220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 15

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

“آپ مجھے کبھی مت چھوڑیے گا شایان کیونکہ میرے پاس آپ کے اور بابا کے علاؤہ تو کوئی بھی نہیں۔”

“تمہیں لگتا ہے میں تمہیں چھوڑ دوں گا؟” وہ نجانے کیا جاننا چاہ رہا تھا۔

“جن لمحات میں آپ مجھ سے بیگانے ہو جاتے ہیں اس وقت میرا دل تھم جاتا ہے مجھے ان لمحوں سے خوف آتا ہے میرے اندر سے آواز آتی ہے کہ یہ وہ پہلے دن والا شایان عثمانی ہے اور یہ شایان عثمانی تمہیں کبھی بھی چھوڑ دے گا “

وہ صاف گوئی سے بولی۔

تو شایان عثمانی کتنی ہی دیر کچھ بول نہ سکا۔

وہ اسے کیسے دھتکارنے والا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔کیا وہ ان لمحات کے بعد قائل ہوتا ان سب کا جو وہ سوچے ہوئے تھا۔

“آپ مجھے نہیں چھوڑیں گے نا شایان؟”

نہیں! وہ بولا تو کونین نے اس کے چہرے پر اپنے ہاتھ رکھے۔

“کیا ہر عورت کو اپنا شوہر اتنا ہی پیارا لگتا ہے؟”

کیونکہ اسے تو شایان عثمانی کے علاؤہ اب کچھ نہیں دِکھتا تھا۔

“تمہیں میں پیارا لگتا ہوں؟”

“بہتتت! میرے دل نے یہ چہرہ، یہ نقش و نگار حفظ کر لیے ہیں” وہ اسے بتا رہی تھی یا شاید اپنی چھپی محبت کا اظہار کر رہی تھی۔

شایان نے اسے جھٹکے سے مزید قریب کیا۔

تو کونین پھر سے سانس روک گئی۔

“بہت شوق ہے تمہیں اپنی سانسیں بند کرنے کا کونین شایان تو مجھے بولو میں یہ کام بہتر کر لوں گا”

وہ کہتا اس پر جھکا اور اپنی شدت اس پر انڈیلنے لگا۔

کونین کا ڈھکا چھپا اقرار اس کے دل میں تہلکا مچا گیا تھا۔۔۔۔مختلف سوچوں میں پھنس گیا تھا وہ، اپنے آپ کو کچھ بھی سوچنے کا موقع دیے بغیر اس نے کونین خاور کو چُنا تھا۔

وہ اس کے پہلے بھی قریب آیا تھا لیکن یہ شدت، یہ پکڑ پہلے کبھی نہیں تھی۔

کونین کو لگا وہ اسے خود میں بسا کر ہی دم لے گا۔

اس کے سینے پر ہاتھ مارے لیکن وہ شخص بے حد ڈھیٹ تھا کہ اپنی مرضی سے پیچھے ہوا۔

کونین کی آنکھوں میں پانی جمع ہو گیا۔

“کیا ہوا؟”

“آپ اب بھی پوچھ رہے ہیں شایان؟” اس نے خفگی سے کہتے دور ہونا چاہا۔

شایان عثمانی نے مسکراتے اسے دیکھا۔

“کیا تم جانتی ہو تم وہ پہلی عورت ہو۔۔۔۔”

“لڑکی۔۔۔۔۔”کونین نے تصحیح کی تو شایان عثمانی نے اسے گھورا۔

“وہ پہلی صنفِ نازک جس کی قربت کی طلب ہوئی ہے مجھے اور تم وہ پہلی لڑکی ہو جس کو شایان عثمانی کے لبوں نے چھوا ہے۔”

“تو کیا آپ کسی اور کو بھی چھوتے موقع ملتا تو؟” اس نے فوراً سوال کیا۔

“تمہیں پتا ہے تم کتنا فضول بولتی ہو؟”

شایان نے اس کے بالوں سے کیچر اتار کر پیچھے پھینکا۔

“مجھے کھلے بالوں میں نیند نہیں آتی!” وہ منمنائی۔

“ہاں بیشک تمہارا کیچر تمہارے شوہر کے بازو کو زخمی کر دے” شایان نے گھورا تو وہ مسکرا دی۔

یہ ان کے رشتے کے خوبصورت لمحات تھے۔

“تم کم مسکرایا کرو!”

شایان عثمانی کی باتیں کم۔از کم کونین کو تو عجیب ہی لگتی تھیں۔

“کیوں؟”

“ہونٹ مسکرانے کے لیے بنے ہیں اور بابا کہتے تھے۔۔۔۔”

شایان عثمانی ایک بار پھر اس پر قابض ہو چکا تھا اور پھر پیچھے ہٹتے اسے دیکھا جو اب اس کے سینے پر سر رکھ گئی تھی۔

“اب پتا چلا یہ لب کس لیے بنے ہیں؟”

اففففف! شایان اس نے اپنے دہکتے گالوں پر ہاتھ رکھا۔

“تم شرما رہی ہو کونین!” شایان نے اسے چھیرنے کی نیت سے اس کا چہرہ سامنے کیا۔

“بال کب کلر کروا رہی ہو؟”

“میرے پاس پیسے نہیں ہیں نا اتنے!”

“ہاں اور تو جیسے جب سے ہم ساتھ ہیں تم سے لیے ہیں میں نے پیسے!” شایان نے اسے گھورا۔

“ابھی کل ہی میں سودا لائی تھی باہر سے!” کونین نے ناک سکیڑے کہا۔

“تو تم سیدھا اپنے پیسے واپس مانگو طعنے تو مت دو تمہارا شوہر بہت امیر ہے۔”

“طعنہ تو نہیں مارا میں نے!”

کونین نے کہا تو شایان نے جھکتے اس کے گال پر دانت رکھے آہستگی سے۔

اففففف! میں کل سے آپ کے ساتھ نہیں سؤوں گی!”

“اچھا تو کہاں سو گی؟”

“کہیں بھی لیکن یہاں اس بیڈ پر نہیں۔۔۔۔۔”

“اچھا تو شایان عثمانی کی بیوی اپنی جگہ خالی کر رہی ہے یعنی کسی اور کی گنجائش۔۔۔۔”

“مردوں کے دل میں ہمیشہ ایک “اور” کی خواہش کیوں رہتی ہے؟” کونین نے سنجیدگی سے کہا۔

“میں مزاق کر رہا تھا یار۔۔۔۔”

“نہیں سچ میں، میں مردوں سے یہ جاننا چاہتی ہوں کہ دوسری عورت کی خواہش کیوں؟ میں نے ہزار ہاں ایسے کیسز دیکھے ہیں جہاں مرد بیوی بچوں کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کی تمنا رکھتے ہیں کیوں؟

میں نے ایسے کیسز بھی سنے ہیں جہاں عورت کا جسم اس حد تک کمزور ہو جاتا ہے کہ وہ مزید بے بیز نہیں لے سکتی لیکن پھر بھی ان پر مردوں کی طرف سے دباؤ ڈالا جاتا ہے کیوں؟

مردوں کے دل میں ہمیشہ دوسری محبت کی بھی جگہ رہتی ہے کیوں؟ ہم تو ایک مرد کو دل میں رکھ کر قبروں میں اتر جاتی ہیں۔

اور مرد غیرت مند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں پھر کیسے اپنی بیویوں کے گھر سے لائے سامان پر زندگی گزار دیتے ہیں جبکہ اسلام میں تو جہیز حرام ہے؟”

اس نے آج سارے سوال پوچھ ڈالے تھے جو بچپن سے لے کر اب تک اس کے دل میں تھے۔

“جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ویسے سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔”

“باقیوں کا پتا نہیں لیکن مجھے میری پہلی محبت کے بعد محبت حرام ہو جائے گی۔”

“تو آپ کو آپ کی پہلی محبت نہیں ہوئی ابھی؟” کونین سب بھولتے نیا سوال داغ گئی۔

شایان نے اسے گھورا لیکن جواب نہیں دیا جو کونین نے محسوس کیا لیکن نظرانداز کر دیا ابھی وقت درکار تھا ان سب میں۔

“جہیز لعنت ہے اور میں اس بات پر ڈٹا ہوں۔۔۔دوسری یا تیسری شادی کا ارادہ کبھی نہیں بنے گا میرا فکر نہ کرو اور بے بیز تمہاری پسند کے ہوں گے اور۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے جواب دیتا آخر میں پھر سے شرارت سے بولا۔

شایان عثمانی اس کے ساتھ ہوتے سب بھول جاتا تھا۔

” شایانننن! میرے سوالات کتنے سنجیدہ تھے۔”

“تو میں بھی سنجیدہ۔۔۔” ابھی وہ کچھ کہتا کہ فون بجنے لگا اس نے فون اٹھایا تو اس کے دادا کا تھا۔

“اسلام علیکم دادا جان!”

“وعلیکم السلام! کیسے ہو میرے شیر؟ اور گھر نہیں آئے آج ہم انتظار ہی کرتے رہے آپ کا!”

“میں ٹھیک ہوں داد جان آپ سے کل ملوں گا!”

“ابھی کہاں ہو؟”

“اپنے فلیٹ پر!”

اس نے کونین کو دیکھا جو اس کی باتوں پر دھیان دیے بغیر اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھی۔

شایان نے اس کی آنکھوں پر انگلی رکھتے اس کی آنکھوں کو بند کیا تو وہ ہنس دی۔

“میں اب بھی۔۔۔۔۔”

وہ کچھ بولتی کہ شایان نے اسے گھورا لیکن دوسری طرف وہ نسوانی آواز بخوبی سُن چکے تھے۔

شایان؟

دادا جان۔۔۔۔

“میرے شیر یہ تربیت تو نہیں۔۔۔۔”

“بیوی ہے میری دادا جان۔۔۔۔میں آپ سے کل ملنے آؤں گا آرام کریں کسی چیز کی فکر مت کیجیے گا خدا حافظ۔

ٹھیک ہے ہم انتظار کریں گے رب کی امان!” وہ مطمئن ہو گئے تھے جانتے تھے ان کا پوتا کچھ غلط نہیں کرے گا۔

کونین تو لفظ “میری بیوی” پر تھمی تھی۔

“تم مجھے نظر لگا دو گی!” شایان نے کہا تو کونین نے اسے گھورا۔

“میری نظر کبھی نہیں لگے گی آپ کو ہاں آپ کے آفس کی لڑکیوں کی نظر لگ سکتی ہے آپ کو!”

کونین نے آنکھیں موندتے کہا۔

ہیلو میڈیم!

کیا ہوا؟

“سونا نہیں ہے!”

“تو کیا کرنا ہے؟”

شایان نے اس کے لبوں کو شرارت سے دیکھا تو اس نے ہونٹ بھینچ لیے اور فوراً سے پیچھے ہوتے اپنے تکیے پر سر رکھ کر کمفرٹر منہ پر اوڑھ لیا۔

“ہاہاہاہا!”

شایان عثمانی کا قہقہہ گونجا۔۔۔۔وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی آمد کے بعد وہ یوں قہقہے لگا کر ہنسنے لگا تھا۔

“منہ سے بلینکٹ ہٹاؤ کونین سانس نہیں آئے گا!”

شایان نے کہا تو اس نے تھوڑا سا کمفرٹر اتارتے اس کے قدر کرنے کے انداز کو دیکھا وہ اب خود بھی سونے کی تیاریوں میں تھا۔

صبح اس کی آنکھ فجر کے وقت کھلی تو نماز پڑھی اور شایان کو اٹھایا جو نماز پڑھ کر پھر سے سو گیا تھا لیکن وہ تلاوت کرنے لگی۔

پھر کچن میں آئی اور اس کے لیے ناشتہ بنانے لگی۔۔

آٹا گوندھنے اس کے لیے پراٹھا بنایا اور اس کی کافی رکھی تب تک وہ آ چکا تھا۔

“گڈ مارننگ!”

اسلام علیکم! کونین نے اسے گھورا تو وہ مسکرا دیا۔

“ناشتہ تیار ہے آجائیں!”

کیا بنایا ہے!

“آلو کے پراٹھے!”

“آج میں نے سیلڈ کھانا تھا وہ جو ابھی بیٹھی تھی” اسے گھورتی پھر سے کھڑی ہوئی۔

“بیٹھ جاؤ!”

کونین یہی کھا لوں گا اور پھر اس نے ایک کے بعد دوسرا پراٹھا بھی کھا کیا تو کونین اسے دیکھنے لگی۔

“تم کتنی بھوکی ہو کونین!”

“کیوں؟” حیرانگی سے پوچھ گئی۔

“بس اتنے ہی پراٹھے بنائے ہیں مجھے اور بھوک ہے ابھی!” شایان نے پانی پیتے کہا۔

کونین نے منہ کھولے اسے دیکھا جو روز تھوڑا سا سیلڈ کھاتا تھا اور پراٹھوں سے تو کوسوں دور رہتا تھا اور اب دو کے بعد بھی اور مانگ رہا تھا۔

“ابھی تو آپ کو سیلڈ کھانا تھا!”

“اتنے اچھے تھے میں نے نجانے کتنی دیر بعد کھائیں ہیں، کل بھی بنانا” شایان صاف گوئی سے بولا تو وہ خوش ہو گئی۔

“اچھا یہ لیں میں نے بس کیا ہے میرا پیٹ بھر گیا” اس نے اپنا تھوڑا سا بچہ پراٹھا اس کے آگے کیا۔

“نہیں کافی پیوں گا اسے ختم کرو فوراً۔”

کونین نے سر ہلایا اور اپنا آخری نوالہ اس کے آگے کیا تو وہ فون سے سر اٹھاتا کھا گیا۔

“شایان ہمیں بہت سے سامان کی ضرورت ہے!”

“چلو لے آتے ہیں پھر مجھے نکلنا ہے۔”

اوکے! میں چادر لے کر آتی ہوں۔

وہ خوش اور مطمئن تھی اس طرح کی خوشحال زندگی اس نے کہاں سوچی تھی اسی لیے وہ ان لمحات کو کُھل کر جی رہی تھی۔

مستقبل کس نے دیکھا تھا یا کون جانتا تھا اگر لوگ مستقبل کی پریشانیاں جان جاتے تو حال کی خوشیاں خود پر حرام کر لیتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہ یونیورسٹی چلی گئی اور حسن اور نوشین سے دور رہنے کی کوشش کی۔

“کیا تم ہم سے ناراض ہو؟”

حسن نے کیفے میں اسے بیٹھے دیکھا تو اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔

نہیں!

“نوشین بھی پریشان تھی اور بُرا محسوس کر رہی تھی تمہارے نظرانداز کرنے پر تمہیں بیٹھے دیکھا تو چلا آیا تاکہ جان سکوں کہ تم ہم سے ناراض کیوں ہو؟” حسن نے سادگی کا لبادہ اوڑھتے کہا۔

“نہیں ایسی بات نہیں ہے!”

“اچھا تو چلو آج ہمارے ساتھ کافی پینے!” حسن نے فوراً پیشکش کی۔

“نہیں آج ۔۔۔”

“دیکھو فرشتے ہم نے تمہاری بہت ہیلپ کی تھی جب تم آئی تھی تم نے خود دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا اور اب تم یوں کر رہی ہو۔۔۔۔” حسن نے مصنوئی ناراضگی سے کہا۔

“اچھا میں چلتی ہوں لیکن یہ پاس والے کیفے ہی جائیں گے۔”

“اوکے میں نوشین کو لے کر آتا ہوں” وہ کہتا چلا گیا۔

فرشتے کو بھی ان سب میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوئی تھی۔

وہ سچ کہہ رہا تھا ان دونوں نے کافی مدد کی تھی اس کی اور اب وہ انہیں یوں نہیں چھوڑ سکتی تھی کسی انجان شخص کی باتوں میں آ کر۔

وہ بھی وہ جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔

چلو! دونوں نے آتے کہا تو وہ بھی ان کے ساتھ اٹھ کر پارگنگ میں آگئی۔

“تم لوگ رُکو میں گاڑی لاتا ہوں اپنی!” حسن نے کہا اور وہ دونوں انتظار کرنے لگی۔

نوشین نے اپنا فون نکالا اور کسی سے بات کرنے لگی فرشتے اردگرد دیکھنے لگی جب اس کا بھی فون بجنے لگا۔

رات والا نمبر دیکھ کر اس نے تھوک نگلا۔

لیکن وہ کیوں ڈر رہی تھی اس نے نظرانداز کیا لیکن فون مسلسل بجتا بند ہو گیا۔

کیا اسے معلوم ہو گیا ہے کہ میں حسن اور نوشین کے ساتھ ہوں؟ اس نے سوچا۔

نہیں وہ کیسے جان سکتا ہے! اس نے خود کو تسلی دی۔

اور کچھ لمحوں بعد اس کی سکرین پر میسیج کی ٹون بجی تو اس نے ناچاہتے ہوئے بھی وہ میسیج کھولا۔

“فرشتے ازلان اظہر! کال ریسیو کرو نہیں تو جہاں کھڑی ہو وہاں سے کوئی تمہیں اگواہ بھی کر لے تو کسی کو خبر نہیں ہو گی۔”

اس نے تھوک نگلا اس کی ٹانگیں کانپی تھیں یہ سوچ کر اور پھر سے فون کو بجتے دیکھ فوراً کال پِک کرتے کان سے لگایا۔

“کہا جا رہی ہو؟”

وہیں سرد وحشت سے بھرپور آواز۔

“کہ۔۔۔کہیں۔۔۔نہی۔۔۔نہیں!” وہ اٹکتے بولی۔

“سیدھا گھر پہنچو اور مجھے گھر جا کر فون کرو فوراً۔

اور کیوں مانوں میں تمہاری بات؟” وہ چیخی۔

“میں بلاک کر رہی ہوں تمہارا نمبر دوبارہ مجھے کال کر کے تنگ مت کرنا نہیں تو میں ازل۔۔۔۔۔۔”

“میری جان ایسی غلطی مت کرنا۔۔۔۔مجھے نظرانداز اور بلاک کرنے کی تو سوچ بھی دل و دماغ میں نا لانا تمہارے فون کا ڈیٹا سارا میرے فون سے اٹیچ ہے تم کہاں جاتی ہو کیا کرتی ہو سب معلوم ہے مجھے۔”

“تچ تچ تچ! پھینکنا مت تمہاری ساری تصاویر بھی میرے پاس ہی ہیں۔”

“گھر پہنچو فوراً!” وہ سرد انداز میں اسے کہتا کال کاٹ گیا۔

چلیں! حسن نے گاڑی کا ہارن دیا تو وہ ہوش میں آئی۔

“میں نہیں جا سکتی مجھے گھر جانا ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔۔”

“اووو! تو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔”

“نہیں میں چلی جاتی ہوں تم لوگ جاؤ!”

وہ کہتی تیزی سے گیٹ سے باہر نکل گئی اور کیب کرواتی گھر پہنچی۔

“سو جاؤ ہنی شام کو سات بجے سکائپ پر ریاضی کی کلاس ہو گی تمہاری!”

یہ میسیج پڑھتے اس نے دُکھتے سر کے ساتھ فون رکھا اور بنا چینج کیے لیٹ گئی۔

اعظم اس سے ملنے آیا تھا جب بوا نے بتایا کہ وہ سوئی ہے انہیں خود بھی اچھا نہیں لگتا تھا اعظم کا آنا لیکن کیا کہہ سکتی تھیں۔

اعظم نے گھر جاتے زارا کے نمبر پر کال ملائی یہ پہلی بار تھا کہ اس نے تنہائی سے بچنے کے لیے اس لڑکی کا سہارا لیا تھا اور خود سے قدم بڑھایا تھا۔

“اوو مائی گڈنیس! اعظم آپ نے مجھے خود کال کی ہے مجھے یقین نہیں ہو رہا۔”

“کہاں ہو؟” جواب میں اعظم نے بس یہ پوچھا تھا۔

گھر پر ہوں!

“میں تم سے ملنا چاہتا ہوں!” اعظم نے سنجیدگی سے کہا۔

“کیوں؟” زارا نے جھجکتے کہا۔

“میں دیکھنا چاہتا ہوں وہ کون سی لڑکی ہے جو مجھ سے محبت کا دم بڑھتی ہے؟”

“وہ میرے قابل ہے بھی یا نہیں؟”

اس کا لہجہ سرد سا تھا یہ بات زارا کے دل کو لگی تھی وہ تو عام سی تھی اس کے سامنے!

“کیا ضروری ہے ملنا؟”

بالکل!ابھی پہنچو نہیں تو دوبارہ بات ہو گی یہ بھول جانا۔

کل۔۔۔! زارا نے کچھ کہنا چاہا۔

“آج بلکہ ابھی آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس لوکیشن بھیج رہا ہوں پہنچ جانا!”

“اعظم میری بات۔۔۔لیکن کال کاٹ دی گئی۔۔۔۔”

زارا کے ہاتھ پاؤں پھول گئے وہ کیا کرتی وہ جانتی تھی وہ نا گئی تو اعظم اس کی کال کبھی نہیں اٹھائے گا اور اسے تو شاید وہ یاد بھی نہ ہوتی!

اب وہ باہر نکلی جہاں اس کی بھابھیاں کھانا تیار کر رہی تھی۔

بھابھی میں وانیہ کے گھر جا رہی ہوں وہ کچن میں آتی انہیں بتانے لگی۔

“بی بی کچھ مدد کرو ہماری پھر چلی جانا!” چھوٹی بھابھی نے غصے سے کہا۔

“تم جاؤ زارا ہم سنبھال لیں گے اور کیا پہن رہی ہو؟” بڑی بھابھی نے پیار سے پوچھا تو وہ مسکرا دی۔

“پتا نہیں!”

“چلو آؤ میں دیکھ کر بتاؤں!”

وہ اس کے ساتھ اس کے کمرے میں آگئی اور پھر اسے کالے رنگ کا سوٹ تھمایا تو وہ ان کے گال چومتی بھاگ گئیں۔

ان کی کوئی اولاد نہیں تھی وہ زارا کو بیٹی اور بڑی بہن کی طرح ٹریٹ کرتی تھیں۔

وہ فریش ہو کر باہر آئی اپنے بال سکھائے کاجل لگایا اور ہلکی سی لپکسٹک لگاتے خود پر ایک نظر ڈالی۔

گندمی رنگت، لمبے کالے بال جن کو اس نے چادر میں ڈھانپ لیا تھا، کالی پاؤں کو چھوتی لمبی سمپل قمیض کے ساتھ کیپری اور نیچے فلیٹس پہنتے اس نے خود کو دیکھا اور باہر نکل گئی۔

اور پھر سارے راستے اس کا دل دھڑکتا رہا تھا۔

“کہاں اترنا ہے گڑیا؟” اس کے چھوٹے بھائی نے پوچھا۔

“بس یہ اسی ریسٹورنٹ!” اس نے تھوک نگلتے کہا۔

اسے جھوٹ بولتے بے حد برا لگ رہا تھا کہ وہ وانیہ سے ملنے آئی ہے بھائی چھوڑ کر چلا گیا تو وہ اندر داخل ہوئی۔

وہ کوئی بہت بڑی جگہ تھی وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی۔

اعظم جو دور بیٹھا داخلی دروازے پر ہی نظریں ٹکائے ہوا تھا اس لڑکی کے اندر آنے اور پھر انگلیاں مڑوڑتے یہاں وہاں دیکھنے کو محسوس کرتا کھڑا ہوا۔

لیکن وہ کیسے ہو سکتی تھی وہ۔

اسے تو لگا تھا وہ کوئی بہت بولڈ لڑکی ہو گی لیکن وہ تو چادر میں ڈھکی چھپی اس کے سامنے تھی۔

اعظم کو دیکھتے زارا نے اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے تو اعظم کو یقین ہوا گیا کہ وہی وہ زارا نامی لڑکی ہے۔

اسلام علیکم! زارا نے پُراعتمادی سے سلام کیا اور بیٹھ گئی۔

زارا؟

جی!

“مجھے کیسے پہچان لیا تم نے؟” اعظم نے سنجیدگی سے پوچھا۔

“آپ کو لگتا ہے میں کسی انجان شخص سے بات کرنے کے لیے روز سم بدلتی ہوں؟ اور دیکھے جانے بنا آپ کو یہاں آگئی ہوں؟” اس نے اعظم کو لاجواب کیا۔

وہ اس کی پُراعتمادی اور حاضر جوابی کا قائل ہوا۔

چلو!

“کہاں؟”

بتاتا ہوں وہ اٹھا تو زارا نروس ہوتی اس کے پیچھے لفٹ میں داخل ہوئی اور جس فلور پر نکلے وہاں صرف کمرے تھے۔

“ہم کہاں آئے ہیں؟”

اعظم نے بنا جواب دیے دروازہ کھولا اور اسے ہاتھ سے اندر جانے کا اشارہ کیا۔

“نہیں! مجھے نہیں جانا اندر ہم کہیں باہر ہی بات۔۔۔۔”

اعظم نے اسے ہاتھ سے اندر کھینچا اور دروازہ بند کیا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے اعظم؟ میں یہاں آپ کے ایک بار کہنے پر چلی آئی اور۔۔۔”

“کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے؟” اعظم نے اس کی طرف قدم بڑھائے کہا۔

“تھوڑی بھی نہیں، مجھے جانے دیں!”

زارا کا دل سہم گیا اس نے یہاں آ کر غلطی کر دی تھی لیکن وہ تو اعظم کو کافی عرصے سے جانتی تھی وہ ایسا شخص تو نہیں تھا کہ کسی کی عزت۔۔۔۔

اعظم۔۔۔۔۔زارا نے پیچھے قدم اٹھاتے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“میں دیکھنا چاہتا ہوں مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو تم اور پتا ہے میں تمہیں کیسی لڑکی سمجھتا ہوں؟”

اعظم نے اسے دیکھتے کہا جو دیوار کے ساتھ لگی اب کانپ رہی تھی۔

“مجھے جانے دیں۔۔۔۔”

“کیوں؟ کسی انجان شخص کے ایک بار بلانے پر چلی آئی ہو اور اب یوں ڈرامے۔۔۔۔”

زارا کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔