62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

“وہ تمہارا شوہر ہے وہ تمہیں نہیں سمجھے گا تو کون سمجھے گا۔۔؟ نسواء یہ بیماری کوئی عام بیماری نہیں ہے اس بیماری میں گھروں کے گھر اجڑتے دیکھے ہیں جانے والے کے بعد ایک دنیا مر جاتی ہے زندہ رہنے والوں کی۔۔”
پانی کا گلاس نسواء کے ہاتھ میں تھما کر انہوں نے کچھ ٹیبلیٹس بھی دی تھی جو کھانے کے بعد نسواء نے پانی کا سیپ لیا تھا
“تم نہیں سمجھ سکتی سحرش۔۔ وہ شخص جنون کی حد تک عشق کرتا ہے مجھ سے۔۔۔
نجیب کی محبت میں وہ شدت ہے کہ اپنے بیٹے کو بھی کبھی کبھی برداشت نہیں کرتے۔۔”
“ہاہاہا آہاں۔۔؟؟ بیڈروم معاملات تو بہت ڈسٹرب ہوئے ہوں گے۔۔؟؟”
ڈاکٹر دوست نے ٹیز کرتے ہوئے نسواء کا موڈ چینج کرنا چاہا تھا۔۔
“اس لیے تمہارے پاس آئی ہوں۔۔ مجھے اور میڈیسن دو جسے کھا کر اتنی انرجی آسکے کہ یہ بار بار سر درد نہ رہے۔۔ میں نجیب کو اور زیادہ خود سے دور نہیں کرسکتی۔۔
میں اس دوری میں اور پاگل ہورہی ہوں۔۔سو پلیز۔۔۔ کچھ اور بھی دو۔۔۔”
“نسواء۔۔۔ نسواء۔۔ریلیکس۔۔ یہ کینسر ابھی سٹارٹ ہے۔۔ جو علاج ابھی شروع کیا یہ تو کچھ بھی نہیں جو اذیت آگے جاکر مل گی تمہیں۔۔ اور تم کہہ رہی ہو ابھی سے بوجھ ڈال دوں دوائیوں کا۔۔؟؟ چندا ایسے نہیں ہوتا۔۔ اس لیے کہہ رہی ہوں نجیب بھائی کو بتا دو۔۔”
نسواء ہاتھ چھڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
“ایسا ممکن نہیں ہے ۔۔ تم اور باقی سب ڈاکٹرز مجھے یقین دلا رہے ہو تسلیاں دہ رہے ہوں مگر میں جانتی ہوں کہ اس میں سروائیو کے آپشن۔۔”
“شش۔۔۔ ہم کچھ ہفتوں میں اس پر قابو پالیں گے نسواء یہ مکمل جائے گا نہیں مگر یہ پھر اس طرح تنگ بھی نہیں کرے گا بس علاج پر گرفت مظبوط کرنی ہے ہم نے۔۔۔”
۔
سحرش سے کچھ دیر اور باتیں کرکے میں واپس گاڑی کی طرف آگئی تھی
اور اس دن گھر جانےکے بجائے میں نے نجیب کے دفتر کا راستہ لیا تھا۔۔
آج میں نجیب کو سرپرائز دینا چاہتی تھی۔۔مگر آفس جاکر پتہ نجیب اپنی سیکریٹری کے ساتھ لنچ پر گئے ہیں۔۔
مجھے پہلی بار اپنے پانچ سال کی شادی میں اپنے شوہر کی ذات مشکوک لگی مگر میں اس بات کو درگزر کرچکی تھی کیونکہ اس سب میں میری زات شرمندہ ہورہی تھی میں اپنے شوہر کے ساتھ زیادتی کررہی تھی۔۔
گھر جا کر میں سیدھا مننان کے روم میں گئی تھی وہ اپنے کھلونوں میں اتنا مصروف تھا کہ اسے میرے آنے کی خبر نہ ہوئی۔۔ پر ایسا مجھے لگا تھا۔۔ میں جیسے خاموشی سے اسکے بیڈ پر بیٹھی اسے گلے لگانے لگی تھی وہ پلٹ کر میرے گلے لگ گیا تھا۔۔
میرا بیٹا۔۔ میری زندگی۔۔۔ اتنی سی عمر میں اسے معلوم ہوجاتا تھا میں کب کمرے میں آئی ہوں کب کمرے میں گئی ہوں۔۔
مننان میں میری جان بسنے لگی تھی۔۔ دادی کہتی ہیں مننان کا بچپن نجیب جیسا رہا۔۔
اور انہوں نے تو یہاں تک کہا مننان نجیب کی چھوی بنے گا دیکھنے میں بھی اور شخصیت میں بھی۔۔
“دادی بس نجیب کی طرح بزنس مین نہ بنے۔۔ آپ نہیں جانتی نجیب کا وہ روپ اتنے سخت اور ظالم بزنس مین۔۔۔”
مجھے یاد ہے دادی بےساختہ ہنس دی تھی میرے ساتھ۔۔۔
۔
میں بس نجیب کے آنے کا انتظار کررہی تھی۔۔اور ساتھ ساتھ اپنی دوائیوں کو کھا کر وہیں مننان کو اپنے ساتھ سلائے لیٹ گئی تھی۔۔
۔
کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو خود کو نجیب کی بانہوں میں سوتے ہوئے پایا
“نجیب۔۔ آپ کب آئے۔۔؟”
“بس ابھی۔۔میں نے کتنی بار کہا ہے پورا دن جہاں مرضی گزارو مگر رات ہر رات تم مجھے ہمارے بیڈروم میں ملو نسواء۔۔”
“ہمم۔۔۔” نجیب کے سینے پر بوسہ دئیے میں آنکھیں بند کرچکی تھی نجیب کی انگلیوں کو اپنی کمر پر محسوس کرتے ہوئے میں نے وہ سوال پوچھا جو پوچھنے کے لیے بےچین ہوئی تھی
“آج آپ کہاں گئے تھے۔۔؟ آفس میں فون کیا تو نہیں تھے۔۔؟”
“میں کچھ کلائنٹس کے ساتھ کنسٹرکشن سائیڈ پر گیا تھا۔۔”
“ہممم۔۔۔”
جھوٹ۔۔ جھوٹ جب کسی رشتے میں آجائے تو سمجھ لیجئے رشتوں میں محبت کمزور پڑ گئی ہے۔۔
وہ دن تھا جس دن میں نے اپنے شوہر کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔۔
کیونکہ میں خود بھی پر امید نہیں تھی کینسر جیسی بیماری سے بچ نکلنے میں۔۔
۔
مگر اللہ کا کچھ اور ہی منظور تھا۔۔ جس دن سحرش نے مجھے گرین سگنل دہ دیا وہ دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا۔۔۔
مجھے یاد ہے جس دن میں ہاسپٹل سے گھر آئی تھی پورے مینشن کو سجے سنورے دیکھ میں دنگ رہ گئی تھی۔۔ جہاں تک مجھے یاد تھا آج کے دن کوئی تہوار کوئی فنکشن نہ تھا۔۔
جب میں ملازموں کے جھڑمٹ سے گزرتے ہوئے اوپر جانے لگی تھی اس وقت میری نظر دادی کے کمرے میں پڑی جو رو رہی تھی مجھے دیکھ کر۔۔
میں بیڈروم میں جانے کے بجائے سیدھا دادی کے کمرے میں گئی تھی
“دادی کیاہوا آپ اس طرح کیوں رو رہی ہیں۔۔؟ مننان ٹھیک ہے۔۔؟ آپ کو کچھ ہوا۔۔؟ کسی نے کچھ کہا۔۔؟؟”
دادی کا ہاتھ پکڑ کر میں انہیں انکے روم میں لے گئی تھی دادی کو جیسے ہی بیڈ پر بٹھا کر انکے پاس بیٹھی وہ میرے گلے لگ کر زاروقطار رونے لگی اور ایک ہی بات کہہ رہی تھیں وہ۔۔
۔
“اپنا گھر بچا لو بیٹا۔۔ بچا لو اپنے گھر کو۔۔۔”
“دادی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔؟ کیا ہوا ہے میرے گھر کو۔۔؟”
“نسواء۔۔ اپنے شوہر کو بچا لو۔۔ کسی تیسرے کو اپنا گھر برباد کرنے مت دینا۔۔”
اور جب میں نے انکی بات سن کر انکی آنکھوں میں دیکھا میں انکی آنکھوں میں دیکھ کر ایک بات سمجھ گئی تھی جو پچھلے کچھ ماہ سے نجیب کی لاپروائی مجھے سمجھانے کی کوشش کررہی تھی اور میں دوائیوں کے نشے میں ہر ایک ہنٹ کو درگزر کررہی تھی۔۔۔
“نجیب کہاں ہے۔۔؟؟”
میرے منہ سے بےساختہ نکلا تھا
“اوپر کمرے میں۔۔نسواء۔۔۔”
دادی روتے ہوئے میرے دونوں ہاتھوں کو اپنے ماتھے سے لگا چکی تھی
اب کے وہ درد جو دادی کی آنکھوں میں تھا وہ میرے دل میں ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔
چڑھتی ہوئی ہر سیرھی میرے قدموں سے جان نکال رہی تھی میں آج اپنے کمرے میں جاتے ہوئے ڈر رہی تھی گھبرا رہی تھی
میرا سانس ایسے آرہا تھا جیسے اب بند ہوجائے۔۔رئیلنگ کا سہارا لئیے میں میں اپنے بیڈروم تک پہنچ گئی تھی۔۔
۔
جب اندر داخل ہوئی تو دروازہ بند کئیے اس پر سر رکھ لیا تھا آنکھیں بند کرلی تھی
کیونکہ نجیب کے کپڑے بستر پر پڑے دیکھ لئیے تھے میں نے۔۔۔
مجھے دیکھتے وہ ایک ہی جملہ بولے تھے وہ جملہ جو کوئی بیوی کبھی نہ سننا چاہے گی۔۔
وہ جملہ جو آپ کے ہنستے بستے گھر کو آگ لگا دے اور کوئی آگ لگانے والے کو کچھ نہ کہہ سکے۔۔کچھ بھی نہ۔۔۔
“میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔ وہ میرا شرعی حق ہے نسواء آپ مجھے روک نہیں سکتی۔۔”
دل میں ہزار گلے شکوے تھے۔۔ہزار باتیں تھی پر میں اپنے شوہر نامدار کا چہرہ تکتی رہ گئی تھی۔۔
میری زندگی کے پانچ سال جو میں نے اس شخص کے ساتھ گزار دئیے مجھے جہاں جس راستے چلایا گیا میں چلتی رہی۔۔
نجیب نے دن کو رات کہا تو میں نے رات سمجھا۔۔۔ رات کو صبح کہا تو میں نے صبح سمجھا۔۔
میں نے ان پانچ سالوں میں کبھی کسی ایک بات کے لیے نجیب کو انکار نہ کیا۔۔
ااور جب نجیب نے کہا میں اانکے حقوق انہیں نہ دے پائی تو میری زبان پر میری بیماری آتے آتے رہ گئی۔۔
کیا میاں بیوی کا رشتہ بستر کی ان چادروں تک مقیم رہتا ہے ۔۔؟
وہ سوال جو میں خود سے پوچھ رہی تھی میں اس پل نجیب سے پوچھنا چاہتی تھی۔۔
مگر میرے شوہر کا خوبصورت چہرہ مجھے سب کچھ ہی بھلا چکا تھا۔۔۔
نجیب کو اپنے حصار میں لئیے انکی گردن پر میں نے جیسے ہی اپنے ہونٹ رکھے تھے نجیب کے پاؤں کمرے سے باہر جاتے رک گئے تھے۔۔۔
اور اس دن ہماری شادی میں پہلی بار میں نے اپنی محبت قسمیں اور وعدوں سے زیادہ اپنے وجود کو اپنے شوہر کے سامنے پیش کردیا۔۔
اپنی عزت نفس کو۔۔ اپنی آنا کو ۔۔۔ وہ محبت بھرے کچھ گھنٹے نجیب کی بانہوں میں گزرے تو یقین ہوا کہ میں نے واپس پا لیا اپنے شوہر کو۔۔۔
نجیب کے سینے پر سر رکھے ایک گہری نیند سو چکی تھی میں۔۔
اس بات سے بےخبر کہ میں لڑنے سے پہلے ہی ہار گئی تھی۔۔۔
خود کو تنہا پایا اس بستر پر تو اپنا وجود کسی بازاری عورت سے کم نہیں لگا تھا مجھے۔۔۔
اس بستر کے کور میں خود کو لپیٹے باتھروم کے شاور میں خود کو اس شیشے میں دیکھ رہی تھی اپنے آپ سے ایک عجیب سے نفرت ہونے لگی تھی مجھے۔۔
کیوں۔۔؟؟ میں نے اپنے شوہر کو اپنا آپ سونپا تھا تو کیا ہوا اگر وہ مجھے بازاری بنا گیا۔۔؟
میں اپنے ہی جواب سے مطمئن نہیں تھی کیوں۔۔؟؟
یا اللہ کیوں۔۔۔ اللہ میں تو پچھلے دو سال سے اس بیماری کی اذیت میں تھی۔۔
اللہ میں نے کسی نامحرم کو نہیں دیکھا بات نہیں کی چاہت نہیں کی۔۔
اللہ میں نے بس اپنے شوہر کو سب سمجھا۔۔۔ اللہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔۔؟؟ پہلے وہ بیماری اور پھر شوہر کی بیوفائی۔۔؟؟ اللہ کیسے برداشت کرسکوں گی میں۔۔
بیماری تو سہہ گئی پر سوتن۔۔؟؟ اپنے رشتے میں شراکت۔۔؟؟
اللہ ایسا کیوں ہوا۔۔؟؟
میں نے اس دن پہلی بار اپنے رب سے شکوے کئیے شکایتیں کی کسی نا سمجھ بچے کی طرح۔۔۔
باتھروم کے وال کے ساتھ ٹیک لگائے کتنے گھنٹے میں روتی رہی۔۔ کبھی اپنی قسمت پر تو کبھی ہمارے رشتے کے نصیب پر۔۔اور کبھی اپنے مننان پر۔۔۔
۔
وہ کچھ دن عذاب تھے۔۔ میں اور میرا بیٹا ایک کمرے میں بند ہو کر رہ گئے تھے۔۔
میں نجیب سے زیادہ اس فیملی پر ناراض تھی جو بار بار مجھے آکر کہہ رہے تھے کہ میں سواغت کروں نجیب کی دوسری بیوی کا۔۔
وہ ایک بہو کی ذمہ داریاں بتا رہے تھے مگر ایک بیوی کے ارمان کچل کر وہ مجھے نصیحتیں کررہے تھے
انہیں معلوم نہ تھی میں نجیب کی بیوی ہی نہیں انکے بچے کی ماں بھی ہوں انکی محبت بھی ہوں۔۔
میں کیسے شراکت برداشت کرلیتی۔۔۔
۔
اس رات کے بعد میں نے خود کو مننان کے روم میں شفٹ کرلیا تھا۔۔۔میرا بیٹا۔۔
جو اتنا معصوم تھا پھر بھی اتنے معلوم تھا میری آنکھوں کے آنسو پونچھنا۔۔
میرا مننان۔۔۔
اپنے شوہر کو نکاح کے دن میں نے اتنا خوش دیکھا تو وہ بیوی جو اس امید میں تھی کہ اسکا شوہر ایک بار اسکی محبت میں پشیمان اسے منانے ضرور آئے گا مگر وہ شوہر نہ آیا۔۔
وہ شوہر اپنی دوسری بیوی کے ساتھ اتنے گھنٹے گزارنے کے بعد جب میرے سامنے آیا تو۔۔۔ میرے لب خاموش تھے۔۔ میری آنکھیں بیان کررہی تھی میرا درد۔۔۔
مگر وہ بےدرد جانے کیوں اتنا ظالم بن گیا تھا۔۔ جو اپنی ہی بیوی کا ہاتھ پکڑے ساری محفل میں اسے بے آبرو کرچکا تھا۔۔وہ حقوق جو بند کمروں میں رہنے چاہیے تھے وہ اس شخص نے دس لوگوں میں بیان کرکے میری عزت نفس کا اندر تک ڈیمیجڈ کردیا تھا
وہاں بھی نجیب کا غرور کم نہ ہوا تو ہمارے بیٹے پر الزام لگا دیا۔۔
کیسے کوئی مرد اپنی ہی اولاد کو قصور وار ٹھہرا سکتا ہے۔۔؟
۔
اس دن میں نے عورت کو ہی دوسری عورت کو چپ کرواتے ہوئے اسے دباتے ہوئے دیکھا تھا۔۔ اور پھر میری نظر اس نئی نویلی دلہن پر پڑی تھی میرے شوہر کی دوسری بیوی میرے شوہر کی سیکریٹری۔۔۔ کتنا نکھار دیا تھا اسے میرے نجیب کی محبت نے۔۔
کہاں غلط ہوتی ہے بیوی۔۔؟ کہاں بدگماں ہوجاتا ہے شوہر۔۔؟
کہاں رشتہ خراب ہوتا ہے۔۔؟؟ کہاں موقع دیتی ہے بیوی کہ شوہر سوتن لے آئے۔۔؟
وہ مجھے اس لمحے میرے حال پر نہیں چھوڑ رہے تھے وہ مجھے اپنی زندگی سے اپنے گھر سے نکال رہے تھے تاکہ میں ررینگتے رینگتے واپس انکے قدموں میں آؤں اور اپنا لوں اس عورت کو جس نے میرا شوہر چھین لیا مجھ سے۔۔؟؟
نہیں تھا اتنا ظرف نہیں تھی نسواء اتنی مظبوط۔۔۔
نسواء بہت کمزور تھی اس لیے تو شوہر کو واپس نہ پا سکی۔۔۔
اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑے میں اپنے سسرال سے نہیں اس جنت سے باہر نکالی گئی تھی جسے میں نے سینچا تھا مجھے نہیں پتہ تھا اتنی محبت اتنے سالوں کی محبت بھی نہیں دیکھتے مرد جب ظالم بننے پر آجائے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بیک ٹو پریزنٹ”
۔
ماما۔۔۔واااوووو اتنی مزیدار خوشبو آرہی ہے آج کیا سپیشل بن رہا ہے ۔۔۔”
حورب کچن میں داخل ہوتے ہی شاک ہوئی جب اس نے اپنی ماں اور بڑے بھائی کو ایک ساتھ کوکنگ کرتے ہوئے دیکھا۔۔
“ڈبل واووو۔۔۔ آج کیا کوئی سپیشل اکیژن ہیں۔۔؟؟ “
“آج ہماری گڑیا کا برتھ ڈے ہے۔۔۔”
وہ دونوں سائیڈ پر ہوئے تو کیک پر حورب کی نظر پڑی وہ دونوں کے گلے لگی تھی بھاگتے ہوئے۔۔
“سیریسلی۔۔؟؟ میں پورا دن ایویں ہی دیوداس بنے گھوم رہی تھی کہ آپ دونوں کو میری سالگرہ یاد نہ رہی۔۔۔”
حورب کی آنکھیں صاف کرکے نسواء نے اسکے ماتھے پر بوسہ لیا تھا۔۔
“بس بیوٹیفل لیڈیز بس چلیں کیک کاٹے۔۔”
ڈائننگ ہال میں جیسے ہی وہ دونوں آئے تھے حورب کو لیکر سب ملازم اور ورکز پہلے ہی سجے ہوئے ٹیبل کے پاس تھوڑا پیچھے کھڑے تھے۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے مس حورب۔۔۔”
“چلو بیٹا کیک کاٹ لیتے ہیں۔۔۔”
مننان جیسے ہی سامنے آیا تھا ملازم ڈر کے پیچھے ہوئے تھے۔۔اور نسواء نے مننان کو آنکھوں سے اشارہ کیا تھا جس کے بعد اسکے چہرے پر تھوڑی سی مسکان آئی تو اس نے تمام ملازمین کو آگے آکر حورب کو وش کرنے کی پرمیشن دی تھی۔۔۔
“پہلے ڈرا دیتے ہیں بھائی پھر کہتے ہیں آگے آجاؤ۔۔۔ماما دیکھا نہ آپ نے۔۔آؤچ۔۔۔”
حورب کا کان جیسے ہی کھینچا تھا اس نے نسواء دونوں کو ایک دوسرے سے پیچھے کردیا تھا
“ماں آپ نے دیکھا کیسے ٹانگ کھینچ رہی۔۔”
“آپ کی اتنی بڑی ٹانگ کیسے کھینچ سکتی ۔۔ ماما اتنے بڑے کیوں ہو گئے ہیں یہ۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا ہاں اب تو میں بھی کندھے سے نیچے ہی آتی ہوں۔۔۔”
نسواء اور حورب نے جیسے ہی پوائنٹ آؤٹ کیا تو مننان کے چہرے پر بےساختہ ہنسی آگئی تھی
۔
کیک کاٹنے کے بعد حورب نے سب سے پہلے نسواء کو دیا تھا اور پھر مننان کو۔۔ اور پھر مننان نے ہلکی سی بائٹ نسواء کی طرف کی تھی۔۔ ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد اس نے اپنے گلے سے لگا لیا تھا اپنی ماں کو۔۔۔وہ ایسے ہی تھا کوئی موقع نہیں چھوڑتا تھا ماں کی آغوش میں اسے سکون ملتا تھا اسکا بےچین دل چین پا لیتا تھا۔۔
“ویسے کتنے بڑے ہوگئے ہو۔۔؟؟”
نسواء نے سر اٹھا کر مننان کے چہرے کی جانب دیکھا تھا اپنے جوان بیٹے کو پورے جوبن میں دیکھے اسکو ایک ہی چہرہ نظر آتا تھا کبھی کبھی ۔۔۔
اور وہ اسکے شوہر کا چہرہ تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک پیک چاہیے۔۔بس ایک ڈوس۔۔”
“اور جو پچھلے ہفتے دی تھی اسکا کیا۔۔؟ ہر روز شزا ایسے نہیں چلے گا۔۔”
“پلیز ہانی بس آج دہ دو۔۔۔”
“یہ لاسٹ ہے۔۔ اگر تم نے پیسے نہ دئیے تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔۔ جس سے مال میں لیتی ہوں وہ اور ادھار نہیں کریں گے۔۔۔”
اس نے بیگ سے وائٹ پیکٹ کاغذ میں چھپائے شزا کے ہاتھوں میں تھما دیا تھا
“آئی لوو یوو۔۔ ہانی ۔۔”
وہ اس پیکٹ کو لیکر کوریڈور سے باتھروم کی طرف جانے لگی تھی جب ہانی نے اسے روک لیا تھا
“خبردار جو تم نے کالج میں یہ حرکت کی آگے ہی پرنسپل کو شک ہوگیا ہے مجھ پر اگر تم نشے میں دھت کہیں گری پڑی ملی تو رسٹیکیٹ کردیں گے ہمیں۔۔”
وہ اسے زبردستی پکڑ کرلے جانے لگی تھی جب شزا نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا
“تمہیں پتہ نہیں ہے میں کون ہوں۔۔؟؟ میں نجیب آفندی کی اکلوتی بیٹی ہوں کس میں اتنی ہمت ہے کہ مجھے نکالے۔۔؟؟ میرے پاپا ٹرسٹی ہیں اس انسٹیٹیوٹ کے۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ تم امیر باپ کی بیٹی ہوگی پر میں نہیں ہوں شزا ضد مت کرو ورنہ کھینچ لوں گی۔۔”
“اوکے اوکے سوری۔۔۔ سوری۔۔۔ میں گھر جا کر لے تو لوں مگر وہ بڈھی دادی ہر وقت سر پر سوار رہتی ہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔تمہاری موم کس لیے ہیں۔۔؟؟”
“انکی تو بات ہی نا کرو۔۔ وہ ہوں اور ماہیر بھائی۔۔ ان دونوں کو کوئی یاد بھی ہے۔۔”
شزا سگریٹ جلائے خالی کلاس روم میں چلی گئی تھی ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماہیر بیٹا ایک بار آفس چلے جاؤ بس ایک بار۔۔ نجیب کا غصہ کم ہوجائے گا۔۔”
“آپ کو ان کی اتنی پرواہ کیوں ہے۔۔؟؟ آپ جانتی بھی ہیں کہ وہ کیا گل کھلا رہے ہیں۔۔؟؟”
“میں کچھ سننا نہیں چاہتی وہ کیا کرتے ہیں کیا نہیں۔۔”
عمارہ چہرے کے آنسو صاف کئیے منہ پھیر چکی تھی
“آپ کو معلوم ہے ان کا آفئیر چل رہا ہے۔۔؟ شزا کی عمر کی لڑکی ہے
آپ جانتی ہیں وہ کتنی زیادتی کررہے ہیں آپ کے ساتھ۔۔۔؟؟ کتنے سال پہلے انہوں نے آپ کا ہاتھ پکڑا روم شئیر کیا آپ کے ساتھ موم۔۔؟ بچپن سے آپ کو الگ کمرے میں دیکھتا آرہا ہوں۔۔کیا مل رہا ہےبرداشت کرکے۔۔؟؟”
عمارہ کو صوفہ پر بٹھا کر وہ جیسے ہی سامنے بیٹھا تھا عمارہ سر جھکا چکی تھی
“تم نہیں سمجھو گے۔۔ اس گھر میں نجیب کی حکومت تم نہیں سمجھو گے۔۔۔
اور میرے اور نجیب کے درمیان جو دوریاں ہیں وہ ہمارا پرسنل میٹر ہے ماہیر۔۔
تم بیچ میں نہ آؤ تو بہتر ہے۔۔”
وہ ماہیر کا ہاتھ جھٹک کر کمرے سے جانے لگی تھی جب ماہیر نے اپنا فائنل فیصلہ سنا دیا تھا
“تو میں بھی پابند نہیں ہوں آپ کا۔۔ آئندہ آپ بھی میری زندگی میں دخل مت دیجئے گا۔۔۔”
“نجیب تمہارا خرچہ بند کردیں گے ماہیر۔۔ تم اپنے باپ کو نہیں جانتے۔۔”
“ہاہاہا وہ مجھے نہیں جانتے موم۔۔ میں بھی ان کا ہی خون ہوں۔۔۔ اوقات یاد دلا دوں گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء میم۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔؟؟”
منیشہ نے وہ تمام نیوز پیپرز سامنے رکھتے ہوئے پوچھا تھا
“منیشہ ابھی نہیں بس مسٹر عثمان سے کہیں کانفرنس روم ریڈی کریں کچھ امپورٹنٹ کلائنٹ آرہے ہیں اور مننان کو بھی انفارم کردیں آج کی میٹنگ میں بریفنگ وہ دیں گے اور۔۔۔”
بات کرتے کرتے نسواء کی نظر سب سے اوپر والے نیوز پیپر پر پڑی تھی۔۔۔
۔
“سب نوٹ ڈاؤن کرلیا ہے اب میں پوچھ لوں کہ آپ سب کنٹریز کے نیوز پیپرز کیوں منگواتی ہیں۔۔؟؟”
منیشہ نے وہ بات پوچھ ہی لی تھی جس کا جواب نہیں دیا تھا نسواء نے اسکی نظر ایک مخصوس کاغذ کے ٹکڑے پر تھی جس میں بڑی سی تصویر تھی۔۔۔ اس شخص کی جسے دیکھے ایک عرصہ ہوگیا تھا۔۔
مگر پہلو میں ایک نیا چہرہ دیکھ کر نسواء کے لبوں پر ایک ہنسی چھا گئی تھی۔۔۔
۔
“اب آپ اتنا نیچے گر گئے ہیں کہ بیٹی کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ آفئیر چلا رہے ہیں۔۔؟؟”
“میم۔۔۔؟؟ کب سے بول رہی ہوں آُ سن رہی ہیں۔۔؟؟ کیا میں زیادہ بولتی ہوں۔۔؟
آپ کو پتہ ہے مننان سر نے مجھے کہا ہے میری سیلری ڈبل کردیں گے اگر میں انکے سامنے چپ رہا کروں گی۔۔
اب بھلا کوئی انہیں بتائے چند ہزار روپے کے لیے میں اپنی زبان کیسے بند کرلوں۔۔؟؟”
وہ بڑبڑا رہی تھی جب نسواء نے ہنستے ہوئے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
“مننان نے زیادہ پریشان تو نہیں کیا۔۔؟؟”
“سیریسلی ماں۔۔۔؟؟”
مننان کیبن میں داخل ہوا تھا ایک نظر غصے سے منیشہ کو دیکھا تھا جو نسواء سے ایکسکئیوز کرکے وہاں سے بھاگ گئی تھی
مننان کو دیکھتے ہی وہ نیوز پیپرز جلدی سے چھپا دئیے تھے دراز میں۔۔۔
“ماں آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔”
“ہاں بیٹا کیا بات ہے۔۔؟؟ یہاں آکر بیٹھو۔۔۔”
وہ خود بھی اٹھ کر سامنے کاؤچ پر بیٹھ چکی تھی
“ماں آپ کو یاد ہے میں نے کہا تھا میں نیو کمپنی لانچ کرنے جا رہا ہوں۔۔”
“ہمم میں جانتی ہوں ۔۔۔کوئی بھی انویسٹمنٹ چاہیے یا۔۔”
“ماں۔۔ میں پاکستان میں کمپنی لانچ کرنا چاہتا ہوں۔۔”
نسواء کی بات کو ٹوک دیا تھا مننان نے
“مننان بیٹا۔۔ یہ یہ نہیں ہوسکتا۔۔”
“کیوں نہیں ہوسکتا ماں۔۔؟ کتنی کنٹریز میں ہماری کمپنی آفس کو لانچ کیا تو وہاں کیوں نہیں جہاں سے ہم آئے ہیں۔۔”
نسواء نظریں چرا گئی تھی اتنے سالوں میں بھی کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا تھا اسکا اسکے بیٹے کے ساتھ ان دونوں نے کبھی اس شخص کے بارے میں اس زندگی کے بارے میں بات ہی نہ کی تھی۔۔ نہ مننان نے کبھی سوال کیا نہ نسواء کے کبھی جواب دیا تھا۔۔
اور حورب نے جب پوچھنا چاہا مننان نے ہمیشہ اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیا۔۔
وہ اپنے بچوں کو ایک ہی بات کہتی تھی کہ وہ کافی ہے انکے لیے۔۔۔
“ماں آپ نے میرے کبھی کسی فیصلے کو رد نہیں کیا پلیز اس کو بھی نہ کریں میں واپس جانا چاہتا ہوں۔۔”
“تم واپس نہیں جاؤ گے ہم واپس نہیں جائیں گے۔۔۔”
“کیوں اس شخص کی وجہ سے آپ مجھے رد کررہی ہیں۔۔ آپ کو ڈر ہے وہ ایک بار پھر سے ہمیں برباد کردیں گے۔۔؟؟ ماں وہ شخص اب ایک بال بھی نہیں کھاڑ سکتے ہمارا۔۔وہ۔۔”
نسواء کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“وہ شخص باپ ہے تمہارا۔۔ فارگوڈ سیک۔۔۔ آج کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔؟؟ یہ تربیت کی تھی میں نے۔۔؟؟ مننان۔۔۔”
“وہ میرا باپ نہیں ایک ظالم شوہر ہے جس نے اپنی بیوی پر سوتن لا دی۔۔ اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔۔۔ وہ شخص میرا دشمن ہوسکتا ہے پر باپ نہیں۔۔۔”
نسواء کا پھر سے ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔ اور وہ روتے ہوئے اپنے ہی کیبن سے نکل گئی تھی اور پھر آفس سے باہر چلی گئی تھی
“ماں۔۔۔۔”
مننان بھی کیبن سے باہر بھاگا تھا سٹاف جو نسواء کو اس حالت میں دیکھ کر رک گیا تھا وہ سب مننان کو دیکھ کر پھر سے اپنے اپنے کام پر لگ گئے تھے مننان کے غصے کا شکار سب ہی ہوچکے تھے اور اب دور سے ہی مننان کی آمد پر سب ڈسپلین فارم میں ایکٹو ہوتے تھے۔۔۔
۔
“ماں۔۔۔”
نسواء کی گاڑی تیز سپیڈ میں آفس پارکنگ سے گزر گئی تھی
“ڈیم اِٹ۔۔۔پیچھے جاؤ۔۔۔ اکیلا مت چھوڑنا۔۔”
نسواء کے سیکیورٹی گارڈ کو آرڈر دے کر اس نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہاں وہاں دیکھا تھا۔۔۔
“پاکستان تو میں ضرور جاؤں گا۔۔۔ نجیب آفندی کو بتانے کے بزنس ورلڈ میں انکی برابری کا انکا رائیول آچکا ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں آپ کا سایہ اپنے بچوں پر پڑنے نہیں دوں گی نجیب۔۔۔ مننان کبھی بدلے کی آگ میں نہیں جلے گا۔۔ میری بیٹی کبھی باپ کا ایسا روپ نہیں دیکھے گی جو آج میں دیکھ چکی ہوں اس نیوز پیپر میں۔۔۔”
وہ اور سپیڈ تیز کرچکی تھی گاڑی کی۔۔۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے
وہ حیران تھی آج مننان کے منہ سے بولے جانے والے الفاظ پر اتنے سال سے وہ جب کوشش کرتی تھی مننان سے بات کرنے کی مننان ٹال جاتا تھا۔۔
مگر آج نجیب کو لیکر جو باتیں اس نے کی نسواء کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنی نفرت کیسے ہوگئی اسکو نجیب سے۔۔۔
“میں نے تو ہر بات پر اپنے بچوں کی تربیت اس تربیت سے الگ کی جو نجیب اور انکی فیملی نے بچوں کو دینی تھی۔۔
میں ایسے منافقت سے بھرے لوگوں میں کیسے رہنے دیتی اپنی بچوں کو۔۔؟؟
میں ہوس پرست اس شخص کا سایہ کیسے حورب پر برداشت کرتی۔۔؟؟ وہ کبھی باپ کہلانے کے قابل نہیں ہیں۔۔۔ اگر باپ ہیں بھی تو دوسری بیوی کے بچوں کے۔۔۔
میرے بچوں کو ایسا باپ نہیں چاہیے۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تھا۔۔۔ وہ غصے میں اتنی پاگل ہوچکی تھی کہ سامنے آتے ٹرک کی طرف اسکا دھیان نہ جاسکا۔۔۔
اس سے پہلے اسکی گاڑی اس کے ساتھ ٹکراتی پیچھے سے گارڈ کی گاڑی نے نسواء کی گاڑی کو ٹکر مار کر دوسری طرف کردیا تھا۔۔۔ اور سامنے گاڑی کو بچانے کے لیے ٹرک نے عین اسی سائیڈ پر ٹرن لیا تھا جہاں گاڑی کو ٹکر ماری تھی گارڈ نے۔۔۔ اور نسواء کی گاڑی اس ٹرک سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔
۔
“یو باسٹرڈ۔۔۔”
مننان کی آواز ایسے گونجی تھی دو گاڑیاں اس وقت بری طرح ٹکرائی
وہ اپنی چلتی گاڑی سے اترا تھا اور جس طرح اسکی گاڑی کے سٹئیرنگ چھوڑے تھے اس نے وہ وہاں گارڈز کی دوسری گاڑی سے جاٹکرائی تھی
اور وہ بھاگتے ہوئے اپنی کی گاڑی کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
“ماں۔۔۔ ماں۔۔۔ماں۔۔۔”
گاڑی کا بونٹ مکمل طور پر ڈیمیجڈ ہوگیا تھا اس نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ جیسے ہی کھولا تھا نسواء کا سر مننان کے کندھے پر آگر تھا
“ماں۔۔۔ماں آنکھیں کھولیں۔۔۔پلیز ۔۔”
اس نے نسواء کو جیسے باہر کھینچنے کی کوشش کی تو بےہوشی کی حالت میں بھی نسواء کے لبوں سے آہ نکلی تھی۔۔۔
ریسکیو کو بلاؤ۔۔ مشینری بلاؤ۔۔۔ ایسے باہر نہیں نکالا جائے گا۔۔ انکی ٹانگیں د چکی ہیں
جلدی کرو۔۔ جلدی۔۔ خون بہت بہہ چکا ہے۔۔۔”
وہ چلا رہا تھا ۔۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہہ رہے تھے۔۔۔
کچھ منٹ میں وہاں ہیلپ پہنچ چکی تھی۔۔ کچھ اور منٹ میں نسواء کو سٹریچر پر لٹا دیا گیا تھا
اور وہ ایمبولینس سیدھا حورب کے ہاسپٹل کی جانب بڑھی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تھینک یو سو مچ مسٹر متین۔۔ہمیں خوشی ہوئی یہ ڈیل سائن ہوئی آفٹر آل آپ کی کمپنی کے ساتھ اور بھی ڈیلز بہت کامیاب رہیں ہیں۔۔۔”
وہ کلائنٹس سے باتیں کررہی تھی حذیفہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جو ویل چئیر پر آنے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔۔ پچھلے دو ماہ وہ سامنے بیٹھی اس عورت کو دیکھ رہا تھا جس نے ایک خاص مقام بنا لیا تھا اسکے دل میں۔۔
“مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی آپ دونوں کو ساتھ دیکھ کر۔۔”
مسٹر متین کی بات پر جہاں نسواء شاک ہوئی تھی وہی حذیفہ ہنس دیا تھا
“بس دعا کریں سب سے پہلے آپ کا ہی منہ میٹھا کرواؤں گا۔۔۔”
حذیفہ نے آہستہ آواز میں مسٹر متین کو کہا تھا جس کی بات سن کر نسواء نے آنکھیں دیکھائی تھی۔۔
تھوڑی دیر میں مسٹر متین چلے گئے تھے اور وہ دونوں بھی۔۔ نسواء کی پرائیویٹ سرونٹ جیسے ہی ویل چئیر کا ہینڈل پکڑنے لگی تھی حذیفہ نے روک دیا تھا۔۔
“کیا کچھ دیر آپ سے بات نہیں ہوسکتی نسواء۔۔؟؟”
“میں جانتی ہوں آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔۔”
“صرف ایک ڈنر۔۔ اسکے بعد میں واپس چلا جاؤں گا۔۔”
“اتنی جلدی۔۔؟؟ مننان کی برتھ ڈے آرہی ہے رک جاتے۔۔۔”
وہ باتیں کرتے کرتے لیفٹ کے سامنے آ گئے تھے عین اسی وقت حذیفہ کو کسی کی کال آگئی۔۔۔
“امی کی کال آگئی بس ایک منٹ۔۔۔”
وہ جیسے ہی وہاں سے دور گئے تھے ایک اور شخص اسی جگہ آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔ جس کا پہلے دھیان اپنے موبائل کی طرف تھا۔۔
اور جب نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ حیران رہ گیا۔۔۔
۔
۔
“نسواء نجیب آفندی رک جاؤ وہیں۔۔۔”
نجیب کی اونچی آواز نے اسکے وجود کو پتھر بنا دیا تھا اس وقت۔۔۔
اسکی بیک نجیب کی طرف تھی۔۔۔ اور سامنے لگے ہوئے لفٹ کے شیشے میں اسے نجیب کا وجود جیسے ہی نظر آیا تھا اسکی گرفت مظبوط ہوگئی تھی اس ویل چئیر پر اور اس نے ایک بٹن سے چئیر کو سٹارٹ کردیا تھاابھی بھی اسکی بیک نجیب کی طرف تھی وہ لفٹ بند ہونے لگی تھی جب نجیب نے اپنے شوز سے اسے روک دیا تھا اور ڈور پھر سے اوپن ہوگیا تھا اسکا۔۔۔
“مجھے لگا تھا آپ دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو گئی ہوں گی۔۔۔
مجھے لگا تھا کہ آپ مجھ سے جدا ہوکر کوئی بہت ہی اچھی زندگی گزار رہی ہوں گی
مجھے لگا تھا کہ مجھے ٹھکرا کر آپ نے خود پر بہت احسان کیا ہوگا۔۔۔
مجھے لگا تھا نسواء الگ ہونے کا فیصلہ کسی ٹھوس وجہ پر لیا ہوگا۔۔
سوچ رہا تھا کہ اتنے سال میں ایک بار آپ میرے در پہ آئیں گی یا چھت کی بھیک مانگیں گی یا مننان کی اچھی زندگی کے لیے چند روپے۔۔۔
اور جب آپ نہیں آئی تو میں اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگیا تھا کہ زندگی گلزار رہی ہوگی اس لیے آپ کو میری ضرورت محسوس نہ ہوئی۔۔۔
مگر یہ کیا۔۔۔؟؟ آپ معذوروں کی طرح اس ویل چئیر کے سہارے اس حال میں اس ہوٹل کی لوبی میں تنہا۔۔۔؟؟
معلوم ہوتا ہے کہ شوہر سے جُدا ہوکر زندگی نے آپ کو آپ کی حیثیت بتا دی نئی۔۔۔؟؟”
ویل چئیر کے ہینڈل جیسے ہی پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔وہ دونوں سائیڈ پر ہینڈل رکھ کر نسواء کے چہرے کی طرف جھکا تھا۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
نسواء کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ گھٹنوں کے بل رک گیا تھا۔۔اتنے سالوں کے بعد وہ غصہ بھی تھا اور ناراض بھی۔۔ وہ خوش بھی تھا اور اداس بھی۔۔۔
نسواء کے چہرے کی خوبصورتی وہی رونق دیکھ کر اسکے دل میں ایک چبھن ہوئی تھی۔۔
یہاں وہ اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہورہا تھا ۔۔۔
“میرے بغیر زندگی کا مزہ چکھ لیا نسواء آپ نے۔۔؟؟ دیکھیں کیا حالت ہوگئی ہے۔۔
معذور ہوگئی ہیں آپ۔۔؟؟ اور کہاں ہے وہ آپ کا بیٹا۔۔؟ جس اولاد کے لیے اپنے شوہر کو ٹھکرا دیا۔۔ اب کہاں ہے وہ اولاد۔۔۔؟؟ اب تو سمجھ جائیں کہ اولاد ساری زندگی ساتھ نہیں رہتی میاں بیوی رہتے ہیں۔۔۔”
“میاں بیوی۔۔؟؟ لیکچر اچھے دیتے ہیں آپ مسٹر نجیب۔۔۔
وہ شوہر جو جسموں کی ہوس میں اس قدر آگے نکل گیا کہ اسے سمجھ نہ آئی کہ وہ کسی عورت کو اپنی بیوی کی برابری پر لے آیا تھا۔۔؟؟
شوہر۔۔؟؟ خود کو کہتے ہیں۔۔ ویسے کیسی جارہی ہے دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ زندگی۔۔؟؟ بیڈروم میں زندگی رنگین تو رہتی ہوگی۔۔؟؟ میری طرح دوسری والی بھی تو حق تلفی نہیں کرتی ہوگی۔۔؟؟ “
“نسواء۔۔۔”
نجیب نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔ جب نسواء نے بےرخی سے اپنی آنکھیں صاف کی تھی
“ہاتھ چھوڑ دیجئے مجھے جانا ہے۔۔۔”
وہ آنکھیں کھول کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔ غصے سے چہرہ لال ہوگیا تھا نجیب کا۔۔۔
“رسی جل گئی بل نہیں گیا۔۔؟؟ آج کیا حیثیت ہے آپ کی پھر بھی آنا نہیں مررہی آپ کی۔۔؟؟ کیا ہے آپ کے پاس نسواء۔۔۔؟؟”
“میرے پاس میری خودداری ہے۔۔ میرا مننان ہے نجیب۔۔۔آپ کے پاس کیا ہے۔۔؟؟”
“ہاہاہا سب کچھ ہے میرے پاس۔۔۔ میرا بیٹا ہے ایک خوبصورت بیٹی ہے۔۔۔اور میری عمارہ ہے۔۔۔ آپ کو کیا لگا تھا ۔۔؟ مجھے چھوڑ جائیں گی تو مر جاؤں گا۔۔؟؟”
“آپ کیوں مرتے میرے جانے سے۔۔؟؟ مرتے وہ ہیں جو محبت کرتے ہیں۔۔ کیا آپ نے کبھی محبت کی تھی۔۔؟؟”
نجیب کے جتنے الفاظ اسے تکلیف پہنچا چکے تھے نسواء کی ایک ہی بات نے نجیب آفندی کو چپ کروا دیا تھا۔
“نسواء۔۔۔”
“مجھے معلوم تھا کہ آپ کو محبت نہیں نجیب۔۔۔ یقین جانئیے۔۔۔ اب مجھے بھی محبت نہیں رہی۔۔۔ اور مبارک ہو آپ کو آپ کی پرفیکٹ فیملی۔۔۔”
ویل چئیر آٹومیٹک تھی ایک بٹن پریس کرنے پر وہ ٹرن ہوگئی تھی۔۔۔
“نسواء۔۔۔میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔”
حذیفہ کی دور سے آتی آواز نے نجیب کو شاکڈ کردیا تھا۔۔۔
وہ سب سے زیادہ شاکڈ اس وقت ہوا جب حزیفہ نے ویل چئیر کو پکڑ کر پوری طرح لفٹ میں اینٹر کردیا تھا۔۔۔
“میں نے آج آپ کو بتایا نہیں اس ڈریس میں آپ کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔
آج ڈنر ڈیٹ کینسل تو نہیں کریں گی۔۔؟؟”
وہ بات کرتے کرتے لفٹ میں لے گئے تھے چئیر کو۔۔۔
لفٹ بند ہونے سے پہلے نسواء نے اس شخص کی نظروں میں دیکھا تھا۔۔۔ جس کی آنکھوں میں شکست دیکھی تھی اس نے پہلی بار وہ ناکامی وہ ہار دیکھی تھی۔۔۔
حذیفہ باتیں کرتا جارہا تھا۔۔۔ مگر نجیب کی نظریں نسواء اور نسواء کی نظریں نجیب پر تھی۔۔۔
لفٹ کا ڈور جیسے ہی بند ہوا تھا۔۔۔ نجیب کی لیفٹ آئی سے وہ پانی کا قطرہ بھی آنکلا تھا۔۔
اور اسکے بعد ایک اور قطرہ۔۔ نجیب نے نے اپنے آنسو کو ہاتھوں میں لئیے پھر اسی بند دروازے کو دیکھا تھا۔۔۔
اور اسے احساس ہوا تھا۔۔۔ نجیب آفندی کی آنکھوں میں پہلی بار آنسو تھے۔۔۔
اسکے لیے جسے اس نے گنواہ دیا تھا اپنی عیاشی میں اپنی لاپرواہی میں۔۔۔
۔
“آپ صرف میری ہے نسواء۔۔ ہمیں کوئی جُدا نہیں کرسکتا نہ ہی میری آنا نہ ہی آپ کی ضد اور نہ ہی وہ شخص جس کے ساتھ گئی ہیں آپ اپنے شوہر کے سامنے۔۔
سوچا نہ تھا کبھی یہ دن بھی آئے گا۔۔۔کہ آپ غیر کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے جائیں گی۔۔۔”
آج نجیب آفندی کی غیرت کو دھچکا لگا تھا یا اس شوہر کو جو گرانٹڈ لیتا رہا اپنی بیوی کی محبت وفا کو۔۔؟
جو بھی تھا وہ شروعات تھی اسکے زوال کی۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔