Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 02
Rate this Novel
Episode 02
“وہ جتنے مان اور آنا اور غرور میں اِس گھر سے نکلی ہے وہ اتنی ہی جلدی الٹے پاؤں واپس بھی آئے گی دیکھ لیجئے گا آپ سب۔۔”
سب گھر والوں کو جیسے سانپ سونگ گیا ہو سب کے سب خاموش اسی دروازے کو دیکھ رہے تھے جہاں جس دروازے سے ابھی اس گھر کی بڑی بہو اور ان کا وارث سر اٹھائے گ چپ چاپ چلے گئے تھے انہیں چھو ڑ کر۔۔
نجیب کی گونجتی آواز میں تو بلا کا تکبر دیکھا تھا ان سب بڑوں نے خاص کر آفندی صاحب جو گرینڈ کاؤچ میں بیٹھ گئے تھے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اور پھر انکے بعد دادی اور نجیب صاحب کی والدہ ماہ جبین
جو سب لوگ شاکڈ تھے مگر ان سب کی زبانوں کو نجیب کی بات نے بڑھاوا دیا تھا نسواء کے خلاف بولنے کے لیے
“نجیب۔۔ اندر آجائیے رات بہت ہوگئی ہے۔۔”
عمارہ نے نجیب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جیسے ہی آہستہ آواز میں کہا نجیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں بھر لیا تھا
“آپ سب بھی سو جائیں میں بھی جا رہا ہوں۔۔ نسواء نے میری زندگی میں آنے والی خوشیوں کو جس طرح سے خراب کیا میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔۔ مگر یہ سب بعد کی باتیں ہیں پہلے اسے گھر آنے دیجئے۔۔”
وہ عمارہ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے گیا تھا۔۔۔
“نجیب آپ آرام کیجئے۔۔ میں چائے بنانے کا کہوں ملازمہ کو۔۔؟؟”
“میرا آرام اس وقت تم میں ہے عمارہ۔۔ کم ہئیر۔۔۔”
وہ عمارہ کو اپنے پاس بیڈ پر بٹھا چکا تھا
“نجیب آپ ٹھیک نہیں ہیں آپ آرام کیجئے۔۔”
“میں نے کہا نہ مجھے آرام نہیں تم چاہیے۔۔ان ڈریس ناؤ۔۔۔”
وہ غصے سے چلایا تھا بیڈ پر سر کے نیچے ہاتھ رکھے وہ عمارہ کو دیکھ رہا تھا جو خود کو کپڑوں کی قید سے آزاد کررہی تھی اسکی نظر اپنی دوسری بیوی پر تھی مگر دھیان دل و دماغ اپنی پہلی بیوی پر تھا۔۔۔ جو جانے رات کے اس پہر کہاں ہوگی اس بات نے اسے بےچین کردیا تھا۔۔ مگر اسکی آنا اسے کچھ کرنے نہیں دے رہی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء بیٹا۔۔؟؟”
یہ تیسرا گھر تھا جس کا دروازہ اس نے اس وقت کھٹکھٹایا تھا۔۔ مننان کے ٹھنڈے پڑتے وجود کو وہ اپنی چادر میں لپیٹ چکی تھی اسکے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے ملتے ہوئے اس سرد رات میں گرمائش دینے کی کوشش کر رہی تھی جب اس ضعیف شخص نے دروازہ کھولا تھا اور ایک وقت کو وہ چونک گیا تھا
جب اپنی بیوی کی مالکن کو دروازے پر دیکھا تھا
“سائمہ۔۔۔ سائمہ باہر آئیں۔۔۔”
وہ مکمل دروازہ کھول چکے تھے۔۔ اور نہایت احترام سے نسواء کو اندر آنے کا کہا تھا جو بہت گھبرا گئی تھی پھر انہوں نے اپنی بیوی کو اونچی آواز میں بلایا تھا۔۔۔
“کیا ہوگیا ہے آفتاب اس وقت اتنی بلند آواز میں۔۔۔۔ نسواء بیٹا۔۔؟؟”
آنکھوں نے نیند جیسے اڑ گئی تھی۔۔
“کیا۔۔ ہم آج رات آپ کے پاس رہ سکتے ہیں۔۔ کیا ہمیں تھوڑی سی جگہ مل سکتی ہے سائمہ بی۔۔؟؟”
سائمہ نے نسواء کے التجا کرتے ہاتھوں کو پکڑ لیا تھا۔۔وہ دونوں میاں بیوی حیرانگی سے دیکھنے لگے مننان اور نسواء کو
“بیٹا اندر آئیں۔۔کیا ہوا ہے۔۔؟؟ آپ اس وقت یہاں۔۔؟ نجیب صاحب ٹھیک تو ہیں۔۔؟”
۔
نسواء کو وہ الگ کمرے میں لے گئیں تھیں جو غالباۓً گیسٹ روم تھا تیسرا اور آخری کمرہ جو چھوٹا سا تھا۔۔ صرف ایک چھوٹے سے بیڈ کے ساتھ
“آپ یہیں بیٹھیں میں ابھی کچھ کھانے کو لےکر آتی ہوں۔۔”
وہ انہیں وہاں بٹھا کر جلدی سے باہر آگئی تھیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نسواء نے کتنی کم عقلی کا مظاہرہ کیا ہے امی مجھے اس سے یہ امید نہ تھی”
ماہ جبین نے دادی کو انکے بیڈ پر لٹاتے ہی کہا ۔۔ وہاں باقی سب بڑے بھی آگئے تھے دادی کے بلانے پر
“نسواء نے جو بھی کیا ایک بیوی ایسا ہی کرے گی جب اسکی ایک نہیں چلے گی”
“امی نجیب نے کوئی گناہ نہیں کیا۔۔”
آفندی صاحب بھی للکار کر بولے تھے۔۔ اب انہیں بھی نسواء کا غصہ بلاوجہ کا لگنے لگا تھا
“بھائی صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں امی بیویوں کو اتنی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔۔ اگر مرد اس قابل ہے کہ وہ دوسری شادی کرسکتا ہے تو کیوں اتنا واویلا مچایا گیا۔۔؟”
چچا نے جیسے ہی کہا باقی خواتین بھی انکا منہ تکنے لگیں۔۔ ابھی تک خواتین جو نسواء کو غلط کہہ رہی تھی اب اپنے اپنے شوہر کے خیالات سن کر وہ خطرہ محسوس کرنے لگیں تھی
“دادی۔۔میں ایک بات کہوں۔۔؟ نجیب بھائی نے کچھ غلط نہیں کیا میں جانتی ہوں آپ کچھ ایسا فیصلہ ضرور کریں گی کہ عمارہ بھابھی کو اس گھر سے دوسرے گھر میں شفٹ کروانا چاہیں گی کیونکہ نسواء بھابھی آپ کی لاڈلی ہیں۔۔؟”
نجیب کی چھوٹی بہن اپنے شوہر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی تھی
“فضا بیٹا بچوں کو کچھ بھی بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔”
دادی نے سخت بات کو بھی نرم لہجے میں کہا تھا
“دادی میں معافی چاہتی ہوں۔۔ مگر آپ بھابھی سے اپنی محبت ایک طرف رکھ کر نجیب بھائی کا سوچیں۔۔ وہ عمارہ بھابھی سے محبت کرتے ہیں۔۔انہیں دوسری شادی کا حق ہے۔۔”
“ہمم میں نے تمہاری بات سن لی ہے بیٹا۔۔ میں فیصلہ نہیں سنا رہی تم جاسکتی ہو داماد جی تھک گئے ہوں گے۔۔”
فضا کے ساتھ شرمندہ ہوتے اسکے شوہر کی طرف دیکھ کر دادی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
فضا ابھی جانے لگی تھی جب دادی نے اسے پھر سے مخاطب کیا
“فضا بیٹا۔۔ اگر مستقبل میں تمہارے شوہر نے دوسری شادی کا ذکر کیا تو تم یہاں شکایت لیکر نہیں آؤ گی۔۔ اور اتنی ہی فراغ دلی سے اپنی سوتن کو قبول کرو گی۔۔ کیا تمہیں منظور ہے۔۔؟؟”
“دادی۔۔؟؟”
فضا کے پیروں تلے جیسے زمین نکل گئی ہو وہ ایک نظر اپنی دادی کو اور ایک نظر اپنے شوہر کو دیکھتی رہ گئی تھی جس کی آنکھوں میں ایک الگ چمک نظر آئی تھی اسے دوسری شادی کا سن کر
“میں کبھی سوتن برداشت نہیں کروں گی دادی۔۔۔”
“سوتن کوئی عورت برداشت نہیں کرتی فضا بیٹا یہ بات یاد رکھنا۔۔ عورت کو مجبور کردیا جاتا ہے۔۔ تم نے جو نسواء کے لیے کہا ہے اپنی اسی بات پر ڈٹی رہنا۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اگلی صبح۔۔”
۔
“سائمہ بی۔۔ آپ نے اچھا کیا مجھے یہاں آکر بتا دیا۔۔”
“سر میں بس اتنا چاہتی ہوں آپ انہیں لینے آجائیں۔۔ نسواء میڈم کو کل رات سے تیز بخار ہے اور باہر کا موسم بھی دیکھ لیں۔۔”
“آپ انکی فکر نہ کریں۔۔ آپ نے بس گھر جا کر اتنا کرنا ہے کہ میری بیوی اور بیٹے کو بہت عزت افزائی کے ساتھ اپنے گھر سے نکال باہر کرنا ہے۔۔”
“جی۔۔؟”
سائمہ کرسی سے اٹھ گئی تھی ایک دم سے
“صاحب آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟ میں یہاں آپ سے کچھ اور درخواست کرنےآئی تھی اور آپ کچھ اور کہہ رہے ہیں۔۔؟؟”
“میں جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔۔ ایک گھنٹہ کا وقت ہے تمہارے پاس واپس گھر جاؤ اور اسے نکال دو۔۔۔”
“میں ایسا کبھی نہیں کروں گی سر۔۔ ایم سوری۔۔”
وہ اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی تھی انکا ہاتھ ڈور ہینڈل پہ تھا جب نجیب نے نوٹوں کا بڑا بنڈل اسکے قدموں کی جانب پھینکا تھا
“یہ نوٹ اٹھاؤ اور اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔۔ جیسا میں نے کہا ویسا کرو گی تو تمہارے شوہر کا علاج اور بیٹے کی کالج فیس میرے ذمہ ہوگی۔۔۔
اور تم بھی جانتی ہو نجبب آفندی جب کوئی ذمہ داری لے تو اسے نبھاتا بھی ہے۔۔۔اب جاؤ۔۔ اور جلدی سے نکالو ان دونوں کو وہاں سے۔۔”
سائمہ کچھ منٹ سوچنے کے بعد وہ نوٹوں کے بنڈل کو اپنی چادر میں چھپائے وہاں سے چلی گئی تھی
“نسواء۔۔ کل رات گھر کی دہلیز سے باہر گزار کر آپ نے جو بغاوت کی شرعات کی ہے میں اس بغاوت کو آج ہی کچل دوں گا اور شام سے پہلے مجبور کردوں گا آپ کو واپس گھر لے آنے پر۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دوسری شادی کوئی گناہ نہیں ہے میں نے زنا نہیں کیا آپ کو تو خوش ہونا چاہیے
میں عمارہ سے بھی اتنا ہی پیار کرتا ہوں جتنا آپ سے کرتا ہوں نسواء وہ ہمارے درمیان میں نہیں آئے گی۔۔ اور نہ ہی آپ کو میں اجازت دوں گا کہ آپ مجھے اس کے پاس جانے سے روکیں۔۔”
“یہ کیسی محبت ہے آپ کی نجیب جس میں اتنی شراکت کسی اور عورت کو دے کر آپ مجھ سے محبت کی بات کررہے ہیں آپ جانتے بھی ہیں محبت کا مطلب۔۔؟”
“محبت کا مطلب۔۔؟؟ محبت کا مطلب ہمارے جلتے ہوئے یہ وجود ہیں جنہیں اپنی ضد کی وجہ سےآپ نے مزید جھلسا دیا ہے اس جلتی آگ میں۔۔۔”
نسواء کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے وہ اپنے قریب کھینچ چکا تھا اسکے سسکتے ہوئے وجود کو۔۔
“نجیب۔۔”
“محبت کا مطلب یہی تو ہے کہ ہم دور ہوکر بھی دور نہیں رہ سکے۔۔ آپ مچلتی ہوئی ٹوٹ رہی ہیں میری آغوش میں نسواء اس سے زیادہ کیا محبت کا ثبوت دوں۔۔؟؟”
نسواء کی گردن پر اپنےلب رکھے وہ اسے اور مجبور کررہا تھا خود میں سمٹنے کو۔۔ بات حد سے بڑھ گئی تھی ب وہ لب گردن کی لو سے نیچے کا سفر تہہ کر چکے تھے
“یہ محبت نہیں ہے جسموں کی ہوس ہے۔۔۔نجیب۔۔۔”
“میاں بیوی کے رشتے میں ہوس کچھ نہیں ہوتی۔۔ میری جان محبت محبت ہی ہوتی ہے چاہے وہ دو روحوں کی ہو یا دو جسموں کی۔۔۔ “
نسوا کے ہونٹوں کے قریب اس کے لبوں نے سرگوشی کی تھی۔۔
“خود کو روکو گی تو ظلم کرو گی خود پر میرا حق ہے تم پر تمہارے اس وجود پر۔۔
چاہے دوسری بیوی آگئی ہو۔۔ مگر تم اب بھی میری ملکیت ہو نسواء۔۔۔”
شرٹ کی ڈوری کھولے وہ اپنی ملکیت پر اپنی گرفت اور مظبوط کرچکا تھا ۔۔
وہ پہلو میں پگھلتی اس موم بتی کی طرح پگھل رہی تھی۔۔
لبوں کے درمیان کے فاصلے کو نجیب نے جیسے ہی ختم کیا تھا نسوا کے شکوے بھی دم توڑ گئے تھے
وہ جو دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو بند کیا ہوا تھا وہ جو خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تھی
دوپٹے نیچے گرنے پر اسکا وہ کنٹرول میں گر چکا تھا۔۔۔ وہ اب محض ایک بے بس بیوی رہ گئی تھی اپنے شوہر کو مکمل سرنڈر کرچکی تھی وہ اور اس کا وجود جو پاگل ہو رہا تھا نجیب کی قربت میں۔۔۔
۔
“میں نے کہا تھا نہ آپ میری اور عمارہ کی شادی کے آگے سر جھکا دیں گی نسواء۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ کبھی نہیں میں مرنا پسند کروں گی مگر ایک ایسے شخص کے ساتھ گزارنا نہیں جسے میرے جذبات میرے احساسات کی کوئی پرواہ نہیں جو اپنی دل جوئی میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ اسے اپنے بچے کی بھی فکر نہیں۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا آپ پھر سے زیادہ بول رہی ہیں نسواء۔۔ میں چکنا چور کردوں گا آپ کا یہ غرور۔۔۔مننان کو بھی چھین لوں گا۔۔۔”
“کبھی نہیں۔۔۔۔نجیب۔۔۔”
وہ چلاتی ہوئی اٹھ گئی تھی ۔۔”
“ماما۔۔۔ ماما آپ ٹھیک ہیں۔۔؟”
مننان جلدی سے نسواء کے پاس آگیا تھا۔۔۔نسواء کے چہرے سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو وہ صاف کرنا شروع ہوگیا تھا جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔۔ سائمہ بی سر جھکاتے ہوئے اندر آئی تھی ناشتے کی پلیٹ انہوں نے جیسے ہی نسواء کے پاس رکھی تھی انکی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے۔۔
“سائمہ بی کیا ہوا ہے۔۔؟؟ “
وہ اپنی تکلیف بھلا کر سائمہ بی کے چہرے کو دیکھ کر پریشان ہوئی۔۔
“مننان بیٹا آپ باہر جاکر کھیلے گے۔؟ آپ کی ماما سے میں نے بات کرنی ہے۔۔”
“آپ میرے سامنے کرسکتی ہیں اب سے میں ہر بات کو سننا چاہتا ہوں۔۔”
مننان اٹھ کر نسواء کے پاس بیٹھا تھا۔۔ اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا کر اس نے اپنی بھری ہوئی آنکھوں کو صاف کرنے کی کوشش کی تھی جب مننان نے پھر سے اپنے ہاتھوں سے صاف کئیے تھے
“ماما ڈونٹ ورری میں ہوں آپ کے پاس۔۔۔”
نسواء کے گال پر بوسہ دے کر اس نے پھر سے نسواء کو تسلی دی تھی دلاسہ دیا تھا
اپنے بیٹے کی یہ فکر دیکھ کر وہ بار بار اشکبار ہورہی تھی مننان بار بار چہرہ صاف کررہا تھا
“ماما آپ کی آنکھوں میں پانی کا کوئی ٹب تو نہیں۔۔؟ اتنا پانی۔۔؟”
اس نے معصومیت سے پوچھا تھا جس پر وہ اور سائمہ ہنس دئیے تھے روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ۔۔
۔
“سائمہ بی آپ بتائیے۔۔۔”
سائمہ بھی گھبراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھنے لگی اور گہرا سانس بھر کر انہوں نے ایک ہی بات کہی تھی جس پر وہ دونوں ماں بیٹے اور زیادہ شاکڈ ہوئے تھے
“نجیب صاحب چاہتے ہیں میں تم دونوں کو گھر سے نکال دوں۔۔ نسواء۔۔ انہوں نے مجھے پیسے بھی دئیے ہیں۔۔ میں انہیں انکار کرنا چاہتی تھی مگر میں جانتی ہوں میرا ایک انکار میرا ہنستا بستہ گھر اجاڑ دے گا۔۔۔”
انہوں نے وہ نوٹوں کا بنڈل نسواء کے پاؤں کے پاس رکھ دیا تھا
“ہمم انہوں نے جیسا کہا ہے آپ ویسا کردیں۔۔ ہم تو برباد ہوئے ہیں مگر ہماری وجہ سے کوئی اور برباد نہیں ہونا چاہیے۔۔”
وہ ناشتہ کئیے بغیر خود بھی اٹھی تھی اور اپنے بیٹے کو بھی اٹھایا تھا۔۔
“نسواء بیٹا یہ کچھ پیسے اپنے پاس رکھ لو اور یہ ایڈریس میری بہن کا ہے جو کراچی میں رہتی ہے تم نے اسے جا کر میرا یہ خط دہ دینا ہے وہ سمجھ جائے گی۔۔”
“نسواء نے وہ خط اور ایڈریس تو پکڑ لیا تھا مگر وہ پیسے نہیں۔۔”
“میں ان کے پیسوں کی ایک پائی بھی نہیں لوں گی۔۔۔”
“بے فکر رہو یہ میری محنت کی کمائی ہے جو میں نے جوڑی ہوئی تھی۔۔۔بیٹا۔۔”
کچھ دیر میں وہ فریش ہوکر گھر کی دہلیز پر کھڑے تھے۔۔۔
“اب آپ غصے سے ہمیں باہر نکالیں۔۔”
نسواء نے انکے ہاتھ کو تھامے ہوئے کہا تھا
“بیٹا۔۔ میں یہ نہیں کرسکتی ۔۔صرف نجیب صاحب کو خوش کرنے کے لیے۔۔”
“سائمہ بی انہیں خوشی ملے گی ہماری ذلت پر آپ انہیں وہ خوشی دہ دیجئے۔۔”
“ماما انکی خوشی اب میٹر نہیں کرتی۔۔”
مننان نسواء کا ہاتھ پکڑ باہر لے گیا تھا۔۔۔
۔
دوور سڑک پر تین گاڑیاں بیک ٹو بیک کھڑی تھی درمیان والی گاڑی میں نجیب خاموشی سے ان دونوں کو ہاتھ تھامے اس گھر سے باہر آتے دیکھ رہا تھا۔۔
بس سٹاپ پر کھڑی بس میں بیٹھنے سے پہلے نسواء لڑکھڑا گئی تھی چھوٹے سے پتھر سے جو پڑا ہوا تھا۔۔وہ زرا سا لڑکھڑائی ہے یہاں مننان نے جلدی سے ہاتھ پکڑا نسواء کا اور وہاں نجیب نے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔۔مگر اسکے قدم وہاں رکے جب مننان نے دونوں کندھوں پر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ رکھ کر نسواء کو سنبھالا تھا
“ماما آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔”
۔
وہ دونوں بس میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔اور وہ بس انہیں ریلوے اسٹیشن کے قریب اتار دیتی ہے۔۔ جہاں ک نجیب نے انہیں فالو کیا تھا۔۔
وہ جس پلیٹ فارم پر بیٹھی تھی مننان کے ساتھ لڑکی کے اس سخت بینچ پر نجیب دور کھڑا تھا
“سر آپ اندر چل کر بیٹھ جائیں۔۔”
“اسکی ضرورت نہیں ہے یہ ٹرین کب آئے گی۔۔؟”
“سر کچھ تقریباً آدھا گھنٹہ لگ جائے گا۔۔”
“ہمم۔۔ کراچی جانے والے اس ٹرین کو پانچ چھ گھنٹے لیٹ آنے کا کہو۔۔”
“سر۔۔؟؟”
“جیسا کہا ہے ویسا کرو۔۔۔”
وہ بات کررہا تھا جب نسواء نے اسی جانب دیکھا۔۔ پیچھے اپنے لوگوں کو اشارہ کرکے وہ ایک پلر کے پیچھے چھپ گیا۔۔ اسکے چہرے پر ایک الگ ہی مسکراہٹ تھی۔۔
“آپ کو محسوس ہوجاتی ہے میری نظریں نسواء۔۔ بس کچھ اور گھنٹے۔۔ آپ مننان کو واپس لے آئیں گی۔۔ اور اپنا لیں گی عمارہ اور میرے رشتے کو۔۔”
نجیب نے اپنا سیل فون نکالا تھا
“عمارہ ریڈی ہوجاؤ۔۔ شاپنگ پر جانا ہے۔۔ پرسو فلائٹ ہےہماری۔۔ ہنی مون پر میں تمہیں اسی کنٹری میں لے جانا چاہوں گا جہاں تم نے جانے کی فرمائش کی تھی۔۔”
عمارہ کی بات کا جواب سنے بغیر نجیب نے فون بند کردیا تھا
“میں ابھی جارہا ہوں۔۔ تم لوگ یہیں نظر رکھو۔۔ کچھ گھنٹے کا کھیل ہے۔۔”
اور وہ ایک آخری نظر دیکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اسکے جانے کے بعد نجیب کے لوگ وہاں پہرہ دینے لگے تھے۔۔جب نسواء نے نظریں گھمائی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر رش ہونے کے بعد۔۔ وہ ان لوگوں سے نظریں بچاتی ہوئی۔۔
دوسرے پلیٹ فارم کی جانب بڑھی تھی۔۔ جو ٹرین وہاں سے جانے والی تھی اس میں وہ مننان کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔اپنا اور مننان کا چہرہ کور کئیے۔۔۔
“وہ ٹرین جیسے جیسے چلنا شروع ہوئی تھی اس نے خود سے ایک ہی وعدہ کیا تھا
“میں کبھی واپس نہیں آؤں گی نجیب۔۔ کبھی آپ میرا چہرہ دیکھ نہیں پائیں گے۔۔”
اسکی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو مننان کی کلائی پر جیسے ہی گرے تھے اس کی انگلیوں کی گرفت اپنی ماں کے ہاتھو ں پر مظبوط ہوئی تھی
“میں لوٹ کر ضرور آؤں گا ڈیڈ۔۔ اپنی ماں کی آنکھوں سے نکلنے والے ہر آنسو کا حساب لینے۔۔”
نسواء کے ہاتھ پر بوسہ دئیے مننان نے بھی خود سے ایک وعدہ لیا تھا ایک قسم کھائی تھی
“آپ میری ماں کے ہی نہیں میرے بھی ‘ہرجائی’ ہیں۔۔ میں آپ کو کبھی بھولنے نہیں دوں گا۔۔۔”
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
