Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 13
Rate this Novel
Episode 13
“کیا کچھ نہیں دیا تھا۔۔؟؟ دولت عزت گھر آزادی پھر کیوں کیا یہ سب۔۔۔؟؟”
نجیب نے پھر سے ہاتھ اٹھایا تھا جب شزا روتے ہوئے بیڈ پر گری تھی
“پلیز ڈیڈ مجھے معاف کردیں پلیز۔۔۔”
“معاف۔۔۔تمہیں تو میں۔۔۔”
“بس نجیب۔۔۔ وہ بچی ہے۔۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔؟؟”
ناہید بیگم نے اپنے بیٹے کو پیچھے کیا تو آفندی صاحب نے بھی نجیب کا ہاتھ پکڑ کر روم سے باہر لےجانے کی کی تھی
“نجیب بس وہ بچی ہے غلطی ہوگئی اس سے۔۔ اب تم شزا کو کچھ نہیں کہو گے۔۔”
“نجیب کیا پتہ کوئی سازش ہو۔۔”
چچا نے بھی نجیب کو سمجھایا تھا۔۔۔ نجیب کا غصہ دیکھ کر سب ڈر گئے تھے۔۔
چچی نے جیسے ہی اپنے شوہر کو اشارہ کیا وہ لوگ ایک سائیڈ پر چلے گئے تھے
“آپ کو کیا ضرورت تھی نجیب کو چپ کروانے کی ذیشان۔۔؟؟ اب تو موقع آیا ہے ہمارےبچوں کی قدر ہو اس خاندان کو جب دیکھو نجیب کی بیٹی اس کا بیٹا۔۔”
“شازیہ۔۔ کیا ہوگیا ہے شزا بھی ہماری بیٹیوں۔۔”
“بس کردیں۔۔۔اب آپ اپنے بچوں کو آگے لیکر جائیں۔۔۔”
۔
دوسری طرف بہت لوگ یہ تماشا دیکھ کر خوش ہوئے تھے۔۔۔
آفندی صاحب نے نجیب کو صوفہ پر بٹھایا تو شزا کو بھی بلوایا تھا۔۔۔
ابھی وہ نجیب کو خاموش کروا رہے تھے جب انہیں یونیورسٹی سے کال ریسیو ہوئی تھی اور انہیں شزا کے ساتھ کل بلایا گیا تھا۔۔۔
“وہ ہوتے کون ہیں میری بیٹی کو نکالنے والے۔۔؟؟”
نجیب نے موبائل دیوار پہ دے مارا تھا۔۔وہ شدید غصے میں گھر سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
گاڑی کسی سنسان جگہ پہ روکے کچھ پل کو سانس لیا تھا اس نے
اسکی پرفیکٹ زندگی ایک دم سے خرا ب ہوگئی تھی۔۔۔ یا کبھی پرفیکٹ تھی ہی نہیں۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بورڈ آف ڈائیرکٹرز نے یہ ڈیسیژن لیا ہے کہ ہم آپ کی بیٹی کو ریسٹیکیٹ کررہے ہیں۔۔”
“ہاؤ ڈیرھ یو۔۔۔”
نجیب نے ڈیسک پر ہاتھ مارے تھے اور وہ اٹھ گیا تھا اسکے سامنے ٹیبل پر پانچ بورڈ آف ڈائیریکٹر کے تھے پرنسپل اور ہیڈمسٹریس موجود تھے اور دوسری طرف آفندی صاحب اور ذیشان بیٹھے تھے
ابھی تک وہ تینوں بہت فخر سے بیٹھے تھے انہیں یقین تھا کہ کوئی انہیں انکار نہیں کرے گا۔۔۔مگر۔۔۔
“سر ہم نے باقی تین لڑکیوں کو بھی شزا کے ساتھ نکالا ہے۔۔”
“ڈیم اِٹ ان تینوں اور میری بیٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ شزا آفندی ہے۔۔”
“سر آواز نیچے رکھیں یہاں۔۔۔”
“میں بات کررہا ہوں آپ خاموش رہیں سب۔۔۔”
پرنسپل نے سب ممبران کو چپ کروا دیا تھا اسی وقت۔۔۔
“دیکھیں سر ہم یہ ایفورٹ نہیں کرسکتے۔۔۔ ہم ڈرگز ایدیکٹ ایفورڈ نہیں کرسکتے ایم سوری۔۔۔”
“یو باسٹرڈ۔۔۔ جانتے ہو میں کون ہو۔۔؟؟ میں اس یونیورسٹی کو تم سب سمیت ایک منٹ میں خرید سکتا ہوں۔۔ ایک منٹ میں برباد کرسکتا ہوں۔۔۔”
نجیب کی اس دھمکی پر پرنسپل نے باقی سب کی طرف دیکھا تھا جو ڈٹ گئے تھے اپنے فیصلے پہ۔۔۔
“سوری سر آپ نے جو کرنا ہے کریں مگر اس یونیورسٹی سے باہر جاکر ۔۔۔ ہمیں شزا آفندی کو نکال چکے ہیں۔۔۔ وہ ڈرگ لیتے اور سپلائی کرتی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے۔۔۔
شکر کریں پولیس کیس نہیں بنایا ہم نے۔۔۔ ورنہ آپ کی بیٹی نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی باقی بچوں کو نشے کی لت لگانے میں۔۔۔”
ایک پیپر سائن کرکے ایک ممبر نے دوسرے اور دوسرے نے تیسرے کی طرف کیا تھا
ان تمام بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سائن کرکے وہ پیپر پرنسپل کو پکڑا دئیے تھے۔۔۔
“ایم سوری مسٹر نجیب۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔”
نجیب اپنی بلیک گلاسز لگائے روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔ اور باہر کھڑی عمارہ اور شزا کو ایک نظر دیکھا تھا
“ڈیڈ۔۔۔ ایم سوری ۔۔مجھے ایک موقع۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
نجیب شزا کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے جانے لگے تھے اینٹرینس پر جب انکا راستہ روکا تھا سٹاف ممبر نے۔۔۔
“سر آپ گیٹ نمر 4 سے چلے جائیں یہاں میڈیکل کا ایک امپورٹنٹ سیمینار سٹارٹ ہوا ہے۔۔۔”
“راستہ چھوڑو۔۔۔ ایڈیٹ۔۔۔”
نجیب کے گارڈ نے راستہ صاف کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔ وہ بلکل پاس سے گزر رہے تھے جب تالیوں میں ایک اناؤنسمنٹ نے نجیب کے قدم روک دئیے تھے
“میں بلانا چاہوں گی ہماری گیسٹ آف اونر ڈاکٹر حورب احمد کو۔۔۔”
“جن کو تعریف کی ضرورت نہیں ۔۔۔انہوں نے اپنے بیزی شیڈول سے ہمیں وقت دیا۔۔۔”
حورب جیسے ہی سٹیج پر گئی تھی گلاب کے پھولوں کا گلدستہ اسے دیا گیا تھا۔۔۔
اور وہ سب بورڈ آف ڈائیریکٹر احترام میں کھڑے ہوگئے تھے اپنی اپنی کرسی سے۔۔۔
نجیب کا وجود ایک پتھر بن گیا تھا جب اس نے حورب کو دیکھا تھا اسکے ہاتھوں سے شزا کا ہاتھ چھوٹ گیا تھا
اور اس نے پیچھے مڑ کر اپنے والد کو دیکھا تھا
“ڈیڈ۔۔۔۔”
نجیب نے اب کے آفندی صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور سٹیج کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
“میری بیٹی۔۔۔ حورب۔۔۔”
اور ہاتھ اٹھا کر سٹیج کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
آفندی صاحب نے سٹیج کی طرف دیکھا تھا اور پھر عمارہ اور پھر نجیب کی طرف ذیشان صاحب بھی شاکڈ ہوگئے تھے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔ میرا خون۔۔۔”
آفندی صاحب نے کبھی اپنے بیٹے کو اتنا فخر محسوس کرتے نہیں دیکھا تھا نہ کبھی مننان پر نہ کبھی شزا نہ کبھی ماہیر پر۔۔۔ جتنا اس وقت نجیب حورب کو دیکھ کر پراؤڈ فیل کررہے تھے
“یہ کیا کہہ رہے ہو نجیب۔۔۔”
“ابھی یہاں سے چلیں۔۔۔”ذیشان نے اپنے بھائی کو غصہ کرنے سے روکا تھا وہ سب کو وہاں سے چلنے پر راضی کرچکے تھے سوائے نجیب کے۔۔۔ نجیب پیچھے پڑی خالی کرسی پر بیٹھ گئے تھے باقی سب کے ساتھ۔۔۔
اور جب دوسری رو پر نسواء کو بیٹھے دیکھا تو ہمت کرکے ساتھ پڑی خالی کرسی پر بیٹھ گئے تھے
نسواء حورب کی موٹیویشنل سپیچ میں اتنا کھو گئی تھی کہ پاس بیٹھے شخص کو دیکھ نہ پائی تھی
“ہاہاہا۔۔۔ ماں ہمیشہ کہتی تھی جتنی شرارتی میں ہوں میں کوئی کامیڈین بنوں گی۔۔۔ ہاہاہا
مگر ایک دن سب بدل گیا۔۔۔ جب انہوں نے مجھے پاس بٹھا کر کہا تھا کہ وہ مجھے اس مقام پر دیکھنا چاہتی ہیں جہاں وہ خود نہ پہنچ سکی۔۔۔”
حورب کی آنکھیں بھر آئی تھی۔۔۔
“ہنستے ہوئے بالکل آپ جیسی لگتی ہے۔۔۔”
نجیب نے جیب سے رومال نکال کر نسواء کے آگے رکھا تھا اسکی آواز پر نسواء حورب سے نگاہ ہٹا پائی تھی اور نجیب کو دیکھ کر چہرے کی ہنسی چلی گئی تھی
“سیریسلی۔۔؟؟”
“نسواء میں آپ سے بات۔۔۔”
“مجھے نہیں کرنی بات آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہی۔۔؟؟ کیوں تنگ کرنے آجاتے ہیں آپ۔۔؟؟ دور رہیں مجھ سے میرے بچوں سے۔۔۔”
وہ اٹھنے لگی تھی جب نجیب نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اور اسی وقت حورب نے اپنی بات جاری رکھی تھی
“ماں کہتی تھی جو وہ خود نہیں کر پائی۔۔۔ مگر وہ سب کچھ کرسکتی ہیں۔۔ جو عورت اپنے بچوں کو اکیلی پال سکتی ہیں انہیں اس قابل بنا سکتی ہیں تو وہ کامیاب کیسے نہ ہوئی۔۔؟؟”
۔
گہرا سانس لئیے وہ واپس بیٹھ گئی تھی۔۔۔ جب تک حورب کی سپیچ چلتی رہی نسواء اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی رہی مگر نجیب نے ہاتھ نہیں چھوڑا تھا اس کا۔۔۔”
۔
“نجیب ہاتھ چھوڑیں سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔”
“دیکھنے دیں۔۔ میں نے کونسا کسی غیر کا ہاتھ پکڑا ہے۔۔؟؟ اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا ہے۔۔”
“ہاہاہاہا بیوی۔۔؟؟ یا رائٹ بیوی۔۔۔ مائی فٹ۔۔۔ جسٹ لئیو مائی ہینڈ۔۔۔”
اور نفرت بھرے لہجے کو سن کر نجیب نے ہاتھ کی گرفت نرم کی تو نسواء ہاتھ چھڑائے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
۔
اور دیکھتے ہی دیکھتی حورب سٹیج سے نیچے آئی تھی۔۔۔ ایک طرف سے نسواء اسکے پاس پہنچی تھی دوسری سے سے حزیفہ داخل ہوا تھا۔۔۔ حورب باری باری دونوں کے گلے لگی تھی۔۔
اور نجیب آفندی خالی ہاتھ بیٹھے تکتا رہ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ میری ماں میری بہن کی معلومات اکٹھی کررہے تھے اور تم مجھے ابھی بتا رہے ہو۔۔”
راشد کو دھکا دے کر وہ اندر روم میں داخل ہوا تھا۔۔ جہاں وہ آدمی رسیوں میں بندھا ہوا تھا
“تو نے اچھا نہیں کیا میری فیملی کے انفارمیشن آگے پہنچا کر۔۔۔میں تجھے نیست و نابود کردوں گا۔۔۔ اسکی فیملی کی معلومات اکٹھی کرو اور وہی سب کرو جو یہ لوگ میری ماں اور بہن کے ساتھ کرنے والے تھے۔۔”
“سر۔۔ سر مجھے پتہ نہیں تھا۔۔۔ یقین جانیں ہم نے بس کچھ تصاویر آگے بھیجی۔۔۔ آگے موقع نہیں ملا۔۔”
وہ معافیاں مانگ رہا تھا ہاتھ جوڑ رہا تھا اور مننان اپنا غصہ نکالے اس زخمی حالت میں چھوڑے اسکے سامنے بیٹھا تھا گن نکال کر۔۔۔
“کس نے بھیجا تھا۔۔؟؟”
“سر۔۔ میں۔۔۔”
“کس نے۔۔؟؟”
ایک فائر اسکی ٹانگ پر لگی تو زبان سے ایک ہی نام نکلا جس نے مننان کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔۔۔
“نجیب آفندی۔۔۔سر انہوں نے ہمارے باس کو بہت بڑی رقم دی تھی سب معلومات نکلوانے کے لیے۔۔۔”
۔
“نجیب آفندی۔۔۔”
وہ غصے سے چلایا تھا۔۔۔ اور گن کی بیک سائیڈ اسکے سر پہ مار کر روم سے باہر آگیا تھا۔۔۔
“سر۔۔۔ بات سنیں۔۔۔”
“مننان یار بات سن کہاں جارہا ہے غصے میں۔۔؟؟”
وہ دونوں نے زبردستی مننان کو پکڑ لیا تھا
“نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔۔ جمعہ کی نماز نہیں پڑھنی۔۔؟؟”
وہ گن گارڈ کو دے کر وہاں سے سیدھا گھر گیا تھا۔۔۔
“مننان کبھی کبھی مجھے کنفیوز کردیتا ہے۔۔ وہ کون ہے۔۔؟ کبھی اتنا ظالم تو کبھی اتنا نرم۔۔؟؟”
“مننان سر میں اپنی ماں کی اچھائی ہے ۔۔مگر نجیب آفندی کا خون ہیں۔۔ اندر اس شخص کی حالت دیکھی آپ نے۔۔؟؟ جس دن انکا یہ روپ انکی والدہ کے سامنے آگیا تو۔۔”
“اللہ نہ کرے کوئی ایسا دن نسواء آنٹی کے سامنے آئے۔۔۔ وہ ۔۔ وہ مر جائیں گی۔۔
مننان کی تربیت میں انہوں نے اپنا آپ بھلا دیا۔۔۔ لے دے کر انکے پاس یہ دونوں ہی تو ہیں۔۔۔”
۔
“میں آخری سانس تک آپ دونوں کی حفاظت کروں گا ماں۔۔ حورب۔۔”
مننان گھر میں جیسے ہی داخل ہوا تھا سامنے وال پر ان دونوں کی تصویر دیکھ کر اسکے چہرے پہ بےساختہ مسکان چھا گئی تھی
“وقت آگیا ہے ایک اور سرپرائز دوں آپ کو مسٹر نجیب آفندی۔۔۔”
مننان نے فون نکالا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سوو درد ہیں۔۔۔ سو راحتیں۔۔۔
سب ملا دل نشین۔۔۔ ایک تو ہی نہیں۔۔۔”
۔
“مس منیشہ۔۔۔ مننان سر آپ کو بلا رہے ہیں۔۔”
منیشہ جلدی سے فائل رکھے مننان کے کیبن کی طرف بھاگی تھی
“یہ رپورٹ ریڈی کی ہے۔۔؟؟”
منیشہ جیسے ہی کیبن میں داخل ہوئی مننان نے فائل اسکی طرف پھینکی تھی۔۔
“مننان یار۔۔”
“جسٹ سٹے آؤٹ آف دس۔۔۔مس منیشہ میں آپ کو کام کرنے کے پیسے دیتا ہوں یہ سب فضولیات کے نہیں۔۔۔کرکیا رہی تھی آپ صبح سے۔۔؟؟”
“وہ سر۔۔۔ دراصل۔۔”
“ڈونٹ سٹیمرنگ۔۔۔جسٹ انفف۔۔۔ دفعہ ہوجائیں میں اور برداشت نہیں کرسکتا آپ کو۔۔۔جسٹ گیٹ آؤٹ۔۔۔”
مننان نے کیبن کا دروازہ کھولا تھا اور منیشہ کو اونچی آواز میں نکال باہر کیا تھا۔۔۔ اور وہ بھی سر جھکائے وہاں سے اپنے ڈیسک کی طرف گئی تھی اپنا موبائل اور پرس اٹھائے وہ آفس سے روتے ہوئے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
وہ جیسے ہی ایگزیٹ ہوئی تھی نسواء کی گاڑی رکی تھی۔۔۔
“مس منیشہ کو فالو کریں۔۔۔”
نسواءنے ڈرائیور کو کہا تھا وہ کچھ ضروری بات کرنے آئی تھی پر منیشہ کو اس طرح روتے ہوئے دیکھ نسواء کو اس کی فکر لگ گئی تھی
“اس لڑکے کا میں کیا کروں۔۔؟؟؟”
اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا اس نے اسے معلوم تھا مننان کا غصہ اس بچی پر۔۔۔
اسے منیشہ کی مننان کو لیکر ایٹریکشن کا بھی علم تھا اور اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا منیشہ کو اپنانے میں۔۔۔
مگر مننان کی نفرت اس بچی کے لیے نسواء کو فکر مند کررہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“میری لاڈلی بیٹی۔۔۔منیشہ۔۔۔”
“بابا آئی لوو یو۔۔۔”
“آئی لووو یو ٹو بچہ۔۔۔”
۔
“کیسے کہیں ہم۔۔ اپنی داستان۔۔
بہتے ہیں آنسو۔۔۔ چپ ہے زبان۔۔۔”
۔
وہ زمین پہ بیٹھ گئی تھی بچپن کی یادوں کو پاس لیکر۔۔آج مننان کی باتوں نے اسے پر ایک بار پھر یہ حقیقت آشنا کردی تھی کہ وہ اکیلی ہے بلکل اکیلی۔۔۔
۔
“کوئی ٹوٹا تارا مجھے غم دے گیا۔۔۔ اپنوں نے جو زخم دیا ہے۔۔
مولا کوئی سنتا نہیں میری دہائی۔۔۔چبھنے لگی ہے مجھے یہ تنہائی۔۔۔”
۔
“ماما ہم کہاں جارہے ہیں۔۔؟؟”
“ہم یہاں سے بہت دور جارہے ہیں بیٹا۔۔۔”
“میں اپنی بیٹی تمہارے ساتھ جانے نہیں دوں گا فضا۔۔۔”
“تم ہوتے کون مجھے روکنے والے۔۔؟؟ طلاق دے چکے ہو مجھے۔۔۔ سب ختم کردیا تم نےمعاذ۔۔۔”
“میں غصے میں تھا۔۔۔میں سب۔۔”
“ایک اور لفظ نہیں۔۔۔”
“منیشہ بیٹا۔۔۔”
منیشہ نے جلدی سے چہرہ صاف کیا تھا اور وہ سب تصویریں جلدی سے بیڈ کے نیچے پھینک دی تھی۔۔۔ اسکے کمرے کا دروازہ اچانک سے کھلا تھا
“نسواء میم آپ۔۔۔؟”
منیشہ بہت حیران ہوئی تھی نسواء کو دروازے پر دیکھ کر۔۔۔
“تمہاری آنٹی نے کہا تم روم میں ہو۔۔۔سو میں آگئی۔۔ آفس سے ایسے کیوں آگئی تھی بیٹا۔۔؟؟”
نسواء نے منیشہ کے چہرے پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا اس کو محسوس ہوئی تھی منیشہ کے چہرے پہ وہ نمی نسواء نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا تو وہ حیران ہوئی تھی منیشہ کی سرخ آنکھیں دیکھ کر۔۔۔
“مننان نے کچھ کہا ہے۔۔؟؟ چلو میرے ساتھ میں ابھی اسے ڈانٹوں گی اسکی کلاس لوں گی۔۔”
“نووو۔۔۔ پلیز میم۔۔۔”
“آنٹی سے میم۔۔؟؟ ایک دن میں بیگانہ کردو گی۔۔؟؟”
“بالکل نہیں۔۔۔ ایک آپ ہی میں تو مجھے اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔۔۔”
نسواء کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھا دیا تھا اس نے۔۔
“آپ یہاں بیٹھیں میں کچھ لیکر آتی ہوں پلیز۔۔۔”
منیشہ جیسے ہی روم سے باہر گئی تھی نسواء کے نمبر پر کال آنے لگی تھی
“وعدہ خلافی کردی نہ نسواء۔۔؟؟ میں بہت خفا ہوں آپ سے۔۔۔”
حزیفہ کی شکایت سن کر وہ بیڈ سے اٹھی تھی ہنستے ہوئے۔۔
“نہیں کی وعدہ خلافی۔۔۔ ابھی شادی کو کچھ دن ہیں مسٹر حزیفہ میں ضرور اٹینڈ کروں گی۔۔
اس لیے جلدی میں واپس آئی تاکہ یہاں کچھ پینڈنگ ورک مکمل کرکے واپس جاؤں۔۔
انشاللہ پاکستان واپس آؤں گی تو کچھ دن رکوں گی۔۔”
“پکا وعدہ۔۔؟؟”
“جی سر پکا وعدہ۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے واپس بیڈ کی طرف آئی تھی جب اسکے پاؤں سے وہ فوٹو البم ٹکرایا تھا اور نسواء نے جب جھک کر اسے اٹھایا اور ٹیبل پر رکھنے لگی تب اسکی نظر اس پہلی تصویر پہ پڑی تھی جو فضا اور معاذ کی شادی کی تھی۔۔
“فضا۔۔۔”
نسواء نے آہستہ آہستہ وہ تصویریں دیکھنا شروع کی۔۔۔ اس کپل کے ساتھ اس بچی کی تصویریں دیکھ کر وہ اٹھ گئی تھی۔۔ ایک نظر اس نے اس پورے کمرے کو دیکھا اور پھر اسکی دروازے پہ کھڑی شاک منیشہ پر پڑی۔۔۔
“آپ۔۔۔آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے تھی۔۔”
منیشہ نے جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔”
نسواء اسکے آگے کچھ بول نہ پائی اسے اب یہاں سے جانے کی جلدی تھی اسے جیسے آنے کی۔۔۔
“آپ۔۔۔ بھی چھوڑ کر جارہی ہیں۔۔؟؟ باقی سب کی طرح۔۔؟؟”
منیشہ کی درد بھری آواز نے اسکے قدم روک دئیے تھے وہ جیسے ہی پلٹی تھی منیشہ نے بھی منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
“آپ بھی جا سکتی ہیں۔۔ آپ کا نفرت کرنا جائز ہے سو آپ کیجئے۔۔۔
پر بےرخی اتنی مت رکھئیے گا کہ میرا دل مکمل ٹوٹ جائے۔۔ میرے دل میں آپ کا مقام میری سگی ماں سے بھی زیادہ ہے۔۔۔”
“منیشہ۔۔۔”
نسواء کچھ قدم کا فاصلہ تہہ کئیے آگے بڑھی تھی اور منیشہ کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا اس نے۔۔۔
“بیٹا۔۔۔ مجھے مت روکو میں کسی کا بھی سامنا نہیں کرسکتی۔۔”
“یہاں کوئی نہیں ہے جس کا سامنا آپ کریں گی۔۔ میرے ماں باپ نے مجھے بہت پہلے ایک یتیم خانے میں پھینک دیا تھا۔۔۔ آپ کو کسی کا سامنا کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔۔”
“اووہ۔۔۔۔”
وہ ہکی بکی رہ گئی تھی۔۔ منیشہ نے نسواء کو بیڈ پر بٹھایا تھا۔۔۔
“مجھے اتنا معلوم ہے آپ کی بربادی میں میری ماں کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا ان کا۔۔۔”
نسواء بہت کچھ کہنا چاہتی تھی بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی پر منیشہ کی معافی نے اسکے ہونکوں نے نسواء کی زبان بند کردی تھی۔۔ اس بچی کو اپنے سینے سے لگائے وہ کتنی دیر ویسے ہی کھڑی اسے چپ کرواتی رہ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“سر یہ پروجیکٹ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔۔۔”
“اور تم مجھے اب بتا رہے ہو اس پارٹی میں لانے کے بعد میری انسلٹ کررہے ہو۔۔۔”
نجیب نے اپنے پی اے کو کالر سے پکڑ کر اپنی اوڑھ کیا تھا
“سوری سر۔۔۔ مجھے بھی ابھی معلوم ہوا۔۔۔ “
“اسے خرید لو۔۔ اسکی کمپنی کو خرید لو۔۔ تم جانتے ہو یہ پروجیکٹ میں نے ماہیر کو دینا تھا
اسے کمپنی کا ‘سی ای او’ بنانے کے بعد۔۔۔”
نجیب کی بات پر اسکے دونوں چچا اور اور چچا کے دونوں بیٹے شاک ہوئے تھے اور غصے میں بھی آئے تھے۔۔
۔
“سر وہ بکنے والا نہیں ہے۔۔۔ یہ۔۔۔”
“مننان آمین احمد آچکے ہیں سر۔۔۔”پیچھے سے ایک آواز گونجی تھی
“مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔ وہ سچ میں یہاں پاکستان میں آئے ہماری پارٹی میں۔۔۔
آؤ نجیب تمہیں اس سے ملواؤں جس نے اس پروجیکٹ کو ہم سب سے چھین لیا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہ۔۔۔ “
باقی سب بزنس مین ہنسے تھے سوائے نجیب کے۔۔۔
اس نے ایک نظر پی اے کو دیکھا تھا اس کا نام سن کر۔۔۔
“کیا یہ وہی ہے جس نے ماہیر پر ہاتھ۔۔؟؟”
“جی سر یہ وہی ہے۔۔۔”
۔
نجیب اسے پیچھے پش کرکے باہر چلا گیا تھا۔۔۔جہاں تین گاڑیاں بیک وقت رکی تھی
“یہی ماڈل میں اپنے بیٹے کو گفٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر لمیٹڈ ایڈیشن تھا۔۔۔نہیں ملا۔۔۔”
“یہ گاڑی خود ڈیزائن کی ہے انہوں نے۔۔ مینوفیکچر کنگ بولا جاتا ہے انہیں اس فیلڈ کا۔۔”
وہ لوگوں کی باتیں سن رہا تھا اس کا خون اور خول رہا تھا۔۔۔
نجیب کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سینٹر والی گاڑی سے اس شخص کو نکال کر اتنا مارے کے اپنے بیٹے کے زخموں کا سبق سیکھا سکے۔۔
فرسٹ گاڑی سے گارڈ نکل کر وہیں کھڑے ہوگئے تھے اور لاسٹ گاڑی کے گارڈ نے دروازہ کھول سینٹر والی گاڑی کا دروازہ اوپن کیا تھا
“سب کلئیر ہے سر۔۔۔”
وہ جیسے ہی باہر آیا تھا اس نے سب سے پہلے اپنے کوٹ کے بٹن بند کئیے تھے اور ایک نظر اپنے گارڈز کو دیکھا تھا اور ایک اشارے میں وہ سب واپس کچھ قدم کے فاصلے پر چلے گئے تھے وہ تینوں گاڑیاں بھی آگے پارکنگ پر چلی گئی تھی
“مسٹر مننان موسٹ ویلکم سر۔۔۔ مجھے امید نہیں تھی آپ ہماری دعوت پر یہاں آئیں گے۔۔”
“مجھے سامنے والے کو سرپرائز دینا زیادہ اچھا لگتا ہے مسٹر چوہدری۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ وہ تو کردیا آپ نے کیوں گائیز۔۔۔؟؟ میٹ مائی بزنس پارٹنر نجیب آفندی۔۔”
انہوں نے سب سے پہلے نجیب کو عزت دی تھی اور کندھے پر ہاتھ رکھے مننان سے انٹروڈیوس کروایا تھا۔۔۔
“مسٹر مننان۔۔۔”
“میں مجھ سے ہار جانے والے لوگوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔۔۔ مسٹر آفندی۔۔۔”
اپنے ہاتھ اس نے اپنی پینٹ پاکیٹ میں ڈال لئیے تھے
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ ہم سب کو ہرٹ کردیا یار۔۔۔”
چوہدری صاحب نے مذاق میں بات ٹال دی تھی پر نجیب آگے بڑھا تھا اور مننان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی تھی دونوں باپ بیٹے ایک ہی قد کاٹھ کے برابر تھے
“ایک ڈیل جیت کر تم جن پروں کے ساتھ جن ہواؤں میں اڑنا سیکھ رہے میں سالوں سے ان ہواؤں کا رخ بدلتا ہوں۔۔۔ روز ہزاروں ڈیلز جتتا ہوں ایک تم جیت گئے ہو ہضم کرو۔۔ مجھے پسند نہیں میرے سامنے کوئی مجھ سے زیادہ غرور لئیے کھڑا رہ جائے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
مننان بے ساختہ ہنس دیا تھا۔۔۔ اور جس طرح وہ ہنسا تھا وہ ہنسی کسی خطرناک الارم سے کم نہ تھی مننان اب کے ہاتھ جیب سے نکال چکا تھا۔۔۔
“ویل مسٹرنجیب آفندی۔۔۔ اب عادت ڈال لیں۔۔۔ میں آگیا ہوں۔۔ بس گنتے جائیں اور کتنی ہار سے آشنا کرواتا ہوں میں آپ جیسے ہواؤں کے رخ بدلنے والے بزنس ٹائیکون کو۔۔۔ میں نے بتایا نہ مجھے سامنے والے کو سرپرائز کرنا اچھے سے آتا۔۔۔
چلیں مسٹر چوہدری۔۔”
۔
نجیب کے کندھے کو مننان کا کندھے ٹچ کیا تھا جب وہ جان بوجھ کر ٹکرا کر اندر چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
“ڈیٹ واز سوووو انٹینس نجیب۔۔۔ کیا کوئی پرانا دشمن ہے۔۔؟؟”
انکے دوست نے پوچھا تو نجیب نے واپس مننان کی بیک کو دیکھا تھا جو ویسے ہی سب کو مل رہا تھا جیسے وہ ان سب کا مالک اور باقی سب غلام ہوں۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
