220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 11

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

کھانا کھاتے بھی وہ اس سے باتیں کر رہی تھی مسلسل شایان عثمانی نے اسے اتنا بولتے کبھی نہیں دیکھا تھا شاید وہ پہلی بار کسی کی توجہ اور محبت ملنے پر اپنا آپ کھول رہی تھی۔

“مجھے میٹنگ کے لیے جانا ہے تم سو جاؤ!”

وہ اٹھتا بولا اس کی باتوں میں وہ اسے آخری نوالہ اپنا کِھلانا بھول گیا تھا۔

کونین نے محسوس کیا لیکن بولی نہیں۔

“کیا میں بھی آجاؤں ساتھ؟”

“نہیں تم کیا کروں گی؟”

“لیکن رات کو کون سی میٹنگ ہے مجھے اکیلے ڈر لگے گا۔”

“سو جاؤ جا کر۔۔۔کلائینٹ نے رات ہی کو ملنے کا وقت دیا تھا میں جلدی آجاؤں گا” وہ کہتا اٹھا اور اپنی فائنلز اندر سے لینے چلا گیا۔

کونین نے اس کے جاتے تک اس کی پشت کو دیکھا تھا اسے لگا جیسے وہ اس سے بہت دور جا رہا ہے۔

“شایان؟”

وہ جو نہیں چاہتا تھا وہ اس سے مخاطب ہو مجبوراً واپس مُڑا۔

“جلدی آجائیں گے نا؟”

“کوشش کروں گا!”

وہ بس اتنا ہی بول پایا اور واپس نکل گیا اس کی کوئی میٹنگ نہیں تھی اس وقت لیکن وہ اس لڑکی سے دور جانا چاہتا تھا۔

وہ اسے بُرے طریقے سے اپنے سحر میں مبتلا کر رہی تھی جو وہ نہیں ہونا چاہتا تھا۔

گاڑی میں بیٹھتے اس نے گاڑی سڑک پر ڈال دی جانا اسے کہیں نہیں تھا لیکن وہ پھر بھی اس سے دور جا رہا تھا۔

“جی خالہ؟” فون پر ان کا نمبر دیکھتے اس نے کال پِک کی۔

“کیا اس کی بیٹی تمہارے ساتھ ہے؟”

“آپ کو کیسے پتا؟” وہ سنجیدہ سا بولا۔

“مجھے تمہارے بارے میں سب پتا ہوتا ہے شان۔۔۔۔اس کی بیٹی تمہارے ساتھ ہے۔۔۔۔کیا ہوا خالہ کے ساتھ ہوئی زیادتیاں بھول کر تمہیں اپنی بچپن کی منکوحہ یاد آ گئی ہے.”

“ایسا کچھ نہیں ہے” وہ سنجیدہ ہوا اور گاڑی ایک طرف روکی۔

“میں نے ساری زندگی تم پر وقف کی ہے شان اور تم اس شخص کی بیٹی پر اپنا آپ وار رہے ہو!” وہ لہجہ نم کرتے بولیں۔

“خالہ پلیز آپ روئیں نہیں میں آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔”

واپس آجاؤ پھر!

“میری میٹنگ ہے ابھی!” جو کل پرسوں ہونی تھی ابھی۔

“اسے واپس بھیجو پھر۔”

کیسے؟ وہ بھونچکا گیا۔

“یہ تم پر منحصر ہے لیکن اگر وہ مزید اب تمہارے ساتھ رہی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔اس شخص کو تو کیا اس کی بیٹی کو بھی سکھ نصیب ہوا تو میں تم سے کبھی نہیں ملوں گی۔”

“خالہ میں میٹنگ ہوتے اسے واپس۔۔۔۔”

لیکن کال کٹ گئی تھی وہ اپنے بال مٹھیوں میں بھینچ گیا اسے واپس اکیلے کیسے بھیجتا وہ۔

اس کے اعتماد کے لوگ تھے یہاں لیکن۔۔۔۔۔

اس نے سٹرینگ ویل پر سر ٹکا دیا وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اب اس لیے واپسی کے راستے پر گاڑی موڑ لی۔

“کیا آپ کو پتا ہے آپی آپ کا بیٹا کیا کرتا پھر رہا ہے۔”

نہیں مجھے نہیں معلوم۔

“وہ لڑکی جو اس کے ساتھ گئی ہے وہ معلوم ہے کون ہے؟؟”

نہیں!

“آپ کتنی بے خبر ہیں وہ خاور عثمانی کی بیٹی ہے” وہ بولی تو تہذیب عثمانی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“یہ کیسے ممکن ہے؟”

“وہ واپس آئی تھی شاید اپنے شوہر کو پانے اور اس گھر کا حصہ بننے کیا پتا یہ اس کے باپ کی کوئی چال ہو۔”

“تم بھی جانتی ہو اس کے باپ کی چال نہ سالوں پہلے تھی کوئی اور نہ اب ہو گی” وہ بولی تو دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔

خیر میں نے اسے کہا ہے کہ واپس بھیجے اس لڑکی کو ۔۔۔ہمارا لڑکا ہمارے ہاتھ سے نا نکل جائے۔

ٹھیک ہے۔

وہ الجھی ہوئی سوچوں میں بھٹکا گھر آیا تھا لیکن اپنی خالہ کہ آنسوؤں نے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کر دیا تھا۔

“اتنی جلدی آگئے؟”

کونین اپنے کمرے میں تھی جب بیرونی دروازے کو کُھلتے اور پھر بند ہونے کی آواز سنتے وہ باہر نکل آئی فوراً۔

“پیکنگ کر لو تم جا رہی ہو؟”

کونین نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔

“اتنی جلدی جا رہے ہیں کتنا اچھا لگ۔۔۔۔”

“ہم نہیں تم ۔۔۔۔تم جا رہی ہو بس۔۔۔۔”

میں اکیلی؟ اس نے حیرت سے اپنی طرف انگلی کرتے تصدیق کرنی چاہی۔

“ہاں! سامان باندھو!”

لیکن۔۔۔۔

“مجھے کچھ نہیں سُننا۔۔۔سامان باندھو ڈرائیور کا بندوبست کر لیا ہے وہ چھوڑ آئے گا تمہیں بیشک اپنے باپ سے مل لینا جا کر۔۔۔”

کونین کو لگا وہ وہ شخص نہیں ہے جسے پچھلے کچھ دنوں سے وہ جان رہی تھی اور مزید جاننا چاہتی تھی۔

یہ وہ شخص تھا جو اسے آغاز میں ملا تھا بے مروت اور احساسات سے عاری۔

“میں اکیلے کیسے جاؤں گی وہ بھی اس وقت؟” اس کا دل لرزا۔

“ڈرائیور بھروسے مند آدمی ہے اب جلدی سامان سمیٹو وہ آنے والا ہو گا” وہ کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

کونین کچھ سوچتی اندر آئی جہاں وہ واش روم میں تھا۔

اس نے دھیرے سے اپنی پیکنگ شروع کی۔

اس کے باہر آتے ہی اس کی طرف لپکی۔

“شایان پلیززز! میں آلث کے ساتھ ہی واپس جاؤں گی۔۔۔بابا سے واپسی پر مل لوں گی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور۔۔۔”

“سمجھ نہیں آرہی تمہیں میری بات؟” وہ دھاڑا تو وہ دو قدم پیچھے ہوئی اور پھر اپنی چیزیں سمیٹیں۔

پھر اپنا سامان والا بیگ اٹھانا چاہا کہ وہ آگے بڑھا اور اس کا بیگ اٹھاتے باہر نکل آیا۔

وہ گیٹ پر جا کر کھڑی ہو گئی۔

“چادر اوڑھو!”

“نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے اس نے دوپٹے کو اچھے سے لپیٹ رکھا تھا۔”

شایان کچھ نہیں بولا۔

“اندر انتظار کر لو ابھی آجاتا ہے۔”

ضرورت نہیں!

“آپ جائیں اندر وہ آئے گا تو میں چلی جاؤں گی۔”

کونین کا دل دھک دھک ہو رہا تھا وہ ابھی اس شخص سے دور نہیں جانا چاہتی تھی ابھی تو دل میں اس شخص کے لیے نرم گرم جذبات ابھرنے لگے تھے اس کے دیکھنے پر پیٹ میں تتلیاں سی بھرنے لگی تھیں اور ابھی اس نے جدائی کا پروانہ اسے تھما دیا تھا۔

“کیوں؟” جواب وہ چاہ کر بھی جان نہیں پائی تھی۔

آہ! اس نے گہرا سانس بھرا۔

پھر ڈرائیور کے آتے اس نے شایان کو دیکھا جو اس کا سامان رکھتا ڈرائیور کو کچھ کہہ رہا تھا۔

وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔

امید بھری نگاہیں ابھی بھی اسی شخص پر تھیں کہ شاید وہ روک لے۔

“مجھ سے بات کرتی رہنا پہنچ کر بتا دینا!”

لیکن وہ شخص یہ سب کہہ کر امیدیں توڑ گیا تو کونین نے بنا کچھ کہے اپنی طرف کا شیشہ اوپر چڑھا دیا۔

وہ جو نظر بھر کر دیکھنے کا مجھے روادار نہیں

میرا دل کیوں اس کے لیے پاک سے جذبات رکھتا ہے!

از قلم خود۔

شایان عثمانی اندر آ گیا اور دروازہ بند کر لیا۔

گھر اس کے جاتے ہی خالی سا لگنے لگا تھا لیکن کیا فرق پڑتا تھا اس کی زندگی میں کونین خاور کی کوئی جگہ نہ کل تھی اور نہ کبھی ہونی تھی شاید۔

کونین سارے راستے رب کا نام لے رہی تھی کیا اسے اس کے بعد شایان عثمانی پر بھروسہ کرنا تھا؟

جس نے نجانے کیوں لیکن صبح تک کا بھی انتظار نہیں کیا تھا اسے ایک انجان شخص کے ساتھ رات کے اس پہر ہی روانہ کر دیا تھا۔

“بھائی ہم کب تک پہنچیں گے؟”

ڈرائیور نے اسے کن اکھیوں سے شیشے سے دیکھا پھر بولا بس تھوڑی دیر!

انہیں نکلے گھنٹہ ہو گیا تھا اس نے دیکھا اس کے فون پر شایان کی کال آرہی تھی جو اس نے اٹھائی نہیں۔

“یہ کون سے جگہ ہے بھائی؟”

وہ سڑکوں کی جگہ اب اسی کچی سڑکوں کو دیکھتی استسفار کرنے لگی۔

دل دھڑکنے لگا تھا کسی انہونی کے احساس سے۔

ڈرائیور نے اسے بیک ویو مرر میں دیکھا تھا بولا کچھ نہیں۔

اس کا دل دھڑکا اور اتنی زور سے دھڑکا کہ اسے باہر تک آواز آنے لگی۔

“رب العالمین میری عزت رکھ لینا۔۔۔۔”وہ ورد کرنے لگی لیکن اس شخص کی نگاہیں محسوس کرتے اس نے فوراً شایان کو کال ملا دی۔

“ہیلو شایان میں۔۔۔۔”

“اےےے بند کر اسے!”

ڈرائیور نے فوراً اس کے ہاتھ سے فون جھپٹنا چاہا جو وہ مظبوطی سے تھام گئی دل جیسے باہر آنے کو ہوا وہ ٹھیک سمجھ رہی تھی اس کی حسیات اسے صحیح سگنلز دے رہیں تھیں۔

“کونین۔۔۔۔؟”

وہ جو اسی کو بار بار کال ملا رہا تھا اس کے فون نہ اٹھانے پر پریشان ہوا تھا لیکن اب کی بار جو اس نے مخالف سمت سے سُنا تھا وہ اسے وحشت میں مبتلا کر گیا تھا۔

وہ فوراً باہر کی طرف بھاگا تھا اسے نہیں یاد کہ اس نے بیرونی دروازے کو لاک بھی لگایا تھا یا نہیں۔

گاڑی کو سو کی اوپر کی سپیڈ میں چلاتے اس نے نجانے کتنے سگنل توڑے تھے۔

دماغ صرف اس وقت اسے یہ بتا رہا تھا کہ اس کی بچپن کی منکوحہ، اس کی بیوی، اس کی اپنی عزت خطرے میں تھی اس وقت اسے صرف یہ یاد تھا کہ وہ لڑکی، وہ صنفِ نازک، وہ عورت اس کی بیوی ہے جس سے نبھانے کا اس نے سوچا تھا اور پہل بھی خود کی تھی۔

اس ڈرائیور نے اسے گالی دی تھی جو شایان عثمانی کے کانوں میں اب تک گونج رہی تھی۔

وہ تو بھروسے مند انسان تھا جو اس کے کام پہلے بھی کر دیا کرتا تھا۔

لیکن کیا اپنی عورتوں کے لیے کسی غیر مرد پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا۔۔۔؟

آج کے بعد تو بالکل نہیں!

اس نے خود پر دس بار لعنت بھیجی اور سٹرینگ پر پکڑ اور مظبوط کر لی۔

“چھوڑو۔۔۔!”

کونین نے اپنے جسم پر پہلی بار کسی غیر مرد کا لمس محسوس کیا تو اس کی روح فنا ہوئی۔

وہ شخص اس کے ساتھ اندر بیٹھتا اسے قابو میں کرنا چاہ رہا تھا۔

“پلیززز۔۔۔۔۔اللّہ!!!”

اس کی دل خراچ چیخیں تھیں بس چاروں اور لیکن مدد کرنے والا کوئی نہیں کیونکہ وہاں کوئی گھر وغیرہ نہ تھے وہ کسی گاؤں کی طرف جاتی کچی سڑک معلوم ہوتی تھی۔

“خدا کا واسطہ ہے۔۔۔۔۔”وہ ہاتھ جوڑنے لگی تھی۔

نجانے لڑکیاں کیسے اپنے گھروں کو چھوڑ کر کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جانے کا سوچ لیتی ہیں۔۔۔۔۔کیسے اپنے گھر والوں کے نا ماننے پر ایک انجان شخص کے لیے سب کچھ چھوڑ جاتی ہیں، اس چار دیواری کو چھوڑ جاتی ہیں جہاں انہیں سرد ہوا تک نہیں لگنے دی اس کے گھر کے مردوں نے، نجانے کیسے لڑکیاں گھر میں لگی پابندیوں سے آزادی کے نام پر اس چار دیواری سے نکل جاتی تھیں جہاں بچپن گزارا تھا جہاں مردوں نے اس پر ساتھ والے گھر کے آواراہ لڑکے کی نظر تک نہ پڑنے دی تھی، نجانے کیسے لڑکیاں مختلف ناولز یا کہانیان پڑھ کر کڈنیپ ہوئی لڑکیوں جیسی زندگی کو آئیڈیلائیزڈ کر لیتی تھی۔۔۔۔اس چار دیواری میں بیشک سہولتیں نا ہوں لیکن وہ چار دیواری کی اہمیت پتا ہے کیا ہے وہ چار دیواری وہ عام اینٹوں کی بنی عمارت عزتوں کی بنیاد پر کھڑی ہے جہاں کوئی ہاتھ تک تو کیا نظر نہیں اٹھا سکتا۔

ایک رات بارہ کے بعد باہر نکل کر دیکھو کیا ملک کے حالات ایسے ہیں کہ تم نکل سکو، کیا مردوں کا بھروسہ ہے کہ باہر نکلا جا سکے، رات کی تاریکی میں چھپے ہوئے بھیڑیے بھی شکار کی تلاش میں نکل آتے ہیں، یا وہ جو سورج کی روشنیوں میں باخلاق بنے پھرتے ہیں رات کو اخلاق بھولتے نوچنے کو تیار ہوتے ہیں اور اگلی صبح کسی کو نہیں معلوم ہو پائے گا کہ تم کہاں گئی وہ چار دیواری جو تمہارے گھر کے مردوں نے بنائی ہے نا وہ، وہ جگہ ہے جہاں باپ، بھائی مر جائیں گے لیکن تم تک سرد ہوا تک نہ آنے دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے جاگنے سے پہلے ہی وہ اٹھ گیا تھا باہر جاتے اس نے ناشتہ تیار کرنا شروع کیا۔

اعظم اب تک واپس نہ آیا تھا۔

وہ اندر آیا جہاں ساڑھے نو ہو گئے تھے اور وہ اب بھی پُرسکون سی سو رہی تھی۔

“فرشتے!”

وہ کروٹ بدل کر پھر سے سو گئی جیسی اس کی مداخلت پسند نہ آئی ہو۔

“فرشتے اٹھیں ناشتہ کریں!”

وہ اسے سیدھا کر کے جھٹکے سے بٹھا گیا تو وہ بیلنس برقرار نہ رکھتے ہوئے اسکے کندھے پر جھول گئی۔

ازلان اظہر نے خاموشی سے اس کے سر کو اپنے کندھے پر دیکھا پھر گہرا سانس بھرا۔

اس کے بال چہرے سے ہٹاتے اسے سیدھا بٹھایا تو وہ آنکھیں کھول گئی۔

“اٹھو ناشتہ کرو!”

“ابھی تو سوئی تھی میں اور سؤوں گی میں!”

وہ اس سے پہلے دوبارہ اس کے کندھے پر سر رکھتی ازلان نے اسے کھینچ کر بیڈ سے نیچے اتار دیا۔

ٹھنڈی زمین پر پاؤں رکھتے ہی اس کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے اس نے خفگی سے ازلان کو دیکھا۔

برش رکھ دیا ہے تمہارا فریش ہو کر آؤ۔

“کیا اعظم آ گئے ہیں؟”

ازلان نے مُڑ کر سخت نگاہ اس پر ڈالی تو وہ گڑبڑا گئی وہ تو اس لیے پوچھ رہی تھی کہ وہ اکیلے اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی لیکن ازلان اظہر غلط ہی سمجھا تھا۔

وہ فریش ہو کر آئی تو ازلان نے اس کے سامنے سینڈوچ رکھے جو اس نے خاموشی سے کھانا شروع کیا۔

“ازلان؟”

“بولو؟”

“کیا آپ نے یہاں کوئی دوست بنائیں ہیں؟” اس نے ازلان پر گہری نگاہ ڈالتے پوچھا۔

“کیوں پوچھ رہی ہو؟”

وہ بے حد سنجیدہ تھا کل سے جب سے وہ آئی تھی اور وہ یہ صاف محسوس کر سکتی تھی۔

“آپ ایسے کیوں بات کر رہے ہیں؟ آپ کو میرا آنا اچھا نہیں لگا تو واپس چلی جاتی ہوں میں” وہ اپنی جگہ سے اٹھی۔

ازلان نے اس کے آگے دودھ کا گلاس رکھا۔

“اسے ختم کرو!”

“میں نہیں پیتی یہ۔”

“فرشتے اسے ختم کیے بغیر یہاں سے مت اٹھنا”

اس کی آواز میں حد درجہ سختی محسوس کرتے وہ وہیں بیٹھ گئی اور منہ بناتے وہ دودھ کا گلاس پینے لگی۔

“ازلان؟”

وہ فوراً سے اپنی کرسی سے اترتے اس تک آئی تھی جو سیدھا ہوا تھا شلف پر اپنا کپ رکھ کر۔

“اب ہم یہیں رہ سکتے ہیں نا؟”

ابھی وہ جواب دیتا کہ دروازہ کُھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی اور فرشتے اپنی جگہ پر بیٹھ گئی دوبارہ ازلان کو ناگوار گزرا تھا اس کا یوں اس سے دور جا کر سابقہ پوزیشن میں بیٹھ جانا۔

“ارے واہ ناشتہ ہو رہا ہے؟”

وہ بھی فرشتے کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا تو ازلان نے کافی بنا کر اس کے آگے رکھی اور ایک کپ خود کے سامنے دوبارہ پینے لگا۔

پیو گی؟ اعظم نے اس سے پوچھا۔

“نہیں یہ دودھ پی چکی ہے اور اسے کافی وغیرہ اب سے نہیں پینی” وہ بتا نہیں رہا تھا حکم دے رہا تھا۔

میں خیال رکھ لوں گا اعظم نے مسکراتے فرشتے کو دیکھا۔

فرشتے جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اس سے پہلے کہ وہ جاتی اعظم اس کے سامنے کھڑا ہوا ازلان اپنی جگہ سے فورا کھڑا ہوا تھا۔

“فرشتے واپس کب جانا ہے؟”

“میں یہاں سے جاتے ہی تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں بہت انتظار کیا ہے تمہارا” اس نے فرشتے کے دونوں بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے۔

فرشتے نے جھٹکے سے سر اٹھاتے پہلے اسے دیکھا پھر ازلان کو۔

“بھائی اس سے پیچھے ہٹیں!” وہ سرد سے لہجے میں بولا۔

“کیوں بھئی؟”

“میری ہونے والی بیوی ہے اور بچپن سے مجھے پسند کرتی ہے ہنی” وہ اس کے گال کو کھینچتا بولا۔

ازلان نے آگے بڑھتا اسے اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ پیچھے دروازے میں بجا تھا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے ازلان؟” اعظم چیخا تھا۔

“میں نے کہا نہیں آپ کو کہ اس سے دور رہیں؟”

“اور کیوں دور رہوں میں تم پاگل ہو گئے ہو؟”

“پاگل ہو گیا ہوں میں، ہاں پاگل ہو گیا ہوں میں۔۔۔۔”

“ایک منٹ کہیں تمہیں بھی فرشتے پسند۔۔۔۔”

“دیکھو ازلان میرے بھائی وہ مجھ سے محبت کرتی ہے بچپن سے اور ہم شادی کرنے والے تھے لیکن مجھے جانا پڑا لیکن اب میں جلد سے جلد فرشتے سے شادی۔۔۔۔”

ازلان نے بنا لحاظ کرتے اپنے بڑے بھائی پر حملہ کیا اس کے منہ پر مکے برسائے تھے جس سے اس کے ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا تھا۔

فرشتے نے کانپتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھتے ازلان کو اس سے دور کیا تھا۔

“از۔۔۔ل۔۔۔لان۔۔۔ہٹیں!”

ازلان نے اسے دور کیا تھا اور اس کو ایسی نظر سے دیکھا کہ فرشتے ہٹ گئی وہ کانپ رہی تھی اس نے ازلان اظہر کا یہ روپ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

ہاں بچپن سے وہ بہت غصے والا تھا، غصہ کم آتا لیکن جب آتا تھا تو وہ اپنے آپے میں نہیں رہتا تھا۔

اس نے فرشتے کا ہاتھ پکڑا۔

“دور رہو اس سے اور دیکھ رہے ہو میرے ہاتھ میں ہے اس کا ہاتھ نکلو اب فوراً” ازلان نے کہا تو اعظم آگے بڑھا۔

ازلان نے اسے اپنے گھسیٹتے کمرے میں لے جا کر دھکا دیا اور پھر اعظم کو پیچھے دھکا دیا۔

“ڈونٹ یو ڈئیر!” وہ دھاڑا۔

“ازلان تم پاگل ہو گئے ہو میں ڈیڈ کو فون۔۔۔۔”

جس کو مرضی کرو! اس نے کہتے دروازہ اس کے منہ پر بند کیا۔

فرشتے کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔

ازلان مُڑا اور اسے دیکھنے لگا پھر اس کی طرف قدم بڑھائے لہو چھلکاتی نگاہوں سے اسے دیکھا تو فرشتے کا سانس خشک ہوا۔

“ازلان۔۔۔۔”

لیکن وہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھا۔

“تم اس سے محبت کرتی ہو نا اب بھی۔۔۔۔ اب بھی اس سے محبت کرتی ہو اور وہ کہہ رہا ہے ڈیڈ کو فون کروں گا ان کے نام سے ڈرا رہا ہے مجھے، تمہیں چھیننے کی بات کر رہا ہے وہ فرشتے ازلان تمہیں۔۔۔۔مجھے کچھ کبھی نصیب کیوں نہیں ہوا۔۔۔ہمیشہ اسے ہی سب کیوں ملا؟”

وہ اس کے نزدیک آتا اس کے بازوؤں کو تھامتے بولا۔

فرشتے کو لگا اس کی انگلیاں بازوؤں میں دھنس جائیں گی وہ کانپ رہی تھی۔

“میں تم پر اپنی مہر لگا دیتا ہوں میں تم اپنی چھاپ ایسی چھوڑوں گا کہ وہ جان جائے گا کہ تم میری بیوی ہو، میری ملکیت۔”

وہ اسے بیڈ پر دھکا دیتا اس پر جھکا تھا کونین اونچی آواز میں رونے لگی تھی۔

اعظم اپنے باپ کو فون کرنے لگا اور دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔

“اسے بولو یہ جائے یہاں سے”

اس نے فرشتے کو کہا فرشتے نے سر ناں میں ہلایا اس وقت وہ بے حد ڈر رہی تھی اس سے۔

“کیوں نہیں بول رہی اسے جانے کا۔۔۔۔۔؟”

وہ دھاڑا اور پھر اس پر جھک گیا اس کی سانسوں میں اپنی سانسوں کی وحشت ملانے لگا۔

وہ اس وقت اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا وہ نہیں جانتا تھا کیا کر رہا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اس سے پہلے اس پھول جیسی لڑکی کو کسی نے ایسے ہاتھ لگائے تھے اور ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب اس لڑکی کو اسی نے اس ٹرامہ سے نکالنے میں اپنی زندگی کے سال لگائے تھے اور اب وہ خود اپنے ہاتھوں سے اس کے ساتھ یہ کر رہا تھا، اسے اسی دوراہے پر دوبارہ لانے والا تھا۔

“ازلان۔۔۔۔”

ازلان اس کی گردن پر جھکا اس پر اپنی وحشت انڈیل رہا تھا فرشتے کا کانپنا، رونا سسکنا اسے جیسے سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔

فرشتے نے اسے دور کرنا چاہا اور ہر بار دور کرنے پر وہ اس کے اور نزدیک ہوتا تھا۔۔۔۔فرشتے کے ہونٹوں پر خون کی بوند تھی گردن پر اور چہرے پر جابجا نشان۔۔۔۔وہ شخص اس وقت اس کا شوہر تو ہرگز نہیں لگا تھا اسے۔

“چھوڑو۔۔۔۔۔”

فرشتے رو رہی تھی جبکہ اعظم سگنلز نہ ملنے پر باہر نکل گیا تھا۔

“تم مجھ سے محبت نہیں کرتی نا۔۔۔۔اپنا حق وصول کرتے میں بتاتا ہوں اس شخص کو کہ تم میری کیا لگتی ہو، تاکہ ہر بار کی طرح میری چیزوں پر وہ نظر نہ کرے”

وہ اٹھا اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے دور پھینکی۔

فرشتے کی روح فنا ہوئی اس نے اس سے دور ہونے کی کوشش کی تو ازلان نے اسے مزید اپنے پاس کیا اور اس کی شرٹ کو کندھے سے کھینچ کر نیچے کیا اور وہاں اپنے دانت رکھے۔

فرشتے کی برداشت یہیں تک تھی اس نے ازلان کو دھکا دیا اور چٹاخ۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر تھپڑ مارتے روتے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔

“بیوی ہوں۔۔۔۔باہر کی کوئی لڑکی نہیں یہ دیکھیں کیا حال کیا ہے تم نے میرا۔۔۔۔تم شوہر ہو؟ مجھے آج تم نے اسی حال میں پہنچا دیا ہے جس سے نکالا تھا”

وہ وہیں پڑی رہی۔

ازلان اظہر کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا سامنے مجود وجود کی حالت دیکھ کر اور اپنی شرٹ کو اپنے پاس اپنے تن پر موجود نہ دیکھ کر۔

وہ بکھری سی تھی اس کی شرٹ کندھے سے سرکی تھی بال بُرے طریقے سے پھیل گئے تھے گردن پر جابجا اس کے دیے نشان تھے ہونٹ پر خون کی چند بوندیں تھی جو جم گئی تھیں چہرے پر اس کی وحشت کے دیے نشان چیخ چیخ کر اسکے ساتھ ہوئے ظلم کو بیان کر رہے تھے دھونکی کی مانند چلتا اس کا سانس، آنکھوں سے بہتا سیلاب وہ جم سا گیا اپنی جگہ، یہ وہ لڑکی تھی جس کو کانٹا تک لگنے پر وہ پاگل ہو جاتا تھا اور آج کیا حال کیا تھا اس کا۔

“ہن۔۔ہنی۔۔۔۔” ہوش میں آتے اس تک جانا چاہا۔

“نہیں دور۔۔۔۔دور دہو۔۔۔۔”

“تم مجھے مار دو گے۔۔۔۔میں نے غلطی کر دی یہاں آ کر۔۔۔۔میں وہیں ٹھیک تھیں یہاں آ کر تمہیں وحشی بنتے خود کو یوں اس حال میں نہ دیکھتی”

وہ ازیت سے چیخ رہی تھی جو گھاؤ وہ اسے دے گیا تھا وہ تو اب زندگی بھر نہیں بھرنے تھے۔

وہ پاگل ہونے کو تھا لیکن خاموش تھا اس وقت اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس نے کیا کیا ہے۔

فرشتے اٹھی اور اس کے پاس آتے اسے دھکا دیا اور اس کی آنکھوں میں اپنی سوجی لال آنکھیں گاڑھی۔

“تم سے نفرت کرے گی اب فرشتے حیدر تاعمر اور تم اسی نفرت میں مارے جاؤ گے ازلان اظہر!!!”

وہ کہتی باہر نکل گئی پھر حلیہ درست کیا اور گھر سے نکل گئی باہر برف باری شروع ہو گئی تھی۔

ازلان وہیں کھڑا رہا نجانے کتنے منٹ اور پھر منٹ سرک کر گھنٹے میں بدل گئے وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گیا۔

اسے یقین نہیں آیا کہ وہ حالت اس نے کی ہے اس لڑکی کی، اپنی بیوی کی، اپنی بچپن کی محبت کی۔

وہ جانور بن گیا تھا اگر وہ اسے تھپڑ مار کر ہوش نہ دلاتی تو وہ تو شاید آج ہر حد پار کر جاتا۔

فرشتے ازلان اظہر کو اس نے اپنے ہاتھوں سے جوڑ کر توڑ دیا تھا اور شاید کھو بھی دیا تھا۔

فرشتے پر برف گر رہی تھی وہ کانپ رہی تھی لیکن یہ سردی کی کپکپاہٹ اس خوف کی کپکپاہٹ سے بہتر تھی اس کی آنکھیں اب خشک ہو گئی تھیں وہ یقین نہیں کر پارہی تھی جو اس کے ساتھ ہوا تھا اور اس سے زیادہ اس شخص پر وہ اس کی ہلکی سی آہ پر پاگل دیوانہ بن جاتا تھا اور آج۔۔۔۔۔

“میں کبھی نہیں ملوں گی تمہیں۔۔۔۔”

وہ کہتی بہت آگے نکل گئی اس جگہ سے دور اس گھر سے اس شخص سے دور اس انجان ملک کی انجان گلیوں میں برف باری میں۔