Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho (Last Episode Last Part)

220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho (Last Episode Last Part)

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

“یہ جو تمہارے شوہر ہیں نا ان کو بتاؤ زارا کہ ولیمہ ان صاحب کا ہی ہے خالی میرا نہیں۔۔۔۔میں نے صبح سے اپنی بیوی کی شکل نہیں دیکھی ہے میرا سانس گھٹ رہا ہے!”

ازلان اور اعظم پاس کھڑے تھے زارا کے آتے وہ بولا۔

زارا مسکرا دی۔

“بہت بڑے ڈرامے ہو تم! بیوی کو تم نے یہیں سے کئی بار تاڑ لیا ہے مجھے یقیں ہے نہیں تو تمہیں کون روک سکتا ہے بھلا!”

اعظم نے بھی حساب پورا کیا تھا۔

ازلان نے انہیں گھورا تو وہ مسکراتے باہر نکل گئے۔

زارا کو یک دم لگا کہ فرشتے اس دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی ہے اسی اپنی محبت واقع اب ثابت کرنی تھی شاید اعظم اظہر بھی کسی دن اسی مقام پر ہوتا۔

کافی محبت درکار تھی۔۔

ولیمے کا فنکشن تھکا دینے والا تھا لیکن زارا آج خوش تھی کیونکہ اعصاب پر موجود بوجھ اتر گیا تھا۔

اعظم بھی اچھے سے ملا تھا سب سے ان کی جوڑی کافی سراہی تھی لوگوں نے۔

وہ کافی تھک گئی تھی اسلیے فوراً کمرے میں آگئی۔

“چینج مت کرنا تھوڑی دیر میں واپس آرہا ہوں!”

اعظم خود چینچ کر کے واپس جا چکا تھا مہمانوں کو رخصت کرنے کے لیے۔

زارا کتنی ہی دیر بیٹھی رہی بھوک بھی لگ رہی تھی لیکن شرم آرے آرہی تھی ابھی بھی کچھ مہمان تھے نیچے وہ کیسے جا کر کھانا کھاتی۔

ایک تو بھوک اور اوپر سے اس جوڑے میں اب سانس بھی نہیں نکل رہا تھا۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد جب اس کی برداشت ختم ہو گئی تو وہ چینج کر نے چلی گئی فریش ہو کر واپس آئی تو بھی اعظم واپس نہیں آیا تھا۔

وہ کمفرٹر میں لیٹ گئی۔

بھوک سے بُرا حال تھا لیکن تھکاوٹ کی وجہ سے نیند آگئی۔

اعظم ڈھائی گھنٹے بعد جب واپس آیا تو اسے امید تھی کہ وہ مشرقی دلہنوں کی طرح اس کا انتظار کر رہی ہو گی لیکن اسے کمفرٹر میں دبکے دیکھ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔

پاس جانے پر معلوم ہوا کہ وہ لڑکی اسکے ارمانوں کا قتل کرتی منہ دھو کر اس کی بات کو فراموش کرتی سو گئی ہے۔

وہ خود بھی چینج کر کے واپس آیا اور اپنی جگہ پر لیٹا اور اس لڑکی کو دیکھا۔

وہ عام ہوتے ہوئے بھی عام نہیں تھی۔۔۔۔۔جب وہ اپنی زندگی کے مشکل دور سے گزر رہا تھا تو وہ ذریعہ تھی۔

ہاں بس اسے ہضم نہیں ہوا تھا اس کا بار بار اعظم اظہر کو اپروچ کرنا۔

لیکن کیا وہ سامنے موجود لڑکی کی محبت کو جھوٹا کہہ سکتا تھا؟ نہیں ہرگز نہیں۔

وہ اسے کافی رُلا چکا تھا۔۔۔۔آپ کے مشکل وقت میں سہارا بننے والے لوگ سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔

اس نے تو فرشتے کو دوبارہ حاصل کرنے کا سوچا تھا ازلان سے فرشتے کی ناراضگی کے بعد۔

لیکن ان سب میں زارا آگئی تھی۔۔۔۔رب العالمین نے اسے گناہگار ہونے سے بچا لیا تھا۔

ناپسندیدگی ہی سہی لیکن اس نے زارا کو پہروں سوچا تھا اور اپنی مرضی سے اسے نکاح میں لیا تھا اس لڑکی نے اپنی محبت ثابت کر دی تھی اب اس کی باری تھی۔

محبت کے بدلے محبت ہی دی جاتی ہے محض لفظوں پر نہیں ٹرکھایا جاتا۔۔۔۔۔۔محض دلاسے نہیں دئے جاتے اور نہ پسندیدگی کا اظہار کر کے بری الزمہ ہوا جاتا ہے محبت کا جواب اسی محبت اور اپنائیت سے دینا محبت کرنے والے کا قرض ہوتا ہے جو ادا نہ کرو تو خیانت کہلائی جاتی ہے۔

اس نے قریب ہوتے زارا کے چہرے سے بال ہٹائے۔

پھر جھک کر استحقاق سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو روح تک ٹھنڈک اتری۔

“زارا؟”

زارا۔۔۔۔؟

ہممم! زارا نے مندی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

“اٹھو؟”

“کیوں؟” زارا نے آنکھیں کھولتے اسے دیکھا۔

“کیوں کا کیا مطلب؟ کیا کہا تھا میں نے چینج مت کرنا اور تم یہاں خراٹے لے رہی ہو۔”

“جھوٹ تو مت بولیں اعظم میں خراٹے نہیں مارتی” زارا کی ساری نیند اڑ گئی تھی اس کے جھوٹ سے۔

“تم چھپا کیوں رہی ہو؟”

“اس میں کون سی شرمندگی کی بات ہے” اعظم نے شرارت سے کہا۔

“میں کیوں چھپاؤں گی جب میں نہیں مارتی تو!”

زارا نے یہ بھی دھیان نہیں دیا تھا کہ وہ دونوں اس وقت کتنے قریب ہیں۔

“تم مجھے اپنی پرفیوم نہیں بتاؤ گی” اعظم نے مصنوئی غصے سے کہا اور نامحسوس انداز میں مزید قریب ہوا۔

“اعظم اظہر اگر آپ کو میری خوشبو پسند ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں!” زارا نے اتراتے کہا اور آنکھیں گھمائی ایسا کرتے وہ پیاری لگی تھی۔

“ہاہاہاہا!” اعظم کا قہقہہ گونجا تو زارا اس کی مسکراہٹ کو دیکھتی رہی۔

پھر مسکرا دی اسے یقین ہو گیا تھا کہ اعظم اظہر اس رشتے کے لیے تیار ہے اب وہ خیانت نہیں کرے گا اس کی آنکھیں بالکل شفاف تھی کسی بھی مصنوئی جذبے کے بغیر۔

“شیمپو کون سا لگاتی ہو؟” اعظم اظہر ساری باتیں آج ہی پوچھ لینا چاہتا تھا۔

“میں کیوں اپنی چیزیں آپ کو بتاؤں؟”

زارا نے کہا تو اعظم نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے قریب کرتے حصار میں لیا۔

“اعظم؟”

“خاموش رہو!”

“ہاں مجھے یاد آیا مجھے بہت بھوک لگی ہے! اپنی شادی کا کھانا بھی نہیں کھایا میں نے!”

“اب صبح کھانا!”

“بالکل نہیں! ابھی لے کر آئیں!” زارا اس سے دور ہوئی۔

“میں کیوں لاؤں؟”

“باہر ہمارے کچن میں فروٹس ہوں گے وہ کھا لو۔”

“بالکل نہیں یہ آپ جیسے امیروں کا پیٹ بھرتا ہو گا پھلوں سے ہمارا تو نہیں بھرتا جائیں مہمان ہیں نیچے میں نہیں جا سکتی آپ لے کر آئیں۔”

“مہمانوں نے کھا جانا ہے تمہیں؟” اعظم نے اسے گھورتے پوچھا۔

“نہیں وہ سوچیں گے کچھ لمحوں پہلے کیسی لگ رہی تھی اور اب دیکھو!” زارا نے اپنے حلیے کی طرف اشارہ کرتے کہا۔

وہ اس وقت نائٹ ڈریس میں بالوں کا جوڑا بنائے ہوئے تھی۔

“اوووو! تم انہیں اپنا اصل روپ نہیں دیکھنا چاہتی؟” اعظم مسکراہٹ روکتا اٹھا گیا۔

“اصل روپ کیا ہاں؟ میں کیا کوئی چڑیل لگتی ہوں؟”

“تھوڑی بہت!” اعظم کہتا باہر نکل گیا تو زارا دروازے کو گھورتی رہ گئی۔

اعظم کے کھانا لاتے ہی وہ ٹوٹ پڑی اور کھانا کھانے لگی۔

“زارا کیا ہو گیا ہے یار؟ آرام سے کھاؤ!”

“اپنے کھانے کو دیکھیں آپ اعظم!”

پھر برتن اپنے ہی کچن میں رکھتے وہ اپنے لیے آئس کریم ڈالتی واپس آئی جہاں اعظم ٹیرس پر کھرا فون چیک کر رہا تھا۔

“کھائیں گے”؟

زارا نے آئس کریم سے چمچ بھر کر اس کے آگے کیا تو وہ کھا گیا۔

“اب میرا چمچ جوٹھا ہو گیا ہے میں نیا لے کر آتی ہوں!” وہ بولی تو اعظم نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔

“تو میرا بھی جوٹھا نہیں کھاؤ گی تم؟”

نہیں! وہ کندھے اچکاتے بولی۔

“اور جو میں تمہارا جوٹھا کھا رہا وہ؟” اعظم کو یہ بات بری لگی تھی شاید۔

“لو تو وہ آپ کی مرضی تھی۔۔۔۔۔”زارا بولی لیکن اعظم اسے ایک نظر دیکھ کر واپس فون پر لگ گیا۔

تو وہ مسکراتی اسی چمچ سے کھانے لگی۔

اعظم جا کر لیٹ گیا تھا۔

وہ اپنے برتن رکھتی واپس آئی اور اپنی جگہ پر لیٹ گئی۔

“اب کیوں کھایا میرا جوٹھا؟” اعظم نے چھت پر نگاہیں ٹکائے کہا۔

“آپ کو برا لگا ہے اعظم؟” وہ آنکھیں پٹپٹاتے اس کے قریب ہوئی۔

“مجھے کیوں برا لگے گا”؟ اعظم نے اس کا نزدیک آنا محسوس کرتے کہا۔

“لگا تو ہے آپ کو؟”

” میں مزاق کر رہی تھی اب آپ کا جوٹھا تو کھا ہی سکتی ہوں میں!” وہ احسان کرنے والے انداز میں بولی تو اعظم نے اسے حصار میں لیا۔

زارا نے اس کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا تو نگاہیں جھکا گئی۔

“اممم! گڈ نائٹ!” زارا نے کہا تو اعظم نے اسے گھورا۔

زارا نے اس کے حصار سے نکلنا چاہا جو مضبوط تھا۔

اس نے تھوک نگلتے اس کو دیکھا جو اس پر جھکا اس کے گال کو لبوں سے چھو گیا۔

“کیا تمہارے دل میں میرے لیے کوئی گلہ اب بھی بچا ہے تو کر لو؟” وہ شاید اس کا دل اپنے لیے ہر طرح سے صاف کرنے چاہتا تھا۔

“آپ مجھ سے محبت کر لیں گے نا اعظم؟”

اس کے لہجے کی تڑپ پر وہ چونکا اور پھر نحال ہوتا اس پر جھکا اور اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں ملانے لگا۔

زارا اسکی قربت کو پہلی بار محسوس کرتی آنکھیں بند کرتی اس کی شرٹ تھام گئی۔

وہ پیچھے ہٹا اور اس کے گال سہلائے۔

“اعظم اظہر جلد اپنے دل کو تم سے محبت ہو جانے کی نوید سنائے گا!”

“لیکن یہ سب زبردستی تو نہیں ہوتا اور کیا ہوا اگر آپ کا دل راضی نہ ہوا مجھ سے محبت کرنے میں تو؟”

وہ وسوسوں میں گِھری تھی۔

“تمہیں کیوں لگتا ہے میرا دل تم سے محبت نہیں کرے گا؟”

“مجھے دوسری محبت پر بھروسہ نہیں ہے!” وہ صاف گوئی سے بولی۔

“اور ہو سکتا ہے دوسری محبت شدت اختیار کر جائے اور تم خود کو خوش قسمت لڑکی سمجھو تو۔۔۔”

“اگر ایسا ہے تو زارا اعظم ہمیشہ آپ کی احسان مند رہے گی۔”

اعظم نے اس کے کندھے پر بوسہ دیا تو وہ مسکرا دی۔

پھر اس کی گردن پر لب رکھے اور سر اٹھا کر پھر سے اسے دیکھا ۔

“میں اب بھی پوچھ رہا ہوں کون سا خفیہ پرفیوم لگاتی ہو تم؟”

زارا نے اس کے سینے پر ہاتھ جڑا۔۔۔۔۔

“اففف اعظم اففففف!” وہ مسکرا دیا اور اس پر حصار تنگ کر گیا۔

زارا کا دل مطمئن تھا اس شخص کو پا کر۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں اس کے لفظوں کا ساتھ دے رہی تھی جب اس نے کہا تھا وہ اس سے محبت کر لے گا وہ ایمان لے آئی تھی وہ جانتی تھی وہ اس سے محبت کر لے گا۔

اعظم نے اس کی آنکھوں پر بارہا بوسے دیے تھے کہ وہ اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔

“معجزے یوں بھی ہو جایا کرتے ہیں”! وہ مسکرا دی۔

اظہر صاحب فوراً پہنچ گئے تھے اور ازلان بھی اعظم کسی کام سے گیا تھا۔

اس شخص نے کئی سال جیل میں نکالے تھے اس کے علاؤہ ازلان اظہر نے اس پر حملہ بھی کیا تھا اس کا بس چلتا تو وہ اسے زندہ جالا دیتا۔

اس کے بعد جب اس کی دادی کی طبیعت خراب ہونے لگی تو اظہر نے اعظم کی پسندیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ازلان کی محبت کو نظرانداز کیا اور اعظم کے لیے اسے مانگ لیا۔

اور نکاح منعقد کیا گیا لیکن جس دن نکاح ہونا تھا اس دن اعظم اظہر کا پہلا جوب انٹرویو تھا جو وہ کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اسی لیے چلا گیا اور قدرت نے خود فرشتے حیدر کو ازلان اظہر کے نام کر دیا۔

یہ اس کی دادی نے کہا تھا۔

اس کے بعد فرشتے کی حالت بدترین ہوتی گئی وہ اس ٹروما سے نکل نہیں پا رہی تھی۔

سالوں اس نے شہر کے بہترین ڈاکٹروں سے سیشنز لیے تھے ان سب میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا تھا جب ازلان اظہر اس سے ملنے نہ آیا ہو۔

اس نے اپنی محبت اس سے ثابت کر دی تھی کہ اس کی دادی بھی سکون سے منوں مٹی تلے جا سوئی لیکن فرشتے کو سنبھالنا ازلان کے کیے مزید مشکل ہو گیا۔

وہ مہینوں اپنے آپے اور ہوش و حواس میں نہیں رہتی تھی۔

ازلان نے اپنی ڈگری اور بزنس سب ساتھ ساتھ کیا تھا لیکن اس میں فرشتے ازلان کو ایک لمحے کے لیے بھی فراموش نہیں کیا تھا۔

ازلان نے فرشتے کے گال چومے تو وہ ہوش میں آئی۔

“آئی لو یو ازلان!”

” ازلان اظہر کے بعد مجھے میری زندگی میں کچھ نظر نہیں آیا۔۔۔میں نے نیم بیہوشی میں بھی آپ کو سوچا ہے۔۔۔۔۔میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی مجھے اپنا لے گا لیکن مجھے نہیں پتا رب العالمین کو میری کون سی ادا پسند آئی اور مجھے آپ دے دیے گئے۔۔۔۔۔مجھے بہت ڈر لگتا تھا اپنی خوش قسمتی سے۔۔۔۔۔اور وہی ہوا آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے میں کہتی ہوں نا نظرِ بد بہت بری چیز ہے!”

وہ اس کے حصار میں تڑپتی بولی۔

ازلان اظہر کو لگا اس کی سالوں کی محنت کا پھل مل گیا ہو اسے نواز دیا گیا ہو۔۔۔۔

سالوں لگائے تھے اس نے اس لڑکی پر! اس سے یہ سب سننے کےلکیے۔۔۔۔۔اپنے جیسی محبت اور تڑپ اس میں دیکھنے کے لیے اپنے لیے اور آج وہ لمحہ اسے نواز دیا گیا تھا وہ مسکرا دیا اور اس کے بالوں پر کئی بار بوسہ دے گیا۔

وہ نجانے کب تک ایسے ہی بیٹھے رہے۔

“میں جنت میں ہر بار آپ کو مانگوں گی ازلان اظہر!”

ازلان کا دل تشکر کے احساس سے بھر گیا ایک آنسو پلکوں کی بار پر آکر ٹہر گیا۔

زندگی کا تھکا دینے والا سفر تمام ہوا تھا۔۔۔۔اس کی بیوی، اس کی محبت، سالوں کی چاہت اسے معتبر کر گئی تھی۔

“آپ بھی کچھ بولیں!” فرشتے نے اسے گھورتے کہا ۔

“میں کان پکڑ کر معافی ہی مانگ سکتا ہوں اور کیا مجال میری!” ازلان نے شرارت سے کہا تو دونوں کے قہقہے گونجے۔

“معاف کر دو گی نا؟”

سوچوں گی! فرشتے کہتی کھڑی ہو گئی۔

“اچھا بیٹھو مجھے اور باتیں کرنی ہیں!”

“ازلان میں یہ ڈریس اور نہیں سنبھال سکتی!”

“اچھا ٹھیک ہے جاؤ چینج کر لو!”

ازلان کو بھی اس پر ترس آیا تو اپنے ے ہاتھ اس کی کمر سے ہٹائے اور خود بھی فریش ہوتا لیٹ گیا ۔

وہ واپس آئی تو میک اپ بھی صاف تھا لائٹس بند تھیں۔

“ازلان مجھے بچے ہوئے کپ کیکس۔۔۔۔”

“اپنی جگہ پر آجاؤ خاموشی سے اب فرشتے نہیں تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا۔”

“نہیں نا!”

“فرشتےےے۔۔۔!” ازلان نے سائیڈ لیمپ اون کیا۔

“میں بہت بُرا سوتی ہوں صوفے پر سوجاؤں گی!”

وہ جلدی سے صوفے پر بیٹھ گئی تو ازلان زچ ہوتا اٹھا اور اسے باہوں میں اٹھائے بید پر لٹاتے لائٹ اوف کی۔

“کیا مسئلہ ہے اب بتاؤ؟” اسے قریب ہوتے پوچھا۔

“مجھے یہاں نیند۔۔۔۔۔”

“نیند آنی بھی نہیں چاہیے مجھ سے باتیں کرو، مجھے وقت دو۔۔”

“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”

“کس سے؟”

“آپ سے اور کون سے یہاں جن ہیں؟”

“تمہیں لگنا بھی چاہیے اور زیادہ زبان نہیں چل رہی تمہاری؟”

وہ کہتا اس پر جھکا اس کو چپ کروا گیا تھا۔

چاند سے آتی روشنی ان کی زندگی کو مزید خوبصورت ہونے کی نوید سنا رہی تھی۔

وہ شخص سالوں اس سے محبت کا اظہار کرتا آیا تھا آج اس نے کر کے ان کے رشتے کو مکمل کر دیا تھا ہمیشہ کے کیے۔

کونین نے نظرانداز کیا تو شایان نے گلاس اس کے لبوں سے لگایا۔

“مجھے گھر جانا ہے بابا انتظار کر رہے ہوں گے۔”

“آپ کے بابا اپنے گھر جا چکے ہیں اور اس وقت اپنے بھائیوں کے ساتھ مصروف ہوں گے۔”

“کیا مطلب ہے؟”

شایان نے اسے سب مختصر سا بتایا اور کچن میں چلا گیا جبکہ وہ تو کئی لمحے وہیں کھڑے رہ گئی۔

وہ مطمئن ہوئی تھی کہ اس نے خاور عثمانی سے معافی مانگ لی تھی اور انہیں ان کے رشتوں میں پہنچا دیا تھا۔

وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی جو شاید باہر سے لایا کھانا نکال رہا تھا۔

“مجھے واپس چھوڑ کر آئیں!”

کہاں؟

“میرے گھر؟”

“ہمارے گھر بھی چلیں جائیں گے لیکن اگلے کچھ روز ہمیں یہیں رہنا ہے!” وہ عام سے انداز میں بولا جیسے سب نارمل ہو ان کے درمیان۔

“شایان عثمانی آپ کو بات سمجھ میں آرہی ہے مجھے واپس جانا ہے۔”

“کھانا کھاؤ پہلے بیٹھ کر۔”

“نہیں کھانا مجھے!”

وہ بولی تو شایان نے اسے زبردستی اپنی ساتھ والی کرسی پر بٹھایا اور نوالہ بنا کر اس کے آگے کیا۔

کونین نے اس کا ہاتھ رھتکارا تو نوالہ زمین پر جا گرا۔۔۔۔شایان کئی لمحے اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا اس کا یہ عمل بہت ناگوار گزار تھا اسے۔

کونین بھی شرمندہ ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

شایان نے وہی نوالہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا اور دو تین اور نوالے کھائے اور کھانا پیک کیا اور فون کان سے لگایا۔

“کریم میں فلیٹ پر ہوں۔۔۔۔کونین کو ان کے گھر چھوڑ دو!”

“ٹھیک ہے میں انتظار کر رہا ہوں!” وہ کال کاٹ گیا اور پھر کمرے میں چلا گیا۔

کونین اتنی جلدی سمجھنے والی نہیں تھی اور وہ بھی کافی تھک گیا تھا۔۔۔۔۔کہیں نا کہیں غلطی تو اس کی بھی نہیں تھی لوگوں کو ناراض کرنا آسان تھا لیکن منانا نہیں۔

اور کونین اسے کی بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی وہ زبردستی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔اس نے سگریٹ سلگاتے سامنے دیوار پر نگاہیں مرکوز کیں۔

وہ باہر صوفے پر بیٹھتی ہاتھوں کو چہرے میں چھپائے رونے لگی۔

پھر اٹھتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دل کے منانے پر دروازہ کھکوتی اندر داخل ہوئی۔

جو سگریٹ کے دھوئیں سے بھرا تھا اس نے کھناستے سامنے والی کھڑکی کھولی۔

اس گھر سے کتنی یادیں وابستہ تھی اس کی۔

اس کمرے سے! اسے شایان کے ساتھ گزارے تمام لمحات یاد آئے۔

لیکن کل اسے تھپڑ اور آج وہ حرکت۔۔۔۔اسے خود پر غصہ ایا۔۔۔۔وہ زیادہ ہی بدتمیزی کر رہی تھی اس سے۔

شایان نے اسے دیکھتے آدھ جلا سکریٹ بجھا دیا وہ کہاں اس کے سامنے پیٹا تھا سگریٹ۔

“کریم کو فون کریں!”

“وہ راستے میں ہے!”

“اسے منع کر دیں میں نہیں جاؤں گی! “

وہ کہتی باہر چلی گئی تو شایان عثمانی گہری سانس بھر کر رہ گیا۔

“کیا چاہتی تھی وہ!”

بہر حال اس نے کریم کو فون کر کے منع کر دیا۔۔

کونین نے کھانا دوبارہ گرم کیا اور ٹرے میں رکھتی اندر آئی واپس اور اس کے سامنے میز پر رکھا۔

“تم کھا لو مجھے نہیں کھانا!” لیکن وہ نظرانداز کرتی اپنی ہی پلیٹ اس کے آگے کر گئی۔

“مجھے نہیں کھانا کونین!”

کیوں؟

“کیا کچھ دیر پہلے میں نے ایسا کوئی سوال کیا تھا؟”

“آئم سوری وہ بس۔۔۔۔۔”

“کم از کم کھانے کے ساتھ تو۔۔۔۔”

“آئیم سوری کہا تو۔۔۔بس میں نے غصے میں۔۔۔۔۔”

اس نے پلیٹ آگے کی تو وہ آگے ہوتا کھانے لگا۔

“ویسے جتنے سگریٹ پیے ہیں اس کے بعد ضرورت تو نہیں پڑنی چاہیے آپ کو کھانے کی۔”

شایان اسے بس گھور کر رہ گیا کھانے کے بعد کونین نے اس کی چائے بنائی اور اسے دیتی وہیں بیٹھ گئی۔

شایان نے اسے دیکھا جو بید پر بیٹھی تھی اس کے سامنے ۔

“تم یہاں بھی بیٹھ سکتی ہو کونین!”

وہ بولا اور فون پر مصروف ہو گیا تو کونین اٹھ کر اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔

“کیا ایسا بہت ضروری ہے آپ کے فون میں دکھائیں!”

وہ زچ ہوئی اس کے چاہنے پر آگئی تھی لیکن اسے فون سے فرصت نہیں تھی۔

اس لیے اس کا فون اچک کر چیک کرنے لگی جو اپنی میلز پڑھ رہا تھا۔

“اس لڑکی کا کیا نام تھا؟”

“کس کا؟”

شایان نے اسے دیکھا جو بالکل اس کے ساتھ بیٹھی تھی شانوں سے چادر جھلک گئی تھی وہ اس وقت کالے جوڑے میں تھی دوپٹہ سر پر نہیں تھا اب۔

جسے میں نے پہلی ملاقات میں آپ کے نزدیک دیکھا تھا ۔

“میں نہیں جانتا! شایان کو اندازہ نہیں تھا کہ اسے اب تک یاد ہو گا یا وہ اس سے یہ سوال کرے گی۔

“کیوں؟ جتنے آپ قریب تھے اس کے مجھے لگا۔۔۔۔۔”

“تمہارا ردعمل دیکھنے کے لیے وہ کیا تھا میں نے آخر میری منکوحہ سالوں بعد مجھ سے ملنے آئی تھی!” وہ صاف گوئی سے بولا اور وہ سچ کہہ رہا تھا۔

“آپ کو کیسے پتا میں آنے والی ہوں۔”

“میں اس سے پہلے ہی تمہارے بارے میں معلومات اکٹھی کر چکا تھا سب جانتا تھا پہلے ہی۔”

“لیکن میرا ردعمل کیوں؟”

“میں نہیں چاہتا تھا میرا امپریشن تم پر اچھا پڑے۔”

“اور آپ اس میں کامیاب رہے مبارک ہو!” وہ جل کر بولی تو شایان مسکرا دیا۔

“تم جیلس ہوئی تھی؟”

“نہیں! حیرت نہیں ہوئی تھی امیر زادے ایسے ہی ہوتے ہیں!” وہ اس کے فون پر گیلری کھولنے لگی۔

“اچھا اور تمہیں کیسے پتا ہے کہ امیر زادے کیسے ہوتے ہیں؟ میں تو امیر نہیں ہوں!”

لیکن وہ اس کی گیلری میں اپنی تصویریں دیکھتی حیران تھی۔۔۔۔وہ جب ساتھ تھے تب کی کئی لمحوں کی تصاویر تھی وہ۔

وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی اس فولڈر پر صرف دل کے سانچے کا ایموجی تھا اور اندر صرف اس کی تصویریں۔

“یہ کب لیں آپ ںے؟

“تمہیں میں اتنا فراموش لگتا ہوں تم سے؟”

“مجھے یہ بھی پتا ہے تم کتنے دن یونیورسٹی گئی ہو۔۔۔تمہاری کلاس میں کتنے لڑکے ہیں۔۔۔۔کون سے مضامین پڑھ رہی ہو تم سب کچھ اور پوچھنا چاہوں تو پوچھ سکتی ہو۔”

کونین اسے منہ کھولے دیکھنے لگی تو شایان نے آگے بڑھتے اس کا کھلا منہ بند کیا اور اس کے گال کو چومتے واپسی اپنی جگہ پر بیٹھا۔

جبکہ اس کے چہرے پر بکھرے گلال کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا اسی نظارے کو تو اس نے مہینوں یاد کیا تھا۔

“آپ کی خالہ!”

“میں انہیں ڈسکس نہیں کرنا چاہتا کونین کم از کم ابھی تو نہیں!”

“ٹھیک ہے؟ لیکن مجھے ان سے نفرت ہے! اور آپ کی والدہ۔۔۔۔۔”

“کیسے گزرے دن میرے بغیر؟” وہ اسے ساتھ لگاتا استسفار کرنے لگا۔

“آپ کو فرق پڑتا ہے؟”

“ہاں جی اسی لیے سب خبر رکھی ہے میں نے تمہاری!”

شایان؟

“ہممممم؟ آپ ٹھیک ہیں؟”

“مجھے کیا ہونا ہے؟”

“آپ سب سے چھپا سکتے ہیں لیکن میں اتنا تو پڑھ سکتی ہوں آپ کو؟۔۔۔۔آپ بہت تھک گئے ہیں اور خود سے بھی غصہ ہیں۔۔۔۔۔”

“نہیں ایسا نہیں ہے!”

وہ اس سے دور ہوتا بولا اور فریش ہونے چلا گیا وہ واپس آیا تو وہ وہیں پر بیٹھی تھی۔

“سو جاؤ تھوڑی دیر!”

وہ فائنل نکلا کر وہیں بید پر بیٹھ گیا تو کونین بھی فریش ہو آئی اور واپس اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کی فائل بند کرتے سائیڈ پر رکھی۔

“آئم سوری آپ پر ہاتھ۔۔۔”

“کونین پلیز میں کچھ بھی ڈسکس نہیں کرنا چاہتا” وہ لیٹتا سر پر کمفرٹر ڈال گیا تو کونین نے گہرا سانس بھرا۔

وہ مشکل وقت سے گزار رہا تھا جہاں سبکو سمجھانا اور منایا تھا اس نے لیکن ان سب میں وہ خود کہیں گم گیا تھا۔

وہ تو بے قصور رہا تھا ان سب میں اور شاید کونین نے سارے بدلے اسے وہ تھپڑ اور بے حد بدتمیزی کر کے لیے تھے جس پر وہ بے حد شرمندہ تھی۔

ان سب میں وہ فراموش ہو گیا تھا مکمل۔

کونین نے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا اور اس کے ماتھے سے بال ہٹاتے جھک کر وہاں لب رکھے تو شایان نے آنکھیں کھولیں جن میں تھکاوٹ اور کرب واضح تھا۔

کونین نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں تو وہ اس کی گود میں سر چھپا گیا اور بازو اس کے گرد لپیٹے۔

“انہوں نے کتنا بُرا کیا میرے ساتھ۔”

“سالوں مجھ سے جھوٹ بولا مجھے دھوکا دیا۔۔۔۔میں نے ماما سے زیادہ محبت کی ان سے اور انہوں نے بدلے میں۔۔۔۔”

“مجھے ان سے زیادہ گلہ اپنی ماں سے ہے کونین۔۔۔کیا کوئی ماں بھی ایسا کر سکتی ہے؟”

“وہ آپ سے محبت کرتی ہوں گی شایان۔۔۔۔”

“میں جانتا ہوں لیکن یہ کیسی محبت ہے جس میں انہوں نے کسی کی زندگی برباد کر دی۔”

“میں تھک گیا ہوں۔۔۔۔۔زندگی ایسی نہیں سوچی تھی میں نے۔۔۔۔۔میں شرمندہ ہوں خود سے۔”

“بابا نے آپ کو معاف کر دیا ہے شایان اپنے اس گلٹ سے نکل آئیں،دوسروں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔۔۔”

“جو ہو گیا وہ ماضی تھا آگے بڑھیں۔”

“تم نے معاف کر دیا مجھے؟”

“میں کون ہوتی ہوں آپ کو معاف کرنے والی شایان۔۔۔۔شاید آپ سے زیادہ غلطیاں میں نے کی ہیں اس رشتے میں۔۔۔۔۔اور جو حرکت اس دن میں نے کی ہے اس پر میں مرتے دم تک پشیماں رہوں گی۔”

وہ کافی دیر خاموش رہے۔۔۔۔جیسے زخموں کو بھرنے کا موقع دیا ہو۔۔کونین مسلسل اس کے سر میں ہاتھ پھیر رہی تھی اس کی کمر کو سہلا رہی تھی اسے پرسکون کرنے کے لیے اور اس میں وہ کامیاب رہی تھی۔

ویسے “کافی بھاری ہاتھ نہیں ہے آپ کا بیوی؟”

کچھ لمحوں بعد وہ سیدھا ہوا اور اسے ہاتھ سے کھینچ کر اپنے اوپر گرایا۔

“شایان پلیززز میں پہلے ہی بہت شرمندہ ہوں!”

“سارے بدلے لے لیے ہیں تم نے مجھ سے۔۔۔۔خبردار کل کو میرے بچوں کو کوئی کہانی سنائی تم نے کوئی ۔۔۔۔۔”

وہ بولا تو وہ جھنپ گئی اور گال دھکنے لگے۔

“تم اتنا بلش کیوں کرتی ہو؟”

“نہیں تو؟”

“تم ایسا کرتی دنیا کی حسین ترین لڑکی لگتی ہو کونین شایان عثمانی۔۔۔۔میں یہ گلال اور میری قربت پر تمہاری گالوں کا پرحدت ہو جانا بڑھاپے تک دیکھنا چاہتا ہوں۔”

وہ بولا تو کونین اس کی باتوں کی تاب نہ لاتے چہرہ اس کے سینے میں چھپا گئی تو وہ ہنس دیا۔

“اب کیسا محسوس ہو رہا ہے؟”

“تم ساتھ ہو تو بہترین!” شایان نے اس کے بالوں کو چومتے کہا۔

“تم نے بالوں کو کلر نہیں کروایا؟”

“آپ بھول رہے ہیں آپ نے کروانا تھا اور مجھے نئی چادریں بھی چاہیے، یونیورسٹی میں نئے سیمیسٹر کی فیس بھی جمع کروانی ہیں اور۔۔۔”

“ٹھیک ہے سب مل جائے گا آپ کو بیوی!”

وہ اس کے ماتھے اور گال کو چومتا بولا تو وہ مسکرا دی۔

“چلیں مجھے گھر چھوڑ کر آئیں۔”

“نہیں دو تین دن۔۔۔۔”

“نہیں میری خواہش ہے کہ ہم پھر سے نکاح کریں بابا کے ساتھ اپنی خوشیاں منائیں اس گھر میں ایک ساتھ۔”

“تم ایسا چاہتی ہو؟” شایان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔

کونین نے تیزی سے سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے جو حکم!” وہ اس کے بال کان کے پیچھے اڑاتا بولا۔

اور پھر کافی گھنٹے اس کے ساتھ باتوں میں گزارے اسے واپس چھوڑ آیا اور انتظامات کرنے لگا۔

اس لڑکی کو وہ مزید دن خود سے دور نہیں رکھ سکتا تھا کہ ابھی تو وہ میسر آئی تھی۔

باقی کے زخم بھی تو اسی سے مندمل ہونے تھے۔

اس نے ایک ہی شام میں تیاری کی تھی صرف ولیمے کا فنکشن تھا نکاح تو گھر میں ہی کرنا تھا۔

نکاح کے بعد اس نے کونین کو اپنی محبت میں بھگو دیا تھا۔

اس کے پاؤں میں پازیب پہناتے اس کے ہاتھوں کو چوما۔

“اس تحفے کا شکریہ!” وہ مسکرا کر بولی۔

“میری زندگی میں آنے کا شکریہ کونین شایان!” اس کے ماتھے کو چومتا وہ بولا۔

“ہٹیں آپ بہت بھاری ہیں!”

وہ بولی تو شایان نے اسے گھورا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں تھامتے اس پر جھکا اور اپنے پیار کی بارش اس پر برسانے لگا۔

این برای توست عشق ابدی من

“(آپ کے لیے میری محبت ابدی ہے)”