Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 22
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 22
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
“کیسی ہو؟”
اس نے پوچھا تو کونین اسے دیکھ کر رہ گئی وہ اس حال میں ہوتے ہوئے بھی اس سے اس کا حال احوال پوچھ رہا تھا۔
“مجھے اچھا محسوس نہیں ہو رہا!”
وہ نم لہجے میں بولی تو وہ تڑپ کر آنکھیں کھولتا اسے دیکھنے لگا۔
“کیوں کیا ہوا؟ ناشتہ کیا تھا؟”
وہ اس کے آگے ہاتھ بڑھاتا بولا تو کونین نے اس کا ہاتھ تھاما۔
“ہم تاعمر انا میں رہتے ہیں اور جب کوئی ہم سے دور ہونے لگتا ہے تو یہ احساس ہی سوہانِ روح ہوتا ہے اور تب ہمیں اس شخص کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے اور کونین خاور کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔”
اس کی حالت کونین کا دل ہولا رہی تھی اگر اس سے بھی بُرا کچھ ہو جاتا تو؟ کیا وہ اس کے بغیر رہ سکتی تھی؟ اس نے خود سے سوال کیا تھا۔
اور جواب میں اس کے اندر سناٹے چھا گئے تھے۔
“یہ سب کیسے ہوا؟”
کونین نے اس کے ہاتھ تھامتے اس کے قریب ہوتے کہا۔
“اگر تم گزشتہ رات مجھ سے یوں قریب رہتی تو یہ سب نہ ہوتا”۔
وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا سارا درد اس کو دیکھ کر جاتا رہا تھا۔
شایان عثمانی نے مان لیا تھا کہ وہ “سراپہ سکون” تھی۔
“آئیم سوری!”
وہ بولی اور آنکھوں میں موجود کب سے ٹہرے آنسو اور کل سے موجود وجود میں بے کُلی سب آنسوؤں کی صورت باہر نکلا تھا۔
“ششش کونین آئم فائن!”
اس نے ہاتھ بڑھاتے اس کی قمر سہلائی۔
“شایان کیا کھاؤ گے میرے ںچے؟”
تہذیب عثمانی جھٹکے سے دروازہ کھولتی اندر آئیں تو کونین یک دم ڈر کر کھڑی ہو گئی لیکن شایان نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا۔
“جوس اس وقت صرف!’
اس نے بند ہوتی آنکھوں سے بمشکل کہا جبکہ نگاہیں اب بھی اسی پر تھیں جس کا چہرہ سرخ تھا۔
“ٹھیک ہے اب تمہیں آرام کی ضرورت ہے!”
انہوں نے کِن اکھیوں سے کونین کو دیکھ کر کہا یعنی اس کو جانے کا کہہ رہی تھیں وہ۔
کونین نے شایان کے ہاتھ سے آرام سے اپنا ہاتھ نکالا اور ایک ہی قدم آگے بڑھایا۔
“کونین یہیں رہو یار!”
اس نے بند ہوتی نگاہوں سے کہا تو کونین کے قدم وہیں جم سے گئے جبکہ تہذیب عثمانی اسے کینہ توڑ نگاہوں سے گھورتی باہر نکل گئیں۔
کونین اسے دیکھتی رہی جو شاید اب پھر دواؤں کے زیرِ اثر عنودگی میں جا رہا تھا۔
کونین اس کے پاس وہیں میز پر بیٹھ گئی کیونکہ وہ جوس پیتے ہی عنودگی میں چلا گیا تھا وہ وہیں بیٹھی رہی اور پھر اس کے سونے کا اطمینان کرتی جہانگیر عثمانی سے بات کرنے کے لیے باہر نکل گئی۔
“دادا جان؟” اس نے ان کو پُکارا جو ڈاکٹر سے بات کر رہے تھے۔
“آجاؤ گڑیا!”
انہوں نے کہا تو وہ پاس جا کھڑی ہوئی تو جہانگیر عثمانی نے اسے بازوؤں کے حلقے میں لیا۔
“یہ شایان کی بیوی ہے!” انہوں نے ڈاکٹر سے کہا تو کونین نگاہیں جھکا گئی۔
بولو گڑیا۔
“مجھے گھر جانا ہے!”
جہانگیر عثمانی نے اسے دیکھا۔
“کیا شایان کو بتایا ہے آپ نے۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔”
“ہم کب لے جا سکتے ہیں شایان کو؟”
شاہ زیب عثمانی بھی ڈاکٹر کے پاس آتے استسفار کرنے لگے۔
“ابھی تو ممکن نہیں آپ جانتے ہیں وہ چل نہیں سکتے ان کی ٹانگیں متاثر ہوئیں ہیں انہیں کچھ وقت درکار ہے”
وہ بولے تو کونین نے جھٹکے سے سر اٹھاتے بے یقینی سے پہلے ڈاکٹر کی طرف دیکھا پھر جہانگیر عثمانی کی طرف۔
اسے تو لگا تھا صرف اسکے سر پر چوٹ آئی ہے جو اس نے پٹی دیکھی تھی لیکن چادر میں ڈھکی وہ اس کی ٹانگیں نہیں دیکھ پائی تھی۔
“بابا!”
اس لڑکی کو بھیجیں۔۔۔۔۔شایان نے ادھم مچا دیا ہے مجھے تو سمجھ نہیں آتا وہ اتنا بچہ کیوں بن رہا ہے؟ وہ تیوری چڑھائے بولی تو کونین نے ہونٹ کاٹے۔
“ہمیں گھر بھیج دیں دادا جان!’
“بی بی پہلے اس سے مل لو کہیں وہ ہسپتال نہ سر پر اٹھا لے!”
تہذیب عثمانی کہتی چلی گئی تو وہ نم آنکھوں سے برے طریقے سے ہونٹ کاٹنے لگی۔
وہ اپنی حالت سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا وہ انا بیچ میں لا رہی تھی؟ شایان عثمانی نے جو کیا وہ اس سے بھی بدلہ لینا چاہتی تھی اسے اس حال میں چھوڑ کر؟ وہ کچھ بھی اخذ نہ کر پائی تھی۔
“جاؤ گڑیا! اس سے مل لو پھر میں آپ کو گھر بھجوا دیتا ہوں۔”
وہ بولے تو اس کی مشکل آسان ہوئی۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شایان کے کمرے میں داخل ہوئی۔
“میرے سر میں بہت درد ہے ڈاکٹر کو بولیں کوئی دوا دے” شایان نے سر کو پکڑ رکھا تھا اور اس کے بھینچے ہونٹوں سے صاف واضح تھا کہ وہ تکلیف میں ہے۔۔
“کونین کو بلائیں؟ کیا مجھ سے ملے بغیر چلی گئی ہے وہ بابا؟”
وہ شاہ زیب عثمانی سے بولا تو شاہ زیب عثمانی نے کونین کو دیکھتے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور باہر نکل گئے۔
“آپ کیوں نہیں ڈاکٹر سے دوا لا رہے؟ مجھے گھر جانا ہے!” وہ تنگ آگیا تھا یا شاید کونین خاور کی غیرموجودگی کے باعث تھا یہ سب۔
کونین باہر نکلی اور اس کی دوا لیتے ہی اندر آئی تھی اس کے پاس آئی تو کونین نے دیکھا وہ پھر سے اس کی خوشبو سے اسے پہچان گیا تھا اس لیے کب سے پڑے ماتھے کے بلوں میں کمی آئی تھی۔
دھیرے سے آنکھیں کھولی۔
“کہاں تھی؟” شایان نے اس کا ہاتھ پھر سے پکڑا وہ وہ چھوٹا بچہ بن گیا تھا جو کسی چیز کے کھونے کے ڈر سے اس کو تھامے رکھتا ہے۔
“دوا لینے گئی تھی۔۔۔۔”
“تم یہیں میرے پاس رہو بس!” وہ کہتا آنکھیں موند گیا چہرے پر درد کے آثار صاف دِکھ رہے رھے۔
“یہ دوا لیں”
اس نے اسے دوا کھلائی اور پھر وہاں دیوار کے ساتھ لگی کرسی پر جا کر بیٹھنے لگی۔
“یہاں آجاؤ!”
شایان عثمانی نے کچھ ہٹ کر اپنے ہی بستر پر جگہ بنائی تو وہ گہرا سانس بھر گئی۔
وہ کیوں انسکیور ہو رہا تھا اس کو لے کر۔
دوسری طرف شایان عثمانی اسے دور نہیں جانے دینا چاہتا تھا کہ کہیں وہ اسے پھر نہ چھوڑ جائے اس کی عنودگی میں۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ اس کا ہاتھ تھامے ہوا تھا۔
“میرا ہاتھ چھوڑیں شایان۔۔۔میں نہیں جا رہی۔”
لیکن وہ نظرانداز کر گیا تھا اور وہ پھر کچھ پڑھ کر اس کی تکلیف کے لیے اس پر پھوکنے لگی رب کے کلام سے بہتر دوا کیا ہو سکتی تھی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا نے خوشی سے سب کرنا شروع کر دیا تھا محبوب کو پا لینے سے زیادہ خوش کُن لمحہ نہیں تھا اس کے نزدیک۔
اگلی صبح اس نے تیار ہوتے گھر میں ادھم مچایا تھا کیونکہ اعظم اظہر اسے لینے آنے والا تھا۔
“زارا!”
اس کی ماں نے اس کے بال باندھتے اس کے دمکتے چہرے کی طرف دیکھا۔
“جی؟”
وہ فون کی سکرین کو بار بار دیکھ رہی تھی وہ جانے کے لیے تیار تھی۔
“کیا تم پہلے سے اعظم کو جانتی ہو؟” ان کے اچانک سوال پر اس کا دل رُک گیا۔
“آپ کو کیوں لگا ایسا؟”
“کیونکہ پہلے تم شادی کا نام سنتے ہی انکار کر چکی ہو کئی بار لیکن اعظم اظہر کے نام پر اس دن سے تمہارے چہرے پر جو چمک ہے وہ سب دیکھ رہے ہیں۔”
“جی وہ مجھے پسند تھے؟” وہ سادگی سے اعتراف کرتی بولی۔
“کب سے؟”
اس کی ماں نے اپنی بیٹی کو دیکھا جو اکلوتی ہونے کی وجہ سے اپنی ماں اور بھائیوں کی جان تھی۔
“بہت سالوں سے۔۔۔سکول سے۔۔۔لیکن یہ میں نے کسی کو بتایا نہیں میں نے رب العالمین پر چھوڑ دیا تھا اور دیکھیں دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔”
وہ کہتے پھر سے مسکرائی۔
تو انہوں نے اس کے چہرے پر موجود مسکان کے یوں ہی رہنے کی دعا کرتے اس کا ماتھا چوما۔
اعظم آگیا تھا لیکن اندر نہیں آیا تھا بلانے پر بھی اسی لیے اسے باہر تک چھوڑنے آئیں تھی۔
“بیٹا شام سے پہلے آجانا!” انہوں نے کہا تو اعظم نے سر ہلایا۔”
“آپ کو پتا ہے میں کب سے تیار تھی آپ لیٹ ہو گئے۔”
“اور آپ کو پتا ہے ماما نے مجھ سے پوچھا کہ میں آپ کو جانتی ہوں پہلے سے؟”
“دیکھیں انہوں نے بھی میری خوشی سے اندازہ لگا لیا۔”
“اور آپ کو پتا ہے میں نے انہیں کیا کہا؟” وہ خود ہی سوال اور خود ہی جواب دے رہی تھی۔
“میں نے ان سے کہا کہ دیکھیں دعائیں رد نہیں کی جاتیں اور آپ کو تو میں سالوں سے مانگتی آئیں ہوں اور مجھے لگتا تھا کہ شاید ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بہتر نہیں۔۔۔ہمارے نہ ملنے میں رب العالمین کی کوئی مصلحت ہے لیکن دیکھیں صبر کے بعد انعام سے نوازا دیا جاتا ہے۔”
“مجھے مجزوں پر یقین ہو گیا ہے۔’
“مجھے رب العزت سے قریب ہونے کا ایک اور موقع دے دیا آپ نے!” وہ صاف دلی سے چہکتے ہوئے بول رہی تھی۔
اور اعظم اظہر کو لگا کہ اس نے کچھ غلط کر دیا ہے بہت غلط اور اب اس غلطی سے پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز نہ تھا۔
وہ رب سے اس کے ذریعے قریب ہو گئی تھی کیا ہوتا اگر وہ اسی کی شکایات رب سے کرتی مستقبل میں اور وہ اپنی دعاؤں میں خالی ہاتھ ٹہرا دیا جاتا؟
وہ خاموش ہو گیا۔
“ہم کہاں سے لیں گے ڈریس؟”
“یہ سارے برینڈز ہیں پسند کر لو ولیمے کا بھی پسند کر لو ساتھ ہی لیں گے” وہ گہری سانس بھرتا بولا۔
“لیکن یہ تو بہت مہنگی ہوں گی”
وہ کہنا چاہتی تھی لیکن احساسِ کمتری کے احساس سے کہہ نا پائی اور پھر اس نے خود ہی سب دیکھا تھا اعظم اظہر تو سائیڈ پر کھڑا تھا لاتعلق سا۔
کیا وہ فرشتے حیدر سے بھی شادی پر یوں ہی لاتعلق سا کھڑا ہوتا؟ فرشتے کا دل برا ہوا۔
“یہ کیسا ہے؟” اس نے ایک معمولی سا ڈریس اس کے سامنے کیا محض اس کی توجہ کے لیے۔
“اچھا ہے لے لو!”
وہ فون سے نظر اٹھا کر دیکھتا جلدی سے بولا تو زارا اسے دیکھ کر رہ گئی یعنی وہ اتنا لاتعلق تھا کہ اسے فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔
اعظم اظہر نے بھی اس کی خاموشی کو سمجھتے فون جیب میں ڈال دیا۔
شاید یہ اس کی گاڑی میں کی باتوں کا اثر تھا نہیں تو وہ کہاں دلچسپی رکھتا تھا ان سب میں۔
اور وہ پھر آگے بڑھتے خود بھی دیکھنے لگا تو زارا اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔
اور پھر بے حد خوبصورت اور نفیس جوڑے اعظم اظہر نے پسند کیے تھے کہ زارا انہیں دیکھتی رہ گئی۔
“میں بارات والا نہیں لوں گی”
اس نے پرائز ٹیگ کو دیکھتے کہا کیونکہ وہ گھر سے اتنے پیسے نہیں لائی تھی۔
کیوں؟
اممم۔۔۔۔ماما کے ساتھ جا کر لے آؤں گی۔
“کیا تمہیں یہ پسند نہیں آیا؟” اظہر نے آئبرو اچکاتے پوچھا۔
“نہیں بہت اچھے ہیں!” وہ اسے وجہ کسی صورت نہیں بتانا چاہتی تھی۔
“زارا کیا مسئلہ ہے ہم بہت دور آئے ہیں اور اب تمہیں لینا نہیں ہے۔”
“میں ماما کو لے آؤں گی نا یہاں!”
وہ بولی تو اعظم نے نوٹ کیا تھا وہ اپنے والٹ میں موجود شاید پیسے گن رہی تھی تھوڑی دیر پہلے اس سے دور کھڑی۔
اس نے دونوں جوڑے اٹھائے اور بلنگ کروائی جبکہ زہرا اسے دیکھ کر رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر جاتے اس نے بوا سے معافی مانگی تھی پہلے اپنے بنا بتائے جانے کی اور اپنی بدتمیزی کی پھر فریش ہوتی لیٹ گئی اور فون اٹھا لیا۔
وہ شش و پنج میں تھی کہ نمبر ملائے یا نہیں پھر نمبر ملاتے کان کے ساتھ لگایا۔
“بولو!” ازلان اظہر کی آواز گونجی۔
وہ ایسے بولا جیسے احسان کر رہا ہو اس سے فون پر بات کر کے۔
“تم نے بولا تھا کال کرنے کو۔۔۔۔”وہ زچ ہوتے بولی تو ازلان اظہر اپنا کام چھوڑتا کھڑا ہو گیا۔
“کیا کر رہی ہو؟”
“میں جانتی ہوں کہ تم جانتے ہو کہ میں کیا کر رہی ہوں” وہ منہ بسوڑتے بولی تو ازلان مسکرا دیا۔
“کیا تمہیں یاد ہے کچھ؟”
“کس بارے میں؟”
“میں جانتا ہوں کہ تم جانتی ہو کہ میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں۔”
“بالکل نہیں جانتی میں اور نہ جاننا چاہتی ہوں۔”
“تمہارا شیمپو مجھے کچھ خاص پسند نہیں آیا” وہ بولا تو فرشتے نے چہرہ کمفرٹر میں چھپایا۔
“بدل لو میں بھیج دوں گا!”
“میں کیوں سب تمہارے مطابق کروں؟”
“کیونکہ تم میری ہو تو تم سے متعلق بھی سب میری پسند کا ہونا چاہیے۔”
وہ بولا تو فرشتے کو اپنے گال دہکتے محسوس ہوئے اس سے نفرت کے دعوے سب پانی ہو رہے تھے۔
“تم بہت امیر ہو گئے ہو وہاں جا کر!” فرشتے سے کچھ نا بن پایا تو بولی۔
“لیکن تم میرے حلال کے کمائے پیسوں کو ضائع کر رہی ہو دو لیپ ٹاپ تم توڑ چکی ہو اس بار اسے خراش بھی آئی تو تم دیکھنا۔”
“تو نہیں بھیجتے میں نے تو نہیں مانگا تھا۔” وہ گردن اکڑاتی بولی۔
“بوا نے بتایا تھا مجھے اور میں نے آواز سنی تھی تمہاری جھوٹ مت بولو۔”
“تو یہ سب تمہاری زمہ داری ہے” جب وہ حربہ نہ چل پایا تو وہ اس طرف آ گئی۔
“بالکل! سب زمہ داریاں میری ہیں اور اپنی زمہ داریوں کو میں کتنے احسن طریقے سے انجام دے رہا ہوں تم جانتی ہو۔”
اس کا اشارہ اس کی یونیورسٹی میں ڈرگ والی حرکت پر اور آج کی حرکت پر تھا۔
“تم۔۔۔۔”
“یہ تم، تم کیا لگائی ہوئی ہے فرشتے؟”
وہ سنجیدہ سا بولا تو وہ خاموش ہوئی جانتی تھی وہ بدتمیزی کر جاتی ہے اب اس سے۔
“ایسا بننے پر تم نے مجھے مجبور کیا ہے مت بھولو!”
“تم پر میرا حق ہے فرشتے ازلان میری غلطی ہے کہ میں نے غصے میں وہ حق لینا چاہا۔۔۔۔پر۔۔۔۔”
وہ آگے بول نہ پایا جانتا تھا وہ غلطی پر ہے۔
“تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے بہت اذی۔۔۔۔۔”
وہ نم لہجے میں بولی کتنے عرصے بعد وہ اسے میسر ہوا تھا وہ کیسے اس کی چھوٹی سی تکلیف پر پاگل ہو جاتا تھا اور کیسے وہ خود ہی اسے بڑے درد سے روشناس کروا گیا تھا۔
“میں سونے لگی ہوں کال کاٹو۔”
“خبردار! بات کرو مجھ سے۔۔۔۔”
“نہیں مجھے نہیں کرنی بات!” اس کا دل بھر آیا تھا۔
“کیا تمہیں اندازہ ہے کہ میں وہاں سے فلائٹ پکڑتا صرف تمہارے لیے آیا تھا؟ تمہاری خوشبو کے لیے، چند لمحوں کی قربت کے لیے جس کے لیے یہاں میں تڑپا ہوں!”
فرشتے کچھ بول نہ پائی۔
فرشتے کال کاٹ گئی تو وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
میلوں دور بیٹھے بھی جانتا تھا وہ کہ وہ تکلیف میں ہے اور رو رہی ہو گی اس نے واقع اسے تکلیف دی تھی بیشک اس کا حق تھا لیکن حق یوں تھوڑے نا لیے جاتے ہیں۔
فرشتے ازلان اظہر تم سے میں نے تب محبت کی تھی جب مجھے اس کا مطلب بھی نہیں پتا تھا یہ محبت موت تک ختم نہیں ہو گی۔۔۔۔جھوٹ بولتے ہیں لوگ کہ میسر آ جانے کے بعد محبت کم ہو جاتی ہے تم مجھے میسر آگئی تو میری محبت صرف بڑھے گی ہی کم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
وہ سوچتا آنکھیں موند گیا۔
“آئی مس یو اذی۔۔۔۔لیکن میں نے تمہیں ابھی بھی معاف نہیں کیا” فرشتے نے رونے سے پہلے زیرِ لب کہا۔
