62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

وہ میری پسند سے جسے تم نے ٹھکرا کر ایک ایسی لڑکی کو اپنی پسند بنایا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے منیشہ جانتی تھی اس خاندان کو پہچانتی تھی۔۔۔
اپنی چھوٹی بہن کی شادی اس شخص سے ہوتے دیکھ کیا گزری ہوگی۔۔؟؟ اسکی نظروں میں میں بھی جھوٹی مکار ثابت ہوگئی۔۔”
“ماں۔”
“مت کہو مجھے ماں۔۔ مر گئی تمہاری ماں تمہارے لیے۔۔۔ تم نے آج ثابت کردیا خون کی تاثیر نہیں بدلتی تم میں میری تربیت نہیں نجیب آفندی کا خون بول رہا ہے۔۔لے لیا بدلہ۔۔؟؟ اس بدلے میں تم نے سب کچھ پا کر اپنی ماں کو کھو دیا ہے۔۔۔
جو منیشہ کے ساتھ تم نے کردیا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی یاد رکھنا
مننان نجیب آفندی۔۔”
۔
وہ غصے سے سیدھا گھر چلی گئی تھی ہر ایک کو اگنور کئیے اپنے بیڈروم میں بند کرلیا تھا انہوں نے۔۔
“جیت گیا کا خون نجیب۔۔۔ ہار گئی میری تربیت۔۔”
نسواء کی آوازیں سن کر حورب نے غصے سے اس بند دروازے کو دیکھا تھا
“مننان بھائی اگر ماں کو کچھ بھی ہوا تو میں آپ کو معاف نہیں کروں گی۔۔وہ جو علاج کروا رہی تھی آج انکی ساری انرجی ختم کردی آپ نے اتنا رولا دیا۔۔آخر کیوں کیا آپ نے منیشہ کے ساتھ یہ سب۔۔۔”
وہ بہن جو بھائی کی ہر غلط بات کو صحیح سمجھتی تھی آج اسے وہ بھائی ایک نظر نہیں بھا رہا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آپ۔۔۔”
“منیشہ بیٹا۔۔۔؟؟”
نجیب اندر آگئے تھے جب منیشہ نے دروازہ کھولا تھا
“سر آپ یہاں۔۔؟ سب ٹھیک ہے۔۔؟ آپ لوگ واپس کب آئے نسواء میم ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
“مامو۔۔۔ تمہارا مامو ہوں شاید تم بھول گئی ہو بیٹا۔۔”
انہوں نے اس بچی کو شاک کردیا تھا۔۔جس کے چہرے پر حیرانگی نمایاں ہوئی تھی پر کچھ سیکنڈ کے لیے۔۔
“ایم سوری سر میں سمجھی نہیں۔۔ کونسے مامو۔۔؟ مجھے یاد نہیں میری ساری زندگی ایک اورفینیج میں گزری ہے۔۔ میں پہچانی نہیں۔۔”
“منیشہ بیٹا۔۔”
وہ ایک قدم آگے بڑھے تھے اور منیشہ دس قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔
“پلیز سر۔۔ آپ جا سکتے ہیں۔۔”
“منیشہ بیٹا۔۔”
“مجھے ان رشتوں میں نہ باندھے جن کی کوئی حیثیت نہیں آپ کی نظر میں۔۔
مسٹر نجیب میں جانتی ہوں۔۔ آپ کی حقارت اس پانچ سال کی بچی کو لیکر وہ نفرت۔۔
جس نے مجھے پیدا کرنے والی ماں سے دور کردیا تھا
اگر آپ یہاں اپنے کئیے۔۔”
“میں اپنے بیٹے کی گناہ کی معافی مانگے آیا ہوں بیٹا۔۔ مننان دل کا بُرا نہیں ہے۔۔ میری وجہ سے ہر ایک کو وہ تکلیف دہ رہا جو اسے میں نے دی۔۔ “
“ہاہاہا۔۔ آپ وکالت کرنے آیا ہیں۔۔؟؟ اور مجھے لگا کہ شاید خون سفید نہیں ہوا۔۔”
نجیب آفندی کو اس بچی میں وہ عورت نظر آئی تھی جسے انہوں نے جوانی میں دھوکا دہ کر ٹھکرا دیا تھا۔۔
وہ اب سمجھے تھے نسواء کی اٹیچمنٹ اس بچی کے ساتھ۔۔۔
کچھ پل منیشہ کو دیکھنے کے انہوں نے سرد آہ بھری تھی اور سر سے پاؤں تک اس بچی کو دیکھا تھا۔۔ جسے بچپن میں وہ بہت پیار کرتے تھے پر فضا کے شوہر کی دوسری شادی پر انہوں نے سارا غصہ اسی چھوٹی بچی پر اتارا تھا جب انہوں نے للکار کر کہا تھا کہ اس شخص کا خون انکی چھت تلے وہ برداشت نہیں کریں گے۔۔۔
“سر۔۔”
“ایم سوری۔۔ تمہارا بچپن میں نے برباد کردیا اور اب میرے بیٹے نے۔۔”
منیشہ کے سر پر ہاتھ رکھے وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
“آپ نے آخر مجھے وہیں لا کر کھڑا کردیا مننان جہاں میں کبھی نہیں آنا چاہتی تھی
لوگوں کی ترس بھری ہمدردی والی نگاہیں مجھے کبھی اچھی نہیں لگی تھی
آپ نے تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ کیا اتنا بڑا گناہ کردیا تھا آپ سے محبت کرکے۔۔؟”
آنکھیں صاف کئیے اس نے دروازہ بند کردیا تھا اور پھر سے پیکنگ شروع کردی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماں۔۔۔درواز ہ کھولیں۔۔پلیز ماں۔۔ ایک بار بات کیجئے مجھ سے۔۔”
“بس کرجائیں مننان بھائی۔۔۔ اب آپ خوش ہیں۔۔؟ ماں نے علاج کروانے سے منع کردیا ہے”
“حورب گڑیا میری بات سنو۔۔”
“اسی گھر میں شادی کی تھی نہ آپ نے اپنی بیوی سے۔۔؟ اوپر بیڈروم میں گئی تھی آپ کے ملازموں سے آپ کی ڈریم ویڈنگ کا سنا میں نے۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اب یہ فکر کرنے کا ڈرامہ کیوں۔۔”
“حورب۔۔؟”
مننان کا جسم ٹھنڈا پڑگیا تھا چھوٹی بہن کی منہ سے یہ سب باتیں سن کر۔۔وہ بُرے خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اسکی بہن کبھی اس لہجے میں بات بھی کرسکتی ہے اس سے۔۔
۔
“آپ نے لوگوں سے بدلہ نہیں لیا ماں سے لیا ہے۔۔ اتنی عیاشیاں کرنی تھی تو کم سے کم انکی سرجری کا انتظار کرلیتے۔۔ اب خوش ہوجائیں وہ علاج سے انکار کرچکی ہیں۔۔۔”
“حورب بیٹا میری بات۔۔”
“پلیز۔۔۔”
“بس کرجاؤ حورب۔۔ بدتمیزی مت کرو۔۔”
نسواء نے دروازہ کھولتے ہی کہا تھا۔۔ وہ کسی صورت پسند نہیں کرتی تھی ایسی زبان درازی جس میں بڑۓ چھوٹے کا لحاظ نہ ہو
“ماں۔۔”
“بس حورب۔۔ اس معاملے کو پرسنل نہ لو۔۔ کم سے کم تم تو میری تربیت کا مان رکھ لو۔۔”
ماں کی آواز میں بےبسی محسوس کی تھی اس نے اور ایک نظر مننان کو دیکھا تھا
“ماں میری بات سن لیں پلیز۔۔”
“وہ ڈسپریٹ ہوکر نسواء کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہے۔۔”
“مننان ہنی۔۔ مجھے وہاں چھوڑ کر یہاں ہو۔۔ میں تو۔۔اووہ۔۔۔ آنٹی۔۔۔ ہیلو۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔”
لیزا شاپنگ بیگ نیچے رکھ کر نسواء کے گلے لگ گئی تھی
“حورب۔۔۔ بھی ہے۔۔ مننان بتایا نہیں آپ نے یہ دونوں آگئے۔۔ ہم گھر میں اچھے سے ویلکم کرتے۔۔۔اور گڈ نیوز بھی۔۔”
“گڈ نیوز۔۔؟؟”
مننان نے سب سے پہلے پوچھا تھا۔۔
“جی گڈ نیوز۔۔ آنٹی آپ دادی بننے والی ہیں۔۔ ایم پریگننٹ۔۔”
اور وہ ایک آخری راستہ بھی معافی کا بند کردیا تھا لیزا نے نے
“ابھی جاؤ میں بعد میں بات۔۔”
“مننان آپ ڈیڈ بننے والے ہیں اتنی بڑی خوش خبری پر آپ مجھے جانے کا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟”
نسواء نے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک نظر ااس لڑکی کو دیکھا تھا جو اسے ایک نظر نہیں بھا رہی تھی۔۔۔
“حورب اسے کہو اپنی بیوی کو لیکر چلا جائے یہاں سے۔۔ میں اب اسکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ ماں آپ یہ۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔ میری پسند کو ٹھکرا کر اسے دنیا کا تماشا بنا کر اگر تمہیں لگتا ہے میں تمہاری پسند کو اپنا لوں گی تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔ دور ہوجاؤ میری نظروں سے۔۔”
“ماں ۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔ مجھے خود سے الگ مت کریں۔۔”
مننان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر لیزا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے نسواء سے پیچھے کردیا تھا
“آپ دنیا کی پہلی ماں ہیں جوا پنے بیٹے کی خوشیاں برداشت نہیں کرپا رہی اس یتیم کے لیے۔۔؟؟
مننان کو کبھی اس منیشہ سے پیار نہیں تھا آپ زبردستی۔۔”
“اننف لیزا۔۔۔ ابھی جاؤ یہاں سے۔۔”
“نہیں مجھے بولنے دو۔۔ انہوں نے کٹ پتلی بنا کر رکھا ہوا تھا تمہیں مننان اب انکی زندگی سے نکل جاؤ میں دیکھوں گی یہ کیسے گزارا۔۔ کرتی ہیں۔۔ یہ بھی لالچی۔۔”
“لیزا کو ایک زور دار تھپڑ پڑا تھا۔۔
پر مننان یا نسواء سے نہیں سامنے کوئی اور ہی کھڑا تھا
“مامو۔۔۔ آپ نے مجھ پر ہاتھ۔۔”
“اگر خاموشی کے ساتھ یہاں سے نہ گئی تو میں اس سے بھی بُرا پیش آؤں گا۔۔”
“مامو۔۔۔”
وہ روتے ہوئے وہان سے بھاگی تھی۔۔
“آپ کو ہمارے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے تھی نجیب۔۔ وہ پریگننٹ ہے جس پر ہاتھ اٹھایا آپ نے۔۔”
نجیب صاحب شاک ہوئے تھے پر انہوں نے نسواء کی باتوں کو درگزر کردیا تھا
“حورب بیٹا۔۔ سرجری اسی دن ہوگی۔۔ اگر تمہاری ماں نے زرا سی ضد بھی کی تو یہ نجیب آفندی کا قہر دیکھے گی۔۔ میں مننان سے لیکر لیزا تک ہر ایک کا وہ حال کروں گا کہ دنیا دیکھے گی۔۔۔ اگر میں چپ ہوں تو مجھے چھیڑا نہ جائے۔۔۔
اینڈ یو مسٹر مننان۔۔۔ تمہاری مان کی سرجری ک بعد بات کروں گا میں تم سے۔۔”
وہ ایک لاسٹ وارننگ دہ کر وہاں سے چلے گئے تھے
“دا ہیل انکی جرات کیسے ہوئی مجھے دھمکی دینے کی۔۔ انکے ساتھ تو میں وہ کرنے جارہا ہو۔۔”
مننان کہتے کہتے چپ ہوا تھا
“تم کبھی نہیں سدھر سکتے۔۔ دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔”
نسواء یہ کہتے ہی واپس اپنے بیڈروم میں چلی گئی تھی اور دروازہ لاک کرلیا تھا
“حورب۔۔”
“آُ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ماں کی سرجری ہونے تک انکے سامنے مت آئیے گا اور کوشش کیجئے گا آپ کی بیوی بھی سامنے نہ آئے۔۔۔”
۔
بھائی کو لاجواب چھوڑ گئی تھی حورب۔۔۔ وہ اکیلا کھڑا رہ گیا تھا۔۔ جسے ابھی بھی اپنا قصور دیکھائی نہیں دیا تھا اتنا سب کرنے کے بعد بھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب بھائی آپ یہاں اچانک۔۔؟؟ مجھے بتاتے میں ۔۔”
“فضا۔۔۔۔ لیزا کی شادی میرے بیٹے کے ساتھ ہورہی تھی کیا تم جانتی تھی۔۔؟؟”
فضا نے ملازمہ کو لیونگ روم سے باہر بھیج دیا تھا۔۔
“بھائی آپ بیٹھے تو سہی۔۔”
“میں نے کچھ پوچھا ہے فضا۔۔۔”
“جی میں جانتی تھی مننان نسواء بھابھی کا بیٹا ہے اس لیے آنکھ بند کرکے میں نے ہاں کردی تھی بھائی۔۔”
وہ واپس صوٖےپر بیٹھی تھی جب نجیب سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گئے تھے
“فضا۔۔ کبھی ۔۔ اس بچی کا خیال نہیں آیا جسے ہم لوگوں نے اپنے غصے اور نفرت میں کسی یتیم خانے پھینک دیا تھا۔۔؟؟”
“بھائی۔۔۔”
فضا کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھی جیسے۔۔آنکھیں بھرنے لگی تو اس نے سر جھکا لیا تھا
“مجھے آج سمجھ آئی فضا میں اپنے بیٹے کا ہی نہیں تمہاری بیٹی کا بھی مجرم ہوں۔۔ میں نے نفرت میں کیا کردیا۔۔ اور تم۔۔ تم نے بھی اس بچی کے لیے آواز نہیں اٹھائی فضا۔۔”
“بھائی میں بےوفا شخص کے دھوکے سے اس قدر ٹوٹ گئی تھی کہ مجھے وہ جان سے پیاری بچی بھی بوجھ لگنے لگی تھی۔۔اس میں آپ کا قصور۔۔”
“میرا ہی قصور تھا۔۔ فضا وہ جوانی کا دور ایسا دور تھا جس میں میں خود کو بڑا اعلی سمجھنے لگا تھا۔۔
نہ میں نے اپنی بیوی کے جذبات کی اسکی محبت کی قدر کی نہ اس اپنے بیٹے کی۔۔ اور نہ ہی تمہاری بیٹی کی۔۔
ماضی میں جس جس کا دل دکھایا زیادتی کی وہ سب میرے سامنے آرہا ہے
اور ایسے لگتا ہے میرے کئیے کی سزامیری بیوی کو مل رہی۔۔۔ نسواء کی سرجری ہے اور منع کردیا ہے انہوں نے۔۔۔ فضا میں۔۔”
بھائی کی آنکھوں سے آنسو صاف کئیے وہ پاس بیٹھ گئی تھی
“بھائی۔۔ میں ن کبھی سوچا نہیں تھا آپ کو اس طرح سے اتنا ٹوٹا ہوا اتنا کمزور بھی دیکھوں گی۔۔ میرے لیے آپ سب سے مضبوط شخص رہے ہیں۔۔۔
میں نے غلط کیا منیشہ کو روک سکتی تھی میں تو ماں تھی نہ۔۔؟ میری ممتا کہاں گئی تھی۔۔؟
میں غلط تھی جو اپنی بچی کو وہ حفاظت نہ دہ سکی۔۔ اور اب جب میرا دل ترستا ہے اسے دیکھنے کو اسے ملنے کو تو وہ میرے سامنے نہیں۔۔ کہاں نہیں ڈھونڈا اسے وہ۔۔”
“وہ ہمارے سامنے ہی رہی فضا۔۔۔ وہ۔۔ مننان کی سیکریٹری۔۔۔ وہ لڑکی منیشہ ہی ہماری منیشہ ہے۔۔ وہ تمہاری بیٹی ہے وہ۔۔۔”
۔
“کیا سچ میں بھائی۔۔؟ مجھے ابھی لے چلیں۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔وہ میرے سامنے تھے۔۔
یا اللہ۔۔ میں اسے سے کام کرواتی رہی میں۔۔”
یہ کہتے ہی فضا چکرکھاتے بےہوش گری گئی تھی وہاں۔۔۔
“فضا۔۔۔فضا آنکھیں کھولو۔۔۔”
۔
وہ جلدی سے فضا کو اٹھا کر صوفہ پر لٹا چکے تھے اور ملازمہ کو آواز دی تھی انہوں نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہیں لگتا ہے تم بہت عظیم کام کرنے جارہی ہو۔۔؟؟ ڈرپوک کمزور اور ناکام انسان سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہی۔۔
وہ خوش ہے تمہیں دھوکا دہ کر بھی وہ کامیاب ہوگیا۔۔ لیزا پریگننٹ ہے۔۔ اور تم بھاگ رہی ہو۔۔؟؟ “
منیشہ کے ہاتھ سے اس کا پاسپورٹ گرگیا تھا ماہیر کی آواز اسکی وہ باتیں سن کر وہ آخری لفظ نے جیسے قیامت ڈھا دی تھی اس پر۔۔۔
“پریگننٹ۔۔؟”
“ہاں پریگننٹ۔۔۔ منیشہ ایسے بھاگ کر جا رہی ہو اسے تم پر ہنسنے کا موقع دہ رہی ہو۔۔وپ جو کہتا رہا تم سچ کر کے دیکھا رہی ہو۔۔”
“وہ غلط نہیں کہتا تھا۔۔ سچ کہتا تھا میں دل بہلانے کے لیے ہوں۔۔ عزت سے گھر بسانے کے لیے۔۔۔”
“اننف منیشہ۔۔۔ تم ہر اس عزت کے قابل ہو جو اس شخص نے نہیں دی۔۔
تم پوجے جانے کے قابل ہو۔۔ تم گھر بسانے کے قابل ہو۔۔ اس نے تمہیں ڈی گریڈ کرنے کی کوشش کی ہے منیشہ۔۔اسے کامیاب نہ ہونے دو ایک بار۔۔ بس ایک بار مجھے موقع دو۔۔”
“ہاہاہا۔۔ میں اب گرل فرینڈ بننے کے قابل رہ گئی ہوں جو آپ موقع مانگ رہے ہیں۔۔؟ میں اکیلی۔۔”
“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں آج ابھی۔۔ اسی وقت۔۔۔ کرو گی مجھ سے نکاح۔۔؟؟ میں تمہیں اس پل دنیا جہاں کی ساری عزتیں دینا چاہتا ہوں۔۔
پر میں یہ بھی جانتا ہوں تم اس سے زیادہ ڈیزرو کرتی ہو۔۔۔بڑی سی گرینڈ ویڈنگ۔۔
جہاں سب کو میں خود دعوت دوں گا۔۔ ایک بڑا فنکشن رکھوں گا اور اس شخص کو دیکھاؤں گا کہ اس نے جو کرنے کی کوشش کی وہ کامیاب نہ ہوسکا۔۔
منیشہ بس ایک موقع۔۔۔ آج اگر تم نے اسے ایسے جانے دیا تو اپنی نظروں میں بھی اٹھ نہیں پاؤ گی۔۔۔”
ماہیر کی باتوں نے منیشہ کو اتنا شاک کردیا تھا کہ وہ کتنی دیر وہی کھڑی اسکے منہ تکتے رہ گئی تھی۔۔۔
اور جب منیشہ نے کوئی جواب نہ دیا تو ماہیر مایوس ہوکر جانے لگا تھا جب منیشہ نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا پیچھے سے۔۔۔
۔
“اگر اس بار مجھے دھوکا ملا۔۔”
“تمہیں دھوکا دینے سے پہلے میں اپنی سانسیں ختم کرلوں گا۔۔ منیشہ۔۔ میں تمہیں کبھی دھوکا دینے کا سوچ نہیں سکتا۔۔۔ میں ہر خوشی تمہارے قدموں میں لاکر رکھوں گا یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔”
۔
۔
“بانہیں میری تھامے ہوئے چل زرا زندگی۔۔
کچھ قرض ہے تجھ پہ میرے۔۔ کر ادا زندگی۔۔۔”
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔