Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 12
Rate this Novel
Episode 12
“میم آپ کا بہت بہت شکریہ آپ ہمارے ایونٹ میں تشریف لائی ہیں ہمیں بہت خوشی ہورہی ہے۔۔آپ پلیز ایوارڈ سیریمنی تک رکئیے گا ہم چاہتے ہیں مقابلہ جیتے والے تمام شیف کو ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹ آپ دیں۔۔۔”
“اسکی ضرورت نہیں تھی شہناز۔۔۔سب سٹوڈنٹس نے بہت محنت کی مجھے سب کی ڈشز بہت پسند آئی۔۔۔ اور یہ میرے لیے بہت اونر کی بات ہوگی۔۔۔
میں نیچے آجاؤں گی۔۔۔”
۔
نسواء نے چئیر کو رئلنگ کی طرف کردیا تھا کچھ دیر میں سرونٹ ڈیکوریٹ کرنے کے بعد وہاں سے چلے گئے تھے شام کی ٹھنڈی ہوا اسے سکون بخش رہی تھی جب قدموں کی آہٹ پر وہ چونک اٹھی تھی شاید اسکے دل کی تیز دھڑکن نے اسے اس شخص کی موجودگی کا بتا دیا تھا۔۔۔
۔
“نسواء۔۔۔”
۔
“وہ شخص اپنے آپ کو جسٹیفائی کررہا تھا۔۔۔ خود کی بےوفائی کو مجبوری بتانے کی کوشش میں تھا۔۔۔
وہ تو بےوفائی سے بھی بڑا دھوکا دے چکا تھا وہ تو زنا کرچکا تھا۔۔۔ اپنے آفس میں کام کرنے والی سیکریٹری کے ساتھ اس نے وہ سب کردیا تھا جو کوئی شوہر کرتے ہوئے ہزار بار سوچے۔۔۔
“وہ شخص مجھے بتا رہا تھا کہ اسے آج بھی کتنی محبت ہے اسے مجھ سے۔۔۔ وہ مجھے بتا رہا تھا ان راتوں کی داستان جو اس نے کسی غیر عورت کی دسترس میں گزاری وہ مجھے بتا رہا تھا کہ وہ میری غیر موجود گی میں بہت آسانی سے کسی کے حسن کا دیوانہ ہوگیا۔۔۔
اور میں۔۔۔ برداشت نہ کرپائی۔۔۔ ہاتھ اٹھ گیا میرا۔۔۔ جس پر کبھی میں نے نگاہیں نہیں اٹھائی اس پر میرا ہاتھ اٹھ گیا۔۔۔ وہ بیوی تڑپ اٹھی تھی۔۔
مجھ میں سکت نہ رہی تھی ۔۔۔
وہاں سے گھر تک کا راستہ کسی تپتے صحرا میں پیاسے مسافر سا تھا۔۔۔
اس دن پہلی بار مجھے میں مجرم لگی اپنے بچوں کی جب اس کمرے میں داخل ہوئی تھی اتنے سالوں کے بعد۔۔۔
“میں چاہے کتنی ہی دور رہ چکی اس شخص سے کتنے ہی درد سہہ لئیے اس رشتے میں۔۔
مگر میں میرے ہرجائی کو اس گناہ کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔
میں فیصلہ کرچکی تھی اس دن اب اور نہیں۔۔۔ نجیب آفندی اب میں خود پر اپنی اولاد پر اور بوجھ نہیں ڈالوں گی انہیں دنیا سے چھپا کر ان لوگوں سے چھپا کر جو تماشہ دیکھنے کے منتظر ہیں جو نجیب آفندی کی طرح انتظار میں ہے کہ کب نسواء اپنے بیٹے مننان کے ساتھ انکے دروازے پر بھیک مانگنے جائے گی۔۔۔
میں فیصلہ کرچکی تھی اب میں اپنے بچوں کو فخر سے ان لوگوں کے سامنے لے کرجاؤں گی۔۔۔ میرے بچوں کی قابلیت انکی کامیابی دیکھ کر کوئی پچھتائے یا نہ نہ پچھتائے۔۔۔
پر میں نجیب آفندی۔۔۔ آپ کے چہرے پر پچھتاوا دیکھنے کی منتظر رہوں گی۔۔۔ یاد رکھئیے گا آپ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما ایک دم سے کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔؟؟ آپ اس طرح واک کریں گی تو مسلز میں سٹریس آجائے گا۔۔۔ اور یہ ہیوی ڈوس کھانے سے برڈن آپکے دماغ میں پڑۓے گا۔۔”
پر نسواء نے ویل چئیر سے اٹھ کر ان سٹکس کو پکڑ لیا تھا۔۔
“ماما۔۔۔”
“بس چھوٹی۔۔۔ ماں اگر یہ کرنا چاہتی ہیں تو یہی سہی۔۔۔ چلیں مننان کی ماما چل کر میرے پاس آئیے۔۔۔”
مننان اپنی چئیر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے نسواء۔۔۔ مننان کی طرف بڑھی تھی ایک قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا جب نسواء لڑکھڑا کر گرنے لگی تھی اور دونوں بچوں نے ماں کو تھام لیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر میں نے بہت ضروری بات کرنی تھی۔۔۔”
“تمہیں نہیں پتہ مننان کے ساتھ میٹنگ ہے ابھی یہ فائلز مجھے ریڈی چاہیے مننان کو پسند نہیں ہے کوئی بھی غلطی۔۔۔”
سامنے کرسی پر بیٹھا وہ شخص ابھی انسٹرکشن دے رہا تھا جب اسکا اسسٹنٹ باہر سے ایک اور شخص کو بازو سے پکڑ کر اندر لایا تھا اور اسے اپنے باس کے سامنے ٹیبل پر پھینک دیا تھا”وٹ دا ہیل راشد۔۔۔یہ سب کیا بکواس ہے۔۔کون ہے یہ۔۔۔؟؟؟”
اسکا باس کرسی سے اٹھ گیا تھا
“شہیر سر۔۔۔ یہ نگرانی کررہا تھا نسواء میم کی۔۔۔ یہ دیکھیں انکی ایکٹویٹی کی فوٹوز موجود ہیں۔۔۔
راشد کی بات سن کر شہیر تو شاک ہوا تھا ساتھ کھڑا شخص بھی حیران ہوا تھا
“تم جانتے ہو تم جس کو فالو کررہے تھے وہ کون ہے۔۔؟؟ مننان تمہیں جان سے مار دے گا۔۔۔ کوئی نقصان پہنچانے کے لیے تم انہیں فالو کررہے تھے۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔ سر میں پرائیویٹ کمپنی کا ایک ڈیٹیکٹو ہوں۔۔۔ میں آپ لوگوں کے لیے کام کرچکا ہوں۔۔ جب نسواء میڈم کی فوٹو ملی تو میں سب سے پہلے آپ کے پاس آیا۔۔۔”
“کون کروا رہا ہے۔۔؟؟”
“نجیب آفندی۔۔۔”
شہیر نے ایک نظر دیکھا تھا اسے اور پھر اس نے راشد کو حکم دیا تھا کہ اسے لے جائے وہاں سے۔۔۔
“مننان کو معلوم ہوگا کہ وہ وہ لوگ نسواء آنٹی تک پہنچ رہے تو وہ بےحشر کردے گا ان سب کو۔۔۔اس تک بات نہیں پہنچنی چاہیے یہ۔۔۔ میں خود ہینڈل کرلوں گا یہ سب۔۔”
شہیر جس طرح گھبرا رہا تھا اسے کیا معلوم تھا یہ ساری پلاننگ تو مننان پہلے ہی کرچکا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
۔
۔
اور تم اسے روک نہیں سکی۔۔۔؟ بیوقوف عورت اتنی محنت مٹی میں ملانا چاہتی ہو۔۔؟؟” بالوں سے پکڑے اس شخص نے عمارہ کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔۔۔
سر پر لگی چوٹ نے عمارہ کو اور تکلیف پہنچا دی تھی
“میری بات تو سنیں ظہیر۔۔۔ مجھ پر غصہ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جسے آپ نے نجیب کی زندگی سے دور کرنے کے لیے اتنے سال لگا دئیے وہ واپس آگئی ہے۔۔۔ اپنے بچے کے ساتھ نہیں بچوں کے ساتھ واپس آگئی ہے۔۔۔”
ظہیر نے غصے سے چیزیں پھینکنا شروع کردی تھی
“ان دونوں کو میں نے نجیب کی دنیا سے بہت دور کردیا تھا جب تم داخل ہوئی تھی اسکے کیبن میں۔۔بھول گئی عمارہ بیگم۔۔۔؟؟”
عمارہ کو بازو سے پکڑ کر ظہیر نے اپنے بہت پاس کیا تھا
“کوئی آجائے گا لئیو مئ ظہیر۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔یہ میرا آفس ہے۔۔۔ یہاں میری مرضی کے بغیر کوئی پر نہیں مار سکتا۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ ابھی تک یہ آفس نجیب کے نام پر ہے ۔۔۔ جس دن اپنا کرلو گے اس دن بات کریں گے۔۔ میں ویسی بھی تمہاری بڑی بڑی پلاننگ سے تنگ آچکی ہوں ظہیر۔۔۔ نجیب کے ساتھ اس جہنم میں اب ایک پل نہیں گزار سکتی میں۔۔”
عمارہ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا اور باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“کچھ دن اور میں ایک ڈیل سائن کرلوں اسکے بعد میں شئیر ہولڈر خریدوں گا۔۔۔
نجیب کو موقع نہیں دوں گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یا اللہ رحم۔۔۔ نجیب آپ بھی نہ دیکھ کر نہیں چلا سکتے تھے۔۔۔
کتنی چوٹ لگی ہے۔۔۔”
دروازے پر کھڑے زخمی نجیب کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی اور بیڈ پر بٹھا دیا تھا۔۔۔
“میں فرسٹ ایڈ لیکر آئی۔۔۔یا پھر ڈاکٹر کے چلیں۔۔۔؟؟؟”
نجیب ایک دم سے ڈر کے اٹھ گیا تھا
“نہیں نسواء آپ پریشان نہ ہوں میں بس ابھی آیا۔۔۔”
نجیب جلدی سے فرسٹ ایڈ کا باکس چھین کر باتھروم کی طرف چلا گیا تھا
“انہیں کیا ہوا۔۔۔؟؟”
نجیب کے باتھروم جاتے ہی نسواء پیچھے چلی گئی تھی اور باتھروم ڈور ان لاک تھا اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا نجیب چہرے پر پانی ڈال رہے تھے اور نسواء کا دل گلے کو آیا نجیب کی تکلیف دیکھ کر مگر جیسے جیسے پانی پڑتا رہا وہ خون نما رنگ نیچے گرتا رہا چہرہ صاف ہوگیا تھا کوئی زخم نہیں تھا سامنے شیشے پر نجیب کا چہرہ دیکھے نسواء نے ایک نظر نجیب کو دیکھا جو شاکڈ ہوگئے تھے۔۔۔
اور نسواء خاموشی سے دروازہ بند کئیے باہر آگئی تھی۔۔۔
آنکھیں بھر چکی تھی نجیب کے جھوٹ پر وہ کھڑکی کے پاس ہاتھ باندھے کھڑی ہوگئی تھی تھوڑی دیر بعد باتھروم کا دروازہ کھلا تو نسواء نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کرلی مگر نظر ہٹا نہیں پائی تھا آسمان پر نظر آتے اس خوبصورت چاند سے،،،،
“کیا وہ مجھ سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگیا ہے وائفی۔۔۔؟؟ “
پر نسواء نے نجیب کو ایک نظر دیکھا اور بیڈ کی طرف بڑھی۔۔ اسکا درگزر کرنا نجیب کو بہت ناگوار گزرا نجیب نے اسکو بازو سے کھینچ کر واپس اسی جگہ لاکھڑا کیا تھا جب اس نے شیشے کی ونڈو کے ساتھ اسے پن کیا تھا
“معاف کردیں۔۔۔ آپ خفا مت ہوں نسواء۔۔۔”
نسواء کی ویسٹ پر دونوں ہاتھ رکھے نجیب اپنے حصار میں لے چکا تھا جب اس نے نسواء کے بالوں میں چہرے کو چھپائے تھا
“آپ نے جھوٹ بولا نجیب۔۔۔ کتنا پریشان ہوگئی تھی آپ جانتے ہیں۔۔اگر میں نہ دیکھتی تو آپ جھوٹی پٹی کرکے سامنے آجاتے۔۔؟؟ جیسے جھوٹی چوٹ لیکر آئے۔۔؟؟
میں خفا نہیں ہوئی ہرٹ ہوئی ہوں آپ کے جھوٹ پر۔۔۔”
نسواء نے خود کو نجیب کی گرفت سے چھڑانے کی لاکھ کوشش کی پر آزاد نہ کرپائی تھی
“میں شرمندہ ہوں سچ پوچھیں تو ڈر گیا تھا۔۔ پہلی بار وعدہ نبھا نہ سکا نسواء۔۔
اگر معلوم ہوتا میرے اس جھوٹ پر آپ کی آنکھیں بھیگ جائیں گی تو سچ مچ کا ایکسیڈنٹ کرلیتا اپنا۔۔”
نجیب کے ہونٹوں پہ اپنی انگلیاں رکھ کر نسواء نے خاموش کروا دیا تھا
“خدارا ایسی بات نہ کیجئے آپ۔۔۔”
“آگے سے ایسا ہی کروں گا۔۔ جھوٹ نہیں بولوں گا۔۔۔”
نسواء کی آنکھیں اور بھر گئی نجیب کے ارادے پر۔۔
“اب چلیں ڈنر پہ۔۔؟؟”
“ڈنر اہمیت نہیں رکھتا نجیب۔۔ آپ رکھتے ہیں۔۔ آپ کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔۔
جب آپ کو معلوم ہے کہ جھوٹ پکڑا جائے گا۔۔”
۔
“نسواء میری بات تو سنیں۔۔۔”
“نسواء۔۔۔”
نجیب کی آنکھیں کھل گئی تھی۔۔۔ آفس کا ڈور ناک ہوا تو اجازت ملنے پر نجیب کا ‘پی اے’ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
“سر یہ ہے وہ انفارمیشن۔۔۔وہ کچھ دیر میں ہاسپٹل سے واپس جائیں گی اس ایڈریس پر۔۔
یہ گھر علاقے کے پوش ایریا میں ہے جہاں بہت سیکیورٹی ہوتی آپ ہاسپٹل سے اس روڈ کے فاصلے تک انہیں فالو کرسکتے ہیں اس سے آگے سب سیکیورٹی ہے اور کیمرے بھی۔۔۔
“تم جا سکتے ہو۔۔۔”
نجیب نے فائل اوپن کی تو فرنٹ پیج پر ڈاکٹر حورب احمد نام پڑھ کر اس نے اوپر سے نیچے تک پیج دیکھا تھا کہ شاید اسے اپنا نام مل جائے مگر اس مغرور شخص کو وہ نام نہیں ملا تھا
‘نجیب آفندی’ جو اسکے بچے تو بہت غرور سے اپنے نام کے ساتھ لگائے پھرتے تھے پر۔۔۔
حورب کے نام پر نجیب نے انگلیاں پھیریں تو اسے وہی دن یاد آگیا تھا جب اسے اس انجان جگہ پر زخمی حالت میں اس لڑکی نے مدد کی تھی
حورب۔۔۔۔”
نجیب نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
Dr. HURRAB Ahmed is an Internationally Renowned Cardiologist And epidemiologist whose Work over Years has substantially influenced prevention and treatment of cardiovascular disease..
The Leading North American clinical trialist in this field,
Her epidemiologic work in more than countries shows the majority of risks of both cardiovascular and Cerebrovascular disease are attributable to the same few risk factors. Her large-scale studies involving several hundreds of thousands of individuals in dozens of countries have changed the way some of the world’s most deadly health conditions are prevented, treated and managed.
۔
“سر۔۔۔سر۔۔۔۔”
نجیب نے فائل سے سر اٹھا کر دیکھا توایک دم سے فائل کو لاکر میں رکھ کر وہ خود کوٹ پہنے جلدی سے کیبن سے نکل گیا تھا
“سلام سر میں آپ کے پاس۔۔۔”
وہ سٹاف کو ڈس مس کرکے آفس سے نکل گیا تھا۔۔۔ گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تھا اور اسی راستے پر گاڑی چلا دی تھی جو کچھ دیر پہلے اسے معلوم ہوا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ کو نہیں لگتا آپ نے انکی کچھ زیادہ ہی ان سلٹ کردی۔۔؟؟
کیا آپ انہیں جانتی ہیں۔۔؟؟”
نسواء کے ہاتھ سے پانی کا گلاس گر گیا تھا جو کچھ دیر پہلے ہی دیا تھا اسے حورب نے۔۔
“بیٹا میں نے اسی لڑائی میں سنا تھا۔۔ شاید وہ لڑکی کہہ رہی تھی یا وہ لڑکا۔۔۔
“بدتمیز لڑکی ماما۔۔۔ اور وہ اس شخص۔۔ کے بچے ہیں۔۔۔”
“شخص۔۔۔” نسواء نے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا۔۔ مٹھی مظبوطی سے بند کرلی تھی کہ کہیں وہ رو نہ دے اپنے ضبط کو وہ ایسے قابو کئیے بیٹھی تھی۔۔۔
اس نے فیصلہ کیا تھا وہ حورب کو مورل سپورٹ کرنے کے لیے یہاں آئے گی اپنی بیٹی کے ساتھ اور کانفرنس ختم ہوتے ہی واپس چلے جائیں گے دونوں لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔ کچھ دن پہلے کانفرنس ڈیلے ہوئی اور آج۔۔۔ جس طرح سامنا ہوا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
اپنےہرجائی کو اسکی فیملی کے ساتھ دیکھ کر۔۔ نسواء کے دل پر اتنے ہی تیر چلے۔۔۔
اور جو کمی باقی رہ گئی تھی وہ اپنی بیٹی کے منہ سے باپ کی جگہ اس شخص لفظ نے پوری کردی وہ تو اس سوچ سے ڈر گئی تھی کہ کیا وہ کبھی اپنی بیٹی کو کچھ بتا بھی پائے گی۔۔؟
“ماما۔۔؟؟؟آپ ٹھیک ہیں۔۔۔”
“ہاں۔۔۔ ہاں بیٹا۔۔۔ میں گھر جانا چاہتی ہوں تم ڈرائیور کے ساتھ آجاؤ گی۔۔؟؟”
“پر ہم دونوں نے تو آگے کا پلان بنایا تھا شاپنگ پر لے جانا تھا آپ نے ہمیں۔۔۔ حزیفہ انکل کی فیملی سے بھی ملنا تھا نہ۔۔۔”
حورب نے منہ بنا لیا تھا۔۔تو نسواء نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا
“بیٹا میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی شام میں چلے جائیں گے حزیفہ کے گھر۔۔۔پلیز ابھی مجھے گھر جانا ہے۔۔”
“ماما آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
حورب نے کانچ کے ٹکڑوں کو نظر انداز کرکے نسواء کو صوفہ پر بٹھایا تھا اور ساتھ خود بیٹھ گئی تھی
“آپ یہیں رکیں میں ڈاکٹر ذیشان سے ایکسکئیوز کرآتی ہوں ہم ساتھ چلتے ہیں۔۔”
“نہیں نہیں۔۔۔ تم یہیں اٹینڈ کرو گی۔۔۔ میرے لیے کچھ سکیپ نہیں کرنا اب کوئی بحث نہیں مجھے ڈرائیور چھوڑ آئے گا۔۔۔”
“پر ماما۔۔۔”
مگر نسواء کچھ دیر میں وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
حورب واپس میٹنگ میں جانے لگی تھی جب وہ اسی وارڈ کے پاس سے گزری تھی اب وہ لوگ وہاں سے جاچکے تھے وہ بھی میٹنگ اٹینڈ کرکے ہاسپٹل سے گھر کے لیے نکلی تھی۔۔۔
وہ گھر جو مننان نے خاص کر انکے سٹے کے لیے وہاں خریدا تھا۔۔۔
۔
حورب کی گاڑی جس روڈ سے گزر رہی تھی۔۔۔ عین کچھ منٹ پہلے دیکھتے ہی دیکھتے سامنے سے آتی تیز رفتار گاڑی ایک درخت کے ساتھ ٹکرائی تھی سڈن بریک پر حورب ڈرائیور کو حکم دے کر باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔
“میم آپ اندر بیٹھے میں ایمبولینس کو بلاتا ہوں۔۔۔”
“ہیلپ۔۔۔”
حورب ڈرائیور کی بات کر اگنور کرکے ڈرائیونگ سیٹ کی طرف پہنچی تو ڈور پہلے ہی اوپن تھا۔۔۔
“سر آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
نجیب نے جلدی سے آنکھیں بند کرکے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔
“ہیلپ۔۔۔”
اس نے حورب کی طرف جیسے ہی ہاتھ بڑھایا مدد کے لیے حورب سے رہا نہیں گیا نجیب کے چہرے کو سٹیرنگ سے اٹھا کر جیسے ہی اوپر کیا تھا ماتھے سے بہتے خون نے منہ بھر دیا تھا پر وہ اس چہرے کو پہچان گئی تھی اس شخص کو جس نے کچھ دیر پہلے ہاتھ اٹھایا تھا اس پر۔۔
“آپ۔۔۔چلیں باہر آنے کی کوشش کریں۔۔۔”
ایک پل کو اسے غصہ آیا تھا نجیب اس لڑکی چہرے کو نوٹ کررہا تھا آنکھیں کھول کر۔۔
ڈرائیور کی مدد سے وہ نجیب کو سہارا دیتی گاڑی تک لے آئی تھی۔۔۔
“آپ گاڑی ہاسپٹل۔۔۔”
“مجھے ہاسپٹل نہیں جانا وہاں میری فیملی۔۔۔ اور پریشان ہوجائے گی۔۔”
“پر سر۔۔۔”
“پلیز۔۔۔”
حورب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لئیے نجیب نے آنکھیں بند کرلی تھی حورب بھی بیک سیٹ پر بیٹھے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا کہہ چکی تھی
“آپ گاڑی گھر کی طرف لے جائیں۔۔۔”
“پر میڈم۔۔”
“حورب کی ایک نظر پر ڈرائیور گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا۔۔۔
۔
“غصہ۔۔۔ نسواء پہ گیا ہے۔۔۔”
نجیب کو اب سر میں درد ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکی آنکھیں بلر ہورہی تھی۔۔۔
“آپ انہیں اٹھا کر اندر لے جائیں۔۔۔”
چار سیکیورٹی گارڈ نے نجیب کو اٹھایا اور جب اندر لیونگ روم کے صوفہ پر لٹایا تو نسواء بھی پریشانی کے عالم میں داخل ہوئی
“حورب بیٹا۔۔۔ یہ شرٹ پہ خون کیسا۔۔؟؟”
“ماما ریلیکس میں ٹھیک ہوں انہیں چوٹ آئی ہے۔۔انکا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔”
حورب جیسے ہی پیچھے ہٹی تو نسواء کی نجیب لیٹے ہوئے نجیب پر پڑی۔۔۔
“ماما آپ انکے پاس بیٹھے میں ابھی آئی۔۔”
وہ نسواء کا ہاتھ پکڑے نجیب کے پاس بٹھا گئی تھی۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی نجیب کے خون سے بھرے چہرے کو دیکھ کر نسواء کے دماغ میں وہ ایک ہی قصہ گھوم رہا تھا اس نے غصے سے اس زخم پر ہاتھ رکھا تھا
“آپ کیا سمجھتے ہیں یہ زخمی خون لگا کر چوٹ دیکھا کر آپ کیا کرلیں گے۔۔؟؟ دور رہیے مجھ سے میری بیٹی سے۔۔۔”
“وہ اٹھ کر جانے لگی تھی جب نجیب نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا
“مجھ تک پہنچنے کے لیے آپ میری بیٹی کا استعمال کررہے ہیں۔۔۔؟ بدلہ لینے کے لیے۔۔۔؟؟ اور یہ زخم یہ جھوٹے زخم یہ ایکسیڈنٹ اور یہ خون کا رنگ۔۔۔۔”
نسواء نے ماتھے پر واضح زخم پر ہاتھ رکھ کر رگڑکر اس رنگ کو مٹانے کی کوشش کی تھی پر اسکے ہاتھوں میں اور خون لگ گیا تھا جو اسکے ناخن لگنے سے نکلنا شروع ہوا تھا نجیب کی آنکھیں پوری کھلی ہوئی تھی وہ اس طرح لیٹا تھا وہاں کہ اسکا سر نسواء کی طرف تھا
“جس دن میرے جھوٹے زخموں کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے میں نے سوچ لیا تھا اب چوٹ کا بہانہ بناؤں گا تو خود کو تکلیف بھی دوں گا تاکہ آپ کے سامنے شرمندہ نہ ہوسکوں۔۔۔۔”
وہ کہنا شروع ہوا تھا نسواء ہاتھوں میں لگے خون کو دیکھ کر پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
“ماما آپ یہیں بیٹھے پلیز۔۔۔ان کا سر آپ یہاں پکڑ کر رکھیں انہیں سٹیچز کی ضرورت ہے۔۔۔”
نسواء کے پوچھے بغیر ہی نجیب نے اپنا سر اسکی گود میں رکھ دیا تھا۔۔۔ گھٹنوں کے بل بیٹھے حورب نے نجیب کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا
“آپ کو جس دن گولی لگی تھی میں نے پہلے بھی کہا تھا اتنا لاپروائی اچھی نہیں ہے سر۔۔
موم آپ انکا چہرہ صاف کردیں گی۔۔۔؟؟”
نسواء کے ہاتھ میں کاٹن پکڑائے وہ اپنی ہاتھوں میں گلوز پہننے لگی تھی
نسواء کے ہاتھ وہیں ساکن ہوگئے تھے اس نے نجیب کی طرف دیکھا تھا جو بہت معصوم سا منہ بنائے وہیں بیٹھا اسے دیکھنے لگا تھا
“ماما پلیز۔۔۔”
نسواء نے آہستہ آہستہ منہ صاف کرنا شروع کردیا تھا نجیب
“آؤچ دھیان سے مس۔۔۔”
نسواء کے چہرے پر درد ابھرا تھا جو اس نے بہت جلدی کور کرلیا تھا۔۔وہ چہرہ صاف کرچکی تھی نجیب کا۔۔اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے معلوم نہ ہوا کب وہ اسکی آنکھوں میں کھو گئی تھی اسکے ہاتھ رکے تھے نجیب کے ہونٹوں کے قریب آکر
“ماما بس ہوگیا اب زرا سائیڈ پر ہوں میں انہیں سٹیچز لگا دوں۔۔۔سر تھوڑا سا درد ہوگا۔۔۔”
نجیب کے ہاتھ پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا حورب نے اسکی نگاہیں نسواء سے ہٹ چکی تھی
اس نے بےساختہ اس لڑکی کو دیکھا تھا
“اٹس اوکے۔۔۔بیٹا۔۔۔”اسکا دوسرا ہاتھ نسواء کے گھٹنے پر اپنی گرفت بنا چکا تھا۔۔۔
بیٹا لفظ۔۔۔۔ جو اس نے پہلی بار بولا اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔
“ایکسکئیوز مئی۔۔۔”
نسواء وہاں سے جلدی میں جانے لگی تھی جب حورب نے پیچھے سے آواز دی تھی
“کوئی خوبصورت سا ریڈ ڈریس پہنئیے گا موم حزیفہ انکل کی فیملی سے ملنا ہے۔۔۔
آپ کے ہونے والے سسرال۔۔۔”
نسواء رکی اور مڑ کر پیچھے دیکھا تھا وہ غصے سے حورب کو دیکھ رہی تھی جب اسکی آنکھیں نجیب غصے بھرے آنکھوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔
“شٹ اپ لڑکی۔۔۔ ایسا کچھ نہیں۔۔”
حورب ہنسی تھی پر کچھ پل میں اس نے اپنا ٹریٹمنٹ شروع کردیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں شرمندہ ہوں سچ پوچھیں تو ڈر گیا تھا۔۔ پہلی بار وعدہ نبھا نہ سکا نسواء۔۔
اگر معلوم ہوتا میرے اس جھوٹ پر آپ کی آنکھیں بھیگ جائیں گی تو سچ مچ کا ایکسیڈنٹ کرلیتا اپنا۔۔”
۔
“جس دن میرے جھوٹے زخموں کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے میں نے سوچ لیا تھا اب چوٹ کا بہانہ بناؤں گا تو خود کو تکلیف بھی دوں گا تاکہ آپ کے سامنے شرمندہ نہ ہوسکوں۔۔۔”
۔
۔
اس کا گزرا ہوا کل اور آج ایک دائرےمیں اسکے سر کے گرد گردش کررہا تھا۔۔
وہ روتی کیا نہ کرتی۔۔ وہ اب خود کو کوسنا شروع ہوگئی تھی کہ وہ واپس کیوں آئی۔۔۔
سر پکڑے وہ بیڈ پہ جیسے ہی بیٹھی تھی موبائل فون بجنا شروع ہوا سکرین پر مننان کا نام دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہنا شروع ہوگئے۔۔
“مننان میرے بچے۔۔۔”
روتے ہوئے اس موبائل فون کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا اس نے۔۔۔
نجیب کا چہرے سامنے آتے ہی اسکی ہر وہ زیادتی اسے یاد آجاتی جواس نے اس چار سال کے چھوٹے بچے کے ساتھ کی۔۔۔
۔
“میم مننان سر کی کال آئی ہے ۔۔۔”
ملازمہ نے دروازہ ناک کرکے کہا تھا۔۔۔ نسواء جلدی سے منہ صاف کئیے دروازے تک گئی تھی اور دروازہ کھول کر موبائل پکڑ لیا تھا۔۔۔
“اففو۔۔ بیٹا کچھ دیر صبر نہیں کرسکتے تھے۔۔۔”
“نہیں جب میرا دل بےچین ہو۔۔ جب مجھے پتہ ہو کہ آپ کسی تکلیف میں ہے تو کیسے صبر کرلوں ماں۔۔؟؟”
“اووہ۔۔۔ مننان۔۔۔”
وہ ٹیک لگائے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی اور دوسری طرف مننان نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی
“آپ دونوں وہاں جاکر بھول گئی ہیں نہ مجھے۔۔؟؟ نہ حورب کا فون آیا نہ آپ کا۔۔”
“بیٹا ایسی بات نہیں بس کچھ مصروفیات تھی کہ ۔۔۔”
“ماں بھلانے والا ہوں ماں۔۔۔”
مننان کا لہجہ اداس ہوا تو نسواء کی ممتا بھی تڑپ اٹھی تھی
“میرے بچے ہماری کل کائنات تم ہو یہ بات یاد رکھنا۔۔۔ ہم تینوں ہی تو ہیں ایک دوسرے کے اور کون ہے ہمارا۔۔۔؟؟ اور کب آرہے ہو تم یہاں۔۔؟؟”
“ماں بس کچھ دن لگے گئے۔۔۔”
“تو ہم واپس آجائیں۔۔؟؟ حورب کی کانفرنس تو ختم ہوگئی ہے۔۔”
“نہیں۔۔۔۔” مننان ایک دم سے بولا تھا
“حزیفہ انکل کیا سوچیں گے ماں۔۔؟ آپ دونوں رات کا ڈنر تو اٹینڈ کریں میں بھی پرسو کی فلائٹ سے آجاؤں گا۔۔۔”
۔
کچھ دیر اور بات کرنے کے بعد نسواء نے فون بند کردیا تھا
۔
“آپ کا کوئی جھوٹ کوئی فریب اب کچھ معنی نہیں رکھتا نجیب یہ بات یاد رکھئیے گا آپ۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما وہ جو آپ دودھ میں ہلدی ملا کر ہمیں دیتی ہیں آپ پلیز وہ بنا لائیں گی۔۔؟؟ سر کو زرا سکون ملے گا۔۔۔”
حورب نے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔
“نہیں بی۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ میں اب چلتا ہوں۔۔۔ آپ ٹریٹمنٹ کے پیسے۔۔۔”
“شرمندہ مت کریں مسٹر۔۔۔ ہر چیز پیسے سے نہیں تولی جاتی۔۔۔”
وہ بات کرتے جیسے ہی لیونگ روم سے باہر آئے تھے نسواء نے دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھ دیا تھا نجیب کے ہاتھوں میں پکڑانے کے بجائے۔۔
“بیٹا دودھ تو بنوا لیا زرا پئشنٹ سے پوچھ لیں انہیں پسند ہے۔۔؟؟”
نسواء نے ترچھی نظروں سے نجیب کی طرف کیا تھا یہ وہی جانتی تھی نجیب کو کتنی الجھن تھی ہلدی والے دودھ سے۔۔۔
“مجھے بہت پسند ہے۔۔ میری بیوی بنا کر دیتی تھی۔۔۔”
“اور آپ پیتے نہیں تھے ضائع کردیتے تھے۔۔۔”
یہ بات بار بار نسواء کے لبوں پر آئی تھی پر حورب کے سامنے اسنے اپنے لب بند رکھنا ضروری سمجھا۔۔۔
“سر اگر آپ کو نہیں پسند تو۔۔۔”
نجیب کچھ سیکنڈ میں گلاس ختم کرچکا تھا۔۔۔ شکریہ۔۔۔ محترمہ۔۔۔”
نسواء کی طرف دیکھتے ہوئے نجیب نے کہا تھا۔۔۔ اور جانے سے پہلے حورب کی سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
“ٹیک کئیر۔۔۔بیٹا۔۔۔”
وہ بیٹا لفظ اپنی بیوی کے سامنے اپنی ہی بیٹی کو بولتے ہوئے ہچکچا رہا تھا۔۔۔
“خدا حافظ۔۔۔”
وہ دروازے کی طر بڑھا تھا اس امید میں کہ نسواء کچھ تو کہے گی اسے روکے گی کچھ بھی۔۔۔ پر جب دروازہ کھولتے ہوئے اس نے پیچھے دیکھا تو نسواء حورب کو کچھ کہتے ہوئے اپنے گلے سے لگا چکی تھی دونوں ماں بیٹی کسی بات پر ہنسی تھی۔۔
نجیب نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا تھا اور وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
وہ باہر جیسے ہی کھڑا ہوا تھا اس نے ڈرائیور کو کال کی تھی جو اسے پک کرنے آگیا تھا۔۔۔
بیک سیٹ پر وہ جیسے ہی بیٹھا تو آنکھ سے ایک آنسو نکلا تھا جس ہاتھ میں لئیے نجیب نے آنکھیں بند کرلی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان یار یہ ٹھیک نہیں وہ لڑکی زات ہے۔۔ کیا ہوگا امیج اس سکینڈل کے بعد۔۔؟؟”
شہیر نے جیسے ہی مننان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا مننان نے اسکو گریبان سے پکڑ کر دروازے کے ساتھ لگا دیا تھا
“جب گیارہ سال کا تھا میں تب میری ماں کے ساتھ کچ غنڈوں نے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی ان کا کیا قصور تھا۔۔؟؟ ایک امیر شوہر کی بیوی ہوتے ہوئے کتنے مردوں کے درمیان میں نے اپنی ماں کو کام کرتے دیکھا برتن دھوتے ہوئے دیکھا۔۔۔
اور وہ لڑکی نجیب آفندی کی بیٹی ڈرگز اڈیکٹ میں۔۔ میں نے تھوڑی کہا تھا نشہ کرے ۔۔
یہ سکینڈل تو باہر آنا ہی تھا۔۔۔”
مننان نے فون پر انسٹرکشن دہ دئیے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈیڈ آپ کو دیکھ کر ڈرائیو کرنی چاہیے تھی آپ جانتے ہیں پہلے ماما کے ساتھ مسئلہ ہوا اب آپ۔۔۔”
نجیب کے گھر آتے ہی سب ایک جھرمٹ کی طرح اسکے ارد گرد تھے
“تمہیں شرم نہیں آتی۔۔؟ تمہارا باپ زخمی حالت میں آیا ہے اور تم فالتو باتیں کررہی ہو۔۔جاؤ کچن سے جوس لیکر آؤ۔۔۔”
ناہید بیگم نے شزا کو ڈانٹ کر کچن کی طرف بھیجا تھا۔۔۔
“اٹس اوکے ماں۔۔۔شزا بیٹا یہاں میرے پاس آکر بیٹھو۔۔”
نجیب جو پیار حورب کو نہیں دے سکا شزا کو دیکھتے ہی اسکے دل میں نرمی آگئی تھی
شزا نجیب کے کندھے پر سر رکھے جیسے ہی بیٹھی تھی روم میں آفندی صاحب غصے سے آئے تھے
“شزا۔۔۔۔یہ سب کیا بکواس ہے۔۔۔؟؟”
“دادو۔۔۔ میں نے کیا کیا۔۔۔؟؟”
“گھر کی خاندان کی عزت مٹی میں ملانے کے بعد بکواس کرتی ہو کہ کیا کیا۔۔؟؟”
“ڈیڈ۔۔۔ انفف۔۔۔ آپ کو کوئی حق نہیں میرے بچوں سے اس لہجے میں بات کرنے کا۔۔۔”
نجیب آفندی صاحب کے روبرو کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“ٹی وی لگاؤ زرا۔۔۔دیکھو اپنی بیٹی کی کرتوت۔۔۔ پولیس نیچے آئی ہوئی ہے۔۔۔ یونیورسٹی میں جو ڈرگ سپلائی کرتی ہے اور جس لڑکی کی طبیعت زیادہ ڈوز لینے سے خراب ہوئی اس نے تمہاری بیٹی کا نام لیا ہے۔۔۔
نجیب۔۔۔ نیوز دیکھو۔۔۔”
نجیب آفندی نے مٹھی بند کرلی تھی اور جب ٹی وی نظر پڑی تھی ڈرگ لیتی اپنی بیٹی کو دیکھ کر انہوں نے شزا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“یہ تو بھلا ہوا اس شخص کا جس نے میڈیا والوں سے بات چیت کرکے اس کا نام اور چہرہ ہائیڈ کروا دیا تھا۔۔۔یہ۔۔۔ ہمارا خون ہے۔۔؟؟”
آفندی صاحب کی بات سن کر سب ششدر رہ گئے تھے اور نجیب نے شزا پر ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔اور پھر آفندی صاحب کی طرف دیکھا تھا
“آپ۔۔۔ نے اگر آئندہ میرے خون پر انگلی اٹھائی ڈیڈ تو میں ہر رشتہ ختم کردوں گا۔۔۔”
وہ زمین پر گری روتی ہوئی بیٹی اور شاکڈ فادر کو چھوڑ کر کمرے سے ہی نہیں گھر سے بھی باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
۔
اسکے سامنے دو چہرے گھوم رہے تھے نسواء اور حورب کے۔۔۔
آج کے اس سکینڈل نے نجیب آفندی کو ایک بہت بڑا دھچکا دہ دیا تھا۔۔۔
۔
اسے کیا معلوم تھا یہ شروعات تھی۔۔۔ یہ وقتِ زوال تھا اس کا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
