Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 30 (Last Episode Part 1)
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 30 (Last Episode Part 1)
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
جواب تو اعظم کے پاس بھی نہیں تھا۔
ذارا خاموشی سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگی!
“چلیں؟”
“میرے سر میں بہت درد ہے ڈرائیور کو فون کر دیا ہے چھوڑ دے گا تمہیں!”
اعظم کی واقع ہی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لیے بول پڑا۔
“گریٹ!” وہ قدم قدم چلتی اس تک آئی۔
“کیا مطلب سمجھوں میں اس کا؟” اعظم بھی سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“صرف ایک سوال ہے میرا اعظم اظہر آپ سے۔۔۔۔کیا یہ شادی ایک عام شادی ہوتی اور آپ کی محبت فرشتے سے ہوتی تو کیا تب بھی آپ یہاں سر درد کا بہانہ کرتے اس سے پیچھا چھوڑوانے کے لیے؟”
وہ چیخ پڑی کب تک برداشت کرتی۔
“زبان سنبھال کر زارا!”
“فرشتے ان سب میں نہیں ہے!” اعظم اٹھ کھڑا ہوا۔
“فرشتے کی زندگی میں آپ نہیں ہیں لیکن آپ کی زندگی میں فرشتے ہی تو ہے ۔۔۔اگر مجھے آپ کی یہ حقیقت پتا ہوتی کہ آپ نے محض میری محبت کو آزمانے کے لیے یہ شادی کی ہے تو میں کبھی نہ کرتی”
“میں نے اپنی عزتِ نفس کو مجروح کیا آپ کے پیچھے اس کے لیے میں خود کو معاف نہیں کروں گی کبھی۔۔آپ جیسے لوگ محبت ڈیسرو نہیں کرتے اعظم اظہر یہی وجہ ہے کہ آپ کو محبت نہیں ملی” وہ آنکھوں میں آنسو لیے چلائی۔
“آواز آہستہ رکھو!” اعظم نے اس کے بازو کو تھامتے کہا۔
“کیوں؟ اور کتنا دبانا چاہتے ہیں؟”
” کاش کتابوں میں ہمیں سکھایا جاتا کہ عزتِ نفس کو مجروح نہیں کیا جاتا۔
اور کاش کوئی ڈگری ایسی ہوتی جس میں بتایا جاتا کہ اپنی محبت کو مارا کیسے جاتا ہے!”
“غلطی کر دی میں نے آپ سے شادی کر کے۔۔۔۔لوگ ٹھیک کہتے ہیں ہمیشہ وہ انسان چُنو جو تم سے محبت کرے وہ نہیں جس سے تم محبت کرو!” وہ اپنی چیزیں اٹھانے لگی۔
“زارا!”
“نہیں کچھ مت بولیں۔۔۔کیونکہ آپ کا بولا ایک ایک لفظ اس وقت بیکار جائے گا۔”
“میں ہزار بار پوچھتی رہی کہ اعظم اظہر کیا آپ اس شادی سے خوش ہیں؟ آپ کہتے رہے آپ کی مرضی سے ہو رہا ہے سب۔۔۔میرا کیا ان سب میں؟”
“آپ مجھے نہ اپناتے اعظم کوئی اور اپنا لیتا اتنی تو گری پڑی نہیں تھی میں۔”
اعظم نے اس کے نزدیک جاتے جھٹکے سے اسے کھنچتے حصار میں لیا جہاں اس کا وجود کانپ رہا تھا۔
زارا نے اس کے سینے پر آنسو بہائے لیکن ہوش میں آتے ہی پیچھے ہٹی۔
اعظم نے اس کا چہرہ تھامنا چاہا۔
“مجھ پر ترس کھا رہے ہیں؟”
“بیوی پر ترس کھایا جاتا ہے؟”
اس نے پھر سے قدم بڑھایا اور گہری سانس بھری اب سے ہر بار قدم اس نے ہی تو آگے بڑھانا تھا۔
اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالوں میں تھامتے اس کے چہرے سے آنسو صاف کیے۔
“تمہاری ہر سزا قبول ہو گی مجھے!”
وہ زارا کی آنکھوں میں دیکھتا بولا اور جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔
“خدارا اس بات سے نکل آؤ کہ مجھے فرشتے سے محبت اب بھی ہے!”
“تو کیا نہیں ہے!” وہ تڑپ کر بولی۔
“کیا ماضی میں جیا جا سکتا ہے؟”
” وہ ماضی تھا مین نے اسی وقت حقیقت قبول کر لی تھی جب اس نے مجھے چھوڑ کر ازلان کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا اور تب جب اس نے میرے نام کے آگے بھائی لگا دیا تھا اور تب جب اس کی آنکھوں میں ویسی ہی تڑپ ازلان کے لیے تھی جیسی میری نگاہوں میں اس کے لیے ہوتی تھی۔”
شاید وہ ٹھیک تھی۔
“میں ناراض تھا، غصہ تھا کہ میرے ہی بھائی نے میری محبت چھین لی لیکن نہیں میں نے اپنی محبت پر اپنے کرئیر کو فوقیت دی اور جب فرشتے کو میری سب سے زیادہ ضرورت تھی میں ویزا ملتے ہی چلا گیا۔
کیا محبت ایسی ہوتی ہے؟ شاید وہ میرا جنون رہی ہے جو تب بڑھا جب میں نے ازلان کو اس پر حق جماتے دیکھا یا حقیقت جان کر کہ وہ دونوں نکاح میں ہیں۔
میں نے کوشش کی کہ میں فرشتے کو پا سکوں لیکن میں نے دیر کر دی تھی کافی دیر ازلان میرا بھائی،میری جان اسے سنبھال چکا تھا۔”
“اس کی آتی جاتی سانسوں کا دھیان رکھا ہے اس نے اور میں نے میلوں دور بیٹھے صرف پیسے بنائے ہیں۔
پھر میں نے سوچا کہ کچھ کیا جائے میرا ضمیر اجازت نہیں دے رہا تھا شاید اسی لیے رب نے تمہیں وسیلہ بنا دیا۔”
زارا نے کچھ کہنا چاہا لیکن وہ سر نفی میں ہلا گیا۔۔۔۔
وہ اسے سب بتانا چاہتا تھا آخر تھک گیا تھا۔۔۔۔تھک گیا تھا سب خود میں رکھ کر۔
“تم نے مجھے سے رابطہ کیا اور میں ناچاہتے ہوئے بھی لاشعوری طور پر سفر طے کر گیا فرشتے ازلان سے زارا اکبر تک کا۔”
“تم مجھے پسند نہیں تھی۔۔۔۔شاید یہ ہر ٹیپیکل مرد کو پسند نہیں ہوتا کہ ایک عورت سامنے سے اسے خود اپروچ کرے اور اس کے سامنے بچھی چلی جائے!”
وہ بولا تو زارا کو دل میں درد اٹھتا محسوس ہوا۔
وہ ٹھیک کہہ رہا تھا شاید!
“اس کے بعد فرشتے کون تھی مجھے یاد نہیں!”
“پھر مجھے یاد تھی تو وہ زارا نامی لڑکی جو روز سم خرید رہی تھی میری وجہ سے، جو اپنی محبت کا کھلے عام اعلان کرتی تھی پھر میں نے ہار تسلیم کی اور تمہاری محبت کو آزمانے کا سوچا۔”
“میں دیکھنا چاہتا تھا تمہیں مجھ سے محبت ہے بھی یا نہیں!”
“تمہیں مجھ سے محبت ہے یا تمہاری آنکھوں میں میرا عکس بتانتا ہے لیکن تم محبت کی آزمائشوں کو سمجھ نہ پائی اسی لیے آج دوسرے ہی دن تم نے ہار مان لی” وہ مسکرا دیا۔
“میں نے ہار۔۔۔۔۔۔!”
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس کی ساری حقیقتوں کے بعد وہ قابل نہیں تھی کچھ بولنے کی۔
اعظم نے اسے دیکھا اس کے نقش کو اسے یہ نقش حفظ کرنے تھے تاعمر کے لیے۔۔۔۔محبت کا کیا تھا وہ بھی ہو ہی جاتی۔
لیکن وہ لڑکی اس مقام پر فائز تھی جہاں قیامت تک کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
وہ آنکھیں بند کرتا جھکا اور اس کے لبوں کو چھوتا کہ وہ پیچھے ہوئی۔
“آئم سوری!”
اعظم کی سنجیدگی سے دیکھتی نگاہیں وہ بھی سنجیدہ ہوئی۔
“مجھے اب بھی لگتا ہے کہ ہمیں پہلے ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت۔۔۔۔۔۔”
“تمہیں لگتا ہے زارا اعظم اظہر کہ تم پر حق رکھتے ہوئے میں کسی ڈرامہ یا فلم کی طرح تمہیں وقت دوں گا۔۔۔۔میں بہت پریکٹیکل سا عام سا لیکن الجھا ہوا انسان ہوں۔”
“لیکن اس کے لیے بہت عام جو میرے قریب ہے اور تم سے زیادہ قریب کون ہے میرا۔”
“اس کمرے میں میرا ماضی آخری بار ڈسکس ہوا ہے اس کے بعد کوئی بات، کوئی وضاحت میری طرف سے نہیں ہو گی۔”
“فرشتے میری بھابھی، میری دوست ہے اس بارے میں اب ہم کبھی بھی بات نہیں کریں گے۔”
“ٹھیک ہے!”
زارا کے اعصاب چٹکے تو وہ گہری سانس بھر گئی۔
جیسے بھاری وجود سارا وزن اتارتا پرسکون ہوا ہو۔
ان کا ٹی وی لاونچ کا دروازہ ناک ہوا تو زارا باہر نکلنے لگی۔
“یہاں آؤ!”
“میں دروازے پر دیکھ لوں!” وہ بولی تو اعظم نے اسے گھورا۔
“تو کیا اب آپ مجھے ان آنکھوں سے ڈرائیں گے۔۔۔۔۔ایسا ممکن نہیں ہے اعظم میں آپ سے نہیں ڈرتی۔۔۔۔”وہ بھی جیسے ہلکی پھلکی ہو گئی تھی۔
“بیشک مت ڈرو! لیکن جب میں یہ دو لفظ بولوں تو تمہیں سب کام چھوڑ کر میرے پاس آنا ہے۔”
“ٹھیک ہے! میں عادت ڈالنے کی کوشش کروں گی!”
وہ کہتی باہر دیکھنے چلی گئی تو اعظم نے آدھ کھلے دروازے کو گھورا۔
یہ لڑکی اسے ٹف ٹائم دینے والی تھی۔
وہ باہر دیکھ کر واپس آئی اور چیزیں دیکھنے لگی کیونکہ اسے پارلر جاناتھا۔
جب زور سے چکراتے سر کو تھماتے وہ فوراً بیڈ پر بیٹھی تھی۔
اعظم اپنی جگہ سے اٹھ کر آیا۔
“کیا ہوا؟”
“بس چکر آگئے تھے!”
زارا نے کہا اور نگاہیں اٹھاتے اس کا فکریہ انداز دیکھا آہستہ آہستہ وہ شخص اس سے محبت کر ہی لیتا۔
مجھے پارلر چھوڑ کر آئیں۔
“میرے سر میں درد ہے!”
“تو پھر میں نہیں جاتی کیونکہ میں کسی ڈرائیور کی زمیداری نہیں ہوں اور آج تو کیا میں مستقبل میں بھی کبھی ان کے ساتھ نہیں جاؤں گی بہتر یہی ہے کہ آپ اپنی زمہ داریاں سمجھ لیں۔ “
“تم زیادہ نہیں پھیل رہی؟”
“نہیں ابھی تو کچھ دیکھا ہی نہیں آپ نے!” زارا کہتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ٹھیک ہے چلو لیکن منہ دھو کر آؤ پہلے!”
اعظم نے اس کی برسی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے کہا تو وہ فریش ہونے چلی گئی۔
نیچے جاتے وہ سب سے خوش اسلوبی سے ملی تھی۔
پلیز ایک گلاس جوس! اس نے ملازمہ سے کہا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔
فرشتے بھی وہیں موجود تھی اسے بھی ازلان نے چھوڑنے جانا تھا لیکن وہ ابھی لان میں انتظامات دیکھ رہا تھا۔
“یہ لو پیو!”
اعظم نے اس کے آگے گلاس کیا تو وہ چونکی پھر سب کو دیکھا جو اسے ہی مسکراتے دیکھ رہے تھے۔
اس نے خاموشی سے وہ گلاس تھاما اور فرشتے کو دکھا جو آنکھ دباتی اسے دیکھتے مسکرائی تو وہ مسکرا دی۔
“دونوں بھائی تو بیویوں کے غلام بننے کو تیار ہیں!” کسی کزن نے شرارت سے کہا۔
“غلام نہیں محبت کہو۔۔۔۔۔لڑکیاں میری بیٹیوں جیسی نازک سی ہوں تو اتنی کئیر کرنا تو بنتا ہے”
جواب ان کی ماں کی طرف سے آیا تو فرشتے اور زارا جھنپ گئی جبکہ سب مسکرا دیے ۔
ذارا نے گلاس میں ایک گھونٹ چھوڑ دیا یہ اس کی عادت تھی کہ وہ پانی پیتی بھی آخر میں ایک گھونٹ چھوڑ دیتی تھی جس کی وجہ سے اسے کافی ڈانٹ بھی پڑ چکی تھی۔
اعظم نے اس سے گلاس تھامتے وہ باقی کا جوس لاشعوری طور پر پیا اور باہر نکل گیا جبکہ اس کی باقی کی کزنذ نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا۔
زارا کا دل یک دم نئے خواب بننا شروع ہوا تھا۔
جاؤ زارا! وہ بولیں تو وہ خدا حافظ کرتی باہر نکل گئی۔
“جانِ جاناں خوش آمدید!”
” اس گھر میں اور اس کمرے میں کیونکہ دل میں تو آپ بہت سالوں سے براجمان ہیں!”
وہ کہتا اسکی گردن پر جھکا تو فرشتے دور ہوئی جھجک کر۔
“فرشتے ازلان اظہر اب آپ کو دور نہیں جانا ہے بلکہ پاس آنا ہے جتنا ممکن ہو سکے!’
فرشتے نے اس کو دیکھا اور پھر کمرے کو۔
“یہ بے حد خوبصورت ہے!”
“نہیں تم سے خوبصورت تو کچھ بھی نہیں ہے یہاں؟”
“کیا یہاں جھولا لگا ہے؟” فرشتے نے اس کے ہاتھ پکڑنے پر نم ہتھیلیوں کو نظرانداز کرتے ہوچھا۔
نہیں!
“تم بھول گئے ہو نا؟”
“نہیں بالکل نہیں! ہمارے اگلے اور مستقل ٹھکانے پر لگا دیا ہے بڑا والا وہ بھی۔”
“مطلب؟”
“ہم یہاں نہیں رہے گے میرا سارا بزنس کینیڈا ہے ہم وہیں رہیں گے” وہ بولا تو فرشتے نے سر ہلایا۔
“میں چینچ کر لوں۔۔۔۔”وہ جھجکتے بولی ناجانے کیوں لیکن اس کے گالوں سے دھواں ٹھ رہا تھا۔
“کیوں؟ میرے لیے تیار ہوئی ہو مجھے دیکھنے تو دو!” ازلان نے کہتے جھٹکے سے اسے پاس کھینچا تو وہ اس کے سینے سے آ لگی۔
“تھک گئی ہو؟”
فرشتے نے سر ہلایا!
“کیا مجھے معافی مل گئی ہے؟”
نہیں!
فرشتے نے کہا تو ازلان نے گھورا۔
“میرے بھی کافی حساب تھے تمہاری طرف لیکن اس روپ کے بعد کسی اور دن پر ڈال دیے ہیں تم بھی کسی اور دن پر ڈال دو” وہ اس کے بال کھولتا بولا۔
نہیں!
“اچھا تو چلو سزا دے لو۔۔کس کس چیز کی سزا دو گی؟” وہ دھیان سے اس کے بالوں سے ایک ایک کر کے پن نکال رہا تھا۔
“بہت سی باتیں ہیں۔۔۔مجھے سخت ہاتھوں سے ٹریٹ کرنے کی” وہ واضح نہیں بولی تھی لیکن ازلان جانتا تھا وہ اس منظر کا حوالہ دیے رہی ہے جب وہ اسے غصے میں بہت ہرٹ کر گیا تھا۔
“اچھا اور؟”
“اور مجھے انجان شخص بن کر تنگ کرنے کی؟’
“اس کا بدلہ تم میری بات نہ مان کر اپنے دوست بنا کر اور وہ ڈرگز ہاتھ میں پکڑ کر لے چکی ہو۔”
“آگے بولو؟”
اور۔۔۔۔
وہ سمانے آ کھڑا ہوا۔۔۔بال سارے کھل کر اس کے کاندھوں پر پڑے تھے۔
ازلان نے جھکتے اپنے ہاتھ مضبوطی سے اس کی کمر پر باندھے جیسے یقین دہائی کی ہو کہ اگلے لمحے وہ نیچے وہ گر جائے۔
اور اپنے تشنہ لب اس کے لبوں سے جوڑتے اپنی تشنگی مٹانے لگا ۔۔۔اس کے لمس میں نرمی کے بعد شدت بڑھتی گئی تو فرشتے لڑکھڑا گئی وہ اس کے بازؤوں کے حصار کے سہارے کھڑی تھی۔
وہ پیچھے ہوا تو فرشتے نے اسے گھورا۔
“آئی ہیٹ یو۔۔۔۔”
“نفرت اور محبت تم نے دونوں مجھ سے ہی کرنی ہے جانِ جاناں!”
“کیا تم مجھے ریڈ لپسٹک لگا کر دکھاؤں گی۔”
“بالکل نہیں! کیونکہ اس کا حال بھی تم نے یہی۔۔۔”وہ کہتی زبان دانتوں تلے دبا گئی۔
“اچھا پہچانتی ہو مجھے!” وہ صوفے پر بیٹھ گئی تو ازلان نے اس کی گود میں سر رکھا۔
“اب بتاؤ کیا سزا ہے میری؟”
“آپ نے بہت برا کیا ازلان۔۔۔۔آپ نے مجھے بہت ہرٹ کیا تھا۔”
“میں معافی چاہتا ہوں!”
” مجھے اپنے غصے پر قابو کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔میں تم سے دور اس لیے رہا ہوں فرشتے ازلان کے وہاں دور بیٹھے میں نے ناچاہتے ہوئے بھی غصے پر قابو پانے کے لیے کتنے سیشنز لیے ہیں۔”
“میں نہیں چاہتا تھا کہ کبھی دوبارہ تمہیں ہرٹ کروں!
خود کو تم سے دور رکھ کر خود کو سزا دی ہے۔”
“تم نے بھائی کو کیوں نہیں بتایا کہ تم میری بیوی ہو ازلان اظہر کی!”
آئیم سوری! فرشتے نے اس کے بالوں میں ہاتھ رکھتے کہا۔
“میں بہت ڈر گئی تھی!”
“ماما بابا کے بعد۔۔۔۔۔وہ دن میں کبھی بھول سکتی ازلان۔۔۔۔میرے اتنے علاج کے بعد بھی اکثر وہ دن میرے سامنے آ ٹھہرتا ہے جب میں بے بس تھی اور وہ شخص میرے بے حد قریب۔۔۔۔”
وہ رک گئی جیسے حلق میں اٹکے آنسوؤں کو باہر نہ آنے دیا ہو۔
اس کے والدین کے بعد اسے اس کی نانی نے سنبھالا تھا وہ اس کا بہت دھیان رکھتی تھی۔
لیکن فرشتے کی تعلیم بھی ضروری تھی اور وہ اسے باہر کسی ٹیوشن نہیں ڈال سکتی تھی اس لیے گھر ہی میں ٹیوٹر لگا دیا۔
صرف غلطی یہ ہوئی کہ وہ مرد زات تھا۔۔۔۔کہنے کو وہ دیکھا بھالا لڑکا تھا جو خود بھی ابھی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا لیکن حالات خراب ہونے کی وجہ سے خود ہی پیسے جمع کر کے اپنی فیس ادا کرتا تھا یہ وجہ بھی تھی کہ انہوں نے اسے رکھ لیا تھا۔
لیکن اس نے اپنی گری ہوئی ذہنیت کا ثبوت دیتے فرشتے کو استعمال کرنا چاہا تھا اس بچی کو جو نوین جماعت میں ہوئی تھی۔
اسے یاد تھا جیسے اس شخص نے نفس کی باتوں میں آتے ہاتھ لگایا تھا کہ وہ ان ہاتھوں کے لمس سے سالوں باہر نہ آ پائی تھی۔
اس کی دادی ڈرائیور کے ساتھ اپنی دوا لینے گئیں تھی۔
اور اس دن بارش کی وجہ سے آزلان ور اعظم دونوں ہی نہیں آئے تھے کھیلنے نہیں تو وہ روز آیا کرتے تھے۔
اسکی دادی نے فرشتے کو کام والی کے ساتھ چھوڑ اور اس لڑکے کو فون پر اطلاع دی کہ آج بارش ہے تو وہ نہ آئے۔
کام والی کو گھر سے فون آیا اس کا بچہ شاید چھت سے گر پڑا تھا کہ وہ فرشتے کو بتاتی نکل گئی۔
فرشتے اپنے لیے فرائز بنا رہی تھی جب دروازہ بجا وہ کھلونے گئی تو اس کا وہی ٹیچر تھا۔
“سر آج تو چھٹی ہے! کیا دادی جان نے آپ کو بتایا نہیں؟”
نہیں! وہ گہری نگاہ اس پر ڈالتا بولا۔
“اوووو! تو آپ اب کر لیں چھٹی کوئی بھی گھر نہیں ہے!”
“کیوں کہاں گئے ہیں سب!” وہ خود ہی اندر آتا پوچھنے لگا تو فرشتے نے اسے سب بتا دیا۔
“آج رہنے دیں پلیز سر چھٹی دے دیں!” فرشتے نے اسے دیکھتے کہا۔
“اچھا نہیں پڑھاتا! چلو مجھے اپنا کمرہ دکھاؤ” وہ ہلکی پھلکی باتوں کے بعد بولا۔
تو فرشتے اسے اپنا کمرہ دکھانے لے گئی لیکن وہ دروازہ بند کرتا اس کی طرف مڑا۔
فرشتے؟
جی سر؟
“قریب آ کر بات سنو؟” وہ آنکھوں میں چمک لیے بولان
فرشتے اسکے پاس آئی۔۔۔۔۔
“آئی لو یو!” وہ لڑکا اس کا ہاتھ تھامتا بولا۔
فرشتے نے تیزی سے اپنے ہاتھ چھڑائے اور وہاں سے نکلنا چاہا وہ گھبرا گئی تھی اتنی تو بچی نہیں تھی کہ اس شخص کی پل میں بدلتی نگاہیں نہ سمجھ پاتی۔
لیکن وہ اسے پکڑتا اپنی طرف کھینچتا اس پر جھکا کہ فرشتے نے اس پر تھپڑوں کی بارش کرتے اس سے دور ہونا چاہا۔
“کچھ نہیں کروں گا پیار کروں گا صرف!” وہ اسے قابو کرنا چاہتا تھا۔
“ہٹو۔؟۔۔۔۔۔میں اعظم اور ازلان کو بتاؤں گی وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے ہٹو!” وہ مسلسل اپنا آپ اس سے چھڑوا رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ مرد مزید گِرتا اس کی دادی نے دروازہ کھولتے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے سے اس پر حملہ کر دیا۔
ڈرائیور نے بھی فوری قابو کیا تھا اسے۔
اسے مارتے وہ بھاگ کر فرشتے کے پاس گئی جو بکھرے بالوں اور حلیے کے ساتھ دھاڑے مار کر رو رہی تھی انہوں نے آنکھیں میچتے وہ قیامت خیز منظر دیکیا۔
انہیں اندازہ ہوا کہ کسی لڑکے پر بھروسہ کر کے انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔مرد زات پر شاید بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا انہیں۔
ان کا دل چاہا وہ دنیا کو چیخ کر بتائیں ان کی جان سے پیاری اولاد کی اولاد کی حالت لیکن نہیں فرشتے کو وہ کسی صورت کھو نہیں سکتی تھی ۔
خاور عثمانی ناشتہ کر رہے تھے جب دروازہ بجا۔
کونین یونیورسٹی جا چکی تھی آج وہ لیٹ اٹھے تھے کہ طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔
دروازے کھولتے ہی سامنے جو چہرہ نظر آیا وہ انہیں حیرت میں مبتلا کر گیا تھا۔
خاور عثمانی نے اسے دیکھا لیکن اس کے چہرے پر دروازہ بند نہ کر پائے اسی لیے دروازہ کھلوتے خود اندر چلے گئے تو وہ بھی اندر داخل ہوا اور گیٹ بند کرتا اندر چلا گیا ان کے پیچھے ۔
“کیوں آئے ہو؟”
“ناشتے کا نہیں پوچھیں گے؟”
“بیٹھو!”
شایان عثمانی شرمندگی کی اٹھا گہرائیوں میں ڈوب گیا اس کی اتنی بدتمیزی اور اخلاق سے گرنے کے بعد بھی وہ اس سے کیسے پیش آرہے تھے، اسے دھتکارا نہیں تھا۔
“کونین کہاں ہے؟”
“میں تمہیں کل سمجھا چکا ہوں برخودار! اگر میری بیٹی کے متعلق بات کرنی ہے تو جا سکتے ہو۔”
“نہیں آج اپنے چچا کے گھر آیا ہوں!”
وہ بولا تو خاور عثمانی چونکے لیکن پھر سے سر جھکاتے اپنی پلیٹ پر جھک گئے۔
اور اس کی پلیٹ میں ناشتہ نکالتے اس کے آگے رکھا جو وہ خاموشی سے کھانے لگا۔
“کیا چاہتے ہو؟” ناشتے کے بعد وہ صوفے پر جا بیٹھے تو وہ بھی وہیں آگیا۔
“اپنے چچا جان کے پاس نہیں آسکتا کیا؟”
“آج کیسے یاد آگئی آپ کو میری؟” وہ حیرت سے بولے۔
“بس میں جان گیا ہوں اس عورت کی اصلیت جس نے سالوں آپ کو ازیت پہنچائی اور میرا بچپنا اور میری جوانی مسخ کر دی” وہ ان کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا لیکن وہ خاموش رہے۔
“میں ہمیشہ انہیں کہتا رہا کہ آپ میرے فیورٹ ہیں اور وہ ہمشہ مجھے کہتی رہی کہ آپ دھوکے باز ہیں بچپن میں میں سمجھ نہیں سکا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہ مجھے آپ کے خلاف کرتی رہی۔”
“مجھے بتاتی رہی کہ آپ نے انہیں دھوکا دیا ہے ان سے شادی کے وعدے کر کے۔۔۔۔ان سے مراسم بڑھا کر کسی اور سے شادی کر لی۔۔۔۔انہوں نے بتایا کہ آپ کیسے کردار کے مالک ہیں۔”
“آپ کیسے ان سے ملتے رہے ہیں اور۔۔۔۔”
اوررر! خاور عثمانی مطمئن سے بولے تو وہ سر اٹھاتا انہیں دیکھنے لگا۔
“آپ کو غصہ نہیں آیا؟”
“نہیں پہلے آیا کرتا تھا اب تو سالوں بیت گئے جو لوگ دماغی طور پر پاگل ہو چکے ہوں کیا ان کا علاج محض باتوں سے کیا جا سکتا ہے؟ نہیں کبھی نہیں! اسی لیے کبھی میں نے اس عورت کو جواب نہیں دیا۔”
“آپ نے ان کو غلط ثابت کیوں نہیں کیا۔۔؟”
“کیونکہ ان سب میں تمہاری ماں بھی تھی اگر یہ سب کھول دیتا تو میری وجہ سے ایک رشتہ ٹوٹ جاتا اور میری اپنوں نے ہی مجھ پر بھروسہ نہیں کیا تو میں سب چھوڑ آیا۔”
“کم از کم جس کے ساتھ آیا تھا اس نے مجھے خالی ہاتھ قبول تو کیا تھا۔۔۔۔میرے سکھ دکھ کی ساتھی تو رہی تھی مجھے ایک خوبصورت تحفہ تو دیا کونین کی صورت۔”
“شاہ زیب بھائی مجھ سے رابطے میں رہے تھے آپ کا اور کونین کا نکاح بھی انہوں نے کروایا تھا۔
وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ کوین ان کی بیٹی ہے لیکن اس عورت کو یہ بھی ہضم نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔تہذیب عثمانی کو ایک روز شاہ زیب نے شاید بتا دیا تھا کہ وہ مجھ سے ملتا ہے اور اس نکاح کا بھی اور اس کے بعد جو ہوا سب جانتے ہیں۔”
شاہ زیب عثمانی کبھی مجھ سے نہیں ملے ان کی آنکھیں بھیگ گئی جیسے آج بھی وہ ان دنوں کو جی رہے ہوں۔
شایان نے ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا۔
“مجھے نہیں اندازہ میں کب اس خود ساختہ نفرت میں بہتا چلا گیا اور۔۔۔۔۔”
“بچپن کی آپ کی ہر غلطی معاف میرے بچے لیکن کیا ہوش سنبھالنے کے بعد بھی آپ کو خبر نہیں ہوئی۔۔۔۔آپ نے کبھی نہیں جاننا چاہا کہ آپ کی منکوحہ کون ہے کہاں ہے؟”
“نہیں یہ سچ نہیں ہے! میں جان گیا تھا لیکن بہت سالوں بعد جب میں نے نیا نیا بزنس شروع کیا تھا۔
بابا کی الماری سے کاغزمذات نکالے تو اس میں ملا اپنا نکاح نامہ دیکھتا میں کئی لمحے سن رہ گیا بے حس و حرکت سا۔”
“میں کسی صنفِ نازک سے منسوب ہوں میں نہیں جانتا تھا اور نہ کسی نے مجھے بتایا تھا۔”
“اور پھر میں نے خالہ سے بات کی اور انھوں نے مزید آپ کے خلاف میرے دماغ میں زہر بھرنا شروع کر دیا شاید وہ جانتی تھی کہ میں خاموش نہیں بیٹھوں گا اور کونین خاور عثمانی کو ڈھونڈنے کی کوشش کروں گا۔”
“میں نے ڈھونڈا اسے لیکن دل سے نہیں! شاید اس نفرت کے بعد میں اس سے بھی نہیں ملنا چاہتا تھا۔
لیکن کچھ مہنیوں بعد وہ میرے سامنے تھی۔”
“کونین خاور عثمانی!”
” اس نے پہلی ہی ملاقات میں مجھ پر واضح کر دیا کہ وہ میرے نکاح میں ہے۔۔۔۔
میری معلومات جو میں نے کروائی تھی اس میں میں اس کے بارے میں اور آپ کے مرض کے بارے میں جان گیا تھا۔
بس میں نے آگے جو کیا وہ سائمہ نقوی نے جو کہا وہ کیا۔۔۔۔کونین کو نوکری پر رکھا اپنے لیے وہ چاہتیں تھی اسے گھر میں کسی ملازم کی طرح متعارف کروایا جائے لیکن میرے دل کو یہ گوارا نہیں تھا۔”
“میں نے ایسا نہ ہونے دیا۔”
“میں نے نفرت ہونے کے باوجود آپ کا علاج کروایا کیونکہ میرے دماغ پر اس شخص کی تصویر اور وہ لمحے ہلکے ہلکے چھپے تھے جس میں آپ سب سے زیادہ مجھ سے محبت کیا کرتے تھے۔”
“میں تو آپ سے معافی بھی نہیں مانگ سکتا کیونکہ میں ناچاہتے ہوئے بھی گناہگار رہا ہوں آپ کا!” وہ ان کے ہاتھ تھماتا بھاری ہوتی آواز کے ساتھ بولا۔
تو خاور عثمانی اسے دیکھتے رہے پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ جھٹکے سے سر اٹھاتا انہیں دیکھنے لگا
“نہیں آپ مجھے اتنی جلدی معاف نہیں کر سکتے! آپ بھی مجھ سے نفرت کریں سالوں تک!”
“نہیں بیٹا میری اتنی عمر نہیں بچی!” وہ مسکرا دیے تو وہ تڑپ گیا۔
اس شخص کا حوصلہ اور دل کتنا بڑا تھا۔
“میں نے معاف کیا آپ کو میری جان! بس شکوہ یہ رہا کہ آپ نے میری بیٹی کا دل دکھایا۔”
“میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔میں نے اس سے محبت کی ہے یقین کریں اس کے ساتھ کچھ بھی جھوٹ نہیں تھا کوئی فریب نہیں۔”
“اسے دل سے اپنایا میں نے۔۔۔۔۔کونین کے لیے میرا دل دھوکا کر گیا اور میں نے اپنی خالہ کی بھی ایک نہیں سنی۔”
“میں سب میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں!”
وہ ان کے ہاتھ تھامے انہیں اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا ان کی بیٹی سے۔۔
وہ مسکرا دیے۔۔۔۔سالوں پہلے انہوں نے بھی تو محبت کی تھی پھر کیسے نا دیکھ پاتے وہ سچے جذبات۔
“ہم نے آپ کو معاف کیا خوش رہیں!”
“اور آپ کی بیٹی؟”
وہ سیدھا ہوا کان کے ساتھ جسم کا ہر عضو انہیں سنننے کا منتظر تھا۔
“وہ آپ کا آپ کی بیوی کے ساتھ معاملہ ہے!” وہ ہنس کر بولے تو وہ گہری سانس بھر گیا۔
اس کی بیوی! ہاں وہ اس کی بیوی تھی! انہوں نے اپنی بیٹی اسے دے دی تھی۔
“آپ میرے ساتھ واپس چلیں!”
“نہیں یہ ممکن نہیں ہے! وہ میرا گھر نہیں ہے۔”
“دادا جان نے کہا ہے کہ آپ کو کے کر آنا ہے! آپ جاتے ہیں آپ سے کبھی بھی نفرت نہیں کی انہوں نے کیا کوئی والدین اپنی اولاد سے نفرت کر سکتے ہے؟ میں نے انہیں راتوں کو آپ کے کمرے میں جاتے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔آپ کی یاد میں ان کی آنکھوں کو نم دیکھا ہے۔”
میں جانتا ہوں! میں جانتا ہوں وہ مسکرا دیے!
“میری پہلی نوکری بھی انہوں نے لگوائی تھی میں جانتا ہوں” وہ بولے تو شایان نے حیرت سے انہیں دیکھا پھر مسکرا دیا۔
“چلیں پھر؟”
“میں کیا کروں گا اب وہاں جا کر؟ ہماری بیٹی سے پوچھ لو وہ جائے گی تو؟” وہ پہلے سنجیدگی اور پھر شرارت سے بولے۔
“اسے منا لوں گا آپ اپنا سامان باندھے آپ کے بھائی اور والد صاحب آپ کا کمرہ روز صاف کرواتے ہیں اور اب بھی وہ آپ کے منتظر ہیں۔”
خاور صاحب مسکرا دیے۔
“ہاں انہیں لوٹ جانا چاہے تھا سالوں ترسے تھے وہ ان رشتوں کو۔۔۔۔کیا پتا کب زندگی دغا دے جائے وہ سر ہلا گئے تو شایان ان کے ضروری سامان کے ساتھ انہیں حویلی چھوڑ ایا۔”
اب مشکل ہدف اس کی بیوی تھی۔
“کونین شایان عثمانی آپ کو کیسے منایا جائے؟”
وہ اسکی یونیورسٹی کے باہر کھڑا تھا جب اسے
سامنے سے کونین آتی دکھائی دی اسے وہ باہر نکل کر کھڑا ہوا لیکن وہ اسے نظرانداز کرتی آگے بڑھنے لگی۔
کونین؟
“کونین! واپس آؤ پلیز! مجھے بات کرنی ہے!”
“کیا مسئلہ ہے کب سے لڑکی کو پریشان کر رہا ہے؟”
دو لڑکوں نے شایان کو دیکھتے کہا تو کونین نے مڑتے اسے دیکھا جو شکوے بھری نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ واپس آئی۔
“میرے ہسبینڈ ہیں یہ!”
کونین نے کہا تو وہ دونوں لڑکے انہیں عجیب نظروں سے دیکھتے چلے گئے۔
“چلو؟”
“بالکل نہیں! اپنے راستے پر جائیں اور دوبارہ مت آئیے گا۔”
کونین شایان عثمانی آپ بیٹھ رہی ہیں یا میں اپنے طریقے سے بٹھاوں؟ وہ بولا تو کونین نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر قدم گیٹ کی طرف بڑھائے۔
شایان نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا اور گاڑی میں بٹھاتے اپنی جگہ پر بیٹھا اور اسپیڈ سے چلاتے اپنے فلیٹ پر لایا۔
“کیا چاہتے ہیں آپ شایان عثمانی؟ اور کیا بچا ہے اب؟”
“میری بات سنو کونین؟” شایان نے اس کا ہاتھ تھماتے کہا۔
“ہاتھ نہیں لگائیں!” وہ پیچھے ہوئی۔
“پھر سے تھپڑ مارو گی؟” شایان بولا تو کونین نے نگاہیں چرائیں۔
“کیا چاہتے ہیں آپ؟”
“آپ کو!” شایان نے اسے پانی پکڑاتے کہا جو ہانپ رہی تھی۔
