220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 21

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

شایان جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔

اس کے دل نے جیسے اعلان کیا تھا کہ شایان عثمانی اب وہ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اور یہ سوچتے اس کا دل رُکا تھا۔۔۔۔۔یہ لمحے اور یہ سوچ اذیت ناک تھی کہ وہ شخص جس سے آپ محبت کرتے ہو وہ آپ کی دسترس میں ہوتے ہوئے بھی دور ہو اور آپ چاہ کر بھی رسائی نہ پا پاؤ اس تک۔

اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس نے عشق کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دیا ہے یہی وجہ تھی کہ اس کا دل درد سے پھٹنے کے قریب تھا۔

“میں سکون کے لیے کہاں جاؤں؟” اس نے خود سے پوچھا تھا۔

ہاں اسے سجدہ کرنا تھا۔۔۔اسے اپنے رب کو بتانا تھا کہ وہ عورت اسے کتنا تڑپا رہی ہے، بتانا تھا کہ اس کا دل کیسے درد محسوس کر رہا ہے جیسے کسی نے مٹھی میں دبایا ہو، کیسے اس کی سانسوں کی رفتار سست ہو رہی ہے۔

یہی سوچتے وہ دُکھتے سر کے ساتھ تیزی سے ڈرائیو کر رہا تھا کہ سامنے سے آنے والی گاڑی کو نہ دیکھ پایا۔

دھماکے کی آواز کے ساتھ اس کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے تھے آس پاس چیخ و پکار سنی تھی اس نے اور پھر آنکھیں بند ہونے سے پہلے خود پر جھکے لوگ محسوس کیے تھے اس نے۔

یا رب العالمین ایسے گمراہی میں مت جان نکال لینا دل نے آہ بھری اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔

کونین روتے وہیں سو گئی تھی لیکن اب آنکھ کُھلی تو سر درد ہو رہا تھا حلق میں جیسے کانٹے چبے تھے وہ پانی لینے کچن گئی لیکن پانی پی کر بھی سکون محسوس نہ ہوا۔

اس کا دل اسے کچھ شدید بُرا ہونا کا اشارہ دے رہا تھا۔

لوگوں کے نزدیک یہ افسانوی باتیں ہو سکتی ہیں لیکن جب آپ کا دل کسی شخص کے ساتھ اس حد تک جڑا ہو کہ اس کی تکلیف آپ خود پر محسوس کرو تو جب اس کے ساتھ بُرا تو آپ کا دل آپ کو الارم دینے لگتا ہے کہ کچھ ہو گیا ہے برا، بے حد برا جس سے سانسوں کی رفتار مدھم پڑنے لگتی ہے۔

اس نے پانی پیا اور وہیں بیٹھ کر سینے پر ہاتھ رکھنے لگی۔

“یا رب العالمین”! پھر وضو کیا اور جائنماز پر بیٹھ گئی اور سر سجدے میں جھکا دیا۔

“سکون چاہیے بس یاارحم الراحمین!”

اور پھر وہ بستر پر لیٹ گئی لیکن جاگی سوئی کیفیت میں ہی رہی۔

جہانگیر عثمانی کا فون رات کے ڈھائی بجے بجا تو وہ اٹھے اور فون پر نگاہ ڈالی جس پر انجان نمبر بلنک ہو رہا تھا۔

“اسلام علیکم!” انہوں نے لیمپ جلایا اور سلام لیا۔

“وعلیکم السلام!” شایان عثمانی کے دادا جان بات کر رہے ہیں؟ نسوانی آواز پر وہ اٹھ کر بیٹھے۔

جی؟ انہوں نے فوراً اٹھ کر کمرے کی لائٹ چلائی۔

آپ کون ہیں؟

“سر وہ ہسپتال میں ہیں اور فوراً پہنچ جائیں ان کو خون کی ضرورت ہے جو کہ ہمیں درکار ہے اور آپ کا آنا۔۔۔۔۔۔”

جہانگیر عثمانی کے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا۔

وہ تیزی سے دروازہ کھلوتے باہر نکلے۔

“زیبببببب۔۔۔۔۔زیبببب۔۔۔۔منوررر۔۔۔میرا بچہہہ۔۔۔۔”

ان کی چیخ و پکار سے سارے کمروں میں بتیاں جلی اور پھر سب باہر نکلے تھے فوراً۔

میرا بچہ! ان کی آواز لرز رہی تھی شاہ زیب عثمانی فوراً ان کے قریب آئے اور انہیں ساتھ کرسی پر بٹھایا۔

“شاہ زیب ہمارا بچہ۔۔۔۔”

“بابا جان کس کی بات کر رہے ہیں؟” وہ کشمکش میں تھے۔

“شایان۔۔۔شان۔۔۔۔”

“کیا ہوا؟ کہاں ہے شایان؟ تہذیب دیکھو شایان کمرے میں ہو گا” شاہ زیب عثمانی بولے تھے۔

“نہیں وہ ہسپتال۔۔۔۔۔” وہ انہیں حادثے کا بتانے لگے۔

اور پھر وہ سب تیزی سے ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے تھے۔

ان کی ٹانگیں متاثر ہوئی ہیں اور سر پر چوٹ آئی ہے آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے انہیں مطلع کیا تھا۔

وہ ٹھیک ہے نا؟ جہانگیر عثمانی اٹھتے تیزی سے ڈاکٹر کے پاس آئے تھے۔

“ٹھیک ہے لیکن کچھ دنوں تک وہ چل نہیں پائے گا اور سر میں بھی درد رہے گا بہتر یہی ہے کہ ان کا پورے طریقے سے خیال رکھا جائے اور کچھ ایسا نہ ہو جس سے ان کے دماغ پر زور ڈلے” ڈاکٹر انہیں سب بتا کر چلا گیا۔

جہانگیر عثمانی سب سے پہلے اس سے اندر ملنے گئے تھے جہاں وہ آنکھیں موندے پڑا تھا چہرہ سفید تھا جیسے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو۔

خون کا انتظام کرتے اسے فوراً خون دیا گیا تھا۔

“میرے بچہ۔۔۔۔”

جہانگیر عثمانی نے اس پر جھکتے اس کا چہرہ چوما ہاتھ لڑکھڑائے تھے اس کی یہ حالت دیکھ کر۔

“دادا جان میں ٹھیک ہوں!” وہ نقاہت سے بمشکل بولا۔

شاہ زیب عثمانی بھی اندر داخل ہوئے۔

“کہاں دھیان تھا تمہارا؟” وہ اس کی حالت دیکھتے اسی پر دھاڑے تھے۔

تو وہ مسکرا دیا ہلکا سا۔

“کہاں گئے تھے جو تمہیں بالکل دھیان نہیں رہا تمہیں کتنی بار کہا ہے تیز ڈرائیو مت کیا کرو اپنا حال دیکھ رہے ہو مزید کچھ دن تم چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہو نقصان کا اندازہ ہے تمہیں اپنے؟”

“شاہ زیب بس بھی کرو!” جہانگیر عثمانی سے برداشت نہ ہوا تو بولے۔

سب آہستہ آہستہ اس سے مل کر جاتے گئے لیکن اس کی آنکھیں دروازے پر ٹکیں تھے جیسے کوئی معجزہ رونما ہو جائے اور وہ اس سے ملنے آجائے۔

لیکن اسے کیسے پتا ہو گا! تلخی سے اس کے لب پھیلے۔

جبکہ دوسری طرف وہ صبح سے ماری ماری پھر رہی تھی آج یونیورسٹی بھی نہیں گئی تھی۔

“کونین؟”

جی بابا؟

“طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟” وہ اسے نجانے کب سے یوں ہی بولائی بولائی پھرتے دیکھ رہے تھے۔

“جی!”

اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا وہ صبح اٹھ بھی جلدی گئی تھی کہ نیند تو ٹھیک سے آئی نہیں تھی اب اسکا سر برے طریقے سے دُکھ رہا تھا کسی طور چین نہیں تھا۔

“بابا مجھے لگ ہے کچھ بہت بُرا ہوا ہے میرے ساتھ یا ہونے والا ہے!”

“رب خیر کرے گا ایسا کیوں سوچ رہی ہیں یہاں آئیں”

وہ پاس آئی تو وہ کچھ پڑھ کر اس پر پھونکتے اس کا ماتھا چوم گئے جس نے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔

اس نے فون اٹھایا تو باہر لان میں نکل گئی۔

اور شایان کے نمبر کو دیکھنے لگی اس کا دل کہہ رہا تھا کہ کر لو ایک بار تسلی تو ہو جائے گی دل یوں دھڑکے گا تو نہیں دل کے کسی کونے میں تکلیف تو نہیں ہو گی۔

اور اس نے دماغ کی باتوں کو رد کرتے اس کا نمبر ملا ڈالا تھا اور پھر بیل نجانے کتنی بار گئی تھی لیکن کال اٹھائی نہیں گئی تھی اس کے دل کی دھڑکنیں مزید سست پڑی۔

“رب العالمین میرے دل کو قرار کیوں نہیں آرہا؟”

شام کے چھ بج گئے تھے اور وہ اب رونے کے قریب تھی اپنی حالت خود بھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔

جہانگیر عثمانی کا فون آیا جو خاور عثمانی کو کچھ کہہ رہے تھے پھر انہوں نے کونین سے بات کرنے کا کہا تو اس نے تیزی سے آگے بڑھتے ان کے ہاتھ سے فون کیا۔

“کونین گڑیا!”

ڈرائیور بھیج رہا ہوں آجائیں۔

“کیوں داد جان؟”

“میں ملنا چاہتا ہوں آپ سے!”

انہوں نے اپنے پوتے پر نظر ڈالی جس کی نگاہیں صبح سے دروازے پر تھیں۔

“تو آپ آجائیں نا میرا دل بہت برا ہو رہا ہے میں نہیں نکلنا چاہتی باہر۔”

“کچھ نہیں ہو گا میں انتظار کر رہا ہوں جلدی سے آجائیں” انہوں نے کہتے مزید کچھ سنے کال کاٹ دی۔

تو خاور عثمانی نے اسے تیار ہونے کو کہا اس نے کپڑے بدلے اور چادر لیتے باہر نکلی ڈرائیور باہر کھڑا تھا۔

“کہاں جانا ہے ہمیں؟” اس نے بیٹھتے ڈرائیور سے استسفار کیا۔

“ہسپتال!”

“کیوں؟ کون ہے ہسپتال؟ دادا جان کو کچھ ہوا ہے؟”

“نہیں وہ بس آپ سے ملنا چاہتے ہیں!”

اس کے بعد وہ کچھ نہ بولی تھی اور جلد ہی وہ ہسپتال کی بڑی عمارت کے باہر تھی جہاں جہانگیر عثمانی موجود تھے۔

“دادا جان آپ ٹھیک ہیں؟”

“میں ٹھیک ہوں گڑیا۔۔۔۔لیکن کوئی اور ٹھیک نہیں ہے۔”

“کون؟”

اس نے بند ہوتی سانسوں سے پوچھا تو یعنی اس کے دل کے خدشات صحیح تھے۔

“شان!۔۔۔۔۔”

وہ بولے تو وہ تیز قدم چلتی بنا ان کی باتیں سنے ان سے آگے ہی چل رہی تھی جیسے کمرہ وہ جانتی ہو لیکن لفٹ سے نکلتے اس نے تڑپ کر جہانگیر عثمانی کو دیکھا تو انہوں نے اشارے سے اسے کمرہ بتایا۔

“یہ یہاں کیوں آئی ہے؟ رُکو لڑکی۔”

کونین کے قدم دروازے کے باہر ہی تھم گئے۔

تہذیب عثمانی نے آگے بڑھتے اسے روکنا چاہا لیکن جہانگیر عثمانی کے رعب سے رُک گئیں۔

“جائیں گڑیا۔۔۔۔آپ کا شوہر صبح سے آپ کے انتظار میں ہے اور کوشش کریں کہ کچھ ایسا نہ ہو کہ اس کے دماغ پر زور ڈلے”

جہانگیر عثمانی نے کہا تو وہ سب کو نظرانداز کرتی اندر داخل ہوئی۔

اندر داخل ہوتے اس شخص کو دیکھا جس کے سر پر پٹی بندھی تھی چہرہ سفید پڑا تھا اور وہ آنکھیں موندے پڑا تھا۔

“ماما پلیز مجھے مزید کسی سے نہیں ملنا” وہ بنا آنکھیں کھولے بولا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس تک پہنچی۔

آنکھیں نم ہو گئیں تھی اسے اس حالت میں دیکھتے۔

اس کے پاس جا کر کھڑی ہوئی۔

“تم نے کافی دیر نہیں کر دی کونین!” وہ اس کی خوشبو پہچان گیا تھا۔

کچھ خاموشی کے بعد شایان عثمانی کی آواز گونجی تو وہ تڑپ کر اس کے ساتھ اسکے بستر پر بیٹھی۔

“شایان؟”

آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے تھے وہ شخص ظالم سہی لیکن اس کی پہلی اور آخری محبت تھا جس کے درد پر وہ تڑپ اٹھی تھی۔

“آپ نے کیسے پہچانا مجھے؟”

“یہی خوشبو میرے حواسوں پر چھائی رہتی ہے کونین شایان عثمانی اور بھولو مت رات کو اسی خوشبو سے محروم رکھا ہے تم نے مجھے۔”

وہ لاجواب ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرشتے صبح جاگی تو چکراتے سر سے یہاں وہاں دیکھا وہ اپنے کمرے میں موجود تھی۔

وہ تو بوا کے ساتھ تھی۔۔۔۔اس کے بعد جو اس کو یاد آرہا تھا وہ اسے خواب لگا۔

“یہ ناممکن ہے!”

اس نے تیزی سے سر ہلاتے گہرا سانس بھرا اور پھر سانس روک لی۔

ازلان اظہر کی خوشبو! اس نے خود کے کپڑوں کو دس بار گہری سانس بھر کر اپنے اندر اتارا۔

“ازلان!” اس نے غصے سے آنکھیں میچی۔

لیکن جو اسے یاد آرہا تھا وہ وہ نہیں چاہتی تھی یاد کرنا۔

بوا نے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ انہیں دیکھنے لگی۔

“اٹھ گئی ہو؟ کیا کھاؤ گی فرشتے؟ واپس اپنے کمرے میں آگئی مجھے پتا نہیں چلا”

وہ بولی تو فرشتے نے دماغ پر زور ڈالا وہ یہاں سے نکلی کیسے۔

“کیا وہ یہاں آیا تھا؟”

نہیں! وہ یہ جگہ نہیں تھی۔

“انڈا پراٹھا بنا لیں!” وہ انہیں انتظار میں کھڑا دیکھ کر بولی تو وہ سر ہلاتی چلی گئں۔

اس کا سر اب بھی چکرا رہا تھا۔

یعنی کوئی ہے جو اس کے گھر آتا ہے۔۔۔اس کا لیپ ٹاپ بھی ساتھ موجود تھا جو اب کی بار پھر سے نیا تھا۔

چالاک آدمی!

اس نے اس لیپ ٹاپ کو گھورا اور قدم نیچے اتارے لیکن چکرا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھی۔

تب ہی اسکا فون بجنے لگا اس نے گہرا سانس بھرا اور پھر آنکھیں چھوٹی کرتے پورے کمرے کی دیواروں پر نگاہ دوڑائی۔

تو وہاں میلوں دور بیٹھا شخص اُس کی اس حرکت پر مسکرا دیا۔۔۔۔یقینا وہ سمجھ گئی تھی کہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

فرشتے نے فون اٹھایا۔

“گڈ مارننگ ڈارلنگ!”

“اس طرح کے گھٹیا لفظوں سے مجھے مت بلاؤ!”

وہ فون اٹھاتے ہی بُرے موڈ سے گویا ہوئی تو مخالف کی مسکراہٹ سمٹی۔

“مجھے پتا ہوتا تو کچھ گھنٹے پہلے کی ملاقات میں تمہیں اچھے سے تمیز سکھاتا” وہ سرد سے لہجے میں بولا تو فرشتے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی؟”

“تو اپنی سانسوں میں تمہیں میری سانسیں اب بھی محسوس ہو رہی ہیں؟” وہ گویا ہوا۔

فرشتے نے کال کاٹ دی غصے میں۔۔۔۔۔

“ناشتے کے بعد تمہارے بیڈ کے ساتھ والے پہلے ڈرار میں دوا پڑی ہے وہ لو چکر نہیں آئیں گے اور اس کے تھوڑی دیر بعد جوس پیؤ!”

وہ فریش ہو کر باہر آئی تو اس کا میسیج پڑھتے اس نے گہری سانس بھری۔

پھر ناشتہ کرنے چلی گئی اور دوا لی کیونکہ اس کا سر اب بھی چکرا رہا تھا۔

یونیورسٹی بھی نہیں گئی تھی وہ لیکن اسے اتنا تو یاد تھا کہ اس شخص نے کہا تھا وہ اس یونیورسٹی نہیں جانے والی تھی اتنا تو جانتی تھی لیکن وہ اس شخص کو زچ کرنے والی تھی اسی لیے سب سوچ کر مسکرا دی۔

“ازلان اظہر اب تم دیکھو! تم مجھ پر حق جما سکتے ہو لیکن میں اب تک تمہارہ مجھے غصے میں چھونا اور تکلیف پہنچانا نہیں بھولا۔”

وہ تیار ہوئی اور یونیورسٹی کے لیے نکل گئی وہاں سب کلئیر تھا اسی لیے کوئی خطرے کی بات نہیں تھی۔

اس نے یونیورسٹی میں قدم رکھا تو بوا کا فون آنے لگا۔

“جی بوا؟”

“فرشتے آپ کو ازلان نے منع کیا تھا یونیورسٹی جانے سے؟” وہ بہت غصہ ہو گا واپس آجائیں۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا بوا۔۔۔میں کیوں اس کے غصے اور خوشی کا دھیان رکھوں؟”

وہ کہتی کال کاٹ گئی اور کلاس لیتی کیفے میں بیٹھ گئی۔

جبکہ اس کا فون مسلسل وقفے وقفے سے بج رہا تھا وہ جوس پیتی مزے سے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

“فرشتے ازلان اظہر کال اٹھاؤ میری۔”

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یونیورسٹی جانے کی؟”

“میری بات کے خلاف جا کر تم اپنا نقصان کرو گی”

اور ایسے کئی میسیجز تھے جسے دیکھ کر وہ ڈری تھی لیکن ہمت کرتی بیٹھی رہی۔

پھر یونیورسٹی سے کچھ سوچتے نکل گئی اور گول گپے کا سٹال ڈھونڈنے لگی اور ایسا کرتے وہ یونیورسٹی کے ایریا سے بھی نکل آئی تھی۔

گول گپے کھاتے اب اسے واپسی کے لیے کیب نہیں مل رہی تھی اور یہیں سے اس کی گھبراہٹ شروع ہوئی تھی۔

اس نے وہ جگہ دیکھی وہ وہاں پہلے نہیں آئی تھی وہاں سڑک پر ہی کافی سٹالز تھے وہ گھبرا گئی تھی اتنے لوگوں کو دیکھ کر۔

اس نے فون نکالا فوراً جس کی چارجنگ بھی نہیں تھی کہ وہ کیب بک کروا سکتی اس کا دل دھڑکا۔

اس نے بنا سوچے سمجھے ازلان کا نمبر ملایا تھا جو اٹھا لیا گیا تھا۔

“ازلان؟” وہ نم لہجے میں بولی تھی۔

“تم خود واپس آؤ گی فرشتے ازلان اظہر تاکہ تمہیں اندازہ ہو کہ شوہر کی بات کے خلاف جانے کے کیا نقصانات ہوتے ہیں” اور کال کٹاک سے کاٹ دی گئی۔

فرشتے نے نم آنکھوں سے یہاں وہاں دیکھا اور اس بھیر سے نکل کر سائیڈ پر چلنے لگی۔

“فروہ؟”

“جی سر؟”

“تمہیں پتا ہے فرشتے کہاں ہے؟” اس نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا تو فروہ نے تھوک نگلا۔

“نہیں سر؟”

“اس کا حساب میں تم لوگوں سے بعد میں لوں گا۔۔۔۔تم لوگوں کو اپنی زمہ داریوں کا اندازہ ہے یا نہیں؟ وہ جس علاقے میں ہے اس کے بارے میں وہ بالکل نہیں جانتی عمر کو فون کرو فوراً اسے گھر پہنچائے۔”

جی سر! اور پھر فروا نے عمر کو سب بتایا تھا جو اس جگہ پہنچا تھا۔

“میڈیم چلیں؟”

اس نے فرشتے کو دیکھا تو تیزی سے گاڑی سے اترتا اس تک پہنچا۔

فرشتے اسے دیکھ کر سہم گئی۔

“ازلان سر نے آپ کو گھر پہنچانے کا کہا ہے!”

وہ تابعداری سے بولا تو فرشتے نے تھوک نگلا نہیں تو بہت ڈر گئی تھی۔

“جی سر بیٹھ گئی ہیں!” اوکے سر نجانے کیا کہا گیا کہ اس نے فون فرشتے کو پکڑا دیا۔

“تمہارا دماغ درست جگہ پر نہیں ہے؟ تم نے ایک بار مجھ سے پوچھا بھی نہیں کہ وہ میرا ہی آدمی ہے یا نہیں مجھے اتنا غصہ مت دلاؤ فرشتے کہ اپنی سزا بھی نہ سہہ پاؤ” وہ دھاڑا۔

فرشتے کی سسکی بندھی۔

“گھر پہنچ کر کال کرو مجھے اور عمر سے بولنا اب جہاں جانا ہو اور کل سے تم یونیورسٹی جاؤ گی لیکن میری بتائی ہوئی۔”

فرشتے نے تیزی سے سر ہلایا جیسے وہ سامنے بیٹھا ہو۔

“چکر آرہے ہیں اب؟”

نہیں! فرشتے نے آہستگی سے کہا۔

“ٹھیک ہے ریلیکس رہو!”

وہ بہت زیادہ ڈانٹ کر اب اسے ریلیکس رہنے کا کہہ رہا تھا فرشتے نے فون کو گھورا اور پھر کال ازلان کی طرف سے کاٹی گئی تو وہ سیٹ کی پشت پر سر ٹکا گئی۔

جانتی تھی اب جا کر اسے کال کرنا لازمی ہے۔