220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 27

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

سرخ رنگ کے اس لہنگے میں جس کی ٹیل پیچھے زمین پر بچھی تھی بھاری جیولری اور خوبصورت میک اپ میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔

دوپٹہ لیتے اسکا سر چکرا گیا کیونکہ وہ کافی بڑا تھا جس کا آدھے سے زیادہ حصہ اس کے سر کے پیچھے سے ہوتا زمین پر بکھرا تھا۔

اعظم اظہر کی پسند وہاں سب کو بے حد بھائی تھی۔

اس نے اعظم اظہر کا انتظار نہیں کیا تھا کیونکہ کل کے بعد اس کی ساری خوش فہمیاں ختم ہو گئیں تھیں۔

“میم آپ کو اعظم نامی کوئی لینے آئے ہیں!”

وہ چونکی اور پھر اسے مدد دیتے باہر لے جایا گیا۔

اعظم جو خود بھی شیروانی میں بالکل تیار ہوا ہی آیا تھا اسے نکلتے دیکھ وہ پل بھر کے لیے مبہوت رہ گیا۔

کتنے ہی لمحے وہ اپنی نگاہیں نہ ہٹا پایا سامنے کے منظر سے جہاں سے وہ سہج سہج کر چلتی آرہی تھی۔

“خوبصورت!”

اس نے بے ساختہ کہا تو زارا نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر خاموشی سے سر جھکا لیا تو اعظم واپس اپنے خول میں سِمٹا۔

“مجھے لگتا ہے کم از کم تعریف پر تھینک یو کہنا چاہیے!” اعظم نے بیٹھنے میں اس کی مدد کرتے واپس اپنی جگہ پر بیٹھتے کہا۔

“مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے!”

کل اس نے بھی تو اس کی تعریف کی تھی لیکن وہ آگے سے کچھ نہیں بولا تھا۔

“کس چیز کا ایٹی ٹیوڈ دِکھا رہی ہو؟” اس کا موڈ پل میں غارت ہوا تھا۔

“نہیں میں کہاں آپ کو ایٹی ٹیوڈ دکھا سکتی ہوں اعظم!” وہ کہتی سیٹ کی پشت سے سر ٹکا گئی تو وہ خاموش ہو گیا۔

وہاں پہنچتے ان کی شاندار طریقے سے اینڑی ہوئی تھی لڑکیاں اس جیسی زندگی جینے کی خواہاں تھیں۔

لیکن زارا نے جان لیا تھا کہ کسی کے زندگی کو آئیڈیلائیزڈ نہیں کیا کرتے کیونکہ کوئی نہیں جانتا میاں بیوی کا رشتہ چار دیواری میں کیسا ہے۔

نکاح کا وقت قریب آیا تو زارا کا دل دھڑکنے لگا اس نے اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔

اور پھر اعظم اظہر کو قبول کرتے وہ ہچکیوں سے رو دی تھی۔

کئی خوف اس میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے مستقبل کیا تھا ان کے رشتے کا کون جانتا تھا۔

اعظم اظہر کے قبول کرنے پر مبارکباد کا شور اٹھا تھا لیکن وہ سر نہ اٹھا پائی۔

تمام لوگ اسے زارا سے ملنے کا کہہ رہے تھے۔

وہ شخص اٹھا اور پھولوں سے بنی اس کے درمیان حائل ہوئی چادر کو ہٹایا اور اس کے پاس آیا۔

زارا کے ہاتھ تھامے جو کانپ رہے تھے اسے کھڑا کرتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

اور پھر اس کے نزدیک جھکا زارا اعظم اظہر کی ساری حسیات اسے سننے کی منتظر تھی۔

شاید کوئی محبت بھرے لفظ، اپنی غلطی کا پچھتاوا لیکن وہ بولا بھی تو کیا۔

“”ابھی سے کانپ رہی ہو؟”

ابھی تو زندگی پڑی ہے زارا اعظم اظہر آپ نے اپنی محبت کا یقین دلانا ہے مجھے ثابت کرنی ہے اپنی محبت” وہ اس کے کان کے پاس بولا۔

اردگرد کے لوگ سمجھے تھے نجانے وہ کیا محبت بھرے پیغام ایک دوسرے کو سنا رہے ہوں گے۔

لیکن زارا کو لگا اسے سانس لینے میں دشواری ہوئی ہے تو کیا یہ شادی صرف اس کی محبت کی آزمائش کے لیے تھی؟ اور اس موقع پر یہ انکشاف؟

شاید وہ پہلی ایسی دلہن تھی جس سے محبت کی یہ قیمت ادا کروائی جا رہی تھی۔

وہ پیچھا ہو گیا اور اس کے بعد زارا کو اپنا آپ ایک روبوٹ سا لگا۔

اس نے اس محبت میں اپنا آپ مٹا دیا تھا، سالوں اس شخص کو چاہتے گزار دیے تھے اور آج وہ حاصل ہو کر بھی لاحاصل بن گیا تھا۔

وہ تو تھا ہی نہیں کبھی زارا کا وہ تو ہمیشہ سے فرشتے کا تھا اس نے مان لیا۔

کئی آنسو آنکھوں سے گرنے لگے اسے اپنی تیاری سب بیکار لگا یہاں تک کہ اسے اپنی زندگی اس پل بیکار لگی۔

رخصتی کے وقت وہ اپنی ماں اور بھائیوں سے لگ کر بہت روتی انہیں بھی رلا گئی تھی۔

وہ اپنی گھر کی واحد رونق اس شخص کو سونپ رہے تھے جس نے اسے مزاق سمجھ لیا تھا۔

اور پھر جس لمحے کا برسوں اس نے انتظار کیا تھا جسے معجزے کی طرح مانگا تھا وہ پورا ہوا اور پیا گھر سدھا گئی۔

گھر میں بھی چند ایک رسمیں کرتے اسے اس کے اصل ٹھکانے اعظم اظہر کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا۔

اعظم اظہر کے کمرے تک رسائی پا لی تھی اس نے دل تک تو شاید ناممکن ہی تھی۔

اس نے روایتی دلہنوں کی طرح گھونگھٹ نہیں کیا تھا وہ تو بس قیامت کی منتظر تھی اب جس میں زیادہ وقت درکار نہ تھا۔

کچھ ہی دیر بعد دروازہ کُھلا اور وہ شخص اندر آتے دروازہ لاک کر گیا۔

اس کا کمرہ اوپر کے پورشن میں تھا لاؤنچ کے باہر گلاس والز تھے اور دوسری طرف گھر کا باقی کا حصہ اسی لیے وہ جگہ ساری اعظم اظہر کی ملکیت تھی۔

“تو آخر کار زارا اکبر آپ کامیاب ہوئیں اور دیکھیں جس جگہ کی آپ کی حیثیت بھی نہ تھی وہ آپ کی جھولی میں آگرا۔”

اس نے صوفے پر بیٹھتے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے زبان کے نشتر چلانا شروع کیے تھے۔

زارا نے نگاہیں اٹھانے کی غلطی نہیں کی تھی۔

وہ خود کو شرمندہ ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی اس نے خود کو ڈس آپاؤنٹ کیا تھا۔

“یہاں آؤ!”

اعظم نے اس کے وجود میں کوئی جنبش نہ پاتے اسے مخاطب کرتے قریب آنے کو کہا تو اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔

سرخ لباس میں بلڈ ایڈ لپسٹک سے مزین ہونٹوں کو بےدردی سے کاٹتی آنکھوں کو نم پانی سے بھرے وہ اسے بکھرے بکھری سے لگی۔

“زارا اعظم اظہر میں نے بلایا ہے!”

وہ گہرا سانس بھرتی اٹھی اور قدم اس کی طرف بڑھائے۔

وہ دیکھنا چاہتی تھی اس کی برداشت کی اور اس شخص کے ظلم کی آخری حد کیا تھی۔

وہ اس کے پاس آ کھڑی ہوئی تو اعظم نے جھٹکے سے اسے خود پر گِرایا تو وہ سنبھل نہ پائی اور ٹوٹی ہوئی ڈالی کی طرح اس کے اوپر آ گری۔

“کیسا لگ رہا ہے؟”

اعظم نے اس کے بالوں کو تھامتے کہا لیکن گرفت درد پہنچانے والی نہ تھی کیونکہ یہ کام وہ بخوبی زبان سے کر رہا تھا۔

زارا ایک لفظ نہ بولی تھی۔

“بولو! چلو اب تو حلال رشتہ ہے ہمارے درمیاں، میں محرم ہوں مجھے دلاؤ اپنی محبت کا یقین میں سُن رہا ہوں!”

زارا نے بس اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر تلخی سے مسکراتی سر موڑ گئی۔

اعظم اظہر کو یہ کہاں ہضم ہوا تھا تھوڈی سے اس کے چہرے کو تھامتے جھٹکے سے اپنی طرف منہ کیا۔

“مجھے نظرانداز کر رہی ہو؟”

“کیا پوچھ رہا ہوں میں؟”

“یقین دلاؤ مجھے اپنی محبت کا! بتاؤ مجھے کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ڈیرے پر موجود کئی سگریٹ پھونک چکا تھا۔

“بھائی!”

اس کے ملازم نے اکھڑی سانسوں سے اسے کچھ بتانا چاہا تھا۔

“ابھی نہیں کریم! نکل جاؤ یہاں سے! مجھے کوئی بھی اپنے نزدیک نہیں چاہیئے جاؤ!” وہ دھاڑا۔

پر۔۔۔۔۔۔

“سمجھ نہیں آ رہی؟”

وہ سرخ آنکھیں کھولتا تیزی سے اٹھتا اس تک آتے اس کا گریبان تھام گیا۔

“ضروری بات!”

“کیا بکواس کر رہا ہوں میں؟ شکل گُم کرو۔۔۔۔۔”

وہ سہمتا باہر نکلنے لگا تھا پھر مڑا۔

“پلیز باہر چلیں بھائی وہ آئیں ہیں!’ وہ کہتا فوراً باہر نکل گیا۔

شایان عثمانی نے کُھلے دروازے کو طیش کے عام میں دیکھا اور دروازہ بند کرنے کی نیت سے دروازے تک آیا لیکن باہر کا منظر دیکھتے قدم زمین پر جامد ہوئے۔

ہاں وہی تو تھی وہ۔

“کونین شایان عثمانی!”

اسے اس جگہ دیکھ وہ غصے سے مزید پاگل ہوا تھا اس وقت دنیا میں وہی تو تھی جس سے وہ نہیں ملنا چاہتا تھا۔

“خوش آمدید نہیں کہو گے اپنی بیوی کو؟’

کتنے ہی مرد تو تھے وہاں پر اس وقت کونین وہاں کھڑے ہوتے اونچی آواز میں بولی تو وہ تیز قدم اٹھاتا اس تک آیا۔

“گھر میں بات ہو گی جاؤ ابھی!”

“کیوں؟”

“کونین میں نے کہا یہاں سے جاؤ! میں پہلے سمجھا چکا تھا تمہیں کہ یہاں مر کر بھی مت آنا میں مر جاؤں تب بھی نہیں!” وہ اسکا بازو پکڑتا غرایا۔

“کریم! ڈرائیور سے بول کر گھر بھجواؤ اسے!”

“آئیے میمممم!”

“اتنی بھی کیا جلدی ہے میں یہاں سے بات کیے بغیر نہیں جاؤن گی!”

“بات ہو گی لیکن یہاں نہیں جاؤ ابھی!”

“تمہاری خالہ کی ہمت کیسے ہوئی میرے باپ کے بارے میں ایسا سوچنے کی۔۔۔۔وہ عورت زہر ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں زہر بھرنا چاہتی ہے اور کئی سالوں سے وہ یہ کام بخوبی کرتی آئی ہے اور ۔۔۔۔”

“کونیننن!”

وہ دھاڑا وہاں تمام مرد جانتے تھے کہ شایان عثمانی غصے میں اپنے آپ کا نہیں رہتا تھا سامنے تو پھر کوئی صنفِ نازک تھی۔

“آواز آہستہ رکھیں شایان عثمانی!”

“کیونکہ حقیقت بدل نہیں جائے گی!”

“میری خالہ کو یوں لوگوں میں ڈسکس نہیں کر سکتی تم۔۔۔۔مجھے مجبور مت کرو کہ میں کچھ سخت کر جاؤں۔”

“سالوں پہلے میرے باپ کو ناکردہ گناہوں کی سزا ملی تھی جس کی اصل مجرم وہ عورت ہے۔

وہ بدکردار عورت میرے باپ پر الزام لگائے تھے اس نے۔۔۔انہیں بولو ثابت کرے۔۔۔ٹابت کرے کہ میرے باپ نے کوئی وعدہ کیا تھا ان سے شادی کا یا کسی قسم کا کوئی دعویٰ کیا تھا محبت کا۔”

“نکلو فوراً یہاں سے!” وہ سرخ آنکھوں کو بند کر کے کھولتا پاگل ہونے کے در پر تھا۔

“سچائی ہضم نہیں ہو رہی نا؟”

“نہیں! تم سن نہیں پاؤ گی؟ تمہارے باپ کی حقیقت وہ شخص کیا ہے تم نہیں جانتی اس شخص نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے میری خالہ کو ورغلایا، جھوٹی محبت میں پھنسایا، زبردستی کی کوششش۔۔۔۔۔”

“”چٹاخخخخخ!””

تمام مردوں کی آنکھیں ابل آئیں تھیں۔

وہ چھٹانگ بھر کی لڑکی شایان عثمانی پر ہاتھ اٹھا گئی تھی۔

شایان عثمانی پر، جس کی محض آنکھوں کی وحشت سے وہ لوگ کانپتے تھے۔

شایان نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

“خبردار! خبردار! میرے باپ کے خلاف ایک لفظ نہیں! نہیں تو آگ لگا دوں گی!”

“اپنی خالہ سے جا کر ثبوت مانگو! اور ثابت کرو یہ سب!” وہ پرس کھولتی کچھ کاغذ اس کے قدموں میں گِرا گئی تھی۔

“پڑھو انہیں اور آنکھیں کھولو اس جھوٹی محبت سے خدارا!”

“سر اس عورت کو آپ بولیں تو!” اس کا ایک وفادار ملازم آگے بڑھا تھا۔

“بیوی ہے میری آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو گاڑ دوں گا سالو نکلو یہاں سے دفع ہو جاؤ!” وہ دھاڑا تو سب اس لڑکی کو دیکھنے لگے۔

وہ شایان عثمانی کو تسخیر کر چکی تھی وہ۔۔۔۔۔ سب نکل گئے۔

“کریم گھر چھاڑ کر آؤ اسے!”

“کوئی ضرورت نہیں میں۔۔۔”

“آواز مت نکالنا حلق سے! مجھے کچھ بہت سخت کرنے پر مجبور مت کرو اور بھولو مت تمہارے نام کے آگے میرا نام جڑا ہے۔”

جاؤ کریم! وہ بھینچی مٹھیوں کے ساتھ پاگل ہونے کو تھا۔

لیکن ان سب میں اس لڑکی کو وہ سخت ہاتھوں سے چھونا تو دور دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔

نہیں تو عشق کی پہلی ہی منزل سے محبت کی آخری سیڑھی پر گِرا دیا جاتا شاید۔

وہ چلی گئی تو وہ جھکا اور وہ کاغذ اٹھائے۔

“اس نے شایان عثمانی پر ہاتھ اٹھایا!”

وہ اپنے بنے وہاں کمرے میں جاتا کہ کسی کی سرگوشی سنی۔

“یہ اعزاز بھی اس ایک عورت کو ہی حاصل ہے اسی سے اندازہ کر لو اس کی حیثیت کا آئندہ کبھی زبان پر اس کا زکر نہ آئے نہیں تو اگلی بار بولنے کے قابل نہیں رہے گا کوئی!”

وہ ان سب پر کونین کی اہمیت واضح کرتا سب کو اینڈ پر وارننگ دے گیا۔

خود کو کمرے میں بند کر لیا اور ان کاغذوں کو دیکھنے لگا جو کافی قدیم تھے۔

وہ خط تھے شاید وہ دھیرے سے کھولتا انہیں پڑھنے لگا۔

“پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو خاور!

تمہاری محبت میں ڈوبی ہوں میں!

نکاح نہ سہی مجھے میسر ہی ہو جاؤ!

تم اپنی بیوی کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گے!

سنا ہے تمہاری بیٹی ہوئی ہے میری بددعا ہے کہ اسے بھی کوئی شخص محبت کر کے چھوڑ دے! شایان عثمانی کو لگا ہوا میں آکسیجن کم ہوا ہے۔

تم کبھی خوش نہ رہو!

خدا کرے تمہاری بیوی مر جائے اور تم الٹے قدموں میری پاس دوڑے چلے آؤ!

میری محبت کو آزما لو ساری زندگی تمہاری غلام رہوں گی!

میں پاگل ہوں تم سے محبت میں! دیکھو مجھے اپنا لو نہیں تو میری بددعا تمہارا گھر اجاڑ دے گی!”

“تمہاری محبت کی ہمیشہ منتظر۔”

“سائمہ نقوی!”

ابھی ختم نہیں ہوا تھا ایسے کئی خط تھے جہاں کہیں محبت کا اظہار تھا تو کہیں دھمکیاں اور کہیں حد سے گِری ہوئی بددعائیں کے سامنے والے کا دل کانپ جائے۔

اسے لگا وہ کھڑا نہیں ہو پائے گا وہ تو زمین میں دھنستا چلا گیا تھا۔

کیا یہ سچ تھا؟ ہاں یہی حقیقت تھی تلخ حقیقت!

اسے دھوکا دیا گیا اسے نفرت کرنے پر مجبور کیا گیا اور اس نے کی بلا شرکت اس نے نفرت کی اپنے ہی چچا سے اپنے باپ کے بھائی سے جو اس سے اتنی محبت تو کرتے تھے کہ اپنی جان سے عزیر اکلوتی بیٹی سالوں پہلے ہی اس کے نکاح میں دے دی جسے اس نے اپنی نفرت کے زعم میں توڑ دیا اور توڑ کر ہوا میں بکھیر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“فرشتے آپ کا ڈریس آ گیا ہے اٹھ کر ناشتہ کریں اور ڈریس دیکھ لیں پھر تیار بھی ہونا ہے!”

بوا اسے گیارہ بجے اٹھانے آئیں تھیں۔

“میں اتنی دیر تک سوتی رہی!” وہ گھڑی پر وقت دیکھ کر حیران ہوئی۔

پھر ناشتہ کیا اور وہ ڈریس اٹھاتی کمرے میں آگئی۔

ڈریس کھولتے ہی اس کا منہ بھی کُھل گیا تھا۔

وہ ڈیزائینر لہنگا تھا پاؤں کو چھوتا سرخ رنگ کا لیکن وہ تو عروسی جوڑا تھا اس کے ساتھ فرشتے کا کیا کام؟

“بوا یہ دیکھیں!”

وہ دروازہ کھولتی انہیں بلانے لگی اس خوبصورت جوڑے کو دیکھتیں وہ بھی حیران تھیں۔

“یہ مجھے لگتا ہے ازلان نے غلطی سے بھیج دیا ہے!” وہ کنفیوژن کا شکار تھی۔

“نہیں اس نے خریدا ہے خاص طور پر آپ کے لیے! غلطی کیسے ہو سکتی!”

“میں پوچھتی ہوں!”

وہ اس کا نمبر ملا کر کان سے لگا گئی۔

“گڈ مارننگ ہنی!”

وہ بے حد مصروف ہوتے ہوئے بھی کیمرہ اون کرتے اسکے تاثرات دیکھ رہا تھا اس جوڑے کو لے کر۔

“ازلان یہ کیا ہے؟ یہ کسی اور کا جوڑا ہے کیا آپ نے غلطی سے بھیج۔۔۔۔”

“تین گھنٹے لگا کر پسند کیا ہے میں نے ہنی! غلطی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔تمہارا ہی ہے بتاؤ پسند آیا؟”

فرشتے کا منہ مزید کُھلا۔

“منہ بنند کرو یار ایسا بھی میں نے کیا بھیج دیا!” وہ شرارت سے بھرے انداز میں بولا۔

“آپ کو شرم آتی ہے اپنی ہی بیوی کے کمرے میں کیمراز لگواتے؟”

“نہیں بالکل نہیں! وہ گھر بھی میرا ہے اور بیوی بھی!’ وہ ڈھٹائی سے بولا تھا۔

“اففففف! آپ سے بات کرنا ہی بیکار ہے!’

“کل تو میں نے وہ جوڑا پہن لیا تھا آج یہ والا کیسے پہنوں گی یہ تو بہتتت زیادہ بھاری ہے ازلان۔۔۔۔مجھ سے زیادہ تو اس کا وزن ہے میں کیسے سنبھالوں گی۔”

“اب اپنی دلہن کو عام سے انداز میں تو رخصت نہیں کرواؤں گا نا ہنی!” وہ بولا تو فرشتے کو لگا اس نے غلط سنا ہے۔

“کیا مطلب؟”

“مطلب تم سمجھ گئی ہو آج سے تم میرے ساتھ ہی رہو گی! رخصتی سمجھ لو! ہمارا دن سمجھ لو یہ آج!

دیکھو تمہاری مہندی پر بھی آج کی تاریخ درج ہے!”

ازلان نے کہا تو فرشتے نے اپنے ہاتھ آگے کیے واقع وہاں آج کی تاریخ لکھی تھی۔

لیکن ازلان!

خاموش رہو!

“تھوڑی دیر کی بات ہے! پہن لو اور ناشتہ کرو اچھے سے پھر تیار بھی ہونا ہے تمہیں میرے لیے!”

اوکے! وہ کہتی کال کال گئی۔۔۔گال دھک رہے تھے۔

اس شخص کی لمحوں کی قربت جان لیوا ہوتی تھی اب وہ اس کو پورا کا پورا میسر ہونے والا تھا اس کے ہاتھ کانپ گئے۔

ناشتہ کرتے ہی دو لڑکیاں اسے تیار کرنے آئیں تھیں اس نے شرٹ پہن لی تھی لہنگا پہنتے تو اسے لگ رہا تھا کہ وہ گِر جائے گی۔

“یہ نہیں لگائیں میں بہت اوور لگوں گی!”

اس نے بھاری ماتھا پٹی کو دیکھتے کہا۔

“سر نے لے کر دیا ہے ہمیں یہ سب! آپ لگوالیں پلیز نہیں تو وہ ناراض ہوں گے!”

وہ خاموش ہو گئی لیکن بھاری سر کو دیکھتے اس نے ازلان کی پسند کی داد دی کیونکہ وہ اسے بہت حسین لگی تھی۔

“ظالم اور بدتمیز انسان!”

“یہ سب ہلکا پھلکا بھی تو کر سکتا تھا۔۔۔سب وہاں سمجھیں گے کہ میری شادی ہے!”

“یہ نہیں نیوڈ لپسٹک لگائیں!”

اس نے سرخ لپسٹک سے منع کیا اور سر کا حکم ہے سن کر بھی نا مانی تو ان دو لڑکیوں کو اسکی بات ماننی پڑی وہ اپنے اکام کر کے جا چکی تھیں۔

وہ تھک کر وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔

“ازلان آگیا ہے فرشتے!”

بوا نے اسے بتایا تو وہ آج پھر شوز پہنتی لہنگے کے نیچے کھڑی ہوئی۔

اور پھر لہنگا پہنا اور دوپٹہ ایک سائیڈ پر رکھا بال جوڑے میں قید تھے میک اپ بھی لائیٹ سا کیا گیا تھا کیونکہ اسکا لہنگا بہت لاؤڈ تھا۔

“اففففف! اس شخص نے مجھ سے سارے بدلے ان دو دنوں میں نکلوا لیے ہیں!”

وہ اسے کوس رہی تھی جب وہ انتظار کرتا اندر ہی آگیا۔

“اووو! مجھے تو کوسا جا رہا ہے!” وہ دروازے سے اندر آتا بولا تو بوا اسے پیار دیتی باہر نکل گئیں۔

“بالکل!”

وہ نظریں اٹھا کر بولی تو ازلان اظہر مبہوت رہ گیا۔۔۔۔اس نے ہمیشہ فرشتے کو سادگی میں دیکھا تھا اس نے تو میک اپ بھی کم ہی کیا تھا یا شاید کیا ہی نہیں تھا اور آج اس روپ میں وہ بالکل الگ اور حد سے زیادہ حسین لگ رہی تھی خیر حسین تو اسے وہ ہر صورت لگتی تھی تب بھی جب وہ ہسپتال میں پڑی زیرِ علاج تھی۔

“اب مجھے بھی لگ رہا ہے میں نے یہ سب چُن کر غلط کیا ہے!” وہ قدم بڑھاتا اس کے پاس آیا۔

“کیا مطلب!”

“مطلب کچھ دیر میں سمجھاؤں گا!”

“لپسٹک کیوں نہیں لگائی؟”

لگائی تو ہے!

“ریڈ بولا تھا میں نے انہیں!”

“بالکل نہیں! دلہن میں لگوں گی وہاں! سب مجھے ہی گھوریں گے میں زارا کا لائم لائٹ نہیں لینا چاہتی۔”

“میری جان آپ آج ازلان اظہر کی بیوی کے نام سے ملیں گی سب کو تو عام تو مجھے کوئی بھی چیز پسند نہیں ہے۔”

“آپ مجھے عام کہہ رہے ہیں؟”

وہ لڑکا عورتوں کی طرح بولی تو ازلان مسکرا دیا اس کا یہ روپ قاتلانہ تھا۔

“چلو! یا نہیں چاہتی تو رہنے دیتے ہیں۔”

“نہیں یہ دوپٹہ پکڑیں آپ میرا اور یہ میرا بیگ بھی وہ اسے اپنی چیزیں پکڑاتی آگے بڑھنے لگی۔”

“دیکھ رہی ہیں بوا اس نے کیسے مجھے اپنا غلام سمجھ لیا ہے!” ازلان بوا کو دیکھتا دہائی دیتا بولا تو فرشتے نے اسے گھورا۔

بوا ان دونوں کو دیکھنے لگی آخر اتنے سالوں بعد ان کی جھولیوں میں خوشیاں آئیں تھیں۔

“رُکو نظر اتار دوں تم دونوں کی!” بوا نے کہا اور اندر کچن میں چلی گئیں۔

“بوا میری اتار دیں ازلان تو عام سے ہی لگ رہے ہیں ان کو کون ہی دیکھے گا”

وہ ناخنوں کو پھونک مارتی ادا سے بولی تو وہ محض اسے گھور کر رہ گیا۔

جس نے خود بھی اوف وائٹ شلوار قمیض پر واسکٹ پہنی تھی وہ خود بھی مردانہ وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا۔

دونوں کی نظر اتاری تو ازلان نے گاڑی میں بٹھاتے اس کی چیزیں بیک سیٹ پر رکھی اور مڑ کر واپس اپنی جگہ پر آ کر بیٹھا۔

راستے میں اس کے لیے گجرے لیے۔

فرشتے کو یہ سب خواب سا لگا تھا۔