220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 20

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

“اگر مجھے اگلے دس منٹ میں اس کی لوکیشن نہ ملی تو تمہارا آخری دن ہو گااس دنیا میں!”

وہ دھاڑ رہا تھا کیونکہ انتظار کرتے اسے گھنٹہ مزید بیت گیا تھا۔

اور اگلے دس منٹ میں اسے لوکیشن مل گئی تھی جو یہاں کی نہیں تھی لیکن پاس ہی موجود شہر کی تھی۔

وہ تیزی سے گاڑی ڈرائیو کرتا وہاں پہنچا تھا۔۔۔۔گھڑی اب رات کے گیارہ بجا رہی تھی۔

اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ گاڑی روکی اور باہر نکلتا اس گھر کو دیکھنے لگا جو خوبصورت تھا لیکن چھوٹا سا تھا۔

وہ لمبی اور گہری سانس بھرتا قدم بڑھاتا دروازے تک آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔

“کونین!”

جی بابا؟

“بیٹا دیکھیں دروازے پر کون ہے اس وقت! کھڑکی سے ہی دیکھیں۔”

اوکے! کونین جو اپنا یونیورسٹی کا کام کر رہی تھی اٹھی اور کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھنا چاہا لیکن اندھیرا تھا۔

“بابا کوئی نظر نہیں آرہا!”

“لائٹ چلائیں نا باہر کی!”

انہوں نے کہا تو کونین نے باہر گیٹ پر موجود لائٹ کو جو وہ آج چلانا بھول گئی تھی چلائی۔

اور اس شخص کو دیکھتے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں یک دم کہ اسے شور اپنے کانوں تک آتا سنائی دیا۔

“کون ہے؟”

“بابا وہ۔۔۔۔۔”

“کوئی نہیں۔۔۔۔آپ سو جائیں جا کر!” اس نے یہ کہتے بیل بند کر دی پیچھے سے۔

“اچھا چلو دوبارہ بیل ہوئی تو بتانا میں خود دیکھوں گا رات ہو گئی ہے۔”

“اوکے بابا جان! آپ سو جائیں۔”

وہ ان کے کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر نکل آئی اور ٹی وی لاونچ میں یہاں سے وہاں چکر کاٹنے لگی۔

اتنی جلدی۔۔۔۔۔!اتنی جلدی وہ ڈھونڈ چکا تھا اسے۔

نہیں۔۔۔! وہ انگلیاں چٹکا رہی تھی اس کا فون مسلسل وائبریٹ ہو رہا تھا وہ جانتی تھی وہ کون ہے جو مسلسل اسے فون کر رہا ہے۔

“کیا دادا جان نے بتایا ہو گا؟”

“نہیں وہ وعدہ نہیں توڑ سکتے۔۔لیکن۔۔۔۔”

شایان عثمانی نے اسے ڈھونڈنے میں دو ہفتے لگائے تھے اور اسے لگا تھا اسے مہینوں لگ جائیں گے۔

اب کی بار گیٹ ہاتھ سے بجایا گیا تھا مخالف جیسے آج خالی ہاتھ نہیں جانا چاہتا تھا۔

اگلی بار گیٹ بجا تو وہ تیزی سے گیٹ کے پاس گئی وہ اس شخص کو اپنے باپ کے روبرو نہیں کرنا چاہتی تھی۔

ابھی نفرت کا دعوے دار صرف شایان عثمانی تھا ان سے لیکن اگر انہیں پتا چل جاتا کہ اُس نے ان کی بیٹی کے ساتھ کیا کیا ہے تو یہ نفرت یک طرفہ ہرگز نہ رہتی۔

اس نے کھڑکی کھولی اور اس شخص کو دیکھا جو ابھی بھی کھڑا تھا۔

“کون ہے؟”

وہ دھڑکتے دل اور انجان لہجے میں استسفار کرنے لگی۔

“کونین شایان عثمانی دروازہ کھولو نہیں تو اب کی بار میں اس زور سے بجاؤں گا گیٹ کہ محلہ اکٹھا ہو جائے گا تمہارا۔”

“ہم آپ کو نہیں جانتے آپ برائے مہربانی جہاں سے آئے ہیں وہیں لوٹ جائیں” وہ سرد سے لہجے میں بولی۔

“گیٹ کھولو!”

نہیں!

اور شایان عثمانی نے گیٹ پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ کونین نے دروازہ کھول دیا رات کے اس وقت کسی طرح کے تماشے کی متمحل نہیں ہو سکتی تھی وہ۔

دروازہ کھولتی وہ اندر چلی گئی تو وہ بھی دروازہ لاک کرتا تیزی سے اس کے پیچھے آیا جہاں وہ شاید اپنے کمرے میں گئی تھی۔

اس سے پہلے وہ دروازہ بند کرتی شایان نے دروازے کے درمیان اپنا بوٹ رکھا اور کھولتا اندر داخل ہوتے بند کیا۔

“کیا چاہتے ہیں؟”

“تمہیں!” جواب سادگی سے آیا تھا۔

“کیوں آپ کی خالہ محترمہ کو ابھی سکون نہیں آیا یا بدلہ ابھی پورا نہیں ہوا؟ یا شاید کوئی اور انکشاف۔۔۔چلیں بولیں میں سُن رہی ہوں۔”

کونین بے خوفی سے اس کی نگاہوں میں نگاہیں گاڑھتی بولی تھی۔

شایان نے اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھتی پیچھے کو قدم بڑھانے لگی۔

“فاصلے پر رہ کر بات کریں۔۔۔اور جو بولنا ہے جلدی بولیں مجھے گیٹ لاک کر کے سونا ہے۔”

شایان نے اس ظالم کو دیکھا جو بدل گئی تھی وہ وہ کونین خاور نہیں تھی جسے وہ جانتا تھا، جو اس کے لیے موم تھی جو اس سے آہستگی اور نرمی سے بات کیا کرتی تھی، اس کی قربت پر گلابی ہو جایا کرتی تھی لیکن یہ، یہ کونین کوئی اور ہی تھی۔

جو باغی اور سرد آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اور اس سے دوری پر موجود تھی۔

“کیا میرا قریب آنا بھی برداشت نہیں ہے تمہیں؟”

“بالکل نہیں!”

وہ بولی تو شایان نے تیزی سے اس کی طرف قدم بڑھائے اور اسے دیوار کے ساتھ لگایا تو وہ اُسے اور غصے سے دیکھنے لگی۔

“معافی کس صورت ملے گی؟”

وہ اس کے بازوؤں کو پیچھے قمر پر باندھتا سنجیدگی سے استسفار کرنے لگا۔

“دھتکار دیے جانے کی اور دھوکوں کی معافی نہیں ہوتی شایان عثمانی کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔”

“اور میرا کفارہ کیا ہے؟”

“یہی کہ آپ کو کبھی میں میسر نہ آؤں!’

وہ بولتی اس سے نظریں چُرا گئی لیکن شایان عثمانی کا دل چیر گئے تھے اس کے یہ الفاظ۔

“تم اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو؟” شایان نے اس پر جھکتے کہا۔

“آپ سے سیکھا ہے میں نے کہ جب کوئی شخص آپ سے محبت میں گرفتار ہو جائے تو اسے دنیا کے سامنے دھتکار کر اس کی اوقات بتا دو اسے، بتا دو کہ وہ ایک عام انسان ہے جس کا متبادل کوئی بھی ہو سکتا ہے اور پتا ہے۔۔۔۔”

“اس دنیا میں میرے لیے آپ کا “متبادل” بھی۔۔۔۔”

شایان نے اس کے بالوں کو پیچھے سے تھامتے اس کا چہرہ اونچا کیا کہ ان کے چہرے ایک دوسرے کے بے حد قریب ہو گئے، سانسیں الجھنے لگی اور دونوں کے ناک ایک دوسرے سے مِس ہوئے۔

“میرا متبادل تو ڈھونڈنا بھی مت کیونکہ اس گناہ پر تم میرے ہاتھوں ماری جاؤ گی۔”

“چھوڑیں!”

کونین نے اس کی گرم سانسیں خود کے چہرے پر محسوس کی تو ہار مانتے اس سے دور ہونے کی جدوجہد کرنے لگی۔

“اور اگر میں نے امانت میں خیانت کی نا کونین خاور تو تم جانتی ہو کہ تم برداشت نہیں کر پاؤ گی کسی بھی عورت کو میرے یوں قریب جس طرح تم ہو۔۔۔”

وہ بولا تو کونین نے تڑپ کر اسے دیکھا وہ دونوں جانتے تھے ایک دوسرے کی کمزوریوں کو۔

“کیا تمہیں واقع ہی لگا کہ میں نے جو لمحات تمہارے ساتھ گزارے تھے، جو سب ہم نے ساتھ جیا وہ سب کسی فریب کا حصہ تھا؟”

“شایان عثمانی اگر یہ سب بند دروازے میں ہم دونوں کے درمیان ہوتا تو نا تو شاید میرے دل میں کوئی گنجائش نکل آتی لیکن آپ نے۔۔۔۔آپ نے مرد ہونے کا ثبوت دیتے وہاں بھری محفل۔۔۔۔”

اس کی آواز رندھ گئی۔

“میں اس بھری محفل میں معافی مانگنے کی سکت اور حوصلہ دونوں رکھتا ہوں۔۔۔۔تم یقین دلاؤ کہ معاف کر دو گی بس مجھے تمہارے دل میں اپنا کھویا مقام چاہیے۔۔۔”

“وہ ممکن نہیں!”

“بابا اٹھ سکتے ہیں اب آپ جائیں اور اگر نہیں چاہتے کہ میں یہ گھر بھی چھوڑ دوں تو دوبارہ یہاں مت آئیے گا” وہ اسے دھکا دیتی سائیڈ سے نکلنے لگی۔

شایان نے اسے کھینچ کر واپس اپنے سامنے کیا اور اب کی بار دونوں ہاتھ اس کے دونوں اطرف میں دیوار پر رکھے اور شعلہ بار نگاہوں سے اسے گھورنے لگا۔

کونین نے اسے دو ہفتوں بعد یوں قریب سے دیکھا تھا۔

بکھرے بال، بڑھی بیئرڈ، آنکھوں کے نیچے ہلکے اور بھینچے ہونٹ وہ اس کی برداشت آزما رہی تھی جانتی تھی لیکن کسے فرق پڑتا تھا وہ تلخی سے مسکرائی۔

“معافی یوں زور زبردستی سے نہیں مانگی جاتی؟”

اس کا اشارہ شایان کا یوں اسے تھامے رکھنے پر تھا۔

لیکن شایان اسے دیکھ رہا تھا جیسے اب کی بار آنکھوں میں اس کا ایک ایک نقش بسانا چاہ رہا ہو۔

“کیا پڑھ رہی ہو آگے؟”

وہ اس کی یونیورسٹی کی بکس باہر پھیلے دیکھ چکا تھا۔

وہ ایسے ہی جھکا اس کے ایک ایک نقش کو دیکھتے استسفار کرنے لگا جیسے ان کے درمیاں سب نارمل ہو۔

کونین نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تو شایان نے جھکتے اپنے دانت اس کے گال پر رکھے کہ کونین نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے باز رکھنا چاہا۔

“شایان جائیں پلیز!”

وہ نم آنکھیں لیے بولی تو شایان نے پیچھے ہٹتے اس کے اسی گال کو ہاتھ کی پشت سے سہلایا۔

“تم یونیورسٹی نہیں جاؤگی گھر میں پڑھو گی۔”

“میں آپ کے حکم کی غلام نہیں” وہ تیزی سے بولی اور پیچھے ہٹی۔

“نکلیں فوراً!” اس نے دروازہ کھولا اور شایان کو بنا دیکھے بولا۔

شایان کا دل درد سے بھر گیا تھا اس کے اس لہجے پر۔

“کاش تم اس اذیت کو کبھی محسوس نہ کرو جو اس وقت تم مجھے دے رہی ہو۔”

وہ کہتا تیزی سے اس کے پاس سے نکل گیا۔

کونین چھوٹے قدم اٹھاتی گیٹ تک اس کے پیچھے آئی تھی گیٹ لاک کرنے کے لیے۔

شایان نے اسے مُڑتے دیکھا جو نم نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر اس کے گال کو اور واپس آیا اور اس پر جھکا۔

اب کی بار کونین نے قدم پیچھے کو نہیں لیے تھے۔

شایان نے اس جگہ پر کتنی بار بوسہ دیا پھر چہرہ اٹھایا اور اس کے کندھے کو عقیدت سے چوما۔

“معاف بیشک نہ کرو لیکن خود سے محروم مجھے کبھی مت کرنا کونین شایان عثمانی کیونکہ اس کے بعد جو ہو گا وہ ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔”

وہ کہتا باہر نکل گیا تو وہ لاک کرتی تیزی سے اپنے کمرے میں آتے بستر پر گر کر رونے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا میں شادی کرنا چاہتا ہوں!” اعظم اظہر نے ان کے سر پر دھماکہ کیا۔

“لیکن تم تو فرشتے ۔۔۔۔۔”

“مجھے کسی اور سے شادی کرنی ہے اور اسی مہینے میں کرنی ہے!”

وہ سنجیدگی سے بولا تو اس کے باپ نے اس کی ماں کو دیکھا جو خود بھی حیران تھیں۔

“کون ہے وہ؟”

“زارا۔۔۔۔زارا اکبر۔۔۔۔۔!”

“ہماری کالونی میں ہی رہتی ہے کہ اس کے بھائی کا نمبر ہے آپ ان سے بات کر لیں اور ان سے مل آئیں۔”

اس نے ان کو فون نمبر تھمایا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

“کیا تمہیں اس سے محبت ہے؟ کیسے جانتے ہو تم اسے؟”

“نہیں اسے مجھ سے محبت ہے اور میں دیکھنا چاہتا ہوں یہ محبت کب تک رہتی ہے” وہ آہستگی سے خود سے بولا۔

“جی جانتا ہوں مجھے پسند آگئی ہے وہ آپ بات کر لیں آگے۔”

اظہر صاحب نے فوری طور پر انہیں فون ملایا تھا کہ اعظم اظہر کی بات وہ کبھی نہ ٹالتے تھے۔

فون کرتے انہیں ملنے کا بتا دیا تھا اور پھر کچھ ہی گھنٹوں میں کل کا دعوت نامہ انہیں موصول ہوا تھا۔

اعظم اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا۔

کوئی بات نہیں، کوئی سوال نہیں۔

اپنی محبت اسے نہیں ملی تھی لیکن اس لڑکی کی محبت وہ آزمانا چاہتا تھا اسے زارا اکبر ایک آنکھ نہ بھائی تھی آغاز سے ہی وہ خود ہی کسی مرد کو اپروچ کر رہی تھی۔

اور وہ بھی ایک بار نہیں بار بار۔۔۔۔۔

وہ زِچ ہو گیا تھا اس کا برملا اعترافِ محبت سن کر اور اب وہ اس لڑکی کو زچ کر دینا چاہتا تھا اور دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ سچ میں اس سے محبت کرتی ہے یا صرف اس کے اسٹیٹس تک پہنچنے کے لیے یہ سب کرتی رہی ہے۔

کیونکہ اس کی معلومات پر پتہ کروانے پر اسے سب معلوم ہو گیا تھا کہ ان کا باپ نہیں تھا اور یہ گھر بھی انہوں نے بمشکل کرایے پر لیا تھا اور دونوں بھائی عام سے نوکری کر رہے تھے۔

اسے لگا تھا کہ ایک عام مڈل کلاس لڑکی کی طرح وہ بھی کسی امیر لڑکے کو اپنی محبت سے زیر کرنا چاہتی ہے۔

اسی لیے اس نے اسے اکیلے ملنے بلایا تھا تاکہ اسے جانچ سکے اسے لگا تھا وہ نہیں آئے گی لیکن وہ آگئی تھی اور یہ بات اسے مزید ناگوار گزری تھی جو وہ انجان شخص کو ملنے آگئی تھی کہیں بھی۔

اگلے دن اظہر صاحب اسے پسند کرتے بات آگے بڑھاتے انہیں بتا چکے تھے کہ اعظم اظہر اسی مہینے نکاح اور رخصتی چاہتا ہے۔

جس پر انہوں نے زیادہ اعتراض نہ کیا تھا لیکن جسے اعتراض تھا وہ خاموش تھی بلکل کیونکہ یہ معمہ اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

ان کے نکاح کی تاریخ بھی رکھی جا چکی تھی کیونکہ اس کے بھائی اعظم اظہر کو اچھے سے جانتے تھے اور اس سے نجی طور پر مل کر بات بھی کر چکے تھے اور انہیں وہ کافی پسند آیا تھا۔

زارا اپنے کمرے میں آگئی تھی اس کی بھابھیاں اور والدہ شاپنگ پر گئیں تھیں۔

اس نے فون اٹھایا اور اس کا نمبر ملایا وہ یہ رشتہ کیسے شروع کر سکتی تھی دل میں ہزاروں خدشات لیے۔

“اسلام علیکم؟” اعظم اظہر کی آواز آئی تو اس کی ہتھیلیاں بھیگ گئیں۔

“وعلیکم السلام!”

خاموشی کا دورانیہ بڑھا تھا۔۔۔

“کیسی ہو؟”

“میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”

خوش ہوں! اور زارا اکبر مزید بے چین ہوئی تھی۔

اعظم؟

ہمم!

“آپ یہ شادی کیوں کر رہے ہیں؟”

“شادیاں کیوں کی جاتی ہیں زارا؟”

“لیکن آپ تو فرشتے سے محبت۔۔۔۔”

“تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟”

لیکن۔۔۔۔

“بولو؟ مجھ سے محبت کرتی ہو؟”

جی پر ۔۔۔

“ہم تمہاری محبت پر گزارا کر لیں گے!” اعظم اظہر ہلکے پھلکے سے انداز میں بولا۔

“لیکن اچانک یہ سب؟”

“تم نہیں چاہتی یہ نکاح؟”

“اعظم آپ بات کو غلط رُخ دے رہیں ہیں میں صرف آپ کو جاننا چاہ رہی ہوں آپ کو تو میں بالکل پسند نہیں تھی اور اب اچانک۔۔۔۔”

“بس جو لڑکی مجھ سے میرے ایک بار کہنے پر ملنے آ سکتی ہے اس کے ساتھ زندگی آسان ہی گزرے گی ایسا مجھے لگا” وہ تلخی سے بولا لیکن مخالف محسوس نہ کر سکا۔

“آپ خوش ہیں نا اعظم؟ میں زبردستی مسلط نہیں ہونا چاہتی آپ پر۔”

“میں مطمئن ہوں اور خوش تم کرو گی مجھے آ کر کیسے یہ تم جانتی ہو۔”

وہ معنی خیزی سے بولا تو وہ گلابی ہوئی.

” اور نکاح کی پیشکش میری طرف سے ہوئی ہے زبردستی مسلط تو کوئی کسی پر ہو ہی نہیں سکتا۔”

زارا کے دل میں موجود آخری پھانس بھی نکل گئی تو وہ سچے دل سے مسکرا دی۔

“میں بہت خوش ہوں!” وہ بلآخر بولی تو دوسری طرف اعظم اظہر نے مٹھیاں بھینچی۔

“محبت پا لینے کے بعد لوگ خوش ہی ہوتے ہیں۔”

“میں آپ کو کوئی شکایت کا موقع نہیں دوں گی!” وہ سچے دل سے بولی۔

“میں تمہیں کوئی غلطی کرنے ہی نہیں دوں گا ڈونٹ وری” وہ پھر سے تلخی سے بولا تھا۔

اعظم؟

بولو۔۔۔۔

“آپ ہمارے نکاح کا ڈریس میرے ساتھ لینے چلیں گے نا میں چاہتی ہوں میری ساری چیزیں آپ کی پسند کی ہوں۔”

“اوکے کل تیار رہنا۔۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے” وہ خوشی سے بولی تھی۔۔۔وہ کتنی خوش تھی یہ اس کا لہجہ بتا رہا تھا اعظم اظہر کو۔

“چلو کل ملتے ہیں؟”

“اعظم کیا آپ کو مہندی پسند ہے؟’

“کچھ خاص نہیں!”

وہ جو مہندی کی شوقین تھی اور خواب تھا اس کا کہ اپنی شادی پر بھر بھر کے ہاتھوں بازوؤں پر لگائے گی دل ماسوس کر کے رہ گئی۔

“ٹھیک ہے میں ہلکی سی لگواؤں گی بس۔۔۔۔”

“اور کیا کیا پسند ہے آپ کو؟”

“زارا ہم ملتے ہیں ابھی میری ایک میٹنگ ہے۔۔۔”

اوکے اوکے خدا حافظ! وہ تیزی سے کال کاٹ گئی تو اعظم اظہر خشک سا مسکرا دیا۔

“دیکھتے ہیں تم کتنے امتحانات میں پاس ہوتی ہو زارا اکبر!” وہ نجانے کیا کیا سوچے بیٹھا تھا۔

اور دوسری طرف وہ جو دو دن سے پریشان تھی اب خوشی سے چہکنے لگی تھی اپنی تیاریاں خود جوش و خروش سے کرنے لگی تھی کہ گھر والے دیکھتے رہ گئے تھے۔

آگے اس کی قمست میں کیا تھا وہ اس سے بے خبر تھی۔