Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
“اس وقت تم اس لڑکی کے ساتھ گھر میں داخل ہورہے ہو شکر کرو کوئی جاگ نہیں رہا
واپس بھیجو اسے اور اپنے کمرے میں۔۔”
“کم آن موم۔۔ موڈ آف مت کریں۔۔کم ہیر بےبی میرے روم میں چلیں۔۔”
وہ لڑکھڑاتے ہوئے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑے اسے اوپر لے جانے لگا تھا جب عمارہ کی بات نے اسکے قدم روک دئیے تھےگیا تھا
“نجیب نے جس دن تمہیں اس حالت میں دیکھ لیا وہ جان سے مار دیں گے۔۔۔”
“وہ۔۔؟؟ میرے سوکالڈ ڈیڈ۔۔۔؟ آپ کو پتہ بھی ہے وہ کیا کرتے پھر رہے ہیں۔۔؟؟
آپ کو کیسے پتا ہوگا آپ کی کیا حیثیت ہے ان کی زندگی میں سوائے ایک عورت کے۔۔؟؟ جو انکے بیڈروم میں بھی نہیں رہتی۔۔آپ اس گھر میں نام کی۔۔۔”
عمارہ نے اپنے بیٹے پر ہاتھ اٹھا دیا تھا اور روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی تھی۔۔
“کم حیا۔۔۔”
“بٹ ماہیر تمہاری موم۔۔۔”
“ڈونٹ وری انکی کسی کے سامنے نہیں چلتی سو تم ڈرو مت۔۔”
وہ اس لڑکی کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اپنے جانب کھینچ چکا تھا۔۔اسکے ہونٹوں کی طرف وہ جیسے ہی جھکا تھا آفندی صاحب نے غصے سے کھانسی کی تھی وہ ہاتھ پیچھے باندھے آگ بگولا ہورہے تھے جب ماہ جبین بیگم نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھے انکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی
۔
“اوو آپ بھی جاگ رہے ہیں۔۔؟؟ یا مجھ پر نظر رکھ رہے تھے دادا جی۔۔؟؟
مائی سو کالڈ دادا جی۔۔۔ حیا میٹ مائی ایروگینٹ بگ بی۔۔۔”
وہ آفندی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جیسے ہی کھڑا ہوا تھا اسکے منہ سے آتی ہوئی شراب کی بو نے ماہ جبین اور آفندی صاحب دونوں کو ہی شاکڈ کردیا تھا۔۔۔
انہوں نے اپنے پوتے کو دیکھا تھا ایک نظر اور پھر سیڑھیوں میں کھڑی اس بےشرم لڑکی کو جو خود بھی نشے میں ماہیر کے جیسے جھوم رہی تھی
“حیا یا بےحیا۔۔؟؟ اس وقت تم کسی غیر لڑکی کو یہاں لیکر آئے ہو۔۔؟؟”
ماہ جبین کے طنز پر وہ لڑکی سر جھکا گئی تھی مگر ماہیر کے قہقے ہال میں گونجے تھے
“او کم آن یہ پہلی بار تو نہیں ہوا نہ۔۔؟ آج اتنا ہنگامہ کیوں۔۔؟؟ آپ جانتے ہیں میں کون ہوں۔۔؟؟ نجیب آفندی کا بیٹا۔۔۔ اکلوتا واررث ہوں اتنا تو حق بنتا ہے کہ اینجوائے کرسکوں۔۔؟؟”
“ابھی اسی وقت میری نظروں سے دور ہوجاؤ۔۔ اور اس لڑکی کو بھی چلتا کرو۔۔۔ یہ مجھے نظر نہ آئے۔۔۔”
“اووو ہو۔۔۔ سیریسلی۔۔؟؟ یہ آپ کا آخری فیصلہ ہے۔۔۔؟؟ کل صبح نہیں بھیج سکتا۔۔؟ یہ ہوٹ آئٹم بہت مشکل سے ہاتھ آئی ہے۔۔۔ یو نو کل میں۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔”
انہوں نے ماہیر کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹک دیا تھا جو نشے میں دھت نیچے گرتے ہی بے ہوش ہوگیا تھا۔۔۔
“ریحان۔۔۔ نصیب۔۔۔ اسے اٹھاؤ اور کمرے میں چھوڑ کر آؤ۔۔۔ اور ڈرائیور سے کہو اس لڑکی کو باحفاظت اسکے کمرے میں چھوڑ کر آئے۔۔”
۔
انہوں نے نفرت بھری نظروں سے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔۔۔ اور وہ خود لیونگ روم میں جاکر بیٹھ گئے تھے اور انکے پیچھے پیچھے انکی بیگم بھی خاموشی سے جاکر بیٹھی تھی
۔
“نجیب نے کوئی کمی نہ چھوڑی انکی پرورش میں یہ پھر بھی ایسے نکل آئے ہیں۔۔؟
جس دن انکی حقیقت کھلے گی تو کیا گزرے گی ہمارے بیٹے پر۔۔؟؟”
ماہ جبین نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“اس میں کوئی حیرانگی نہیں ہے اتنا لاڈ پیاد دے کر اس نے اپنی اولاد کو اپنے جیسا بنا دیا ہے۔۔
مغرور متکبر۔۔۔ گھمنڈ میں چور شخصیت۔۔۔”
۔
“کیا مننان بھی ایسا۔۔۔”
“بس بیگم مننان کا نام کبھی بھولے سے بھی نجیب کے سامنے مت لے لیجئے گا۔۔۔
اور۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ دونوں زندہ بھی ہوں گے۔۔۔ یاد نہیں کچھ سال پہلے پولیس کی رپورٹ نے ظاہر کردیا تھا کہ اس بس ایکسیڈنٹ میں وہ دونوں بھی تھے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم میرے ہو اس پل میرے ہو۔۔ کل شاید یہ عالم نہ رہے۔۔
کچھ ایسا ہو۔۔تم تم نہ رہو۔۔ کچھ ایسا ہو ہم ہم نہ رہے۔۔۔۔”
۔
“موسٹ ویلکم مسٹر حذیفہ مجھے بہت خوشی ہوئی آپ کمپنی کے شارٹ نوٹس میں یہاں تشریف لائے۔۔۔”
حذیفہ کانفرنس میں جیسے ہی داخل ہوا تھا بیس لوگوں میں نسواء کی آواز نے اسے وہیں ساکن کردیا تھا۔۔۔
وہ اتنے سال کے بعد اسے دیکھ رہا تھا جو سمپل ساڑھی میں لائٹ سے میک ایپ میں کھڑی تھی بالوں کو خوبصورت انداز میں فولڈ کیا ہوا تھا کہ چند لٹیں اسے اس کی عمر سے بہت کم ظاہر کررہی تھی۔۔۔
حذیفہ کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں جو خوشی جھلکی تھی وہ تاب نہیں لاپایا تھا اور آنکھیں جھکا لی تھی۔۔۔
“کمپنی کی ‘ایم ڈی نے جب اتنے اونر سے مجھے دعوت دی تو کیوں نہ آتا۔۔؟؟”
نسواء کے سامنے والی کرسی خالی تھی جس پر حذیفہ بیٹھ گیا تھا کچھ بزنس مین سے ہاتھ ملا کر۔۔۔۔
اس نے نسواء کے سامنے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا وہ جانتا تھا نسواء ہاتھ نہیں ملائے گی۔۔۔
اور وہ خود کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
“تھینک یو سو مچ حذیفہ آپ کا۔۔ جنٹل مین اب میٹنگ شروع کرتے ہیں۔۔۔”
۔
وہ میٹنگ جو اس کنٹری میں ہوٹل کی کلیبریرشن کے لیے کی گئی تھی اور نسواء چاہتی تھی یہ حذیفہ کی کمپنی کے ساتھ ان کا کنٹریکٹ پاس ہو۔۔
وہ آج صبح ہی مننان سے اس بارے میں کافی لمبی بات چیت کرچکی تھی۔۔
اسے ابھی بھی مننان کے وہ الفاظ یاد تھے جو اس نے حذیفہ کے لیے بولے تھے
“ماں ان پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔۔ اس سے اچھا موقع کوئی اور نہیں ہوگا انکے احسانات کا بدلہ چکانے کا۔۔۔”
اور وہ یہی چاہتی تھی۔۔۔
“میٹنگ کے دوران حذیفہ نے نسواء سے ایک سوال کیا جس پر وہ بہت حیران ہوئی تھی
“اب کیسی ہیں آپ نسواء۔۔؟؟ “
“میں۔۔۔؟؟”
“جی آپ۔۔؟؟”
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
وہ شخص اجنبی ہوکر بھی ایک خاص سپوٹ رکھتا تھا نسواء اور اسکے بچوں کی لائف میں۔۔۔
“اور وہ ہمارا بب شیر۔۔؟؟ ابھی بھی دھاڑ ویسی ہی ہے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا ہمارے ببر شیر کی دھاڑ پہلے سے زیادہ بلند ہوگئی ہے۔۔ اب تو مجھے بھی ڈرا دیتا ہے۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
وہ دونوں بےساختہ ہنس دئیے تھے جس پر میٹنگ میں بیٹھے لوگ حیران تھے اور وہیں دوسری طرف اپنے کیبن میں بیٹھا ہوا شخص خوش ہورہا تھا اپنی مانیٹر سکرین میں اپنی مان کو ہنستے دیکھ کر۔۔۔
“ماں ہم کامیاب ہوگئے ہیں۔۔۔”
وہ خود سے بولا تھا اس سکرین پر انگلیاں رکھی تھی اس نے جہاں نسواء تھی۔۔
آج وہ بےحد خوش تھا اپنی ماں کو اسے جوبن پر دیکھ کر ایک خوبصورت انرجیٹک بزنس وومن کے روپ میں دیکھ کر اسکے سارے ارمان پورے ہوگئے تھے۔۔۔
انکی محنت رنگ لے آئی تھی۔۔۔۔بنا نجیب آفندی کی دولت کے بنا سپورٹ کے۔۔۔
بنا اس شخص کے۔۔۔
۔
“یہ راستے الگ ہوجائیں۔۔۔ چلتے چلتے ہم کھو جائیں۔۔۔
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا۔۔۔اس چاہت میں مر جاؤں گا ۔۔”
۔
ہنستے ہوئے نسواء کو جیسے کھانسی آنا شروع ہوئی تھی پانی کے گلاس کی طرف دونوں نے ایک ساتھ ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔
حذیفہ کے ہاتھ پر نسواء کی انگلیاں جیسے ہی ٹچ ہوئی تھی نسواء کی نظریں گلاس سے ہٹ کر حذیفہ کی آنکھوں پر گئی تھی ۔۔۔
۔
“کل مجھ سے محبت ہو نہ ہو۔۔ کل مجھ کو اجازت ہو نہ ہو۔۔
ٹوٹے دل کے ٹکڑے لیکر۔۔ تیرے در پہ ہی رہ جاؤں گا۔۔۔”
۔
“ایم سوری۔۔۔”
وہ ہاتھ ہٹا چکی تھی جب حذیفہ نے پانی کا گلاس اٹھا کر اسکے سامنے رکھا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تو آتا ہے سینے میں جب جب سانسیں بھرتی ہوں۔۔
تیرے دل کی گلیوں سے میں ہر روز گزرتی ہوں۔۔”
۔
“سی ای او مننان آمین احمد۔۔۔”
وہ گھبراتے ہوئے کیبن میں داخل ہوئی تھی۔۔ سامنے اس شخص کو دیکھ کر اسکی سانسیں جیسے تھم گئی تھی پچھلے دو سال سے یہی روانی تھی اسکی سانسوں کی مسٹر مننان کو دیکھنے کے بعد۔۔۔
۔
“ہوا کے جیسے چلتا ہے تو۔۔۔ میں ریت جیسی اڑتی ہوں۔۔۔
کون تجھے یوں پیار کرے گا۔۔۔ جیسے میں کرتی ہوں۔۔”
۔
“سر آپ کی چائے۔۔۔اور یہ فائلز۔۔۔”
“آپ کو معلوم نہیں ہے ابھی میٹنگ چل رہی ہے میری۔۔؟؟”
وہ اپنے ڈیلیگیشن سے ایکسکیوز کرکے اپنی سیکریٹری کی طرف بڑھا تھا
“اٹس اوکے سر میں یہاں ویٹ کرلوں گی مگر چائے ٹھنڈی ہوجائے گی۔۔۔”
۔
وہ سامنے صوفہ پر جاکر بیٹھ چکی تھی۔۔۔ مننان غصے پر قابو کرتے ہوئے اپنی میٹنگ کنٹینیو کرچکا تھا۔۔۔
مگر اسے مسلسل اس لڑکی کی نظریں خود پر محسوس ہورہی تھی
۔
“میری نظر کا سفر۔۔ تجھ پہ ہی آکے رکے۔۔
کہنے کو باقی ہے کیا۔۔ کہنا تھا جو کہہ چکی۔۔۔
۔
میری نگاہیں ہیں تیری نگاہوں پہ۔۔
تجھے خبر کیا بےخبر۔۔۔۔”
۔
“مس منیشہ نوٹ ڈاؤن کیجئے پوائنٹس کو۔۔۔اور یہ مجھے نیکسٹ آور میں چاہیے۔۔۔”
“جی۔۔۔ جی سر۔۔۔”
وہ نوٹ پیڈ میں جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی تھی مگر۔۔۔مننان کے چہرے پر پڑنے والی ایک نظر اسکا دھیان پھر سے اوجھل کرچکی تھی۔۔۔ ہونٹوں میں پین دبائے وہ پھر سے اسکے چہرے میں کھو گئی تھی
۔
“میں تجھ سے ہی چھپ چھپ کر۔۔۔ تیری آنکھیں پڑھتی ہوں۔۔
کون تجھے یوں پیار کرے گا۔۔۔ جیسے میں کرتی ہوں۔۔۔”
۔
مس منیشہ۔۔۔”
وہ چلایا تھا اور ساتھ ہی غصے سے فائل ڈیسک پر دے ماری تھی۔۔۔
ایک جھٹکے سے منیشہ اپنی سیٹ سے اٹھ گئی تھی۔۔۔ زرا سا پاؤں سلپ ہونے پر وہ مننان کی طرف گری تھی اور وہ چائے کا کپ مننان کی فائلز پر اور اسکے چھینٹے مننان کی شرٹ پر گرے تھے غصہ اتنا تھا کہ اسکے کانوں سے بھی دھواں نکلتا ہوا محسوس ہوا تھا منیشہ کو۔۔۔
“سر۔۔۔ جسٹ گیٹ آؤٹ۔۔ دفعہ ہوجائیں اس بلڈنگ سے۔۔۔آؤٹ ناؤ۔۔۔
کیا سوچ کر ماں نے رکھا آپ جیسی لاپرواہ لڑکی کو۔۔۔؟؟”
وہ اس پر چلا رہا تھا جس کی ڈانٹ باہر سٹاف کے لوگ بھی سن رہے تھے
“سر ایم سوری آگے سے نہیں ہوگا۔۔”
“آگے سے تب ہوگا جب آپ اس نوکری میں رہے گی میں ابھی نکال رہا ہوں۔۔ جائیں یہاں سے۔۔۔”
۔
اور وہ سر جھکائے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“یوزلیس۔۔۔”
۔
کچھ دیر بعد جب مننان آفس آور ختم ہونے کے بعد اپنی گاڑی میں بلڈنگ سے باہر نکلا تو کچھ دور فاصلے پر وہ لڑکی بینچ پر بیٹھی بارش میں بھیگ رہی تھی۔۔۔
گاڑی تھوڑی سی آگے جاکر مننان نے واپس بیک کی تھی اور اسکے سامنے روک دی تھی۔۔
۔
“کم اِن۔۔۔اتنی تیز بارش میں یہاں کیا کررہی ہیں۔۔؟؟”
“آپ کی وجہ سے کھڑی ہوں یہاں۔۔۔ آفس سے نکال دیا اور اب آفس ٹرانسپورٹ میں بھی نہیں جاسکتی میرا کارڈ بھی چھین لیا اس آنٹی نے۔۔۔
اور یہاں اتنی بڑی جگہ پر آفس بنا لیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں مل رہی ۔۔۔”
وہ بڑبڑائے جارہی تھی جب مننان نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ اوپن کیا تھا اس کے لیے۔۔
“میں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔”
“سچ میں۔۔؟؟ اتنی بڑی گاڑی میں۔۔؟؟ یہ ماڈل آپ نے کچھ ویک پہلے تیار کیا تھا نہ۔۔؟؟ ہائے اللہ میں ایک سیلفی لے سکتی ہوں۔۔۔؟؟”
اس نے موبائل جیسے ہی نکالا تھا جو اسکے پرس کی طرح بھیگ چکا تھا۔۔۔
“میرا موبائل۔۔۔ ابھی بارہ مہینے کی کمیٹی سے خریدا تھا میں نے۔۔۔ سب آپ کی وجہ سے ہوا۔۔۔ میری چاکلیٹ بھی بھیگ گئی اور میرے لئیز۔۔۔”
وہ وہیں بینچ پر اپنے پرس سے چیزیں نکال کر
“بہت بُرے ہیں آپ مسٹر مننان۔۔۔”
“او جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
“کیوں شٹ اپ۔۔۔ آپ شٹ اپ یو شٹ اپ مسٹر۔۔۔ یہ آپ کا آفس نہیں ہے۔۔
نکالیے میرے بیس ہزار دوسو پچس روپے۔۔۔”
وہ کمر پر ہاتھ رکھے گاڑی کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی
“ماں آپ کو یہی ملی تھی میری سیکریٹری کے لیے۔۔۔؟؟”
وہ خود سے مخاطب ہوا تھا سامنے کھڑی وہ لڑکی بالکل پاگل لگ رہی تھی اسے
“اگر آپ گاڑی میں نہ بیٹھی تو۔۔۔میں چلا جاؤں گا اور آپ رہیے گا ساری رات یہاں۔۔۔”
۔
پیچھے سے کتے کے بھونکنے کی آواز پر وہ بینچ کی طرف بھاگی تھی سب چیزیں پرس میں ڈالے جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
“اب آپ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہیں۔۔ چلائیں گاڑی۔۔۔”
“سیٹ بلٹ مس۔۔۔”
“نہیں آتی لگانی۔۔۔ میں کونسا روز ان لینڈ کروزر گاڑیوں میں بیٹھتی ہوں میں تو بھئ پبلک ٹرانسپورٹ میں کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھ۔۔۔”
اسکے الفاظ ہونٹوں پہ آنے سے پہلے دم توڑ گئے تھے جب مننان آگے جھکا تھا وہ سیٹ بلٹ لگاتے ہوئے اور جھکا تو اسکے ہونٹ منیشہ کے بارش میں بھیگے کندھے سے جیسے ہی ٹچ ہوئے تھے اسکی سانسیں رک گئی تھی
وہ بےساختہ مننان کی آنکھوں میں دیکھنے لگی تھی پہلی بار اتنے قریب سے۔۔۔
۔
“تو جو مجھے آ ملا۔۔۔ سپنے ہوئے سرپھرے۔۔۔
ہاتھوں میں آتے نہیں۔۔اڑتے ہیں لمحے میرے۔۔”
۔
بےخودی میں اسکی انگلیاں مننان کے چہرے کو چھونے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھی مننان پیچھے ہوگیا تھا اور گاڑی سٹارٹ کردی تھی اسکا ہاتھ ہوا میں رہ گیا تھا۔۔۔
۔
“میری ہنسی تجھ سے میری خوشی تجھ سے۔۔۔ تجھے خبر کیا بے خبر۔۔۔
جس دن تجھ کو نہ دیکھوں۔۔ پاگل پاگل پھرتی ہوں۔۔۔
۔
کون تجھے یوں پیار کرے گا جیسے میں کرتی ہوں۔۔۔”
۔
“مس منیشہ۔۔۔ یہ بس سٹاپ یہاں سے بس لیکر آپ گھر چلی جائیے گا۔۔”
“مگر سر کچھ فاصلے پر ہی میرا گھر ہے۔۔”
“ہاں مگر میں آپ کا پرسنل ڈارئیور نہیں ہوں۔۔”
پر سر۔۔”
“آؤٹ۔۔۔”
“اوکے۔۔ چلائیے مت۔۔۔”
وہ غصے سے نیچے اتر گئی تھی اور مننان جلدی سے گاڑی چلا چکا تھا
“اللہ کرے ٹائر پنکچر ہوجائے۔۔ اللہ کرے گاڑی کسی ٹرک۔۔۔ نہیں نہیں اللہ نہ کرے۔۔
ٹرک کے ساتھ لگ گئے تو ہماری لو سٹوری ادھوری رہ جائے گی۔۔۔ اللہ کسی موٹر بائک کے ساتھ کسی کھمبے کے ساتھ لگا دینا مگر ٹرک کے ساتھ نہیں۔۔۔”
۔
وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی وہاں سے رکی ہوئی بس کی جانب بڑھی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماننا پڑے گا نجیب آفندی۔۔۔ اپنے گھر کی عزت بچانے کے لیے تم سات سمندر پار آگئے۔۔۔ میرے پیسے ساتھ لیکر آئے ہو۔۔؟؟”
سنسان روڈ پر گاڑی روک کر وہ سیٹ سے نوٹوں سے بھرا ہوا بیگ اٹھا کر باہر نکلے تھے
“تم جیسا دلال اس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔۔ تمہارا واسطہ نہیں پڑا ۔۔۔”
نجیب نے بیگ کو درمیان میں رکھ کر اس آدمی کو غصے سے کہا تھا جو سگریٹ جلائے اسے دیکھ رہا تھا
“میرا واسطہ عزت سے نہ پڑا ہوا مگر تمہاری عزت دار بیوی سے ضرور پڑا تھا۔۔ ویسے کیسی ہے میری بیوٹیفل عمارہ۔۔؟؟”
“یو باسٹرڈ۔۔۔”
نجیب نے غصے سے اسکے منہ پر مکا مارا تھا اور مارتا ہی چلا گیا تھا جب تک کہ اسکا منہ خون سے نہ بھر گیا ہو
“او۔۔۔ معافی۔۔۔ معذرت۔۔۔”
وہ ہاتھ جوڑتے پیچھے ہوا تھا۔۔
“یہ پیسے پکڑ اور وہ تصاویر اور وہ سب ثبوت دو۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
اس نے جیکٹ کی جیب سے گن نکال کر نجیب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“نجیب آفندی تمہاری آدھی موت تو یہاں آتے آتے مر گئے ہوگے۔۔۔
تمہاری بیوی کی عزت جو داؤ پر لگی ہوئی تھی۔۔۔ ہاہاہا آدھی موت تمہیں میں مار دوں گا۔۔”
وہ دونوں ابھی گھتم گھتا ہورہے تھے جب پاس سے ایک گاڑی ہارن دیتے ہوئے گزری۔۔ بیک سیٹ پر بیٹھی فائلز میں گم نسواء اس شخص کو نہیں دیکھ پائی تھی مگر نجیب کی نظر اس پر پڑ گئی تھی۔۔۔ جو کچھ سوچ سمجھنے کی حالت میں نہ تھا۔۔۔وہ گاڑی جیسے ہی گزری تھی نجیب پر گولی چلا دی تھی اس آدمی نے۔۔۔اور پیسوں کا بیگ لئیے وہاں سے بھاگنے لگا تھا جب نجیب نے اسکی ٹانگ پکڑ لی تھی۔۔
اور کچھ لوگ بائیکس پر آگئے تھے۔۔۔
“مارو اسے۔۔۔ گاڑی کو ڈیمیجڈ کردو پوری طرح۔۔۔”
اس آدمی نے بیگ کو بائیک پر رکھ کر اپنی بائیک سٹارٹ کردی تھی اپنے لوگوں کو کہہ کر۔۔۔
۔
“ڈیم اِٹ۔۔۔۔”
اس آخری آدمی کو بھی بُری طرح زخمی کردیا تھا نجیب نے۔۔۔ ان سب کو وہ وہاں سے بھگا چکا تھا۔۔ مگر خود زخمی اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے وہ زمین پر جیسے ہی بیٹھا تھا اسکے لبوں سے بےساختہ ایک ہی نام نکلا تھا۔
“نسواء۔۔۔ میں جانتا تھا تم زندہ ہو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آپ کو تو گولی لگی ہے۔۔کتنا خون بہہ رہا ہے۔۔ آپ چلئیے میرے ساتھ۔۔”
زخمی نجیب کو کندھے سے سہارا دیتے ہوئے اس لڑکی نے جیسے ہی اٹھانے کی کوشش کی تھی نجیب نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا
“میں۔۔ ٹھیک ہوں۔۔ ایم آلرائٹ۔۔میں چلا جاؤں گا۔۔”
“سر آپ کو ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے چلیں میرے ساتھ۔۔”
“ایک بار میں سمجھ نہیں آتی میں نہیں جاسکتا۔۔ مجھے اسے ڈھونڈنا۔۔ اسے دیکھا ہے میں نے یہیں۔۔۔”
وہ غصے سے بولتے ہوئے سنسنان روڈ پر یہاں وہاں نظر دہرانے لگے تھے۔۔
“سر آپ کسے ڈھونڈ رہے ہیں۔۔؟؟ آپ کو سمجھنا چاہیے میں ایسے آپ کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔۔۔”
اس بار اس نے جتنی سختی سے نجیب کا کہا تھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی گاڑی کی طرف زبردستی لے جانا شروع کردیا تھا
“ہاؤ ڈیڑھ یو۔۔۔ مجھے ہاتھ لگانے کی ہمت۔۔۔”
“پلیز بیٹھ جائیے۔۔۔”
وہ جس قدر التجا سے بولی تھی نجیب کو کچھ پل کے لیے نسواء کی آواز اور اسی چھوی نظر آرہی تھی اس لڑکی میں۔۔۔”
اسکا تھری پیس ڈریس بری طرح بھر گیا تھا بازو سے نکلتے خون کی وجہ سے۔۔ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا
“تم بس میرا ٹائم ویسٹ کررہی ہو لڑکی۔۔ اگر میں نے آج اسے نہیں ڈھونڈا تو پھر کبھی نہیں ملے گی وہ مجھے۔۔۔”
وہ بڑبڑا رہا تھا اور جب موبائل اٹھایا تو وہ بھی بند ہوگیا تھا نیچے گرنے کی وجہ سے
“آپ انہیں بعد میں بھی ڈھونڈ سکتے ہیں مگر اگر وقت میں یہ گولی نہ نکالی گئی تو آپ کی جان بھی جاسکتی ہے۔۔”
وہ اور آرام سے جواب دیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرچکی تھی۔۔ بات کرتے ہوئے نظریں جھکائے ہوئے تھی مغربی لباس میں دیکھ کر نجیب حیران ضرور ہوا تھا سلوار سوٹ میں۔۔۔ گلے میں دوپٹہ لیا ہوا تھا چہرے پر گلاسز لگی ہوئی تھی جو نظر کی تھی
جسے بار بار وہ ٹھیک کررہی تھی۔۔۔ وہ جس قدر دکھنے میں نرم مزاج لگرہی تھی اس قدر ہی اس نے فاسٹ ڈرائیو کی تھی اس وقت۔۔
“مجھے ہسپتال لے جانے کا فائدہ کوئی نہیں ہے یہاں سٹرائیک چل رہی ہے سب کچھ بند ہے آج کے دن۔۔۔”
“جی مجھے معلوم ہے سر۔۔۔”
وہ سگنل پر جیسے ہی رکے تھے اپنے دوپٹے کا ایک حصہ کاٹ کر اس نے نجیب کے زخمی بازو پر باندھ کر اسے حیران کردیا تھا
“اس سے خون بہنا کم ہوجائے گا۔۔۔”
“ہمم۔۔۔”
“ویسے کسے ڈھونڈرہے تھے آپ۔۔؟؟ کچھ بتائیے۔۔ میں اپنے بھائی سے کہوں گی وہ چند منٹوں میں ڈھونڈ نکالے گے۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ یہاں میں سالوں میں ڈھونڈ نہیں پایا اور تمہارا بھائی منٹوں میں ڈھونڈ نکالے گا۔۔؟ نائس جوک۔۔۔”
اس کے لہجے میں طنز تھا جس پر غصہ ہونے کے بجائے وہ لڑکی ہنس دی تھی
جب گاڑی ہسپتال کے باہر رکی تو سب کچھ بند تھا۔۔۔ روڈز خالی تھی پارکنگ خالی تھی۔۔
اور نجیب نے اس لڑکی کو دیکھا تھا اور بےساختہ ہنس دئیے تھے اس لڑکی کی خاموشی پر۔۔
“اس کنٹری میں سٹرائیک کا مطلب سٹرائیک ہی ہوتا ہے بچے۔۔۔”
اس آخری لفظ پر وہ بہت شاکڈ ہوئے تھے مگر اس وقت سب سے زیادہ حیران ہوئے تھے جب گارڈ نے گیٹ اوپن کیا تھا ہسپتال کا۔۔۔
وہ گاڑی جیسے ہی اندر داخل ہوئی تھی وارڈ بوائے سٹریچر لیکر پہلے ہی کھڑے ہوئے تھے۔۔
۔
“انہیں جلدی سے آپریشن ٹھیٹر میں لے جائیں میں وہی آرہی ہوں۔۔۔”
وہ سٹریچر جیسے جیسے ہاسپٹل میں داخل ہوا تھا وہ لوگ نجیب کو اندر لے گئے تھے جو باضد ہوگئے تھے
تب اس لڑکی نے نجیب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔
“پلیز سر۔۔۔ آُ جتنی جلدی اندر جائیں گے اتنی جلدی ہی ٹھیک ہوکر واپس گھر اپنی فیملی میں بھی جاسکے گے۔۔۔”
۔
وہ ابھی بات کررہی تھی جب دو ڈاکٹر پیچھے سے آکر انکے پاس رکی تھی
“ڈاکٹر حورب سب ٹھیک تو ہے۔۔؟؟ “
“جی۔۔۔ آپ انہیں آپریشن ٹھیٹر میں لے جائیں۔۔ یہ آپریشن میں ہی کروں گی۔۔۔”
“ڈاکٹر حورب۔۔۔؟؟”
نجیب نے ایک بار پھر سے اس لڑکی کا نام لیا تھا جس نے ہلکی سی مسکراہٹ پاس کی تھی۔۔۔
“جی ڈاکٹر حورب سر۔۔۔آپ بےفکر کر جائیے اندر۔۔۔”
۔
۔
“آپریشن ٹھیٹر میں وہ واحد ڈاکٹر تھی جو سب سے زیادہ کانفیڈنٹ تھی۔۔۔
مگر کندھے سے گولی نکالنے لگی تھی اسکے ہاتھ کانپ گئے تھے۔۔ نجیب کی بند آنکھیں اسے ایک الگ درد محسوس کرنے پر مجبور کررہی تھی
“ڈاکٹر حورب۔۔ آر یو آلرائٹ۔۔؟؟ اگر آپ کمفرٹ ایبل نہیں تو ہم۔۔”
“نووو اٹس اوکے۔۔۔”
۔
زخم پر سٹیچیز کرنے کے بعد وہ ماسک اتارے وہیں کھڑی رہی تھی کچھ دیر۔۔۔
“جب انہیں ہوش آجائے تو مجھے انفارم کردیجئے گا۔۔۔لازمی۔۔۔”
۔
وہ یہ کہہ کر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
“جی ماما میں نےنماز پڑھ لی تھی کھانا بھی کھا لیا تھا۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی آپریشن سے فارغ ہوئی۔۔۔”
۔
“جی ماما ایم سو سوری۔۔۔ مجھے تھوڑا لیٹ ہوجائے گا۔۔۔
ہاہاہا بھائی کے گارڈز سایہ کی طرح سر پر سوار ہوتے ہیں میری سیکیورٹی کی فکر مت کیجئے۔۔۔”
“ڈاکٹر حورب وہ پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔۔۔”
“ماما مجھے ابھی جانا ہوگا۔۔۔ سو سوری۔۔۔ لوو یو۔۔۔ اپنی میڈیسن وقت پر کھا لیجئے گا۔۔ بھائی کو بھی بتادیجئے گا ورنہ ہاسپٹل سر پر اٹھا لیں گے۔۔۔
ہاہاہا اوکے۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔”
۔
وہ جلدی سے لیب کوٹ پہنے سپیشل وارڈ کی جانب بڑھی تھی جس کے ساتھ والا روم اس نئے پیشنٹ کو آلاٹ کیا گیا تھا۔۔۔
۔
“تم لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا مجھے ابھی جانا ہے۔۔۔”
کانچ ٹوٹنے کی آواز نے حورب کو الرٹ کردیا تھا جلدی سے دروازہ کھولے وہ اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
“سر۔۔۔”
“یو۔۔۔کیا کیا ہے مجھے۔۔۔میں نے کہا تھا۔۔۔”
“آپ پورے ہاسپٹل کو ڈسٹرب کررہے ہیں سر۔۔ آپ خاموشی سے لیٹے رہیں۔۔ سسٹر آپ انہیں سوپ پیلا کر میڈیسن۔۔۔”
“میں کوئی چھوٹا بچہ ہوں جو کسی کے ہاتھوں سے کھاؤں گا پئیوں گا۔۔؟؟میرا موبائل کہاں مجھے فون کرنا ہے یہاں سے جانا ہے۔۔”
نجیب نے حورب کو مکمل طور پر اگنور کرکے پاس کھڑی نرس سے کہا تھا
“سسٹر آپ جائیں یہ مجھے دیجئے۔۔۔”
وہ سوپ کا باؤل پکڑے سامنے چئیر پر بیٹھی تھی جو بیڈ کے سامنے تھی
“آپ جانا چاہتے ہیں تو شوق سے جائیے مگر ہمارے ہاسپٹل کی ریپوٹیشن خراب کرکے نہیں۔۔۔
آپ آج کا دن اس بیڈ سے ہل نہیں سکتے جب تک آپ یہ پی کر میڈیسن نہیں کھا لیتے سر۔۔”
“کوئی زبردستی ہے۔۔؟ تم جانتی نہیں ہو میں کون ہوں میرے ایک شارے سے یہ ہاسپٹل کا نام و نشان۔۔۔ تمہاری نوکری سب ختم ہوجائے گا۔۔”
“آپ نے اشارہ کرنا ہے سیدھے ہاتھ سے۔۔؟؟ اس سیدھے ہاتھ سے اشارہ کرنے کے لیے اس ہاتھ کا ٹھیک ہونا ضروری ہے سر۔۔ٹرائی کیجئے۔۔۔”
اور حورب کی بات سچ ثابت ہوئی تھی جب نجیب سے سیدھا ہاتھ اٹھایا نہ جاسکا تھا
“سی۔۔۔؟؟ اب منہ کھولیں۔۔۔”
کچھ سیکنڈ میں نجیب نے ہار مانتے ہوئے منہ کھولا تو وہ آہستہ آہستہ سوپ پیلانا شروع ہوگئے تھے سپون سے۔۔۔
“ویسے۔۔ آپ ڈھونڈ کسے رہے تھے۔۔؟؟”
“میری بیوی کو۔۔۔”
“کیوں۔۔؟؟ وہ آپ کو چھوڑ گئی ہیں۔۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔ میں نے اپنی زندگی سے نکال دیا تھا۔۔۔”
نجیب نے سرگوشی کی تو حورب کی آنکھوں میں ایک الگ نفرت ابھری تھی
“تو آپ اب کیوں ڈھونڈ رہے ہیں۔۔؟؟ جانے والے واپس آجاتے ہیں مگر نکالے جانے والے لوٹ کر واپس نہیں آتے۔۔۔ انکی آنا انہیں پیچھے مڑنے نہیں دیتی سر۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہا۔۔۔ نجیب۔۔۔ہاہاہاہا گدگدی ہورہی ہے۔۔۔”
نجیب نے اسکے کندھے سے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا
“سیریسلی نسواء۔۔؟؟ کچھ اور ہونا چاہیے تھا۔۔۔ ۔۔”
“لائک کیا ہونا چاہیے تھا۔۔۔؟؟””
نجیب کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس نے آہستہ آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
“میرے پیار کرنے پر آپ مدہوش ہوجاتی۔۔۔ مچلتی بہکتی۔۔۔ مہکتی۔۔۔”
وہ باری باری اسکی آنکھوں پر بوسہ دے رہا تھا اور پھر اسکے رخصار پر محبت کی مہر چھوڑتے ہوئے وہ اسکی گردن پر جیسے ہی بوسہ دینے کے لیے جھکا تھا نسواء کے قہقے پھر سے روم میں گونجے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ یا تو آپ میری گردن کو سکیپ کردیں یا پھر اپنی بیرڈ کو کم کریں۔۔۔چبھ رہی ہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا آہاں۔۔۔ اب تو خیر نہیں ہے۔۔۔ اور کچھ دن پہلے کون میری بیرڈ کی تعریف کررہا تھا۔۔۔؟؟ اب کون بچائے گا وائفی۔۔۔”
وہ ایک بار پھر سے گردن پر جھکا تھا اس بار اپنے گال کو جیسے ہی نسواء کے نیک سے ٹچ کیا تھا اسے گدگدی نہیں ہوئی تھی اسکے ہاتھوں کی گرفت نجیب کے بالوں میں مظبوط ہوئی تھی۔۔۔
۔
“نجیب۔۔۔”
۔
“بھاگا بھاگا پھرتا ہے یہ دل۔۔۔ جانے ایسی کیا ہے مشکل۔۔
تیرے بنا جیتا نہیں ہے۔۔۔ تو تو میری سانسوں میں شامل۔۔۔”
۔
“بچے بڑے ہوگئے ہیں نجیب۔۔۔”
سسکی سے بھری آواز اسے خود کو سنائی دے گئی تھی۔۔۔
۔
“میری تنہایاں ڈسے مجھے سوہنیا۔۔۔
ہوں گی رسوائیاں تیرے دل کی سوہنیا۔۔۔”
۔
جاری ہے۔۔۔۔
۔
