62.9K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

“مننان سر آپ کو اب گھر۔۔۔”
“تم پر بھی بوجھ بن گیا ہوں میں۔۔؟؟ جو تم بھی نکالنا چاہتی ہو۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔ سر دراصل میں نے کہیں جانا تھا۔۔۔”
“اووہ۔۔۔”
منیشہ کا سیل بجنے لگا تھا
“ایکسکئوز مئ۔۔۔”
وہ کال پک کرکے ایک کارنر پر چلی گئی تھی۔۔۔
اور جیسے ہی ہارن کی آواز سنائی دی تھی مننان بالکونی کی طرف چلا گیا تھا جب اس نے نیچے دیکھا تو بلڈنگ کے سامنے روڈ پر ماہیر اپنی گاڑی لئیے کھڑا تھا اور فون کانوں کو لگایا ہوا تھا۔۔ وہ جلدی سے اندر گیا ارو منیشہ کے روم کے پاس جیسے ہی گیا اسکی آہستہ آہستہ آواز نے مننان کو شدید غصہ دلا دیا تھا۔۔۔
“میں کچھ دیر میں آجاؤں گی۔۔۔ ابھی میرے سر ۔۔۔”
“منیشہ۔۔۔”
وہ اپنی جگہ پر بیٹھ کر اسے آواز دیتا ہے۔۔
اور منیشہ جلدی سے فون بند کرکے باہر چلی گئی تھی اب کے وہ صوفہ پر بیٹھا نہیں تھا بلکہ اپنا کوٹ سائیڈ پر رکھ کر لیٹ چکا تھا
“سر آپ۔۔۔”
“میں ابھی کہیں نہیں جارہا میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے مس منیشہ ہے پلیز ایک کپ چائے بنا دیں۔۔۔”
“پر ابھی تو پی آپ نے۔۔۔”
“تو۔۔؟؟ ایک اور بنا دیں۔۔۔ “
سر پر بازو رکھے ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہ اس وقت اس اپارٹمنٹ کا مالک اور منیشہ اسکی ملازمہ لگ رہی تھی
“اففف۔۔۔”
وہ غصہ میں کچن میں جاچکی تھی۔۔۔
“ماہیر آفندی کے سامنے ہار گیا تو لعنت ہے مجھ پر منیشہ۔۔۔میری ماں کو چھیننے کے بعد نجیب آفندی نے میرے قہر کو اور للکار دیا ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ پل تو ٹھہر جاؤ نہ۔۔۔ یا پھر لوٹ کے آؤ نہ۔۔۔
یوں کہتے نہیں الوداع۔۔۔ مُر جاؤ ادھر آؤ نہ۔۔۔”
۔
“ماں۔۔۔ “
لائٹس جیسے ہی آن کی تھی اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔
“ماں۔۔۔ مجھ سے بھی بات نہیں کریں گی۔۔۔؟؟”
حورب کمرے میں داخل ہوگئی تھی۔۔نسواء چپ چاپ اس دیوار کو دیکھی جارہی تھی آنکھوں کے آنسو بہہ رہے تھے اسے فکر نہیں تھی آج حورب کے سامنے ویسے بھی سچ آگیا تھا۔۔۔
وہ سچ جو وہ اپنے سینے میں دفن کرکے ساتھ لے جانا چاہتی تھی۔۔۔
۔
“حورب۔۔۔ ابھی میں کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی۔۔۔”
“ایسا ضروری ہے کہ دنیا کی رسمی اولادوں کی طرح میں بھی آپ سے سوال جواب کروں۔۔؟؟
ایسا نہیں ہوسکتا کہ میری خود مختار ماں کسی کو بھی جواب دہ نہ ہوں۔۔۔ چاہے وہ میں ہوں یا مننان بھائی۔۔۔
آخر کب تک مننان بھائی کے ڈر سے آپ اس کمرے میں بند رہیں گی۔۔؟؟
کب تک۔۔؟ آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ کسی کو اپنانا ٹھکرانا آپ کا اپنا فیصلہ ہے ماں۔۔۔
ہوسکے تو۔۔۔ وہ جو گھر سے دور ایک پارک ہے۔۔ وہاں وہ جو شخص روز اسی وقت آکر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔ آپ انہیں ایک بات مل آئے۔۔۔”
یہ بات کہتے کہتے اسکی آنکھیں بھر آئی تھی اور نسواء وہ تو سر جھکا چکی تھی۔۔۔
“وہ میرا ہرجائی ہے۔۔۔ حورب۔۔۔ تمہارے۔۔۔ ڈیڈ۔۔ جنہوں نے۔۔۔”
“ماں۔۔۔ میں روایتی رسم نہیں نبھاؤں گی۔۔۔ اس بار مجھے مظلوم سے نہیں ظالم سے سچ سننا ہے۔۔۔اس بار آپ سے نہیں۔۔ ان سے ماضی جاننا ہے۔۔۔”
نسواء غصے سے اٹھی تھی آنسو جیسے ہی چھلکے پھر سے بھر گئی آنکھیں۔۔۔یہی تو ہورہا تھا اسکے ساتھ آنسو تھم نہیں رہے تھے اس نے ایک بار پھر چہرہ صاف کیا اور اسکے سامنے آکر کھڑی ہوگئی
“اور تمہیں لگتا ہے میں تمہیں اجازت دوں گی اس شخص کے پاس جانے کی۔۔؟؟”
کندھوں پر ہاتھ رکھے جب اپنی بیٹی کو زندگی میں پہلی بار جھنجھوڑا اس نے تو حورب نسواء کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے خود کو دوس قدم پیچھے کر چکی تھی۔۔۔
ہوا میں اپنے خالی ہاتھ دیکھے نسواء نے نے منہ پھیر لیا تھا۔۔
“سمجھ گئی میرے دونوں بچوں نے ٹھان لی میری بات نہ ماننے کی۔۔۔
کوئی بات نہیں حورب میں نے مننان کی بدتمیزی برداشت کرلی تمہاری نافرمانی بھی سہہ لوں گی۔۔۔”
“ماں۔۔۔”
“جاؤ یہاں سے۔۔۔”
۔
اور وہ چلی گئی تھی سر جھکائے۔۔۔پر وہ اپنے کمرے میں نہیں گئی تھی اس شخص سے ملنے گئی تھی جو گھر سے تھوڑے قدموں کے فاصلے پر ایک بنچ پر بیٹھا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے پیدا کیوں کیا آپ نے۔۔؟ اگر میں اتنی بڑی غلطی تھا آپ دونوں کی تو۔۔”
“مجھے پیدا کیوں کیا آپ نے۔۔؟ اگر میں اتنی بڑی غلطی تھا آپ دونوں کی تو۔۔”
“مجھے پیدا کیوں کیا آپ نے۔۔؟ اگر میں اتنی بڑی غلطی تھا آپ دونوں کی تو۔۔”
“مجھے پیدا کیوں کیا آپ نے۔۔؟ اگر میں اتنی بڑی غلطی تھا آپ دونوں کی تو۔۔”
“مجھے پیدا کیوں کیا آپ نے۔۔؟ اگر میں اتنی بڑی غلطی تھا آپ دونوں کی تو۔۔”
۔
ایک بات نے نجیب آفندی کا سانس لینا محال کردیا تھا اس لمحے۔۔ اسے لگا تھا نسواء کے قریب قریب اس جگہ پر واپس لوٹ آنے سے اسے سکون ملے گا مگر اسے تو سکون کا ایک لمحہ میسر نہ ہوا۔۔۔
اپنے بیٹے کا وہ سوال اسے پاگل کررہا تھا۔۔۔
کیا جواب تھا اسکے پاس۔۔؟؟
کوٹ اتارنے کے بعد ٹائی کو بھی کھینچ کر ساتھ رکھ دیا تھا اس نے۔۔ سر کو ہاتھوں میں لئے وہ خاموشی سے بیٹھ گیا تھا وہاں۔۔ اسکے شوز بھیگ رہے تھے اسکی آنکھوں سے گرتے پانی کی وجہ سے۔۔
نجیب آفندی۔۔۔”
اور اتنے میں جب اسکے پاس کوئی آکر بیٹھا تو اسے لگا تھا کہ نسواء آگئی۔۔۔اب اسکے بے چین دل کو سکون مل جائے گا۔۔
پر اس پاس بیٹھنے والے کے ایک سوال نے نجیب آفندی کو اور اذیت مین مبتلا کردیا تھا۔۔۔
۔
“کیا اتنی نفرت تھی آپ کو ہماری ماں سے۔۔؟؟ جب آپ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے اس وقت اندازہ تھا آپ کو میرے آنے کا۔۔۔؟؟ “
نجیب آفندی میں سر اٹھانے کی ہمت نہ رہی تھی کندھے ہلتے ہوئے بتا رہے تھے وہ مظبوط شخص کتنی خاموشی سے رو رہا تھا۔۔۔
۔
“یہی زندگی کا تھا سفر۔۔۔ ہر نشان بے نشان رہا۔۔۔
پیروں میں زمین نہ رہی۔۔۔ سر پہ نہ آسمان رہا۔۔۔”
۔
“میری ماں میں ایسی کیا کمی رہ گئی تھی۔۔۔ کچھ تو بتائیں مجھے۔۔۔ آج میں میری ماں کے ہرجائی سے سچ سننا چاہتی ہوں۔۔۔”
وہ بار بار منہ کھول رہے تھے پر کچھ الفاظ ادا نہیں ہوپارہے تھے۔۔۔
آنسوؤں سے تر چہرے کو اٹھا کر حورب کو دیکھا تو حورب نے نظریں نیچی کرلی تھی۔۔۔
“جب آپ کو گولی لگی تھی ۔۔ آپ کا آپریٹ کرتے وقت ایک عجیب سا ڈر لگا تھا مجھے۔۔۔
تب آپ انجان تھے۔۔۔ شاید میرے دل و دماغ نے پہچان لیا تھا۔۔ نہ جانتے ہوئے بھی
۔
کیا آپ کو کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔۔ اپنے ہی بیٹے کو بیوی کو چھوڑ دینے سے۔۔؟؟
آپ۔۔۔ کی شادی ماں سے زبردستی کی ہوئی تھی۔۔۔”
نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنی بیٹی کے چہرے کو ہاتھوں میں لئیے وہ کچھ بتا نہیں پائے۔۔
۔
“حورب۔۔۔بیٹا۔۔۔”
“سچ کیا تھا۔۔۔”
“سچ یہ تھا۔۔۔ میں۔۔۔آپ کی ماما کی بے لوث محبت سے تنگ آچکا تھا۔۔۔ اپنی فرمانبردار بیوی سے بیزار ہوکر۔۔ میں نے ایک گناہ کردیا۔۔۔اور اس گناہ کو چھپانے کے لیے شادی کرلی۔۔۔
دوسری شادی کی ضد نے مجھ سے وہ عورت چھین لی جو میری بیوی تھی میرا مان تھی۔۔۔
دوسری شادی کے جنون نے مجھے اتنا اندھا بنا دیا کہ میں اپنے بیٹے کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھا۔۔۔
میں۔۔۔”
“آپ کی ساری ذمہ داریاں وہی بیٹا پوری کرتا رہا۔۔۔ایک بار۔۔۔سکول میں سر درد ہوا تو۔۔۔ میری ٹیچر نے مجھے گھر بھجوا دیا تھا۔۔ اور ہمارا گھر کونسا تھا جانتے ہیں۔۔
ایک ریسٹورنٹ کا سٹور روم۔۔۔
جب میں نے ان دونوں کو سرپرائز دینے کی غرض سے دروازہ کھولا تو۔۔۔ ماں تیز چولہے کے آگے کھانا بنا رہی تھی اور مننان بھائی۔۔۔ مننان بھائی برتن دھو رہے تھے۔۔۔”
اپنے چہرے سے نجیب کے ہاتھ ہٹا دئیے تھے اس نے۔۔۔
“آپ مجھے بیٹا نہیں کہہ سکتے۔۔۔ آپ نے باپ ہونے کا فرض پورا نہیں کیا کبھی۔۔۔
آپ میری ماں پر حق نہیں جتا سکتے۔۔۔ آپ نے گھر کی چار دیواری سے بے آبرو کرکے نکالا تھا انہیں۔۔۔آپ۔۔۔ چلے جائیں ہماری زندگیوں سے۔۔۔ میں آپ کو دیکھوں گی تو بیس سال کی محنت مشقت مجھے سانس نہیں لینے دے گی۔۔۔
پلیز سر۔۔۔میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔”
ان جوڑے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر وہ ہاتھ نیچے کردئیے تھے۔۔۔
“گھر جاؤ۔۔۔ بہت دیر ہورہی۔۔۔”
نجیب نے اپنا رخ بدل لیا تھا۔۔۔ حورب اٹھ کر گھر کی طرف چلنا شروع ہوئی تو واپس ضرور پلٹی تھی۔۔۔ اور پھر سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔
“جب بھی سوچتی تھی کہ میرے بابا کیسے ہوں گے۔۔ وہ زندہ بھی ہوں گے۔۔ تو مننان بھائی اور ماں کے چہرے کے رنگ اڑ جاتے تھے۔۔۔ آپ سے اتنی نفرت کے باوجود بھی ان دونوں کو خوف رہتا تھا۔۔۔
آپ نے کیوں ایسی محبت نہیں کی۔۔۔؟؟ اور اب کیا چاہیے ۔۔۔ اب کچھ نہیں ہے۔۔ کچھ بھی۔۔۔”
وہ وہ روتے ہوئے وہاں ے بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میم یہ فلاورز آئے ہیں آپ۔۔۔”
۔
یہ دسویں دفعہ تھا جب اسے بکے ملا تھا اور اب تو نسواء کی ملازمہ کو بھی ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔
“کیا پھینک دوں۔۔۔”
“نہیں یہاں رکھ کر جائیں۔۔۔”
وہ ملازمہ جیسے ہی گئی نسواء نے ایک ہی نام غصے سے لیا تھا
“نجیب آفندی۔۔۔”
وہ بکے اٹھائے اور گاڑی کی چابی پکڑے وہ کمرے سے باہر چلی گئی تھی اور پھر گھر سے۔۔۔
۔
اسکی گاڑی آفندی ویلا کے سامنے رکی وہ جیسے ہی اندر جانے لگی فضا کو باہر دیکھتے ہی اس نے ایک ہی سوال پوچھا۔۔۔
“کہاں ہے وہ۔۔۔؟؟”
“بھائی ۔۔۔ آفس کے لیے نکل گئے بھابھی۔۔۔”
“اچھا پاگل بنا رہی ہو۔۔؟؟ آج اتوار کو کونسا آفس کھلا ہے۔۔؟؟”
“دراصل ایک ضروری ڈاکومنٹ ۔۔۔”اور وہ واپس گاڑی میں بیٹھ کر سیدھا آفس کی طرف لے گئی تھی گاڑی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آپ۔۔۔”
“تم اتنا گھبرا کیوں رہے ہو۔۔۔؟؟ اور مجھے لگا تھا آفس بند ہوگا۔۔۔ اس لیے میں اپنی چابیاں ساتھ لایا۔۔۔ پر یہ کیوں کھلا ہے۔۔؟؟”
“سر۔۔۔ وہ۔۔ آپ اس وقت یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔؟؟”
اسکی گھبراہٹ پر نجیب نے اسکا گریبان پکڑ لیا تھا۔۔۔
“اتنا گھبرا کیوں رہے ہو۔۔؟؟ کیا ہوا اندر۔۔؟؟ کون۔۔۔”
اور ایک دم سے اسکی نظر ایک بلو کار پر پڑی تھی اور اس نے ایک نظر گارڈ کو دیکھا تھا
“تمہارا موبائل کہاں ہے۔۔؟”
“سر ایم سوری مجھے ظہیر سر نے آرڈر۔۔۔”
موبائل کھینچ کر ایک تھپڑ مارا تھا نجیب نے اسے۔۔۔
“دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں اب اور برداشت نہیں کروں گی ظہیر۔۔۔ یہ دیکھو اسکے بلینک سگنیچر کروا چکی ہوں جن کاغذات پر تم نے کہا تھا۔۔۔”
“عمارہ ۔۔۔ مجھے ابھی ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔۔”
“مجھے اب اس گھر میں اس کے ساتھ رہتے ڈر لگ رہا ہے ظہیر۔۔ ہم کب ایک ہوں گے۔۔ میں اب اسکے ساتھ نہیں رہ سکتی میں تھک گئی ہوں ظہیر۔۔۔”
“میری جان۔۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔ بس کچھ وقت۔۔۔”
“نہیں ظہیر اب وقت نہیں رہا۔۔۔ اب نجیب کو سائڈ کرنا ہوگا اس سے پہلے وہ مجھے کچھ کردے۔۔۔”
“شش۔۔۔ پلیز۔۔۔ گھبراؤ مت میں ہوں۔۔۔”
وہ ظہیر کے کندھے پر سر رکھی تھی۔۔آگے کی پلاننگ میں وہ بہت آگے نکل چکے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اور وہ موبائل کو چیک کرتے ہوئے اندر داخل ہوگیا تھا۔۔۔
وہ پرائیویٹ ایلویٹر سے جیسے ہی اپنے کین والے فلور پر پہنچا اپنے کیبن کا ڈور اوپن دیکھ کر اور حیران ہوا۔۔۔ اور کھلے دروازے کے اندر جھانکتے ہوئے اپنی بیوی کو اپنے دوست کی آغوش میں دیکھ کر اسکے ہاتھ سے وہ گارڈ کا موبائل نیچے گر گیا تھا
۔
۔
“آپ نہیں پچھتا رہے۔۔۔ یقین جانے جس دن نجیب آفندی آپ پچھتائیں گے۔۔ آپ میں ہمت نہیں رہے گی مجھ سے نظریں ملانے کی۔۔۔”
۔
“میں نے تم جسی بد کردار عورت کے لیے اپنے گھر کا برباد کیا۔۔؟ تمہارے بدنماں باطل کے لیے میں نے نسواء کو مجبور کیا میری دوسری شادی کے لیے۔۔۔
میں نے تمہاری جیسی عورت کو بیوی بنانے کے لیے اپنے بیٹے کو پرایا کردیا اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھ لیا عمارہ۔۔۔
اس لیے وہ سب کیا تھا کہ آج تمہیں اپنےدوست کے ساتھ ایسے دیکھ سکوں۔۔۔؟؟”
نجیب کو زندگی کا سب سے بڑا دھچکا اس لمحے لگا تھا۔۔۔
۔
نجیب آفندی بہت گھاٹے کا سودا کردیا تم نے۔۔۔””
وہ اس عورت کو درگزر کرکے ظہیر کی طرف بڑھا تھا۔۔
“وہ تو بےوفا تھی اس نے اپنا ایمان بیچنے کے بعد اپنا جسم بھی بیچ دیا۔۔
پر تم۔۔۔ تم میرے دوست میرے بھائی جیسے تھے تم نے کیا کردیا۔۔۔؟؟
اس کمرے سے باہر نکلے گے تو لوگوں کا یقین اٹھ جائے گا دوستی سے۔۔
تم۔۔۔”
“اس کمرے سے باہر جا کر کون بتائے گا۔۔۔؟ تم نجیب آفندی بتاؤ گے۔۔؟ لوگوں میں تماشا بن جاؤ گے۔۔۔
جس عورت کو ٹھکرایا وہ تو کامیاب ہوگئی اور تم اپنی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹو گے۔۔۔؟؟ نہیں میرے دوست میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گا۔۔۔”
وہ کہتے ہنسنے لگا تھا۔۔۔ اور کچھ سیکنڈ میں عمارہ کی آواز بھی گونجی تھی وہ دونوں اس دھوکہ کھائے شخص کے پیچھے تو ہنستے تھے آج سامنے ہنستے ہوئے زیادہ لطف اندوز ہورہے تھے۔۔۔
“مجھے پرواہ نہیں۔۔میں اب تمہارا سایہ بھی اپنے گھر اور بچوں پر دیکھنا نہیں چاہتا۔۔۔”
“بچے۔۔۔؟ تمہارے بچے۔۔؟ ماہیر شزا۔۔؟ ایز اٹ۔۔۔؟؟”
ظہیر کا گریبان چھوڑ کر نجیب نے عمارہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“اسکی طرف کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔؟ یقین نہیں ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہے دیکھنا چاہو گے۔۔۔؟؟”
“بے غیرت بے حیا عورت۔۔۔میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔۔”
عمارہ کو جتنی زور سے تھپڑ مارا تھا وہ زمین پر جا گری تھی۔۔
اور نجیب نے ٹیبل پر پڑی گن کو جیسے اٹھانے کی کوشش کی پیچھے سے اسکی کمر پر ایک تکلیف ہوئی تھی وہ لڑکھڑا گیا تھا
اور جب اپنی شرٹ پر خون بہتے دیکھا اس نے وہ گن پکڑ کر ظہیر کو شوٹ کردیا تھا۔۔۔
“میں مرتا مر جاؤں پر تم دونوں کو کامیاب ہونے نہیں دوں گا۔۔۔”
“ظہیر۔۔۔۔”
عمارہ چلاتے ہوئے بھاگی تھی اسکی طرف۔۔۔۔
اس منظر نے نجیب آفندی کو ایک ایسا روگ دہ دیا تھا
“اس کے لیے میں نے اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے اجاڑ دی۔۔۔”
وہ عمارہ کی طرف گن کرتا ہے۔۔۔
“محبت کا نہ سہی رشتے کا بھرم رکھ لیتی عمارہ۔۔۔ یہ سوچ لیتی کہ میں نے کیا کچھ ٹھکرادیا تمہیں اپنانے کے لیے۔۔۔”
گن اٹھاتے ہی پیچھے سر پر واار ہوا تھا اسکے۔۔۔
گرنے سے پہلے اس نے وہی لفظ دہرایا تھا جو اسکو کسی نے بہت سال کہہ کر نوازا تھا
“ہرجائی”
۔
“حزیفہ۔۔ یہ کیا کردیا تم نے۔۔؟؟”
“مجھے جو کاغذات چاہیے تھے مجھے مل گئے ہیں میں جارہا ہوں۔۔ اسکا جو کرنا ہے آپ لوگ کرسکتے ہیں۔۔۔باسٹرڈ۔۔۔”
نجیب کو ٹانگ مارے وہ کیبن سے نکل گیا تھا۔۔۔
۔
“ابھی کیا ہوگا۔۔۔ کتنا خون نکل گیا ہے۔۔ظہیر۔۔۔اسکے مرڈر کی بات نہیں ہوئی تھی۔۔”
۔
وہ دونوں ابھی بات کررہے تھے جب ایک آواز انہیں سنائی دی اور پھر دستک ہوئی کیبن کے دروازے پر۔۔
۔
“نجیب آفندی۔۔۔”
اسکی بند ہوتی آنکھوں نے نسواء کی آواز سن کر جیسے پھر سے کھلنے کی ہمت کی۔۔۔
“شٹ۔۔۔ نسواء یہاں کیا کررہی ہے۔۔؟؟”
“مار دو اسکو بھی۔۔۔ ظہیر اگر وہ بھاگ گئی تو ہم سب مریں گے۔۔”
“اوکے اوکے ریلیکس۔۔۔ اسے اندر۔۔۔”
نجیب لڑ کھڑاتے ہوئے اٹھ گیا تھا اور ظہیر کو پیچھے دھکا دے کر دروازے کی جانب بڑھا تھا دروازہ کھولنے کے بجائے اس نے اندر سے لاک کردیا تھا۔۔۔
ان لوگوں کے پاس گن تھی ہتھیار تھے۔۔۔
وہ کیسے نسواء کو انکا نشانہ بننے دیتا جبکہ یہ سزا اسکے لیے تھی قصور وار وہ تھا۔۔۔
۔
“نجیب آفندی۔۔۔”
“چلی جاؤ نسواء۔۔میں بیزی ہوں۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تھا۔۔۔یا کہنے کی کوشش کی تھی۔۔۔اسکا ایک ہاتھ عمارہ کی گردن پر تھا اور دوسرے سے اس نے اپنے زخم سے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کی تھی
“بیزی مائی فٹ نجیب آفندی دروازہ کھولو۔۔۔”
نجیب کے درد بھرے چہرے پر ہنسی چھائی تھی نسواء کے غصے پر۔۔۔
“کچھ آخری کہہ دو اسے نجیب ۔۔۔اگر تم نے عمارہ سے ہاتھ نہیں اٹھایا تو میں گولی چلا دوں گا۔۔ اور تمہاری نسواء کو کیا کسی کو ایک آواز تک نہیں جائے گی۔۔۔”
“اپنے کوٹ سے جب اس نے وہ گن نکالی تو نجیب نڈر ہوکر عمارہ کو پیچھے دھکا دہ چکا تھا۔۔۔
“میں نہیں ڈرتا۔۔۔”
“آئی ہیٹ یو نجیب۔۔۔”
نسواء کے اس جملے نے اسکے جسم سے جیسے روح نکال دی ہو اسکے ہاتھ رکے تھے پر وہ گولی اسکے پیٹ پر لگ چکی تھی۔۔۔
“آئی ہیٹ یو نجیب آفندی۔۔ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی آپ سے پیار کرنا۔۔۔
آپ پر یقین کرنا۔۔۔آئی ہیٹ یو۔۔۔ اب کورٹ میں ملیں گے۔۔ کیونکہ مجھے آپ جیسے شخص کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا۔۔۔”
اور چلتے قدموں کی آواز پر وہ گھٹنوں کے بل گرگیا تھا
“ہاہاہا۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا نجیب آخری وقت میں اتنے تلخ الفاظ سننے کو مل جائیں گے۔۔”
کندھے پر ٹانگ مارے وہ اسے نیچے گرا چکا تھا۔۔۔
“چلو یہاں سے اب ہم بیک ڈور سے جائیں گے۔۔۔ سی سی ٹی وی پہلے ہی سٹاپ کرچکا تھا۔۔۔ تم اپنی گاڑی کو نسواء کے جانے کے بعد لے کر جانا۔۔۔”
“ظہیر۔۔۔ ہمیں اسے ہسپتال۔۔۔”
“وہ مر چکا ہے ۔۔۔سانسیں بندہورہی چلو۔۔۔نہیں تو تمہیں بھی اسکے ساتھ بھیج دوں گا۔۔۔ مجھے بےوفائی پسند نہیں ہے۔۔۔”
عمارہ کا ہاتھ پکڑے وہ اسے لے گیا تھا۔۔۔
پر نسواء جو مین گیٹ تک پہنچ گئی تھی جانے دل میں کیاآئی وہ غصے سے مڑی۔۔
“آخر اندر کیبن میں ایسا کیا ہورہا تھا جو مجھے بیزی ہونے کا کہا۔۔۔ یہ کیبن اور آفس ہی فساد کی جڑ رہا۔۔۔
نجیب آفندی آج آپ کی بےوفائی دنیا کو دیکھاؤں گی اور اسی ثبوت پر طلاق حاصل کروں گی۔۔۔”
وہ سو بہانے بنا کر واپس اوپر چلی گئی۔۔
پر وہ جانتی تھی وہ دل کو تسلی دینا چاہتی تھی۔۔۔
اور اس بار جب ایلویٹر سے نکلی تو کیبن کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔
دروازے سے باہر آتے خون کو دیکھ کر وہ پڑے ہوئے اس وجود کو پہچان گئی تھی۔۔۔
“نجی۔۔۔نجیب۔۔۔۔”اندر بھاگتے ہوئے گئی تھی اس نے جلدی سے نجیب کو سیدھا کیا۔۔۔
زخم پر اسکا ہاتھ لگتے ہیں نجیب کے منہ سے آہ نکلی تھی
“نجیب۔۔۔ نجیب آنکھیں کھولیں۔۔۔نجیب۔۔۔”
وہ کبھی سانسیں چیک کررہی تھی تو کبھی نبض۔۔۔
کانپتے ہاتھوں سے نجیب کی جیب میں ہاتھ ڈالے اس نے موبائل فون ڈھونڈا تھا اور ایک ہی یاد آنے والے نمبر کو ملایا تھا۔۔۔
۔
“ہیو۔۔۔۔من۔۔۔مننان بیٹا۔۔۔ کہاں ہو۔۔۔ جلدی سے۔۔۔ جلدی سے آفس میں آؤ۔۔ بیٹا بابا کو ہاسپٹل لے جانا ہے۔۔۔خون بہت بہہ گیا ہے۔۔۔”
کانپتی ہوئی آواز سے اسکے ہونٹوں سے یہی لفظ ادا ہوپائے تھے۔۔۔
“میں آرہا ہوں ماں۔۔۔ آرہا ہوں۔۔”
فون بند ہوا تو موبائل ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا
“ابھی غصہ کررہے تھے نجیب۔۔۔ ویسے ہی غصہ کریں۔۔۔پلیز۔۔۔ آنکھیں کھولیں۔۔۔”
وہ چہرے گود میں لئیے ہلا رہی تھی اور تبھی شور شرابے نے اسکی توجہ حاصل کرلی۔۔
“ماں۔۔۔”
“بیٹا۔۔۔ بہت خون بہہ گیا۔۔۔پلیز۔۔۔ سیو ہم۔۔۔پلیز۔۔۔ مننان۔۔۔”
“کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ آپ۔۔ہمت رکھیں۔۔۔”مننان جلدی سے نیچے جھکا تھا۔۔۔
نجیب کی نبض چیک کرتے ہی اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“پلیز بیٹا۔۔۔انہیں کچھ ہونا نہیں چاہیے۔۔۔۔”
“کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ نبض چل رہی ہے آپ پیچھے ہوں مجھے اٹھانے دیں۔۔۔”
مننان نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا اور۔۔ نسواء جیسے ہی پیچھے ہوئی تھی مننان نے جلدی سے نجیب کو اٹھانے کی کوشش کی تھی فرش پر گرے خون کو دیکھ کر اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی
“آپ کے ساتھ یہ جس نے بھی کیاہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
خود سے ایک نیا وعدہ کئیے وہ جلدی سے اس کیبن سے باہر لے گیا تھا۔۔۔ آفس کے باہر اسکے گارڈ پہلے ہی موجود تھے۔۔۔
بیک سیٹ پر جیسے ہی اس نے نجیب کو لٹایا نسواء جلدی سے پیچھے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“کچھ نہیں ہوگا نجیب آپ کو۔۔۔”
وہ گاڑی چلاتے ہوئے پورے راستے اپنی ماں کی آہ پکار سنتا چلا گیا۔۔۔
خاموشی سے۔۔۔
“کتنا فرق آگیا تھا ایک پل میں ان تینوں کے رشتے میں۔۔۔
حورب کی بات سچ ثابت ہوئی وہ دونوں ڈر جاتے تھے نجیب کو کچھ ہونے کا خوف انہیں ہما وقت تھا۔۔۔
اور آج یہ ثابت ہوگیا تھا
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔