Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 6
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 6
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
“بابا کیسے ہیں آپ؟” اپنے باپ سے ملنے آئی تھی وہ۔
“بہتر ہوں!” وہ بمشکل بولے اور اس کے چہرے کو چوما جو ان پر جھکی تھی۔
“دوا لے لی ہے؟”
نہیں!
کیوں؟ اب تو شام کے کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔وہ حیرانگی سے پوچھنے لگی۔
“پتا نہیں! یہاں پر وقت کی پابندی نہیں کی جاتی بیٹے۔۔۔۔یہ بڑا ہسپتال ہے۔۔۔اتنے بڑے ہسپتال میں داخل کروانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔وہیں کسی محلے کے ہسپتال۔۔۔۔”
“نہیں بابا۔۔۔۔ہمارے محلے کے ہسپتال آپ کی بیماری کا علاج نہیں کر سکتے۔”
“اور میں پوچھتی ہوں۔۔۔دوا کیوں نہیں دی” وہ باہر نکل گئی۔
“خاور عثمانی کے ڈاکٹر کون ہیں؟ اس نے باہر کھڑی نرس سے پوچھا۔
فخری صاحب۔۔! وہ ان کا کیبن ہے اس نے بتایا تو وہ ان کے کیبن میں چلی گئی اور اجازت لیتے اندر داخل ہوئی۔
“خاور عثمانی کی بیٹی ہوں میں۔۔۔انہیں دوا وقت پر نہیں مل رہی۔”
“ان کا علاج ہو رہا ہے اسی کو غنیمت جانیں۔۔۔۔اتنا دھیان رکھنے کا نہیں کہا گیا ہمیں۔۔۔۔انہیں آج وارڈ میں باقی مریضوں کے ساتھ ڈال دیا جائے گا۔”
“لیکن کیوں؟”
“شایان عثمانی کا حکم تھا یہ۔۔۔۔جب وہ خطرے سے نکل آئیں تو انہیں باقی مریضوں کے ساتھ رکھا جائے۔۔۔۔آپ کا تو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے” وہ لیے دیے انداز میں بولے تو وہ باہر نکل گئی۔
اپنے باپ سے ملے بغیر وہ باہر نکل آئی کتنی ہی دیر اس بینچ پر بیٹھی رہی اور آسمان کو تکتی رہی۔
“کیا فایدہ تھا اس شخص کی غلامی کرنے کا؟”
“کیا فایدہ تھا اتنی دولت کا کہ اس کا باپ یوں رُل رہا تھا۔۔۔”اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔
“شایان عثمانی!”
اس کے لبوں سے یہ نام ادا ہوا تو وہ اس کے آفس کی طرف روانہ ہوئی۔
اندر داخل ہوتے اسے اندازہ ہوا کہ وہ اب تک نہیں آیا تھا اور شاید اسے بھی اس کے گھر جانا تھا اس کے ساتھ ہی آنا تھا کل کی طرح لیکن وہ سیدھا آفس آیا تھا۔
آدھے گھنٹے بعد آفس میں اٹھتا شور تھم گیا تو اسے اندازا ہوا کہ وہ آگیا ہے وہ سیدھا اپنے کیبن میں آیا تھا۔
“تم؟”
“تمہاری وجہ سے میرا گھنٹہ برباد ہوا ہے۔۔۔۔سیدھا آنا تھا تو بتانا کس نے تھا میں غلام ہوں تمہارا؟”
“کیا میں غلام ہوں آپ کی؟” وہ سب نظرانداز کرتی استسفار کرنے لگی۔
وہ اٹھتی اس کے پاس آئی۔۔۔شایان نے اس کی آنکھیں دیکھیں جو سرخ تھی شاید وہ روئی تھی۔
“کیا ہوا ہے؟” وہ لیے دیے لہجے میں بولا۔
“مجھے آپ سے طلاق چاہیے!”
وہ اچانک بول گئی شایان عثمانی کا فائل کو تھامتا ہاتھ وہیں ہوا میں تھم گیا۔
“کیا بولا ہے؟”
“مجھے آپ سے طلاق چاہیے!”
“ہوش میں نہیں ہو لگتا۔۔۔”
شایان عثمانی کو اس چھٹانک بھر کی لڑکی سے یہ امید تو بالکل نہ تھی۔
“کاش ہم ایک خاندان سے نہ ہوتے” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے اس کی طرف قدم بڑھا گئی۔
شایان عثمانی صرف اس کے اپنی طرف اٹھتے قدم دیکھ رہا تھا۔
“تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک تو جا سکتی ہو!”
شایان عثمانی نے فائل تھامتے کہا تو کونین نے اس کے ہاتھ سے فائنل لے کر میز پر پھینکی اور اسکا گریبان تھاما۔
“مجھے طلاق دیں!” اس کی آنکھیں اب مزید سرخ پڑ گئیں۔
“تمہارہ دماغ درست جگہ پر نہیں ہے۔۔۔کیا بکواس کر رہی ہو؟” وہ دھاڑا اور اپنا گریبان اس کے ہاتھ سے نکالا۔
“آپ ایسے کیوں ہیں شایان؟”
وہ اس کے سینے پر سر رکھ گئی تو شایان عثمانی کو لگا وہ ہل نا سکے گا۔
“آپ نے کہا تھا آپ بابا کا علاج کروائیں گے۔۔۔میں نے بدلے میں آپ کا ہر کام کرنے کی حامی بھر لی لیکن آپ نے میرے ساتھ دھوکا کیا ۔۔”
وہ کہہ کر خاموش ہو گئی اس کا وجود لرز رہا تھا وہ رو رہی تھی۔
اس نے خود سے وعدہ کیا تھا وہ ان سب کے سامنے اپنے آنسوؤں کو بے مول نہیں کرے گی لیکن حالات ایسے ہو گئے تھے۔
اکیلی وہ کب تک دنیا کی سختیاں جھیلتی؟
“میں نے تمہارے باپ کو ہسپتال۔۔۔۔۔”
“آپ نے ہسپتال کروایا۔۔۔لیکن مُڑ کر پتا تک نہ کیا۔۔۔۔وہ کہہ رہے تھے کہ آپ نے کہا ہے کہ انہیں وارڈ میں باقی مریضوں کے ساتھ رکھا جائے انہیں دوا تک وقت پر نہیں مل رہی۔”
“اگر آپ مزید مجھ سے کچھ کروانا چاہتے ہیں تو بتا دیں۔۔۔میں سب کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ جوتے بھی صاف کر دوں گی۔۔۔”وہ روتی اسے بتا رہی تھی۔
یک دم دروازہ کُھلا اور کومل اندر داخل ہوئی۔۔۔ کونین پھر بھی پیچھے نہ ہوئی شاید وہ ہوش میں نہ تھی یا آنا نہیں چاہتی تھی۔
اوووو! کومل نے ہونٹ اوو کی شکل میں سکیڑے۔
“تمیز نہیں ہے۔۔۔دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آیا جاتا ہے کومل!”
“مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس طرح کے مصروف ہو گے۔۔۔” اس کا اشارہ کونین کی طرف تھا۔
“اس وقت اپنی شکل گُم کرو بس۔۔۔۔”وہ دھاڑا تو وہ غصے سے دروازہ بند کرتی چلی گئی۔
کونین نے پیچھے ہونا چاہا تو وہ اسے میز پر بٹھاتا اس پر جھکا۔
اس کا وجود اب بھی سسکیاں بھر رہا تھا۔۔۔آنکھیں اور گال دونوں گلابی تھے۔
“میں ڈاکٹر سے بات کر لوں گا!”
وہ بس اتنا ہی کہہ سکا۔۔۔نہیں تو اس شخص سے ناپسندیدگی بہت تھی کہ مر کر نہ پوچھتا اس کا کسی سے۔
“وعدہ کریں؟” وہ نگاہیں اٹھاتے امید سے بولی تو شایان عثمانی تھم گیا۔۔
شایان عثمانی کی زندگی کا واحد لمحہ جہاں اس کے دل کے دھڑکنے کی رفتار سست پڑی تھی۔
“یقین کرو!”
وہ جھکا اور اس کے ماتھے پر لب دکھ دیے اور کونین خاور نے وہ بوسہ آنکھیں بند کرتے محسوس کیا۔
“میں بدلے میں سب کر دوں گی۔۔۔۔”
“ضرورت نہیں ہے!”
وہ نجانے کیوں بول گیا اور اس کو دیکھنے لگا جو اب بھی نگاہیں جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
شایان نے فون اٹھایا اور کال ملائی۔
“جی انہیں کہیں شفٹ نہیں کرنا ہے ۔۔۔۔دوا کا خاص خیال رکھا جائے” اس نے کال کاٹ دی تو کونین نے اسے دیکھا۔
“شکریہ!” کونین نے کہا تو وہ محض سر ہلا گیا لیکن نگاہیں اب بھی اس کے چہرے پر ٹکیں تھیں۔
اپنی منکوحہ کو جو سالوں سے اس کے نکاح میں تھی اس نے پہلی بار دیکھا تھا اتنے قریب۔۔۔۔
وہ اسے جھٹلا کیوں نہ سکا تھا یہ وہ خود نہیں جانتا تھا۔
“کالج ختم ہو گیا تمہارا؟”
جی!
“آگے نہیں پڑھنا؟”
نہیں!
کیوں؟
“بس۔۔۔کیا آپ کافی پییں گے؟”
“آگے پڑھائی شروع کرو!” وہ سنجیدہ تھا۔
“نہیں میں بابا کے لیے۔۔۔۔”
“میں داخلہ کروا دوں گا۔۔۔۔۔شام میں تم میرے ساتھ رہو گی۔۔۔۔”وہ بولا تو وہ اسے دیکھنے لگی جو سنجیدہ تھا بے حد۔
“کافی بنا لاؤ!” وہ بولا تو وہ اٹھ گئی۔۔۔۔
شایان عثمانی اس سے زیادہ اپنے دل کو ستا نہیں سکتا تھا۔۔۔اور ابھی کیا ہوا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
“کیسی ہو کونین؟” علی نے اسے دیکھتے پوچھا تو عہ مسکرا دی کیونکہ دل ہر بوجھ سرک گیا تھا۔
“ٹھیک ہوں! آپ کیسے ہیں؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں میں کافی بنا لوں۔۔۔”
“میرے لیے بنا سکتی ہو؟”
بالکل! وہ مسکرا دی اور دو مگ بناتے ایک اسے پکڑایا تو شایان عثمانی کو دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
“کونین صرف میرے لیے چائے بنائے گی۔۔۔مسٹر علی!” وہ بولا تو علی شرمندہ ہو گیا۔
“میری چادر!” کونین نے علی سے استسفار کرتے اسے اس شرمندگی سے نکالنا چاہا۔
“وہ گھر پر ہے۔۔۔مجھ سے لے لینا۔۔۔”
شایان کہتا اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا اپنے کیبن میں چلا گیا۔
“علی کو شرمندہ کیوں کیا آپ نے؟”
“کیونکہ تم کافی صرف مجھے بنا کر دو گی۔۔۔۔”وہ سنجیدگی سے بولا۔
“آپ کو بوس کی حیثیت سے اسے دوست کی حیثیت سے۔۔۔”وہ یک دم بولی تو شایان اس کے قریب آیا۔
“لڑکے دوست نہیں ہوتے۔۔۔اور یہ بات میں دوبارہ نہیں بتاؤں گا تمہیں۔۔۔چلو ہم گھر جا رہے ہیں”
وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے نکل گیا تو وہ بھی پیچھے ہوئی۔
“کچھ پوچھوں؟” یہ اس کا دیا آج کا عتماد تھا کہ وہ یوں بول رہی تھی۔
“پوچھو؟”
“کیا آپ میرے بعد ۔۔۔۔اس کومل نام کی لڑکی سے شادی کریں گے؟” اس کا سوال غیر متوقع تھا۔
“کیا مطلب ہے؟”
“یعنی میرے جانے کے بعد۔۔۔۔”
“تم کہاں جا رہی ہو؟”
“ہم ساتھ تو نہیں رہیں گے نا۔۔۔بابا کے علاج کے بعد۔۔۔۔”
“گاڑی روکو!”
اس نے گاڑی رکوائی تو کونین حیران ہوئی اور ڈرائیور خود ہی گاڑی سے اتر گیا تو وہ کونین پر جھکا۔
“تمہیں کس نے کہا ہے میں تمہیں چھوڑوں گا؟” آئبرو اچکاتے پوچھا گیا۔
کونین نے تھوک نگلا۔۔۔
“لیکن۔۔۔۔”
“آئیندہ اس قسم کی فضول باتیں میرے سامنے مت کرنا۔۔۔۔۔”وہ اس کی چادر کو مزید اس کے ماتھے پر کھینچتا پیچھے ہوا اور ڈرائیور کو اندر آنے کا کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازلان نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا اور اس پر جھک کر گہرا سانس بھرا اور پیچھے ہو گیا وہ جو کچھ اور سمجھ رہی تھی آنکھیں کھول گئی۔
“مجھے یہاں نہیں رہنا۔”
“کہاں جانا ہے؟” ازلان نے دوبدو پوچھا۔
گھر!
“کس کے گھر؟”
میرے گھر! اس نے کہہ کر اٹھنا چاہا جب ازلان نے جھٹکے سے اس کی جگہ پر اسے لٹایا۔
“وہ جگہ میں بیچ چکا ہوں تم وہاں کبھی نہیں جاؤ گی۔۔۔”
“لیکن کیوں؟ وہ میرا گھر تھا میرے اماں اباں کی جگہ آپ کیسے۔۔۔۔؟” اس کی آنکھیں بھر گئیں۔
“خبردار تم روئی تو۔۔۔۔”
لیکن وہ پھر بھی رونے لگی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا جانے کے لیے۔
“مجھے اپنے گھر لے کر جائیں۔”
“کس حق سے جانا چاہتی ہو میرے گھر؟”
فرشتے کو لگا یہ مشکل سوال ہے۔
ازلان پلیز۔۔۔۔وہ اس کے پیچھے کمرے سے نکل گئی۔
ازلان نے کچن میں جاتے اس کی دوا اور پانی اس کے ہاتھ میں تھمائی جو اس نے کھاتے اسے دیکھا جو کچن سے باہر نکل رہا تھا۔
“چلتا ہوں۔”
“بیوی بنا کر ہی بس لے کر جائیں گے یہ جانتے ہوئے کہ میں ان سب کے لیے تیار نہیں مجھے وقت چاہیے ہے۔”
“کس لیے وقت چاہیے تمہیں؟”
” اعظم اظہر کو بھولنے کے لیے یا ازلان اظہر کو اپنا شوہر ماننے کے لیے؟”
وہ اس کے بازوؤں کو گرفت میں لیتا بولا لہجہ حد درجہ سخت تھا۔
“وہ سب ماضی تھا۔”
“ہاں لیکن وہ اسے ماضی نہیں سمجھتا ۔۔۔۔اور اسے ماضی کبھی تم نے بھی نہیں سمجھنے دیا اس لیے آج بھی مجھ سے پہلے تم نے اُسے کال کی۔۔۔مجھے دوسرا آپشن بنایا تم نے فرشتے حیدر۔”
ایسا نہیں ہے! وہ روتے بولی۔
“کیسا ہے پھر۔۔۔۔تم بتاؤ۔۔۔”
“ازلان اظہر کو دوسرے نمبر پر ہی تو رکھا گیا ہے ہمیشہ سے گھر میں۔۔۔رشتے میں، سب چیزوں میں۔۔۔۔”وہ پھٹ پڑا تھا۔
فرشتے نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھے۔۔۔بوا اٹھ جاتی تو کیا سمجھتی۔
فرشتے کو دکھ ہوا اس کی حالت پر۔۔۔۔اسے کبھی کسی نے نہیں سمجھا تھا۔
“فرشتے ازلان اظہر بن کر چلوں گی۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔”
“لیکن تمہیں وقت چاہیے ازلان اظہر کو شوہر ماننے کے لیے۔۔”وہ تلخ سا مسکرا دیا تو فرشتے سر جھکا گئی۔
فرشتے اس کے قریب ہوئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں کئی دکھ ایک ساتھ تھے جنہیں چھپایا گیا تھا۔
پھر ایڑھیاں اونچی کرتے لرزتے لبوں کے ساتھ اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
“گھر جا کر دوا کھا لیں۔۔۔بخار تیز ہو جائے گا۔۔۔”
ازلان اظہر کے سارے جسم میں سکون بھر گیا تھا جیسے وہ فرشتے کو تکتا گیا جو اسے ہی مسکراتے دیکھ رہی تھی۔
“تم میری پرواہ کرتی ہو؟”
فرشتے نے سر ہاں میں ہلاہا۔
“بھائی سے بھی زیادہ؟”
“آپ خود کو خود ہی تکلیف دیتے ہیں اذلان۔۔۔۔اور ایسا کرنا آپ کو ایک دن بہت گہرے نقصان سے روشناس کروا دے گا۔”
“میں اپنے ہر نقصان کا ازالہ کر لوں گا اگر تب مجھے تم اپنے اردگرد دیکھنے پر نزدیک ملی تو!” اس کے بال کندھے سے ہٹاتا بولا۔
“میں وہیں موجود ہوں گی بس تھوڑا سا ڈھونڈ لیجئے گا۔”
“کل فرشتے ازلان اظہر کا انتظار کرے گی۔۔۔۔اور جائیں جا کر سوئیں ۔۔۔آنکھیں دو دن جگے رہنے کا بتا رہیں ہیں “اس نے ہمت کرتے اس کے بال ماتھے سے ہٹائے تھے۔
ازلان نے اسے دیکھا پھر اس کے کندھے کو۔
فرشتے نے نگاہیں جھکا لیں تو وہ مسکرا دیا پھر جھکتے اس کے کندھے پر لب رکھے تو دونوں تھم گئے۔
فرشتے کا وجود لرزا تھا اس قدر محبت اور عزت اس بوسے میں محسوس کر کے۔
کیا اعظم اظہر اتنی محبت اور عزت دیتا اسے؟ دور کہیں اس کے دل نے اس سے پوچھا تھا۔
“آپ رُک جائیں!” وہ اچانک بول گئی۔
“چائے پئیں گے؟” ازلان نے اس کے بال سنوارے تو وہ بولی۔
وہ دونوں کچن میں تھے۔۔۔فرشتے اس کی چائے بنا رہی تھی اور وہ فرشتے کو دیکھ رہا تھا۔
سالوں وہ اس لڑکی کی محبت میں گرفتار رہا تھا۔
اس کا فون دوبارہ بجا تو ازلان کمرے سے فون لے کر آیا کیونکہ وہ مسلسل بج رہا تھا۔
اعظم اظہر کا نام دیکھ کر اس نے فرشتے کو پکڑایا تو فرشتے نے اسے دیکھا۔
اٹھاؤ! فرشتے نے کال پِک کی اور فون کان کے ساتھ لگایا۔
“فرشتے میری جان؟”
ازلان استہزایہ مسکرا دیا۔۔۔تو فرشتے نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا جو اس کے نزدیک کھڑا اس کے بالوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
جی؟
“کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں!” وہ بس اتنا ہی بول پائی۔
“مجھ سے بھی پوچھو میں کیسا ہوں؟ مجھے مِس نہیں کرتی اب؟” اعظم نے کہا تو ازلان نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
“کیا کر رہے ہیں آپ؟یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔۔۔۔لیکن واپسی پر آ کر سارے سوالات کے جوابات میں خود تم سے لے لوں گا۔۔۔”وہ بولا تو ازلان نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے۔
فرشتے نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے دیکھا آنکھوں میں التجا تھی۔
کال کاٹو! ازلان نے اس کے کندھے پر چہرہ رکھتے کہا تو وہ کانپ گئی۔
“کال کاٹو ابھی۔۔۔”
“وہ آپ کے بھائی۔۔۔ “اس نے فون کان سے ہٹاتے سرگوشی میں کہا۔
“میرا بھائی ہے لیکن تمہارا کچھ نہیں لگتا۔۔۔”وہ کہتے اس کے ہاتھ سے فون لیتا کال کاٹ گیا اور اس کے بال بکھیرے۔
چائے دو مجھے جانا بھی ہے۔۔۔۔وہ بولا تو فرشتے نے اس کی چائے کپ میں ڈالی اور اسے تھمائی اور بنا کچھ کہے اندر کمرے میں جانے لگی۔
“اتنا بُرا لگا ہے اس سے بات نہ کرنا؟”
“ازلان میں آپ کے لیے دوا لینے جا رہی ہوں کمرے میں۔۔۔”وہ بولیں تو وہ سرد آہ بھرتا مسکرا دیا اور اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوا۔
“کل انتظار کروں گی آپ کا۔۔۔۔”اس نے عنودگی میں جانے سے پہلے کہا تو وہ اس کی آنکھیں چومتا اٹھ گیا۔
