Mera Harjai by Sidra Sheikh readelle50032 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
“سمجھاؤ مجھے۔۔ تمہارے پیرنٹس میرے اور تمہارے رشتے کی بات کرنے آئے تھے ہانیہ۔۔پھر کیسے میرے کزن کو پسند کرلیا۔۔؟؟”
“شہاب۔۔پلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ۔۔۔”
“نوو۔۔۔ یو ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ۔۔۔ ابھی چلو میرے ساتھ اور نیچے سب کو بتاؤ تم مجھ سے پیار کرتی ہو۔۔۔ چلو۔۔۔”
شہاب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر ہانیہ نے سر جھکا لیا تھا
“ایم سوری شہاب۔۔ میں۔۔۔”
“سین کیا ہے۔۔؟؟ گھبرا کیوں رہی ہو۔۔؟؟ محبت کرتی ہو تم مجھ سے۔۔”
“شہاب۔۔۔ تمہاری فیملی ہمارے گھر تمہارا نہیں تمہارے کزن کا رشتہ لیکر آئی تھی۔۔۔ سب کو لگتا ہے تم لائف میں سیریس نہیں ہو۔۔۔ تم بزنس میں سیریس نہیں ہو۔۔۔
سب کو لگتا ہے۔۔۔”
“شش۔۔۔۔ سب گئے بھاڑ میں۔۔۔”
ہانیہ کی گردن پر ہاتھ رکھے شہاب نے اپنےقریب کیا تھا
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔؟؟ میں امیچور ہوں تمہیں خوش نہیں رکھ سکتا۔۔؟؟ تمہارے خواب پورے نہیں کرسکتا۔۔۔؟؟”
“شہاب۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں۔۔۔”
“تمہارا بوائے فرینڈ بننے کے قابل تھا مگر ہزبنڈ نہیں۔۔؟؟”
شہاب چلایا تھا۔۔۔اسے ہانیہ کی خاموشی نے چپ کروا دیا تھا
“تھینکس ۔۔۔پچھلے تین سال سے مجھے محبتوں کے خواب دیکھانے اور پھر توڑنے کے لیے۔۔
تھینکس مجھے یہ بتانے کے لیے کہ تم نے مجھے ٹھکرا کر میرے کامیاب کزن کو ہاں کردی۔۔
تھینکس یہ بتانے کے لیے کہ عورت ذات پر اب کبھی یقین نہیں کرنا۔۔۔”
وہ اپنے کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
“ارے شہاب بیٹا۔۔۔ تمہاری بیسٹ فرینڈ کے ساتھ ہم نے احمر کی بات پکی کردی ہے۔۔”
۔
“سیریسلی ڈیڈ۔۔۔؟؟”
وہ اپنے ہی والدین کو دیکھتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔
“سر آپ کو میری آواز سنائی دے رہی ہے۔۔؟؟”
“آئی تھنک پئشنٹ کو ابھی ٹھیک سے ہوش نہیں آیا ڈاکٹر حورب۔۔۔”
“آپ جائیں میں دیکھ لیتی ہوں۔۔۔”
حورب نے چارٹ کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے پئشنٹ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“پان۔۔۔پانی۔۔۔”
“یہ لیجئے۔۔۔ لیکن آپ ایک ساتھ نہیں پی سکتے تھوڑا تھوڑا کرکے پینا ہوگا۔۔۔”
پئشنٹ کے سر پر ہاتھ رکھے دوسرے ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے حورب نے جیسے ہی آگے کیا تھا اس شخص نے حورب کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“تھینک یو۔۔۔”
“اٹس اوکے سر آپ کا نام کیا ہے۔۔؟؟ فیملی نمبر بتائیے میں انہیں انفارم کردوں۔۔؟؟”
حورب نے ماتھے سے بالوں کو پیچھے کرکے بندھی ہوئی پٹی کو ایگزیمن کرتے ہوئے پوچھا تھا
“شہاب۔۔۔”
شہاب کو واپس لٹا دیا تھا۔۔۔۔ وہ ایک پل کو کھو گیا تھا حورب کی خوبصورتی میں آنکھوں کے سبز رنگ میں۔۔۔
“سر آپ کی فیملی۔۔؟؟”
“آر یو شئور میں زندہ ہوں اور ٹھیک ہوں۔۔؟؟ آپ کو دیکھ کر لگا جیسے مر چکا ہوں اور میرے سامنے کوئی حور کھڑی ہو۔۔۔”
اس نے حورب کے سوال کو اگنور کرکے پوچھا تھا جس پر حورب کی آنکھیں بڑی ہوئی تھی۔۔۔
اس نے لاکھ کوشش کی تھی بلش نہ کرنے کی۔۔۔ اور وہ کامیاب بھی ہوئی تھی جب اس نے شہاب کی طرف سٹریٹ فیس سع دیکھا۔۔
“ایکسکئیوز مئ۔۔؟؟”
“میں کوئی چیپ ساشخص لگ رہا ہوں گانئی۔۔؟؟ کچھ گھنٹے پہلے بریک اپ ہوا اور میں اپنی جان بچانے والی ڈاکٹر کے ساتھ فلرٹ کررہا۔۔”
شہاب نے کہتے ہوئے معذرت کی تھی اور ساتھ ہی دوسرے ڈاکٹر آگئے تھے۔۔۔
۔
“تھینک یو ڈاکٹر حورب میری جگہ فل اپ کرنے کے لیے۔۔۔”
“اٹس اوکے ڈاکٹر راٹھور۔۔ میں سنیئر ڈاکٹرز سے کچھ ضروری ڈسکشن کرنے آئی تھی مجھے اچھا لگا کسی کام آکر۔۔۔ٹیک کئیر مسٹر شہاب۔۔۔”
اور وہ ایک نظر شہاب کو دیکھے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“ڈاکٹر حورب۔۔۔”
شہاب نے سرگوشی کی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“مسٹر مننان۔۔۔”
“میں مجھ سے ہار جانے والے لوگوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔۔۔ مسٹر آفندی۔۔۔”
اپنے ہاتھ اس نے اپنی پینٹ پاکیٹ میں ڈال لئیے تھے
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ ہم سب کو ہرٹ کردیا یار۔۔۔”
چوہدری صاحب نے مذاق میں بات ٹال دی تھی پر نجیب آگے بڑھا تھا اور مننان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی تھی دونوں باپ بیٹے ایک ہی قد کاٹھ کے برابر تھے
“ایک ڈیل جیت کر تم جن پروں کے ساتھ جن ہواؤں میں اڑنا سیکھ رہے میں سالوں سے ان ہواؤں کا رخ بدلتا ہوں۔۔۔ روز ہزاروں ڈیلز جتتا ہوں ایک تم جیت گئے ہو ہضم کرو۔۔ مجھے پسند نہیں میرے سامنے کوئی مجھ سے زیادہ غرور لئیے کھڑا رہ جائے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
مننان بے ساختہ ہنس دیا تھا۔۔۔ اور جس طرح وہ ہنسا تھا وہ ہنسی کسی خطرناک الارم سے کم نہ تھی مننان اب کے ہاتھ جیب سے نکال چکا تھا۔۔۔
“ویل مسٹرنجیب آفندی۔۔۔ اب عادت ڈال لیں۔۔۔ میں آگیا ہوں۔۔ بس گنتے جائیں اور کتنی ہار سے آشنا کرواتا ہوں میں آپ جیسے ہواؤں کے رخ بدلنے والے بزنس ٹائیکون کو۔۔۔ میں نے بتایا نہ مجھے سامنے والے کو سرپرائز کرنا اچھے سے آتا۔۔۔
چلیں مسٹر چوہدری۔۔”
۔
نجیب کے کندھے کو مننان کا کندھے ٹچ کیا تھا جب وہ جان بوجھ کر ٹکرا کر اندر چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
“ڈیٹ واز سوووو انٹینس نجیب۔۔۔ کیا کوئی پرانا دشمن ہے۔۔؟؟”
انکے دوست نے پوچھا تو نجیب نے واپس مننان کی بیک کو دیکھا تھا جو ویسے ہی سب کو مل رہا تھا جیسے وہ ان سب کا مالک اور باقی سب غلام ہوں۔۔۔
۔
“دشمن۔۔؟؟ نجیب آفندی دشمنوں کے انتخاب میں اعلی درجہ رکھتا ہے۔۔ یہ نیو کمر اس قابل کہاں۔۔؟؟ بچہ ابھی سیکھ رہا ہے۔۔۔”
نجیب باہر جانے کے بجائے اندر گیدرنگ میں چلا گیا تھا۔۔۔
نوڈاؤٹ اسے بھی اتنی ہی اٹینشن مل رہی تھی جتنی کہ مننان کو ہاتھوں میں ڈرنک کا گلاس لئیے وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا تھا
“اسی خوشی میں ایک ایک جام ہوجائے۔۔۔”
“میں پیتا نہیں ہوں۔۔۔ “
“اوووہ۔۔۔۔”
ساتھ بیٹھے شخص نے جیسے ہی نجیب کی طرف دیکھا تھا نجیب نے اپنے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو ایک جھٹکے میں پی لیا تھا۔۔
“ہاہاہاہا میں نے کہا تھا بچہ سیکھ رہا ہے۔۔پانی کا گلاس چلے گا بیٹا۔۔؟؟”
نجیب نے طنزیہ لہجے میں جیسے ہی کہا تھا مننان نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی تھی۔۔
“اگر ڈرنک کرنے سے میں منجھا ہوا کھلاڑی ثابت ہونے لگا تو میرے اتنا دماغ اور محنت کا کیا فائدہ۔۔؟؟ میں بھی عیاش لوگوں کی طرح روز ایسی محفل میں ایک بوتل ہاتھ میں پکڑے یہ ظاہر کرنا شروع ہوجاؤ کہ میں سیکھ چکا ہوں۔۔۔؟؟”
مننان نے پانی کا گلاس اٹھا کر پینا شروع کیا تھا اسکی نظریں صرف نجیب آفندی پر تھی اور جب اس نے وہ گلاس ٹیبل پر رکھا اسکی گرفت میں وہ گلاس چکنا چور ہوگیا تھا
“دوسری بات دوبارہ مجھے بیٹا مت کہیے گا۔۔۔ ود ڈیو رسپیکٹ۔۔۔ اگر پھر مجھے اس بیٹا لفظ سے مخاطب کیا تو میں رسپیکٹ نہیں رکھوں گا۔۔”
۔
“مننان ب۔۔نجیب کو شاید آپ نہیں جانتے یہ فیمس بزنس مین ہیں۔۔ چوہدری صاحب اپنے بزنس پارٹنر کو زرا بات کرنے کی تمیز سیکھا دیں۔۔ چلو نجیب۔۔۔”
“وہ لوگ ایک دوسرے کو سمجھانے میں لگ گئے تھے مگر مننان اپنی سیٹ سے ہلا تک نہیں وہ پلکیں نہیں جھپکا تھا جس طرح نجیب آفندی۔۔۔
“نجیب کم لیٹس گو۔۔۔”
“ارے تم لوگوں کو کیا ہوا یار میں ایکسکئیوز کررہا ہوں نجیب سے۔۔۔”
مگر چوہدری صاحب کی بات کو درگزر کرکے نجیب صاحب بھی اٹھ چکے تھے کوٹ کے بٹن بند کرکے جانے سےپہلے انہوں نے ایک نظر مننان کو دیکھا تھا اور پھر مننان کے زخمی ہاتھ کو جس پر سے خون کے قطرے شیشے کے میز پر گررہے تھے۔۔۔
مننان کی اتنی بدتمیزی کے بعد بھی نجیب آفندی نے ایک نظر مسکرا کر دیکھا تھا جیسے چیلنج کررہے ہوں اس کو۔۔۔
“مزہ آئے گا کھیلنے میں۔۔۔”
انکی بات مننان کو صاف سنائی دی تھی۔۔۔
۔
وہ وہاں سے جیسے ہی گئے تھے پارکنگ پر اپنے ہی دوست کا ہاتھ جھٹک دیا تھا انہوں نے۔۔۔
۔
“میں چلا جاؤں گا ۔۔۔”
“چل یار میں گھر چھوڑ دوں گا۔۔۔ تو نے زیادہ پی لی ہے۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔ ہوش و حواس میں ہوں میں۔۔۔”
وہ لڑکھڑائے ضرور تھے مگر ڈگمگائے نہ تھے۔۔۔
گاڑی کی ریموٹ سے ڈور اوپن کرکے وہ بیٹھ گئے تھے جاتے جاتے ان لائن وائز کھڑی تین گاڑیوں پہ ان کی نظر اس منفرد گاڑی پر پڑی تھی جس کا ماڈل آج سے پہلے انہوں نے دیکھا نہ تھا۔۔ ایک پل کو انکے دل میں اس مغرور اور بدتمیز لڑکے لیے ریسپیکٹ ضرور آئی تھی۔۔۔
انہوں نے گاڑی گھما دی تھی پر اپنے گھر جانے کے بجائے وہ اسی روڈ کی طرف چل نکلے تھے جہاں وہ جا رہے تھے پچھلے ایک ہفتے سے۔۔۔ جہاں نسواء اور حورب رہتی تھی۔۔۔
۔
“نسواء۔۔۔”
گاڑی ایک کارنر پہ کھڑی کئیے بند کردی تھی اور آنکھیں بند کرکے وہ سو گئے تھے ایک سکون والی نیند اس گماں میں کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے قریب ہیں۔۔۔
۔
کچھ دیر میں مننان کی گاڑی پاس سے گزری تھی۔۔ نہ وہ دیکھ پائے تھے اور نہ ہی مننان نے غور کیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں ماں۔۔؟؟”
مننان نے زخمی ہاتھ کو چھپا لیا تھا جلدی سے۔۔وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تھا ہر طرف اندھیرا تھا جسے دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا پر ایک دم سے نسواء اسکے سامنے کھڑی ہوگئی جب اس نے پہلی سیڑھی پر پاؤں رکھا۔۔
“جب جوان بیٹا لیٹ نائٹ گھر رہے تو گھر میں ماں کو سکون کی نیند کیسے آسکتی۔۔؟؟”
مننان کی گال پر ہاتھ رکھے نسواء نے بہت پیار سے پوچھا تھا۔۔
“وہ ضروری میٹنگ تھی ماں۔۔۔ ایکچولئ میں نے ایک ڈیل سائن کی اور ان لوگوں نے انسسٹ کیا تھا کہ میں سیلیبریشن میں جوائن کروں انہیں۔۔۔”
“اٹس اوکے بیٹا کوشش کرو کی دس بجے سے پہلے گھر آجایا کرو اب جلدی سے جاؤ فریش ہوکر آجاؤ میں کھانا گرم کرتی ہوں۔۔۔”
مننان نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کے گلے لگ گیا تھا
“آپ آرام کریں ماں میں کسی سرونٹ کو کہہ دوں گا۔۔پلیز۔۔۔”
“اچھا میں بھوکے پیٹ سو جاؤں۔۔؟؟ دس از نوٹ فئیر مسٹر مننان۔۔۔”
نسواء نے دونوں بازو پیچھے کرلئیے تھے چہرے پر خفا ہونے والے تاثرات نے مننان کو بےساختہ ہنسا دیا تھا۔۔ پر ایک د م وہ سیریس بھی ہوگیا تھا۔۔
“آپ یہیں بیٹھیں پلیز۔۔۔ اس کرسی سے اٹھیں گی نہیں میں ابھی آیا۔۔”
ڈائننگ چئیر پہ بٹھاتے ہی نسواء کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور جلدی سے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔
نسواء مننان کو جاتے دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔
“بچے کتنے بڑے ہوگئے دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔”
۔
ٹیبل پر ہاتھ رکھے نسواء کے لبوں سے ایک ہی بات نکل رہی تھی گہری نیند میں جانے سے پہلے۔۔۔
“نجیب کبھی تو مننان کی یاد آتی ہوگی نہ۔۔؟؟ میری تو کمی آپ کی دوسری بیوی نے ختم کردی مگر مننان کی کمی۔۔۔؟؟
اووہ میں تو بھول گئی تھی آپ کے بیٹے نے وہ بھی پوری کردی ہوگی۔۔۔”
۔
آنسو صاف کئیے وہ آنکھیں بند کئیے کب سوگئی اسے معلوم نہ ہوا آنکھ تب کھلی جب مننان نے سب کھانا گرم کرکے ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔
“چلیں ماں جلدی سے اٹھ جائیں سب ٹھنڈا ہواجائے گا میں بس چائے لے آؤں۔۔”
“بنا بھی لی۔۔؟؟ “نسواء نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
“جی ابھی ابھی بس ابھی لیکر آیا۔۔۔”
مننان واپس کچن میں چلا گیا تھا جلدی سے چائے دو مگ میں ڈالے ٹرے میں رکھے وہ واپس باہر آیا اور نسواء کو ہیڈ آف چئیر پر بٹھا کر خود ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“آج بڑا پیار آرہا ہے ماں پر۔۔؟؟”
“ماں۔۔۔کھانا شروع کریں نہ۔۔۔چلیں میں اپنے ہاتھ سے کھلاتا ہوں۔۔”
مننان نے نسواء کے ہاتھ پر بوسہ دینے کے بعد پہلا نوالہ نسواء کی طرف کیا تھا۔۔ جسے کھاتے کھاتے اسکی آنکھیں بھر گئیں تھی۔۔
“شش۔۔۔ اب رولائیں گی کیا بچے کو۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا بچہ۔۔؟؟ “
وہ دونوں ہنس دئیے تھے۔۔۔ کھانا کھلاتے ہوئے مننان نے اپنی روٹین بتانا شروع کردی تھی اور باتوں باتوں میں وہ نجیب آفندی کی بات کرکے اپنی ماں کے ری ایکشن کا منتظر ہوگیا تھا
“اچھا پورا دن پھر کیا مصروفیات رہی میرے ورک ہولک بیٹے کی۔۔؟؟”
“کچھ خاص نہیں۔۔ایک بہت مغرور شخص سے ملاقات ہوئی آنکھوں میں ایسا غصہ تھا کہ ابھی کھا جائیں مجھے۔۔۔چیلنج کررہے تھے”
“وٹ۔۔؟؟ ہاہاہاہاہا میرے بیٹے سے زیادہ غصہ اتنی ہمت مننان صاحب کے سامنے کھڑے ہوکر چیلنج کرنے کی۔۔؟؟ کون گستاخ ہیں وہ۔۔؟؟”
نسواء نے اب کی بار نوالہ توڑ کر مننان کی طرف کیا اور ہنستے ہوئے پوچھا تھا
“تھے کوئی ‘نجیب آفندی’ انکو جو ڈیل ملنے والی تھی وہ میری کمپنی کو مل گئی سو۔۔۔”
روٹی چباتے ہوئے اس نے بغور جائزہ لیا تھا اپنی ماں کے ری ایکشن دیکھ کر۔۔۔
پہلے نسواء کے چہرے کی ہنسی ختم ہوئی پھر چہرہ آفسردہ اور پھر سخت ہوگیا تھا اس ایک نام پر۔۔۔
“ماں اور کھلائیں نہ۔۔۔؟؟”
“مننان۔۔۔ بیٹا۔۔۔ دور رہو۔۔۔ میں حورب کے لیے واپس آئی ہوں اسکے پروفیشن پر اثر نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ دور رہو ان لوگوں سے جن کا کوئی تعلق نہیں۔۔۔”
نسواء وہاں سے تیزی میں چلی گئی تھی اپنے روم کی طرف۔۔۔
۔
“ماں دور۔۔۔؟؟ اتنے سالوں کے بعد تو سامنے آیا ہے آپ کا ہرجائی۔۔۔”
۔
پانی کا گلاس پیتے ہوئے مننان نے فون اٹھایا اور لیزا کی فون کال پھر سے اگنور کردی تھی اس نے۔۔۔
۔
“میں کس قدر بےبس کردوں گا مسٹر نجیب آپ کا غرور آپ کو گھمنڈ خاک میں مل جائے گا۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“گڈ مارننگ ہنی۔۔۔”
مننان کے کیبن ڈور کو اوپن کئیے لیزا اندر چلی گئی تھی۔۔
“لیزا۔۔؟؟ جب میں نے منع کردیا تھا تو تمہیں ایسے بن بتائے آنے کی ضرورت کیا تھی۔۔؟؟”
مننان پہلے حیران ہوا تھا اور پھر غصے سے پوچھا اسی وقت لیزا نے وہ فاصلہ بھی ختم کردیا تھا
“سیریسلی۔۔؟؟ پاکستان میری وجہ سے میرے آئے ہو تم مننان میں وہاں مامو کے ساتھ انتظار کرتی رہی اور تم ایسے بےرخی دکھا رہے ہو۔۔؟؟”
لیزا نے مننان کے کالر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“لیزا میں بیزی۔۔۔”
“لئیو اٹ۔۔۔”
وہ ایگریسیولی مننان کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکی تھی اور عین اسی وقت دروازہ کھل گیا تھا
“سر وہ شہیر سر نے یہ فائل۔۔۔”
منیشہ کے ہاتھ سے فائل گر گئی تھی۔۔۔پلکیں ایسے جیسے بھاری ہورہی تھی۔۔
“ایم۔۔۔ایم سو۔۔سوری۔۔”
“یہ تمہاری سیکریٹری کو زرا سی تمیز بھی ہے۔۔؟ ناک کئیے بغیر اندر داخل ہوگئی۔۔”
“وہ۔۔ میم۔۔۔”
گیٹ آؤٹ۔۔۔”
لیزا کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے مننان منیشہ پہ چلایا تھا جو ہاں میں سر ہلائے نیچے جھکی تھی اور جلدی سے فائل اٹھا کر وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔ایک نظر مننان کی آنکھوں میں دیکھے جس نے منہ پھیر لیا تھا
۔
“اکھیاں نے ہنجوؤں دی کیتی برسات سوہنے۔۔
درداں تے لون لایا تیرے غماں نے۔۔۔
پیار پیار کہہ کے لٹیا اے مہرماں۔۔
دل نوں دلاسے دیتے تیرے غماں نے۔۔”
۔
“سارا موڈ خراب کردیا۔۔۔ اب میں یہاں نہیں آؤں گی۔۔ اگر آج موم سے ملاقات نہیں کی تو مجھے بھول جانا۔۔”
وہ جیسے ہی جانے لگی تھی مننان نے پھر سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
“اتنی دور ساتھ چل کر آئے اتنی جلدی ہاتھ سے کیسے جانے دوں یہ گونڈن چانس۔۔؟؟”
مننان کی آنکھوں میں ایک الگ ہی جنون تھا لیزا اسکی آنکھوں میں زیادہ دیر دیکھ نہیں پائی تھی۔۔
“مننان۔۔۔؟؟”
“مجھے ایڈریس سینڈ کردینا تمہاری موم کو کب ملنے آؤں۔۔۔”
“سچ میں۔۔۔؟؟ آج شاپنگ مال میں ہم گھر کی لیڈیز جارہی ہیں۔۔۔ماموں کے دوست کے بیٹے کی شادی ہے بس اسی تیاریوں میں لگے ہیں سب۔۔۔”
“ہممم۔۔۔ڈن ہوگیا۔۔۔ڈارلنگ میں وقت پر مال پہنچ جاؤں گا۔۔۔”
مننان کے گلے لگ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا اس نے اور پھر مننان نے منیشہ کو آرڈر دیا تھا ان دونوں کے لیے چائے کا جس پر اس نے ملازم کو چائے کے ساتھ کیبن میں بھیج دیا تھا
“مس منیشہ کو کہا تھا میں نے چائے لانے کے لیے۔۔”
“سوری سر وہ شہیر سر کے ساتھ میٹنگ پر جارہی ہیں۔۔”
“شہیر۔۔ کس کی اجازت کے ساتھ۔۔؟؟”
وہ لیزا سے ایکسکئوز کرکے جیسے ہی کیبن سے باہر آیا تھا شہیر منیشہ کو کسی بات پر ہنساتے ہوئے لفٹ تک لے گیا تھا اور وہ مننان کی آنکھوں کے سامنے آفس سے باہر چلے گئے تھے
“ڈیم اٹ۔۔۔”
وال پر ہاتھ مارے مننان نے پیچھے کھڑے سٹاف کو دیکھا تھا
“کوئی کام نہیں ہے جب دیکھو کام چھوڑے یہاں وہاں ٹائم ضائع کرتے رہتے ہو۔۔؟؟ بیک ٹو ورک ناؤ۔۔۔”
۔
مننان واپس کیبن میں چلا گیا تھا۔۔۔غصہ ابھی بھی ناک پر تھا منیشہ کا شہیر کے ساتھ جانا اسے پسند نہیں آیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نجیب۔۔۔ نجیب۔۔۔”
“ظہیر بھائی۔۔؟؟”
“ظہیر بیٹا۔۔؟؟”
سب ہی ظہیر ہاشمی کو دیکھ کر حیران ہوئے تھے
“ماشاللہ ماشاللہ سب آئے ہوئے اور کسی نے مجھے یاد تک نہیں کیا۔۔؟؟”
ظہیر نے ایک نظر عمارہ کو دیکھا تھا اور سب سے ملنا شروع کردیا تھا۔۔۔
جب وہ آفندی صاحب کے گلے لگا تو اسکے ہاتھ سے وہ فائل اور ڈاکومنٹ نیچے گرگئے تھے
“ایم سو سوری بیٹا۔۔۔”
“اٹس اوکے انکل۔۔۔”
ظہیر نے کاغذات اٹھائے اور سب کے ساتھ بیٹھ گئے تھے۔۔
“اور فضا سب کیسے ہیں۔۔؟؟ بچے بہت بڑے ہوگئے دیکھتے ہی دیکھتے۔۔”
“جی ظہیر بھائی ایسا ہی ہے۔۔۔آپ کیسے ہیں۔۔؟؟
“ہاشمی تم کب آئے۔۔؟؟”
نجیب جیسے ہی اندر داخل ہوئے تھے ان سے آفس بیگ پکڑنے کے لیے عمار ہ آگے آئی پر انہوں نے وہ بیگ ملازمہ کو پکڑا کر روم میں رکھنے کا کہہ دیا تھا۔۔
نجیب صاحب کا عمارہ کے ساتھ یہ برتاؤ سب کو تشویش میں ڈال رہا تھا
ظہیر ہاشمی نے عمارہ کو ریلیکس رہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
“بس کچھ باتیں کرنا ضروری تھی نجیب۔۔ مجھے تو راتوں کو نیند بھی نہیں آرہی تھی۔۔۔”
نجیب کے گلے لگنے کے بعد انہوں نے سنسنی پھیلاتے ہوئے بات کہی تو سب ہی خاموش ہوگئے تھے
“ہاہاہاہا۔۔۔ ایسی بھی کیا پریشانی آگئی۔۔؟؟ ظہیر ہاشمی اور پریشان۔۔؟؟”
“اپنی کوئی تکلیف ہوتی تو برداشت ہوجاتی پر نجیب۔۔ یار تیرے لیے دکھی ہوں۔۔”
مطلب۔۔؟؟”
دادی نے آہستہ آواز میں پوچھا تھا
“یہ فائل دیکھو۔۔۔”
“آہاں۔۔؟؟ کس کی انویسٹی گیشن کروا رہے تھے۔؟؟ اتنی تفصیل۔۔؟؟”
نجیب صاحب مذاق مذاق میں ورق ورق پلٹنے لگے تھے جب انکے سامنے کچھ تصاویر آئی جو کسی جیل کی تھی۔۔
“یہ تو کسی ریکارڈ مجرم کا ڈیٹا ہے۔۔؟؟”
“نام نہیں پوچھو گے کس کا ڈیٹا ہے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔ میرا کیا تعلق یار۔۔۔ دیکھ سب ہی پریشان ہورہے ہیں۔۔۔”
نجیب صاحب فائل واپس ٹیبل پر پھینک چکے تھے۔۔۔
“مننان۔۔۔ مننان آفندی۔۔۔تمہارا بیٹا۔۔۔ جو کوئی بہت اچھا انسان نہیں نکلا۔۔۔
ریکارڈ یافتہ مجرم بن گیا ہے۔۔۔ نسواء اچھی تربیت نہیں کرسکی۔۔۔
آج محسوس ہوتا ہے کہ ہم سہی تھے۔۔۔ تم نے اچھا کیا اس وقت ان لوگوں کو نکال کر جو بدنامی کا باعث بنتے۔۔۔”
۔
وہ فائل اٹھائے واپس نجیب کے ہاتھوں میں تھما گئے تھے۔۔۔اور نجیب آفندی سانس روکے جیسے پتھر بن گیا ہو۔۔
ظہیر اسکا دوست تھا مگر غیر تھا اور کسی غیر کے ہاتھوں اس طرح کی بےعزتی۔۔۔
انہوں نے فائل اٹھا کر پھر سے پڑھنا شروع کی تھی اور گھر والوں کے طنز و طعنے برداشت کررہے تھے
“مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا نسواء کسی قابل تھی ہی نہیں۔۔؟؟ اور وہ حورب جس کی تعریفیں تم کررہے تھے نجیب کیا پتہ حقیقت کیا ہو۔۔؟؟”
ناہید بیگم اپنے بیٹے کے پاس آکر بیٹھی تھی
“نجیب۔۔۔تمہارا ہر فیصلہ سو فیصد اچھا تھا عمارہ سے شادی کرنا اور نسواء کو اسکی جگہ دیکھانے کا۔۔۔”
“کم سے کم ہمیں بتا دیتی اگر تربیت اچھی نہیں کرسکتی تھی تو۔۔؟؟”
آفندی صاحب نے ایک نظر نجیب کو دیکھا تھا
“نجیب مننان کا نام اب تمہارے نام کے ساتھ جڑنا ہماری بدنامی کا باعث بنے گا۔۔۔
سرے سے ختم کردو۔۔۔ ڈائیورس دہ دو اس کو جس نے تمہیں ایک لمحے کی خوشی نہیں دی الٹا تمہاری اولاد کو اس قدر بگاڑ دیا۔۔۔”
ایک نظر فائل پر اس تصویر کو دیکھے وہ چلے گئے تھے۔۔۔
۔
“نجیب تمہارے ڈیڈ ٹھیک کہہ رہے۔۔۔اسے طلاق۔۔۔”
“فار گوڈ سیک ماں۔۔۔ نسواء کو ۔۔۔آئیند یہ لفظ منہ سے مت نکالئیے گا۔۔”
“نجیب نے بالوں میں ہاتھ پھیر ایک نظر سب کو دیکھا تھا
“نجیب وہ اور اسکا بیٹا اس قابل نہیں رہے۔۔”
“چچی۔۔۔ ماں۔۔آپ سب کو ہو کیا گیا ہے۔۔؟؟ نسواء بھابھی نے کیا بُرا کیا تھا آپ لوگوں کے ساتھ جو اتنا زہر اگل رہے ہیں آپ سب۔۔؟؟”
“فضا تم اس لہجے میں بات مت کرو۔۔ ہمارے گھر کے معاملات میں ٹانگ مت اڑاؤ۔۔۔”
چچی نے فضا کو ڈانٹ دیا تھا۔۔۔۔
“سیریسلی۔۔؟؟”
فضا منہ بنائے وہاں سے چلی گئی تھی
۔
“نجیب بیٹا۔۔؟؟”
سب کے جانے کے بعد دادی نے نجیب کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“دادی نسواء نے اس طرح بدلا لیا مجھ سے۔۔؟؟ میری اولاد کو مجرم بنا دیا۔۔ جب لوگوں کو رشتے داروں کو خبر ہوگی تو کیا بنے گا میری عزت کا۔۔؟؟”
نجیب کی بات نے دادی کو حیران کیا تھا۔۔۔
“تمہیں ابھی بھی عزت کی پڑی ہے۔۔؟؟ کمال ہے بیٹا۔۔۔”
۔
وہ اٹھ کر چلی گئی تھی وہاں سے۔۔
۔
“نسواء آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہیں یہ پسند ہے بیٹا۔۔۔؟” منیشہ کی نظر ہاتھ میں پکڑے اس لاکٹ سے ہٹی اور اس نے اس آواز پہ بے ساختہ پیچھے دیکھا تھا
وہ اس چہرے کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی مگر فضا اس سے نہیں اپنی بیٹی لیزا سے مخاطب ہوئی اور منیشہ کے پاس سے گزر کر لیزا کے ہاتھ میں ہیرنگ دیکھ کر خوش ہوئی تھی
“یس موم مجھے یہ ڈائمنڈ پرل بہت پسند آئے ہیں کیا یہ لے سکتے ہیں۔۔۔؟؟”
“افکورس میری جان کیوں نہیں۔۔۔؟؟؟”
لیزا کے چہرے پر شفقت سے ہاتھ رکھے بہت پیار سے کہا تھا۔۔۔ اسی وقت منیشہ اس سٹور سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار نظریں گھمائے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو سب خوش تھے۔۔۔۔وہ لوگ جن کا خون اسکی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔۔
اور وہ اکیلی کھڑی تھی۔۔۔
مننان کی نگاہ اسکے تعاقب میں تھی پر منیشہ کامیاب ہوگئی تھی اپنا دکھ اپنا درد چھپانے میں۔۔۔
“لیزا بہت خوبصورت لگ رہی ہے ماشاءاللہ۔۔۔”
شاپنگ مکمل کرکے وہ لوگ کھانے کے لیے جیسے ہی فوڈ کارنر داخل ہوئے مننان نے مسکراتے ہوئے چئیر پیچھے کی لیزا کے لیے۔۔۔ اور گھر کی خواتین ہش ہش کررہی تھی ان دونوں پر۔۔۔
“اللہ بری نظر سے محفوظ رکھے تم دونوں کو۔۔۔”
فضا پرس سے چیند نوٹ نکال کر ان دونوں کے سر پہ وارے اور جب کوئی ویٹر نظر نہیں آیا تو پاس کھڑی سرجھکاے کھڑی منیشہ کے ہاتھ میں پیسے تھما دئیے۔۔۔
“یہ رکھ لو۔۔۔”
“ما۔۔۔میم۔۔۔”
“اٹس اوکے رکھ لو وہ اتنے پیار سے دہ رہی تمہارے کام آئیں گے۔۔۔”
مننان نے آہستہ آواز میں کہا تھا وہ اس فیملی کو ایمپریس کررہا تھا اسے ہرٹ کرکے جو پہلے سے ہرٹ تھی۔۔۔
“وہ تمہاری اسسٹنٹ ہے مننان کوئی بھکاری نہیں۔۔۔”شہیر نے کال بند کرتے ہی منیشہ کو ڈیفینڈ کیا۔۔۔ وہ منیشہ کے ہاتھ سے پیسے کھینچ کرپھینکے لگا تھا جب منیشہ نے شہیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
“اٹس اوکے سر۔۔۔ مننان سر ٹھیک کہہ رہے ہیں میرا ہی بھلا ہوگا۔۔۔”
وہ کہتے ہی سر جھکا چکی تھی۔۔۔
“بیٹا کسی بات کا برا مت منانا۔۔۔”
“دادی وہ ملازم ہیں۔۔۔” فضا نے دادی کو چپ کروا دیا تھا۔۔۔
“مننان آفس میں بہت کام ہے مس منیشہ اور میری میٹنگ ختم ہوئے بھی آدھا گھنٹہ ہوگیا ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔”
مننان کے جواب کا انتظار نہیں کیا تھا شہیر نے اور منیشہ کو باہر کا راستہ دیکھاتے ہوئے وہاں سے لے گیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر یہ وہ پارٹی وینیو ہے ہماری رپورٹ کے مطابق۔۔۔”
نجیب نے موبائل پر اس ایڈریس کو دیکھا تھا۔۔
“یہی ایڈریس فضا نے سینڈ کیا تھا۔۔۔ یہاں نسواء کیا کررہی ہے۔۔؟؟ وہ کیسے شہر کے امیر ترین فیملی کو جانتی ہے۔۔۔؟؟”
وہ گاڑی پارک کئیے اندر داخل ہوئے تھے اور ایک کارنر پر انہوں نے نسواء کو کسی لیڈی سے بات کرتے دیکھا تو وہ ایک پل کو رک گئے تھے نسواء کو انکے فیورٹ رنگ کی ساڑھی پہنے دیکھ ۔۔۔
“نسواء۔۔۔”
دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی انکی کتنی دیر وہ ایسے ہی نسواء کو دیکھتے رہے اور جب نسواء اکیلی ہوئی تو وہ جلدی سے اسی طرف گئے اور نسواء کو بازو سے پکڑ کر ایک سائیڈ پر لے گئے۔۔
۔
“آپ نے اپنی آنا میں اپنی ضد میں کیا بنا دیا مننان کو۔۔ ایک مجرم۔۔؟؟ ایک ورک شاپ پر کام کرنے والا دو ٹکے کا ملازم۔۔؟؟”
نسواء کو بازع سے پکڑ کر کچھ دور لے گیا تھا نجیب۔۔۔
“وٹ۔۔؟؟”
نسواء نے حیرانگی سے دیکھا تھا نجیب کو اور نجیب نے اپنے کوٹ سےنکال نسواء کے سامنے رکھے اور جب نسواء نے کسی انجان چہرے کو دیکھا تو اس نے گہرا سانس بھرا وہ خود بھی ڈر سی گئی تھی جب نجیب نے مجرم لفظ استعمال کیا اس نے تو اپنا آپ مار دیا مننان اور حورب کی اچھی تربیت اور پرورش کے لیے۔۔۔
“آپ اگر اسے اچھی تعلیم تربیت نہیں دے سکتی تھی تو کسی چائلڈ کئیر میں چھوڑ دیتی۔۔۔
میرے پاس واپس چھوڑ دیتی۔۔۔ باپ تھا اس کا دشمن نہیں کے اسے تمیز نہ سیکھا سکتا۔۔
اس سے زیادہ تعلیم یافتہ تو میرے گھر کے ملازم ہیں۔۔ اب کیسے میں انٹردیوس کرواں گا اسے سب سے۔۔؟؟ نسواء آپ نے مجھے مایوس کردیا ہے۔۔ مننان تو بگڑا ہوا بچپن سے تھا پر آپ تو سمجھدار تھی۔۔؟؟ میں فیمس بزنس مین ہوں۔۔ یہ میری پہلی اولاد ہے۔۔؟؟
ایک مجرم۔۔؟؟ جاہل۔۔؟؟ ورک شاپ پر کام کرنے والی۔۔۔؟؟”
نسواء نجیب کی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی تھی اسکی ممتا نے گنوارا نہ کیا تھا اپنے بیٹے کی اور برائی سننا اپنے بازو سے نجیب کی انگلیوں کو چھڑائے وہ ایک قدم نجیب کے پاس ہوئی تھی
“مننان سے اتنی نفرت کیوں ہے۔۔؟؟ نجیب کوئی باپ کیسے اتنی نفرت اپنی اولاد سے کرسکتا کہ وہ منہ میں آتی ہر نیگٹو بات اپنے بیٹے پر تھوپ دے۔۔؟؟؟”
اسکی بات نے نجیب کو اتنا شاک نہیں کیا تھا جتنا اس سپوٹ لائٹ نے کیا تھا جو پہلے سٹیج پر گئی تھی اور مائیک پر آتی آواز نے۔۔۔
جو کسی اور کی نہیں نجیب آفندی کے نئے دشمن ‘مننان آمین احمد’ کی تھی
“حزیفہ انکل آپ ماں کو بلانا بھول گئے ہیں۔۔؟؟ میں تو فرسٹ ڈانس انکے ساتھ ہی کرنا چاہوں گا۔۔۔ مگر۔۔۔ مگر میں چاہوں گا ماں آپ یہاں سٹیج پر آئیں اور ہمیں وہ دھن سنائیں جس پر آپ کو ٹاپ ٹین وائلنسٹ میں فرسٹ ایوارڈ ملا تھا۔۔۔پلیز کم۔۔۔”
مننان مائیک حورب کو پکڑائے آگے بڑھا تھا۔۔ اور نجیب کو اگنور کرکے اس نے نسواء کے سامنے ہاتھ بڑھایا تھا
“کم ماں۔۔۔”
نسواء کے ماتھے پر بوسہ دئیے اس نے اجازت مانگی تھی اور اسی وقت نجیب کی آنکھوں میں دیکھا تھا اس نے۔۔ جیسے آنکھوں سے وہ بتا رہی ہو کہ یہ میرا خون میرا فخر ہے۔۔ وہ نہیں جس کی تصویر آپ کچھ لمحے پہلے دیکھا کر ذلیل کررہے تھے۔۔
“مننان سیریسلی۔۔؟؟ بیٹا وائلن اور میں ان سب میں۔۔؟؟”
نسواء نے جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا مننان کے ہاتھ پر مننان واپس سٹیج پر لے گیا تھا جہاں حورب نسواء کے گلے لگ گئی تھی۔۔۔
“لوو یو ماں۔۔۔۔”
۔
نجیب آفندی اس پارٹی میں اپنی فیملی میں اپنے لاڈلے بچوں ماں باپ رشتے داروں کے ہوتے ہوئے بھی ایک دم اکیلا ہوگیا تھا جب اس نے ان تینوں کو ایک ساتھ دیکھا تھا۔۔۔
۔
کامیاب کون رہا الگ ہوکر۔۔۔؟؟ وہ یا وہ جو ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے۔۔۔؟؟؟
۔
۔
“زرا دیر یہ کیا ہوگیا۔۔ نظر ملتے ہی کہاں کھو گیا۔۔۔
بھیڑ میں لوگوں کی وہ ہے وہاں۔۔۔۔
اور پیار کے میلے میں اکیلا۔۔۔ کتنا ہوں میں یہاں۔۔۔”
۔
۔
“نجیب۔۔۔”
آفندی صاحب نے شاکڈ ہوکر اس طرف دیکھا تھا اور پھر نجیب کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
۔
“یہ کون ہے۔۔؟؟ مننان آفندی۔۔؟؟ تو پھر وہ کیا تھا۔۔؟؟ کیا ہورہا ہے۔۔؟؟”
ناہید بیگم بھی نجیب کے آکر کھڑئ ہوئی تھی۔۔
“یہ مننان آمین احمد ہے۔۔۔ کچھ دن پہلے ۔۔۔میں جس رائیول کے ہاتھوں ڈیل ہارا تھا وہ یہی تھا۔۔۔؟؟
وہ واپس آگیا ہے۔۔۔
میرا زوال۔۔۔”
حزیفہ کو دیکھ کر انہوں نے نسواء کو دیکھا جو اپنے دونوں بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی باتیں کررہی تھی۔۔۔
اپنے دل میں درد محسوس ہوا تھا جس پر ہاتھ رکھے وہ وہاں سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
ٹائی اتارے وہ کھلی ہوا میں جیسے ہی آئے انکے سامنے وہ تین چہرے گھوم رہے تھے۔۔۔
نسواء مننان حورب۔۔۔
“وہ میرے بغیر کامیاب ہوگئی۔۔۔ میرے۔۔۔میرے بچوں کو اس لائق بنا دیا کہ باپ لفظ۔۔۔۔”
نجیب آفندی کی پلکیں بھاری ہوگئی تھی جب نظریں جھکائیں جو چھلک گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
