Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 17
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 17
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
سر گاڑی نکالوں؟ جہانگیر عثمانی کو باہر نکلتے دیکھ ڈرائیور نے فوراً کہا۔
نہیں! وہ بولتے قدم اٹھاتے بیرونی دروازے سے باہر نکل گئے جہاں بارش شروع ہو گئی تھی۔
آج پہلی بار وہ اس عالیشان محل سے اپنی گاڑی کے بغیر نکلے تھے اپنی اولاد کی اولاد کے لیے۔
وہ تیزی سے قدم اٹھا رہے تھے کیونکہ انہیں یقین تھا وہ دور نہیں گئی ہو گی اور اس بار وہ اپنی اولاد کی اولاد کو یوں رُلتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے پہلے ہی اس کی زندگی میں کافی محرومیاں رہیں تھیں ان کی وجہ سے!
میری گڑیا!
اسے آہستگی سے قدم اٹھاتے دیکھ وہ مطمئن ہوئے اور وہیں قدم جماتے اسے دیکھا جو بوندا باندی میں بھیگنے لگی تھی۔
کونین نے واپس مُڑ کر دیکھا اور پھر قدم آگے بڑھا لیے۔
میری بچی رُک جاؤ!
دادا کی بات سنو!
وہ شفقت سے کہتے آنکھوں میں مخصوص سی چمک لیے اس سے بولے تو وہ رُک گئی لیکن مُڑ کر ان کی طرف نہ گئی۔
تو جہانگیر عثمانی نے اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے کبھی بڑوں کو بھی جُھکنا پڑتا ہے۔
انہوں نے اس کے پاس جاتے اپنی چادر کا ایک کونا اس پر دیا جیسے اسے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا ہو۔
کونین کو فوراً شایان عثمانی یاد آیا جو یوں ہی اس کی چادر سے چھیڑ کھانی کیا کرتا تھا وہ سب یاد کرتے وہ آنکھیں میچ گئی۔
کہاں جا رہی ہو؟
اپنے اصل کی طرف! سنجیدگی سے جواب آیا تھا۔
دادا کو معاف نہیں کرو گی!
کیا اتنا آسان ہوتا ہے کسی کی غلطیوں کو پل میں معاف کر دینا؟ بچپن سے اب تک میں یہ سب دیکھتی آئی ہوں آپ کے پاس سب تھا ہمارے پاس کیا تھا؟ آپ پرانے لوگوں کے لیے فرسودہ رسومات اور روایات رشتوں سے اہم کیوں ہوتی ہیں؟
وہ اپنے قدموں کو دیکھتی بول رہی تھی ان سوالات کے جوابات جہانگیر عثمانی کے پاس بالکل نہ تھے۔
چلو!
نہیں مجھے واپس جانا ہے جہاں سے میں آئی تھی۔
اب آپ وہاں رہیں گی جہاں ہم کہیں گے! وہ بولے تو کونین نے ان کی طرف دیکھا تو وہ اسے ساتھ لگاتے اس کے ماتھے کو چوم گئے۔
نہیں! یہ وقتی سہارے نہیں چاہیے ہمیں! وہ سخت الفاظ کا استعمال چاہ کر بھی نہیں کر پائی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی کافی بدتمیزی کا مظاہرہ کر چکی تھی ان سے۔
اور اگر اس کے باپ کو یہ سب پتا چلتا تو وہ یقیناً ناراض ہوتے۔
میرا بیٹا کہاں ہے؟
آپ کے تمام بیٹے آپ کی ریاست میں موجود ہیں لوٹ جائیں کونین ان سے دو قدم دور ہوئی اور آگے کو چل پڑی۔
لوگوں کے لیے آسان ہے معافی مانگ لینا لیکن اس شخص کی تکلیف کا کفارہ دنیا کی کوئی چیز نہیں ہو سکتی جس نے سالوں ازیتوں کو اکیلے برداشت کیا ہو اور آخر میں بستر سے جا لگا ہو۔۔۔۔!
اسے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ صاف محسوس ہو رہی تھی لیکن وہ آگے بڑھتی چلی گئی۔
اور ہسپتال کے سامنے جا رُکی لیکن پیچھے مُڑ کر پھر بھی نہ دیکھا اور اپنے باپ سے ملنے سے پہلے ریسیپشن پر آئی۔
مجھے اپنے والد صاحب کو یہاں سے لے کر جانا ہے!
پر مُس وہ کافی بہتر ہو گئے ہیں ایسے اچانک۔۔۔؟
بس میں انہیں یہاں سے لے کر جانا چاہتی ہوں اور جو ان کا علاج کروا رہے تھے ان سے کہیے گا اس لڑکی نے آپ کی نوکری کر کے آپ کے لگائے پیسوں کا حساب برابر کر دیا۔
لڑکی نے پیچھے اس بزرگ کو دیکھا جن کی چال، جن کے نقوش ہی انہیں رعب دار اور وجیہہ بناتے تھے۔
انہوں نے سر ہاں میں ہلایا تو ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی نے سر ہاں میں ہلایا کونین اپنے باپ کے کمرے میں چلی گئی۔
پیچھے جہانگیر عثمانی بھی لڑکھڑاتے قدموں سے اس کے پیچھے ہو لیے اور دروازے کے باہر جا رُکے تو بالآخر کونین نے پیچھے مڑ کر انہیں دیکھا۔
چلیں گے نہیں اندر؟
وہ استسفار کرنے لگی تو جہانگیر عثمانی لرزتے ہاتھوں اور قدموں سے دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئے۔
جہاں خاور عثمانی بستر پر آنکھیں موندے پڑے تھے۔
بابا؟؟
کونین کی آواز پر انہوں نے مسکراتے آنکھیں کھولیں لیکن سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کر پتھر کے ہو گئے۔
ابا جان! ان کے لبوں سے ادا ہوا تو جہانگیر عثمانی نے آنکھیں پل کے لیے بند کر کے وا کیں۔
یہ وہ خاور عثمانی نہیں تھا جسے انہوں نے نکالا تھا روایات کا پاس نہ رکھنے پر لیکن یہ تو کوئی کمزور سا، جھریوں زدا چہرہ اور شکن سے بھرے کپڑوں میں موجود ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔
اپنے تمام بیٹوں کی سہولیات اور صحت مندر وجود یاد کرتے انہیں لگا رب انہیں اتنی ناانصافی پر معاف نہیں کرے گا تو وہ پلٹنے لگے۔
ابا جان؟ مل کر تو جائیں!
خاور عثمانی کی تڑپ پر کونین نے انہیں دیکھا وہ تو سالوں بعد بھی اپنے باپ کی بے رخی پر مچل اٹھے تھے۔
جہانگیر عثمانی قریب آئے اور پھر خاور عثمانی کو گلے لگا لیا۔
میرے خاور! کافی دیر وہ دونوں یوں ہی گلے لگے رہے کبھی لفظوں سے زیادہ خاموشی اہمیت رکھتی ہے۔
معاف کرنا اپنے باپ کو! رب کو اور تمہاری ماں کو نجانے کیسے منہ دکھاؤں گا؟ وہ دونوں باپ بیٹے رو رہے تھے کونین آہستگی سے باہر نکل گئی۔
اس گھر میں جانے کا کچھ تو فائیدہ ہوا تھا کہ اس کے باپ کو سالوں بعد اپنے باپ کی شفقت نصیب ہو گئی تھی۔
اور وہ جانتی تھی کہ اب خاور عثمانی بہتر ہو جائیں گے شاید سالوں بعد اپنے والد سے مل کر ان کی بے چینی دور ہوئی تھی لیکن نہیں کچھ دیر بعد اندر سے چیخ کی آواز سنتی وہ فوراً اندر داخل ہوئی۔
جہاں اس کے باپ کی سانسیں تیز ہوئیں تھیں۔
بابا۔۔۔۔بابا۔۔۔۔وہ دوڑتی ان کی طرف گئی۔
آپ نے۔۔۔۔آپ نے کچھ کہا ہے نا میرے بابا کو؟ ابھی تو وہ بالکل ٹھیک تھے؟ کونین جہانگیر عثمانی پر چیخی تو خاور عثمانی نے اس کا ہاتھ تھاما اور سر ناں میں ہلایا۔
ان کی طبیعت خوشی اور غم کے احساسات سے خراب پڑی تھی جب انسان کو اچانک وہ خوشی دے دی جائے جس کی اس نے امید چھوڑ دی ہو تو شاید انسان ایسے ہی ہو جاتا ہے۔
اتنی دیر میں ڈاکٹر آ گئے تھے انہیں چیک کیا گیا اور اب آدھے گھنٹے بعد ان کی طبیعت کچھ سنبھلی تھی۔
آپ جائیں یہاں سے!
اس نے جہانگیر عثمانی کو کہا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگے لیکن اپنی جگہ سے ہلے نہیں۔
خاور عثمانی نے ہوش میں آتے ہی پھر سے اپنے باپ کو مسکراتے دیکھا تھا اور ان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جہانگیر عثمانی نے پہلے کونین کو دیکھا اور پھر اپنے بیٹے کے پاس پڑے سٹول پر بیٹھ گئے۔
میری بیٹی نے ملوا دیا مجھے آپ سے!
خاور عثمانی آہستگی سے مسکراتے بولے تو جہانگیر عثمانی مسکرا بھی نہ سکے۔
کیا بتاتے انہیں کہ سالوں پہلے ان کو دھتکارا گیا تھا اور آج اسی گھر میں ان کی بیٹی کو۔
ہم گھر کب جائیں گے کونین؟ انہوں نے کونین سے پوچھا تو وہ ان کے پاس آئی۔
میں ڈاکٹر سے پوچھتی ہوں وہ باہر نکل گئی تو جہانگیر عثمانی نے بیٹے کا ماتھا چوما جو کچھ ہی لمحوں میں صحت مند نظر آنے لگا تھا انہیں۔
بابا سب کیسے ہیں گھر؟
سب ٹھیک ہیں تم آرام کرو! جہانگیر عثمانی اٹھنے لگے کہ کونین کو دیکھ سکیں۔
کہاں جا رہے ہیں؟ خاور عثمانی نے تڑپ کر پوچھا۔
تمہاری اولاد کو سنبھالنے جو مجھ سے سخت خفا ہے وہ بولتے باہر نکل گئے تو خاور عثمانی مطمئن ہوتے آنکھیں موند گئے۔
پھر جہانگیر عثمانی نے سب خود کیا تھا شام تک ان کے رہنے کا انتظام، ان کے گھر کا سامان سب ہسپتال کا سارا خرچہ سب اور اب وہ واپس آتے کونین کے ساتھ بیٹھے جو باہر ہی تھکی سی بیٹھی تھی۔
جہانگیر عثمانی اس کے ساتھ بیٹھے اور پھر سے اپنی چادر کو اس پر ڈالتے اسے جیسے خود میں چھپا لیا۔
اب کی بار اس نے حرکت کی اور اپنا سر جہانگیر عثمانی کے سینے سے لگاتے ہچکیوں سے رونے لگی۔
کیا ہم باپ بیٹی اتنے بُرے ہیں دادا جان؟
بالکل نہیں میری گڑیا تو سب سے پیاری ہے وہ اس کے ماتھے کو چومتے شفقت سے بولے۔
دیکھیں پھر بھی آپ کے پوتے نے مجھے دھتکار دیا، مجھے دھوکا دیا۔
تمہیں اس سے محبت ہے؟
نہیں! وہ سختی سے بولی تو جہانگیر عثمانی چپ ہو گئے کیونکہ وہ جانتے تھے وہ جھوٹ بول رہی تھی نہیں تو کبھی ان کے پوتے کی شکایت یوں روتے نہ کرتی۔
سب ٹھیک کر دے گا وہ۔
نہیں! مجھے اس سے نہیں ملنا اب!
وہ ضدی بن رہی تھی یا شاید اب اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کے پیچھے بھی کوئی ہے جو اسے ہر حال میں سپورٹ کرے گا۔
دادا جان آپ مجھ میں یا شایان میں سے کسی ایک کو چُنے آج؟
میں اسے گرتے دیکھ بھی آپ کے پیچھے آیا ہوں میری گڑیا کیا اب بھی ترجیح دینے کو کچھ رہتا ہے؟
وہ بولے تو وہ مطمئن ہو گئی لیکن دل پل کے لیے دھڑکا اس کی حالت کا سُن کر لیکن نظرانداز کر گئی۔
آپ اسے کبھی نہیں بتائیں گے کہ ہم کہاں ہیں۔
ٹھیک ہے!
وعدہ کریں! کونین نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے وعدہ لینا چاہا جیسے اسے یقین نہ ہو کہ اس کے دادا اپنے پوتے کو نہیں بتائیں گے۔
وعدہ!
اسے کبھی ہم تک نہیں پہنچنے دیں گے! وہ پھر سے بولی۔
وہ آپ سے عشق کا دعویٰ کرتا ہے اس کے عشق کو جانچ لیتے ہیں آپ کے ساتھ ہی۔۔۔۔میں آپ کو چھپا دوں گا آپ کے وعدے کے مطابق دیکھتے ہیں وہ کتنی دیر لگاتا ہے آپ تک پہنچنے میں۔
انہوں نے نہیں کہا تھا کہ وہ اس تک نہیں پہنچنے دیں گے شایان کو انہوں نے کہا تھا وہ وقت لگائے گا لیکن پہنچ جائے گا۔
ہم کبھی بھی اس سے نہیں ملیں گے وہ جیسے سہارا ملتے اس کی ساری شکایات لگا رہی تھی۔
آپ اپنی جگہ چھوڑ رہی ہیں کونین؟
کونین خاموش ہو گئی اس بات کا کوئی جواب نہ تھا اس کے پاس۔۔۔۔اسے یاد آیا شایان نے کہا تھا اس کی زندگی میں کسی اور کی گنجائش نہیں بنتی اور وہ جانتی تھی کہ وہ سچ تھا وہ یہ بھی جانتی تھی کہ دھوکا جیسا کچھ شاید آغاز میں رہا ہوں لیکن اس کے بعد کے سارے لمحات، سارے جذبات سچے تھے شایان عثمانی کے کیونکہ اس نے اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تھی ہر بار خود کے قریب آنے پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ہم سے اب بھی ناراض ہو؟
حسن نے کہا تو فرشتے دلچسپی سے ان کی طرف مُڑی شاید وہ جانتی تھی اب کہ اسے کیا کرنا ہے۔
نہیں میں کیوں ہونے لگی ناراض۔۔۔۔
لیکن ایک بات بتاؤ؟
کیا؟ حسن نے کہا کیونکہ نوشین اس وقت نہیں تھی ان کے ساتھ۔
یہ سگریٹ کا ٹیسٹ کیسا ہوتا ہے؟
وہ اچانک بولی اور حسن کے تاثرات دیکھنے لگی جو حیران ہوا اور پھر آنکھوں میں چمک لیے مسکرا دیا۔
تم ٹیسٹ کرنا چاہو گی؟ وہ بولا تو فرشتے پل کے لیے سنجیدہ ہوئی۔
نہیں!
کیا تمہیں کسی ایسے نشے کا پتا ہے جس سے سکون ملتا ہو اور ہم ماضی کی تلخ یادوں کو بھول جائیں؟ وہ اس کے سامنے جھکتی راز داری سے استسفار کرنے لگی۔
تو حسن محفوظ ہوا۔
بالکل! ایسا کچھ دوں گا کہ تم سب بھول جاؤ گی! حسن نے مسکراتے اسی راز داری سے کہا تو فرشتے نے مٹھیاں بھینچی یعنی “وہ” سچ بول رہا تھا اور ویسے بھی وہ جانتی تھی وہ شخص اس کے معاملے میں جھوٹ نہیں بولے گا۔
وہ مسکرا دی۔
مجھے کب دو گے؟
ابھی لے لو! حسن نے کہا اور یہاں وہاں دیکھتے بیگ سے کچھ نکالا اور اس کی مٹھی میں رکھتے اس کی مٹھی بند کی تو فرشتے کا حلق تک سوکھ گیا۔
فرشتے نے فوراً ہاتھ پیچھے کیا اور تھوک نگلتے اسے دیکھا۔
وہ خوفزدہ ہوئی تھی کیونکہ اس کے ہاتھوں میں ڈرگز تھے اگر وہ پکڑی جاتی تو۔۔۔۔اس نے تو یوں ہی پوچھا تھا اسے کیا پتا تھا حسن فوراً اسے تھما دے گا۔
ٹھیک ہے اب میں چلتی ہوں! فرشتے کھڑی ہوئی اور پھر تیزی سے بھاگتے وہاں سے نکل گئی۔
حسن نے کندھے اچکائے اور مسکرا دیا۔
اسے تو لگا تھا کافی محنت کرنی پڑے گی لیکن فرشتے ازلان نامی لڑکی تو واقعی بیوقوف تھی۔
وہ باہر کی طرف تیزی سے جا رہی تھی مٹھی زور سے بند کی ہوئی تھی ماتھے اور چہرے پر پسینے کے قطرے تھے۔
وہ تیزی سے کسی سے ٹکرائی اور اس شخص نے اس کی مٹھی سے زبردستی وہ پیکٹ چھینا اور بنا مڑے سیدھا چلا گیا تو فرشتے نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا۔
اور بھاگتے باہر نکل گئی وہ خوفزدہ ہو گئی تھی۔
ڈرائیور باہر ہی موجود تھا وقت سے پہلے ۔۔۔کیوں اس نے دھیان نہ دیا شاید مخالف جانتا تھا یا نظر رکھتا تھا اس پر۔
وہ خوف سے کانپنے لگی تو اس کا فون نجنے لگا۔
میم فون اٹھائیں پلیز!
ڈرائیور نے زِچ ہوتے کہا تو اس نے فون کان سے لگا لیا اور ڈرائیور باہر کھڑا ہو گیا نکل کر۔
بہت شوق ہے تمہیں سگریٹ ٹیسٹ کرنے کا؟ وہی آواز وہ سیٹ کی پشت پر سر ٹکا گئی۔
تمہارا دماغ درست جگہ پر ہے فرشتے ازلان اظہر؟ تم نے اس سے وہ پیکٹ کیوں لیا اگر تم پکڑی جاتی تو تمہیں اندازہ ہے تمہارے ساتھ کیا ہو سکتا تھا؟ مخالف دھاڑ رہا تھا۔
فرشتے نے خود کو پرسکون کرنا چاہا جس میں وہ ناکام ہوئی تھی آنکھوں سے آنسو بھی ڈر کے مارے نکلنے لگے تھے۔
اب رونے کا فائدہ نہیں ہے تمہیں اس کی سزا بہت سخت ملے گی!
مجھے فرق نہیں پڑتا میں وہیں کروں گی جو میں چاہتی ہوں۔۔۔۔اور وہ پیکٹ آج نہیں تو کل میں استعمال۔۔۔۔۔
فرشتےےےےےے! اس شخص کی دھاڑ پر وہ اپنی جگہ سے اچھلی تھی دل مانو باہر آنے لگا تھا۔
مجھے مجبور مت کرو کہ مجھے بہت سخت کچھ کرنا پڑے وہ شخص دھاڑا اس انجان آواز میں۔
تم جتنا سخت کر سکتے تھے کر چکے ہو وہ آہستگی سے بولی اور کال کاٹ گئی تو میلوں دور بیٹھے اس شخص نے فون دیوار پر دے مارا۔
ڈیم اٹٹٹ!
فرشتے نے گھر جاتے فریش ہوتے خود کو پرسکون کیا نہیں تو وہ بے حد ڈر گئی تھی۔
اس نے اس لیپ ٹاپ کو دیکھا جو اس کے سامنے تھا پھر مسکرا پڑی۔
تو مسٹر ازلان کے خون پیسے کی کمائی کا ہے یہ اس نے اس ڈبے کو دیکھا اور پھر اسے کھول کر دیکھنے لگی اور پرسوچ نگاہیں اس پر ٹکاتی اسے رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا وہاں سے روتے ہوئے باہر نکل گئی اور یہاں وہاں دیکھنے لگی اس نے تو بھائی کو گھنٹے بعد کا وقت دیا تھا کیونکہ اسے راستے نہیں آتے تھے۔
وہ آہستگی سے ایک طرف کو چلنے لگی اور جو کچھ دیر پہلے ہوا وہ سوچنے لگی۔
اعظم اظہر نے اس کے اعتماد کو اور اسکے جذبات کو بُرے طریقے سے مجروح کیا تھا کہ وہ چیخ بھی نہ پائی تھی۔
اس نے ہوش سنبھالنے سے لے کر اب تک اس شخص کو چاہا تھا لیکن فرشتے سے اس کی محبت اور پھر شادی کا سن کر وہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔
لیکن جیسے ہی اسے اندازہ ہوا کہ اس کے جانے کے بعد فرشتے کی شادی اعظم کے بھائی سے ہو گئی ہے تو وہ خوش ہو گئی اسے لگا قدرت نے اسے اس کی محبت پانے کا ایک اور موقع دیا ہے۔
اور اس موقع کو وہ گنوانا نہیں چاہتی تھی یہی وجہ تھی کہ اس شخص کی ہزار بے رخی کے بعد بھی وہ پیچھے نہیں ہٹی تھی۔
محبت سے دستبردار ہونا کہاں آسان ہوتا ہے! ایک بار وہ یہ تکلیف سہہ چکی تھی اور اب کی بار پھر وہ ٹوٹ کر بکھرنے لگی تھی۔
اس نے مان لیا تھا آج کہ اعظم اظہر اس کی قسمت میں نہیں لکھا گیا اور جو آپ کا نہ ہو اسے زبردستی کہاں اپنا بنایا جاتا ہے۔
وہ تیزی سے چل رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دی وہ تیزی سے پیچھے مڑی تو وہ دو لڑکے تھے جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
زارا نے تیزی سے آگے قدم بڑھائے یہ کوئی سوسائٹی تھی جہاں سناٹا تھا سہ پہر میں بھی۔
ہم چھوڑ دیتے ہیں! وہ لڑکا اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بولا۔
بکواس نہیں کرو نہیں تو وہ حال کرو گی کہ یاد رکھو گے! زارا نے واپس اپنے قدم اس ریسٹورنٹ کی طرف بڑھائے کہ وہیں رُک کر بھائی کا انتظار کرے۔
کہاں واپس جا رہی ہو ہمارے ساتھ چلو۔
ایک لڑکے نے آگے بڑھتے اس کی کلائی تھامی تو زارا نے غصے سے مُڑتے اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ جڑ دیا جس کی آواز قریب سے فرشتے لوگوں نے سنی تھی۔
وہ لڑکا جسے تھپر پڑا تھا اسکے قریب بڑھا تو زارا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ ریسٹورنٹ سے کچھ ہی دور تھی۔
اس لڑکے نے زارا کا دوپٹہ کھینچا جو پھٹ گیا تھا آدھا لیکن اس سے پہلے ہی کوئی شخص انہیں دھکا دے چکا تھا۔
زارا نے اعظم کی پشت دیکھی تو سائیڈ پر ہو گئی وجود اب بھی کانپ رہا تھا۔
وہ پاگلوں کی طرح ان دو لڑکوں کو مار رہا تھا اور اب اس نے پلٹتے سرخ آنکھوں سے زارا کو دیکھا۔
یہاں آؤ! اس نے زارا کو کہا تو اس نے سر نفی میں ہلایا۔
اعظم اس کا ہاتھ تھامتا ان لڑکوں تک لایا اب لوگ بھی دلچسپی سے تماشا دیکھ رہے تھے۔
اسی ہاتھ سے دوپٹہ کھینچا تھا نا اس نے اسی ہاتھ کو اپنی جوتے تلے مسل دو تاکہ آئندہ یہ ہاتھ کبھی کسی کے دوپٹے کی طرف نہ بڑھیں!
اس نے کہا تو زارا نے اپنے جوتے کو اس کے ہاتھ پر رکھا لیکن اس کے وزن سے اس لڑکے کی ہلکی سی سسکی نکلی بس۔
یہ پکڑو اور گاڑی میں بیٹھو جا کر فوراً اعظم نے اسے چابی پکڑائی۔
زارا نے نفی میں سر ہلایا تو اعظم نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا جاؤ! دھاڑتے کہا تو وہ چلی گئی
لیکن پیچھے ان کی آواز پر مڑ کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ اب کی بار اس کے ہاتھ پر اعظم اظہر نے اپنا بوٹ رکھا تھا۔
وہ پارکنگ میں جا کر کھڑی ہو گئی بھلا اسے کیسے پتا ہو سکتا تھا کہ اس کی گاڑی کون سی ہے۔
بیٹی کیا ہوا تھا؟
ان لڑکوں نے کیا کہا تمہیں کہ تمہارا شوہر انہیں پیٹنے کے بعد بھی چھوڑنے کا روادار نہیں وہاں کھڑا پولیس کو بلوا چلا ہے اس عورت نے جو اپنی گاڑی لینے آئی تھی اس سے پوچھا۔
اعئم تیزی سے ان کی طرف آیا اور اسے باہر ہی کھڑے دیکھ مزید طیش میں آگیا۔
تمہیں میں نے کیا کہا تھا؟ وہ بولا تو اس عورت نے اعظم کو دیکھا پھر زارا کو۔
تم بہت خوش قسمت ہو بیٹی! وہ کہتی چلی گئی تو زارا نے اسے دیکھا اور پھر خود کو خوش قسمت کہنے پر اسے سمجھ نہ آیا کہ روئے یا ہنسے۔
مجھے بھائی۔۔۔۔
تمہیں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی؟ اعظم اس کے پاس آتا اس پر جھکا تھا پھر ہاتھ بڑھائے تو زرا نے آنکھیں میچ لیں۔
اعظم نے ہاتھ بڑھاتے اس کی آنکھوں کے نیچے پھیلے کاجل کو انگلیوں سے صاف کیا۔
تمہارا بھائی آنے والا ہے جاؤ! وہ پیچھے ہٹا تو زارا نے آنکھیں کھولیں۔
اور آئیندہ یوں کبھی میرے کہنے پر بھی میری اجازت کے بغیر نہ آنا وہ بولا تو زارا اسے نظرانداز کرتی قدم آگے بڑھا گئی۔
لیکن اعظم اظہر اس کے پیچھے آیا تھا پھر جب تک وہ اپنے بھائی کے ساتھ چلی نہ گئی وہ وہاں سے ہلا نہیں۔
ایسا اس نے کیوں کیا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔
اپنی انگلیوں پر اس کے کاجل کو دیکھا تو گہرا سانس بھر گیا۔۔
