220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 9

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

شایان اسے لے کر وہاں سے نکل گیا تھا۔

“ہم کہاں جا رہے ہیں؟”

وہ واپس سے گاڑی کو انجان سڑکوں پر دیکھ استسفار کرنے لگی۔

“کشمیر!”

“لیکن ہم تو۔۔۔۔۔”اس نے کہنا چاہا۔

“مجھے میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے یہاں!” شایان نے اسے بنا دیکھے کہا شاید وہ بھی نہیں سمجھ پایا تھا اپنے احساسات کو یا ان لمحات کو جو کچھ دیر پہلے ہوئے تھے۔

“شایان؟” کونین نے کچھ کہنا چاہا۔

“خاموش رہو!” سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی۔

کونین خاور کی ہمت نہ ہوئی اسے دوبارہ مخاطب کرنے کی اس لیے خاموش رہی پھر اس نے جاگی سوئی کیفیت میں گھنٹوں کا سفر کیا تھا۔

کئی جگہ پر رُکے تھے گاڑی بدلی تھی لیکن وہ زیادہ راستہ سوتی آئی تھی۔

اس خوبصورت مگر چھوٹے سے گھر کے آگے رُکتے اس نے شایان کو دیکھا جو گاڑی سے اترتا سامان اتار رہا تھا۔

وہ بھی اس کے پیچھے ہی گاڑی سے اتر آئی دوپہر کے تین بج رہے تھے لیکن یہاں بے حد ٹھنڈ تھی جو اسے کپکپانے پر مجبور کر گئی تھی۔

“اندر جاؤ بیوقوف لڑکی!”

اسے وہیں جم کر کانپتے کھڑے دیکھ وہ دھاڑا تو وہ فوراً سے اس کے ہاتھ سے چابی لیتی اندر چلی گئی کیونکہ وہیں کھڑی رہتی تو شاید جم جاتی۔

وہ سامان اندر لایا جہاں وہ کچن میں چولہے کو جلائے ہاتھ سینک رہی تھی۔

شایان نے آگے بڑھتے اپنا بیگ کھولا اپنی جیکٹ نکالی کیونکہ وہ اسلام آباد سے اسے واپس ڈرائیور کے ہاتھ بھیجنے کے بعد خود کشمیر جانے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن نجانے کیوں اسے ساتھ ہی لے آیا تھا۔

“اسے پہنو!” اسے کانپتے دیکھ اس کے آگے جیکٹ کی۔

نہیں ہم ٹھیک ہیں۔۔۔کونین نے جھجکتے کہا لیکن اگلے لمحے سانس روک گئی۔

وہ اسے کھینچ کر اپنے سامنے کھڑے کرتے اپنی جیکٹ اسے پہنا رہا تھا۔

“کونین خاور ایک بات جان لو کہ میری باتوں کے خلاف نہیں جانا تمہیں آئیندہ۔”

“اور اگر میں ایسا پھر بھی کروں تو؟” وہ سر اٹھاتے اس سے سوال پوچھ گئی۔

“تو اس کی سزا لازماً ملے گی تمہیں” وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام گیا جو اب بھی ٹھنڈے تھے۔

کونین کا سانس سوکھا۔۔۔۔یہ سب کیا تھا۔۔۔

پل میں تو محبتیں نہیں ہوتی تھیں۔۔۔وہ کیا کر رہا تھا۔۔۔یہ کھیل ہی تھا ہاں۔۔۔وہ خاموشی سے شایان عثمانی کو دیکھتی رہی جس کا سارا دھیان اس کے ہاتھوں پر تھا۔

شایان عثمانی اگر آپ نے ہمیں دھوکا دیا تو اپنے نکاح کے رشتے کا بھی پاس نہیں رکھیں گے ہم۔

“ہمیں یہاں کتنے دن رہنا ہے؟”

“ہفتہ۔۔۔۔!!!”

شایان نے اسے بتایا پھر اس کے ہاتھ چھوڑ گیا۔

“لیکن اتنے دن۔۔۔بابا۔۔۔”

“وہ ٹھیک ہیں اس سے زیادہ کچھ مزید مت پوچھنا میں بے حد تھک چکا ہوں آرام کروں گا۔۔۔”

وہ یہاں آنے سے پہلے صاف ستھرائی اور سارا سامان منگوا چکا تھا اس لیے کوئی دِقت محسوس نہ ہوئی تھی انہیں۔

کونین اس کے جانے کے بعد وہیں کھڑی رہی پھر کمرے دیکھنے لگی جو دو ہی تھے کیونکہ وہ چھوٹا سا مگر خوبصورت گھر تھا۔

وہ کھڑکی کے پاس کھڑی ہو گئی۔۔۔اور باہر دیکھنے لگی باہر برف باری شروع ہو گئی تھی اسے اس برف سے خوف آیا جو ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔

کیا ہو رہا ہے؟ کیا انہیں سچ میں ہم پسند۔۔۔۔۔یا یہ دھوکا ہے۔۔۔بابا کی نفرت کا ہم سے بدلہ؟ وہ خود سے سوال کرنے لگی جس کا کوئی جواب نہ تھا اس کے پاس۔

نہیں ہم کسی کا موہرا نہیں بنیں گے۔۔۔۔وہ کچھ سوچتی اس کے کمرے میں گئی جہاں وہ قیام پزیر تھا۔

اندر داخل ہوئی جہاں نیم اندھیرا تھا وہ خاموشی سے کمرے کا جائزہ لیتی آگے بڑھی۔

بیڈ کے ساتھ والے میز پر اس کا فون پڑا تھا۔۔۔ہاں اس کا فون چیک کرنا تھا شاید وہاں اسے کچھ مل جاتا یا اس کے سامان میں لیکن سامان کو بعد کے لیے چھوڑتے اس نے اس کا فون خاموشی سے تھاما۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شایان کی طرف دیکھا جو چت لیتا تھا ہاتھ سینے پر رکھے چہرے پر سوئے ہوئے بھی سنجیدگی تھی۔

“نجانے یہ کبھی مسکراتے بھی ہوں گے یا نہیں؟”

اس نے سوچتے جھرجھری لی اور پھر بھاری قدموں سے باہر آگئی۔

باہر آ کر اس کے فون کو دیکھا جس پر پاسورڈ تھا۔۔۔۔اس نے بے حد کوشیش کی اس کے نمبر کے آخری بار نمبر بھی ملائے لیکن ناکام رہی اور فون لاکڈ ہو گیا وہ ڈرتی واپس رکھ آئی۔

اور باہر آتے پھر سے وہیں کھڑکی کے پاس کھڑی ہو گئی اسے جلد سے جلد پتا لگانا تھا کہ شایان عثمانی اسے دھوکا دے رہا ہے یا سچ میں اسے یہ رشتہ نبھانا ہے۔۔

لیکن اگر یہ سب حقیقت ہوا تو؟

اس کے دل دھڑکا۔۔۔شایان عثمانی کس کا آئیڈیل نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔لیکن اس کی سنجیدگی، اس کا سرد پن، اس کا غصہ۔۔۔۔۔وہ کانپ کر رہ گئی۔

وہ کچن میں موجود فریج سے بریڈ جیم لے کر کھا چکی تھی واپس وہیں کرسی پر آ کر بیٹھ گئی اور سامنے پڑی کتاب اٹھا کر ورق پلٹنے لگی۔

وہ اتنی محو تھی کہ اس کی موجودگی محسوس نہ کر پائی۔

شایان نے اسے بازو سے پکڑتے اپنے سامنے کھڑا کیا تو وہ ڈر گئی۔

“میرا فون چیک کیا تم نے؟” وہ اس پر جھکا از حد سرد پن سے پوچھ رہا تھا۔

“وہ میں ۔۔۔۔میں۔۔۔”

کونین سے کوئی جواب نہ بن پایا وہ خوفزدہ ہوئی تھی پل میں۔

شایان۔۔۔اپنے بازو پر اس کے ہاتھ کی سخت گرفت محسوس کرتے وہ سسکی تھی۔

شایان نے فون کا لاک کھولا اور اس کے ہاتھ میں تھمانے سے پہلے ایک نمبر ملایا۔

“خاور سے بات کرواؤ!”

اور فون کونین کے ہاتھ میں تھما دیا اور وہیں کھڑا رہا کونین نے پہلے اسے بے یقینی سے دیکھا پھر اپنے باپ کی آواز سنتے ان کی خیریت دریافت کی اور فون خاموشی سے اسے تھما دیا۔

“اگلی بار مجھ سے کہہ دینا۔۔۔”

وہ محض سر ہلا گئی۔

وہ اسے غلط سمجھ رہی تھی۔۔۔۔

کونین نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا دونوں کے دل کے حال نازک تھے۔

“کیا کھائیں گے؟”

شایان نے اسے غور سے دیکھا وہ معصومیت کا پیکر تھی کیا وہ سب برداشت کر پاتی جو وہ سوچ بیٹھا تھا؟

“کچھ بھی!” شایان نے کہا نظریں اب بھی نہیں ہٹائیں تھی اس کے چہرے سے۔

وہ سر ہلا کر آگے بڑھتی کہ شایان اسے کھینچ کر اپنے دل کے خلاف جاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ جوڑ چکا تھا۔

کونین کو لگا اس کا دل دھڑک کر بند ہو جائے گا وہ سمجھ نہ پائی کہ کیا ہوا ہے سمجھ تو شاید شایان عثمانی بھی نا پایا تھا۔

کونین جھجکتے اس سے دور ہوئی۔

شایان نے اس کے بازو کو سہلایا جہاں پر وہ گرفت سخت کر گیا تھا اس کے لمس کی ٹھنڈک محسوس کرتے کونین کا وجود لرزا۔

شایان عثمانی کے فون کی آواز پر ان خوبصورت لمحوں کا ارتکاز ٹوٹا اور وہ یک دم پیچھے ہوا اور پھر کمرے میں چلا گیا تو وہ بھی کچن کی طرف چلی گئی۔

“کیسے ہو میری جان؟”

“میں ٹھیک ہوں خالہ جان! آپ کیسی ہیں؟ کوئی پریشانی تو نہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟”

“نہیں میری جان سب ہے!”

“تم بتاؤ کب آرہے ہو اپنی خالہ سے ملنے!”

“جلد آؤں گا!” وہ خاموش ہوا ان کے بولنے کے انتظار میں تھا اب وہ شاید۔

“تم خاور عثمانی کا ٹریٹمنٹ کروا رہے ہو؟” وہ سرد سے لہجے میں استسفار کرنے لگی۔

ہ خاموش ہوا اس بات کا کوئی جواب نہ تھا اس کے پاس۔

“بولو شان؟”

جی! وہ بس اتنا بول پایا۔

“بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔خدا تمہیں اس کا صلہ دے۔۔۔۔”

“خالہ جان۔۔۔پلیززززز۔۔۔۔ان سب کے پیچھے ایک مقصد ہے آپ کے ساتھ جو ہوا وہ تو شایان عثمانی مرتے دم تک نہیں بھولے گا اور جب تک آپ کو انصاف نہ دلوا دیا مجھے سکون نہ آئے گا آپ بے فکر رہیں۔۔۔!”

شایان عثمانی اپنے گنہگار کے ساتھ رحم دلی نہیں دِکھا سکتا۔

“مجھے امید ہے تم میرا مان رکھو گے شان!” وہ سرد آہ بھرتی بولی اور کال کاٹ گئئ۔

اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا!

وہ لاؤنچ میں صوفے پر بیٹھا جہاں سے کونین کام کرتی صاف دکھائی دے رہی تھی۔

مجھے یہ سب کرنا ہے؟ اس نے خود سے پوچھا۔۔۔۔

اففففف! اس نے مٹھیاں بھینچی زندگی میں پہلی بار، پہلی بار اس کا دل اس کے کسی فیصلے میں ساتھ نہیں دے رہا تھا۔

وہ سوچوں میں تھا جب وہ باہر آئی اس کے آگے اس کا ناشتہ رکھا جو بریڈ انڈا تھا کیونکہ فوراً وہ یہی بنا سکی تھی۔

“یہ نہیں کھانا مجھے!” وہ سوچوں کے گرداب سے نکلتا بولا۔

کونین نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“کیا کھائیں گے پھر؟”

“پراٹھا بنا لو۔۔۔۔انڈا یہی کھا لوں گا۔۔۔۔!”

وہ بولا تو کونین نے جھٹکے سے اسے دیکھا اس نے تو کبھی پراٹھا نہیں کھایا تھا۔

“کیا ہوا؟”

“آٹا گوندھنا پڑے گا!” وہ صاف گوئی سے بولی۔

“میں یہ کھا لیتا ہوں۔۔۔”سنجیدگی ہنوز برقرار تھی۔

نہیں! میں گوندھ لیتی ہوں دوپہر میں بھی کام آئے گا! وہ تیزی سے کچن میں گئی جہاں وہ بھی پیچھے آتا وہیں بیٹھ گیا تھا۔

وہ تیزی سے آٹا گوندھ رہی تھی تھوڑا سا جو جلد ہی گوندھا گیا تھا۔

شایان عثمانی اسے دھیان سے دیکھ رہا تھا۔

وہ کالج کی چھوٹی سی سترہ اٹھارہ سالہ لڑکی، نازک سی درمیانہ قد، سلکی لمبے بال جو ہمیشہ چادر کے نیچے موجود رہتے تھے، میک اپ سے پاک چہرہ، کالی شلوار قمیض پر اسی کی دلوائی چادر لیے وہ کام میں مصروف تھی۔

گلابی رنگت، ستواں ناک، خوبصورت نقوش جن سے معصومیت جھلکتی تھی وہ خوبصورت تھی بلاشبہ۔

“تمہاری جیکٹ کہاں ہے؟” اس پر دھیان دینے کے بعد وہ یک دم بولا۔

“آٹا لگ جاتا تو گندی ہو جاتی اسی لیے میں نے اتار کر رکھ دی” وہ صاف سے لہجے میں بولی۔

“تو؟ کیا میں نے بولا تھا کہ اسے گندہ نہیں کرنا تم نے؟” شایان نے سنجیدگی سے کہا تو کونین اسے دیکھ کر رہ گئی۔

“یہ کر کے ہاتھ سینکو اور جیکٹ پہنو فوراً” وہ کہتا باہر بیٹھ گیا کیونکہ اس کا پراٹھا تیار تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین مہینے بعد:

آج دو مہینے ہو گئے تھے ازلان کو گئے اس نے مُڑ کر ایک بار بھی فرشتے کو کال نہ کی تھی بوا سے بھی بہت کم رابطہ رکھا تھا۔

وہ سنجیدہ ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔اپنا زیادہ وقت پینٹنگ اور لکھائی میں وقف کر دیا تھا اس نے۔

فرشتے! اعظم اظہر کی آواز وہ سُن سکتی تھی بلکہ یہی تو آواز تھی جو وہ پچھلے دو مہینوں سے سن رہی تھی۔

اعظم اظہر کو اب تک نہ پتا تھا فرشتے اور ازلان کے نکاح کا کیونکہ کسی نے نہیں بتایا تھا۔

“چلو آج باہر چلیں!” وہ اس کے سامنے بیٹھتا اس کے گال کھینچتا بولا۔

“کتنی بار بولا ہے مجھے ہاتھ نہیں لگایا کریں” وہ چڑ کر بولی لیکن اعظم ہنس پڑا۔

“اور میں نے کتنی بار بولا ہے میں بعض نہیں آؤں گا۔۔۔چلو تمہاری بلا وجہ کی اداسی دور کرتے ہیں باہر گھومتے ہیں۔”

“مجھے کہیں نہیں جانا!” وہ پینٹنگ کرتی بار لان کا منظر کینوس پر اتار رہی تھی۔

“تو کہاں جانا ہے ہماری فرشتے کو؟”

“لے کر چلیں گے؟” وہ یک دم سر اٹھاتی استسفار کرنے لگی۔

“بالکل! اس گڑیا کی سالگرہ ہے جو اس بار ہم اسی کے مطابق منائیں گے جلدی سے بولو کہاں جانا ہے۔”

“کینیڈا!”

“کینیڈا لیکن اچانک کیوں؟ اوو تو کینیڈا گڑیا کا ڈریم پلیس ہے اب سمجھا آپ کا حکم سر آنکھوں پر ہم ضرور چلیں گے لیکن ابھی نہیں مہینے بعد۔”

“مجھے اسی مہینے بلکہ اسی ہفتے جانا ہے نہیں تو پھر کبھی نہیں۔۔۔۔”وہ سنجیدگی سے بولی۔

اعظم نے اسے دیکھا پھر مسکرا دیا وہ کتنا بدل گئی تھی۔

“ٹھیک ہے تمہارا پاسپورٹ دو مجھے ہم اسی ہفتے جائیں گے۔۔۔۔”وہ فیصلہ کرتا اٹھ گیا۔

وہ اسے خوش کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا اس کی چیزیں لیتا وہ باہر نکل گیا وہ جلد سے جلد سب کرنا چاہتا تھا تاکہ اس کی سالگرہ وہاں منا سکے۔

گڑیا۔۔۔۔وہ یک دم دروازہ کھولتا واپس آیا۔

“ازلان کو بتا دوں کہ ہم وہاں آرہے ہیں؟”

“نہیں بالکل نہیں!”

“ٹھیک ہے اسے بھی سرپرائز دیں گے۔۔۔!”

وہ چلا گیا تھا لیکن فرشتے حیدر کا سانس رُکا تھا اس کا سانس یک دم بھاری ہونے لگا تو اس نے انہیلر تھامتے جلدی سے منہ کو لگایا اور گہری سانسیں بھری۔

“ازلان۔۔۔”

اس کے لبوں سے سسکی برآمد ہوئی ان تین مہینوں میں اس کے دل نے کتنا پکارا تھا اسے وہ خود نہیں جانتی تھی۔

اعظم اظہر کی موجودگی اب معنی نہیں رکھتی تھی اس کے لیے اس کے لیے ازلان اظہر کو سوچتے رہتا زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔

وہ مجھے چھوڑ گئے ہیں میں کیوں جا رہی ہوں ان کے پاس! اس نے اپنے بال ہاتھوں میں تھامے سانسیں پھر سے تیز ہوئی تھی۔

“آپ نے ہمیں چھوڑ دیا۔۔۔ہمیں فرشتے کو چھوڑ دیا۔۔۔”

“آپ مجھے اب پسند نہیں کرتے۔۔۔۔مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔کیوں؟”

اس نے ہاتھ سے ابھی کا بنایا کینوس دور پھینکا جس پر بنا منظر پل میں خراب ہوا تھا اس کی زندگی کی طرح۔

“میں مزاق نہیں ہوں۔۔۔مجھے مزاق سمجھ کر اڑایا آپ نے ازلان اظہر۔۔۔۔۔۔”وہ رو رہی تھی اس کا وجود ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔

پھر اس نے یک دم اٹھتے دورازے کو اندر سے لاک کیا اور اعظم اظہر کا دیا فون نکالا اور اون کرتے کونٹیکٹ لسٹ چیک کی۔

جس میں ازلان اظہر کا نمبر موجود تھا۔۔۔۔اس نے سانس بھری اور انگلی اس نام پر رکھ دی۔

تین مہینوں کا صبر آج ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے روتی اس کی آواز کی منتظر تھی۔

“ازلان اظہر سپیکنگ!”

اس کے لب کپکپائے!

“ہیلو؟” وہ پوچھ رہا تھا۔

“مج۔۔۔ھے۔۔۔۔۔!”

اس نے ہمت اکٹھی کی لیکن جیسے لفظ اور سانسیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

وہ جو وہاں بیٹھا تیزی سے انگلیاں کی بورڈ پر چلا رہا تھا۔۔۔ان تین مہینوں میں اس نے اپنے آپ کو بے حد مصروف کر لیا تھا ان تین مہینوں میں اس نے فرشتے کے بارے میں بوا سے ایک بھی لفظ نہیں پوچھا تھا۔

وہ خود ہی بتا دیتی تھیں کہ وہ کافی بیمار رہنے لگی ہے پھر سے، اعظم روز آتا ہے اور اس کے پاس گھنٹوں بیٹھتا ہے اور اس کے آگے ازلان اظہر کچھ سنتا نہ تھا۔

کون بات کر رہا ہے۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا یہ کینیڈا کا نمبر نہیں ہے۔

“فرشتے ازلان کو۔۔۔۔۔”

ازلان اظہر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا یک دم۔۔۔

“فرشتے ازلان کو آپ سے محبت بالکل نہیں ہے”وہ سسکیوں کے درمیان بولی تھی۔

“میں مر بھی۔۔۔۔جاؤ۔۔۔۔جاؤں نا۔۔۔تو۔۔۔ازلان۔۔۔مجھے۔۔۔آپ نہیں چاہیے۔۔۔”وہ چیخ کر کہتی سسک پڑی۔

ازلان اظہر نے آنکھیں میچی جو یک دم سرخ پڑی تھی وہ فوراً کال کاٹ گیا۔

اس سے آگے وہ نہیں سُن سکتا تھا۔

“فرشتے ازلان۔۔۔۔۔!”

اس کا دل بار بار ایک ہی لفظ دہرا رہا تھا تو کیا فرشتے حیدر اپنی حیثیت، اپنا رشتہ قبول کر چکی تھی؟۔۔۔۔اس نے اپنے نام کے ساتھ اس کا نام لگایا تھا۔

نہیں ازلان اظہر تمہیں خوش فہم نہیں بننا ہے۔

“مجھے کل ہی جانا ہے کینیڈا۔۔۔۔”اس نے اعظم کا نمبر ملاتے کہا اور کال کاٹتے بستر پر ڈھے گئی۔

جیسے تین مہینوں کے آنسو آج ہی بہہ جانا چاہتے تھے۔۔۔اس کا دل قبول نہیں کر پا رہا تھا ازلان اظہر کی ناپسندیدگی، اس کا خود کی زات سے متفکر ہو جاتا، اس کو بھولا دینا کہ مُر کر نہ دیکھا وہ یہ سب قبول نہ کر پائی تھی تین مہینوں سے۔

اعظم نے سب انتظامات کروائے تھے کیونکہ فرشتے کو کل ہی جانا ہے وہ سمجھا تھا شاید وہ خوشی میں وہاں گھومنا چاہتی ہے۔

ابھی وہ ٹکٹس بک کروا رہا تھا جب اس کا فون بجنا شروع ہوا۔

“اسلام علیکم!” نسوانی آوازگونجی۔

“وعلیکم السلام! جی کون؟”

زارا!

“جی کون ہیں آپ زارا اور کیا چاہتی ہیں” وہ سنجیدگی سے باستسفار کرنے لگا۔

“لڑکی ہوں اور آپ کو چاہتی ہوں” وہ مسکرائی تھی شاید۔

“یہ کیا بیہودگی ہے۔۔۔۔رات کے اس پہر کسی کا بھی نمبر ملا کر آپ اسی طرح کی اخلاق سے گری حرکتیں کرتی ہیں؟” وہ دھاڑا تھا۔

“ہر کسی کا نہیں صرف آپ کا اعظم اظہر۔۔۔صرف آپ کا۔۔۔”

مخالف تڑپ ہی تو گیا تھا اتنا بڑا بہتان سُن کر۔

“مجھے جیسے بھی جانتی ہو مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن دوبارہ مجھے کال نہ کرنا کبھی۔”

“لیکن کیوں؟”

“مجھے آپ پسند ہیں!” وہ شاید رو دینے کو تھی۔

“مس زارا اپنی حد میں رہیں مجھے یہ سب نہیں پسند اور میں شادی شدہ ہو!”

وہ کہتا کال کاٹ گیا اور شاید مخالف اس کی باتوں کا اثر لے گیا تھا اس لیے دوبارہ کال نہ آئی تھی۔

زارا شاہنواز نے روتے تکیے میں منہ دیا تھا۔

وہ شروع سے ہی ایسا کرتا ہے۔۔۔وہ میرا کیوں نہیں ہوتا یا رب العالمین! وہ سسکی۔

مجھے بس وہی چاہیے! وہ رو رہی تھی لیکن اس کے پاس کوئی نہیں تھا چپ کروانے والا۔

اگلی صبح اس نے اپنا سارا سامان باندھا تھا۔۔۔وہ جلد سے جلد اس شخص تک پہنچنا چاہتی تھی اس کا وجود اب جواب دے گیا تھا اس سے زیادہ نہیں تڑپ سکتا تھا وہ اس کے لیے جو اس کا اپنا تھا۔

“ارے واہ میری گڑیا اتنی جلدی کس بات کی ہے؟” اعظم اسے لینے آیا تھا۔

اس نے بوا کو خدا حافظ کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئی اس نے انہیں ازلان کو کچھ بھی بتانے سے منع کیا تھا۔

وہ ائیر پورٹ پہنچ چکے تھے۔۔۔۔

اور پھر کیسے فلائٹ میں بیٹھے کیسے بنا سوئے اس نے بے چینی سے وہ سفر کاٹا تھا وہ اور اس کا دل جانتا تھا۔

اعظم سے اس نے بچپن کی باتیں کی تھی وقت گزارنے کے لیے جس سے وہ خوش تھا۔

وہاں کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی اس کا جسم کپکپایا تھا اس نے جیکٹ پہنتے ٹوپی پہنی اور ڈرائیور کے ساتھ اعظم کے کہنے پر بیٹھ گئی اور کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھنے لگی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا نجانے وہ اسے دیکھ کر کیسا ردعمل دیتا۔

“ہم کہاں جا رہے ہیں؟”

ہوٹل!

فرشتے نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا۔

“لیکن کیوں؟”

“کیا مطلب کیوں؟ کیا آپ کو کہیں اور جانا تھا” اعظم نے فون سے سر اٹھایا۔

“ازلان کہاں رہتے ہیں؟”

“وہ بھی یہیں اسی بلاک میں لیکن۔۔۔ہمیں یہاں سے آگے جانا ہے۔۔۔۔”

“ہمیں واش روم جانا ہے تو۔۔۔۔”

“چلیں ٹھیک ہے اسی بہانے بھائی سے مل لیتے ہیں نہیں تو میں اسے شام کو سرپرائز دینے کا سوچ رہا تھا” اس نے ڈرائیور کو اڈریس بتایا۔

فرشتے کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔

“یہ لو چابی۔۔۔۔”

اعظم نے اسے چابی دی کیونکہ وہ بھی یہیں رہتا تھا ازلان سے پہلے یہ ان دونوں نے بہت دیر پہلے پیسے ملا کر یہاں فلیٹ لیا تھا۔

وہ خود کو گھسیٹتے دروازے تک لائی اور کی ہول میں چابی لگائی ہاتھ کانپ رہے تھے۔

اندر داخل ہوتے اس نے دروازہ بند کیا اور لاک لگا دیا شاید اعظم اظہر کی موجودگی نہیں چاہتی تھی وہ۔

اندر اندھیرا تھا تو کیا وہ گھر نہیں تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی چمک مات پڑی اور پھر بجھ گئی۔

“کون ہے؟”

اس کی آواز پر اس کا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ وہ گھبرا گئی۔

“رُکو وہیں جو کوئی بھی ہو!” وہ انگریزی میں بولا تھا لیکن وہ قدم بڑھاتی آگے بڑھنے لگی۔

“آئی سیڈ سٹاپپپ!” وہ دھاڑا تھا لیکن فرشتے اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔

وہ تو اس کی آواز کے تعاقب میں اس کی طرف بڑھ رہی تھی بنا کچھ سوچے سمجھے باہر وہ اپنا سوٹ کیس نکالتے جان کر کھول آئی تھی جس سے کپڑے سارے نیچے گرے تھے جسے اعظم اٹھا رہا تھا۔

ازلان اظہر نے آگے بڑھتے لائٹس چلائی تو وہ دوڑتی اس تک آئی تھی اور اس کے سینے سے لگی تھی۔

ازلان اظہر اس کی خوشبو محسوس کرتا بے یقین رہ گیا تھا۔۔۔۔وہ بے حس و حرکت کھڑا تھا جیسے یقین نہ کر پا رہا ہو۔

“ازلان۔۔۔۔

“اس کی آواز پر وہ ہوش میں آیا اور چہرہ جھکاتے اسے دیکھا جو نم اور سرخ آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

ازلان اظہر خود پر بٹھائے پہرے ٹوڑتا اسے حصار میں لیتا زمین سے اٹھا چکا تھا گرفت اتنی سخت تھی کہ اسکا سانس رک جاتا لیکن وہ دونوں ایک ہی احساسات رکھتے تھے اس لیے وہ حصار ان کے لیے ضروری تھا اہم بے حد اہم۔

“فرشتے۔۔۔!” اس کے لب ہلے۔

فرشتے نے اپنے ہاتھ اس کی گردن میں ڈالے تو ازلان اظہر نے اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے اور پھر وہ ہوش میں نہیں تھا وہ اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرتا اپنے لب اس کے چہرے پر بار بار رکھتا چلا گیا کہ گنتی تک بھول گئی اسے۔

وہ دونوں اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے اور نا آنا چاہتے تھے یہ تڑپ تھی ان کی تین مہینوں کی جو ایک دوسرے سے دور رہتے انہوں نے سہی تھی۔