220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 13

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

“اب بھی ناراض ہو؟”

“نہیں ہونا چاہیے؟” وہ سادگی سے پوچھ رہی تھی۔

“ہو جاؤ میں منا لوں گا!” شایان نے جھکتے اس کی ناک کے ساتھ اپنا ناک رگڑا۔

“کیا ناشتہ کرو گی؟”

بھوک نہیں ہے! وہ بولتی پھر سے اسے دیکھنے لگی۔

“مجھے واپس جانا ہے۔”

“کیوں؟”

“بس میں واپس جانا چاہتی ہوں واپسی پر میں آپ کے ہاں کوئی بھی آپ کے لیے کسی قسم کی جاب نہیں کرنا چاہتی۔”

“تمہیں جاب کی ضرورت نہیں ہے تم میری بیوی ہو!

نہیں مجھے آپ پر یقین نہیں آپ پھر سے کبھی یوں ہی مجھے چھوڑ دیں گے اور پتا ہے تب کونین خاور یہ برداشت نہیں کر پائے گی اسی لیے ہم ابھی سے جدا۔۔۔۔۔۔”

شایان نے جھکتے اس کے لبوں سے یہ لفظ اچک لیے تھے بے حد نرمی سے۔

پھر پیچھے ہوتے اسے دیکھا جو نم نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“میں نے بہت نرمی سے کام کیا ہے ابھی۔۔۔۔لیکن یہ بات دوبارہ نہیں کرنا۔۔۔”

کونین نے اسے دیکھا اور پھر اس کے سینے پر سر رکھا۔

“چلو ناشتہ کریں!”

“میں نہیں بنا پاؤں گی!”

میں نے تمہیں بولا بھی نہیں ہے منگوا لیتا ہوں اٹھو “فریش ہو جاؤ!”

شایان نے کہتے اسے نرمی سے اٹھا کر بٹھایا اور خود فریش ہونے چلا گیا۔

کونین نے اپنے کپڑوں کو دیکھا تو چہرے کا رنگ بدلا اس نے یہ کپڑے تو نہیں پہنے تھے کل۔

وہ باہر نکلا تو وہیں بیٹھی اپنے پاؤں کو گھور رہی تھی۔

“فریش ہو جاؤ کونین!”

“میرے کپڑے آپ نے۔۔۔۔؟”

ہممممم!

وہ بول کر اس کے پاس آیا اور اسے اٹھاتے اپنے ساتھ واش روم لے کر گیا اور اس کے چہرے کر ہلکے ہاتھوں سے ٹھنڈے پانی سے دھویا پھر ٹشو سے صاف کیا وہ یہ کام نہایت دھیان سے کر رہا تھا۔

“آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں شایان؟ مجھے اپنی عادت نہیں لگائیں آپ مجھے کبھی میسر نہ رہے تو۔۔۔؟”

“شایان عثمانی کونین شایان تمہیں تاحیات میسر رہے گا وعدہ ہے میرا اور میں وعدے نہیں توڑتا۔”

کونین نے تھک کر اس پر اپنا وزن چھوڑ دیا تو وہ لڑکھڑیا پھر سنبھل کر قدم مظبوطی سے فرش پر ٹکائے۔

“مجھے ابھی کہیں نہیں جانا، ابھی ناشتہ بھی نہیں کرنا۔”

“تو یہیں کھڑے رہنا ہے؟”

اس نے تیزی سے سر ہاں میں ہلایا۔

شایان اسے باہر لایا اور صوفے پر بیٹھتے اس کے ساتھ بیٹھا تو کونین اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی خاموشی سے وہ اس وقت صرف اس شخص کو چاہتی تھی۔

مجھ سے ناراض ہو؟ کئی لمحے بعد وہ بولا۔

آپ کو فرق پڑے گا اگر میں ناراض ہوں گی تو؟

بالکل! شایان نے اس کے بالوں کو چومتے کہا۔

پھر اس کے ہاتھ تھامے اور پھر کندھے پر جھک کر لب رکھے۔

” آج کے بعد یہ شخص اگر تمہاری حفاظت میں چوک گیا تو مجھے سزا دینا جو چاہے کونین۔”

وہ بولا تو کونین نے آنکھیں بند کی ہلکی سی مسکراہٹ دِکھ کر چھپ گئی۔

“ناشتہ کریں؟”

نہیں! تھوڑی دیر پہلے تمہیں نہیں کرنا تھا اب مجھے نہیں کرنا خاموشی سے بیٹھی رہو۔

“کیا آپ میرے بال بنا دیں گے شایان؟” وہ تیزی سے سر اٹھاتی بولی۔

شایان نے حیرت سے اسے دیکھا پھر اس کے بکھرے بالوں کو!

“لیکن مجھے تو نہیں آتے بنانے۔۔۔۔”

سیکھ لیں میرے لیے وہ کہتی اٹھی اور برش لے کر اس کے پاس آئی۔

شایان عثمانی نے یہ سب پہلے کہاں کیا تھا لیکن وہ اس کے لیے سب کرنے کو تیار تھا۔

“بیٹھو!”

وہ صوفے سے نیچے میٹ پر بیٹھ گئی تو شایان دھیرے سے اس کے بالوں میں برش کرنے لگا جو آپس میں بہت الجھے تھے۔

“یہ تو بہت الجھے ہیں یار۔۔۔”

“تو سلجھائیں نا۔۔!”

کونین نے مسکراتے کہا اور اسی مسکراہٹ کے بدلے وہ اس کے بالوں کو سلجھانے لگا تھا۔

وہ اس کے بال کبھی بہت دھیرے سے سیدھے کرتا کہ اسے محسوس ہوتا کہ وہ برش پھیر ہی نہیں رہا اور کبھی اتنی زور سے کہ اس کی آہ نکلتے نکلتے رہ جاتی۔

“شایان آپ کو بہت سیکھنے کی ضرورت ہے” وہ کہتی اسے مُڑ کر دیکھنے لگی۔

شایان نے اسے گھور کر دیکھا کیونکہ اس کا سارا دھیان اس کے بالوں پر تھا پھر انہیں اکٹھا کیا اور ڈھیلی سے پونی میں قید کیا اب وہ کافی مطمئن تھا۔

خبردار اگر اتنے بال الجھائے تم نے دوبارہ میرے ہاتھ درد ہو رہے ہیں وہ مصنوئی غصے سے بولا۔

کونین نے اسے دیکھا پھر اس کے ہاتھوں کو دیکھا۔

شایان تھم گیا تھا۔

اور پھر وہ جھکی اور اپنے لب اس کے ہاتھوں پر باری باری رکھے۔

اگر وہ اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا تو اس کی طرف سے بھی ایفرٹس بنتی تھیں۔

“تھینک یو!”

شایان نے اس کے چہرے کو تھامتے اس کے ماتھے کو چوما تو وہ گلابی ہوئی۔

چلو! وہ دونوں باہر نکل گئے جہاں وہ ناشتہ پہلے ہی آرڈر کر چکا تھا جب وہ برش لینے گئی تھی۔

ناشتہ کرتے اس نے آخری نوالہ اسے کھلایا تو وہ مسکرا دی۔

“آج میری سچ میں میٹنگ ہے” وہ سنجیدگی سے اسے بتانے لگا۔

“نہیں پلیزززز!”

“کونین بس تھوڑی سی دیر یاد۔۔۔۔میں جلدی آجاؤں گا” وہ بولا تو وہ خاموش ہو گئی اور صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی چلا لیا۔

شایان نے اس کی ناراضگی کو بعد پر ڈال کر اپنی فائیلز سیٹ کی اور تیار ہوتا اس کا کمفرٹر لیتا باہر آیا اور اس پر کمفرٹر اوڑھا جس نے اسے دیکھ اتک نہیں تھا۔

گیٹ باہر سے لاک کر کے جا رہا ہوں سب سیو ہے یہاں کچھ نہیں ہو گا۔

“تھا تو وہ آدمی بھی بھروسے مند!” وہ اسے لاجواب کر گئی تو وہ ہونٹ بھینچ گیا۔

“خیال رکھنا!”

اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اس کے بالوں کو ہلکا سا سہلایا اور بیرونی دروازے تک گیا پھر مڑ کر اسے دیکھ جس نے اسے نہیں دیکھا تھا اب بھی۔

وہ واپس آیا اور ٹی وی کی تار نکالی اور اس تک آیا۔

جب میں جاؤ تو مجھے آئیندہ دروازے تک چھوڑنے آنا اور میرے آنے پر بھی میری طرف متوجہ رہنا ہے تمہیں یہ سیکھ جاؤ!

کونین نے اسے دیکھا جو اس کی توجہ چاہتا تھا۔

“کھانے میں کیا کھائیں گے؟”

کچھ نہیں میں آؤں گا تو اکٹھے بنائیں گے وہ بولا اور دروازے تک گیا۔

اور پھر اسے دیکھا جو پیچھے ہی آئی تھی اس کے۔

شایان نے اس کی گردن پر لب رکھنے چاہے جب وہ پیچھے ہوئی۔

شایان نے اسے گھورا اور باہر نکل گیا تو وہ بھی گہرا سانس بھرتی وہیں لیٹ گئی اور پھر ٹی وی دیکھتے دوبارہ سو گئی تھی کہ اس کے واپس آنے کا بھی پتا نہ چلا۔

شایان فریش ہو کر واپس آیا تو وہ اب تک سو رہی تھی اور اسے سوتا دیکھ شایان کو وہ اچھی نہیں لگی تھی۔

اس لیے ریمورٹ اٹھایا اور ٹی وی کی آواز اونچی کر دی اور ریموٹ اس کے پاس رکھ کر کچن کی طرف چلا گیا۔

اسے کہاں کھانا بنانا آتا تھا یا وہ کہاں کبھی کچن میں گیا تھا۔

اتنی تیز آواز پر کونین نے آنکھیں کھولیں اور یہاں وہاں دیکھا ٹی وی کو فوراً بند کیا اور کچن میں دیکھا جہاں کی لائیٹ اون تھی۔

وہ تیزی سے اٹھ کر گئی جہاں شایان فریزر سے نجانے کیا ڈھونڈ رہا تھا۔

“آپ کب آئے؟” وہ اسے دیکھتی بولی اور دوپٹے کو اچھے سے پھیلایا۔

“جب تم سو رہی تھی چلو مجھے بھوک لگی ہے کھانا بنائیں۔”

“میں بنا لیتی۔۔۔۔”

“نہیں اکٹھے بنائیں گے مجھے بھی سکھاؤ!” شایان عثمانی اسے زہنی اضطراب سے باہر نکالنا چاہتا تھا۔

وہ آہستہ آہستہ اس کے مطابق خود کو ڈھال رہا تھا اور وہ یہ بات نہیں جانتا تھا۔

اس نے چکن نکالا اور اسے دھونے کے لیے دیا اور خود فریش ہو کر واپس آئی تو اندر ایک الگ جنگ چل رہی تھی۔

شایان چکن کو دھوتا خود بھی تقریبآ گیلا تھا اور فرش بھی سارا نیچے گیلا تھا۔

کونین نے بال باندھے اور مسکراتے اسے دیکھا پھر آگے بڑھی۔

“یہ آپ کام بڑھا رہے ہیں شایان!”

“دیکھو ہو گیا!”

اس نے جیسے تیسے چکن دھو لیا تھا۔

کونین نے اسکے ہاتھ سے چکن لیا اور اس کو دوبارہ اچھے سے دھویا جب اس کا دوپٹہ بار بار کندھے سے نیچے آ رہا تھا۔

شایان جو اسے غور سے دیکھ رہا تھا اس کے دوپٹے کو اتارا اور وہاں کرسی پر رکھا تو کونین نے گلابی ہوتے سر جھکایا۔

لیکن جب خود پر مسلسل اس کی نگاہوں کی تپش محسوس کی تو پیاز نکالتے اس کے آگے رکھا تاکہ اس کا دھیان اپنے آپ سے ہٹا سکے۔

“اس کو چھیل کر کاٹیں!” وہ اسے مصروف رکھنے کی خاطر بولی۔

شایان کام پر لگ گیا تو مصالحہ بنانے کی نیت سے کونین نے چولہا چلایا اور برتن رکھتے وہاں مصروف ہو گئی۔

شایان اس کے پاس آیا اور اپنی آنکھوں سے نکلتے پانی سے اسے دیکھا اور منہ بسوڑا تو کونین کا قہقہہ اُبلا۔

“اففف شایان آپ رو رہے ہیں؟”

“ہنسو نہیں!”

شایان نے اسے گھورتے کہا لیکن وہ مسلسل ہنس رہی تھی۔

شایان نے آگے بڑھتے اس کے کندھے پر اپنا چہرہ رکھا تو وہ تھمی پھر شایان نے اپنی آنکھوں کو اس کے کندھے سے رگڑ کر صاف کیا۔

“اب دیکھو تمہارے کپڑے بھی میرے ساتھ ہی گندے ہوں گے” وہ پیچھے ہٹتا بولا جس کا چہرہ گلابی تھا وہ اس کی قربت میں گلابی ہو جاتی تھی یہ بات وہ جان گیا تھا۔

“نہیں میرے کپڑے گندے تو نہیں ہوئے” وہ بولی اور پھر کام میں مصروف ہو گئی۔

شایان؟

بولو! وہ وہیں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔

“ایک اور کام کر دیں!”

کیا؟

“آٹا گوند لیں!” اس نے بنا مُڑے شرارت سے کہا لیکن اس سے نگاہیں نہیں ملائیں۔

“باہر سے لے آئیں گے روٹی!”

“نہیں گھر کی کھانی ہے مجھے” وہ پھر سے بولی اور ہنسی دبانے کی خاطر ہونٹ کاٹا۔

“مجھے نہیں آتا بھئی!”

“پلیززززز!”

“اچھا لاؤ!”

شایان اس کی خاطر کھڑا ہو گیا یہ وہ شایان عثمانی نہیں تھا جسے ڈیرے کے لوگ یا اس کے گھر کے لوگ جانتے تھے یہ الگ ہی شایان عثمانی بن گیا تھا جو شاید صرف کونین خاور کے لیے تھا۔

کونین نے اسے آٹا اور پانی علیحدہ برتنوں میں دیا اور اسے بالکل بھی نہ بتاتا کہ کتنا پانی ڈالنا ہے اور وہی ہوا جو اس نے سوچا تھا۔

شایان نے اس سارے آٹے میں وہ بالٹی بھر پانی ایک بار ہی ڈال دیا تھا اور اب اس میں انگلیاں چلا رہا تھا۔

یار یہ چپک کیوں نہیں رہا ساتھ؟

“ہاہاہاہاہاہاہا!”

کونین ہنستی اسے دیکھنے لگتی اور پھر جب وہ گھورتا تو خاموش ہو جاتی اور پھر دوبارہ ہنسنے لگتی۔

شایان نے آگے بڑھتے اپنے گندے ہاتھ اس کے آگے کیے جو آٹے سے اٹے تھے۔

“نہیں شایان!”

اب وہ آگے تھی اور شایان پیچھے اور اس گھر میں ان کے قہقہے تھے۔

یہ ان کی زندگیوں کے بہترین لمحات تھے جو انہیں ہمیشہ یاد رہنے والے تھے۔

شایان نے اسے پکڑتے اس کے گالوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور اپنے ہاتھوں پر لگا سارا آٹا اس کے گالوں پر لگا دیا تو اب اسے دیکھ رہی تھی۔

“یہ بہت بُری بات ہے شایان!” وہ غصے سے بولی تو شایان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

کونین نے اسے دیکھا جو اب سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا پھر ایڑھیاں اونچی کی اور اپنے گال کو اس کے گال پر رکھا اور رب کیا تو وہ ہوش میں آیا۔

“کونیننننن!”

لیکن تب تک وہ اس کے دونوں گال گندے کرتی اب پھر ہنس رہی تھی۔

شایان نے اس کی ہنسی کے دائمی رہنے کی دعا کی لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ ہنسی وہ خود چھیننے والا ہے اس کے چہرے سے مستقبل میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اندر آئی اور اپنا سامان سمیٹا جو اس نے ابھی زیادہ کھولا بھی نہیں تھا وہ یہاں سے جلد از جلد واپس جانا چاہتی تھی۔

وہ ازلان اظہر کو دیکھنا تک نہیں چاہتی تھی اسی لیے سامان اٹھاتی اور کورٹ پہنتی باہر نکلی۔

“ہو گئیں ٹکٹس؟” اس نے اعظم سے پوچھا جس نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔

چلیں؟

“ابھی کافی وقت ہے فرشتے” وہ اسے جانچنا چاہ رہا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔

“ہم ائیرپورٹ پر ہی انتظار کریں گے” وہ کہتی دروازے کی طرف بڑھی۔

“دستانے پہن۔۔۔۔”

“میری فکر نہیں کریں۔۔۔۔بلکہ آپ نے اگر مزید یہاں رہنا ہے تو رہ سکتے ہیں میں اکیلی چلی جاؤں گی۔”

“فرشتے میں یہاں آیا ہی تمہارے کہنے پر تھا تو رُکو گا کیوں؟ چلو میں اپنا سامان لے آؤں پھر چلتے ہیں کیب بک کرواؤ اتنی دیر” وہ اپنا فون اس کو تھماتا چلا گیا۔

فرشتے نے کیب بُک کروائی۔

اب فون مسلسل بج رہے اتھا لیکن وہ نمبر سیو نہیں تھا اسے لگا کیب والے کا ہو گا اسی لیے اٹھا لیا۔

“اعظم!” وہ کوئی نسوانی آواز تھی جس میں بے حد تڑپ شامل تھی۔

“کیسے ہیں؟ شکر ہے میرا فون اٹھایا میں کل سے ملا رہی ہوں آپ میری محبت پر یقین کیوں نہیں کرتے میں نے ہمیشہ آپ کو سوچا ہے پلیز کال مت کاٹیے گا میری بات۔۔۔۔”

فرشتے نے کال کاٹ دی کیونکہ اعظم اپنا سامان لے آیا تھا۔

فرشتے نے اسے دیکھا۔۔۔۔۔اس لڑکی کی تڑپ بتا رہی تھی کہ وہ اعظم اظہر سے کتنی محبت کرتی تھی لیکن وہ شخص اپنے بھائی کے جیسا ہی ناشکرا تھا شاید وہ تلخی سے سر جھکا گئی۔

“چلیں؟” اعظم نے کہا تو وہ باہر نکل گئی۔

پھر ائیرپورٹ پر اس نے نجانے کتنے گھنٹے اپنی فلائیٹ کا انتظار کیا تھا وہ بے چین تھی، دل میں ڈر تھا کہ کہیں وہ شخص اسے ڈھونڈتا پہنچ نا جائے۔

“پتا کریں فلائیٹ کا!”

اس نے بے چینی سے اعظم سے کہا تو اس نے فرشتے کو دیکھا جو تب سے ایک منٹ نہ بیٹھی تھی۔

“بس پندرہ منٹ!”

اعظم نے کہا تو اس نے گہرا سانس بھرا اسے یاد آیا وہ کیسے خوش تھی یہاں آنے کے لیے اور اب وہ کیسے بے چینی سے اسی شخص سے دور جانا چاہتی تھی۔

ازلان نے گھر میں قدم رکھا تو خاموشی تھی اس کا دل لرزا۔

اس نے اپنا کمرہ چیک کیا اور اعظم کا دونوں کا سامان نہیں تھا یعنی وہ جا چکے تھے اسے اعظم اظہر پر غصہ آیا جس نے اسے بتایا تک نہ تھا پھر بھاگ کر گاڑی میں بیٹھتے اس نے گاڑی ائیرپورٹ کے راستے پر ڈالی تھی۔

یقیناً وہ سب سے پہلے یہیں اس ملک سے جانا چاہے گی وہ تیزی سے ڈرائیو کرتا وہاں پہنچا تھا جہاں کسی فلائیٹ کی اناؤنسمنٹ ہو رہی تھی۔

اس نے پورے ائیرپورٹ پر نظر ڈالی۔

وہ اس کو ایسے کیسے جانے دے سکتا تھا۔۔۔۔ایک آخری بار، معافی۔۔۔۔نہیں تو پچھتاووں کے علاؤہ اس کے پاس کیا رہ جاتا۔

“ہنی؟”

اس نے فرشتے کی پشت کو دیکھا تو وہیں رُک کر اسے آواز دی جو جا رہی تھی۔

فرشتے کا دل لرزا وہ مُڑ کر نہیں دیکھنا چاہتی تھی لیکن دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر مڑ کر اس شخص کو دیکھا۔

اعظم نے بھی اپنے بھائی کو دیکھا تھا جو بکھری حالت میں تھا ازلان اظہر کو ایسے کسی نے کہاں پہلے دیکھا تھا وہ تو اپنے آپ کو ہمیشہ پریزنٹیبل رکھنے والا تھا اور آج بکھرے بال شرٹ کے بٹن آدھے کُھلے، بکھرے بال اور آنکھوں کے نیچے ہلکے۔

“جا رہی ہو؟”

مجھے موقع تو دیتی۔۔۔۔وہ وہیں سے چِلایا تھا جبکہ فرشتے نے حلق میں آنسوؤں کو اٹکتے محسوس کیا اور پھر سے آگے کی طرف قدم بڑھایا۔

فرشتے ازلان ایسے نہیں جا سکتی تم! وہ پھر سے چِلایا تھا۔

لوگ ان کی طرف متوجہ ہو رہے تھے۔۔۔۔۔

“چلو فرشتے”

! اعظم نے اس کا ہاتھ تھاما اور ایک قدم آگے بڑھایا اور ازلان اظہر کی آواز آنا بند ہو گئی تھی۔

فرشتے نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے اعظم کے ہاتھ سے نکالا۔ “آئیندہ ہاتھ مت لگائیے گا اور یہ میں آخری بار آپ کو بتا رہی ہوں” وہ اعظم سے بولتی لاشعوری طور پر پیچھے مڑی تھی۔

ازلان وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو فرشتے نے ایک قدم آگے بڑھایا اور ازلان اظہر نے خشک سا قہقہ لگایا اپنی حالت پر۔

یعنی ہجر شرط تھا۔

اور پھر مُڑ گیا واپس دیکھے بنا جبکہ پلین میں جاتے تک وہ مڑ کر اسے دیکھتی رہی تھی۔

شاید ہماری قسمتوں میں کبھی ملنا لکھا ہی نہیں تھا۔