220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 25

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

وہ خاموش ہو گئی تھی کیا اس کے پاس اب کچھ بچا تھا۔

اس نے اپنی عزتِ نفس کو اپنے رشتے پر فوقیت دی تھی شاید ہر عورت میں یہ حوصلہ ہونا چاہیے کیونکہ جو شخص آپ کو ایک بار گرا سکتا ہے ضروری نہیں ہے وہ دعوے کرنے کے بعد آپ کو تھامے دوبارہ۔

خاور عثمانی کو ان کا حق دے دیا تھا جہانگیر عثمانی نے یہی وجہ تھی کہ ان کا اچھا علاج چل رہا تھا اور اب تنگ دستی نہیں رہی تھی یہ اسکے مستقل صبر اور محبت کا نتیجہ تھا۔

وہ کل سے یونیورسٹی جائے گی اس نے سوچ لیا تھا۔

اس شخص کی محبت اور فکر میں مزید نہیں گُھلے گی۔

وہاں شایان عثمانی نے اپنے بستر پر پڑے اسے ہر لمحے یاد کیا تھا لیکن انا کو مارتے اسے فون نہیں کیا تھا۔

وہ تکلیف میں تھا اسے چلنے میں بھی بہت تکلیف تھی۔۔۔واش روم تک جانا اس کے لیے محال تھا اس کے بھینچے ہونٹ اس کی تکلیف صاف دِکھاتے تھے۔

سائمہ نقوی اندر داخل ہوئیں اور اسے دیکھا جو سنجیدگی سے سامنے ٹی وی پر چلتی نیوز دیکھ رہا تھا۔

“کیسے ہو میری جان؟”

ٹھیک ہوں! وہ سنجیدگی سے بولا۔

“ناراض ہو؟”

“نہیں! ناراضگی کس بات کی؟” وہ انہیں دیکھتا بولا اور احترام میں ٹی وی بند کر دیا۔

“مجھے لگا تمہاری بیوی نے۔۔۔۔”

“خالہ پلیزززز میں اُسے ڈسکس نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔!’

وہ سچ میں اپنی خالہ کے ساتھ اسے ڈسکس نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ کونین کے خلاف کچھ نہیں سن سکتا تھا۔

“مجھے کچھ کہنا ہے!” وہ پل میں آنکھیں نم کرتی بولی۔

اور ان کے امید کے مطابق شایان عثمانی تڑپ کر آگے بڑھا اور ان کے ہاتھ تھامے۔

“بولیں خالہ لیکن روئیں تو نہیں!’

“مجھے سمجھ نہیں آرہی کس طرح کہوں؟’

“ریلکس ہو کر بولیں۔۔۔۔”

“کیا تم اس لڑکی سے نبھاہ چاہتے ہو؟”

شایان عثمانی نے انہیں حیرت سے دیکھا۔

“وہ میری بیوی ہے اور اس سے دستبرداری تو کسی صورت مجھے منظور نہیں ہے تو یہ سوال بیکار ہے!”

وہ مختصر لفظوں میں انہیں کونین کی اہمیت بتا گیا تھا۔

“تو ٹھیک ہے! میری ایک شرط ہے!”

کیسی شرط؟

“اگر وہ لڑکی اس گھر میں آئے گی اور اگر تم اس سے نبھاہ چاہتے ہو تو مجھے منظور ہے لیکن۔۔۔۔”

“خاور عثمانی کو مجھ سے شادی کرنی ہو گی۔۔۔۔مجھے نکاح میں لینا ہو گا، بیوی کا درجہ دینا ہو گا۔”

“خالہہہ!”

وہ بے یقین تھا۔۔۔۔۔عمر کے اس حصے میں آ کر ان سے یہ بات سنتے وہ حیران تھا لیکن زیادہ حیران وہ اس طرح سے شرط رکھنے پر تھا۔

“یہ ممکن نہیں ہے!”

“کیوں ممکن نہیں ہے؟”

“تم سے غلطی ہوئی تم کفارہ ادا کرتے اس کی بیٹی کو اپناؤ گے اس سے بھی غلطیاں ہوئیں ہیں وہ بھی کفارے کے طور پر مجھے اپنائے۔”

“لیکن آپ تو انہیں پسند نہیں کرتیں تھی؟” وہ حیران تھا یہ کیسا معاہدہ تھا۔

“میں نے محبت کی ہے اس شخص سے زندگی بھر یہی وجہ ہے کہ میں نے شادی نہیں کی کسی سے اور اب کیا اس عمر میں آ کر بھی میرا حق نہیں بنتا زندگی کی خوشیوں پر؟”

وہ روتے ہوئے بولی تو اس نے گہرا سانس بھرا۔

کیا وہ مان جائے گے؟

“اپنی بیوی کو مناؤ تم۔۔۔۔اس کے باپ کو وہ خود منائے گی ورنہ بھول جاؤ کہ وہ کبھی واپس آئے گی۔”

“یہ آپ غلط سوچ رہی ہیں خالہ میرے اور میری بیوی کے رشتے کو کسی معاہدے کا حصہ مت بنائیں۔”

“وہ میرے ساتھ ہی رہے گی آج نہیں تو کل سہی۔۔۔۔”

“اگر یہ شرط پوری نہیں ہوتی اور تمہیں یہ معاہدہ منظور نہیں ہے تو میں تمہیں اور اس ملک کو چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور تمہیں میرا مرا ہوا منہ بھی دیکھنے کی اجازت نہ دوں گی میں۔”

خالہہہ پلیززز! وہ تڑپ اٹھا تھا۔۔۔۔ان کی آخری بار پر۔

“وہ نہیں مانے گی!”

“تم مناؤ! وہ تم سے محبت کرتی ہے مان جائے گی!”

وہ کہتی بنا اس کا حال احوال پوچھے چلی گئیں تو وہ مٹھیاں اور ہونٹ بھینچ گیا۔

“وہ کہاں آ کھڑا ہوا تھا؟”

“کیا اسے یہ سب کرنا تھا؟”

نہیں!

وہ کبھی نہ مانتی۔۔۔۔۔وہ اپنے باپ کو شایان عثمانی پر پہلے بھی فوقیت دے چکی تھی اور ہر بار وہ اس پر خاور عثمانی کو ہی چُنتی۔

اففففف!

اس نے سر کے بال مٹھیوں میں قید کرتے سائیڈ ڈرا سے سگریٹ نکال کر سلگایا۔

وہ ٹھیک ہوتے ہی اس موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا کونین سے۔۔۔اپنی خالہ کو یوں تڑپتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔

اور ان سب میں غلط بھی کیا ہی تھا اس کی خالہ ساری عمر اس شخص کی محبت کے روگ میں جیتی رہی تھیں۔

اور خاور عثمانی گناہگار ہوتے ہوئے بھی اچھی زندگی گزار رہا تھا تو یہی بہتر تھا کہ وہ اب اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرتا۔

اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ایسا کرے گا لیکن اس کے بعد جو ہونے ولا تھا اگر اسے اندازہ ہوتا تو وہ کبھی سائمہ نقوی کی بات نہ مانتا۔

خاور عثمانی سو نہیں پائے تھے اتنے دنوں سے مہینہ ہو گیا تھا اس بات کو جب کونین نے انہیں ساری حقیقت سے آگاہ کیا تھا۔

شایان عثمانی پر جو غصہ تھا وہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا، ان کے ساتھ ناانصافیاں ہوتی آئیں تھیں انہوں نے صبر کیا تھا لیکن بات اب کونین کی تھی۔

اس کے ساتھ یہ سب وہ برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔

انہیں کچھ کرنا تھا۔۔۔۔اپنے لیے وہ آواز نہیں اٹھا پائے تھے لیکن کونین خاور کے لیے وہ اٹھانا چاہتے تھے، اپنی بیٹی کو وہ کسی طور رسوا ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

آج وہ واپس وہاں جانے کا سوچ بیٹھے تھے جہاں کبھی نا جانے کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔

کونین یونیورسٹی جا چکی تھی اسی لیے وہ بھی کپڑے بدلتے شال اوڑھتے باہر نکلے۔

اور اس حویلی کی طرف چل پڑے۔۔۔برسوں بعد بھی انہیں اس حویلی کی طرف جاتے سارے راستے ازبر تھے۔

وہ سارا راستہ پیدل طے کرتے آئے تھے اور اب اس حویلی کے باہر کھڑے تھے جہاں سے سالوں پہلے انہیں نکال دیا گیا تھا۔

وہ اندر داخل ہوئے تو گارڈ نے انہیں جھک کر سلام کرتے بنا کوئی سوال کیے اندر جانے دیا۔

کم از کم آپ کے ہاں کام کرنے والے تو آپ سے مخلص ہوتے ہیں وہ سوچ کر رہ گئے۔

وہ دہلیز پر کھڑے ہوئے تو وہ کانپ گئے اور آنکھیں ہلکی سی نم ہوئیں۔۔۔مدت ہوئی تھی وہاں آئے لیکن آج بھی سب ویسا تھا وہاں۔

“خاوررررر!”

جہانگیر عثمانی ناشتے کی میز سے فوراً اٹھتے ان تک آئے تھے جبکہ شایان عثمانی جو اب بہتر تھا اور آج خود چل کر ناشتے کی میز تک آیا تھا چہرہ جھکا گیا۔

اس شخص کو کہاں دیکھنا چاہتا تھا وہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زارا خوش تھی لیکن اعظم اظہر تب سے کچھ نہ بولا تھا تعریف کا ایک کلمہ تو دور حال احوال بھی نہیں۔

وہ اس وقت پیلے شیشوں سے بھرے بھاری لینگے میں موجود تھی، ہلکا میک اپ اور پھولوں سے بنی جیولری مہندی تو بس نام کی لگائی گئی تھی۔

“اعظم؟”

لیکن وہ سن ہی کہاں رہا تھا اس کا سارا دھیان تو سامنے دروازے سے اندر داخل ہونے والی ہستی پر تھا۔

اور فرشتے کو زارا پہچان گئی تھی۔

اور پھر کِن اکھیوں سے اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا جو سامنے کی طرف ہی متوجہ تھا۔۔۔۔ہاں اتنا متوجہ کہ اس کا بُلانا تک یا تو وہ سن نہیں پایا تھا یا سن کر فراموش کر گیا تھا۔

زارا نے دور سے ازلان اظہر کو دیکھا جو اپنی بیوی کے ساتھ تھا۔

اس کی آنکھوں کا رنگ اور اس کی فکر کا اندازاہ بتا رہا تھا کہ وہ پور پور ڈوبا ہے اپنی بیوی کی محبت میں۔۔۔۔

ہاں وہ دونوں بھائی ہی تو اس ایک لڑکی پر مرتے تھے۔

اس کی آنکھیں پل میں نم ہوئیں ناچاہتے ہوئے بھی فرشتے ازلان سے حسد کیا تھا اس نے۔

یا رب العالمین آپ نے کچھ لوگوں کو کتنی محبت سے نوازا ہے!

وہ بس اتنا ہی سوچ پائی کیونکہ وہ انہیں کی طرف آرہے تھے۔

لیکن اتنے میں بھی فرشتے نے اعظم کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ تو ازلان کے ہاتھ میں ہاتھ دیتی سہج سہج کر چل رہی تھی۔

“مبارک ہو بھائی!” ازلان اظہر نے کہا تو اعظم اس سے گلے ملا۔

ہزار اختلافات سہی لیکن اب ازلان اس کے آگے بڑھ جانے پر مطمئن اور اس کے لیے خوش تھا۔

شکریہ!

“مبارک ہو اعظم بھائی! اور آپ کو بھی!”

فرشتے نے دونوں کو دیکھتے کہا تو دونوں نے اس کی مبارک قبول کی۔

“آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں!”

فرشتے نے زارا کا ہاتھ تھامتے کہا تو زارا مسکرا دی اور کچھ دیر پہلے اس سے جو جیلسی تھی اس پر خود کو کوسا۔

“آپ بھی۔۔۔۔۔!”

“زارا میرے بھائی کے رعب میں بالکل مت آنا۔۔۔بلکہ ابھی سے اس کو قابو میں رکھو!”

ازلان نے بڑے بھائیوں کی طرح زارا کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

“رو تو نہیں اعظم بھائی اب اتنے بھی بُرے نہیں ہیں!” فرشتے شرارت سے بولی تھی۔

زارا نے اعظم کو دیکھا جو مسلسل فرشتے کو ہی دیکھ رہا تھا۔

“چلیں انجوائے کریں میں ماما سے مل لیتا ہوں اور انتظامات بھی دیکھ لوں”

ازلان بولا تھا اور فرشتے آگے قدم بڑھاتی کہ اپنے ہی گرارے میں اٹکی لیکن ازلان اسے سنبھال چکا تھا۔

لیکن اعظم اظہر کے بڑھتے قدم کسی اور نے نا سہی زارا نے ضرور دیکھے تھے۔

پہلی بار اسے لگا تھا کہ اس کی دعائیں پوری تو ہو گئی تھی لیکن اعظم اظہر اس کے لیے اچھا میچ نہیں تھا۔

وہ اس کے لیے نہیں بنا تھا۔

اعظم نے زارا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھتی نگاہیں موڑ گئی تھی لیکن اسے کہاں فرق پڑتا تھا۔

زارا گم سم سی ہو گئی تھی ناچاہتے ہوئے بھی اس کی نگاہیں فرشتے ازلان پر تھیں۔

وہ خوبصورت تھی سراہے جانے کے قابل۔

کھانا لگ چکا تھا جبکہ زارا نے ایک نوالہ بھی حلق سے نہیں اتارا تھا۔

“تم کیوں نہیں کھا رہی؟” اعظم کو شاید اس کا خیال آ ہی گیا تھا۔

“بھوک نہیں ہے!”

وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی بولی تھی یہاں آنے سے پہلے تک کی اس کی ساری خوشی ماند پر گئی تھی۔

ٹھیک ہے!

اعظم کہتا خود اسٹیج سے اتر گیا تھا اور سامنے ازلان کے پاس گیا تھا وہ دونوں اب باتوں میں مصروف تھے۔

“کیا کھاؤ گی؟” ازلان نے فرشتے کو دیکھتے پوچھا۔

“گول گپے!”

“تمہارے کپڑے خراب ہو جائیں گے!”

ازلان نے کہا تھا جبکہ فرشتے اسے گھورتی خود ہی ڈالنے کے لیے اٹھی تھی۔

“بیٹھو یہیں ڈالتا ہوں!”

ازلان نے پھر اس کی پوری پلیٹ بناتے اس کے آگے رکھی تھی کسی وہ فوراً کھا گئی تھی۔

اور بھی چاہیے! فرشتے نے اپنی خالی پلیٹ اس کے آگے کی جب تک اعظم بھی پہنچ چکا تھا۔

“کیا ہو رہا ہے؟”

“کچھ نہیں! میں بس انقریب باہر سے اپنا کاروبار بند کر کے یہاں گول گپوں کی ریڑھی لگانے والا ہوں”

ازلان جل کر بولا اور اس کی پلیٹ لے کر چلا گیا۔

“کیسی ہو؟”

ٹھیک ہوں! فرشتے کا سارا دھیان ازلان کی طرف تھا جو سنجیدگی سے پھر سے اس کی پلیٹ تیار کر رہا تھا۔

“زارا بہت پیاری ہے۔۔۔۔میں امید کرتی ہوں آپ اسے خوش رکھیں گے!”

فرشتے نے زارا کو دیکھا جس کی نگاہیں اسی کی طرف تھیں۔

اعظم نے بھی اسی وقت زارا کو دیکھا جو واقع آج بہت پیاری لگ رہی تھی اور اس نے دھیان ہی اب دیا تھا لیکن فرشتے ازلان اظہر اس سے زیادہ پیاری تھی وہ لاشعوری طور پر دونوں کا موازنہ کرنے لگا۔

“ہاں لیکن تم زیادہ پیاری ہو!” اعظم بولا تو فرشتے جھجک گئی۔

تب تک ازلان بھی آگیا تو اعظم واپس اسٹیج کی طرف آگیا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں رسم شروع ہو چکی تھی۔

زارا کے آنسو حلق میں اٹک گئے۔۔۔یک دم اس کا دل اچاٹ ہو گیا تھا اس رونق اور روشنیوں سے۔

“کیا ہوا میری جان؟”

زارا کی ماں نے اسے گلے لگاتے کہا تو اعظم بھی ان کی طرف متوجہ ہوا۔

کچھ نہیں! وہ نم لہجے میں بولی تو اس کی ماں نے اعظم کو دیکھا پھر اپنی بیٹی کو۔

“بابا یاد آرہے ہیں!” وہ بولی اور رونے لگی۔

وہ ہوتے تو تمہیں دیکھ کر خوش ہوتے میری جان!چلو بس کرو اب رونا دیکھو سب تمہیں ہی دیکھ رہے ہیں!

اعظم نے اس کے ہاتھ کو تھاما تو وہ ساکت ہو گئی۔

اس کی ماں مسکراتی اٹھ گئی تھی اعظم نے اسکے سامنے پانی کا گلاس کیا تو وہ کچھ ریلیکس ہوئی۔

اور پھر رسم کے دوران بھی اعظم نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا اور نا زارا نے ایسا چاہا تھا۔

“مجھے گھر جانا ہے!” تھوڑی ہی دیر بعد فرشتے نے ازلان کو کہا تھا۔

“ماما سے مل لو پھر چلتے ہیں!”

ازلان اسے ملوانے لایا جو اس سے خوش اسلوبی سے ملی تھی اپنے باپ سے نہیں ملوایا تھا اسے۔

“میں بہت تھک گئی ہوں!”

فرشتے نے اپنا دوپٹہ اتارتے پچھلی سیٹ پر رکھا تھا اور اے سی کی اسپیڈ تیز کی۔

ازلان اسے دیکھ کر رہ گیا۔

وہ آج اتنی حسین لگ رہی تھی کہ اسے اپنا دل بے قابو ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔

ازلان نے گاڑی چلائی اور سیلون کے راستے پر روکی۔

ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ فرشتے نے سیدھے ہوتے حیرانگی سے پوچھا۔

“مہندی لگوانے!”

“لیکن کیوں؟”

ازلان نے اسے دیکھا تو وہ خاموش ہو گئی اور پھر اتر کر اس کی مدد کی اترنے میں اور اندر لایا شاید وہ بکنگ کروا چکا تھا پہلے سے۔

ازلان اظہر؟

جی!

“اپنی وائف کو وہاں بھیج دیں۔”

“میں ساتھ جاؤں گا!”

“سر لیکن۔۔۔۔”

لیکن تب تک وہ اسے ساتھ لے جا کر مہندی لگوانے والی کو دیکھنے لگا۔

“کسی فی میل کو بلائیں!”

وہ سرد سے لہجے میں اس لڑکے کو دیکھتا بولا وہ لڑکا نما بنی لڑکی اسے بالکل پسند نہ آیا تھا۔

وہ اس کے سرد سے لہجے پر لڑکی کو بلا لائے تھے۔

کیسی مہندی لگوانی ہے آپ کو؟ اس لڑکی نے آتے ہی فرشتے سے پوچھا تھا۔

“میں بتاتا ہوں!”

ازلان نے فون نکالتے اس کو ڈیزائین دکھائے تو لڑکی نے حیرت سے منہ کھولتے پہلے اسے اور پھر فرشتے کو دیکھا جو خود بھی لال ہو رہی تھی۔

اس کے دونوں ہاتھوں پر لگاتے پاؤں پر بھی لگانے کا کہا تو فرشتے نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“میں تھک گئی ہوں!”

“بس تھوڑی دیر اور انتظار کرو!” وہاں موجود تمام لوگ انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔

فرشتے نے نیند سے بند ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا جس کا سارا دھیان اس کی مہندی کی طرف تھا۔

اسے اس سے پہلے اندازہ نہیں تھا کہ ازلان اظہر کو مہندی اس حد تک پسند ہے۔

“چلو! ہو گیا!” اسنے بل پے کیا۔

جنہوں نے مہندی لگائی ہے ان کو بلا دیں اس نے ورکر سے کہا تو اسے لڑکی کو بلایا گیا۔

جی سر؟

ازلان نے پیسے نکالتے اسے دینے چاہے۔

“آپ نے پے کر تو دیا ہے سر!” وہ جھجکی۔

“یہ آپ کے ہیں۔۔۔۔مجھے آپ کا کام بہت پسند آیا اور میری بیوی کو برادشت کرنے کا بھی شکریہ”

وہ ہلکا سا مسکرایا تو وہ لڑکی بے حد خوش ہوتی پیسے پکڑ گئی۔

“بہت شکریہ ایسے ہی خوش رہیں۔”

“مجھے اپنا نمبر دے دیں! آئیندہ بھی آپ کو بلا لیں گے ہم۔۔۔۔ہے نا فرشتے؟” اس نے فرشتے کو دیکھتے کہا جو نیند میں بے خبر سی تھی۔

“ہاں بالکل!” فرشتے بولی۔

لڑکی نے تیزی سے مسکراتے سر ہاں میں ہلایا۔

ازلان نے باہر لاتے اسے دھیرے سے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔اس کے جوتے جو کب سے تھامے تھے وہ پیچھے رکھے اور اس کا دوپٹہ بھی اس کی چوڑیوں اور جیولری والا بیگ بھی۔

“کچھ کھانا ہے؟

نہیں!

“مجھے گھر جانا ہے بس!”

ازلان نے تیزی سے گاڑی بھگاتے اسے اور اس کی چیزیں اندر پہنچائیں۔

بوا سو چکی تھیں۔

“مجھے چینچ کرنا ہے!”

“مہندی تو سوکھ لینے دو پھر کر لیناچینج ابھی یہاں بیٹھو آ کر!”

“نہیں میں دھونے لگی ہوں!” وہ قدم بڑھاتی واش روم کی طرف جانے لگی۔

ازلان نے تیزی سے آگے بڑھتے اسے روکا اور اس کے دونوں ہاتھ کہنیوں سے دیوار کے ساتھ لگائے اسے دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

“جب تک اس کا رنگ نہیں آجاتا خبردار دھوئی تو!”

“آجائے گا رنگ بھی اور۔۔۔۔”

لیکن ازلان اظہر جو تب سے خود پر پہرے بٹھائے بیٹھا تھا اس کی گردن پر جھکا اس کی خوشبو خود میں اتارتا لب رکھنے لگا۔

ازلان۔۔۔۔!

ازلان پیچھے ہٹا اور اسے دیکھا اس کے ہاتھ اس کے ہاتھ میں نا ہوتے تو یقیناً اب تک فرشتے اپنی ساری مہندی خراب کر چکی ہوتی۔

“مجھے نیند آئی ہے!” فرشتے نے تھک کر اس کے کندھے پر سر رکھا تو ازلان کو اس کر ترس آیا۔

اسے واپس بھی جانا تھا اعظم کی مدد کے لیے۔

“ڈرائیر کہاں ہے تمہارا؟’

وہ وہاں پڑا ہے ڈرار میں فرشتے کے بتانے پر وہ اس ڈرائیر لگاتا اس کے ہاتھوں کو سکھانے کے بعد اب اس کے پاؤں کی مہندی سکھا رہا تھا۔

“اب دھو لو!”

ازلان نے آدھے گھنٹے بعد کہا تو وہ فوراً سے مہندی دھونے چلی گئی۔