62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

“محبت شراکت نہیں مانگتی۔۔ تم محبت کرتی ہو تو کیوں ابھی تک ساتھ ہو۔۔؟ “
۔
“نجیب۔۔”
سٹڈی روپ کا دروازہ جیسے اوپن ہوا عمارہ اندر داخل ہوئی تھی ہاتھ میں چائے کا مگ تھا جو اس نے نجیب کے سامنے رکھا تھا
۔
“نجیب۔۔۔”
“ہمم۔۔”
سر جیسے ہی اٹھایا تو عمارہ کچھ پل کو وہیں رک گئی تھی پورا روم بکھرا ہوا تھا سب کچھ پیپرز بکھرے ہوئے تھے۔۔ ڈیسک کی ہر چیز نیچے گری ہوئی اس بات کا ثبوت تھی کہ اتنے گھنٹے سے وہ شخص کن چیزوں پر اپنا غصہ نکال رہا تھا۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
نجیب عمارہ کی آنکھوں میں غور سے دیکھنے لگا تھا۔۔ بہت سالوں کے بعد عمارہ کو نجیب کا وہ دیکھنا نصیب ہوا تھا جو شادی سے پہلے تھا
۔
“عمارہ۔۔۔ یہاں آکر بیٹھو۔۔۔”
صوفے کے ساتھ والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
اور وہ بہت خوش ہوئی تھی اس وقت اور جلدی سے بیٹھ گئی تھی اور اب اسکی نظر نجیب کی گود میں رکھے نسواء کے فوٹو فریم پر پڑی۔۔
۔
“میں یوں خفا تو نہیں۔۔ مگر گلہ ہے مجھے
کیوں بےوفا سے۔۔۔ کوئی وفا کرے۔۔۔”
۔
“تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے۔۔؟؟”
“بہت محبت ہے۔۔نجیب بہت زیادہ۔۔”
“اتنی کہ تم شراکت برداشت کرتی رہی اتنے سالوں سے۔۔؟؟”
نجیب کی بات سن کر وہ شاک ہوئی تھی اور نجیب کے ہاتھ مٹھی کی صورت بند ہوگئے تھے۔۔
“نجیب۔۔۔”
“میرے لیے نسواء سے زیادہ محبت مجھے کسی نے نہیں کی عمارہ۔۔ کیونکہ اس کی محبت نے شئیرنگ پسند نہیں کی۔۔۔ اب مجھے شک ہونے لگا ہے تمہاری مجھ سے بہت زیادہ محبت پر۔۔”
“ہاہاہا۔۔ آپ کس پاگل کی باتوں پر یقین کررہے ہی نجیب۔۔؟؟
محبت کرنے والے محبوب کی خوشی کو آگے رکھتے ہیں اور وہ مطلبی عورت تھی وہ۔۔”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔”
“نجیب۔۔۔”
“آؤٹ۔۔۔”
عمارہ واپس چلی گئی تھی۔۔
“اگر میں پچھتایا تو یہ نجیب آفندی کبھی اٹھ نہیں پائے گا نسواء۔۔۔”
۔
اسکی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس فوٹو فریم میں گر رہے تھے جب پھر سے دروازے پر دستک دی تھی کسی نے۔۔۔
۔
“کم ان۔۔۔”
اپنا چہرہ صاف کئیے جیسے ہی نجیب نے کہا ماہیر پرجوش انداز میں اندر داخل ہوا پر سٹڈی روم کی یہ حالت دیکھ کر حیران ہوا۔۔
“ڈیڈ یہ سب۔۔؟؟ آپ تو۔۔ بہت نیٹ اینڈ کلین پسند کرتے۔۔اور۔۔”
“کیا کہنے آئے ہو۔۔؟ کام کی بات کرو اور جاؤ۔۔۔”
“اوہہ۔۔ڈیڈ۔۔۔ میں آفس جوائن کرنا چاہتا ہوں۔۔ میں آپ کے کندھوں سے یہ بزنس کا بوجھ کم کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
ماہیر پاس جاکر بیٹھا تھا اور نجیب کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا
“ڈیڈ۔۔ میں ذمہ دار بننا چاہتا ہوں۔۔ سعی معنوں میں میں آپ کا بیٹا بننا چاہتا ہوں آپ کی طرح قابل۔۔۔”
نجیب کے غصے کو ماہیر کی باتوں نے نرمی میں بدل دیا تھا۔۔
“ہمم۔۔ ٹھیک ہے کل آفس چلنا میرے ساتھ۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔ میں کمپنی کا ‘سی ای او’ بن کر آگے آنا چاہتا ہوں۔۔ جن لوگوں نے مجھے ڈی گریڈ کیا انہیں جواب دینا چاہتا ہوں۔۔۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نجیب آفندی کا بیٹا ہوں۔۔۔
پلیز ڈیڈ۔۔۔پلیز۔۔۔”
نجیب نے کچھ دیر سوچا اور پھر ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔۔
“تھنک یو۔۔ تھنک یو سوو مچ ڈیڈ۔۔۔”
وہ نجیب کے گلے لگ گیا تھا۔۔ کچھ پل ہی سہی نجیب کے بےچین وجود کو سکون ملا تھا
۔
ٹیک کئیر ڈیڈ گڈ نائٹ۔۔۔”
اور وہ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
“اپنے ایک بیٹے کو تو وہ نہ دے سکا۔۔ کم سے کم ماہیر کو وہ دہ دوں۔۔”
نجیب نے ظہیر کو فون ملایا تھا ۔۔۔اور جیسے ہی اس نے ماہیر کو ‘سی ای او’ بنانے کی خبر دی تھی ظہیر خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔۔
اس نے اسی وقت عمارہ کو فون گھما دیا تھا۔۔۔اور وقت طہ کیا تھا ملاقات کا۔۔۔
اتنے سالوں کے بعد وہ کامیاب ہورہے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تھینک یو سو مچ میم آپ بہت شارٹ نوٹس پر آئی ہیں۔۔ہمیں بہت خوشی ہوئی۔۔”
“اٹس اوکے مس ہانیہ۔۔۔ آئی ہوپ میں لیٹ نہیں ہوئی۔۔۔”
نسواء کے دو گارڈ پیچھے رک گئے تھے اور دو اسکے ساتھ سٹیج پر چلے گئے تھے گیسٹ آف آنرز کے ساتھ اسے بھی بہت اونر سے بٹھایا گیا تھا۔۔
۔
کالج فنکشن جیسے ہی سٹارٹ ہوا تھا ایک نام نے نسواء کے چہرے کی ہنسی کو غائب کردیا
“شزا آفندی۔۔۔”
وہ جیسے جیسے سٹیج پر آرہی تھی نسواء کی نظروں میں وہ ماضی گھوم رہا تھا وہ ماضی جس کو یاد کرتے ہوئے وہ پوری کوشش کررہی اپنے آنسو روکنے کی۔۔
اتنے میں موبائل وائبریٹ ہوا تھا۔۔
۔
“ماں میں ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ وزٹ پر جارہی ہوں۔۔ بھائی سے پرمیشن لے لی ہے۔۔”
“پر جا کہاں رہی ہو۔۔؟؟”
“اسلام آباد۔۔میں کل آجاؤں گی پکا۔۔۔ٹیک کئیر۔۔ خدا حافظ۔۔۔”
“ارے میری پرمیشن تو لی نہیں۔۔۔”
“ہاہاہا آپ جگہ کا تب پوچھتی جب آپ اجازت دینے کا سوچ لیتی۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔”
“لووو یو ماں ۔۔۔”
نسواء نے ہنستے ہوئے فون بند کیا تھا اور پھر اس کا نام لیا گیا اس نے اس لڑکی کو جیسے ہی میڈل پہنایا اس کی نظر سامنے رو پر بیٹھے لوگوں پر گی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اور پچھلے کچھ سالوں سے تمہارے یہی بہانے سن رہا ہوں میں۔۔ ان تین لوگوں پر اپنی زندگی انویسٹ کردی اور اپنا نہ بنا سکے۔۔؟؟ حزیفہ نصیب آفندی”
ظہیر نے ہاتھ ڈیسک پر مارے تھے پر حزیفہ نے کچھ ری ایکٹ نہیں دیا تھا اس وقت۔۔
“میں۔۔۔ اب اس سب سے باہر نکلنا چاہتا ہوں۔۔ میں آپ کے اور ڈیڈ کی ٹویسٹڈ پلاننگ کا حصہ نہیں رہنا چاہتا۔۔”
“اور دادی کو کیا کہو گے۔۔؟؟ اگر اتنی ہی جرات ہے تو دادی کے سامنے جاکر انکار کرو۔۔
کہو انہیں کہ تم نے انکار کردیا۔۔ اور انہوں نے جو ساری زندگی اذیت میں گزار دی تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا حزیفہ۔۔”
“آپ کیسے بھائی ہیں ۔۔؟؟ ظہیر بھائی۔۔ میں اس سے پیار کرتا ہوں۔۔ وہ دونوں بچے اب میرے بچے ہیں۔۔ اپنے باپ سے زیادہ وہ مجھے عزت دیتے پیار کرتے۔۔”
“ہاہاہاہا اور ان بچوں کی ماں۔۔؟؟ وہ آج بھی نجیب کی ایک آواز پر چھوڑ جائے گی تمہارا یہ بھرم توڑ جائے گی۔۔”
“وہ مجھے پسند کرنے لگی ہے۔۔ ڈائیورس کی بات کی ہے اس نے۔۔”
“وٹ۔۔؟”
ظہیر کے لیے بہت شاکنگ تھی یہ بات وہ مان ہی نہیں سکتا تھا ۔۔
“کیا سچ میں۔۔۔ حزیفہ۔۔۔ یقین کرو اگر یہ سچ ہے تو نجیب آفندی کا زوال ہم سب دیکھیں گے۔۔۔
اتنے سالوں کے بعد ہم کامیاب ہوں گے اس گھر کی بربادی آنکھوں سے دیکھیں گے۔۔”
“آپ مجھ پر سارا ملبہ نہ ڈالے عمارہ کی بےوفائی نے اس شخص کو کسی قابل نہیں چھوڑا ہوگا۔۔”
“ہاہاہاہا عمارہ والا دھچکا اسے وہ تکلیف نہیں دے گا جو نسواء کی علیحدگی دے گی۔۔۔
قسم سے مزہ آجائے گا۔۔۔ دادی کو یہ خبر کب دینے جارہے۔۔؟؟”
حزیفہ کے نمبر پر جیسے ہی کال آئی تھی اس نے اپنے بڑے بھائی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا
“تو مسٹر حزیفہ۔۔ کیا پلان ہے ڈنر کا۔۔؟”
“مس نسواء کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔؟؟ سیریسلی۔۔؟؟”
حزیفہ بات کرتے کرتے اپنا کوٹ کرسی سے اٹھا کر پہننے لگا تھا اپنے بھائی کو مکمل درگزر کرکے وہ دروازہ کھول کر باہر جانے لگا تھا جب ظہیر نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔
“آپ کا حکم غلام حاظر۔۔ کب اور کہاں آنا ہے۔۔؟؟”
“ہاہاہا وہ سرپرائز ہے مسٹر حزیفہ۔۔”
“اوکے بیوٹیفل۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ بائے۔۔۔”
فون بند کرکے اس نے ظہیر کی گرفت سے اپنا بازو چھڑایا تھا
“ظہیر بھائی مجھے ابھی جانا ہے باقی باتیں بعد میں۔۔”
“اور دادی۔۔؟؟ انکو کب یہ خوش خبری سنا رہے ہو۔۔؟؟ دیکھو حزیفہ اگر دادی نے کوئی قدم اٹھایا تو تم بھی جانتے کہ کیا کریں گی وہ۔۔۔”
“ہمم۔۔۔۔میں۔۔۔میں نسواء کو اور بچوں کو یہاں سے لے جاؤں گا۔۔ پھر آپ جانے اور وہ لوگ۔۔۔آپ نے وعدہ کیا تھا ظہیر بھائی۔۔”
“جانتا ہوں۔۔ اس لیے کہہ رہا ہوں دادی اور ڈیڈ کے آنے سے پہلے یہ سب مکمل کرو اور لے جاؤ ان تینوں کو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
حزیفہ سے بات کرنے کے بعد اسکی اداسی تھوری سی کم ہوئی تھی۔۔ ابھی وہ وہاں سے جانے لگی تھی جب نجیب کی دادی نے اسکا راستہ روکا ۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
“مسز۔۔ آفندی۔۔۔”
دادی کہتے کہتے رکی تھی وہ۔۔۔
“دادی بھی نہیں کہو گی۔۔؟؟ کیا اتنی نفرت ہوگئی ہے مجھ سے۔۔ میری بچی۔۔”
بھری آنکھوں سے انہوں نے نسواء کے گال پر جیسے ہاتھ رکھا نسواء کا وجود نرم پڑ گیا تھا۔۔
“دیکھیں۔۔۔”
“میرے ہوتے ہوئے تمہارے ساتھ یہ ظلم ہوا نسواء۔۔ آخری وقت تک لگتا تھا میں سب ٹھیک کردوں گی۔۔ میں بھی سمجھنے لگی تھی کہ میرے پوتے کی خوشی دوسری شادی میں ہے پر نسواء۔۔۔”
نسواء کے دونوں ہاتھ پکڑ کر وہ معافی مانگنے لگی تھی جب نسواء نے انہیں روکا
“آپ بڑی ہیں۔۔۔ آپ پلیز۔۔ ایسے نہ کریں۔۔”
“بڑی ہی نہیں نسواء۔۔ میرے نجیب کو ٹوٹنے سے بچا لو۔۔ وہ بکھرا تو مر جائے گا۔۔اسے مرنے سے بچا لو۔۔ واپس آجاؤ۔۔۔”
“ایم سوری ۔۔ مجھے لگا تھا کہ اتنے سالوں کے بعد اب تو آپ کو میری تکلیف کا احساس ہوگا۔۔
مگر آج بھی آپ نجیب آفندی کی دادی ہیں۔۔”
وہ اپنے آنسو صاف کرتے کہتی ہے وہ دل برداشتہ ہوگئی تھی اس وقت۔۔
مڑ کر جیسے ہی جانے لگی تھی دادی نے ایک ہلکی سی آواز دی تھی اسے اور کچھ ہی سیکنڈ میں سینے پر ہاتھ رکھے دادی نیچے گر گئی تھی۔۔۔
“مس۔۔۔ دادی۔۔۔دادی۔۔”
نسواء انکی طرف بھاگی تھی۔۔ اس نے اپنے گارڈز کوکال ملائی۔۔
دادی کا سر اپنی گود میں رکھے دادی کے منہ پر آہستہ آہستہ ہاتھ مار کر ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دوا بھی لگے نہ مجھے دعا بھی لگے نہ مجھے
جب سے میرے دل کو تو لگا ہے۔۔۔”
۔
“سووو اگین مس حورب۔۔ اوپسسس ڈاکٹر حورب۔۔۔؟؟”
“نوٹ اگین۔۔۔”
“اچھا جی۔۔۔ پھر تو میری خوش نصیبی ہوئی یہ۔۔؟؟”
وہ بائیک سے اتر کر اسکی طرف بڑھا تھا
“وہیں رک جائیں مسٹر شہاب۔۔”
“اوووہ۔۔ نام بھی یا د ہے میرا۔۔۔؟؟”
وہ اور پاس آیا تھا حورب کے۔۔ جو ایک قدم پیچھے ہوتے ہی کسی سے جا ٹکرائی تھی۔۔
“اووہ سوو سوری میم۔۔”
حورب نے اس لڑکی سے ایکسکئیوز کیا تھا
“وٹ دا ہیل دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی کیا۔۔؟؟”
وہ لڑکی جیسے ہی چلائی شہاب نے حورب کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے پیچھے کھینچا تھا
“تو تم دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی۔۔؟؟ اور تمیز سیکھو بات کرنے کی۔۔”
“شہاب۔۔؟؟”
“شہاب۔۔ تم میری منگیتر سے بات کررہے ہو۔۔”
“اور آپ کی منگیتر میری گیسٹ سے ایسے بدتمیزی سے بات نہیں کرسکتی ۔۔۔”
وہ اپنے کزن اور اس لڑکی کو ایک نظر دیکھے حورب کا ہاتھ پکڑے وہاں سے لے گیا تھا۔۔
۔
“سیریسلی۔۔؟؟ آپ کو اس سے ایسے بدتمیزی سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔”
“تو برداشت کرتا رہتا۔۔؟”
“غلطی میری تھی۔۔۔”
شہاب کچھ دیر تو اس لڑکی کو دیکھتا رہ گیا تھا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔؟؟میں اسے معذرت۔۔۔”
“تم کیوں معذرت کرتی۔۔؟ اور ایسے اس لیے دیکھ رہا ہوں کہ تم اتنی بڑی پوسٹ پر ہو پھر بھی تم ایسے جھک کر بات کررہی تھی اس سے۔۔ وہ انسلٹ کررہی تھی ۔۔۔”
“تو۔۔؟؟ جو جس ظرف کا مالک ہو وہ ویسے ہی پیش آتا۔۔ میری ماں کہتی ہیں ہمیں کسی کا لہجہ دیکھ کر اپنی پرورش نہیں بھولنی چاہیے۔۔۔
ناؤ ایکسکئیوز مئ۔۔۔”
وہ بیگ اٹھائے گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی جو ہاسپٹل کے ڈاکٹرز کے لیے ہائیر کی گئی تھی۔۔
“ایک منٹ۔۔ آپ یہاں کب تک ہیں۔۔؟؟”
“اگر آپ ڈنر کی بات کررہے ہیں تو سوری مسٹر۔۔ رات کی فلائٹ ہے۔۔۔”
“اووہ۔۔۔”
شہاب نے راستہ چھوڑ دیا تھا۔۔ وہ گاڑی کی طرف بڑھی تھی جیسے ہی بیٹھنے لگی تھی شہاب نے پیچھے سے آواز دی تھی اسے۔۔۔
“ڈنر نہ سہی ایک کپ کافی۔۔۔”
“میں کافی نہیں پیتی۔۔۔”
“تو پھر چائے۔۔؟؟”
“ایم سوری۔۔۔”
“اوکے تو پھر لسی سہی۔۔؟؟ سوپ سہی۔۔؟؟ آئس کریم سہی۔۔ یار کچھ تو مان جاؤ۔۔۔”
“ایڈیٹ۔۔۔ہاہاہا۔۔”
وہ ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“کچھ زیادہ ہی دانت نہیں نکل رہے شہاب۔۔؟؟ بہت جلدی بھول گئے ہماری محبت۔۔؟؟”
وہ لڑکی نے الزام لگایا تھا جس پر شہاب کی ہنسی توچلی گئی پر غصے سے بھر گیا تھا اس کا چہرہ۔۔۔
“محبت۔۔؟؟ میرے کزن کی منگیتر بن گئی ہو اور ابھی بھی الزام مجھ پر لگا رہی ہو۔۔؟ آئینہ دیکھو اور بتاؤ کون کس سے آگے بڑھا۔۔۔”
و ہ جلدی سے بائیک پر بیٹھ کر اس گاڑی کو فالو کرنے چلا گیا تھا جس پر ابھی ابھی حورب گئی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دادی۔۔۔ دادی اب آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟’
نجیب بھاگتے ہوئے گھر آیا تھا آفندی صاحب کے ساتھ وہ جیسے ہی دادی کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔ دادی کی طبیعت سے زیادہ نسواء کو دیکھ کر گھر کے مرد شاک ہوئے تھے۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
“ڈاکٹر صاحب اب کیسی ہیں میری ماں۔۔۔”
آفندی صاحب دادی کا ہاتھ پکڑ کر پاس بیٹھ گئے تھے۔۔ دادی کا کمرہ اس وقت کسی ہسپتال کے آئی سی یو سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
“دادی کو ہارٹ اٹیک آگیا تھا۔۔ اگر نسواء بھابھی وقت پر انہیں ہسپتال نہ لے جاتی تو دادی۔۔۔”
“نسواء۔۔۔”
وہ جو ایک خواب سمجھ رہا تھا نسواء کی موجودگی کو وہ دروازے سے آگے بڑھا تھا۔۔
“نسواء۔۔۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔”
“یہ میرا فرض تھا مسٹر نجیب۔۔۔ اب میں چلتی ہوں۔۔”
وہ اٹھی تھی جانے سے پہلے دادی کے ماتھے پر بوسہ دے کر اس نے آہستہ سے دادی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔
وہ سب افراد کے درمیان سے وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔ جس کے پیچھے پیچھے نجیب بھی روم سے باہر آئے۔۔
پر نیچے ایگزٹ جانے کے بجائے نسواء کی قدم اسے کوریڈور سے اس کمرے کی طرف لے گئے تھے جو اس نے اپنے ہرجائی کے ساتھ کبھی شئیر کیا تھا۔۔
۔
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ نجیب اب اتار دیں۔۔۔ہوگئی آپ کی فینٹسی پوری اپنی دلہن کو سب کے سامنے اٹھانے کی۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
“ابھی بیڈروم میں لے جا کر اتاروں گا۔۔ اور آپ کو کیسے معلوم یہ میری فینٹسی ہے۔۔؟؟”
“آپ کی آنکھوں میں شرارت دیکھ لی ہے میں نے۔۔ اب نیچے اتار دیں۔۔۔”
“ہاہاہا ۔۔ نہیں ابھی۔۔۔”
۔
ہینڈل پر ہاتھ رکھے اس نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔
اور جب دروازہ کھولا اسے امید تھی بلکہ یقین تھا کہ اس روم کو پوری طرح بدل دیا گیا ہوگا۔۔
اسکی شادی کی خوبسورت یادوں کو تباہ کردیا گیا ہوگا پر ایسا کچھ نہیں تھا
کمرے میں اندھیرا تھا۔۔ سامنے بڑے سے فوٹو فریم کے اوپر ایک ڈِم لائٹ اسے اور روشن کررہی تھی اور اس کمرے کو بھی۔۔۔وہ عین سامنے کھڑی تھی اس فریم کے جب نجیب روم میں داخل ہوا تھا۔۔
اس نے نسواء کو بہت دھیرے سے اپنے حصار میں بھر لیا تھا۔۔۔
ہر سو خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔
اسکی آنکھوں کے آنسوں نجیب کے ہاتھوں کی انگلیوں پر گر رہے تھے جو نسواء کی ویسٹ پر مظبوطی سے تھے۔۔
“نسواء۔۔۔”
“کیوں اس کمرے کی ہرچیز ویسی ہی ہے جیسے میں چھوڑ گئی تھی۔۔؟؟
کیوں سب ویسا ہی ہے۔۔؟؟ “
“کیونکہ میں چاہتا تھا آپ جب واپس آئیں تو سب ویسا ہی ہو جیسے آپ چھوڑ گئی۔۔”
“اب میں ویسی نہیں رہی نجیب۔۔۔ کیا فائدہ چیزوں کو سنبھالنے کا جب آپ رشتے کی قدر نہ کرسکے۔۔۔”
وہ نجیب کے ہاتھوں سے چھوٹ کر کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی دروازے تک جاتے جاتے رکی تھی
“نجیب اس کمرے کو آگ لگا کر راکھ کردیں جیسے ہمارے رشتے کو کیا تھا۔۔۔کیونکہ جو جیتے جاگتے لوگوں کو مار دیتے انہیں حق نہیں ان بےجان چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کا۔۔”
“نسواء۔۔ نہ اس کمرے کو کچھ ہوگا نہ ان چیزوں کا۔۔ اسی کمرے میں رہیں گے ہم دونوں پھر سے اپنی دنیا سجائیں گے۔۔۔”
“طلاق کے پیپرز کا کہہ دیا ہے میں نے وکیل کو نجیب میں۔۔۔”
نجیب نے نسواء کو پن کردیا تھا دور کے ساتھ۔۔ نجیب کے ہاتھ نسواء کی گردن پر تھے نسواء کے چہرے پر گرفت مظبوط تھی اسکی۔۔۔
“نسواء۔۔۔اب میں یہ لفظ نہ سنوں۔۔۔ میں مرتا مرجاؤں گا مگر طلاق نہیں دوں گا۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں غصے کی شدت نے نجیب کا وہ روپ اسکے سامنے رکھا تھا جو شاید اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
نجیب اور بہت باتیں کررہا تھا پر نسواء کے دماغ نے گھومنا شروع کردیا تھا۔۔۔
دوسرا ہاتھ اس نے اپنے سر پر رکھنے کی کوشش کی جب نجیب نے اسکے ہاتھ کو بھی دماغ کے ساتھ وال پر پن کردیا تھا
“نسواء میں کبھی طلاق نہیں دوں گا۔۔ میں کبھی آپ کو کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا۔۔سنا آپ نے۔۔”
نجیب نے اور مظبوطی سے نسواء کو جھنجھوڑا تھا۔۔
“نج۔۔۔”
وہ بےتاب ہوئی تھی سر کی درد نے اسے گم صم کردیا تھا۔۔۔ ہر چیز چکرا رہی تھی۔۔۔
اور جب نجیب نے اسکی بند آنکھیں دیکھی تو نسواء کے منہ سے خون نکل کر باہر آنے لگا تھا۔۔
“نسواء۔۔۔۔نسواء۔۔۔”
نجیب کے کندھے پر سر پھینک دیا تھا اس نے۔۔
“نجیب۔۔۔”
ایک ہی نام اسک لبوں پر تھا جب اس نے آنکھیں بند کی۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ ابھی اوپر ہے۔۔کیوں ہے وہ اوپر اس کمرے میں۔۔؟؟ ماہیر اور شزا گھر ہیں سب حیران ہورہے۔۔۔”
“میں کرتی ہوں نجیب سے بات وہ جلدی ہی نسواء کو بھیج دے یہاں سے۔۔۔”
“بھابھی بچے لیونگ روم میں ہے سب کو بہانہ لگا دیا اب۔۔۔”
۔
“نسواء۔۔۔ آنکھیں کھولیں نسواء۔۔ آپ کو میری قسم آنکھیں کھولیں۔۔۔”
نجیب کی چلاتی ہوئی آوازوں نے سب کو الرٹ کردیا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ نسواء کو اپنی بانہوں میں اٹھائے کمرے سے سیڑھیوں کی طرف آیا تھا
“نجیب۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔”
“ڈرائیور گاڑی نکالو۔۔۔ جلدی ڈیم اٹ۔۔۔”
وہ بار بار نسواء کے ماتھے کو چومتے ہوئے چلا رہا تھا۔۔ اور سب کے درمیان سے لے گیا تھا نسواء کو۔۔۔
۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔؟؟ ڈیڈ کو کیا ہوا۔۔۔ کون عورت ہے وہ۔۔؟ جس کے لیے ڈیڈ اتنا پریشان ہوگئے۔۔۔”
ماہیر پیچھے جانے لگا تھا جب عمارہ سے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر اس حالت میں انہیں سٹریس سے دور رکھنا چاہیے۔۔ آپ لوگوں کو سمجھنا چاہیے۔۔”
“کس حالت میں۔۔ کیا رسک ہے۔۔؟ کیا ہوا ہے میری بیوی کو۔۔”
“کینسر۔۔ آپ کو معلوم نہیں۔۔؟؟انکی میڈیکل ہسٹری۔۔۔”
نجیب نے ایک مکا مار کر اس ڈاکٹر کو دور پھینک دیا تھا۔۔۔
“کیا بکواس کررہے ہو۔۔؟؟ کین۔۔۔ کینسر۔۔؟؟ بالکل ٹھیک ہے میری بیوی۔۔۔”
۔
“سر۔۔۔ پلیز۔۔۔ جانے دیں انہیں۔۔۔نہیں تو ہم سیکیورٹی کو بلا کر آپ کو ہاسپٹل سے باہر۔۔۔”
“میں ہوں اس ہاسپٹل کا ٹرسٹی۔۔۔ میری چیریٹی پر چلتا ہے۔۔”
جن لوگوں نے نجیب کو اس ڈاکٹر سے دور کیا تھا انہوں نے نجیب کو چھوڑ دیا تھا جو سر پکڑ کر بیچ پر بیٹھ گیا تھا
“میں نہیں مانتا۔۔۔ نہیں مانتا۔۔۔”
“دیکھیں سر ان کا علاج چل رہا ہے وہ یہاں اپنی سیکریٹری کے ساتھ آچکی ہیں۔۔اور میم نے منع کیا تھا کسی کو بھی بتانے سے۔۔”
“مجھے سرے سے یقین نہیں کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہوگی۔۔۔ میں خود پتہ لگا لوں گا۔۔ میں خود اسکا علاج کرواؤں گا۔۔۔ “
فون نکالے نجیب نے اپنے اسسٹنٹ کو کال ملائی تھی اور پرائیویٹ انویسٹیگیشن کو ایک ٹاسک دے کر وہ نسواء کے پاس اندر چلا گیا تھا۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
نسواء کے ساتھ وائرز اٹیچ دیکھ کر اسے ایک درد محسوس ہوئی تھی اس نے دروازہ بند کئیے بنا کسی شور کر نسواء کے بیڈ کر پاس جاکر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔۔۔
۔
“کچھ بھی نہیں ہوگا یہ سب غلط فہمی ہے نسواء۔۔۔”
گال پر ابھی بھی خون لگا ہوا جو اس نے اپنی انگلی سے صاف کرنے کی کوشش کی تھی
“نسواء۔۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔ میں کہیں نہیں جانے دوں گا آپ کو۔۔۔”
اسکے کندھے پر سر رکھےوہ جیسے ہی لیٹے لگا تھا وہاں ڈاکٹر آگئے تھے ہاتھ میں فائل لیکر۔۔
“سر یہ انکی میڈیکل ہسٹری۔۔ اور باہر آپ کے اسسٹنٹ آئے ہیں۔۔۔”
“ہممم۔۔۔میری بیوی کا خیال رکھنا اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔ میں یہیں ہوں باہر۔۔۔”
وہ اتنی سختی سے کہتے ہوئے باہر چلا گیا تھا۔۔
“سر۔۔۔”
“مجھے سب انفارمیشن چاہیے۔۔”
“سر ہم نے۔۔۔میں نے یہ کچھ انفارمیشن کلیکٹ کی تھی۔۔۔ مگر۔۔۔ آپ کے فادر نے آپ کو کچھ بھی بتانے سے منع کردیا تھا۔۔۔”
“کچھ بھی کیا۔۔؟؟”
“یہی کہ نسواء میم کو کینسر تھا۔۔۔اور۔۔۔”
فائل ہاتھوں سے کھینچ کر اس نے پیج جلدی جلدی میں پلٹنا شروع کردئیے۔۔۔
۔
“آپ نے مجھے میرے حقوق نہیں دئیے نسواء۔۔ اب اگر میں دوسری شادی کرنا۔۔”
۔
“میں وہاں دوسری شادی کو روتا رہا۔۔ اسے لاپرواہ کہتا رہا۔۔ وہ کینسر سے لڑتی رہی۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی
“سر کینسر کا علاج ہوگیا تھا اب وہ واپس۔۔ آگیا ہے۔۔۔اور چانسز۔۔۔”
“اپنی بات مکمل مت کرنا۔۔”
وہ باقی کی فائل کھینچ کر اندر لے گیا تھا
“اور مجھے اب کوئی ڈسٹرب نہ کرے کوئی بھی نہیں۔۔۔”
اندر سے دروازہ لاک کرلیا تھا اس نے۔۔۔
“نسواء۔۔۔۔”
اس ایک نام کے علارہ اسکے پاس اس وقت بولنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا معافی بھی نہیں۔۔۔
نسواء کے سینے پر سر رکھ کر ہو بیڈ پر لیٹ گیا تھا اسے فکر نہیں تھی کہ نسواء اٹھ جائے گی۔۔
اسکے آنسوؤں سے نسواء کی آنکھیں کھل گئی تھی۔۔۔ کچھ سیکنڈ کے لیے وہ خود کو ہاسپٹل کے کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئی تھی اور نجیب کی رونے کی آوازوں نے اسے اور حیران کردیا تھا۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
“مجھے بتایا کیوں نہیں نسواء۔۔۔؟؟”
نجیب نے اپنا سر نہیں اٹھایا تھا نسواء کی انگلیاں اسکے بالوں پر جیسے ہی محسوس کی اس نے ۔۔۔
اور مظبوطی سے وہ اسکے گلے لگ گیا تھا
“بتایا ان کو جاتا ہے جنہیں فکر ہو نجیب۔۔ “
اور آپکو لگتا ہے مجھے فکر نہیں۔۔؟”
سر اٹھا کر دیکھا تو چہرہ بھیگا ہوا تھا آنسؤں سے۔۔۔
“فکر کب تھی نجیب۔۔؟؟ ہوتی تو آج ہم ایسے نہ ہوتے۔۔۔”
“نہیں نسواء۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔ پلیز۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ہم علاج کروائیں گے۔۔۔ ہم اچھے ڈاکٹر کو دیکھائیں گے۔۔۔”
“ابھی بس آپ اتنا وعدہ کیجئے کہ میرے بچوں کو کچھ پتہ چلنے نہیں دیں گے۔۔”
“ہمارے بچے نسواء۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ بس میرے بچے۔۔۔نجیب۔۔۔ “
“کیوں دہ رہی ہو یہ سزا۔۔۔؟ نسواء یہ کینسر کی بات برداشت نہیں ہورہا میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔۔پلیز خاموش ہوجائیں۔۔۔”
نسواء کے چہرے کو ہاتھوں میں لئیے درخواست کی تھی نجیب نے۔۔۔
“اور وہ واقع ہی خاموش ہوگئی تھی۔۔۔
“میں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ ہم لڑیں گے اس سے۔۔ سن لیں آپ۔۔۔”
اسکے چہرے پر بار بار بوسہ دئیے وہ تسلی دہ رہا تھا۔۔ اب کسی دہ رہا تھا وہ تسلی۔۔
کیوں کینسر لفظ پر نجیب کی آنکھیں بھرتی چلی جا رہی تھی۔۔۔ وہ نسواء کے ماتھے پر بوسہ دے رہا تھا تو کبھی چہرے پر۔۔۔
“نسواء ہم علاج کے لیے دوسری کنٹری جائیں گے۔۔۔”
“نجیب میں نے اپنی قسمت کو تسلیم کرلیا ہے۔۔ مجھے کوئی خوف نہین میری موت کا۔۔
میرے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے ہیں۔۔اور حزیفہ ہے انکے پاس۔۔ میں سکون کی موت مر سکتی ہوں۔۔۔”
حزیفہ کا نام سن کر اس نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
“میری بیوی کو مجھ پر یقین نہیں ایک غیر شخص پر یقین ہے۔۔ نسواء کیا میں اتنا برا ہوں۔۔؟”
“آپ بہت اچھے ہیں پر اپنی بیوی کے لیے اپنے بچوں کے لیے۔۔ نجیب۔۔۔ مجھے تو اب یاد بھی آتی تو آپ کی بےوفائی۔۔ آپ کی بےرخی ۔۔ وہ مطلب کی محبت وہ ضرورت کا رشتہ۔۔۔
آپ کی کوئی اچھائی یاد نہیں رہی مجھے۔۔۔اور اچھا ہوا کہ میرے بچے آپ سے اٹیچ نہیں ہوئے۔۔ مننان تو نفرت کرتا ہے۔۔ حورب انجان ہے۔۔ کل کو۔۔۔”
“بس کرجائیں۔۔ مجھے بہت تکلیف پہنچ رہی ہے۔۔۔”
“میری اذیت سے زیادہ نہیں۔۔میں۔۔۔”
نجیب نے باقی کا وہ فاصلہ ختم کردیا تھا۔۔۔
“نسواء اور نجیب کی کہانی اس بیماری پر ختم نہیں ہوگی نسواء۔۔۔ میں اس بیماری کو ختم کردوں گا۔۔۔ میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔”
“نجیب۔۔۔”
اور باقی کا وہ فاصلہ بھی ختم کردیا تھا نجیب کے ہونٹوں نے۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔