62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“ایک عورت دنیا سے لڑ کر جیت بھی جائے تو وہ ایک جنگ اپنے گھر سے ہار جاتی۔۔
اور میں ان بد نصیب عورتوں میں سے ہوں۔۔
منیشہ۔۔ میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی میرا رب جانتا ہے۔۔ میں نےاسے بہت مان سے مالا بہت اچھی تربیت کی۔۔۔ میں نے اسے محنت کرنا سیکھایا تھا محبت کرنا سیکھایا تھا
دھوکا دینا نہیں بدلہ لینا نہیں سیکھایا تھا۔۔۔ میری بچی۔۔مجھے معاف کردو۔۔”
منیشہ کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے تھے نسواء نے۔۔۔
“آپ جانتی ہیں اب مجھ میں اتنی برداشت بھی نہیں کہ میں آپ کے بیٹے کا نام سن سکوں۔۔
آپ کیوں معافی مانگ رہی ہیں۔۔؟ آپ کے ساتھ تو کسی نے بھی انصاف نہیں کیا میم۔۔
نہ شوہر نے نہ ہی بیٹے نے۔۔آپ چپ ہوجائیں۔۔”
نسواء کے آنسو صاف کرکے وہ اٹھ گئی تھی وہاں سے۔۔ منیشہ کی آنکھوں میں ایک قطرہ نہیں تھا اسکی یہ گہری خاموشی نے نسواء کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا
“منیشہ میری بچی بات کرو مجھ سے۔۔”
“میم میرے پاس کچھ نہیں رہا بات کرنے کا۔۔ پر کچھ دینے کے لیے ضرور ہے”
وہ جلدی سے اپنے بیڈروم کی طرف گئی تھی اور الماری سے کچھ تحفے اور کپڑے لے آئی تھی
“آپ نے یہ جوڑا دیا تھا مجھے۔۔ آپ نے کہا تھا نکاح والے دن میں یہ جوڑا پہنو۔۔
اب مجھے اسے اپنے پاس رکھنے کا حق نہیں ہے آپ اسے لے جائیں۔۔”
“منیشہ بیٹا۔۔”
“پلیز۔۔ مجھے خیرات نہیں چاہیے میم۔۔ مجھے اب سمجھ آئی کہ مجھ جیسی بدنصیب کو ماں باپ نے نہیں اپنایا تو آپ سے کیا امید رکھتی۔۔آپ تو خود ایک جنگ لڑرہی ہیں آنٹی۔۔۔”
منیشہ نے نسواء کے ہاتھ پھر سے اپنے ہاتھوں میں لے لئیے تھے وہ بار بار نسواء کی آنکھوں سے آنسو صاف کررہی تھی اسے اس وقت بہت ترس آرہا تھا نسواء کی بکھری ہوئی حالت پر۔۔۔
“آپ سرجری کروا لیں۔۔”
“نہیں کرواؤں گی۔۔ اسے مجھے مرتے دیکھنے کی بہت جلدی تھی اس لیے اس نے انتظار بھی نہ کیا۔۔ اب وہ دیکھا مجھے مرتے ہوئے”
“آپ کیوں نہیں کروا رہی۔۔؟ غصہ نہ کریں محبت کے لیے انہوں نے کیا۔۔ مجھے لگتا تھا وہ بدلہ لینا چاہتے ہوں گے۔۔ مگر آنٹی بات بدلے کی نہیں انکی محبت کی تھی۔۔
اب آپ بھی انہیں تسلیم کرلیں اور سر جری کروا لیں۔۔”
“نہیں کرواؤں گی۔۔ کبھی نہیں۔۔”
نسواء اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھا کر جانے لگی تھی جب منیشہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“میری شادی پر ضرور آئیے گا۔۔ اور اس تحفے کے ساتھ کے آپ اپنی سرجری کروائیں گی۔۔
نسواء آنٹی۔۔ میں نے اپنی ماں کی جگہ آپ کو رکھا ہے۔۔ ماں بن کر آئیے گا میرے سر پر ہاتھ رکھنے۔۔ آپ کی یہ ندنصیب بیٹی اپنے نصیبوں کا بہت بڑا فیصلہ کرنے جارہی ہوں۔۔
اور میں اپنی ماں کو سہی سلامت دیکھنا چاہتی ہوں۔۔”
۔
نسواء کچھ کہے بنا وہاں سے باہر آگئی تھی۔۔
وہ کیسے اس لڑکی کو کسی اور کا ہوتے دیکھ سکتی تھی جس لڑکی کو اپنے بہو بنانے کے خواب دیکھےاس نے۔۔
“مننان تم نے تو وہ کیا جو تمہارے باپ نے نہیں کیا تھا۔۔ پیٹھ پر خنجر کھونپ دیا میرے۔۔
میں نے تم سے مانگا کیا تھا۔۔ایک خواہش۔۔بس۔۔”
وہ گاڑی چلا کر وہاں سے چلی گئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر مس منیشہ کا ریزیگنیشن لیٹر نہیں آیا۔۔۔پر انہوں نے لیو لیٹر بھیجا ہے۔۔”
“مننان کے ہاتھ رک گئے تھے وہ ایک دم سے الرٹ ہوا تھا۔۔
اسے لیو کی امید نہیں تھی جس طرح منیشہ نے ری ایکٹ کیا تھاوہ سمجھ رہا تھا کہ وہ سب کچھ الگ کردے گی پر لیو۔۔؟؟”
“لیو کس لئیے۔۔؟؟”
“سر انکی شادی ہورہی ہے۔۔ ویڈنگ کارڈ بھی بھیجا ہے۔۔ آدھا سٹاف تو جارہا ہے۔۔ اور آج انکی انگیجمنٹ ہے۔۔”
مننان کے ہاتھو ں سے وہ پن نیچے گر چکا تھا۔۔۔
جب کچھ رسپانس نہیں دیا تو اسکے اسسٹنٹ نے اور بات کی تھی
“سر یہ لیٹر اور یہ ویڈنگ کارڈ۔۔سر میڈم کے گروم کا نام۔۔”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“بٹ سر۔۔اننف۔۔۔ کوئی کہیں نہیں جائے گا اس آفس سے۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔ کہہ دو سب کو منیشہ کو ابھی نوٹس بھیجو کمپنی لائر سے کہو ابھی لیگل نوٹس بھیجیں۔۔ کوئی لئیو نہیں مل رہی مس منیشہ کو۔۔۔”
دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ڈیسک کی ہر چیز کو نیچے پھینک دیا تھا اسسٹنٹ تو باہر چلا گیا تھا پر مننان کا غصہ وہ ڈبل ہوچکا تھا۔۔ کچھ منٹ میں وہ اہم سے اہم ترین کاغذ کو اپنے غصے کی بھینٹ چڑھا چکا تھا۔۔
“منیشہ۔۔۔”
ڈیسک پر دونوں ہاتھ رکھے جب اس نے گہرا سانس لیا تو زمین پر بکھرے ان کاغذات ک درمیان پڑے اس شادی کے کارڈ پر اسکی نظر پڑی اس نے نیچے جھک کر اس کارڈ کو اٹھایا اور جب کارڈ کھول کر اس نے اس شخص کا نام پڑھا جس سے منیشہ کی شادی ہونی تھی
اور وہ نام پڑھ کر مننان کا غصہ آسمانوں کو چھونے لگا
“ماہیر آفندی۔۔۔”
کارڈ کے چار ٹکڑے کرکے اس نے پیچھے شیشے کی ونڈو پر مکا مارا تھا ۔۔
۔
“منیشہ۔۔۔ میں تمہیں کسی اور کی ہونے نہیں دوں گا۔۔ اس ماہیر آفندی کی تو بالکل نہیں ۔۔
میں اب اس شخص کی اولاد کے آگے ہار نہیں مانوں گا۔۔۔تمہیں اسکی ہونے نہیں دوں گا۔۔”
وہ تیز قدموں سے آفس سے باہر نکلا تھا۔۔ اسکے غصے سے زیادہ اسکے زخمی ہاتھ کو دیکھ کر سب آفس سٹاف شاک ہوا تھا۔۔۔
۔
“شہریار سر۔۔ آپ نے ٹھیک پہچانا تھا۔۔ مننان سر تو منیشہ سے محبت کرتے ہیں۔۔ ورنہ شادی کا سن کر اتنا غصہ۔۔”
“کاش وہ پہلے پہچان جاتے۔۔ اب تو غصے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔”
“جب فائدہ نہیں تو آپ نے کیوں یہ خبر دی۔۔؟؟”
“کیونکہ مننان سر نے جو منیشہ کے ساتھ کیا انہیں اسکی سزا ملنی چاہیے۔۔ چاہے میری نوکری کیوں نہ چلی جائے میں مننان سر کو آخری حد تک ایسے ہی بتاؤں گا منیشہ کا اسکی شادی کا اسکے ہونے والے شوہر کا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء آپ یہاں کیوں آئی ہیں۔۔ ڈاکٹر نے منع کیا ہے سٹریس لینے سے۔۔”
“یہاں بیٹھ جائیں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔”
خالی ریسٹورنٹ کو دیکھ کر انہوں نے نسواء کو ڈانٹا تھا مگر وہ سر جھکائے کافی پی رہی تھی
آنکھوں پر لگی بلیک گلاسزز نے نجیب پر انکی حالت ظاہر کردی تھی
نجیب صاحب نے خاموشی سے ٹیبل پر رکھے نسواءکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔
“نسواء میں ہینڈل کررہا ہوں۔۔ منیشہ زرا غصے میں ہے پر میں اسے منا لوں گا۔۔اور گھر لے جاؤں گا۔۔”
“جیسے مجھے منا رہے تھے۔۔ میں تو ابھی تک مانی نہیں۔۔ اور نہ ہی گھر گئی۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے آپ سب ٹھیک کرلیں گے۔۔؟؟ اگر آپ میں اتنے گٹس ہوتے تو آپ سب سے پہلے اپنے بچوں کو مناتے اور جو آج ہو رہا اسے روکتے پر آپ۔۔۔ آپ کچھ نہیں کر پائے۔۔ اور کیا کیا ناکامیاں بتاؤں آپ کو آپ کی۔۔؟؟”
وہ چلائی تو دور ٹیبل پر بیٹھا ہوا کپل انکے ٹیبل کی طرف دیکھنے لگا ۔۔ نجیب شرمندہ ہوئے تھے پر نسواء کی کسی بات سے انکار نہیں کیا انہوں نے
“اب آپ کیا چاہتی ہیں نسواء۔۔؟؟ مجھے آپ نے یہاں کیوں بلایا ہے بتا دیجئے۔۔۔”
اور اس وقت نسواء نے سر اٹھا کر نجیب کی آنکھوں میں دیکھا تھا وہ ان آنکھوں میں چھپے درد کو مکمل اگنور کرکے اپنا ہاتھ پیچھے کرچکی تھی
“منیشہ نے کہا تھا وہ شادی کررہی ہے۔۔ نجیب آپ نے یہ پتہ کرنا ہے وہ لڑکا کون ہے کیسا ہے کہاں رہتا ہے کیا بیک گراؤنڈ ہے۔۔ اب پہلے سے زیادہ منیشہ کی فکر ہورہی ہے وہ بچی ہے اس وقت تکلیف میں ہے میں نہیں چاہتی وہ جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ کرے۔۔”
نسواء نے یہ کہتے ہی جلدی سے وہاں سے جانے کی کی۔۔۔
مگر نجیب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
“نسواء میں۔۔ کوشش کررہا ہوں۔۔مگر آسان نہیں ہے ماضی میں جو مرد ایک غلط قدم اٹھا لے اسکا بھگتان اسکی آنے نسلیں بھگتتی ہیں۔۔”
نسواء کے چہرے پر ہاتھ رکھے انہوں نے آنکھوں سے وہ گلاسزز اتاری تھی اور ان کا شک سہی نکلا نسواء کی آنکھیں سوجھی ہوئی سرختھی رو رو کر۔۔۔
نجیب اس اداس چہرے کی طرف جھکا تھا اور ایک ایک کرکے نسواء کی انکھوں پر اپنے لب رکھ دئیے تھے۔۔
اور بوسہ دیا تھا۔۔ نسواء اس احساس سے خود کو پرے نہ کر پائی تھی اسکے ہاتھوں کی گرت نجیب کے شرٹ کالر پر اور مضبوط ہوئی تھی۔۔۔
اور فائننلی نسواء کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ پیچھے ہوئے تھے۔۔
“نسواء۔۔میں ہوں آپ کے ساتھ۔۔ میں مننان کو اس رستے سے واپس لے آؤں گا۔۔۔
ایک باپ کا فرض پورا ضرور کروں گا۔۔ “
بس اتنا سننے کی دیر تھی نسواء نے نجیب کے سینے پر سر رکھ دیا تھااسکے آنکھیں نجیب کی شرٹ بھگو چکے تھے پر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا وہ کمزور پڑ گئی تھی اس ہرجائی کے سامنے۔۔
آج اسی تڑپتی ہوئی روح کو سکون مل رہا تھا۔۔ وہ الفاظ جو نجیب نے بولے انہوں نے نسواء کو بہت حوصلہ دیا تھا۔۔ مننان کے دھوکے نے انہیں مکمل نڈھال کردیا تھا۔۔
۔
“نسواء۔۔۔”
حزیفہ کی اواز سن کر نسواء سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا نجیب اور اسے ایک ساتھ دیکھ کر۔۔۔
“نسواء میں نے آپ کو وقت دیا تھا اس لیے نہیں کی یہاں پیچ اپ ہوجائے۔۔؟؟”
“حزیفہ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔”نسواء یک دم سے پیچھے ہوئی تھی اور نجیب کے ہاتھ خالی ہوگئے تھے ایک نظر اپنے اور نسواء کے درمیان وہ فاصلہ دیکھا تھا اور پھر حزیفہ کی طرف دیکھ کر ایک ہی سوال کیا تھا
“کس بات کا وقت دیا تھا۔۔؟؟مسٹر حزیفہ۔۔؟؟”
“یہی کہ آپ سے ڈائیورس لیکر نسواء مجھ سے شادی کریں گی ہمارے رشتے کو ایک موقع دیں گی۔۔۔”
“حزیفہ۔۔”
نسواء نے بات کاٹنے کی کوشش کی تھی پر حزیفہ نے بات مکمل کر دی تھی
“اوکے۔۔۔ لیٹس واچ۔۔۔ مسٹر حزیفہ۔۔۔ٹیک کئیر نسواء۔۔”
نجیب صاحب نے بہت ڈئیرنگ کیا تھا اگے بڑھ کر نسواء کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
۔
“اکھیاں ہوں گی تیری۔۔۔ پھر پانی کا جھرنا۔۔
کچھ بھی ہوجائے یارا۔۔۔ مجھے تو پیار نہ کرنا۔۔”
“اسکی اتنی جرات۔۔”
حزیفہ نجیب کے پیچھے غصےسے جانے لگا تھا جب نسواء نے اس کا ہاتھ پکڑ۔۔
“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی حزیفہ۔۔ میں نے آپ کو بتا دیا تھا میں نجیب سے طلاق نہیں لینا چاہتی۔۔۔ آپ مجھے فورس نہیں کرسکتے۔۔۔ناؤ ایکسکئیوز مئ۔۔”
۔
اور وہ ہاتھ چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“نسواء۔۔ فورس تو میں کروں گا۔۔ اور دیکھیں گی آپ۔۔۔بچوں کو تو نجیب سے دور کردیا اب آپ کو پوری طرح اس شخص سے جدا کردوں گا۔۔۔”
۔
فون نکالتے ہی اپنے بھائی ظہیر کو کال کرکے ایک اور پلان بنا لیا تھا مسٹر حزیفہ نے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
جس وقت نجیب گھر آیا تھا۔۔ سب کھانے کی میز پر بیٹھے تھے اور وہ پاس سے گزر کر اوپر جانے لگے تھے جب ماہیر نے ان کا راستہ روک لیا تھا۔۔
“ڈیڈ۔۔ مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔”
“ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے ماہیر بعد۔۔”
ڈیڈ پلیز۔۔۔”
ماہیر کی آواز میں ڈیسپریشن دیکھ کر وہ چلتے ہوئے رکے تھے۔۔
“میرے بیڈروم میں آجانا آدھے گھنٹے بعد۔۔۔”
اور وہ اپنے کمرے کی طرف چلے گئے تھے۔۔
“ماہیر بیٹا ایسی کیا بات ہے جو تم نے مجھے نہیں بتائی۔۔؟؟”
“موم ابھی نہیں۔۔۔ دادی ڈیڈ کا کھانا بھی گرم کروا دیں میں اوپر لے جاؤں گا۔۔”
ماہیر نے جس گرم جوشی سے کہا تھا پہلی بار اس نے اپنے ڈیڈ کو لیکر اس طرح کی محبت شو کی تھی سب کے سامنے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“منیشہ۔۔۔منیشہ۔۔۔”
اسی زخمی ہاتھ کو ایک بار اور زور سے مارا تھا دروازے پر۔۔۔پر کوئی جواب نہ ملا تھا۔۔
“دروازہ توڑ دو۔۔”
مننان نے اپنے گارڈز کو کہا تھا جو کچھ سیکنڈ ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے پھر مننان کے آرڈرز مانتے ہوئے وہ اس دروازے کو توڑنے لگے تھے جب بلڈنگ کا سیکیورٹی گارڈ جلدی سے انکے پاس آیا تھا
“سر دروازہ توڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔ مس منیشہ پچھلے ہفتے ہی یہاں سے شفٹ ہوگئی ہیں۔۔”
مننان شاک ہوا تھا اور اس بند دروازے کو دیکھا تھا
“شفٹ۔۔؟؟ شفٹ کہاں ہوگئی ہیں۔۔؟”
“سر سننے میں آیا ہے وہ اپنے منگیتر کے فلیٹ میں شفٹ ہوچکی ہیں۔۔ یہ اپارٹمنٹ بیچ دیا ہے انہوں نے۔۔۔”
اور سیکیورٹی گارڈ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔ مننان کچھ دیر وہاں اس بند دروازے کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔
جاتے ہوئے بھی اسکا دل نہیں مان رہا تھا وہ مڑ مڑ کر اس بند دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔
“منیشہ۔۔۔”
ایک سرگوشی کی تھی اس نے اور موبائل نکال کر اس نے پھر سے منیشہ کے نمبر پر کال کی تھی جس پر بیل گئی تھی اور کال اینڈ ہوگئی تھی اسکی۔۔۔
اور وہ مایوس گاڑی کی طرف چل دیا تھا۔۔۔
۔
اسکی گاڑی جیسے ہی وہاں سے گئی تھی اس اپارٹمنٹ کی لائٹ ہوئی تھی۔۔۔
منیشہ دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی اور سیکیورٹی کا شکریہ ادا کیا تھا اس نے۔۔
کچھ سیکنڈ میں ٹیکسی میں سامان رکھ وہ اس جگہ سے نکل گئی تھی۔۔۔
۔
“ماہیر میں راستے میں ہوں۔۔۔ مجھے پک کرلو۔۔۔”
۔
اور کال کاٹ دی تھی اس نے۔۔ وہ تمام کشتیاں جلا کر مووو آن کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی
وہ مننان نجیب آفندی کو اپنے دل و دماغ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکالنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ماہیر۔۔؟؟ تم اس بچی سے شادی کرو گے۔۔؟؟ کیا بدلہ لینا چاہتے ہو تم اس لڑکے سے۔۔؟؟ میں نہیں مانتا اس رشتے کو۔۔ تم ان کی لڑائی میں نہیں آؤ گے۔۔۔”
“ڈیڈ پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔ میں منیشہ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔ میں لاکھ بُرا سہی۔۔ میں منیشہ کے لیے خود کو چینج کرلوں گا۔۔ ڈیڈ پلیز۔۔”
“مجھے تم پر ایک لمحے کا یقین نہیں۔۔ میں۔۔”
ماہیر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر نجیب کے پاؤں پکڑ چکا تھا۔۔
“مجھے بھی یقین نہیں آرہا خود پر ڈیڈ۔۔ اس رات اس باسٹرڈ نے جیسے ہی “
“بکواس بند کرو ماہیر۔۔۔ایک لفظ اور کہا تو زبان کھینچ لوں گا۔۔”
وہ اپنے ہی کمرے سے جانے لگے تھے جب ماہیر جلدی سے ان کا بازو پکڑ چکا تھا
“ڈیڈ میں منیشہ نے بہت پیار کرنے لگا ہوں۔۔ اس شخص نے منگنی کی پیار کا ناٹک کرکے اس معصوم لڑکی کو دھوکا دیا مجھ سے برداشت نہیں ہوسکا۔۔۔
ڈیڈ۔۔ میں اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ایک موت مرا ہوں۔۔ میں مرتا مرجاؤں پر اب منیشہ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
آپ مجھے عاق کرنا چاہتے ہیں کردیں۔۔ مجھے نکال دیں گے نکال دیں ڈیڈ۔۔پر یہ جان لیں میں بدلہ نہیں لے رہا۔۔۔ مجھے محبت ہوگئی ہے۔۔ اسکی آنسوؤں سے۔۔
اسکے درد سے۔۔ اس سے۔۔ اگر آپ میرے سر پر ہاتھ رکھ دیں گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی ڈیڈ۔۔۔”
پر نجیب وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
و کب گھر سے باہر نکلے کب نسواء کے گھر کے پاس اسی پارک میں بیٹھ گئے انہیں پتہ نہیں چلا۔۔
وہ جانتے تھے ماہیر کو اسکی نشے کی عادت کو۔۔ وہ جانتے تھے کہ ماہیر کیسا ہے۔۔
اگر ماہیر ان کا اپنا خون ہوتا۔۔ تو وہ سوچ بھی لیتے ماہیر کا یقین کرنے پر۔۔
پر اب ماہیر پر یقین کرنا انکے بس کی بات نہیں تھی
اور منیشہ۔۔۔؟؟ اگر وہ انکی بیٹی ہوتی کیا وہ ماہیر جیسے لڑکے کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے۔۔؟؟وہ۔۔۔”
“اچھا ہوا آپ مجھے یہاں مل گئے۔۔”
مننان کی آواز نے انہیں شاک نہیں کیا جتنا اسکی بکھری ہوئی حالت نے کیا تھا جو بالکل سامنے کھڑا تھا انکے۔۔وہ اٹھنے لگے تھے جب مننان ساتھ بیٹھ گیا تھا اس بنچ پر۔۔
“مننان بیٹا۔۔۔”
وہ ایک دم سے حیران ہوگئے۔۔۔
“بیٹا۔۔۔؟؟؟ اب باپ ہونے کا فرض بھی نبھائیں۔۔۔ پھر میں آپ کو وہ ساری غلطیوں پر ساری گناہوں پر میری ماں سے بےوفائی پر معاف کردوں گا۔۔۔”
“ہاں بیٹا۔۔۔ کیا چاہتے ہو۔۔۔؟؟ کیا کرنا ہے۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔”
لیفٹ آئی سے آنسو کا ایک قطرہ جیسے ہی نکلا تھا جب انہوں نے مننان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور مننان نے انکا ہاتھ جھٹکا نہیں تھا بلکہ نجیب کی آنکھوں میں ایک آس امید سے دیکھ رہا تھا
“آپ سے پہلی اور آخری بار کچھ مانگ رہا ہوں۔۔۔۔ بابا۔۔۔”
نجیب نے مننان کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا تھا وہ آبدیدہ ہوگئے تھے اور کچھ کہا نہیں جارہا تھا ان سے۔۔ انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا انہیں جیتے جی اپنے بیٹے کو اپنےسینے سے لگانے کا موقع بھی ملے گا۔۔۔
“آپ کو ماہیر اور منیشہ کی شادی روکنی ہوگی ہر حال میں۔۔۔ منیشہ۔۔۔ وہ صرف میری ہے۔۔ میری محبت۔۔۔ میرا پیار۔۔۔ ماہیر یا کسی اور کی ہوتے ہوئے میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔۔”
نجیب کے دونوں ہاتھ مننان کے کندھوں س نیچے گر گئے تھے
“میں پورے دل سے آپ کو اپنا لوں گا اگر آپ میری یہ خواہش پوری کردیں گے۔۔۔
اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر آپ بھی یاد رکھیں گے اور وہ آپ کا بیٹا بھی۔۔۔
وہ میری ہے بس میری۔۔۔”
وہ اٹھ کر جانے لگا تھا جب نجیب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“اگر میں نے ایسا نہ کیا تو۔۔؟؟ بیٹا یہ شرطیں رشتوں میں میں نے ایک بار رکھی تھی تب سے اب تک بے گھر ہوں کیونکہ میں نے اپنی انہی شرطوں کے پیچھے اپنی محبت کو کھو دیا ۔۔
تمہاری ماں کو گنوا دیا یہ شرطیں رشتوں کا برباد کردیتی ہیں بیٹا۔۔۔”
“برباد ہی سہی۔۔ مجھے معلوم ہوجائے گا میری کیا اہمیت ہے آپ کی زندگی میں اگر آپ یہ نہ کرپائے تو بھول جائیے گا کہ کوئی بیٹا تھا آپ کا۔۔”
اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا تیز ہوا کی طرح جیسے آیا تھا۔۔کچھ دیر لگی تھی نجیب کو یہ سمجھنے کہ یہ حقیقت تھی۔۔۔
ان کا بیٹا الٹی میٹم دہ گیا تھا۔۔ وہاں انکی بیوی نے انہیں کہہ دیا تھا اس لڑکے کی معلومات کا جس کی شادی منیشہ سے ہونی ہے۔۔اور پھر ماہیر۔۔۔اور اب مننان نجیب آفندی سر کو ہاتھوں میں لیکر بیٹھ گئے تھے یہ انکے لیے ایک بہت مشکل فیصلہ تھا جو انہوں نے لینا تھا۔۔۔
۔
“نسواء۔۔۔۔۔ہاتھوں سے دہ ہوئی گِٹھائیں مجھے منہ سے کھولنی پڑ رہی ہیں۔۔ جب آپ نے مجھے رکنے کی کوشش کی تھی مجھے رک جانا چاہیے تھا دوسری شادی کرنے سے۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔