Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
“محبت کی امتحان اسکے جوبن میں ادا ہوں تو محبت کی شدت کا حق ادا ہوتا ہے
ساری زندگی گزر جانے کے بعد احساس جاگے تو کیا جاگے۔۔؟؟”
۔
“نسواء۔۔۔”
نجیب اسی بیڈروم کی طرف لے گئے تھے جو کمرہ کبھی ان دونوں نے شئیر کیا تھا
کمرے میں جاتے ساتھ ہی نسواء نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کا کیا
“بس کیجئے نجیب ۔۔ ایکٹنگ اچھی کرتے ہیں آپ۔۔ پر اس چار دیواری میں ضروری نہیں۔۔”
اور ساتھ ہی سیل فون سے ایک کال ملائی تھی
“ڈرائیور کے ہاتھ لگیج بھیج دو بیٹا تمہیں آنے کی ضرورت نہیں میں ایسے لوگوں کا سایہ بھی تم دونوں پر پڑنے نہ دوں۔۔”
نجیب کی آنکھوں میں دیکھتے ہی بات مکمل کی اور فون بند کردیا تھا۔۔
“نسواء۔۔۔ وہ سب ایکٹنگ نہیں تھی جو مجھے بہت سال پہلے کردینا چاہیے تھا ۔۔”
“آرام کریں آپ کو اسکی ضرورت ہے۔۔۔”
بیڈ پر بٹھا کر وہ دوسری طرف جانے لگی تھی جب نجیب نے اسکا ہاتھ پکڑا
“مجھے آپ کی ضرروت ہے نسواء بیٹھ جائیں یہاں میرے پاس۔۔۔”
۔
اس لمحے کچھ تو تھا نجیب کی آواز میں وہ طلب تھی جس نے نسواء کو اسکے پاس بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا۔۔
“نسواء کچھ وقت کے لیے ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں بس آپ کا نجیب بن کر رہوں ماضی کا ہرجائی نہیں۔۔؟؟”نسواء کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے بہت پیار سے پوچھا تھا
“نجیب آپ سے کچھ سال کی قربت نے بس کچھ سال ہی اپنی نظر کئیے مگر اس ہرجائی نے میری ساری زندگی کھا لی۔۔”
“نجیب بیٹا۔۔۔”
نسواء نے خود کو نجیب کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی نجیب نے جیسے ہی نسواء کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے وہ اٹھ کر باتھ روم کی طرف چلی گئی تھی پر کپبرڈ سے جو ہاتھ آیا کپڑا تھا وہ لیکر۔۔
“نجیب آپ ٹھیک ہیں۔۔”
وہ اسی جگہ کو تکتا رہ گیا تھا جہاں نسواء بیٹھی تھی۔۔
“نجیب۔۔؟”
دادی کو والدہ کو سب کو چھوڑ کر اسکی نظر عمارہ پر گئی
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کمرے میں آنے کی۔۔؟ میں کیا لکھ کر دوں تمہیں کہ بے دخل کرچکا ہوں تمہیں دفعہ ہوجاؤ۔۔ نکل جاؤ۔۔۔بےشرم۔۔”
عمارہ کا ہاتھ پکڑ کر روم کے باہر پھینک دیاتھا اور پھر دروازے ایک جھٹکے سے بند کردیا تھا
“نجیب بیٹا تمہیں ہوکیا گیا ہے اس عورت کے پیچھے
“وہ عورت بہو ہے آپ کی میری بیوی ہے ماں۔۔ عزت نہیں دہ سکتی تو یہاں کرکیا رہی ہیں۔۔؟؟”
“نجیب بیٹا گہرا سانس بیٹھو یہاں۔۔”
دادی نے بہو کو ایک نظر دیکھا تھا اور باہر جانے کا کہہ دیا تھا۔۔
نجیب کو جیسے ہی بیڈ پر بٹھایا تھا نسواء بھی فریش ہوکر باتھروم سے باہر آچکی تھی
“نسواء بیٹا۔۔ میرے نجیب کی زندگی بچانے کا بہت بہت شکریہ۔۔ میں جانتی ہوں تمہارے لیے ہم سب کو معاف کرنا بہت مشکل ہوگا مگر کوشش کرنا۔۔۔ اللہ معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔۔”
جب نسواء نے کوئی جواب نہ دیا تو دادی چلی گئی تھی
“میں کھانا اوپر بھجوا رہی ہوں کھا کر سونا تم دونوں۔۔۔۔”
بالوں کو ٹاول سے صاف کئیے وہ جیسے ہی ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی تھی ہر ایک چیز اسکے سامنے گونجنے لگی تھی وہ شیشہ اس پر پڑی چیزیں وہ نائٹ گاؤن جو اس نے پہنا تھا۔۔
۔
“آپ کو یاد ہے یہ میرا فیورٹ نائٹ گاؤن تھا نسواء۔۔ میں بہت شوق سے لایا تھا۔۔”
پر نسواء نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔۔بال سنوارتے سنوارتے وہ ماضی کی تلخ یادوں میں دھنستی چلی گئی تھی
“نجیب آپ کو وہ سب یاد نہیں آتا جس نے ہمارے رشتے کو خراب کیا۔۔؟ وہ حوس۔۔؟ وہ آفئیر عمارہ کے ساتھ وہ ون نائٹ سٹینڈ۔۔؟ “
“آپ کبھی نہیں بھولیں گی۔؟”
“جب تک آپ کا چہرہ سامنے رہے گا میں یاد رکھوں گی۔۔”
“میں چہرہ کہیں نہیں لے جا سکتا نسواء۔۔ جب تک زندہ ہوں تب تک تو نہیں۔۔”
۔
“آپ بس باتیں۔۔”
وہ اٹھنے لگی تھی جب اسکے سر میں درد شروع ہوا تھا اور نجیب جلدی سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھا اسکے جسم میں بھی تکلیف اٹھی تھی پر اس نے سب اگنور کرکے نسواء کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔
“نسواء۔۔ بس چپ کرجائیں۔۔۔ابھی لیٹ جائیں۔۔ میڈیسن نہیں کھائی۔۔؟
کتنی لاپروائی کرتی ہیں آپ۔۔”
“میں ٹھیک ہوں۔۔ بس چکر آگئے تھے۔۔”
پر نجیب نے کوئی بات نہ سنی تھی اور نسواء کو بیڈ پر لٹا دیا تھا پاؤں کی جوتی اتار کر ٹانگیں سیدھی کی تو نسواء کے پرس سے میڈیسن نکال کر جلدی سے ملازم سے دودھ کا گلاس منگوا کر اسکے ساتھ کھلا دی۔۔۔
“اچھا یہ گاؤن ابھی بھی فٹ آرہا۔۔؟؟”
نسواء کے منہ سے بےساختہ ہنسی نکلی تھی
“ہاہاہا آپ سائز کچھ زیادہ بڑا لے آئے تھے نجیب۔۔”
نجیب ٹانگوں کی طرف جیسے ہی بیٹھا نسواء نے سمٹنے کی کوشش کی پر نجیب نے ٹانگیں اپنے گھٹنوں پر رکھ لی تھی
“نجیب بس کر جائیں۔۔”
“آنکھیں بند کریں اور سونے کی کوشش کریں۔۔”
پاؤں کی تلی پر اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے انہوں نے آہستہ سے کہا تھا کچھ دیر میں نسواء تو سو گئی پر نجیب آفندی۔۔۔ وہ سو نہیں پایا تھا۔۔
۔
“کیا زندگی بنا لی میں نے۔۔؟؟ میں یہاں اس حالت میں اور آپ اس بیماری میں نسواء۔۔
ایک عورت کے بہکنے سے چاہیں نسلیں خراب نہ ہوں مگر مرد کا بہکنا خاندانوں کے خاندان تباہ کردیتا۔۔۔
نہ میں آفئیر چلاتا نہ دوسری شادی کی ضد کرتا نہ بیٹے سے نفرت کرتا۔۔
نہ گھر سے جانے پر مجبور کرتا۔۔۔
تو آج سب کچھ الگ ہوتا نہ۔۔؟؟ آپ میں ہمارے بچے۔۔ نہ آپ کو یہ بیماری ہوتی اور نہ میں اس بدزات عورت کے شر میں پھنستا۔۔
اس عورت کے شر نے میری زندگی تباہ کردی نسواء۔۔۔”
نسواء کے پاؤں پرجیسے ہی نجیب کے آنسو گرے اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی پر نجیب جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے
“کہاں جارہے ہیں۔۔؟؟ آکر سوجائیں اور دروازہ لاکڈ کیجئے مجھے آپ کے گھر والوں پر یقین نہیں۔۔”
نجیب کا منہ کھلا رہ گیا تھا
“آپ جاگ رہی تھی نسواء۔۔؟؟”
پر نسواء کروٹ لیکر سو گئی تھی تھی
“نسواء۔۔۔آپ کبھی نہیں بدلیں گی۔۔”
۔
دروازہ لاکڈ کرکے وہ جیسے ہی دوسری سائیڈ پر آکر لیٹے تھے نسواء کے ماتھے پر آتے ہوئے بالوں کو پیچھے کردیا تھا انہوں نے۔۔
“نسواء۔۔۔میری جان جان تو بچا دی تھی پھر اس گھر میں میری زندگی میں واپس آکر مجھے ایک نئی امید کیوں دلا دی ۔۔؟ میں جانتا ہوں آپ چلی جائیں گی۔۔۔”
“نجیب۔۔۔”
نجیب کے ہاتھ کو تھامے تکیے پر رکھ دیا تھا اوپر اپنا ہاتھ نسواء نے
“میرے پاس گنتی کا گنا چنا وقت رہ گیا ہے نجیب اس میں بھی اگر اب آپ کا ساتھ چھوڑ دیتی تو شاید اس بیوی کے فرائض سے منہ موڑ لیتی۔۔
میری تو زندگی ختم ہونے کو ہے کیوں نہ میں جاتے جاتے یہ بھی کر جاؤں۔۔؟؟”
“یہی کرتی آئی ہیں آپ ساری زندگی۔۔ آپ کی اسی اچھائی نے مجھے بےوفا بنا دیا۔۔نسواء۔۔”
نجیب کی آنکھیں جیسے ہی بھری نسواء نے اپنی اوڑھ آنے کا اشارہ کیا تھا
“نجیب بیوی کی اچھائی شوہر کو اور وفا دار بناتی ہے باغی نہیں۔۔”
“پر میں نے تو کردی نہ بغاوت اور سب خراب بھی کردیا۔۔”
نسواء کے کندھے پر سر رکھے وہ آنکھیں بند کرچکے تھے
“کاش دوسری شادی کرتے وقت ہر شوہر ایک بار پہلی بیوی کے اس دکھ کو سمجھ سکے۔۔
آپ مردوں کا کیا ہے آگے بڑھ جاتے ہیں پر وہ بیوی بچوں کا ہاتھ پکڑے اسی جگہ کھڑی رہ جاتی کتنے سال تک یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ جانا کہاں ہیں۔۔”
۔
پر نجیب کی طرف سے کوئی جواب نہ تھا۔۔۔اور پھر نسواء بھی خاموش ہوگئی تھی وہ رات کی تنہائی میں ایک دوسرے کی دھڑکنے سنتے رہ گئے جو ہزار گلے شکوے کررہی تھی۔۔
اور دونوں ہی چپ تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کو جانا نہیں ہے سر۔۔؟؟”
“کیوں میں باس ہوں۔۔”
“یہ تو سچ مچ جم گئے ہیں یہاں۔۔ انکے اسسٹنٹ کو کال کرتی ہوں۔۔”
“مس منیشہ سوچئیے گا بھی مت۔۔ ہم آج آفس نہیں سائٹ سئنگ پر جارہے ہیں۔۔”
“پر مننان سر وہ تو شہریار سر جاتے آپ کے ساتھ۔۔”
“آج سے آپ جائیں گی۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟؟”
“کم آن میں باہر گاڑی میں ویٹ کررہا ہوں ۔۔۔”
مننان صوفہ پر سے اٹھ کر اپنا کوٹ پہننے لگ جاتا ہے کوٹ بٹن بند کرکے وہ سیدھا اپارٹمنٹ سے باہر اور منیشہ ابھی بھی اسی جگہ۔۔
“اب اور کتنا برداشت کرنا ہوگا۔۔؟؟ نسواء میم کی خاطر کب تک خاموش رہوں گی۔۔؟؟”
۔
منیشہ جلدی جلدی میں چینج کرکے اپارٹمنٹ لاک کئی باہر چلی گئی تھی جہاں منیشہ کو آتے دیکھ مننان نے اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولا تھا
وہ لڑکی اس شخص کی یہ سائیڈ دیکھ کر دنگ رہ گئی
“آپ نشے میں تو نہیں ہیں۔۔؟”
“میں صبح صبح ڈرنک نہیں کرتا۔۔۔”
“مطلب پورے انکاری نہیں ہیں آپ۔۔؟”
مننان کو چیلنج کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“میں پورا اقراری بھی نہیں ہوں مس منیشہ۔۔۔بیٹھ جائیں لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔”
اور وہ سیٹ پر جیسے ہی بیٹھی مننان اسکی طرف جھکا تھا
“سیٹ بلٹ مس منیشہ۔۔۔”
“یا۔۔ یا سوری۔۔”
اس نے بہت سا فاصلہ بڑھایا تھا اور منہ پیچھے کرلیا تھا اپنا سیٹ بلٹ لگا کر۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایگزیکٹلی۔۔ نجیب۔۔ ایسی کیا وجہ تھی ابھی نیچے پولیس کو بھی بیان نہیں دیا کہ وہ عمارہ تھی۔۔۔ بہت گہرا عشق ہے۔۔؟”
نسواء نے کمرے میں آتے ہی چلانا شروع کیا تھا۔۔۔
“نسواء۔۔ آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ۔۔”
“قسم کھائیں میری اور کہیں وہ عمارہ نہیں تھی۔۔؟”
نجیب کا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر اس نے نجیب کی آنکھوں میں دیکھتے ہی پوچھا جس پر نجیب نے منہ پھیر لیا تھا۔۔
“نسواء آپ ان معاملات میں دخل اندازی مت کریں۔۔”
“کیوں نہ کروں۔۔؟ آخر ایسا کیا ہے اس عورت میں۔۔؟ کیوں کچھ بھی بول نہیں رہے لوگوں کے سامنے۔۔؟ ا س نے مارنے کی کوشش کی کیوں کی۔۔؟
جس شخص نے اس کی خاطر اپنی بیوی کو ٹھکرا دیا اپنے بیٹے کو ٹھکرا دیا سب رد کردیا اسی شخص کو مارنے کی کوشش۔۔ بلکہ مار دیا تھا نجیب۔۔۔اگر وقت۔۔وقت پر آپ کو ہسپتال نہ لے جایا جاتا۔۔۔”
نجیب صاحب نے کچھ نہ نہ کہا بس ونڈو کی طرف چلے گئے
“نسواء کی ہر بات انہیں چبھ رہی تھی۔۔وہ کسی اچھی بیوی کی طرح نیچے دو گھنٹے تک تو سب کے سامنے چپ رہی اور جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے اسکا غصہ تھمنے کو ہی نہیں آرہا تھا۔۔
“اب چپ کیوں ہیں۔۔ کیوں اسکی سچائی سامنے نہیں لانے دی۔۔؟ کس چیز کا ڈر تھا دنیا کو بھی سچ پتہ چل جاتا کہ۔۔”
“کیا سچ پتہ چلتا دنیا کو۔۔؟ اس نے مجھے مارنا چاہا۔۔ پر کیوں مارنا چاہا نسواء۔۔ جانتی ہیں آپ۔۔؟؟”
نجیب کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی تو وہ بھی ٹھہر گئی غصے سے نجیب کی آنکھیں بھی سرخ ہوچکی تھی۔۔ پر وہ غصہ انہیں نسواء پر نہیں خود پر تھا اپنے گناہوں پر تھا ان غلطیوں پر تھا۔۔
۔
“ظاہر ہے آپ کیوں لوگوں کے سامنے اپنی بیوی کی لالچ۔۔۔”
“نسواء وہ لالچی ہی نہیں بے حیا بھی ہے۔۔۔ لوگوں کے سامنے اسکی اصلیت نہیں میری غیرت آئے گی۔۔ جب دنیا کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ دونوں بچے میرے نہیں کسی اور کے ہیں۔۔ میں اس بےغیرت کے لیے نہیں اپنی عزت کے لیے مررہا ہوں۔۔
اس لیے اس نے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک ہی بار مار سکے۔۔”
۔
نسواء پانچ منٹ تک کچھ بول نہ سکی اسکا ایک دل چاہا دل کھول کر ہنسے اس شخص پر اسکے انتخاب پر اور ایک دل ترس کھانے لگا جب نجیب نے سر جھکایا۔۔۔ بستر پر بیٹھا وہ شخص نجیب آفندی نہیں لگ رہا تھا
“نسواء۔۔ آپ دیکھ لیں جو میں نے آپ کے ساتھ کیا اللہ نے میرے ساتھ کردیا۔۔
میں نے باوفا بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت کو اہمیت دی اور اس عورت نے کسی اور کو۔۔
میں بھول گیا تھا کہ مکافات اٹل ہے میں نے اپنے بیٹے کو ٹھکرایا اور دیکھو یہ اولاد بھی میری نہیں۔۔
اب معافی مانگو گا تو اپنی نظروں سے نیچے گر جاؤں گا نسواء۔۔ اس لیے جتنی جلدی ہوسکے آپ چلی جائیں یہاں سے۔۔ “
وہ تو دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے بیٹھ گئے تھے نسواء آہستہ قدموں سے انکے پاس آئی نجیب کے بالوں میں ہاتھ جیسے ہی رکھا وہ اپنے حصار میں بھر چکے تھے
وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی اپنے ہرجائی کو مگر کچھ نہیں تھا۔۔
“نجیب میں رات کی تنہائی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس گھر سے اتنے سال پہلے نکل گئی کہ کہیں دن کا اجالہ آپ کی شان و شوکت میں فرق نہ لے آئے۔۔
میں جہاں بھی گئی آپ کا نام نہیں جوڑا کہ آپ کی عزت پر حرف نہ آجائے۔۔
کسی کو آپ کا معلوم نہ ہونے دیا۔۔ بس زندگی میں چلتے رہے۔۔
اور آپ نجیب۔۔۔؟؟”
اپنی ویسٹ سے نجیب کا چہرہ اٹھائے اس نے اوپر کیا تھا
“نجیب یہ انتخاب تھا آپ کا۔۔؟ بہت گھاٹے کا سودا کیا آپ نے۔۔
اسکے لیے ہرجائی بن گئے اور سب داؤ پر لگا دیا۔۔؟؟”
نجیب کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے آہستہ سے پوچھا تھا
“بہت خسارے میں رہا ہوں نسواء۔۔۔دوسری شادی کے چکر میں سب داؤ پر لگا دیا بہت خسارہ کردیا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
