62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“گاڑی میں بیٹھو۔۔۔”
“سیریسلی مننان۔۔؟ موڈ سپوئل مت کرو۔۔۔وہ آجائے گی۔۔”
مگر مننان نے لیزا کی بات کو اگنور کردیا تھا وہ روڈ پہ کھڑی اس لڑکی کو ایسے چھوڑ کر نہین جا سکتا تھا خاص کر تب جب اس نے ہی اس فنکشن میں منیشہ کو آنے کا کہا تھا کیونکہ وہ خود بزنس کالز اٹینڈ نہیں کرسکتا تھا اپنی ماں اور بہن کے سامنے
“نو سر اٹس اوکے۔۔۔ میں نے ٹیکسی منگوائی ہیں۔۔”
“گٹ ان ناؤ۔۔۔”بیک سیٹ کا ڈور اوپن ہوا تو منیشہ نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا تھا اور پیچھے بیٹھ گئی تھی
“ہممم۔۔۔ اب ان ملازموں کو بھی لفٹ دینے جتنے دن آگئے تھے۔۔۔”
لیزا نے اتنی آہستہ آواز میں اونچی کہا تھا کہ منیشہ سن سکے۔۔۔
پر منیشہ نے سب درگزر کردیا تھا وہ کچھ پل کے لیے بھول گئی تھی کہ آگے بیٹھی اس حقارت اور نفرت سے دیکھنے والی لڑکی اس ہاف سسٹر تھی اسکی چھوٹی بہن۔۔
۔
منیشہ نے کھڑکی کی طرف منہ کرلیا تھا جب مننان کی تھائی پر لیزا نے اپنا ہاتھ رکھ کر اسکے کندھے پر سر رکھ دیا تھا
۔
“اب نہ دل کو کسی کی عادت ہو۔۔۔
اب نہ کسی سے محبت ہو۔۔۔”
رئیر ویو مرر سے مننان کی نگاہ بار بار اپنی سیکریٹری پر جارہی تھی جسے وہ پورے فنکشن میں ذلیل کرتا رہا جیلس کرتا رہا اور اب جب وہ کامیاب ہوگیا تھا اس لڑکی کو اسکی حیثیت بتانے میں پھر کیوں وہ اسے گم صم چپ چاپ بیٹھے دیکھ خوش نہیں تھا۔۔۔
۔
“مس منیشہ کیسا محسوس کررہی ہو اس لگثری کار میں بیٹھ کر۔۔۔؟”
لیزا کی آواز نے اسے ایک دم سے چونکا دیا تھا۔۔
“کیسا محسوس ہونا چاہیے میم۔۔؟”
اس نے شائستگی سے پوچھا لہجہ بہت دھیما تھا منیشہ کا
“ہاہاہاہا۔۔۔زمین پر چلنے والے کو آسمان پر بیٹھ جیسا محسوس ہوتا ہاہاہا۔۔”
اس نے اور قہقہ لگایا تھا پر منیشہ نے اگنور کردیا تھا اور پھر اسکی نظریں باہرکی دنیا پر تھی پر دھیان وہ تو اسی فنکشن پر جارہا تھا جہاں کچھ دیر پہلے اسکی اچانک کی دوسری ملاقات اسے پیدا کرنے والی ماں سے ہوئی تھی۔۔۔
“ماں۔۔۔”
“کیا وہ کرسی اٹھا کر یہاں لا سکتی ہو۔۔؟؟”
فضا کی آواز پر وہ ماں لفظ اسکی زبان پر اٹک گیا تھا
“یا شئور۔۔۔”
اور وہ کرسی جیسے ہی اس نے فضا کے پاس رکھی تھی فضا نے اپنے ہسبنڈ کے ساتھ رکھ لی تھی اور بیٹھ گئی تھی اپنی ہیپی فیملی کے ساتھ اور منیشہ کچھ دور جا کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
وہ حیران تھی قسمت پر وہ حیران تھی اسے پیدا کرنے والی کی بےحسی پر۔۔
وہ حیران تھی خود پر اتنے سالوں کے بعد بھی اسے امید تھی اس ممتا کی۔۔؟
جو بچپن میں ہی مر گئی تھی
“آگے آکر بیٹھو۔۔۔”
مننان کی سخت آواز پر اسکی آنکھ کھل گئی تھی چہرے سے آنسو صاف کرکے اس نے آگے دیکھا تو گاڑی ایک بڑے سے مینشن کے آگے رکی ہوئی تھی لیزا اتر کر اندر جاچکی تھی اور اب مننان نے پھر سے منیشہ کو آگے آکر بیٹھنے کا کہا تھا
“اٹس اوکے سر میں یہاں ٹھیک ہوں آپ پلیز گاڑی سٹارٹ کریں۔۔۔”
“میں نے کہا آگے اکر بیٹھو میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں۔۔”
“میں نہیں بیٹھنا چاہتی آگے۔۔ آپ سٹارٹ کریں ہم لیٹ ہورہے ۔۔۔”
منیشہ کی آواز میں بھی اتنا ہی غصہ تھا
اور جب مننان گاڑی سے نکل کراسکی سائید کی طرف آیا اس نے دروازہ کھول کر بازو سے پکڑا تھا منیشہ کو اور باہر نکال کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا
“بیٹھو۔۔”
“میں نہیں بیٹھوں گی اپ زبردستی نہیں کرسکتے۔۔۔”
“اوکے۔۔ پھر یہیں رہو اور ڈھونڈو ٹیکسی گڈ بائے۔۔”
وہ کچھ سیکنڈ میں اپنی سیٹ پر بیٹھ کر کار سٹارٹ کرچکا تھا اور ایک منٹ میں گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تھی
“اٹس اوکے منیشہ۔۔۔ خون کے رشتے بیچ راہ چھوڑ گئے انکے چھوڑ جانے سے کیا فرق پڑے گا۔۔؟؟”
وہ خود سے بات کرتے ہوئے چل دی تھی سننان سڑک پر۔۔۔
پر آنکھوں سے جاری آنسوؤں نے بتا دیا تھا کہ اسے فرق پڑ رہا تھا مننان کے اس طرح چھوڑ جانے پر۔۔۔
“فرق پڑ رہا ہے۔۔۔ وہ شخص میرے دل پی اثر انداز ہورہا ہے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کہاں جانا ہے میں چھوڑ دوں۔۔؟؟”
ایک بائیک بہت تیزی سے پاس سے گزری اور سڈن بریک سے وہ رکی اور ریورس ہوئی۔۔
“نو تھینکس۔۔۔”
بائیک والے نے ہلمٹ ابھی نہیں اتارا تھا نہ ہی بائیک کا انجن بند کیا تھا بس کچھ قدم کے فاصلے پر بائیک روکی تھی
“دیکھیں سر۔۔”
“یو کین ٹرسٹ مئ گھر تک باحفاظت پہنچاؤں گا۔۔ ویسے بھی یہ ایریا خطرناک ہے کوئی ٹیکسی آٹو نہیں ملنے والا۔۔۔”
“پھر بھی نو تھینکس۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
منیشہ جیسے ہی چلنا شروع ہوئی تو اس بائیک والے نے بائیک سے اتر کر اسکے ساتھ چلنا شروع کردیا تھا۔۔۔
“آپ فالو کیوں کررہے ہیں۔۔؟؟ مجھے نہیں جانا۔۔۔”
پر وہ اسکے پیچھے پیچھے بائیک کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا
“اففف۔۔۔”
“پلیز میڈم چلیں وقت ضائع ہورہا میرا۔۔۔”
کچھ سوچنے کے بعد وہ بیٹھ گئی تھی اور بائیک جیسے سٹارٹ ہوئی تھی منیشہ نے ایک نظر پیچھے دیکھا تھا
آج جس طرح مننان نے اسے ایک ویران جگہ بے آسرا چھوڑا تھا وہ اندر تک مایوس ہوئی تھی۔۔
ٹھنڈی ہوا میں اس نے جیسے ہی آنکھیں بند کئیے اس شخص کے کندے پر سر رکھا تھا وہ گہری نیند میں چلی گئی تھی
“میڈم ایڈریس۔۔؟؟”
ایڈریس بتانے کے بعد وہ بہت پیچھے ہوکر بیٹھی تھی اور خود کو بار بار کوسنے لگی تھی۔۔۔
کچھ دیر میں وہ اس رینٹ والی بلڈنگ کے سامنے تھی۔۔۔
“شکریہ۔۔۔”
مگر بائیک والے نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔۔۔ اور جب منیشہ اندر جانے لگی تھی تب اس نے پیچھے سے اسے پکارا تھا
“اگر شکریہ ادا کرنا ہے تو میری معافی کو بھی قبول کیجئے۔۔۔”
“معافی۔۔؟؟ وہ کس لیے۔۔؟؟”
منیشہ نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔اور تبھی اس نے اپنا ہلمٹ اتارا۔۔۔
اور منیشہ کے چہرے پر خود با خود غصہ آگیا تھا اسی پارٹی میں بدتمیزی کرنے والے اس شخص کو دیکھ کر۔۔۔
“یو۔۔۔۔”
“ماہیر آفندی۔۔۔ اگر ہوسکے تو معاف کردیجئے گا مجھے۔۔۔”
۔
وہ معصوم سا منہ بنا کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔منیشہ کو حیران چھوڑ کر۔۔۔
یہاں وہ روم میں داخل ہوئی تھی وہاں مننان کی گاڑی واپس اسی روڈ پر رکی تھی اور وہ پاگلوں کی طرح منیشہ کو اس سنسان روڈ پر ڈھونڈنے لگا تھا۔۔۔
“منیشہ۔۔۔۔”
“مس منیشہ۔۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسوا بھابھی۔۔۔”
“بھابھی پلیز بات سنیں۔۔۔”
پلیز۔۔۔”
نسواء کے قدم رک گئے تھے
“موم چلیں بھائی ویٹ کررہے ہیں۔۔”
حورب نے فضا کو ایک نظر دیکھا سلام کرنے کے بعد نسواء کو کہا تھا اور واپس پارکنگ میں چلی گئی تھی
“بھابھی۔۔۔”
“بار بار مجھے یہ لفظ بول کر شرمندہ نہ کرو وہ جو اندر ہے وہ رائٹ فلی بھابھی ہے تمہاری۔۔”
“نسواء بھابھی میں آپ سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔۔ انفیکٹ ہم سب۔۔۔ بھابھی نجیب بھائی اپنے کئیے پر پچھتا۔۔”
“وہ اپنی شادی پر پچھتائے ہیں۔۔؟؟ معافی اس دن مانگنا جس دن نجیب آفندی اپنی دوسری شادی پر پچھتائے۔۔”
نسواء اسے لاجواب کئیے دو قدم آگے بڑھی تھی اور اسے کیا سوجھی کہ وہ واپس فضا کے سامنے کھڑی تھی
“مجھے لگا تھا آفندی خاندان بس غیروں کے لیے ایسا سنگدل ہے پر تم نے تو مثال بنا دی جو اپنی اولاد کے ساتھ کیا۔۔۔”
“بھابھی۔۔؟؟ ایسا کچھ نہیں ہوا میری بیٹی سے ملیں وہ یہیں تھی”
“کیا اولاد میں وہی ہے۔۔؟؟ تو مجھے افسوس ہے تمہارے ماں ہونے پر بھی۔۔”
اور نسواء وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
۔
“بھا۔۔۔”
اپنے سر پہ ہاتھ رکھے فضا کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی اسے حقیقت دیکھا گئی تھی نسواء۔۔۔
اس اولاد کے بارے میں جسے وہ بھول چکی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب۔۔۔؟؟”
“آ پ جاگ رہی ہیں دادی۔۔؟؟ سو جائیں۔۔۔”
نجیب سیڑھیوں سے اوپر جارہا تھا جب ٹیبل سے اس کا پاؤں اٹکا تھا اور وہ لڑکھڑا گیا تھا
“میرے بچے۔۔۔”
گلدان ٹوٹ کر گرگیا تھا نجیب کی انگلیوں کو زخمی کرنے سے پہلے۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
“تم نے سب کچھ اپنی مرضی سے کیا نجیب پھر یہ ڈرنک کرکے آنا اپنی زندگی کیوں عذاب بنا رہے ہو۔۔۔”
دادی نے ملازم کو بلایا تھا وہ نجیب کو سہارا دے کر اسکے کمرے میں لے گئے تھے جس میں وہ نسواء کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دادی زندگی عذاب ہی رہی ہمیشہ۔۔۔ نسواء کے جانے کے بعد بدترین ہوگئی۔۔۔”
دادی کمرے میں پانی کا گلاس لیکر جیسے ہی داخل ہوئی تھی
نجیب کروٹ کئیے لیٹا تھا دادی نے پانی کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر نجیب کے شوز جیسے ہی اتارنے کی کوشش کی وہ ایک دم سے اٹھ گیا تھا
“دادی سو جائیں جا کر پلیز۔۔۔”
“نہیں سوو سکتی بیٹا۔۔۔ اب مجھے نیند نہیں آتی۔۔۔ آنکھیں بند کرتی ہوں تو بچوں کی ناکامیاں نظر آتی ہیں۔۔۔خاص کر تم۔۔۔
تم سب سے لاڈلے رہے میرے اپنے دادا کے۔۔۔اپنے دادا کے زیادہ۔۔۔”
“ہمم۔۔۔”
دادی جیسے ہی تکئیے والی سائیڈ پر بیٹھی نجیب نے دادی کی گود میں سر رکھ لیا تھا
“تم نے شاید کبھی غور نہیں کیا کہ اس فیملی میں کیوں کبھی کسی کو تمہاری دوسری شادی سے کوئی اعتراض نہیں ہوا کیوں عمارہ کو نسواء پر ترجیح دی گئی کیوں نسواء کو وہ سب محبت اور عزت نہیں ملی۔۔”
نجیب کی سانسیں جیسے تھمنے لگی تھی دادی کی انگلیاں جیسے رکی تھی
“میں۔۔۔ میں نے کبھی نوٹ نہیں کیا دادی۔۔۔ایسا کیوں تھا۔۔؟؟”
“کیونکہ میں بھی دوسری عورت تھی تمہارے دادا کی زندگی میں۔۔۔ دوسری بیوی۔۔۔
یہ دوسری شادی تھی۔۔ میرے سارے بچوں کو معلوم تھا۔۔۔ “
“کیا دادا ابو اپنی پہلی شادی سے خوش۔۔۔”
“ہاہاہا خوش۔۔؟؟ بہت خوش تھے نجیب جیسے تم تھے اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ۔۔۔
تمہیں اتنا خوش میں نے پھر کبھی نہیں دیکھا۔۔۔”
نجیب خاموش ہوگیا تھا مگر دادی چپ نہ ہوئی تھی۔۔
“اگر خوش تھے تو کیوں کی دوسری شادی انہوں نے۔۔؟؟”
“تم نے کیوں کی تھی دوسری شادی بیٹا۔۔؟؟”
نجیب کی خاموشی میں جواب مل گیا تھا دادی کو
“جیسے تمہیں کوئی اور پسند آنے لگا تھا ویسے ہی تمہارے دادا بھی میری طرف مائل ہوئے تھے۔۔۔
وہ چچا زاد تھے انکی پہلی شادی محبت کی شادی کی دھوم پورے خاندان میں تھی۔۔۔
کچھ سال ہی ہوئے تھے جب ایک فیملی فنکشن پر ہماری بات چیت شروع ہوئی۔۔۔
ہمم۔۔۔۔۔ مجھے وہ دن یاد ہیں جب نصیب کی پہلی بیوی نے میرے پرسر رکھے اپنے شوہر کو واپس مانگا تھا مجھے سو دوہائیاں دی تھی شادی نہ کرنے کی۔۔۔”
دادی کا چہرہ بھر آیا تھا آنسوؤں سے۔۔۔
“دادی۔۔۔”
“تمہارے دادا نے جیسے ہی دوسری شادی کی تمہاری انہیں چھوڑ کر جا چکی تھی۔۔
اپنے بچوں کو ساتھ لے گئی تھی۔۔۔”
“بچے۔۔۔؟؟؟کتنے بچے تھے دادی۔۔۔؟؟”
“تین بیٹے۔۔۔”
ہمممم۔۔۔۔
نجیب نے آنکھیں بند کرلی تھی
“آج جس مقام پر تم ہو بیٹا۔۔۔ تمہارے داد ا بھی ایسے ہی روتے تھے۔۔۔
جب تک زندہ رہے ڈھونڈتے رہے اپنی فیملی کو۔۔۔
اور پھر۔۔۔ جس دن انہوں نے یہ کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرکے جتنا پچھا رہے ہیں۔۔۔
اس دن انہوں نے آخری سانس لیا تھا۔۔۔
اور اس دن کے بعد سے میں پچھتا رہی ہوں نجیب۔۔۔ میں نسواء میں ہمیشہ اس عورت کو دیکھتی آئی جس کے ساتھ میں نے انجانے میں زیادتی کردی تھی”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“منیشہ۔۔۔”
رات کو تین بج رہے تھے جب منیشہ کی آنکھ کھلی دروازے پر کوئی پاگلوں کی طرح دستک دے رہا تھا بلکہ توڑ رہا تھا
“کون۔۔”
ابھی آدھی نیند میں دروازہ کھولا تھا جب مننان جلدی میں اندر داخل ہوا تھا
منیشہ کو سہی سلامت دیکھ کر اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا
“بیوقوف لڑکی۔۔۔پچھلے چار گھنٹوں سے پاگلوں کو طرح میں تمہیں وہاں تلاش کررہا ہوں اور تم یہاں۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
“شیم آن یو۔۔۔ مجھے وہاں ٹیشن دے کر تم یہاں سو رہی تھی اور۔۔”
“شیم آن یو مسٹر مننان ایک سنسان سڑک پر مجھے تنہا چھوڑ کر آپ اگر بعد میں ڈھونڈنے بھی چلے گئے تو کوئی احسان نہیں کردیا۔۔۔ پیچھے ہٹئیے۔۔۔”
مننان کو خود سے پیچھے دھکا دہ دیا تھا اب اسے مننان کو دیکھ کر حیرانگی ہوئی تھی
شرٹ کے بٹن اوپن تھے بال بکھرے ہوئے اور تھکی ہوئی آنکھیں کچھ اور ہی بتا رہی تھی
“اگر میں وہاں کچھ پل کو بھی رک جاتی تو میں بھی کسی راہ چلتے غنڈ موالی کا شکار ہوجاتی کسی ریپ وکٹم کی طرح۔۔۔”
مننان نے گردن سے پکڑے منیشہ کو اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
مننان چلایا تھا پر منیشہ وہ آج جھکنے والی نہیں تھی
“کیوں سچ برداشت نہیں ہوا۔۔؟ یہی تو چاہتے تھے ورنہ کون مرد ایسے کرتا ہے رات کے اس پہر کون کسی لڑکی کو ایسے چھوڑتا ہے۔۔؟؟ آپ نے سوچا ہوگا پارٹی میں کم ذلیل کیا کم مشکلیں پیدا کی کہ اب اور کرو۔۔۔آپ کو کیا فرق پڑتا میں مرتا میرا ریپ۔۔۔”
مننان نے ان دونوں کے چہروں کے درمیان وہ فاصلہ ختم کردیا تھا کہ منیشہ کی آنکھیں شاک سے بڑی ہوگئی تھی جب مننان کے لب اسے خود پر محسوس ہوئے تھے۔۔۔
وہ لاکھ کوشش کررہی تھی مگر مننان کی گرفت مظبوط تھی اسکے کندھے پر۔۔
اور جب منیشہ نے اپنی پوری طاقت سے اسے خود سے پیچھے جھٹکا اور ایک زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر مار ا تو مننان بےیقینی سے پیچھے ہوگیا تھا
“جسٹ گیٹ آؤٹ مسٹر۔۔ میں لیزا نہیں ہوں جو ایسے حرام رشتے میں نامحرم کے ساتھ رہوں۔۔ دور رہیں مجھ سے۔۔۔”
مننان کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ دروازے تک لے گئی تھی جو خود بھ شرمندہ ہوا تھا پہلی بار۔۔۔
“منیشہ۔۔۔”
دفعہ ہوجائیں میری نظروں سے۔۔۔”
مننان کے چہرے پر دروازہ بند کئیے وہ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھ گئی تھی
“کیا کروں میں آپ کا مننان آفندی۔۔۔”
گھٹنوں پر سر رکھے روتے ہوئے وہ وہی گہری نیند سو گئی تھی
اپنی ناکام زندگی سے کچھ پل کے لیے سکون کے لیے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ویلکم ٹو ہیل مسٹر نجیب آفندی۔۔۔”
“مسٹر مننان آمین احمد موسٹ ویلکم سر۔۔۔”
کانفرنس میٹنگ میں وہ جیسے ہی داخل ہوا تھا نجیب آفندی اور مسٹر آفندی کے علاوہ سب کھڑے ہوئے تھے مننان کے ویلکم میں۔۔
“تھینکس جنٹل مین۔۔۔ نائس ٹو میٹ یو مسٹر حاشر۔۔۔”
نجیب کے سامنے والی کرسی پر مننان جیسے ہی بیٹھا تھا اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا تھا جس کے بعد اسکے اسسٹنٹ نے فائل کھول کر اسکے سامنے رکھ دی تھی
“ہم اس پروجیکٹ کی کوٹیشن اور آپ کے آئیڈیاز سے بہت ایمپریس ہوئے ہیں ۔۔۔”
“ویری گڈ۔۔۔اینڈ۔۔؟؟”
مننان ریلیکس ہوکر بیٹھا گیا تھا
“جس کی بات ہورہی تھی وہ یہ ہے۔۔؟؟”
آفندی صاحب نے اپنی ناپسنددیدگی کا اظہار کیا تھا
“جی۔۔۔ یہی ہیں وہ جن کی سب تعریف کررہے تھے ہماری کمپنی انکی کارز امپورٹ کرنا چاہتی ہے اور ہم لونگ ٹرم کانٹریکٹ۔۔۔”
“اور آپ کو لگتا ہے ہم ایکسیپٹ کرلیں گے۔۔؟؟ جسٹ لائک ڈیٹ۔۔۔؟؟
میں نے تعریف سنی ہے کام نہیں دیکھا مسٹر مننان۔۔۔ ؟؟ کیا نام بتایا آپ نے اپنا۔۔۔؟؟”
نجیب نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا مننان کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر انکے ہونٹوں پر مسکراہٹ جھلکی تھی۔۔
“مسٹر نجیب اگر آپ نے میرا کام چیک کرنا ہے تو یہاں ان سب بزنس مینز سے پوچھئیے جو ابھی میرے احترام میں کھڑے ہوئے تھے۔۔۔اور۔۔”
“ایم سو سوری مسٹر مننان نجیب کی بات کا برا۔۔”
پر مننان نے ہاتھ کو ٹیبل پر مارا تھا
“دوبارا پھر میری بات کو کاٹئیے گا مت۔۔۔جب میں بول رہا ہوں تو سنئیے پوری طرح۔۔۔”
مسٹر حاشر تو ایک دم سے گھبرا گئے تھے مننان کی آہستہ آواز بھی گونج رہی تھی کہ سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے تھے نجب دیکھ رہا تھا سب کے چہرے جو مننان کے غصے پر سہم گئے تھے۔۔۔
“ڈونٹ بی مین مسٹر مننان۔۔۔ہم یہ ڈیل کرنے کو تیار ہیں۔۔”
“آپ سے کون ڈیل کرنا چاہتا ہے۔۔؟؟ میری کمپنی یہ ڈیل جسٹ مسٹر حاشر کی کمپنی کے ساتھ کرنا چاہتی کمپنی کولیبریشنز کمپنیز سے نہیں۔۔۔”
اب نجیب کو غصہ آیا تھا جب مننان نے اسکی بات کاٹی تھی۔۔۔ ایک بات تو واضح ہوگئی تھی کہ یہ پہلی عادت مننان کی ان پر گئی
“اور تمہیں لگتا ہے حاشر میرے بغیر ایسا کرے گا۔۔؟؟”
“پوچھ لیں کرے گے۔۔؟؟ آخر کو ‘این-ایچ گروپ آف انڈسٹریز کے ساتھ یہ گولڈن چانس کوئی کیسے مس کرسکتا۔۔؟ کیوں مسٹر حاشر۔۔؟؟ یہ میری ڈیل پروفیٹ کا آپ کی کمپنی کو جسٹ 30 فیصد ملے گا پروجیکٹ کے سب ڈیسیژن میری اجازت کے بعد فائنل ہوں گے۔۔۔ لاسٹلی۔۔۔ جب تک آپ میری کمپنی کے ساتھ کانٹریکٹ میں ہوں گے آپ کسی بھی کمپنی کے ساتھ کوئی نئی ڈیل سائن نہیں کریں گے۔۔ اگر میری شرائط منظور ہوں تو کل ان کاغذات کے ساتھ کمپنی میں آجائیے گا۔۔۔”
سب کو سانپ سونگ گیا تھا۔۔
“سیریسلی۔۔؟؟ “
نجیب صاحب جیسے ہی اٹھنے لگے تھے حاشر نے ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھا لیا تھا
حاشر صاحب کی خاموشی نے نجیب کو اور غصہ دلایا تھا۔۔۔
“اوکے مسٹر مننان میں آپ کو بتا دوں گا۔۔۔”
“آلرائٹ۔۔۔ کمپنی میں آنے سے پہلے اپاؤنٹمنٹ لے لیجئے گا۔۔ میں بنا شیڈیول کے ملنے والوں کو اپنا وقت نہیں دیتا۔۔۔”
نجیب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مننان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ہوئی تھی
وہ یہ دوسری بازی جیتا تھا۔۔۔
“گڈ بائے مسٹر نجیب آفندی۔۔۔”
اٹھ کر کوٹ کے بٹن بند کرتے اس نے کہا تھا اور بنا حاشر سے ہاتھ ملائے وہ چلا گیا تھا وہاں سے۔۔
“وٹ دا ہیل حاشر۔۔؟؟ تم کیسے اک ڈیل کے پیچھے اسکی اتنی شرطیں مان سکتے ہو۔۔؟؟”
حاشر بیٹا مجھے تم سے یہ امید نہ تھی”
نجیب اور اسکے والد دونوں ہی بولے تھے
“میں سائن نہ کرتا تو ہمارا کوئی دشمن سائن کرلیتا۔۔۔ ‘این اینڈ ایچ ‘ کمپنی اور یہ جو ابھی گیا یہ اپنے آپ میں برینڈ بن گئے ہیں۔۔ منافع تیس فیصد بھی ہو تو اربوں میں جائے گا۔۔ جتنی اوپر یہ کمپنی جارہی ہے۔۔ “
“اس میں غرور دیکھا۔۔وہ۔۔”
“انکل اس پر غرور جچتا ہے۔۔ وہ اس مقام پر کھڑا ہے کہ جو میٹنگ آج اس نے کی اس میٹنگ اور ڈیل کے بعد ہماری کمپنی کو دوسرے بزنس مینز بھی اپرووچ کریں گے ۔۔”
حاشر بولتا جا رہا تھا اور نجیب اس خالی جگہ کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
۔
“آئی ہیٹ یو ڈیڈ۔۔۔”
“مجھے بھی نفرت ہے تم سے سنا تم نے۔۔ یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہورہا ہے۔۔”
۔
یہ دو باتیں اسے بارہا سنائی دے رہی تھی۔۔۔
جنہیں وہ بار بار بھلانے کی کوشش میں تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔