Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 15
Rate this Novel
Episode 15
“یہ کون ہے۔۔؟؟ مننان آفندی۔۔؟؟ تو پھر وہ کیا تھا۔۔؟؟ کیا ہورہا ہے۔۔؟؟”
ناہید بیگم بھی نجیب کے آکر کھڑئ ہوئی تھی۔۔
“یہ مننان آمین احمد ہے۔۔۔ کچھ دن پہلے ۔۔۔میں جس رائیول کے ہاتھوں ڈیل ہارا تھا وہ یہی تھا۔۔۔؟؟
وہ واپس آگیا ہے۔۔۔
میرا زوال۔۔۔”
حزیفہ کو دیکھ کر انہوں نے نسواء کو دیکھا جو اپنے دونوں بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی باتیں کررہی تھی۔۔۔
اپنے دل میں درد محسوس ہوا تھا جس پر ہاتھ رکھے وہ وہاں سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
ٹائی اتارے وہ کھلی ہوا میں جیسے ہی آئے انکے سامنے وہ تین چہرے گھوم رہے تھے۔۔۔
نسواء مننان حورب۔۔۔
“وہ میرے بغیر کامیاب ہوگئی۔۔۔ میرے۔۔۔میرے بچوں کو اس لائق بنا دیا کہ باپ لفظ۔۔۔۔”
نجیب آفندی کی پلکیں بھاری ہوگئی تھی جب نظریں جھکائیں جو چھلک گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اس لڑکی کی معلومات چاہیے مجھے۔۔۔۔ اور وہ حرام…. نشے میں تھا ورنہ ہاتھ توڑ دیتا اسکے۔۔۔ مجھے دونوں کی انفارمیشن چاہیے۔۔”
ماہیر نے تاش کے پتوں کو روم میں جیسے ہی پھینکا تھا ٹیبل پر پڑی بوتل کو اٹھا کر وہ ٹیرس پر لے گیا تھا۔۔
“ماہیر۔۔۔ماہیر۔۔۔یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا پھر اس بار کیوں اتنا اتاولا ہورہا ہے۔۔۔؟؟؟”
ماہیر کے دوست نے جیسے ہی کندھے پر ہاتھ رکھا ماہیر نے وہ ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔
بوتل کو کھولے منہ سے لگائے وہ دوسری طرف چلا گیا تھا چھت کے
“پہلی بار۔۔۔ پہلی بار کسی کسی لڑکی نے ماہیر آفندی کو ریجکٹ کیا ہے باسم۔۔۔ پہلی بار۔۔۔ جہاں جھگڑے ہوتے تھے وہاں ہم پنگے لیتے آئے یہ کون کمبخت تھا جو مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت کرگیا۔۔۔”
جیب سے سگریٹ نکالے لبوں پر جیسے ہی رکھا تھا باسم نے لائٹر جلا کر آگے کیا تو ماہیر نے ہنستے ہوئے اسکی طرف دیکھا تھا باسم کی آنکھوں میں بہت سوال تھے جو ماہیر اچھے سے سمجھ گیا تھا
“ہاہاہاہا زیادہ مت سوچ مجھے محبت نہیں ہوئی اس سے۔۔۔ بس دل کو بہلانے کا دل کررہا ہے اب۔۔۔ اس نے جو انکار کیا اسے اپنے قدموں پر لاؤں گا ورنہ برا حشر کردوں گا۔۔۔
میرے باپ کو تو جانتے ہی ہو نہ۔۔۔؟ میرے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔۔۔”
سگریٹ کے دھوئیں میں وہ اپنے گھنونے پلان کو مسکراتے ہوئے بتا رہا تھا۔۔۔
“وہ تو ٹھیک ہے باپ کو خوش کرنے کے لیے تمہارا اس فیملی فنکشن میں جانا ضروری ہے تمہاری موم کی بھی کال آئی تھی مجھے تمہارا موبائل آف جا رہا تھا”
“اوو شٹ۔۔۔ ڈیڈ کو سچ میں ایمپریس کرنا ہے۔۔۔ یہی تو فرسٹ سٹیپ ہے۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“”ویسے مجھے تم پر زرا سا یقین بھی نہیں تھا نسواء یہ سب کہتے تھے تم بہت محبت کرتی تھی نجیب سے۔۔۔پر محبت ایسی ہوتی ہے۔۔۔؟”
عمارہ نے جیسے ہی نسواء کا راستہ روکا تھا اسی وقت نجیب نے نسواء کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
اتنے سالوں کے بعد وہ پھر خود کو وقت کے اسی دہرائے پر دیکھ رہی تھی جہاں نجیب نے اسے اور انکے رشتے کو سب کے سامنے بے آبرو کردیا تھا۔۔۔
اور آج وہی نجیب کے سامنے اسکی دوسری بیوی کررہی تھی نجیب کے گھر والے نسواء کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ مجرم ہو ان سب کی۔۔۔
نسواء سب کی باتوں کو اگنور کرکے آگے بڑھنا چاہتی تھی پر اسی ہال کے ایک کارنر پر اسکی نظر اپنے بیٹے مننان پر گئی اور پھر دوسری طرف حورب پر۔۔۔
وہ کیوں بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔؟ وہ گناہ گا نہیں وہ مجرم نہیں اور وہ ڈرپوک بھی نہیں اسکی اولاد ہے اسکے ساتھ۔۔۔
گہرا سانس بھرے نسواء نے چہرے پر بکھرے بالوں کو جیسے ہی ہٹایا تھا وہ قیامت کی ادا لگی تھی پر نجیب آفندی اپنی دنیا سے باہر اس وقت آئے جب نسواء عمارہ کے کچھ پاس ہوئی تھی
“محبت۔۔۔؟؟ میں نے محبت کی اس کی گواہی میرا وہ رشتہ تھا جس میں میں آج تک بندھی رہی اس شخص کو ریپلیس نہیں کیا اور اسکی اولاد کو کسی غلط رستے نہیں لگایا اچھی تربیت دی وہ نہیں بنایا جو ان کا باپ تھا
ایک ‘بےوفا’ اپنے آفس سیکریٹری کے ساتھ آفئیر چلانے والے شخص سے جھے محبت نہیں رہی اس لیے تو چھوڑ دیا تھا۔۔۔”
سب لوگ ٹیبل سے اٹھ گئے تھے نجیب کی والدہ چچی سب نسواء بہت قریب ہوئی تو پیچھے کھڑے نجیب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے وہ بات کہی تھی شاید وہ نہ کہہ سکتی
“یہ محبت تھی تمہاری۔۔؟ نجیب کو چھوڑ کر تم سمجھتی ہو وہ تمہاری محبت تھی۔۔؟؟ “
“محبت شراکت قبول نہیں کرتی مس عمارہ۔۔ محبت خوددار ہوتی ہے۔۔۔ جب محبوب کے دل میں کسی اور عورت کے جسم کی ہوس آجائے تو محبت ایسے ہی چھوڑ جاتی ہے جیسے میں نے اسے چھوڑا۔۔۔
اب تم یہ بتاؤ تم کیسے گزارا کرتی ہو۔۔؟؟ سنا ہے کسی ماڈل کے ساتھ’ چکر ‘ چل رہا ہے۔۔؟؟ تم نے کیا کبھی محبت کی نجیب آفندی سے۔۔؟؟ کیونکہ عورت اگر محبت میں اپنا مرد شئیر کردے تو محبت کیسی۔۔۔؟؟
محبت کرتی ہو تو خودداری سے کرو میری طرح۔۔۔ اور ایک بات اب مجھے محبت نہیں رہی۔۔۔
کبھی یہاں کبھی وہاں۔۔؟؟ یہ میری محبت کا معیار نہیں۔۔۔
ناؤ ایکسکئیوز مئ۔۔۔”
وہ عمارہ کے کندھے سے ٹچ نہیں ہوئی مگر شاکڈ کھڑے نجیب آفندی کے کندھے سے اپنے کندھے کو ٹچ کرتے ضرور گزری تھی۔۔۔۔
۔
“نسواء بھابھی۔۔۔”
فضا کی بات کا بھی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔ باقی سب کو تو سانپ سونگ گیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“
“نسواء۔۔۔۔بیٹا بہت بہت شکریہ اتنے کم وقت میں آپ سب آئے۔۔”
حزیفہ صاحب کی والدہ نے نسواء کو باقی سب رشتے داروں سے ملوانا شروع کردیا تھا
جب حورب مٹھائی کی پلیٹ نسواء کے پاس لے آئی تھی
“سیریسلی حورب۔۔؟ میں نے منع کیا تھا زیادہ میٹھا کھانے سے۔۔”
نسواء نے جیسے ہی پلیٹ کھینچے کی کوشش کی دو گلاب جامن پھر بھی پکڑ لئیے تھے
“ماما۔۔۔ کوئی ایک موقع ہی تو ایسا ملتا ہے کوئی دادی آپ ہی کہیں زرا”
حورب کا حزیفہ کی والدہ کو دادی کہنا نسواء کے لیے عام بات تھی پر ان لوگوں کے لیے نہیں جو یہ سن رہے تھے
“ہاہاہاہا نسواء کھانے دو نہ۔۔”
“آپ نہیں جانتی اسے زیادہ میٹھا کھانے سے منع کیا گیا ہے۔۔”
“ماما۔۔۔۔”وہ تو پلیٹ لے گئی تھی حورب نے دوسرا گلاب جامن جیسے ہی کھانا شروع کیا اس کا فون بج گیا تھا
وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئی تھی موبائل کان کو لگائے وہ ابھی بھی مصروف تھی اپنے میٹھا کھانے پر۔۔۔
نجیب صاحب بھی کچھ ٹیبل دور ایک چئیر پر بیٹھ گئے تھے
“ہیلو۔۔۔ ہیل۔۔۔”
وہ کھاتے کھاتے لفظ مکمل نہیں کرپائی تھی جب دوسری طرف سے اسے قہقوں کی آواز سنائی دی
“کون صاحب بات کررہے ہیں۔۔؟؟”
حورب نے کسی مرد کی ہنسی کو سن کر منہ ایک دم سے بند کیا اور مکمل ختم کرنے کے بعد سختی سے پوچھا تھا
“مریض بات کررہا ہوں”
“کونسا مریض۔۔؟؟”
“دل کا مریض ڈاکٹر حورب”
“مگر میں دل کی ڈاکٹر نہیں”
“مگر میں آپ کا پئشنٹ ضرور ہوں”
“وٹ داہیل۔۔۔؟؟”
حورب کھڑی ہوگئی تھی اور نجیب صاحب کے پاس سے گزر گئی تھی
نجیب آفندی اس پورے وقت میں ان تین لوگوں کو دیکھ رہے تھے اور ان کا اس طرح ان تینوں کو دیکھنا ان کے گھر والوں کو شدید حسد اور نفرت میں مبتلا کئیے جارہا تھا
“نجیب بات سنیں شزا سے بات کیجئے دیکھیں ماشاللہ تیار ہوئے کتنی پیاری لگ رہی”
“میرے پاس وقت نہیں ہے بار بار میرا راستہ نہ کاٹا کرو۔۔۔کم سے کم باہر کی گیدرنگ میں تو مجھے تنہا چھوڑ دو عمارہ۔۔۔”
وہ اسکا ہاتھ جھٹک چکے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دل نے میرے تیرے دل سے کہا۔۔۔
عشق تو ہے وہی جو ہے بے انتہا۔۔۔”
میں جلا دوں۔۔۔؟؟؟
حزیفہ نے نسواء کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔
یا شئیور۔۔۔۔”
ہاتھ میں پکڑی ہوئی میچ باکس نسواء نے جیسے ہی حزیفہ کی طرف بڑھائی حزیفہ صاحب بھی نیچے بیٹھ گئے تھے ٹیرس پر نیچے پڑی آدھی کینڈلز جو بجھ گئی تھی انہی نسواء پھر سے روشن کررہی تھی جو وہ دو لوگ اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
ایک وہ جو نسواء کے قریب تھا اور ایک وہ جو سیڑھیوں پر کھڑا ہوگیا تھا کسی اور کو نسواء کے اتنا قریب دیکھ کر۔۔۔۔
نجیب آفندی آنکھوں میں بلا کا غصہ لئیے اس شخص کو دیکھ رہا تھا
۔
“تو نے کبھی جانا ہی نہیں۔۔۔
میں ہمیشہ سے تیرا۔۔۔۔تیرا ہی رہا”
۔
“ان چراغوں کی چمک مجھے آپ کی آنکھوں کی روشنی جیسی لگ رہی ہے جو سیاہ تنہا رات میں بھی روشنی سے لہلہا رہیں ہیں نسواء۔۔۔”
انکی باتوں نے نسواء کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا تھا۔۔
۔
“کہ جب تک جئیوں میں۔۔۔جئیوں ساتھ تیرے۔۔۔
پھر چاند بن جاؤں تیری گلی کا۔۔۔”
“حزیفہ۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے اٹھنے لگی تھی جب حزیفہ نے نسواء کا ہاتھ پکڑ واپس بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا
۔
“نہ ٹھہرے گا کوئی آنکھوں میں میری۔۔۔
ہو نہ سکوں گا میں اور کسی کا۔۔۔”
۔
“ایک بار ہمیں موقع دو نسواء۔۔۔۔مجھے ایک موقع چاہیے “
“اور پھر کیا ہوگا حزیفہ۔۔۔؟ میاں بیوی کے رشتے کی کڑواہٹ ایک بار برداشت کرچکی ہوں۔۔۔ اس پاکیزہ رشتے کی بےوفائی سہہ چکی ہوں۔۔۔”
نسواء نے جیسے ہی اپنا ہاتھ چھڑالیا تھا اگلے پل وہ اٹھ گئی تھی۔
میں یقین دوں گا اپنے دل کے ساتھ آپ کو
میں ایمانداری دوں گا اپنی ذات کی میری روح کے ساتھ آپ کو
میں سکون نہیں سکون سے بھری زندگی دوں گا آپ کو نسواء۔۔
میں اپنی وفا لکھ کر دوں گا نکاح نامہ میں اپنے نام کے ساتھ”
۔
میں وہ خواب ہوں جو کسی نے نہ دیکھا۔۔
وہ قصہ ہوں میں جو۔۔بن تیرے تھا آدھا۔۔
۔
حزیفہ کی باتیں سن کر وہ بےساختہ پلٹی تھی حزیفہ اٹھ کر اتنا پاس کھڑا تھا کہ وہ خود کو اس شخص کی نظروں میں دیکھ رہی تھی جس نے سوائے عزت اور وفا کے اور کچھ نہ دیا تھا اسے اور اسکے بچوں کو
وہ کچھ نہ ہوتے ہوئے بہت کچھ بن گیا تھا اسکے لیے اسکے بچوں کے لیے۔۔۔
“پلیز نسواء۔۔۔”
نسواء نے نفی میں سر ہلایاتھا حزیفہ کی آنکھوں سے جیسے ہی پانی کا ایک قطرہ نکلا اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا وہ آنسو صاف کرنے کے لیے
پر وہ چہرے پر ہاتھ نہ رکھ سکی تھی وہ اپنی حدود جانتی تھی۔۔۔ نجیب کی گرفت سخت ہوئی تھی اس واال پر آنکھوں میں قیامت کاغصہ لئیے وہ خاموش کھڑا تھا
۔
“کاش تم پہلے میری زندگی میں آئے ہوتے حزیفہ۔۔۔ سب سے پہلے۔۔ اس شخص سے بھی پہلے۔۔اگر پہلے ملے ہوتے تو آج میں یوں پچھتا نہ رہی ہوتی اپنے غلط انتخاب پر۔۔۔
ایم سوری۔۔۔ میں اس بےوفا کے ساتھ ساتھ منسوب ہوں جو سوا میرے ہر ایک عورت کی پہنچ میں ہے۔۔ جو اپنے بچوں کا آئیڈیل تو بن گیا پر میرے بچوں کا باپ نہ بن سکا۔۔”
اسکی آنکھوں کے آنسو چھپانے کے لیے حزیفہ کے کندھے پر جیسے ہی اس نے سر رکھا تھا حزیفہ کے ہاتھ بھی اسی جگہ تھم گئے تھے وہ بھی نسواء کی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر ان حدود کو پار نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
۔
“ملا تو مجھے تووو۔۔۔ مگر دیر سے کیوں۔۔۔
ہمیشہ مجھے یہ شکایت رہے گی۔۔۔
لگا لے گلے سے مجھے بن بتائے۔۔۔
عمر بھر تجھے یہ اجازت رہے گی۔۔۔”
۔
“ایم سوری۔۔۔”
وہ وہاں سے چلی گئی تھی جیسے ہی سٹئیرز کی طرف بڑھی تھی نجیب نے اس کا بازو پکڑ کر اسے ایک ڈارک کارنر کی طرف کھینچ لیا تھا۔۔۔
“نجیب ہاتھ چھوڑیں۔۔۔۔”
وہ اس لمس کو محسوس کرگئی تھی جس پر نجیب صاحب بہت حیران ہوئے تھے
“نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔”
“نجیب۔۔۔”
“نجیب ان لبوں کو خاموش کرچکا تھا اپنے لبوں سے۔۔۔ اسے اس لمحے فکر نہیں تھی کہ نسواء کے رخصار پر گرتے اسکے آنسو اسکی امیج خراب کردیں گے اسے فکر نہیں تھی کہ وہ اس لمحے نجیب آفندی نہیں ایک کمزور مرد ثابت کررہا تھا
اسے فکر نہیں تھی۔۔
کچھ لمحے بعد نجیب نے اسکے ماتھے پر اپنا سر رکھ دیا تھا
“میں۔۔ آپ نے اپنے شوہر کو مجھے۔۔۔ اس غیر مرد کے سامنے رد نہیں کیا ہمارے رشتے کو رد نہیں کیا نسواء۔۔۔ چاہے میں کرتا آیا۔۔ مگر وہ جو آپ نے وہاں کیا ہے۔۔۔
نجیب آفندی کو اپنا غلام بنا لیا ہے۔۔۔ میرا سینہ فخر سے غرور سے چوڑا ہوگیا ہے۔۔۔” ماتھے پر بوسہ دئیے وہ آنکھ کو صاف کئیے بہت جلدی سے چلا گیا تھا۔۔۔
نسواء کو حیران چھوڑ کر۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
