62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“آپ میرے حق نہیں دہ رہی تھی نسواء پچھلے ایک سال سے میں خاموش رہا سب برداشت کیا۔۔۔اب آپ مجھے شادی سے روک نہیں سکتی۔۔”
۔
“سر۔۔”
“اس وقت بھی یہ بیماری تھی۔۔ اور وہ خاموش رہی۔۔سب کچھ اکیلی برداشت کرتی رہی۔۔
اور میں۔۔میں کیا کرتا رہا۔۔؟؟ اسے سب کے سامنے بدنام کرتا چلا گیا۔۔
کیا سچ میں میری محبت صرف جسموں تک رہ چکی تھی۔۔؟ کیا میں نے اپنی بیوی کو اس قدر ذلیل کردیا تھا کہ وہ ایک پل مجھے دیکھنا گنوارا نہ کرسکی۔۔۔”
نسواء کو ڈاکٹرز پھر سے ایک ڈوز دہ کر چلے گئے تھے اور وہ ایک ہی جگہ گم ہوگیا اپنی دنیا میں یہاں آئے بھی کچھ گھنٹے ہوگئے تھے۔۔موبائل بجنے کی آواز سے چونک اٹھا تھا نجیب۔۔
جب اپنے موبائل کو سائلنٹ پر دیکھا تو وہ یہاں وہاں دیکھنے لگا۔۔اور جب نسواء کے
پرس کی جانب نظر گئی کچھ دیر سوچنے کے بعد نجیب نے موبائل نکال لیا تھا
اور جب سکرین پر حورب کا چہرہ نظر آیا تو اسکے چہرے پر ایک خوشی چھائی تھی اور عین اسی وقت آنکھوں سے آنسو جاری ہونا شروع ہوئے جب موبائل پر کال پک کرکے کان پر لگایا۔۔
“ماں۔۔۔ ماں اتنی جلدی بھول گئی ہیں۔۔؟ آپ تو ہر گھنٹے بعد کال کرکے معلوم کرتی ہیں میرا حال اب جب شہر سے دور ہوں تو آپ خاموش ہیں۔۔”
نجیب سے اور برداشت نہیں ہوا تھا۔۔ کال کاٹ کر اس نے ایک ٹیکسٹ لکھ دیا تھا اور سینڈ کرنے کے بعد موبائل آف کردیا تھا۔۔
اس خاموش رات میں اس عورت کے پاس جاکر بیٹھا تھا کہ خاموشی نے ایک طوفان برپا کردیا تھا وہاں اسکے دماغ میں اسکے دل میں۔۔۔
“کچھ بھی ہوجائے نسواء نجیب آفندی آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی۔۔ میں کبھی ایسے نہیں ہونے دوں گا۔۔کبھی بھی نہیں۔۔دنیا کے بیسٹ سے بیسٹ ڈاکٹر کو دیکھائیں گے۔۔
سب کچھ نچھاور کردوں گا آپ پر نسواء اپنی سانسیں بھی۔۔ جو آپ نے مجھے چھوڑ کر میرے ساتھ کیا وہ میں اپنے بچوں کے ساتھ نہیں ہونے دوں گا۔۔ آپ سدا سلامت رہیں گی ان کر سروں پر۔۔”
۔
۔
“سر سیکیورٹی گارڈز۔۔ بہت غصے میں ہیں ایک منٹ باہر آئیں۔۔”
نجیب جیسے ہی روم سے باہر نکلا تھا وہ سب کی گن نجیب پر تھی۔۔
“اگر ہم چپ ہیں اور مننان سر کو کچھ نہیں بتایا تو صرف اور صرف نسواء میڈم کی وجہ سے۔۔
اگر پھر سے ہمیں خریدنی کی کوشش کی تو آپ سے بات ہم نے مننان صاحب کریں گے۔۔”
“میں بس ریکوئسٹ کررہا ہوں۔۔ پلیز۔۔۔ ابھی مننان کو کوئی انفارمیشن نہ دینا۔۔ میں نہیں چاہتا وہ بدگماں ہو۔۔۔یا پریشان ہو۔۔”
۔
“بےفکر رہیں نسواء میڈم کے حکم کے بعد ہی ہم فون کریں گے۔۔ہم سے کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے مسٹر نجیب۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
وہ نجیب آفندی ہے۔۔۔ مس نسواء۔۔۔ وہ رشتوں سے عاری محبت سے باغی شخص صرف جسموں کی بھوک رکھتا ہے۔۔۔
وہ تمہیں صرف اس ہوٹل روم تک محدود رکھے گا اور واپس پلٹ کر اپنی بیوی کے پاس جائے گا یعنی میرے پاس آئے گا۔۔۔”
پہلے تو وہ شاک ہوئی تھی پھر اس نے ٹھیک طرح آنکھیں کھول کر ارد گرد کا ماحول دیکھا تھا اور جب خود کو اوور سائز ٹی شرٹ اور جینز میں دیکھا تو وہ شرمندہ ہوئی تھی
پر عمارہ کی باتیں سن کر اسکی درد سر جیسے واپس آگئی ہو۔۔ وہ عمارہ کے چہرے پر جلن دیکھ کر ایک دم سے ہنس دی تھی
“تمہیں لگتا ہے وہ میرے پیچھے محض جسم کی ہوس بجھانے کے لیے آتے ہیں۔۔؟؟
نجیب آفندی میرے ہاتھوں پر کسی کٹ پتلی سے کم نہیں۔۔ اس لیے ڈرو اپنے انجام سے اگر مجھ میں بدلے کی آگ جاگ گئی تو تم لوگوں کی یہ اکڑ خاک میں مل جائے گی اور تمہیں سمجھ آجائے گی کہ تمہارے شوہر ناممدار میرے پیچھے کس لیے آتا ہے۔۔”
“ہاہاہاہا تمہاری خوش فہمی ہے نسواء وہ اب وہ نجیب نہیں رہا جو تمہارے پیچھے پیچھے بھاگے۔۔
اب اسکی اپنی زندگی ہے اسکے بچے ہیں جو اسکی جان ہے۔۔”
“اووہ۔۔۔ عمارہ ہنی۔۔ مجھے ایک نئے چیلنج کی بو آرہی تمہارے لہجے میں۔۔”
“چیلنج ہی سمجھ لو نسواء۔۔۔”
“پچھلے کچھ سالوں سے اتنے چیلنج ایکسیپٹ کئیے اور دینے والوں کو منہ کی کھانی پڑی۔۔”
“دیکھیں گے۔۔۔”
“اوکے دیکھ لینا۔۔۔”
۔
“عمارہ۔۔۔ کہاں رہ گئی ہو چلیں۔۔؟؟”
عمارہ کی دوست کی آواز پر وہ تو انگلی کے اشارے سے وارننگ دہ گئی تھی عین اسکے جانے کے بعد نسواء نے دروازہ زور سے بند کردیا تھا
اور پھر ایک ناک ہوئی تھی
“ناؤ وٹ۔۔؟؟”
وہ غصے سے چلائی تھی دروازہ کھولنے سے پہلے اور جیسے ہی دروازہ کھولا نجیب صاحب ہاتھ میں بہت سے شاپنگ بیگ پکڑ کر کھڑے تھے
“باپ رے اتنا غصہ ۔۔؟؟ کیا ہوا ہے بیگم۔۔”
“یو۔۔۔ مسٹر نجیب آفندی کس لیے مجھے یہاں لیکر آئے۔۔؟؟ کس سے پوچھ کر میرے کپڑے چینج کئیے۔۔کس سے پوچھ کر۔۔۔”
اسکے دونوں ہاتھ نجیب کی شرٹ کے کالر پر تھے جو ایک دم سے بند دروازے کے ساتھ لگ گئے تھے۔۔۔
“میں یہاں نہ لاتا تو کہاں لیکر جاتا۔۔؟؟ میرے گھر جہاں آپ نے جانے سے منع کردیا بےہوشی میں بھی۔۔
آپ کے گھر جہاں آپ جانے سے ڈر رہی تھی کہ حورب یا مننان آپ کو ایسی حالت میں نہ دیکھ لے۔۔؟؟ یہاں لے آیا یہ ہوٹل۔۔۔”
“نہ آپ کوئی ۔۔۔۔ہیں نہ میں ہوکر۔۔ تو شرم آنی چاہیے ہوٹل میں لانے کی۔۔”
سب کچھ ایک ہاتھ میں پکڑ کر نسواء کو بازو سے پکڑ کر دروازے سے پیچھے کردیا تھا۔۔
بیڈ پر سب رکھ کر ایک نظر نجیب نے اسے دیکھا تھا
“فار گوڈ سیک اس حالت میں اونچی آواز میں نہ بولیں۔۔”
“کس حالت میں۔۔؟؟ میں ٹھیک ہوں زرا سا سردرد ہے۔۔”
“وٹ۔۔۔”
نجیب ایک دم سے پیچھے ہوگئے تھے۔۔ اب انہیں سمجھ آرہی تھی نسواء نے جو باتیں کی وہ خود بھی بھول گئی تھی۔۔
“نسواء آپ کو۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکے تھے اور گہرا سانس لیا تھا۔۔
“آپ نے ہسپتال میں مجھ سے بہت باتیں کی تھی آپ کو کچھ یاد ہیں۔۔؟؟”
“نہیں۔۔ کیا بات کی ہوگی۔۔؟ سوائے اس کہ کے مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔ اور آپ مجھے اس چیپ موٹل میں۔۔”
“یہ میرے ہوٹل کا گرینڈ سوئٹ ہے نسواء۔۔ یہ سب ہوسکتا پر چیپ نہیں۔۔۔
میں اپنی رائٹ فلی وائف کو کیوں کسی چیپ موٹل میں لے جاؤں گا۔؟؟ آپ میری بیوی ہی نہیں عزت بھی ہیں۔۔ غیرت بھی ہیں۔۔ اور یہ کپڑے چینج میں نے نہیں کئیے تھے ہوٹل فی میل نے کئیے تھے۔۔۔”
کہتے کہتے آنکھیں چرا لی تھی۔۔ اور نسواء سمجھ گئی تھی اس جھوٹ کو۔۔ مارے شرمندگی اور غصے کہ وہ اور کچھ محسوس نہیں کررہی تھی اس لمحے۔۔۔
“میرا موبائل کہاں ہے میں اپنے گارڈ اور ڈرائیور کو۔۔۔”
“وہ باہر ہی ہیں۔۔۔ یہ کچھ کپڑے لے کر آیا ہوں جلدی سے چینج کر آئیں میں نے کھانے کا کہا ہے آتا ہی ہوگا۔۔”
“میں کھانا نہیں کھاؤں گی بس ڈرائیور سے کہہ دیں گاڑی ریڈی۔۔۔”
“یہ رہا دروازہ لاکڈ اور یہ رہا پہرے دار میڈم۔۔۔”
کرسی کو اٹھا کر دروازے کے ساتھ رکھ کر نجیب صاحب خود بیٹھ گئے تھے اس پر۔۔۔
“نجیب۔۔۔”
“یہ کپڑے اور وہ رہا باتھروم۔۔ کھانا کھائیں گی تو میں چھوڑنے جاؤں گا آپ کو۔۔چلیں شاباش۔۔۔”
ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر وہ موبائل نکال کرمصروف ہوئے تو نسواء بھی پاؤں پٹک کر باتھروم چلی گئی تھی کپڑے لیکر۔۔
“سیریسلی۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ نسواء۔۔۔”
وہ باتھروم میں جیسے ہی جاکر ڈور لاک کرتی ہے کمرے سے نجیب کی ہنسی کی آواز نے اسے حیران کردیا تھا
“یہ سچ میں پاگل ہوگئے ہیں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کون تھی وہ۔۔؟ اور نجیب بھائی اسے یوں اٹھا کر لے گئے آخر ماجرہ کیا ہے۔۔؟”
“نجیب کی پہلی بیوی ہے وہ۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ وہ تو جا چکی تھی۔۔اتنے سال ہوگئے اب کونسی بیوی۔۔؟؟ تم تو کہتی تھی نجیب بھائی تمہاری مٹھی میں ہیں اور اب یہ سب۔۔؟ لگتا ہے تمہیں سائیڈ لائن کردیں گے۔۔”
“آنے والے کچھ دنوں میں میں اسے سائیڈ لائن کردوں گی دیکھ لینا نجیب طلاق دے کر اپنا نام بھی کھینچ لیں گے اس سے۔۔”
“جس طرح بانہوں میں اٹھایا ہوا تھا ہمیں نہیں لگتا اب تم دیکھ لو جو کرنا ہے جلدی کرو۔۔”
“ہمم میں اور حسنہ آج کٹی پارٹی میں جارہے ہیں مسز چوہدری کی اگر آنا ہوا تو بتا دینا۔۔”
وہ دونوں فرینڈز اسے وارن کرکے چلی گئی تھی
“نسواء تم نے واقع اب لمٹس کراس کی ہیں اب تم انجام دیکھنا اپنا اور اپنے بچوں کا۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ جانتی ہیں میں اکثر آفس جانے کے لیے لیٹ کیوں اٹھتا تھا نسواء۔۔؟؟”
وہ آہستہ سے کرسی سے اٹھے اور شیشے کے سامنے بال سکھاتی نسواء کے پیچھے کھڑے ہوگئے
“کیونکہ مجھے انتظار رہتا تھا کہ کب آپ اٹھے شاور لے کر ایسے ہی شیشے کے سامنے سنوارے خود کو۔۔ اور میں دیکھتا رہتا تھا۔۔۔”
نسواء کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جیسے ہی نجیب نے اپنی طرف کیا انہوں نے کسی رومینٹک مومنٹ کی ترجمانی کرنا چاہتے تھے وہ جو کبھی شادی کے ان سالوں میں نہ کرسکے وہ جو کرتے ہوئے ہچکچاتے تھے اپنی توہین سمجھتے تھے اب اتنا اوپنلی سب ظاہر کرتے جارہے تھے اپنی بیوی پر
۔
“تو جھوٹ شادی کے پہلے دنوں سے بولنا شروع کردیا تھا آپ نے نجیب۔۔؟؟”
“نسواء۔۔۔ میرے کہے کو غلط مت سمجھیں۔۔۔”
“ابھی تو سہی سمجھنا شروع ہوئی ہوں آپ کو مسٹر نجیب۔۔۔اور پلیز فاصلہ رکھ کر بات کریں۔۔ مجھے کوئی نزدیکی نہیں چاہیے۔۔۔”
جلدی میں ا س نے اپنا پرس اور سیل فون اٹھایا تھا اور تیز قدموں سے وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
اور کمرہ ایسے خالی ہوگیا تھا جیسے اس میں کوئی ہو ہی نہ۔۔۔
“وہ جو میرے منہ سے بےشمار باتیں سننے کے لیے بےتاب رہتی تھی اب میری باتیں اسے زہر لگتی ہیں۔۔ جھوٹ لگتی ہیں۔۔
اور مجھے احساس اس وقت ہورہا جب قسمت نے مجھے سے وقت چھین لیا۔۔۔
یا میں نے گنوا دیا۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کا نمبر کیوں آف تھا۔۔؟؟ گارڈ بتا رہے تھے آپ کسی دوست کے گھر تھی۔۔
کونسی دوست ماں۔۔؟”
مننان کی کال جیسے ہی اٹھائی اس نے لاتعداد سوال ایک ساتھ پوچھ لئیے تھے
“گارڈز نے ٹھیک کہا بیٹا ڈاکٹر سحرش کے گھر گئی تھی میں۔۔”
“کیوں۔۔ سب ٹھیک ہے آپ ٹھیک ہیں ۔۔؟؟”
“میں ٹھیک ہوں میرے بچے۔۔۔ میری فکر کرنا چھوڑ دو میں نے اپنے حصےکی زندگی جی لی ہے۔۔”
“ماں ایسے کیوں کہہ رہی ہیں۔۔؟؟ آپ بالکل ٹھیک ہیں نہ۔۔؟؟”
“ہاں بچے۔۔۔ اب گھر جا کر بات کروں گی۔۔”
“پر ماں۔۔۔”
نسواء نے فون بند کردیا تھا وہ اور جھوٹ کیسے بولتی۔۔ اس میں ہمت نہیں تھی اپنے بیٹے سے اور جھوٹ کہنے کی۔۔
وہ جانتی تھی وہ موت کی آغوش میں جارہی ہے پر اتنی جلدی اسے اندازہ نہ تھا۔۔
اور اس میں ہمت بھی نہیں تھی بچوں کو خدا حافظ کہنے کی۔۔
“میم آپ سر کو بتا دیں آپ کی رپورٹس کا۔۔”
“آپ لوگوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔۔ “
“اس لیے خاموش ہیں ہم ورنہ ہم اس شخص کو آپ کے پاس بھی بھٹکنے نہ دیتے۔۔۔”
“ڈرائیور اور گارڈ کی باتوں نے اسے اور شرمندہ کردیا تھا
“میں کوشش کروں گی کہ اب کوئی ایسی صورت حال نہ ہو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“تم مجھ سے الگ کب ہو۔۔میں تم سے جدا کب ہوں۔۔
پانی میں کنول جیسے۔۔۔ رہتے ہو مجھ ہی میں تم۔۔۔”
۔
“مننان سر ناشتہ۔۔۔”
“کیا ویٹریس کی جاب بھی شروع کردی ہے مس منیشہ۔۔؟؟ویٹر لے آتا۔۔”
اس نے ٹرے رکھنے کے بجائے پٹک کر رکھی تھی پانی کا گلاس گرتے گرتے بچایا تھا مننان نے اور اپنی اسسٹنٹ کو ایک نظر دیکھا تھا باقی ٹیبلز کی طرف لوگوں کو دیکھتے ہوئے۔۔
“اب میں نے کیا کہہ دیا منیشہ۔۔؟؟”
وہ بالکل نارملی بی ہیو کرنے کی کوشش کررہا تھا منیشہ کے ساتھ پچھلے کچ دنوں سے۔۔
اور منیشہ اتنے ہی نخرے دکھا رہی تھی
“کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے پہلی بار میں آپ کے پرسنل کام کرررہی ہوں۔۔
اپنی منگیتر کے ساتھ جس پارٹی میں جانا ہو بطور سرونٹ مجھے ہی لے جاتے ہیں
اب دس لوگوں کے سامنے میرا ناشتہ لانا آپ کو برا لگ رہا۔۔؟؟”
“اففف ایک سانس میں کتنا بولتی ہو۔۔؟ سب دیکھ رہے چپ کرکے ناشتہ کرو پھر شاپنگ۔۔”
“پھر آپ کی منگیتر کو کمپنی دینی ہوگی۔۔؟؟ انکے شاپنگ بیگ پکڑنے کے لیے۔۔؟؟
سوو سوری سر میں فارغ نہیں ہوں۔۔”
وہ اٹھ کر جانے لگی تھی جب مننان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے واپس بٹھایا تھا
“لیزا کو میں نے اس ٹریپ پر انوائٹ نہیں کیا۔۔۔ ہم دونوں جارہے۔۔ تم نے یہاں سے کچھ نہیں خریدنا۔۔؟ اپنی فیملی کے لیے۔۔؟؟
میری ہیلپ کردینا ماں اور حورب کے لیے کچھ سپیشل لینے کے لیے۔۔”
وہ انکار کرنا چاہتی تھی پر وہ نسواء کا سوچ کر چپ ہوگئی۔۔
وہ نسواء کی التجا پر مننان کے قریب جانا چاہتی تھی پر لیزا اور مننان کی نزدیکیوں نے اسکے دل میں اس بھرم کو بھی چکنا چور کردیا تھا۔۔
اور وہ مننان کے ہر فیور کو اسکے منہ پر انسلٹ کرنے لگی تھی۔۔۔
۔
مگر اب مننان کا یہ نرم لہجہ اسکے والز کو توڑ رہا تھا جو اس نے اپنے دل کے قریب بنا دئیے تھے۔۔۔
۔
“منہ کھولو۔۔۔”
منیشہ کو اپنی سوچوں میں گم دیکھے مننان نے جیسے سینڈوچ کا پیس اسکی طرف بڑھایا اس نے تھوڑا سا منہ کھولا تھا۔۔۔
۔
“ہوش گنوانا۔۔۔یہی چاہت ہے۔۔۔
جان سے جانا یہی چاہت ہے۔۔۔”
۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں مس منیشہ۔۔۔؟؟”
“کتنے روپ ہیں آپ کے مننان۔۔؟؟ مجھے کس روپ کو سچ مان کر پیچھے ہوجانا چاہیے۔۔؟؟”
مننان کے ہاتھ میں ابھی بھی اس کا ہاتھ تھا۔۔ اس لڑکی کی بات سن کر اس نے بےساختہ اسکی آنکھوں بھری ہوئی تھی۔۔
“تمہیں جو روپ اچھا لگتا ہے میرا۔۔”
اپنا دوسرا ہاتھ بھی منیشہ کے ہاتھ پر رکھ کر پوچھا تھا۔۔۔
وہ کھو گیا تھا منیشہ کی آنکھوں میں۔۔۔ وہ ایک پل جس نے قید کرلیا تھا مننان کے دل و دماغ کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم تب سے یہاں انتظار کررہے ہو۔۔؟ پر کیوں۔۔؟؟”
“کیوں کیا کیوں۔۔ چائے پر لے جانا تھا آپ کو۔۔ “
“مجھے نہیں جانا۔۔ میری فلائٹ ہے بارہ بجے۔۔۔”
“اوکے ابھی چار گھنٹے ہیں۔۔۔ہوپ آن ڈاکٹرحورب۔۔۔”
“مسٹر شہاب۔۔۔”
“سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ ایک کپ چائے میں کیا جاتا ہے۔۔؟ میری جان بچائی تھی آپ نے مجھے اچھے سے شکریہ ادا کرنے دیں۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
“اوکے۔۔؟؟ وٹ۔۔۔؟؟”
“ٹھیک ہے شہاب۔۔”
“یا اللہ۔۔۔ مجھے دل کا دورہ پڑ جائے گا۔۔۔ یہ ڈاکٹر مان گئی چائے پر جانے کے لیے۔۔۔ لوگوں یہ ڈاکٹر۔۔۔”
وہ چلانے لگا تھا جب حورب نے ہنستے ہوئے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
“چپ ہوجائیں۔۔ اندر میرے کالیگ کیا سوچیں گے۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔ مجھ سے زیادہ خوشی برداشت نہیں ہوتی نہ۔۔۔”
“تو میں واپس اندر جاؤں۔۔۔”
“نہیں۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ بیٹھیں پلیز۔۔۔”
۔
وہ جیسے ہی پیچھے بیٹھی تھی شہاب نے بائیک فل سپیڈ میں چلا دی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ آپ کی جان بچانے کی سزا مجھے مار کر مت دیجئے۔۔ آہستہ کرلیں فرسٹ ٹائم بیٹھی ہوں بائیک پر۔۔۔”
“پھر تو میں بہت خوش نصیب ہوں۔۔۔”
اور اس نے بائیک آہستہ کردی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب ماموں مننان کے گھر والے ابھی کچھ مصروفیات کی وجہ سے مل نہیں پائیں گے پلیز تھوڑے دن اور ویٹ کرلیں۔۔”
“اٹس اوکے بیٹا۔۔۔نجیب کو کوئی ایشو نہیں ہے۔۔۔”
“میں نیکسٹ ویک اس لڑکے سے ملنا چاہتا ہوں۔۔ ماہیر کو کمپنی کا ‘سی ای او’ بنانے ۔۔۔”
نجیب کی بات اسکے ہونٹوں پر ہی دم توڑ گئی تھی جب نسواء مین گیٹ سے اندر آتے دیکھائی دی تھی۔۔۔
اور وہ اس طرح اندر آرہی تھی جیسے رائٹ فلی مالکن ہو اس گھر کی
“نسواء۔۔۔ بیٹی اور ساڑھی میں۔۔۔کیا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں نجیب۔؟؟”
دادی نے نجیب کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“یہ مجھے سچ مچ ہارٹ اٹیک کروا دے گی دادی میں بتا رہا ہوں۔۔۔”
نجیب دادی کے کان میں سرگوشی کرتے آلموسٹ نسواء کی جانب بھاگتے ہیں ڈائننگ ٹیبل پر سب کو شاک چھوڑ کر۔۔۔
“نسواء۔۔۔ آپ۔۔۔یہ۔۔۔میرے۔۔”
“آپ کے لیے نہیں ہیں دادی کے لیے ہیں۔۔پیچھے ہٹیں۔۔۔”
وہ نجیب کو سائیڈ کرکے راستے میں کھڑی عمارہ کو آنکھ مارتی دادی کے پاس چلی گئی تھی
“دادی۔۔۔ اب کیسی ہیں آپ۔۔؟؟”
“نسواء میری بچی۔۔ اب تم آگئی ہو میں ٹھیک ہوں۔۔۔آؤ بیٹھو۔۔۔”
دادی نسواء کا ہاتھ پکڑ کر لیونگ روم کی طرف لے گئی تھی۔۔
“یہ عورت کون ہے۔۔؟؟ میں نے دیکھا ہے کہیں۔۔۔”
لیزا نے جیسے ہی عورت کہہ کر نسواء کو مخاطب کیا فضا نے اپنی بیٹی کو غصے سے ٹوکا تھا
“وہ عورت ممانی ہے تمہاری۔۔۔”
“وٹ۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔”
۔
“نجیب بیٹا نسواء کو ایک دم سے کیا ہوگیا۔۔۔”
عمارہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔
“دادی کچھ نہیں ہوا بس زرا سے چکر۔۔۔”
“تو کس نے کہا تھا بستر سے اٹھنے کو نسواء۔۔؟؟ بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے میں ابھی آپ کی طرف ہی آنے والا تھا۔۔۔ حد کرتی ہیں لاپروائی کی۔۔۔”
وہ نسواء کے کندھے پر ہاتھ رکھے انہیں لیونگ روم سے سیدھا سیڑھیوں کی طرف لے جارہے تھے
“ڈونٹ یو ڈیرھ مسٹر نجیب سب کے سامنے مجھے اٹھانے کی کوشش۔۔۔”
پر نجیب نسواء کو ایک بار پھر سے اٹھا کر اوپر کمرے میں لے گئےتھے۔۔۔
“یہ عورت کون ہے۔۔؟؟”
“اووہ یاد آیا یہ تو فیمس شیف ہیں۔۔ پر یہ ہمارے گھر۔۔۔”
“فائنلی۔۔۔ دادی۔۔۔”
فضا پرجوش انداز میں دادی کے گلے لگی تھی
“یہ سب کیا ہورہا ہے موم۔۔؟؟ ڈیڈ کس عورت ایسے اٹھا کر لے جاسکتے ہیں۔۔؟؟
کیوں خاموش ہیں آپ۔۔۔؟؟ کون ہے وہ عورت۔۔؟؟”
“وہ عورت میری پہلی بیوی ہے۔۔ میری محبت ہے۔۔
دادی آپ نسواء کے پاس جائیں میں ابھی میڈیسن لیکر آیا۔۔۔”
۔
“نجیب میری بات۔۔۔”
“ایک لفظ برداشت نہیں کروں گا میں نسواء کے خلاف دونوں کو سمجھا دو۔۔”
دونوں سے مراد انکے دونوں بچے تھے جو والد کی سخت آواز پر خاموش ہوگئے تھے پر تب تک جب تک نجیب گھر سے باہر نہیں چلے گئے۔۔
“دادو آپ تو کچھ بولیں۔۔ یہ کونسی وائف تھی جس کا ہمیں معلوم نہیں تھا۔۔؟؟”
ماہیر نے ایک دم سے پوچھا تو وہ بڑے لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے انہوں نے تو پلاننگ کی ہوئی تھی ان دونوں کی طلاق کی پر یہ سب کیا تھا۔۔۔
“نجیب کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہے۔۔ ایک طرف بچے سیٹل ہوگئے اور بیوی بھی واپس آگئی۔۔۔ سونے پر سہاگا مننان کی کامیابی جو اسے پلیٹ میں رکھ کر ملی ہے۔۔۔
اب جو ہمارے بیٹے کو کمپنی ملنی تھی وہ بھی ماہیر کو مل جائے گی۔۔۔؟؟”
“چپ ہوجاؤ بیگم۔۔۔ نجیب ایسا کچھ نہیں کرے گا۔۔۔ دیکھ نہیں رہی بھائی صاحب کو۔۔ بیٹے کی اس حرکت نے انہیں کتنا غصہ دلا دیا ہے۔۔”
شزا اور ماہیر کو سمجھانے ناکام سا لگ رہا تھا عمارہ کو وہ تھک گئی تھی
“آپ دوسری عورت ہیں ڈیڈ کی زندگی میں۔۔؟؟ اس لیے وہ اس طرح سے بات کرتے تھے موم۔۔آپ۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
عمارہ شزا پر چلاتے ہوئے اوپر روم کی طرف بڑھی تھی جہاں نسواء تھی اس وقت۔۔۔
۔
“دادی آپ کو پاپا نیچے بلا رہے ہیں۔۔۔پلیز۔۔۔”
“پر بیٹا نسواء ابھی۔۔۔”
“آپ جائیں دادی میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
دادی کے جاتے ہی نسواء نے کمفرٹ خود سے اٹھا کر دوسری طرف پھینک دیا تھا بیڈ کے۔۔۔
“دوسری عورت۔۔۔از اٹ مس عمارہ۔۔؟؟”
“یو۔۔۔بچ۔۔۔”
“بچ کون تھی کچھ سال پہلے سب نے دیکھ لیا۔۔ آج میں نے تمہیں تمہاری اوقات دیکھائی ہے۔۔۔
کیا کہہ رہی تھی۔۔؟؟ تم نے بہت بڑی غلطی کردی مجھے چیلنج کرکے عمارہ۔۔تم خود بھی نہیں جانتی میں تمہارے ساتھ کیا کروں گی۔۔”
“تم کچھ نہیں کرسکتی۔۔۔ نجیب تمہارے ساتھ کبھی وفادار نہیں رہ سکتے۔۔ یہ کچھ دن کی جیت میں ہار میں بدل دوں گی۔۔وہ حسن پرست مرد۔۔۔”
“کیا میں حسین نہیں لگ رہی تمہیں۔۔؟؟دیکھو مجھے۔۔ کامیاب ہوئی مشہور ہوں۔۔
اور خوبصورت بھی ہوں۔۔۔ ہاہاہاہا اور تمہارے شوہر کو انگلی کے اشاروں پر نچا بھی دیا۔۔ ڈیمو دیکھا نہیں۔۔۔؟؟
ابھی بھی میری حیثیت اور اپنی اوقات کا اندازہ نہیں ہوا۔۔؟؟”
وہ ابھی بات کررہی تھی جب عمارہ نے دروازے پر کھڑے نجیب کو دیکھ بات بدل دی تھی
“تو تم یہ سردرد کا ڈرامہ کررہی تھی۔۔؟؟ نسواء۔۔ پلیز میرا گھر برباد نہ کرو۔۔ نجیب کو ایسے دھوکا مت دو وہ تو تمہیں دل سے چاہتے ہیں۔۔۔اور۔۔۔ نجیب آپ آگئے۔۔۔
اچھا ہوا آپ نے سب باتیں سن لی۔۔۔ دیکھیں یہ اصلیت ہے۔۔”
عمارہ کو رونے لگی تھی پر نسواء کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔۔۔
“نجیب۔۔۔یہ عورت ایک مقصد سے یہاں آئی۔۔ آپ کو برباد کرنے ہمارے گھر کو۔۔۔”
“مجھے اس کے یہاں رہنے سے مطلب ہے۔۔۔ مقصد میری بربادی ہی سہی۔۔”
“نجیب آپ۔۔۔”
“عمارہ دوبارا ہمارے بیڈروم میں بنا اجازت کے مت آنا۔۔۔ اور نسواء کے قریب بالکل نہیں۔۔”
“نجیب۔۔۔”
“آپ اس عورت کی وجہ سے میری ماں کو بےعزت نہیں کرسکتے ڈیڈ۔۔ ابھی نکالیں باہر۔۔یہ۔۔۔”
نجیب نے تھپڑ مارتے ہی کالر سے پکڑا تھا ماہیر کو اور نسواء کے سامنے لے آیا تھا
“یہ عورت بیوی ہے میری۔۔۔ ڈیم اِٹ۔۔۔ وائف ہے میری۔۔۔ اگر میں یہاں سے اپنی زندگی سے کسی کو نکالوں گا تو وہ تمہاری ماں ہوگی۔۔۔ نسواء نہیں۔۔۔اب نکل جاؤ اس کمرے سے۔۔۔آؤٹ۔۔۔”
“آپ پچھتائیں گے نجیب اچھا نہیں کررہے۔۔۔”
“میں پچھتا رہا ہوں عمارہ۔۔۔ تم سے شادی کرکے۔۔۔”
عمارہ کا ہاتھ پکڑ کر روم سے باہر لے گئے تھے۔۔۔
اور جب روم کے باہر چلانے کی آوازیں آنا شروع ہوئی تو نسواء سر پکڑے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
کچھ اور منٹ شور شرابہ ہوا اور تھم گیا۔۔۔
اور ج نجیب صاحب روم میں داخل ہوئے تو نسواء کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے تھے
وہ آج ہر موقع ملنے پر نسواء کو شاک پر شاک دے رہے تھے
“مجھے معلوم نہیں تھا میری نسواء عمارہ کو نیچا دیکھانے کے لیے یہ سب۔۔”
“دھوکا کھا کر ایسے ہی لگتا ہے جیسے آپ کو لگ رہا ہے نجیب۔۔ پر میں شرمندہ نہیں۔۔
آپ کی دوسری لاڈلی بیوی کو یہ باور کروانا ضروری تھا۔۔۔ اب میں چلتی ہوں۔۔۔”
“پلیز سٹے۔۔۔کچھ پل ٹھہر جاؤ پھر میں خود چھوڑ کر آؤں گا نسواء آپ کو۔۔۔”
نسواء کے ہاتھوں کو ہونٹوں سے لگائے وہ پاس بیٹھ گئے تھے۔۔
“کسی کو معلوم نہیں تھا میرا۔۔۔؟؟؟ مننان کی بھی کوئی پہچان نہیں ہوگی اس گھر کی نئی نسل میں۔۔۔ “نجیب نظریں چرا گئے تھے نسواء کے سوال پر۔۔۔
“آپ کو یاد ہے نجیب جب آخری بار ساتھ تھے یہاں اس کمرے میں ہمارے بیڈروم میں اور آپ ایسے میرے ساتھ نہیں میرے سامنے کھڑے مجھے اپنی دوسری شادی کا حتمی فیصلہ سنا رہے تھے۔۔”
“نسواء۔۔۔”
“مکافات عمل نجیب۔۔ کبھی سوچا نہیں تھا وہ شوہر نامدار جو جوانی میں دوسری شادی کے لیے اتنا تڑپ رہا تھا اب اس طرح پاس بیٹھا ہے۔۔”
“نسواء۔۔۔۔ایک بار مجھے۔۔۔ معاف نہیں کرسکتی۔۔بس ایک بار۔۔؟؟”
“وہ بیوی شاید معاف کردے پر وہ ماں نہیں کرسکتی جس کا بچپن چھن گیا۔۔ جس کی جوانی محنت میں گزر گئی۔۔ کتنی بار دل میں ملال آتا تھا کہ اس خاندان کا چشم و چراغ اگر باپ کی آغوش میں پلتا تو پھولوں کی طرح رہتا۔۔ جیسے آپ کی باقی اولاد رہی جیسے اس خاندان کے باقی بچے رہے۔۔۔”
“نسواء۔۔بس کرجائیں۔۔۔ پلیز۔۔۔”
نسواء کے آنسو صاف کرتے تو پھر آنکھیں بھر جاتی اسکی
“شاید یہ نصیب تھا میرے بچوں کا باپ کی محبت کے بغیر جینے کا۔۔اور اب یہی سزا آپ کی ہوگی نجیب ہمارے بغیر زندگی گزارنا۔۔ کیونکہ نہ میں واپس پلٹ کر آؤں گی اور نہ ہی میرے بچے۔۔۔”
۔
“اتنی بڑی سزا مت سنائیں مجھے میں نے اتنے سال آپ کے بغیر رہ کر دیکھ لیا زندگی کورے کاغذ کے سوا کچھ نہ تھی۔۔۔”
۔
“وہی ہے صورتیں اپنی وہی میں ہوں وہی تم۔۔۔
مگر کھویا ہوا ہوں میں۔۔ مگر تم بھی کہیں گم ہو۔۔۔”
۔
“اور میری زندگی آپ کے ساتھ کورے کاغذ جیسی ہے۔۔۔”
نسواء نے خود کو جدا کرلیا تھا یہ الفاظ کہہ کر جنہوں نے گھائل کردیا تھا نجیب آفندی کو۔۔
وقت کا پیہہ اتنے سالوں کے بعد اسی پٹری پر لے آیا تھا ان میاں بیوی کی زندگی کو۔۔
کچھ سال پہلے شوہر ایک الگ دنیا میں مگن ہوکر اپنا رشتہ خراب کرچکا تھا اور آج جب وہ اس رشتے کی قدر کو جان گیا تھا تو اسکے پاس واپس آنے کو تیار نہیں تھا وہ ایک رشتہ۔۔۔
۔
“محبت میں دغا کی تھی ۔۔سو کافر تھے سو کافر ہیں۔۔
ملی ہیں منزلیں پھر بھی۔۔۔ مسافر تھے مسافر ہیں۔۔۔”
۔
“میں انتظار کروں گا۔۔ لیکن اب ہمارے بچوں کو منا کر پھر آپ کو مناؤں گا۔۔ یہ میرا وعدہ ہے۔۔”
۔
“تیرے دل کے نکالے ہم۔۔ کہاں بھٹکے۔۔ کہاں پہنچے۔۔۔
مگر بھٹکے تو یاد آیا۔۔ بھٹکنا بھی ضروری تھا۔۔۔
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا۔۔۔
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ماہ بعد۔۔۔۔”
۔
“مسٹر مننان میرے گریبان پکڑنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔ پہلے اندر دیکھ لیں میں جھوٹ بول رہا یا آپ کی ماں۔۔”
“باسٹرڈ۔۔۔”
مننان نے اسے مکا مارتے ہی اپنی گن نکالی تھی جب اسکے گارڈ جلدی سے ان دونوں کو پیچھے کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔۔۔
“سر ہم اسے دیکھ لیں گے۔۔ آپ اندر جائیں۔۔کیا پتہ میم کی جان کو خطرہ ہو۔۔”
اور وہ جلدی سے اندر کی جانب بڑھا تھا آج اپنے ہی گھر میں داخل ہوتے ہوئے مننان کو گھبراہٹ ہورہی تھی
۔
“اور وہ جیسے ہی داخل ہوا ندر کا منظر اسکے تن بدن میں جیسے آگ لگا چکا تھا۔۔۔”
۔
اس نے ایک ہی لفظ پکارا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کا دماغ ٹھیک ہے نجیب۔۔؟؟ حورب ابھی ہاسپٹل نہیں گئی ہےمننان کسی بھی وقت آسکتا ہے۔۔ خدا کے لیے میری مشکلات اور مت بڑھائیں۔۔”
“میں بس ڈاکٹر کی پریسکرائبڈ میڈیسن لیکر آیا ہوں جب تک نہیں کھائیں گی میں نہیں جاؤں گا۔۔ اور بلڈ ٹیسٹ کے لیے بلڈ چاہیے۔۔سو۔۔۔”
سرنج دیکھ کر وہ دس قدم پیچھے ہوگئی تھی نجیب سے۔۔۔
“وٹ داہیل۔۔؟؟ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔ کس ڈاکٹر کی ادویات کھلا رہے ہیں اور کونسے ٹیسٹ۔۔؟؟ میں پرفیکٹ۔۔۔”
“بلڈ دینے میں اور دوائی کھانی میں کوئی حرج نہیں۔۔۔”
“آپ کا کیا پتہ مجھے زہر دہ دیں۔۔اور۔۔”
“نسواء۔۔۔ اتنا بُرا سوچتی ہیں مجھے لیکر۔۔؟؟ میں زہر دوں گا۔۔۔؟؟”
نسواء کے کندھے پر ہاتھ رکھے انہوں نے جیسے اپنے قریب کیا تھا نجیب کے سینے پر ہاتھ رکھے اس نے وہ فاصلہ رکھنے کی کوشش کی تھی
“نسواء۔۔ میں نے کبھی آپ کا برا نہیں چاہا۔۔۔”
“اس لیے اس ملازمہ کو منع کردیا تھا کہ مجھے اور میرے بیٹے کو گھر میں پناہ نہ دے ورنہ آپ اسے نکال دیں گے نوکری سے۔۔۔
اور وہ ٹرین کتنے گھنٹے لیٹ کروائی تھی نجیب۔۔۔؟؟”
“آپ کو کیسے معلو۔۔”
“آپ کی بیوی بن کر چار سال آپ کے ساتھ گزارے نجیب ان سالوں میں اتنا تو سمجھ گئی تھی۔۔۔”
نجیب نے آنکھیں بند کرکے نسواء کے ماتھے پر اپنا سر رکھ دیا تھا
“اور کہتے ہیں کہ میں برا نہیں چاہتا تھا۔۔؟؟ آپ نے کچھ اچھا بھی نہیں چاہا ہمارا۔۔۔”
“ایم سوری نسواء۔۔۔ ایم سوری۔۔۔”
نسواء کی آنکھوں کے آنسو چُنتے ہوئے ماتھے پر جیسے ہی بوسہ دیا تھا دروازہ کھلنے پر ایک آواز نے ان دونوں کو ایک جھٹکے سے الگ کردیا تھا۔۔۔
اور مننان کی آنکھوں میں بےیقینی نے نسواء کے جسم کو جیسے بےجان کردیا ہو۔۔۔
۔
“اووہ۔۔۔ تو یہاں یہ چل رہا ہے۔۔۔”
“مننان ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔کچھ بھی نہیں ۔۔۔نجیب ابھی آئے۔۔ میں اکیلی تھی۔۔
مننان بیٹا۔۔۔”
مننان نے ہاتھ جھٹک دیا تھا نسواء کا۔۔۔
۔
“اکیلا تو میں رہ گیا نہ ماں۔۔ کیا ملا مجھے۔۔؟ پہلے باپ نے دھتکار دیا پھر ماں نے دھوکا دہ دیا۔۔؟ کیوں کیا آپ نے ایسا میرے ساتھ۔۔؟ جب اس شخص کے ساتھ رہنا تھا تو کیوں اتنے سال نفر ت کرنے کا ڈرامہ کیا۔۔؟ کیوں۔۔ “
“مننان میری بات سن لو۔۔۔”
“نہیں آپ مجھے جواب دیں۔۔ کیوں اتنا بڑا جھوٹ بولا۔۔؟ میرے پیچھے آپ ملتی رہی۔۔؟ بیوی بن کر رہتی رہی اور میں وہاں پریشان ہوتا رہا۔۔”
“بیٹا ایک بار اپنی ماں کی بات سن لو۔۔۔”
نجیب کا بازو جھٹک دیا تھا اس نے۔۔
“ہاتھ مت لگائیے مجھے۔۔ گھن آتی ہے آپ کے چھونے سے بھی مسٹر نجیب آفندی۔۔
کیوں آئے آپ ہماری زندگی میں۔۔؟ میری ماں کو بھی چھین لیا۔۔ دیکھیں دھوکا دہ رہی تھی مجھے۔۔۔ جھوٹ بول رہی تھی۔۔ جن کی ایک مسکراہٹ کے لیے میں نے اپنی ہستی مٹا ڈالی۔۔ کیوں ماں۔۔۔”
اسکے آنسوؤں سے بھرے چہرے نے نسواء کو اور بھی کمزور بنا دیا تھا۔۔ اسکی ممتا اسے مجبور کررہی تھی وہ اپنی بیماری کا بتا دے اپنی ہر مجبوری کھول کر رکھ دے اپنے بیٹے کے سامنے۔۔
پر اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔
“مجھے پیدا کیوں کیا آپ نے۔۔؟ اگر میں اتنی بڑی غلطی تھا آپ دونوں کی تو۔۔”
نسواء کا ہاتھ اٹھ گیا تھا اور مننان نے بھی اپنی گن نکال لی تھی
“نہیں مننان بیٹا۔۔ وہ کام نہ کرنا جو۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے نجیب کی ڈھال بن گئی تھی۔۔ جس پر مننان کی آنکھیں پھر سے بھر آئی تھی
“بےفکر رہے آپ کے سہاگ کو میں کچھ نہیں کروں گا۔۔ یہ میں آپ دونوں کی غلطی ختم کرنے جارہا ہوں۔۔۔ سارے فساد کی جڑ میں ہی رہا۔۔ آپ کا یہ بیٹا۔۔ جس سے آپ کے شوہر کو نفرت ہی رہی۔۔
آپ جو چھپ چھپ کر ملتی تھی میرے مرنے کے بعد آپ کو چھپ کر ملنے کی نوبت نہیں آئے گی ماں۔۔۔
اور آپ وہ کسی کو نہیں دیں گی جو آپ کو ملا۔۔۔ “دھوکا۔۔”
میں نہیں چاہتا اپنے ‘ہرجائی’ کے پیچھے آپ کسی کی ‘ہرجائی’ بن جائیں۔۔۔”
اس نے گن خود پر تان دی تھی۔۔۔
“نجیب آفندی۔۔۔میں ہارا نہیں ہوں آپ سے۔۔ میری جیت چھین لی ہے آپ نے۔۔”
“مننان تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔۔ میں بھی مرجاؤں گی۔۔تم نہیں جانتی میں نے تم پر اپنی ساری دنیا وار دی بیٹا ان آخری لمحات میں مجھے اتنی تکلیف نہ دو۔۔ گن نیچے پھینک دو۔۔”
“آپ کو یہ گلہ بھی نہیں رہے گا ماں۔۔۔میں سب ختم کرجاؤں گا۔۔۔”
“نہیں میرے بچے۔۔ ماں مر جائے گی۔۔۔”
“ماں نے جیتے جی مجھے مار دیا۔۔ دھوکا دہ کر جھوٹ بول کر۔۔ آپ نے ایک بار بولا ہوتا۔۔ میں اس وقت اپنی سانسیں لینا چھوڑ دیتا ماں۔۔۔”
۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ایک بار مجھے بولنے کا موقع تو دو۔۔۔”
“نہیں ماں اب کچھ فائدہ نہیں اب۔۔”
“مننان بھائی آپ اپنی مرضی ماں پر تھوپ نہیں سکتے۔۔ انکو ایسے بلیک میل نہیں کرسکتے۔۔۔”
حورب نسواء کو سنبھالتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
“تم کچھ نہیں جانتی گڑیا۔۔ اس شخص نے ماں کو ہم سے دور کردیا ورنہ وہ کیسے اس۔۔۔”
“مننان بس کر جاؤ ایسے لہجے میں بات مت کرو۔۔ یہ میری تربیت نہیں تھی۔۔۔ بس کرجاؤ۔۔۔”
وہ سر پکڑ کر جیسے مننان کی طرف بڑھنے لگی تھی چکر آنے کی وجہ سے کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی
“نسواء آپ اونچی بات نہ کریں۔۔ میں مننان سے بات۔۔”
“آپ کریں گے مجھ سے بات۔۔؟ آپ اس قابل ہیں۔۔؟؟ نکل جائیں میرے گھر سے۔۔سیکیورٹی۔۔۔ گارڈز۔۔۔ماں کہہ دیں اس شخص سے اگر یہ یہاں سے نہ گئے تو میں کچھ کرگزروں گا۔۔۔”
“مارو۔۔۔ مارنا چاہتے ہو۔۔؟ مارو۔۔ کسی مارو گے۔۔؟ اپنے باپ کو اپنی ماں کو۔۔؟؟
مارو مجھے۔۔۔ ہاں ملاقاتیں کرتی رہی میں۔۔ گولی مارو مجھے۔۔ تم میرے بیٹے ہو۔۔ میرے باپ نہیں۔۔ سنا تم نے میں آج بھی اتنا حق رکھتی ہوں کہ اپنے فیصلے خود کرسکوں۔۔ کبھی شوہر تو کبھی اولاد کی غلام۔۔۔ مارو مجھے۔۔۔”
وہ طیش میں آگئی تھی شوہر اور اولاد کو لاجواب کردیا تھا نسواء کے غصے اور باتوں نے۔۔۔
۔
“نسواء میں جارہا۔۔۔ خاموش ہوجائیں۔۔حورب بیٹا۔۔ماں کو کمرے میں لے جاؤ۔۔۔پلیز۔۔۔یہ دوائی۔۔۔”
نجیب نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا پر نسواء کو چھونے کی بھی سکت نہیں رہی تھی۔۔۔ اپنے بچوں کے درمیان میں سے سر جھکائے وہ ہارا ہوا شخص خاموشی سے اس گھر سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔