بدتمیزی کی اور اب اسے معلوم ہورہا تھا کہ وہ ماہیر آفندی ہے نجیب آفندی کا بیٹا۔۔
اور دوسری ترف مننان آفندی۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔میں یہاں ایک اور دن نہیں رک سکتی۔۔”
وہ جلدی سے اٹھی تھی لیپ ٹاپ اٹھایا تھا اور لیٹر لکھنا شروع کردیا تھا اس نے۔۔۔
اور وہ لیٹر سیدھا مننان کو نہیں نسواء کی اسسٹنٹ کو گیا تھا جس نے فورا نسواء کو انفارم کردیا تھا
اور منیشہ کو فون آگیا تھا۔۔۔۔
“میم میں آج نہیں۔۔”
“تو میں آجاؤں۔۔۔؟؟ منیشہ بیٹا میں انتظار کررہی ہوں آفس نہیں گھر آنا ہے۔۔۔”
“پر میم۔۔”
“میں ڈرائیور بھیج رہی ہوں۔۔۔”
۔
“جی۔۔۔۔اچھا۔۔۔”
منیشہ نے گھٹنے ٹیک دئیے تھےکچھ دیر میں فریش ہوکر وہ بیگ اور موبائل اٹھائے جیسے ہی فلیٹ سے باہر نکلی پارکنگ میں ابھی بھی وہ ایک خاص گاڑی کھڑی تھی
“مننان۔۔۔”
مگر منیشہ میں ہمت نہیں تھی ونڈو پر ناک کرنے کی نسواء کی بھیجی گئی گاڑی جیسے ہی پاس سے گزری مننان نے بھی گاڑی سٹارٹ کردی تھی
اسے لگا تھا منیشہ سے آفس میں بات کر لے گا مگر جیسے جیسے وہ اس گاڑی کو فالو کرتا گیا گاڑی انکے گھر کی پارکنگ میں رکی تھی اور اب وہ سہی سے پہچان گیا تھا گھر کے ڈرائیور کو۔۔۔
“منیشہ۔۔۔”
مگر دروازہ کھلا اور نسواء منیشہ کو گلے لگائے اندر لے گئی تھی۔۔۔
۔
“ماں۔۔۔”
“ساری رات کہاں تھے۔۔؟؟”
نسواء نے ہاتھ باندھتے ہوئے مننان کی طرف دیکھا تھا جس کی نظریں منیشہ سے ٹکرائی تھی جو نظر بچاتے ہوئے اندر جاچکی تھی
“وہ ماں۔۔”
“وہاں دیکھنا بند کرو وہ اندر جاچکی ہے۔۔”
مننان کو حیران چھوڑ کر نسواء اپنی ہنسی دباتے ہوئے اندر چلی گئی تھی
۔
“تو ڈاکٹر حورب آج کچن میں شیف بنی ہوئی ہیں۔۔؟؟ یہ تو کمال ہوگیا بھئ۔۔۔”
“تووو ماما کی لاڈمی سیکڑیٹری کو وقت مل گیا چکر لگانے کا۔۔۔؟؟”
حورب آگے بڑھ کے منیشہ کے گلے لگی تھی اس نے منیشہ کو وہی عزت دی تھی جو نسواء دیتی آئی سوائے مننان کے منیشہ گھر کا فرد جیسی حیثیت رکھتی تھی
۔
“مس ڈاکٹر آپ کو تو وہ بھی فرصت نہیں ملتی کہتی تھی شفٹنگ میں ہیلپ کرو گی یہ ہیلپ کی۔۔؟؟ عین ٹائم پر میسج کردیا نہیں آسکتی نہ میں تم سے ناراض۔۔۔”
نسواء کو بتاتے ہوئے منیشہ نے منہ بنا لیا تھا
“ہاہاہا حورب میڈم جلدی سے ناشتہ بنا لیں میں منیشہ کے ساتھ سٹڈی میں ہوں کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
“پر آنٹی۔۔۔”
“حورب بیٹا منیشہ یہیں ناشتہ کرے گی اور جب تک فلیٹ کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا”
مننان جاتے جاتے رکا تھا اور پھر تیز قدموں سے اپنے روم کی طرف چلا گیا تھا
“کم بیٹا۔۔۔”
“کچھ کچھڑی پک رہی ہے۔۔۔ ماں ورنہ کبھی کسی کو بھی گھر میں رکنے کا نہیں کہتی۔۔۔”
پیچھے آتی جلنے کی سمیل پر ملازمہ کی چیخ سے حورب جلدی جلدی واپس کچن میں داخل ہوئی دھیان ابھی بھی اوپر سٹڈی روم کی طرف جارہا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب۔۔بیٹا بات سنو۔۔۔ ظہیر آیا ہے نیچے ۔۔اور وہ بہت شرمندہ۔۔”
“اسکی شرمندگی گئی بھاڑ میں۔۔۔اسے کہیں چلا جائے یہاں سے۔۔۔”
نجیب جیم سے سیدھا اپنے روم کی جانب بڑھا تھا
“نجیب وہ آپ کے دوست ہیں آپ ایک بار بات سن لیں۔۔”
عمارہ کے ہاتھ میں پکڑ جوس کے گلاس کو بھی جھٹک دیا تھا نجیب نے۔۔۔اور روم کا دروازہ بند کرلیا تھا
“ظہیر بیٹا وہ زرا غصے میں ہے۔۔”
“پر وہ غصے میں کیوں ہیں۔۔؟ مامو تو کبھی غصہ نہیں کرتے۔۔۔”
لیزا نے جیسے ہی سوال کیا باقی بچوں نے بھی تشویش سے آفندی صاحب کو دیکھا تھا۔۔
جو دانت پیستے رہ گئے ۔۔۔ ماضی کا کوئی راز کوئی بات بچوں کے سامنے نہیں آئی تھی۔۔
یہاں تک کہ بچوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا نسواء بھی تھی کچھ لگتی تھی۔۔
یہ خود غرضی ہی تو تھی اس خاندان کی بڑی بہو کا وجود تک چھپا دیا گیا تھا سب سے۔۔۔
۔
“بات سنو میری۔۔۔”
ظہیر شرمندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہوا تھا اور جاتے جاتے عمارہ کے کان میں یہ کہتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
عمارہ ایکسکئیوز کرکے جیسے ہی باہر گئی تھی وہ جتنی نزدیک کھڑی تھی ظہیر کے وہ نجیب کی نظریں ونڈو سے اسکی ہر نقل و حرکت دیکھ رہی تھی
“یہ باہر کیا کررہی ہے۔۔۔؟؟”
نجیب اس وقت زیادہ شاکڈ ہوا تھا جب ظہیر نے بات کرتے کرتے عمارہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
اور اس وقت اسے ماضی کی ایک بات یاد آگئی تھی۔۔
۔
“فار گوڈ سیک۔۔۔ وہ میرا دوست ہے نسواء۔۔ جگری دوست۔۔۔”
“تو۔۔؟ اسکا مطلب کیا ہوا وہ میرا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔۔؟؟ حد ہوگئی ہے نجیب آپ بھی۔۔”
“نسواء وہ ظہیر ہے۔۔ ہمارے گھر کا ایک فرد ہے۔۔۔ اس نے معافی مانگی۔۔۔”
“یہ دوسری بار معافی مانگی۔۔۔ جب میں کہہ چکی ہوں مجھے پسند نہیں کسی غیر مرد کا میرا ہاتھ پکڑنا تو پھر کیوں آپ سمجھ نہیں رہے نجیب۔۔؟؟ “
“نسواء آپ میری بات کا غلط مطلب۔۔۔”
“نووو۔۔۔ مجھے کوئی صفائی نہیں چاہیے۔۔ میں کہہ چکی ہوں چاہے آپ کا دوست ہو کزن ہو۔۔ میں برداشت نہیں کروں گی اگر پھر سے اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔۔۔ میں منہ توڑ دوں گی۔۔”
“ہاہاہاہا اچھا بابا۔۔۔ اگر ظہیر نے پھر سے ہاتھ پکڑا تو میں اس کا منہ توڑ دوں گا۔۔۔”
“ڈیٹس بیٹر مسٹر نجیب آفندی۔۔”
غصےسے بھری نسواء کو اپنی آغوش میں جیسے ہی لیا تھا نسواء خاموش ہوگئی تھی۔
۔
“نجیب۔۔۔”
“جی دادی۔۔۔”
“نسواء کو واپس اپنی زندگی میں لانا چاہتے ہو تو محنت کرو۔۔ ایسے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر مت بیٹھو۔۔۔”
“دادی۔۔۔ بہت دیر ہوگئی ہے۔۔۔ وہ لوگ خوش ہیں۔۔۔
میری حسرت ہی رہی کہ الگ ہوکر نسواء کو میری ضرورت پڑے گی۔۔۔”
۔
“نجیب۔۔۔ بیٹا ایک بات کہوں۔۔۔؟؟”
نجیب کہتے کہتے کپبرڈ سے سوٹ نکالنے لگا تھا آفس کے لیے جب دادی کی بات نے نجیب آفندی کے ہاتھ روک دئیے تھے
“تم ابھی بھی شرمندہ نہیں ہو۔۔؟؟ جو تم نے نسواء کے ساتھ کیا اپنے بیٹے مننان کے ساتھ کیا۔۔
نجیب۔۔۔ کوئی باپ اپنے بیٹے سے اتنی نفرت نہیں کرتا کیا نسواء نے چیٹ کیا تھا۔۔؟؟
کیا مننان تمہاری اولاد نہیں کیا وہ ناجائز۔۔۔”
“دادی۔۔۔۔”
وہ چلایا تھا۔۔۔اور دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا الماری کا کےپیچھے وال کے ساتھ لگی تھی سب چیزیں گرنے لگی تھی۔۔۔۔
“وہ۔۔۔ میرا جائز بیٹا ہے۔۔ دادی۔۔۔ میرا خون ہے مننان۔۔ نسواء کے بارے میں آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں۔۔؟؟”
“سوری بیٹا۔۔۔۔ پر جیسے تم نے کچھ سال پہلے اپنے بیٹے کو سب کے سامنے نفرت سے بلایا تھا ہم سب کو یہی لگا۔۔۔۔
تمہارے بعد گھر کی بہوؤں شک کرنے لگی تھی نسواء کے کردار پر۔۔۔
تم نے تاثر ہی ایسا دیا تھا کہ ہم سب کو لگنے لگا تھا کہ وہ تمہارا خون نہیں۔۔۔
اور ابھی بھی سب کو وہ ناجائز لگتا ہے اس لیے نسواء اور اسکے بچوں کی کوئی عزت نہیں رہی اس خاندان میں۔۔۔
تمہارے کزن کے بچوں کو۔۔۔ تمہارے بچوں کو نہیں معلوم کون نسواء تھی کوئی مننان تھا۔۔۔
ایم سوری میری بات بری لگی ہو تو۔۔۔”
دادی معافی مانگ رہی تھی مگرچہرے پر پشیمانی نہ تھی وہ آج نجیب آفندی کو اسکا گناہ دیکھانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔۔۔
۔
وہ کتنے منٹ کتنے گھنٹے اسی جگہ کھڑا رہا اسے خبر نہ ہوئی۔۔ بس جب سر کو ہاتھوں میں پکڑے وہ بیڈ پر بیٹھا تو اسے ایک احساس بہت سالوں کے بعد ہوا تھا کہ اس نے اپنی جائز محبت اپنی جائز اولاد کو دنیا اور گھر والوں کے سامنے ناجائز قرار دہ دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں کچھ سمجھی نہیں میم۔۔۔”
“پھر میم۔۔؟؟ آنٹی کہنے میں کیا حرج ہے۔۔۔؟؟”
“آپ۔۔۔”
“کل میں فضا سے ملی۔۔۔اور جب تمہیں فنکشن میں دیکھا دل کررہا تھا مننان کو جی بھر کے ڈانٹوں۔۔۔”
نسواء منیشہ کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر اپنے ساتھ بٹھا چکی تھی
“آپ کیا بات کررہی ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی میم۔۔۔”
“میری طرف دیکھو۔۔۔اور پھر بولو۔۔؟؟ تم جانتی ہو تم نے اپنی ماں کو دیکھا تم مجھ سے شئیر کرسکتی ہو منیشہ میں تمہیں جج نہیں کروں گی میری بچی۔۔۔”
منیشہ نے سر اٹھا کر جیسے ہی نسواء کی آنکھوں میں دیکھا تھا ایک ایک کرکے آنسو پانی کی صورت آنکھوں سے بہنے لگے تھے
“میرے پاس شئیر کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ خالی ہاتھ ہوں۔۔ میں بس واپس جانا چاہتی ہوں۔۔۔ میں اب یہ نوکری اور نہیں کرسکتی پلیز۔۔۔”
وہ پھر سے منہ نیچے کرچکی تھی
“جسٹ لائک ڈیٹ۔۔۔؟؟ چلی جاؤ گی۔۔۔؟؟ ان خود غرض لوگوں کو ایک بار بھی آئینہ نہیں دیکھاؤ گی۔۔؟؟ ایک بار بیٹا۔۔اپنی ماں کا سامنا کرو۔۔۔”
“کیا آپ نے سامنا کیا ماضی کا۔۔؟؟ آپ بھی تو واپس جانا چاہتی ہے نہ آنٹی۔۔؟؟
ہم دونوں ساتھ چلتے ہیں پلیز۔۔۔ میں بہت اذیت میں ہوں خاص کرکل سے۔۔”
وہ کہتے ہی اٹھ کر باہر جانے لگی تھی جب نسواء نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“اس لیے بھاگ رہی ہو کہ سامنے ماضی ہے۔۔؟؟ یا اس لیے بھاگ رہی ہو کہ جس سے تم محبت کرتی ہو اسے تمہاری چھوٹی بہن پسند آگئی ہے۔۔؟؟ مننان سے بھاگ رہی ہو یا اپنی بہن لیزا اور مننان کی نزدیکیوں سے۔۔؟؟”
کچھ لمحوں میں منیشہ جیسے ہی اپنے گھٹنوں پر گری تھی اسکی سسکیاں پورے کمرے میں گونجی تھی۔۔۔
“میں سب سے بھاگنا چاہتی ہوں۔۔ نسواء ممامی۔۔۔ سب سے۔۔۔ میں اس ماں سے دور جانا چاہتی ہوں جس نے مجھے لاوارث چھوڑ دیا۔۔ اس خاندان سے بھاگنا چاہتی ہوں۔۔۔
میں اس محبت سے دور بھاگنا چاہتی ہوں جس نے سوائے حقارت کے مجھے نہیں دیکھا
میں اپنے آپ سے بھاگنا چاہتی ہوں۔۔۔ میں مننان سر سے دور جانا چاہتی ہوں۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔۔ منیشہ۔۔۔۔”
“میں کل انکو دیکھتی رہ گئی۔۔۔ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ اتنا خوش تھی۔۔۔ تو میں کون ہوں۔۔
انہوں نے مجھے مار کیوں نہیں دیا۔۔؟؟ مجھے کیوں زندہ رہنے دیا میرے ماں باپ نے۔۔؟؟”
نسواء بھی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی منیشہ کو اپنے سینے سے لگائے اسکا چہرہ بھی آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا
“تم میں اور مجھ میں فرق کیا ہے جانتی ہو۔۔؟؟ تم اپنی مرضی سے جانا چاہتی ہو۔۔ اور میں بےبسی میں۔۔۔ منیشہ میں نے تمہیں یہاں اس لیے بلایا کیونکہ میں جانتی ہوں۔۔۔ میرے جانے کے بعد اگر مننان کو کوئی سنبھال سکتا ہے تو وہ صرف تم ہو۔۔۔”
“میں میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔”
“میرے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔ میں نہیں چاہتی جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ میرے بیٹے سے بھی ہو۔۔۔ میں نہیں چاہتی مننان اس خاندان میں شادی کرے۔۔۔ اور تمہیں مننان کو روکنا ہوگا۔۔۔ جیسے بھی کرو جو بھی کرو۔۔۔”
نسواء منیشہ کے سوال کو اگنور کرکے اپنی بات سامنے رکھ چکی تھی
“آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔۔؟؟ کہاں جارہی ہیں آپ۔۔۔؟؟”
اور جب اس نے نسواء کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ لیا تو نسواء نے ایک رپورٹ ڈیسک سے اٹھا کر منیشہ کو پکڑا دی تھی اور خود کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
“یہ۔۔۔کینسر۔۔۔۔مگر آپ تو بالکل ٹھیک۔۔۔”
“کچھ چیزوں کو آپ وقت طور پر گمراہ کرسکتے ہو ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔۔۔”
“آن۔۔۔آپ پلیز ابھی چلیں ہم حورب سے بات کرتے ہیں پلیز۔۔۔ہم سب سے بات کرتے ہیں آپ وقت ضائع مت کریں۔۔”
“کوئی فائدہ نہیں میرے پاس اتنا وقت ہے کہ اپنے بچوں کو واپس لے جا سکوں۔۔۔ تم مجھ سے وعدہ مننان کو اپنی محبت کا احساس دلاؤ گی منیشہ۔۔۔میں نہیں چاہتی وہ وہاں جائے پلیز۔۔۔۔”
نسواء نے جیسے ہی منیشہ کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے منیشہ نے ان جڑے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ماتھے سے لگا کر بوسہ دیا تھا۔۔۔
“آپ جیسا کہیں گی۔۔۔ ویسا ہوگا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماہیر صاحب وہ لڑکی صبح ہی بلڈنگ سے آفس کے لیے نکل گئی۔۔۔کتنے گھنٹے سے انتظار کررہے تھے فضول میں۔۔”
ماہیر نے گلاسزز اتار کر بیک سیٹ پر بیٹھے دوست کو دیکھا تھا
“کیا۔۔؟؟ واچ مین کو پیسے کھلا کر پوچھ کر آیا ہوں۔۔۔”
“ہممم۔۔۔”
“ہمم کیا۔۔؟؟ آگے کیا۔۔۔؟؟”
“آگے کچھ نہیں بس اسے امپریس کرنا ہے۔۔”
“ہاہاہاہا دیکھتے ہیں۔۔۔ مار بھول گیا ہے۔۔۔؟؟”
“ہیے واجد واچ آؤٹ مین۔۔۔ کیوں ماہیر کو پمپ کررہا ہے۔۔؟؟”
دوسرے دوست نے ڈانٹا تھا
“میں کچھ نہیں بھولا اور بھولنے بھی نہیں دوں گا۔۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔ اس سے شادی کروں گا۔۔۔ اور وہ ایک تھپڑ جو اس نے مجھے مارا اسے ہر روز ذلیل کرکے دیا کروں گا۔۔۔”
۔
واپس گلاسزز لگائے اس نے گاڑی فل سپیڈ میں بھگا دی تھی۔۔۔
وہ دونوں دوست چپ چاپ بیٹھ گئے تھے وہ دونوں ہی جانتے تھے ماہیر کے غصے کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء۔۔۔ میری بات سن لیں۔۔۔”
آفس کے باہر کھڑے اس شخص نے بالآخر راستہ روک لیا تھا نسواء کا
“سر راستہ چھوڑیں ۔۔۔ اگر آپ ملنا چاہتے ہیں تو اپاؤنٹمنٹ لیجئے۔۔۔”
گارڈ نے جیسے ہی نجیب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی نجیب آفندی نے اسے پیچھے دھکا دہ دیا تھا
“ہاتھ مت لگانا۔۔۔”
“بس۔۔۔ آپ انتظار کیجئے میرا یہیں۔۔۔”
“پر میم۔۔۔”
نسواء کی ایک نظر نے گارڈز کو پیچھے کردیا تھا
“ہر جگہ تماشا کرنا ضروری ہے۔۔؟؟”
وہ نجیب کا بازو پکڑ ے ایک کارنر پر لے گئی تھی
“نسواء میری بات سنیں۔۔۔پلیز غصہ ختم کرکے گھر چلیں۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔ گھر چلیں۔۔؟؟ کس لیے۔۔۔؟؟”
نسواء نے کچھ قدم خود کو پیچھے کیا تھا
“کونسا گھر۔۔؟؟ جہاں دوسری بیوی کے ساتھ اتنے سال گزار کر ایک الگ دنیا بسا کر نئی اولاد پیدا کرنے کے بعد بھی آپ میں ہمت ہے مجھے اس گھر میں بلانے کی جو میرے لیے اب جہنم سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔”
“نسواء آپ میری بیوی ہیں۔۔”
“آگے نہیں رہنا چاہتی۔۔۔ میں بہت جلدی اپنے وکیل کو آپ کے پاس بھیجوں گی ڈائیورس پیپرز سائن کرکے۔۔۔”
“نسواء۔۔۔؟؟ آپ یہ سب جھوٹ بول رہی ہیں۔۔۔ آپ محبت کرتی ہیں مجھ سے۔۔
پلیز۔۔یہ سب نہ کریں۔۔۔ میں آپ کو طلاق نہیں دوں گا۔۔۔ نسواء۔۔۔”
نجیب کی بھری ہوئی آنکھوں نے نسواء کے چہرے پر بےساختہ مسکراہٹ بکھیر دی تھی
“آپ سے طلاق کون مانگ رہا ہے۔۔؟؟ میں دوں گی۔۔ اور یہ قصہ ختم کردوں گی۔۔”
“اور ہمارے بچے۔۔؟؟”
“بچے۔۔؟؟ ہاہاہاہا بھول گئے میرے بیٹے کو گھر سے نکالنے سے پہلے کن الفاظ سے نوازا تھا۔۔؟؟ نجیب آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے مجھے روکنے کے لیے۔۔۔”
“میں محبت کرتا ہوں نسواء۔۔۔”
“محبت کا نام لیتے ہیں تو اور نفرت ہوجاتی ہے آپ سے نجیب۔۔۔ آپ صرف جسموں سے محبت کرتے ہیں کبھی عمارہ تو کبھی کوئی اور۔۔۔ آپ کو محبت سے کیا غرض۔۔؟؟”
وہ جانے لگی تھی جب نجیب نے اسے اپنی اوڑھ کھینچا تھا۔۔۔ اپنے گلے سے زبردستی لگا لیا تھا
“نسواء میں پچھتا۔۔۔ رہا ہوں۔۔۔”
“آپ نہیں پچھتا رہے۔۔۔ یقین جانے جس دن نجیب آفندی آپ پچھتائیں گے۔۔ آپ میں ہمت نہیں رہے گی مجھ سے نظریں ملانے کی۔۔۔
جس دن آپ پچھتائیں گے آپ میرے پاس نہیں مننان کے پاس بھاگے گے۔۔۔
آپ ابھی پچھتا نہیں رہے بس پوانٹ سکور کررہے ہیں تاکہ آپ مجھے واپس اس جھوٹی دنیا میں قید کرسکے۔۔اور ایک ہی راگ آلاپتے رہے ‘مجھے تم سے محبت ہے۔۔؟؟”
نسواء کی باتیں نجیب کو اور شاک کررہی تھی وہ جو پیچھے گاڑی کے ساتھ لگ گیا تھا۔۔۔ وہ حیران ہورہا تھا اپنی بیوی پر جو اتنی آگ بگولا تھی۔۔۔
“میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔؟؟ مجھے عمارہ بھی پسند آگئی۔۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔ مجھے عمارہ کے ساتھ فزیکل ریلیشن بھی چاہیے
میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔ مجھے دوسری شادی بھی کرکے تمہاری برابری دوسری عورت کو لانا تھا
میں تم سے محبت کرتا ہوں مگر تمہارے ساتھ میرے بیٹے سے مجھے نفرت ہے۔۔۔
مجھ سے محبت تھی اور ہماری پیار کی نشانی سے نفرت۔۔۔؟؟
میں نے آپ سے بہت محبت کی ہے نسواء۔۔۔ مگر آپ کے ساتھ مجھے اولاد برداشت نہیں تھی۔۔۔
اور عمارہ جس سے محبت نہیں اس سے اولاد بھی پیدا کی اور اس اولاد سے محبت بھی بلا کی کی آپ نے وااہ آپ کی محبت۔۔۔؟؟
“کبھی کبھی جلن ہوتی تھی عمارہ کے نصیبوں سے۔۔۔”
نسواء نے نجیب کا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“کبھی کبھی دل کرتا تھا کہ کاش میں دوسری عورت ہوتی آُ کی زندگی میں ۔۔۔تو مجھے بنا کسی محبت کے محنت کے اذیت کے وہ سب ملتا جو اس دوسری عورت کو ملا رہا۔۔۔
کبھی کبھی مجھے جلن ہوتی تھی اس دوسری بیوی سے اگر میں اسکی جگہ ہوتی تو آپ نجیب آفندی۔۔۔ اتنا ہی مان عزت اور پیار میرے بچوں کو دیتے۔۔۔
پر میں۔۔۔ میں دوسری عورت نہیں بن سکتی۔۔۔ اور میں ایسی محبت بھی نہیں چاہتی۔۔۔
اس لیے تو یہ رشتہ ختم کرنے کا سوچ لیا ہے میں نے نجیب آفندی۔۔۔ آپ کو آزاد کررہی ہوں۔۔۔ آپ ہمیشہ مننان اور مجھے دنیا سے میڈیا سے چھپاتے رہے۔۔۔ بدنامی کے ڈر سے۔۔۔
دیکھیں وہ بیٹا،،، بنا آپ کے نام کے اس مقام پر ہے کہ آپ لوگوں کو چلاتے ہوئے بھی اسے اپنا خون کہیں گے تو لوگ مانیں گے نہیں۔۔۔اور میرا آپ کا رشتہ۔۔۔ اب کاغذوں میں بھی نہیں رہنا چاہیے۔۔”
۔
وہ منہ صاف کرکے وہاں سے چلی گئی تھی
۔
“میں۔۔۔ میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔ نسواء آپ میری پہلی اور آخری محبت ہے۔۔
میں آپ کو چھوڑ دوں گا تو مرجاؤں گا۔۔۔”
گاڑی کے روف ٹاپ پر جیسے ہی سر رکھا تھا انہیں ونڈو میں اپنا عکس دکھا تھا
جو نجیب آفندی نہیں تھا۔۔۔ وہ ایک کمزور ٹوٹا ہوا شخص نجیب آفندی نہیں تھا۔۔۔
آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے
وہ اس بات کا ثبوت تھے کہ آج ان کا وہ ایک ڈر جو انکے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔۔۔
۔
۔
سچ کہہ رہے تھے سب نجیب آفندی کو ابھی پچھتاوا نہیں ہوا تھا پر کون جانتا تھا کہ ماضی سے اٹھنے والے پردے نجیب آفندی کو اپنے ہر فیصلے پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔۔۔
۔
ایک وقت آنے والا تھا کہ پردہ جب اٹھے گا تو نجیب آفندی اپنی دوسری شادی کے فیصلے پر سب سے زیادہ پچھتانے والا تھا۔۔۔
اور وہ دن بہت تیزی سے انکے سامنے آنے والا تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔