Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 2
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 2
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
اپنے باپ کو ناشتہ کروانے کے بعد وہ دوا دینے لگی جو نقاہت سے بس بستر سے لگ کر رہ گئے تھے۔
“بابا جان! آج کام سے جا رہی ہوں! تھوڑی دیر میں آجاؤں گی طبیعت خراب ہو تو مجھے بس ایک فون کر لیجئے گا۔”
اب وہ کہیں جاتی تو دل کو دھڑکا سا لگا رہتا تھا باپ کی وجہ سے۔۔۔۔پہلے تواس نے ان کے لیے ایک لڑکا رکھا تھا جو ان کی دیکھ بھال کرتا جب وہ کالج جاتی تھی لیکن اب حالات ایسے نہ رہے تھے اسی لیے اس نے سب کو ہٹا دیا تھا۔
“بابا جان ہم آپ کا حق لے کر رہیں گے۔۔۔۔آپ نے سالوں دیے ہیں اس بزنس کو!” وہ ہمیشہ ان سے کہتی۔
“نہیں! ان کے در پر جا کر مانگنا ایسا ہے جیسے میں مان لوں کہ میں نے کوئی گناہ کیا ہے۔
محبت کی شادی اور اپنی زندگی کے بہتریں شخص کا انتخاب کرنا ہر انسان کا حق ہے جو اس حویلی میں کہاں دیا جاتا ہے” وہ ہمیشہ یہ سب کہہ کر اسے چُپ کروا دیتے۔
لیکن اب اسے ضرورت پڑ گئی تھی اس کا باپ بیمار تھا بے حد۔۔۔۔بی پی روز ہی ہائی ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔وہ ابھی جاب کرتی بھی تو سات آٹھ ہزار سے ہاتھ میں کچھ نہ آتا۔۔۔اس کا اپنا کالج ابھی ختم ہوا تھا۔
بس شام میں گھر میں بچوں کو پڑھا دیتی تھی وہ اتنا خود کے لیے کر لیتی تھی وہ۔
اٹھارہ سال کی ہو جانا تھا اس نے چند ماہ میں اور یونیورسٹی بھی تو شروع ہو جاتی۔
وہ گھر سے نکل گئی۔۔۔۔رکشہ کروایا اور اس پتے پر پہنچ گئی جہاں اسے بلایا گیا تھا۔
اندر داخل ہوتے اس نے اس بڑے سے لان کو دیکھا اس میں تو اس کا پورا گھر آجاتا۔۔۔تلخ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
“جی میم؟” ملازم نے اس سے پوچھا۔
“شایان عثمانی سے ملنا ہے!”
وہ اسے بتانے لگی تو اس نے عجیب سی نگاہوں سے اس سترہ سالہ لڑکی کو دیکھا جو کالج کی یا سکول کی ہی بچی لگتی تھی۔
“کیا کام ہے؟”
“یہاں پر اپنے نجی کام بھی سب کو بتانے پڑتے ہیں؟”
وہ اتنی بلحاظ نہیں تھی لیکن اس گھر کی شان و شوکت دیکھ کر اسے اپنے باپ کے ساتھ ہوئی ناانصافی کَھلنے لگی تھی۔
“آجائیں!”
اسے اندر بٹھایا گیا۔۔۔لیکن اندر اس نے سر اٹھا کر اس محل کی رونقوں کو نہیں دیکھا یہ سب چیزیں اسے متاثر نہیں کرتی تھیں۔
“اپنے کمرے میں بُلا رہے ہیں وہ آپ کو!”
اسی ملازم نے اسے کہا اور اوپر کمرے کے دروازے کی طرف اشارہ کیا تو اس کا سانس سوکھا۔
“کمرے میں کیوں؟”
“یہ وہی بتائیں گیں۔۔۔۔اور پلیز یہ جوتے اتار دیں انہیں گندگی نہیں پسند۔”
“ہاں مگر میلے دل پسند ہیں ان سب کو!”
وہ دل میں بولی اور جوتے اتارتے اوپر اس کے کمرے کی طرف بڑھی۔
“کم اِن!” وہ کب سے کھڑی ہمت اکٹھی کر رہی تھی جب اندر سے آواز آئی۔
اس نے اندر قدم رکھا لیکن دروازہ کُھلا ہی رہنے دیا وہ اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا۔
مُڑ کر اسے دیکھا اور پھر مسکرایا۔
“دروازہ بند کر دو!”
اس کی گھمبیر آواز پر اس نے تھوک نگلا اور دروازہ بند کر دیا اور وہیں کھڑکی انگلیاں مروڑنے لگی۔
“یہاں اؤ!” دوسری آواز پر وہ دم سادھ گئی۔
“یہیں بتادیں پلیز۔۔۔۔!”
وہ کونفیڈنٹ تھی لیکن اس کے سامنے آ کر اس کی ساری ہمت، سارا اعتماد پانی ہو رہا تھا۔
“یہاں آ رہی ہو یا میں آؤں؟” وہ سخت آواز میں بولا تو وہ قدم قدم اٹھاتی اس کے قریب گئی۔
جی!
شایان نے اسے دیکھا جس نے چادر مزید کھینچ کر ماتھے کو چھپا دیا تھا اور خود کو بھی اس چادر میں چھپا رکھا تھا اس کے چھوٹے سے نازک سراپے پر نظر ڈالی اور پھر اس کی پلکوں پر جو بیشک اسی کے خوف پر لرز رہی تھیں۔
“تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں یہاں کیوں بُلایا ہے؟” وہ استسفار کرنے لگا۔
“نہیں!” وہ آنکھیں اٹھاتے اس کی آنکھوں میں دیکھتےبولی۔
“تو کیوں آئی ہو؟”
“اپنے باپ کا حق لینے۔۔۔یہ جس حویلی نما محل میں آپ لوگ رہ رہے ہیں اس میں میرے باپ کی بھی محنت ہے۔۔۔۔انہوں نے روایت کا پاس نہیں رکھا یہ کوئی گناہ نہیں اور چلیں سزا کے طور پر انہیں سب چیزوں سے نکال دیا گیا لیکن میرے باپ کی محنت کی قیمت تو پوری کریں اگر اتنے انصاف پسند ہیں تو!”
شایان نے اس چھٹانگ بھر کی لڑکی کو دیکھا جو ڈرتی تھی تو نظریں تک نہ اٹھاتی تھی اور اب بے خوف جو بولی رہی تھی تو نگاہیں اس کی نگاہوں سے نہ ہٹائیں تھیں۔
شایان نے قدم اٹھائے تو وہ پیچھے ہوتی چلی گئی اور الماری کے ساتھ لگ گئی۔
“اپنے باپ کی بات کر کے موڈ مت خراب کرو!”
“مجھے کچھ اور چاہیے تم سے۔۔۔۔۔”وہ یہ سب نہیں کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن سامنے موجود لڑکی کا اعتماد بھی تو توڑنا تھا۔
اس لیے اس کے ماتھے سے چادر کو پیچھے کرتے اس کے سر سے اتار دیا تو وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
“شوہر ہوں تمہارا میرا حق ہے!”
“کاش آپ نے فرائض بھی ادا کیے ہوتے!”
وہ بولتی پھر سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جو شایان عثمانی کو نہیں بھایا تھا یقیناً۔
اس گاؤں کے وڈیرے کا پیٹا تھا وہ۔۔۔۔اپنا بزنس بیشک تھا اس کا۔۔۔۔لیکن گاؤ ں میں کوئی اس سے اتنی قریب آ کر آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کی ہمت نہ رکھتا تھا جو وہ کر رہی تھی۔
اس کے بالوں کو تھامتے شایان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“کیا کیا کر سکتی ہو؟”
“آپ کیا کروانا چاہ رہے ہیں؟”
دل میں وہ از حد خوفزدہ تھی لیکن اگر آج ڈر جاتی تو وہ شخص اسے خوفزدہ کرتے کرتے ہی مار دیتا۔
“دلچسپ۔۔۔۔بہت دلچسپ!”
“شایان عثمانی کے سارے کام! سارے مطلب سارے آج سے تمہارے زمے ہیں۔۔۔۔”وہ تو کچھ اور سوچے ہوئے تھا لیکن کچھ اور کر گیا تھا۔
“میرے بابا کو اچھے مہنگے ہسپتال میں داخل کروائیں ان کا سارا علاج آپ کے زمے ہو گا تو مجھے سب منظور ہے۔”
“تم اپنی قیمت بتا رہی ہو؟”
“نہیں! میری قیمت تو بہت زیادہ ہے آپ سب مل کر بھی ادا نہیں کر پائیں گے”
وہ اس کی طرف دیکھتی رُخ پھیر گئی جیسے سامنے کھڑا شخص معنی نہ رکھتا ہو۔
“اور اگر تمہیں خرید لوں تو؟” شایان نے اس کے دونوں بازوؤں کو تھامتے کہا۔
“آپ میرے جسم کو خرید سکتے ہیں شایان عثمانی لیکن میری روح کو نہیں۔۔۔۔۔کونیں خاور کبھی اس حویلی کے مرد کا نصیب نہیں بنے گی”
“میرے نکاح میں ہو تم بھول رہی ہو۔”
“مجھے یاد ہے آپ بھول گئے ہیں۔۔۔۔آپ کو یاد نہیں آیا سات سالوں میں میں نے ہر روز اس رشتے کے ختم ہونے کی دعا مانگی ہے”
ایک اور تماچہ وہ اسے مار گئی تھی اور بس یہی تک تھا شایان عثمانی کا صبر۔
“ڈیمممم اٹ!
اب میں دیکھتا ہوں تم اس رشتے سے رہائی کیسے پاتی ہو۔۔۔۔میری موت تک تو تمہارا نام میرے نام سے الگ نہیں ہو گا” کونین خاور وہ اسے دھکا دیتا بولا۔
وہ زمین پر گرتے گرتے بچی تھی۔۔۔۔حلق آنسوؤں سے بھر گیا تھا لیکن آنکھوں سے ایک قطرہ نہ گرنے دیا۔
وہ شخص کہاں اہمیت رکھتا تھا کہ اس کے سامنے اپنے آنسوؤں کو بے مول کیا جاتا۔
“جاؤ نیچے میرا ناشتہ بناؤ! آرہا ہوں میں پانچ منٹ میں” وہ اپنا پہلا حکم صادر کرتا بولا۔
“کل سے!” وہ بولنے لگی تھی کہ وہ اس کے پاس آیا اور اسے جھٹکے سے کھڑا کیا کہ وہ اس کے سینے میں لگتے لگتے بچی۔
“آج سے اور ابھی سے!”
اس نے فون نکالا۔۔۔۔۔خاور عثمانی کو ہسپتال میں داخل کرواؤ۔۔۔۔۔اچھے ڈاکٹرز سے علاج ہونا چاہیے۔
وہ بولا تو کونین کھڑی ہو گئی اور سر ہلاتی فوراً اس کا کام کرنے کے لیے نکل گئی۔
“تمہاری کمزوری تمہارہ باپ ہے کونین خاور!” اس کی پشت کو دیکھتا وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو وہ اسے اپنے گھر لے جا رہا تھا اس وقت وہ گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔
“چلیں؟”
اس نے تیزی سے سر ہلاتے اس عمارت کو دیکھا جہاں وہ کتنی دیر سے تھی اسے یاد بھی نہیں تھا۔
سیٹ بیلٹ باندھیں ہنی! اس نے اپنی سیٹ بیلٹ لگاتے کہا۔
“وہ کیسے باندھتے ہیں؟”
وہ واپس مُڑا اور اسے دیکھتے جھک کر اس کی بیلٹ بغیر اسے چھوئے باندھی۔
“کیا آپ کے گھر میں جھولا ہے؟”
“نہیں! لیکن آپ کو پسند ہے تو لگا دوں گا آپ کو!” وہ اپنی گاڑی کے پیچھے دوسری گاڑی کو چلتے دیکھ مطمئن ہوا۔
نہیں تو فرشتے کو یہاں سے لے کر جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔
اس نے تیزی سے ڈرائیو کیا تھا اور اپنے فلیٹ پر گاڑی روکی اور نیچے اترا پھر اس کی طرف کا دروازہ کھولا۔
آجاؤ!
“کیا یہ ہے آپ کا گھر؟”
بالکل! وہ اندر داخل ہوا تو وہ اسکے پیچھے اندر آئی۔۔۔۔اس نے فوراً سے دروازہ بند کر کے لاک کر دیا۔
“کیا کھاؤ گی؟”
“ابھی بھوک۔۔۔۔ نہیں ہے!” وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی اسے بتانے لگی۔
“اچھا یہاں آئیں زرا ہنی!”
وہ صوفے پر بیٹھ کر اسے اپنے پاس بلانے لگا جو سامنے کے صوفے پر بیٹھی تھی۔
“نہیں۔۔۔۔می۔۔میں۔۔۔۔۔”
آجائیں ہنی۔۔۔۔وہ قدم قدم اٹھاتی آئی اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
“کیا مجھے آپ کی سب باتیں ماننی ہیں جیسے ماما بابا کی مانتی تھی؟”
بالکل!
“تو آپ بھی میری باتیں مانیں گے؟” وہ نجانے کیا سوچ رہی تھی۔
“بالکل!”
“امممم ۔۔۔۔۔پھر آپ میرے جوتے کے تسمے کھول دیں گے مجھ سے نہیں کھلتے۔۔۔۔۔”وہ بولی تو اس نے نگاہیں اٹھاتے اسے دیکھا جو ہاتھوں سے کھیل رہی تھی۔
وہ گھٹنوں کے بل نیچے جھکا اور اس کے جوتے کے تسمے کھولتے بنا اس کے پیروں کو ہاتھ لگائے اسکے جوتے اتار دیے۔
اس پر نظر ڈالی جو مسکرا رہی تھی۔
کیا ہوا؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
“وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔۔۔۔۔وہ کہتے تھے فرشتے کے جوتے صرف وہی اتار سکتے ہیں اور پتا ہے اپنے جوتے انہوں نے کبھی بھی مجھے پکڑنے نہیں دیے تھے۔۔۔”
وہ۔۔۔۔خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔اس نے ہونٹ بھینچ لیے۔۔۔۔آنکھیں ضبط سے سر خ پڑ گئیں۔
وہ سو گئی تھی وہیں پر۔۔۔۔وہ اس پر جھکا اور اسے باہوں میں بھرتے سامنے کے کمرے میں اپنے بستر پر لٹایا۔
“وہ بیشک میرا بھائی سہی لیکن فرشتے ازلان اظہر تمہاری تو خوشبو تک نہ میں کسی کو دوں!” وہ آنکھیں میچ گیا۔
“بھائی کہاں ہیں اس وقت؟” اس نے باہر نکلتے ہی ڈرتے دل کے ساتھ کال ملائی۔
“وہ ٹریننگ پر ہے۔۔۔۔۔”
“کیا اس کی کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے؟”
ہر بار کا پوچھا سوال اس نے پوچھا اس امید میں کہ کسی روز تو اسے کوئی کہے گا کہ ہاں اس کا بھائی کسی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کر چکا ہے۔۔۔۔ کوئی اسے بتاتا کہ ازلان اظہر تمہارے بھائی نے فرشتے کے علاؤہ کسی اور کو چُن لیا ہے۔
“میں کسی کو نہیں دوں گا فرشتے۔۔۔۔وہ میری روح ہے حصّہ ہے۔۔۔۔آپ اسے چھوڑ گئے تھے جب اسے آپ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی یہ بات جس دن اسے یاد آگئی وہ آپ کو یاد کرنا چھوڑ دے گی” وہ ہمکلامی کرتا بولا۔
فرشتے کی بات یاد کرتے اسے پھر سے جسم میں انگارے لوٹتے محسوس ہوئے سکون کی خاطر وہ واپس کمرے میں آیا جہاں وہ موجود تھی۔
اس کے پاس بیٹھتے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا اسکے پھولے سفید گالوں پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری۔
فرشتے ازلان اظہر کی ہے بس! اور اگر تم نے مجھ پر کسی کو فوقیت دی تو مر جاؤں گا اور تمہیں بھی مار دوں گا وہ اس کو دیکھتا سوچ رہا تھا۔
پھر جھک کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔نگاہیں اب اس کی گردن پر جا ٹھہریں۔
“بہت انتظار کرنا پڑے گا میں جانتا ہوں۔۔”
“لیکن تمہاری بے خبری میں تمہارے قریب ہونے پر ازلان اظہر کو کچھ دوا اپنے دل کے لیے کام کرتی محسوس ہوتی ہے۔”
وہ جھک کر اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا۔۔۔۔۔شدت محسوس ہوتے ہی فرشتے نے رُخ موڑنا چاہا تھا۔
وہ فوراً سے پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔
پھر اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔۔۔اس کے جاگنے سے پہلے اسے یہاں موجود نہیں ہونا تھا اس کے سامنے۔
