Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 03
Rate this Novel
Episode 03
“میری جنت آپ کی آغوش میں ہے نجیب میرا گھر آپ کے سینے میں اس دھڑکتے دل میں ہے۔۔”
اس نے جھک کر بوسہ لیا تھا اور پھر نجیب کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی تھی
“خیریت ہے نہ آج بہت پیار آرہا ہے مجھ پر۔۔؟”
“جی خیریت ہے اور پیار کب نہیں آتا۔۔؟؟”
سر اٹھائے نجیب کے چہرے پر انگلیاں پھیرتے ہوئے تھوڑی پر لب رکھ دئیے تھے نجیب کے ہاتھ کندھے سے پیچھے ہٹ کر نسواء کی کمر پر آگئے تھے۔۔
“نہ کریں نسواء میرے دل کو دھڑکن کو تیز۔۔ مت دیکھیں ان نظروں سے مجھے۔۔ میرے اندر کا بیسٹ باہر آگیا تو مشکل ہوجائے گا آپ کو سونا۔۔”
“اب نیند کہاں آئے گی۔۔؟؟ آپ کی بانہوں میں آنے کے بعد میں میں نہیں رہتی تم ہوجاتی ہوں۔۔۔۔”
تھوڑی سے لب ہٹاتے ہوئے وہ ان کھلتے بند ہوتے ہونٹوں کی جانب بڑھی تھی اس نے آہستہ سے سرگوشی کرکے سچ میں نجیب کے اندر کے بیسٹ کو جگا دیا تھا وہ جس طرح اسے بیڈ پر پن کرچکا تھا۔۔
نسواء کے دونوں ہاتھوں سر کے قریب لے جاکر اپنی گرفت مظبوط کرلی تھی اس نے مگر ان لبوں کے درمیان کا فاصلہ ختم نہیں کیا تھا۔۔
“کیا بات ہے نسواء آج آپ کو سچ میں بہت پیا آرہا ہے۔۔؟؟”
وہ اس پر اور جھکا تھا ۔۔
” آپ۔۔۔ پاپا بننے والے ہیں نجیب۔۔۔”
وہ مچلی تھی اپنی کلائی چھڑوانے میں کامیاب ہوگئی تھی وہ نجیب کے شاکڈ ایکسپریشن کے ساتھ اسکی گرفت بھی کم ہوئی تو اس نے نجیب کے ہاتھ کو اپنے پیٹ پر رکھ کر پھر سے وہ گڈ نیوز اسے سنائی تھی
“ایم پریگننٹ نجیب۔۔۔”
نجیب کے خاموش چہرے کو ہاتھوں میں لئیے اپنے لب بہت پیار سے ان لبوں پر رکھ دئیے تھے نجیب اب بھی شاکڈ ہی تھا۔۔۔
“نجیب کچھ بولئیے۔۔۔”
سانسیں بحال کرنے پر اس نے پھر سے نجیب کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“نسواء۔۔۔ آپ نے ٹیبلٹ کھانے کب بند کیا ۔۔؟؟ کس کی اجازت سے آپ نے وہ گولی کھانا بند کی تھی۔۔؟ اور کیوں۔۔؟ میں نے کہا آپ کو۔۔۔”
وہ جلدی سے اٹھ گیا تھا اپنا وجود الگ کرچکا تھا
“میں ریڈی ہوں نجیب میں نے کہا تھا۔۔”
“مگر میں ریڈی نہیں ہوں۔۔۔ہماری شادی شدہ زندگی میں یہ بچہ کسی پروپر پلاننگ کے بغیر۔۔”
“بس کردیں نجیب خدا کا واسطہ ہے یہ نعمت ہے اللہ کی۔۔۔”
“بنا پلاننگ کے یہ بچہ میرے لیے۔۔۔”
۔
۔
“ماما ہم پہنچ گئے ہیں ٹرین کو رکے ہوئے کچھ دیر ہوگئی۔۔”
نسواء کو اٹھاتے ہوئے مننان آہستہ آواز میں بولا اسی وقت اس نے آنکھیں صاف کرکے لوگوں کے ہجوم کو دیکھا جو ٹرین سے اتر رہے تھے
وہ اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑے باہر آگئی۔۔
“کولی میڈم۔۔؟؟ آپ نے اپنا سامان ٹیکسی میں رکھوانا ہے۔۔؟”
بہت سے لوگ ان دونوں کے پاس آکر پوچھنے لے نسوا خالی ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔
ایک بیگ ہی تھا وہ بھی نجیب نے جس طرح سے کھینچ کر کھولا تھا اس کا دل اتنا بدظن ہوا کہ وہ اپنا بیگ بھی چھوڑ آئی۔۔
“نہیں بھائی صاحب۔۔”
وہ مننان کا ہاتھ پکڑے اس بھیڑ سے مسافروں کے ہجوم سے ایگزٹ کی جانب
چلی گئی تھی
“ماما ہم کہاں جارہے ہیں۔۔؟۔۔”
وہ ابھی بات کررہا تھا جب کیچڑ میں اسکے شوز چلے گئے تھے۔۔
مننان کے چہرے ہر ایک دم سے غصہ آیا تھا جو ہمیشہ آتا تھا زرا سی بات پر مگر اب اس نے غصہ نہیں کیا تھا سر کو ہلا کر وہ آگے بڑھ گیا تھا
“مننان۔۔ نسواء جو اپنے بیٹے کا صبر دیکھ رہی تھی وہ جھک کر اسے اپنے سینے سے لگا چکی تھی
“بیٹا۔۔ آج سے ہم بہت امیر نہیں رہے ہم جہاں جارہے ہیں وہ جگہ شاید آپ کو پسند نہ آئے مگر میں بہت جلدی کچھ کروں گی۔۔ “
“اٹس اوکے ماما۔۔ میں بھی کوئی کام کروں گا۔۔”
“اوہ۔۔۔ میرے بچے۔۔۔”
مننان کو ایک بار پھر اس نے گلے سے لگایا۔۔ ممتا تھی کہ بار بار آنسوؤں میں بہہ رہی تھی نسواء کی آنکھوں سے۔۔ وہ کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی مگر وہ کمزور پڑ رہی تھی۔۔ اس نے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک رات باہر گزار دی وہ خوفزدہ ہوگئی تھی اس نئے شہر میں اکیلی اس سڑک پر کھڑی۔۔۔
“بھیا یہاں پاس کوئی اولڈ ایج ہوم یا کوئی یتیم خانہ ہے۔۔؟”
اس نے جاتے ہوئے رکشہ سے پوچھا تھا۔۔
“آئیے میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔ کرایہ تین سو لوں گا۔۔”
“جی۔۔۔ جی چلئیے۔۔۔”
مننان کو رکشہ میں بٹھا کر وہ بھی بیٹھ گئی تھی۔۔ایک نئے سفر میں چل دئیے تھے وہ دونوں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ گھنٹے پہلے۔۔۔”
۔
“آپ اندر نہیں آئیں گے نجیب۔۔؟”
“نہیں میں ایک ضروری کام پر جارہا ہوں ملازموں کو کچھ کام کہا ہے انہیں کہنا میرے آنے تک سب تیاریاں مکمل ہوں۔۔”
نجیب نے واپس گاڑی سٹارٹ کردی تھی
“تیاریاں کیسی نجیب۔۔؟ کوئی خاص ایونٹ۔۔؟”
عمارہ نے واپس ٹرن کرکے پوچھا تھا
“نسواء کو واپس آرہی ہے۔۔ اسکے میرے اختلافات اپنی جگہ مگر میں چاہتا ہوں اسکے جانے سے پہلے جو ہوا اسے اچھے سے ویلکم کیا جائے واپس گھر میں۔۔”
عمارہ کا چہرہ اتر گیا تھا۔۔ وہ بنا کچھ کہے جانے لگی تھی جب نجیب نے اسکی کلائی پکڑ کر واپس فرنٹ سیٹ پر کھینچا تھا
“میری کس دئیے بغیر جاؤ گی۔۔؟ ایسے ہی موڈ رکھو گی ہنی مون پر بھی۔۔؟؟”
“عمارہ کی گردن پر ہاتھ رکھے اس نے اسکے ہونٹوں پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
“اپنا خیال رکھئے گا۔۔”
اب کے وہ مسکراتے ہوئے گاڑی سے نیچے اتری تھی۔۔
مسکراہٹ تو نجیب کے چہرے پر بھی عیاں تھی۔۔ وہ بہت خوش تھا تین گھنٹے بیت چکے تھے شام ہونے کو آئی تھی۔۔
“اب دنیا جہاں کی خاک چھان لینے کے بعد آپ دونوں کی عقل ٹھکانے آگئی ہوگی۔۔ویٹ فار مئ۔۔۔”
اس نے سپیڈ اور تیز کردی تھی۔۔
وہ جیسے ہی اسٹیشن پہنچا تھا اسکے پہرہ دیتے آدمی یہاں وہاں کچھ تلاش کررہے تھے ڈر بھی رہے تھے نجیب کو دیکھ کر سب کے اوسان خطا ویسے ہی ہوگئے تھے
“کیا ہوا ہے۔۔؟ کیوں گھبرائے ہوئے ہو۔۔؟ کہاں ہے وہ دونوں۔۔؟”
نجیب گلاسزلگائے ان کے پاس آیا تھا اور سیدھا اس پلر کے پاس کھڑا ہوگیا تھا اب اس لکڑی کے بینچ پر وہ دونوں نہیں تھے۔۔
نجیب نے ایک نظر اس پلیٹ فارم کی طرف دیکھا جہاں سے ابھی ابھی وہ ٹرین گزر رہی تھی۔۔
اور کچھ سیکنڈ میں اس ٹرین کے جانے کے بعد وہ ہجوم بھی گھٹنے لگا تھا۔۔
وہ خاموشی سے وہاں بیٹھ گیا تھا۔۔۔ موبائل فرنٹ پاکٹ سے نکال کر سائیڈ پر رکھ دیا تھا اس نے۔۔
گھٹنوں پر دونوں بازوں رکھے ہاتھوں میں سر پھینک چکا تھا وہ۔۔۔
۔
“سر موسم بہت خراب ہورہا ہے بارش شروع ہوجائے گی ابھی گھر چلیں۔۔”
نجیب نے ایک نظر اپنے ہائر کردہ گارڈ کو دیکھا تھا اور اس نے گھبرا کر اپنا ہاتھ نجیب کے کندھے سے ہٹا کر خود کو بہت سٹیپ پیچھے کرلیا تھا۔۔۔
۔
“سب کے سب دفعہ ہوجائیں یہاں سے۔۔ اور میرے حکم کے باوجود جو لاپروائی برتی گئی ہے اپنی سزا بھی تم سب مجھے تجویز کرو گے۔۔”
“پر۔۔ سر ہم یہیں تھے وہ ایک دم آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔۔ وہ لوگ چھپ گئے تھے۔۔ اتنا ڈھونڈنے پر بھی نہ مل سکے۔۔”
“آؤٹ۔۔۔”
وہ گارڈ وہاں سے چلے گئے تھے اسے اکیلا چھوڑ کر۔۔
“نسواء۔۔۔ آپ جانتی ہیں مجھے ایک چیز ایک جذبے سے انتہا کی نفرت ہے۔۔
آپ نے وہی کیا۔۔۔ ‘بغاوت’ کرڈالی آپ نے۔۔”
بارش کی بوندیں جوں جوں اسکے کپڑوں کو بھگو رہی تھی وہ سٹریٹ ہوکر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا۔۔ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہ ریلوے ٹریک کی جگہ کو گھورنے لگا تھا جیسے اسے گماں ہو اپنی بیوی اور بیٹے کے کوٹ آنے کا۔۔
کچھ دیر مسلسل خالی جگہ پر دیکھنے کے بعد اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی ایک نئی۔۔ مسکراہٹ ایک شیطانی مسکراہٹ جو اسکے خوبصورت چہرے کو اور بھی حسین بنا رہی تھی
“نسواء یہ اختتام نہیں ہے واپس تو آپ کو آنا ہی ہوگا۔۔میں ڈھونڈ نکالوں گا۔۔ اور سب سے پہلا کام میں اسے بوڈنگ سکول میں ڈال کر کروں گا جس نےہمیں ایک ہونے سے روکا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا میں ہار نہیں مانوں گا ایک عورت سے۔۔؟؟ اپنی بیوی سے۔۔؟ آپ میری محبت سہی پر آپ گستاخ ہیں۔۔ بغاوت کی ہے آپ نے۔۔ جس کی سزا آپ کو ضرور ملے گی۔۔یاد رکھیئے گا۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہاں پر اور لوگوں کو رکھنے کی گنجائش نہیں ہے آپ اس ایڈریس پر چلی جائیں۔۔”
“مگر اب تو بہت رات ہورہی ہے آپ ہمیں ایک رات کے لیے یہاں رہنے نہیں دے سکتی۔۔۔؟؟”
نسواء نے پھر سے التجا کی تھی
“ہم بہت معذرت خواہ ہیں آپ اس ایڈریس پر چلی جائیں یہاں ابھی بھی کچھ جگہ خالی ہے۔۔”
گیٹ بند کردیا تھا انہوں نے نسواء کے منہ پر
“ماما یہ دوسری بار ایسا ہوا ہے۔۔”
مننان کے لہجے میں غصہ تھا جو نسواء محسوس کررہی تھی ان چار سالوں میں پہلی بار مننان اس طرح اذیت کے دن گزار رہا تھا اسکے ساتھ۔۔
پیدل چلنا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا بھوک برداشت کرنا۔۔
“بیٹا ایم سوری۔۔ بس اس ایڈریس پر پھر ہم کسی ہوٹل میں۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہی تھی جب پیچھے سے دو لوگوں کے چلانے کی آواز نے انہیں روک دیا
“لفٹ چاہیے میڈم۔۔؟؟’
“چلو بیٹا۔۔۔جلدی۔۔”
وہ مننان کا ہاتھ پکڑے تیز قدموں سے چلنا شروع ہوگئی تھی
“میڈم سنو تو سہی۔۔۔”
ایک آدمی نے نسواء کا ہاتھ جیسے ہی پکڑا تھا مننان نے غصے سے روڈ پر پڑے پتھر کو اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا تھا۔۔
“ہاتھ چھوڑو۔۔۔”
“پکڑو اس شیطان بچے کو۔۔”
اس نے دوسرے شخص کو بھی ایک پتھر اٹھا کر مارا تھا۔۔
وہ چھوٹا ضرور تھا مگر پچھلے چوبیس گھنٹوں نے اسکے دماغ کو کس قدر بڑا کردیا تھا یہ نسواء نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔۔
“بس کر دو مننان۔۔۔”
“نہیں ماما ان لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی۔۔”
اس نے ایک اور پتھر مارا تھا اس پر جو سر پر چوٹ لگنے سے نیچے گرگیا تھا
“کیا ہورہا ہے یہاں۔۔”
پولیس کی گاڑی بھی وہاں آپہنچی تھی۔۔
“بس بیٹا چھوڑ دو ۔۔۔”
مگر مننان نے پولیس کے سامنے ایک پتھر اٹھا کر اسے اور زخمی کردیا تھا
“یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔؟ اسے بھی گاڑی میں ڈالو۔۔۔آپ بھی چلئیے میڈم۔۔”
“یہ لوگ مس بی ہیو کررہے تھے ماما کے ساتھ۔۔ہم کیوں جائیں کہیں بھی۔۔”
“چلو ساتھ۔۔”
کانسٹیبل مننان کو زبردستی وین کی طرف لے جارہا تھا جب ایس ایچ او نے اسے روک دیا تھا مننان کی کہی ہوئی بات سن کر اس افیسر نے نسواء کی طرف دیکھا تھا اور پھر ان زخمی لوگوں کی طرف
“اس وقت کہاں جارہی تھی آپ۔۔؟”
نسواء کو مخاطب کرکے پوچھا تھا
جس پر اس نے وہ ایڈریس والی چٹ سامنے رکھ دی تھی
“ہمم۔۔آئیں ہم چھوڑ دیتے ہیں۔۔”
“میری ماما اس وین میں بیٹھ کر کہیں نہیں جائیں گی۔۔ ہم خود چلے جائیں گے۔۔”
“ٹھیک ہے آپ جاسکتے ہیں۔۔”
وہ سب حیران ہوئے تھے اس بچے کی باتیں سن کر جس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر نسواء نے اپنے پہلو میں چھپا لیا تھا
“آپ کو بہت شکریہ۔۔ ہم چلیں جائیں گے۔۔”
آفیسر نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ دونوں وہاں سے چل دئیے تھے۔۔ مگر پولیس وین انکے پیچھے پیچھے تھے۔۔۔جب تک وہ لوگ باحفاظت اس ایڈریس پر نہیں پہنچ گئے تھے”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب بیٹا نسواء کہاں ہے۔۔؟”
ماہ جبین نے اکھڑے اکھڑے لہجے میں پوچھا تھا۔۔ گھر میں سب ہی موجود تھے مگر نجیب کو اکیلا دیکھ کر سب ہی کے چہرے پر الگ الگ تاثرات امڈ آئے تھے کچھ خوش تھے نجیب کی انسلٹ پر تو کچھ اداس نسواء کے نہ آنے پر۔۔
سب سے زیادہ دادی اداس ہوئی تھی
“وہ نہیں آئی نہ۔۔؟ میں نے تمہیں شادی کرنے سے پہلے ہی روکا تھا نجیب بیٹا۔۔ تم نے ایک نہ سنی۔۔ دیکھو کیا ہوگیا ہے ایک بیوی کے لیے تم نے اپنے اتنے سال کے رشتے کو داؤ پر لگا دیا۔۔۔ اب بھگتو۔۔۔”
دادی کہتے ہوئے پیچھے مڑی تھی اپنے روم میں واپس جانے کے لیے۔۔
“دادی کس نے کہا میں بھگتوں گا۔۔؟؟ نسواء نے غلطی کی ہے وہ بھگتے۔۔ اور شاید بھگت بھی رہی ہوگی۔۔ میں خوش ہوں۔۔ کم سے کم میرے پاس چاہنے والی بیوی ہے۔۔
اسکے پاس کون ہے۔۔؟؟”
دادی نے پلٹ کر نجیب کی جانب دیکھا تھا جو مسکرا رہا تھا اپنی بات پر
“نجیب بیٹا سمجھ نہیں آرہا میں تم پر ہنسوں یا ترس کھاؤں۔۔؟ اسکے پاس وہ ہے جو تمہارے پاس نہیں۔۔ اس نے اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگایا جسے تم نے ٹھکرا دیا تھا ۔۔ اسکے پاس تمہاری پہلی اولاد ہے۔۔ تمہاری پہلی بیوی چلی گئی اور پہلی اولاد بھی۔۔ تم چاہے جتنا مرضی خوش ہوجاؤ۔۔۔ آج سے ایک سال پہلے نجیب شاید اب نہیں رہے۔۔”
وہ کہہ کر واپس جانے لگی تھی جب وہ پھر پلٹی تھی اور کچھ قدم کا فاصلہ ختم کرکے نجیب کے پاس کھڑی ہوگئی تھی اور اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا
“نجیب بیٹا۔۔ تمہارے لب مسکرا رہے ہیں مگر آنکھوں میں وہ چمک نہیں رہی ۔۔
تم خوش ہو۔۔؟؟ تو شکت کا درد کیوں جھلک رہا ہے چہرے پر۔۔؟؟
بیٹا مرد کی آنا برباد کرنے پر آئے تو گھر اجاڑ دیتی ہے۔۔ وقت رہتے سنبھل جاؤ۔۔ ورنہ وقت نہیں رہے گا نسواء کو منانے کا۔۔۔”
نجیب کا گال تھپتھپائے وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی تھی وہاں سب کو دنگ چھوڑ کر۔۔
وہ لوگ جو نجیب کو دیکھ رہے تھے اب سب اسکے چہرے پر اداسی دیکھ کر خاموش ہوگئے تھے۔۔
اور اپنے اپنے کمرے میں جانا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
۔
نجیب۔۔۔؟؟”
عمارہ کے منہ پر تو جیسے دنیا جہاں کی خوشی چھا گئی ہو۔۔۔ اس سب تماشے میں وہی سب سے زیادہ خوش ہورہی تھی۔۔
بنا محنت کئیے اسے اس گھر میں وہ سب مل گیا تھا جو نسواء کے ہوتے ہوئے شاید نہ ملتا۔۔
۔
“میں ابھی کمرے میں جانے کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔ لئیو مئ آلون۔۔۔”
نجیب عمارہ کے پاس سے گزر کر اوپر روم کی جانب بڑھا تھا۔۔
مگر اسکے اور عمارہ کے نہیں۔۔ اسکے اور نسواء کے روم میں داخل ہوتے ہی اس نے روم لاک کرلیا تھا اندر سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ یہاں رہ سکتی ہیں بیٹا۔۔ بس یہ فارم فِل کرلیں۔۔”
مننان بیڈ پر لیٹتے ہی سو گیا تھا نسواء کے کندھے پر سر رکھ کر
نسواء نے اس فارم اور اور پین کو ایک نظر دیکھا تھا۔۔ وہ پلکیں جھکا گئی تھی اندر ایک جنگ چھڑ گئی تھی۔۔ آنسو برابر بہنا شروع ہوگئے تھے آنکھوں سے۔۔ مننان کے اٹھنے کے ڈر سے اس نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا اور اسکی سسکیاں ایسے اس کمرے میں گونجی تھی۔۔
سامنے بیٹھی کئیر ٹیکر اس اورفینیج کی جو اس ماں کی بےبسی دیکھ کر خود بھی آبدیدہ ہوگئی تھیں
یہ انکے لیے کوئی نئی بات نہ تھی یہاں آنے والے لوگوں کو وہ ایسے ہی ٹوٹتے دیکھتی تھی
“بیٹا۔۔۔”
“آپ۔۔ میرے لیے یہ پُر کردیں گی۔۔؟؟ نہ میرے پاس۔۔ باپ کا نام ہے نہ ماں کا۔۔۔
اب۔۔۔۔ شوہر کا نام بھی نہیں رہا۔۔۔”
وہ جتنی بیچارگی سے ان خواتین کا ہاتھ پکڑ کر اپنی بےبسی بتا رہی تھی انہوں نے ہاں میں سر ہلایا تھا نسواء کے سر پر ہاتھ رکھ وہ اس کمرے سے چلی گئی تھی۔۔
۔
“نجیب آپ کو کیا ملا۔۔؟ ساتھ ساری زندگی کا تھا آپ نے اس ایک سال کو دیکھا۔۔ اور ان باقی سالوں کا۔۔؟ نجیب کیا کمی رہ گئی تھی۔۔؟ میں نے محبت میں تو کبھی کوئی کمی نہیں کی تھی۔۔۔ جسموں کی ہوس اتنی گہری ہوتی ہے کہ شادی شدہ زندگی کھا جائے۔۔؟”
۔
نسواء کو شاید معلوم نہ تھا اسکی آغوش میں سورہے مننان نے بند آنکھیں کھولی تو ماں کی طرف دیکھا تھا جو ابھی بھی منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان بیٹا۔۔ آپ بیٹھ جاؤ۔۔۔”
“نہیں ماما آپ کھانا بنائیں میں یہ برتن دھو دیتا ہوں۔۔”
ہاتھ سے برتن لئیے وہ سنک پر رکھ چکا تھا اور ایک سٹول پر کھڑا ہوکر کاؤنٹر پر بیٹھ کر اس نے وہ برتن دھونا شروع کردئیے تھے۔۔
وہ اداس ہوئی تھی مگر اپنے بیٹے کو محنت کرتے دیکھ اسکی آنکھوں میں خوشی بھی چھلکی تھی
“نسواء بیٹا۔۔ اس ٹیبل پر یہ مینو بھیجنا ہے اور اس ٹیبل پر یہ آرڈر۔۔۔”
“جی سر۔۔۔”
“بیٹا کتنی بار کہا ہے سر نہ بولو۔۔”
“ہاہاہا۔۔ ابھی ہم ریسٹورنٹ پر ہیں اور آپ اپنے شیف کے منہ سے انکل سننا چاہتے ہیں۔۔؟؟”
“ہاہاہا۔۔۔ ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں سر۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ تم دونوں سے کوئی جیت نہیں سکتا آرگومنٹ میں۔۔”
وہ کچن سے چلے گئے تھے تو نسواءاور مننان نے ہائی فائی کیا تھا دونوں ہاتھوں سے۔۔۔
پچھلے کچھ ماہ سے۔۔۔
۔
“بیٹا آپ یہیں رہو میں یہ آرڈر سرو کرکے آئی۔۔۔”
نسواء آپرون اتار کر باہر جانے لگی تھی۔۔۔ جب اس نے سامنے ٹیبل پر بیٹھے اس شخص کو دیکھا تھا۔۔۔
جس کے ساتھ وہی عورت بیٹھی تھی جس کی خواہش میں اسکی اور اسکے بیٹے کی زندگی گھر کی چار دیواری سے نکل کر یہاں آکر رکی تھی۔۔۔
“ویٹر۔۔۔”
وہ پلٹی تھی مگر نجیب کی آواز نے اسکے قدم روک دئیے تھے
“پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔”
وہ اپنے پیٹ پر رکھے خود کو روک رہی تھی اسی وقت مینیجر وہاں آگئے تھے
“کیا ہوا نسواء بیٹا۔۔؟؟”
“وہ پھر۔۔۔ واپس لوٹ آیا۔۔”
وہ ابھی بات کررہی تھی جب اس نے شیشے میں نجیب کو عمارہ کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے دیکھا۔۔ اور وہ جلدی سے دوسری جانب بڑھ گئی تھی
“نسواء۔۔۔ بیٹا کیا ہوا ہے۔۔”
نسواء کچھ کہنے کی کوشش میں تھی۔۔ جب کچھ ایسا ہوا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔
ایک دم سے اسکے سر میں ایک نئی درد شروع ہوگئی تھی۔۔
“کون واپس لوٹ آیا ہے نسواء۔۔۔؟؟”
نسواء کو الٹی آگئی تھی۔۔۔منہ سے نکلتے ہوئے خون کو ہاتھ پر دیکھ کر ایک سرد آہ نکلی تھی اسکے لبوں سے۔۔
“میرا۔۔۔ میرا کینسر۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔ وہ نجیب کی طرف بنا دیکھے واپس کچن کی طرف بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ اس سب میں اس نے ایک بار بھی اپنے پیٹ سے ہاتھ نہیں ہٹایا تھا۔۔۔
۔
“ماما۔۔۔ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟ بے بی ٹھیک ہے۔۔؟؟ آپ کے منہ سے خون کیوں نکل رہا ہے۔۔؟؟”
“کچھ نہیں بیٹا۔۔۔ مجھ سے۔ وعدہ کرو مجھے کچھ ہوگیا تو تم اپنے بہن/بھائی کا پورا خیال رکھو گے۔۔؟؟”
“ماما کیا ہوا ہے آپ کو۔۔”
“کچھ نہیں مننان بیٹا آپ باہر سے مس فردوس کو بلا لائیں۔۔۔ میں یہیں ہوں۔۔”
وہ مینیجر پاس بیٹھ گئے تھے۔۔
“بیٹا تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔ اس چھوٹے بچے کو اس عمر میں اتنے بوجھ تلے مت دباؤ۔۔”
“وہ اپنی ذمہ داریوں کو ابھی سے سمجھے گا تو سمجھائے گا۔۔۔ انکل۔۔ وہ میرا بہادر بیٹا ہے۔۔”
“ماما آپ کا بہادر بیٹا آپ کو کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔
