220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 29

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

وہ سو نہیں پائی تھی سارا وقت سوئی جاگی کیفیت میں رہی تھی نماز ادا کرتے وہ تیار ہو گئی۔

دنیا کی نظر میں وہ ایک خوش کپل تھے اور اس کے گھر والوں نے بھی تو آنا تھا ناشتے کے لیے!

وہ تیار ہو کر باہر آئی تو وہ اُٹھ چکا تھا۔

وہ ڈارک پنک کلر میں مرجھایا ہوا پھول لگ رہی تھی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ انہیں ساری رات سکون نہیں ملا۔

“میرے کپڑے نکال دو میں فریش ہونے جا رہا ہوں!” وہ نجانے کیوں بول گیا تھا۔

زارا نے خاموشی سے اس کے کپڑے نکالے!

وہ فریش ہوتا باہر آیا جہاں وہ ڈریسنگ کے سامنے جھمکے پہن رہی تھی۔

اس کے پیچھے کھڑے ہوتے وہ بال بنانے لگا دونوں کا عکس آئنے میں صاف دکھتا اس بات کی وضاحت دے رہا تھا کہ وہ ایک ساتھ مکمل ہیں۔

“تم نے کون سا پرفیوم لگایا ہے؟”

اس کے پاس جھکتے برش رکھتے اس کی خوشبو اعظم کے حواسوں پر چھائی تو وہ پوچھ بیٹھا۔

“کوئی بھی نہیں!”

“ابھی کون سی لگائی ہے؟”

“کوئی بھی نہیں!” وہ کہہ کر وہاں سے ہٹنے لگی۔

“تو تم مجھے اپنی پرفیوم نہیں بتانا چاہتی؟”

اعظم نے یک دم اس کا ہاتھ تھامتے اسے کھینچ کر قریب کیا تھا۔

“جب میں نے کوئی پرفیوم لگائی ہی نہیں تو میں اس کا نام کیسے بتا سکتی ہوں؟”

وہ زِچ ہوئی لیکن اپنے لہجے کو تیز ہوتا محسوس کرتے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔

“میں معافی مانگتی ہوں!”

“کس چیز کی؟ پرفیوم کا نام نہ بتانے کی؟” اعظم اظہر نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔

“نہیں! یوں اونچی آواز میں۔۔۔۔۔۔”

“یہ پورشن ہمارا ہے تم بول سکتی ہو!”

وہ بے دھیانی میں میرا کہنے کی بجائے ہمارا کہہ گیا تو زارا نے اس کی پشت کو دیکھا۔

شاید اس شخص کو زیر کر لینا اتنا بھی مشکل نہیں تھا۔

ہاں اسے کوشش کرنی تھی!

وہ اس کے پاس سے جھکتی اپنا دوسرا جھمکا اٹھانے لگی جو ابھی تک نہیں پہنا تھا۔

اس کی خوشبو اب کی بار اعظم اظہر نے گہری سانس بھرتے خود میں اتاری تھی۔

اعظم نے اس کی کلائی تھامتے اسے قریب کیا اور اس کی گردن پر جھک کر اپنا ناک سہلاتے گہری سانس بھری یہ سب لمحے میں ہوا تھا۔

“مجھ سے دور رہو زارا اعظم!”

وہ اس کے نام کے آگے اپنا نام لگا گیا تھا۔۔۔۔زارا کے لبوں پر کل سے پہلی بار مسکراہٹ آئی تھی۔

“زارا اکبر!”

وہ معصوم بنتی تصحیح کرنے لگی!

“زارا اعظم اظہر! اور تصحیح ان کی کی جاتی ہے جو غلطی پر ہوں تمہیں تو ابھی میں نے کل ہی نکاح میں لیا ہے!”

وہ اپنے اوپر پرفیوم چھرکتا پھر پر چھرکتا بولا۔

“میں نہیں لگاتی یہ!”

“تمہیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے!”

وہ مسکرا کر بولا یہ اس دن سے پہلی بار تھا کہ وہ مسکرایا ہو۔

کیا وہ اس کے ساتھ کوئی گیم کھیل رہا تھا۔

“یہ سب نہیں ہونا چاہیے!” اس نے یک دم سنجیدگی سے کہا اور قدم پیچھے کی طرف اٹھائے۔

کیا؟

“واپس آؤ اپنی جگہ پر اور وضاحت دو!”

“یہی جو ہو رہا ہے! ہم دونوں اب جان گئے ہیں کہ۔۔۔’

“اپنی جگہ پر آ کر بات کرو!”

وہ سرد سے لہجے میں بولا تو وہ واپس اپنی جگہ پر آ کر کھڑی ہوئی۔

“ہم دونوں اب جان گئے ہیں کہ یہ رشتہ جلد ختم ہو جائے گا۔”

“یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا زارا اعظم اپنے اس چھوٹے سے دماغ پر زور مت ڈالو۔”

نہیں!

“کل کا کہا آپ کا ایک ایک لفظ حفظ ہے مجھے، میرے دل پر نقش ہے میں بھول نہیں پاؤں گی!”

وہ نم لہجے میں بولی پھر چھت کی طرف چہرہ کیا جیسے آنسوؤں کو حلق میں اتارنا چاہا ہو۔

“کپڑے چینج کرو!”

کیا۔۔۔؟ کیا وہ شخص پاگل تھا۔

“کپڑے کوئی اور پہنو!”

کیوں؟ زارا نے حیرت سے پوچھا۔

“مجھے یہ اچھے نہیں لگے!” وہ کندھے اچکاتا بولا۔

“آپ کو تو میں بھی اچھی نہیں لگتی ہوں!”

وہ دھیمے سے بولی لیکن اس کی آواز اعظم اظہر تک بخوبی چلی گئی تھی۔

“تم نے خود سے سوچ لیا ہے کہ تم مجھے اچھی نہیں لگتی؟”

“تمہاری خوشبو کے لیے تو اعظم اظہر کا دل کچھ بھی کر سکتا ہے اب!”

اس پر پھر سے جھکتے اس کی گردن پر لب مِس کرتے وہ پیچھے ہوا اور فون میں مصروف ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی ہو نا۔

زارا کو لگا وہ پاگل ہو جائے گی!

تیزی سے ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی اور اپنی سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

پھر لائٹ پرپل ڈریس نکالا جس رنگ کی اعظم نے شلوار کُرتا پہنا تھا اور چینج کرتی باہر نکلی۔

اعظم اظہر نے سر اٹھاتے اسے دیکھا اور کھڑا ہو گیا۔

اس کی آنکھوں میں واضح ستائش ابھری تھی لیکن وہ بولا کچھ نہیں۔

زارا کا دل تڑپا تھا کیا تھا جو وہ شخص دو بول تعریف کے بول دیتا۔

وہ تیزی سے آگے آتی بال باندھتی ائیرنگز چینج کرتی باہر نکلی جہاں وہ گیا تھا۔

پھر نیچے وہ اکٹھے گئے تھے جہاں فرشتے ازلان اور اعظم کے والدین پہلے سے موجود تھے۔

سب خوش اسلوبی سے ملے تھے اس سے۔

زارا کے گھر والوں نے اس کی بھابھی کی طبیعت خراب ہونے پر آنے سے معذرت کی تھی۔

زارا نے فوراً انہیں فون کیا تھا اعظم کے نمبر سے جہاں اسے پتا چلا تھا کہ اس کی بڑی بھابھی ایکسپیکٹ کر رہی ہیں تو وہ خوش ہو گئی اور سب کو بتاتی واپس ناشتہ کرنے لگی۔

جب اس کی نگاہ سامنے پڑی جہاں ازلان نے فرشتے کی پلیٹ میں ناشتہ نکالا تھا اور زبردستی اسے کرنے کو کہا تھا۔

اس نے اپنی خالی پلیٹ کو دیکھا۔

اعظم اظہر نے باریک بینی سے اس کی اس حرکت کا جائزہ لیا تھا کیونکہ سامنے کا منظر اس نے بھی تو دیکھا تھا۔

اس کے دل نے واضح اعلان کیا تھا کہ اعظم اظہر بس کر دو وہ تمہارے نصیب میں نہیں ہے بلکہ جو ہے تم اس کے ساتھ ناانصافی کرتے گناہ کے زمرے میں قید ہو رہے ہو۔

اس نے جوس ڈالا اور زارا کے آگے گلاس رکھا اور اس کی پلیٹ میں ناشتہ نکالا۔

ان کی ماں اپنے بیٹوں کو خوش دیکھ کر خوش تھی اور مطمئن تو اظہر صاحب بھی تھے۔

کیونکہ ان بیتے دنوں میں ان کی بیوی انہیں اچھے سے باور کروا گئی تھی کہ وہ سالوں سے ناانصافی کرتے آئے ہیں ازلان کے ساتھ۔

زارا نے سر اٹھاتے اسے حیرت سے دیکھا تو کیا اب بھی وہ دِکھاوا کر رہا تھا۔

اس کا دل ڈوبا!

زارا نے ناشتہ شروع کیا لیکن اس کے گلاس سے ہی اعظم اظہر جوس پی رہا تھا۔

اس کی لپسٹک کے اسٹین کی پرواہ کیے بغیر!

اب اس کا دل دھڑکا تھا نہیں وہ دکھاوا نہیں ہو سکتا تھا۔

وہ شخص کیا تھا! کیا چاہتا تھا! وہ جان نہیں پا رہی تھی۔

ناشتے کے دوران اس نے زارا کو سب سرو کیا تھا جیسا ازلان نے کیا تھا لیکن ان سب میں اس کا دھیان زارا نے ازلان اور فرشتے کی طرف نہیں دیکھا تھا ایک بار بھی۔

ناشتے کے بعد وہ کمرے میں واپس آئے انہیں ریسیپشن کی تیاری کرنی تھی۔

“تمہارا ڈریس الماری میں ہینگ ہے لے لو اور چیزیں سمیٹ لو تھوڑی دیر میں پارلر چھوڑ دوں گا تمہیں!” اعظم نے کہا تو زارا نے اپنی چیزیں سمیٹیں۔

اعظم باہر انتظامات دیکھنے چلا گیا کیونکہ ولیمہ ان کے لان میں ہونا تھا جس کی تیاری کل رات سے ہو رہی تھیں۔

وہ اپنی ماں اور بھائیوں سے بات کر کے انہیں مطمئن کر کے بیٹھی ہی تھی کہ دروازہ نوک ہوا۔

فرشتے ازلان تھی اس کے سامنے!

اس کے شوہر کی پہلی محبت!

وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھیں تھی۔

“تم بہت اچھی لگ رہی تھی کل زارا! اففففف اعظم بھائی نے تو کافی سراہا ہو گا تمہیں۔۔۔۔”

“اوو سوری میں زیادہ۔۔۔۔”اس کا اشارہ آپ سے تم تک آنے میں تھا۔

“کوئی بات نہیں فرشتے! میں بھی اب سے تمہیں تم ہی کہوں گی!”

“اور تعریف کا شکریہ تم بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔”

“میرا تو سانس رک رہا تھا ازلان نے مجھ سے سارے بدلے لیے ہیں مجھے وہ ڈریسز پہنا کر!”

زارا مسکرا دی! ازلان اظہر سچ میں بہت محبت کرتا تھا اس سے جو اس کے نکھرے نکھرے وجود سے معلوم ہو رہا تھا۔

اس کا دل بے چین سا ہوا! وہ شخص کہہ رہا تھا کہ اس کی خوشبو بہت اچھی ہے لیکن اس نے اپنی خوشبو کہاں نصیب کی تھی اسنے زارا کو!

“تم نے مہندی کیوں تھوڑی سے لگائی۔۔۔اعظم بھائی کو تو بہت پسند تھی مہندی!”

فرشتے بولی تو زارا نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔

“یعنی اسے مہندی پسند تھی لیکن زارا کے ہاتھوں پر نہیں!”

فرشتے کو بھی احساس ہوا۔۔۔۔

“زارا تم بہت اچھی ہو بہت پیاری۔۔۔۔کچھ بھی غلط مت سوچنا۔۔۔۔اعظم بھائی تم سے محبت کریں گے جلد مجھے یقین ہے اور پتا ہے تم محبت کیے جانے کے قابل ہو ایک دن دیکھنا وہ تمہارے لیے پاگل ہوں گے۔

اسے ازلان نے بتایا تھا کہ زارا بچپن سے انہیں جانتی ہے وہ ایک سکول میں پڑھے ہیں اور اس کے بعد کی کہانی بھی سب۔”

کیونکہ اعظم اظہر نے ازلان سے معافی مانگتے سب حل کر لیا تھا آپس میں۔

“بس مجھے مشکل لگتا ہے!” زارا نم لہجے میں بولی۔

“کچھ بھی مشکل نہیں ہے!” لیکن خود کو جُھکانا نہیں! فرشتے نے اس کا ہاتھ تھاما۔

“ایک بار وہ تمہارے چاہنے لگے تو وہ یہ بھی دھیان رکھیں گے کہ تم نے بالوں میں کس کلر کا کلپ لگایا ہے یقین کرو انہیں اپنی عادت ڈال دو کیونکہ عادت اور پسندیدگی محبت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔”

ہمممم! زارا نے تیزی سے سر ہلایا تھا۔

“تم بہت اچھی ہو فرشتے! اسی لیے تمہیں ازلان بھائی ملے۔”

اور تمہیں اعظم بھائی۔۔۔۔وہ کہتی دونوں مسکرا دیں۔

“اچھا چلو اپنا آج کا ڈریس دکھاؤ! میرا تو بہت بھاری ہے میرا تو سوچ کر سانس رکنے لگتا ہے!”

فرشتے بولی تو زارا مسکراتی اسے اپنا ڈریس دکھانے لگی۔

“بہتت خوبصورت! اس کے ساتھ پونی ٹیل کرنا تم بالکل باربی لگو گی!”

فرشتے بالکل اسے بہن سمجھنے لگی تھی کیونکہ اس کی کوئی بہن نہیں رہی تھی۔

ٹھیک ہے! زارا اس کی اتنی محبت دیکھ کر نحال ہوئی تھی اس کی بھی کہاں کوئی بہن رہی تھی۔

اعظم اظہر اندر داخل ہوا تو وہ دونوں خاموش ہوئی۔

“کیسی ہو فرشتے؟” اعظم نے گھڑی اتارتے کہا۔

“بہت اچھی!”

وہ مسکرائی تو اعظم بھی مسکرا دیا زارا کی نگاہیں صرف اعظم پر تھی جس کا دھیان بھی زارا پر تھا اس نے فرشتے کو تو کم ہی دیکھا تھا۔

“کیا باتیں ہو رہی ہیں؟”

“آپ کی بیوی کا ڈریس دیکھ رہی تھی!”

“تو کیسی لگی میری پسند!”

“خوبصورت! یہ تعریف میں نے آپ کی بیوی کی ہے ویسے!”

بہت شکریہ! اعظم مسکرا دیا گہری سانس بھرتے۔

اب میں چلتی ہوں۔۔۔۔وہ کہتی باہر نکل گئی تو اعظم دروازہ بند کرتا بستر پر نیم دراز ہوا۔

اعظم؟ زارا نے بیڈ کے دوسری طرف بیٹھتے اسے دیکھا۔

ہممم۔۔۔۔؟

“کیا آپ کو مہندی بہت پسند تھی؟” اس کے اچانک سوال پر وہ ٹھٹکا اور سر اٹھایا۔

تمہیں کس نے بتایا؟ فرشتے نے؟

“ہاں! اس نے بتایا کہ آپ کو بہت پسند تھی تو میں نے کم کیوں لگائی۔”

“اور تم نے کیا جواب دیا؟”

“کچھ بھی نہیں!” خاموشی کیونکہ میرے پاس جواب نہیں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شایان گھر آتا اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔

شاہ زیب عثمانی کو جب معلوم ہوا تو فوراً اس کے کمرے میں گئے جہانگیر عثمانی بھی پیچھے تھے۔

“تمہیں اندازہ ہے تم نے کیا کیا ہے؟

چچا ہے وہ تمہارے تم سے عمر اور رتبے میں بہت بڑے ہیں۔۔۔میری تربیت کی تو لاج رکھ لیتے۔”

“میں شرمندہ ہوں بابا جان!

معافی مانگ لوں گا ان سے لیکن اس وقت میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں!” وہ بولا تو شاہ زیب عثمانی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

اگر وہ شرمندہ تھا تو اس کا مطلب تھا وہ اپنی غلطی سدھارنے کے لیے کچھ بھی کرتا اس لیے وہ مطمئن ہوتے باہر نکل گئے۔

لیکن جہانگیر عثمانی نہیں گئے وہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگے جو فریش ہونے گیا تھا۔

“دادا جان!”

آپ مجھے آواز دے دیتے وہ شرمندہ ہوا کیونکہ وہ کافی وقت شاور کے نیچے دل میں لگی آگ کم کرتا رہا تھا۔

“کیا ہوا میرے شیر؟” وہ بولے تو وہ مسکرا دیا ان سے بہتر کون جانتا تھا اسے۔

“بس شرمندہ ہوں خود سے نفرت ہو رہی ہے! میں نے کیا کر دیا؟”

“ان سب میں تمہارا قصور نہیں رہا!” وہ ساری بات اس سے سننے لگے خاموشی کے بعد کیونکہ انہیں پتا تھا وہ خود ہی انہیں سب بتا دے گا۔

‘میں نے خود ساختہ نفرت میں کتنے سال گزار دیے! میں نے کبھی ڈھونڈنا ہی نہیں چاہا دادا جان کہ میرے نام سے منسوب وہ لڑکی کہاں اور کس حال میں ہے؟

کیا مرد اتنے غیر زمہ دار بھی ہوا کرتے ہیں؟”

“آپ کہتے ہیں نا کہ ہم اپنی تربیت کی عکاسی کرتے ہیں تو دیکھیں میں نے بھی وہی کیا جو مجھے سکھایا گیا۔

مجھے لگتا ہے ہم عورتوں کی تربیت پر بہت زور دیتے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے اس معاشرے میں سب سے زیادہ تربیت کی ضرورت ایک مرد کو ہے۔”

“جسے سکھایا جائے کہ معاشرے میں جینا کیسے ہے؟ جسے سکھایا جائے کہ اپنی محرم عورتوں کو تحفظ کیسے فراہم کرنا ہے؟ اس کا لہجہ نم ہوا تو وہ خاموش ہو گیا۔”

“وہ مجھے معاف نہیں کرے گی!”

“کر دے گی میری جان! وہ آپ کے نکاح میں ہے۔۔۔۔

عورتوں میں بہت ہمت ہوتی ہے آپ شوہر ہیں اس کے۔”

“کاش مردوں میں بھی ایسے حوصلے ہوتے، ہم بھی یوں ہی عورتوں کو معاف کر دیتے، ان کی غلطیوں کے بعد انہیں گناہگار نہ ٹہراتے اور نرمی برتتے۔”

“میرا شیر سب ٹھیک کر لے گا!”

“مجھے ٹھیک کرنا پڑے گا! آپ جانتے ہیں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔”

“ہاں مجھے معلوم ہے اور معاملہ مخالف سمت بھی کچھ ایسا ہی ہے!” وہ بولے تو وہ مسکرا دیا۔

کونین خاور کی محبت پر یقین نہ کرنا گناہ کے مترادف تھا۔

“اب سو جاؤ! صبح مجھے اپنا شیر واپس چاہیے اور خاور سے تم معافی مانگو گے اور اسے واپس لانے کی زمہ داری بھی تمہاری ہے۔”

“میں پوری کوشش کروں گا!”

اور تمہاری ماں!

“وہ ماں ہیں میری۔۔۔ہزار نفرت یا ناپسندیدگی کا دعویٰ کر لوں رہیں گی تو ماں ہی لیکن ناراضگی رہے گی۔۔۔اور شکوہ سالوں تک۔

لیکن شاید جب میں باپ بن جاؤ تو ہو سکتا ہے معاف کرنا آسان ہو جائے میرے لیے۔۔۔۔۔”اس کی ماں بھی اس کی اتنی ہی گناہگار رہی تھی اپنی بہن کا ساتھ دے کر۔

“تو مطلب اسے تمہارے بچوں کا انتظار کرنا ہو گا؟” وہ شرارت سے بولے۔

“پہلے بیوی کو تو منا لوں اپنی!”

وہ منہ لٹائے بولا تو اس کا چہرہ تھامتے دعا دیتے باہر نکل گئے۔

اس نے کونین کا نمبر ملایا جو نہیں اٹھایا گیا تھا۔

اسے ہر حال میں اس لڑکی کو منانا تھا۔

اس نے وہ رات آنکھوں میں گزاری تھی جبکہ دوسری طرف کونین کا بھی یہی حال تھا۔

ہزار ناراضگی، بے حد غصہ لیکن کیا اسے شایان عثمانی پر بھری محفل میں ہاتھ اٹھانا چاہیے تھا؟

نہیں! بالکل نہیں! اس نے اخلاق سے گِری حرکت کی تھی۔

کیا ہوتا اگر وہ ایک روائتی مرد کی طرح خود پر سے پہرے ہٹائے اس کے تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دیتا وہ ہل کر رہ گئی۔

لیکن جو بھی تھا وہ شخص غلط تھا ہر حال میں۔

اسے کے ڈرائیور کے انکشافات اور اس شخص کا محفل میں اسے عزت دے جانا سب ہی اسے معتبر کر گیا تھا۔

لیکن اسے ہمیشہ سے لگتا تھا کہ محبت میں شایان عثمانی اس سے پیچھے ہے۔

اس نے اس رشتے میں بہت ایفرٹس ڈالے تھے اور شاید ایک رشتے میں آپ کی طرف سے بڑھائے جانے والے قدم ہی تو معنی رکھتے ہیں۔

کاش مرد عورت کی محبت کی پیمائش کر سکتے تو وہ جان جاتے کہ عورتیں اپنا آپ لٹا سکتی ہیں ان کے لیے۔

کاش مرد بھی ان سے محبت میں مر مٹنے کو تیار ہوتے اور تاریخ رقم کرتے۔

ایک عام لڑکی ساری عمر ہی تو ایک بہترین شخص مانگتی ہے اور آخر میں اگر وہ بھی نہ ملے تو کیا یہ ناانصافی نہیں!

لیکن رب العالمین کے کاموں کو کون بہتر جان سکتا ہے۔

بہر حال جب تک وہ شخص اس کے باپ سے معافی نہیں مانگتا وہ اسے معاف نہیں کرنے والی تھی۔

اس کے باپ سے بڑھ کر تو کچھ بھی نہیں تھا نہ شوہر، نہ یہ رشتہ!

وہ تکیے پر سر رکھے آخری بار رو دی اپنی محرومیوں پر۔۔۔۔کبھی کبھی ایسے ہی رو لینا اچھا ہوتا ہے۔

کم از کم تکیے آپ کے راز تو کسی کو نہیں بتاتے، آپ کو رسوا تو نہیں کرتے۔۔۔تکیے بہترین ساتھی ہوتے ہیں آپ کی خوشی سے بڑھتی مسکرائے جانے کے، آپ کے بڑھتی ہوئے درد کو برداشت کرنے پر نکلتے آنسوؤں کے۔

اور اس نے بھی یہی کیا تھا۔

لیکن یہ تو طے تھا کہ شایان عثمانی سے علیحدگی کسی صورت ممکن نہیں تھی اور وہ جانتی تھی ایسا ممکن وہ ہونے بھی نہیں دے گا۔

لیکن کیا تھا اگر اسے تھوڑا ستایا جاتا! محبت کی ایک آخری آزمائش وہ مسکراتی آنکھیں موند گئی۔

نجانے وہ کب حقیقت سے آشنا ہوتا اس کے سامنے موجود ہو گا! وہ آپ بھرتی آنکھیں موند گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی چیزیں اسے تھماتے وہ اندر لایا اور اسے سب سے ملواتے سائیڈ پر بٹھایا کیونکہ وہ سب سے مل کر اب تھک رہی تھی اور خود مصروف ہو گیا تھا۔

فرشتے سارے فنکشن اداس سی رہی تھی نجانے وہ کیا فیصلہ سنانے والا تھا۔

“اففف!”

اس نے تنگ آ کر گہری سانس بھری اور سر اٹھایا اس سے کچھ دور کھڑا ایک شخص اس کی اس حرکت پر نحال سا ہوا تھا۔

وہ سمٹ گئی اور ازلان کو دیکھا جو سامنے موجود اس پر ہی نگاہیں ٹکائے ہوا تھا اس کے پاس آیا۔

اور اس کے سامنے کھڑے ہوتے اسے اپنے پیچھے بالکل چھپا سا لیا تو وہ شخص سیدھا ہوا۔

ازلان نے مڑ کر اسے سرخ نگاہوں سے گھورا تو وہ شرمندہ ہوتا وہ جگہ چھوڑ گیا۔

“مجھے واقع تمہیں اتنا تیار نہیں کروانا چاہیے تھا!”

وہ سنجیدگی سے بولا تو فرشتے کو لگا وہ غصہ ہوا ہے۔

“آئم سوری وہ۔۔۔۔۔”

“کھانا لگ گیا ہے کیا کھاؤ گی؟”

“میں ڈال لوں گی ازلان سب ہمیں دیکھ رہے ہیں؟” وہ جھنپ گئی تھی۔

“تو؟ کیا فرق پڑتا ہے؟”

“نظر لگ جاتی ہے نا! پلیز سمجھیں!’

وہ ہمیشہ سے نظرِ بد پر بہت یقین رکھتی تھی کیونکہ اسے لگ بھی جاتی تھی اور اس کا ماننا تھا کہ خوشبیوں کو محدود لوگوں میں منایا جائے۔

“اچھا ٹھیک ہے!”

ازلان ہٹا اور اس کی پلیٹ تیار کر کے اس کے سامنے رکھی اور واپس چلا گیا۔

شاید وہ دونوں بھائی اپنے رشتے میں موجود ساری غلط فہمیاں دور کر چکے تھے اس نے سامنے موجود ان دونوں کو کسی بات پر قہقہہ لگاتے دیکھ یہی اخذ کیا تھا۔

جبکہ حقیقت بھی یہی تھی ازلان نے واپس آنے کا اعظم کو ہی بتایا تو وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہوا اور بُرا تو ازلان کو بھی لگا تھا۔

جو بھی تھا وہ واقف تھا اعظم کی پنسدگی سے اور یہ شاید ایک عام سا ردّعمل تھا جو ہر انسان کا ہوتا لیکن وہ اپنے غصے کی وجہ سے ہر چیز کو شدید سخت صورتحال بنا چکا تھا۔

واپسی پر وہ دونوں ملے تھے۔

“بھائی آئیم سوری!” ازلان نے کہا تو اعظم مسکرا دیا۔

“بڑی جلدی شرم نہیں آگئی؟”

“بھائی یار۔۔۔۔۔!”

وہ دونوں کافی اچھے دوست رہے تھے لیکن ان میں دوریاں تب بڑھی جب ازلان کا فرشتے سے نکاح ہوا اس کے بعد اسے ڈر تھا کہ کہیں اعظم فرشتے کو محبت کا یقین دلاتے اُس سے چھین نا لے۔

“کہیں یہ سب اس لیے تو نہیں کہ میں شادی کر رہا ہوں؟”

“کیا آپ سیریس ہیں زارا کے ساتھ؟ “

اعظم نے ازلان کو زارا کے بارے میں سب بتایا تھا سوائے اس بات کے کہ زارا نے اسے خود اپروچ کیا تھا یہ بات ہمیشہ راز رہنے والی تھی۔

“ہاں بس ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہارے بچے پہلے اس دنیا میں آئیں اور تم نمبر لے جاؤ!”

“ہاہاہا بھائی۔۔۔۔فرشتے ابھی خود بچی ہے!”

“ہاں اور زارا بھی۔۔۔۔ہمیں کافی ٹف ٹائم ملنے والا ہے۔”

“لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے۔۔۔۔۔کافی اچھی بچی ہوا کرتی تھی وہ۔۔۔ازلان کو زارا اب بھی تھوڑی بہت یاد تھی۔”

“اب وہ بچی نہیں رہی اس لیے اچھی بھی نہیں رہی!” ہاہاہاہا وہ کافی دیر بعد ملے تھے اسی لیے اتنے خوش تھے کہ قہقہے تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

“بچ کر رہیں مجھ سے میں بتا دوں گا اسے!”

“خبردار! اور یہ تم کیا ہوتا ہے بھابھی ہے تمہاری!”

“مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا وہ مجھ سے بہت سال چھوٹی ہے اور دیکھنے میں بھی وہ کہیں سے نہیں لگتا بھابھی جیسا بڑا لفظ اٹھا پائے گی” ازلان نے کندھے اچکاتے کہا تو اعظم مسکرا دیا۔

“تم خوش ہو ازلان؟ فرشتے سے سب۔۔۔۔’

“سب ٹھیک ہے بھائی۔۔۔اس نے بہتتت تنگ کیا ہے مجھے! بدلہ لوں گا میں لیکن ابھی معافی بھی تو مانگنی ہے اس سے۔”

“تم نے کافی دل دُکھایا ہے اس کا! اعظم بولا۔”

ہاں جانتا ہوں!

“گھر میں سب بہت خوش ہوں گے تمہاری واپسی پر!

سب نہیں بس ماما!” ازلان گہری سانس بھرتا بولا۔

ایسی بات نہیں ہے ازلان ڈیڈ بھی تم سے محبت کرتے ہیں بس تمہاری غیر زمہ داری اور غصے سے خائف رہتے تھے۔

“نہیں وہ صرف آپ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔آپ کو فوقیت دیتے ہیں پھر بیشک آپ غلط بھی ہوں” وہ بولا تو خاموشی چھا گئی۔

آئیم سوری!

“کوئی بات نہیں! تم کسی حد تک ٹھیک ہو!”

“لیکن دیکھیں میں نے سب ان کے بغیر کیا ہے آنے والے سالوں میں ان سے زیادہ ہی کماؤں گا میں!” وہ اتراتے بولا۔

“شرم آرہی ہے باپ سے مقابلہ کرتے!’

“اچھا جلدی چلیں نا!”

وہ اسے اپنے بارے میں بتانے لگا کہ کیسے وہ اسی کی بارات کے دن فرشتے کو بھی اپنا فیصلہ سنائے گا اور اکھٹا ولیمہ کریں گے۔

غلط فہمیوں کے بادل چھٹ گئے تو گاڑی میں ماضی کی طرح ان کے قہقہے گونجنے لگے۔

اچھا ہوتا ہے غلط فہمیوں کو دور کر لینا۔۔۔رشتوں کو وقت دینا۔۔۔اور نئے مواقع فراہم کرنا سالوں سال دشمنی سے صرف دل زنگ آلود ہوتے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

لیکن اعظم اظہر نے اپنے ڈیڈ سے ازلان کے بارے میں بات کرنے کی ٹھانی تھی۔

وہ واقعی کہیں نا کہیں ناانصافی کرتے آئے تھے اور کھلے عام بولا کرتے تھے کہ اعظم ان کا پسندیدہ بچہ ہے جو عام بات قطعاً نہیں تھی۔

ماں باپ کا کسی بچے کے بارے میں ایسا کہنا مناسب ہی نہیں ہے یہ دوسرے بچوں کو ان سے دور اور احساسِ کمتری کا شکار کرتا ہے۔

فرشتے نے کھانا کھایا اور ازلان کو دیکھا جو رخصتی میں مصروف تھا۔

وہ جب سے آئی تھی اسی کرسی پر بیٹھی تھی۔

ازلان کے والدین اس سے اچھے سے ملے تھے اور ازلان انہیں بتا چکا تھا اپنے فیصلے کے بارے وہ ابھی اپنی ماں کے زریعے جس سے اس کے باپ کو کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ اعظم اب اپنی زندگی میں آگے بڑھ گیا تھا۔

چلو!

“میں تھک گئی ہوں!” فرشتے نے اس کے ہاتھ میں ہاتھ رکھتے کہا۔

“تھکاوٹ میں دور کر دوں گا جانِ جاناں!”

ازلان نے اس پر جھکتے کہا تو وہ ٹھٹکی اس کے اس انداز پر۔

“بوا انتظار کر رہی ہوں گی اور۔۔۔۔”

“بوا اپنے گھر جا چکی ہیں!” وہ قدم بڑھاتا بولا۔

“کیوں؟”

“کیونکہ اب ان کا کام نہیں تھا اور کب تک ان کو اپنے پیچھے زلیل کرو گی ان کا بھی حق ہے اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ رہنے ک”ا وہ بولا تو فرشتے خاموش ہو گئی۔

“اچھا مجھے گھر چھوڑ دیں اور ولیمے پر میں ایسا کچھ بالکل نہیں پہنوں گی۔”

“یہ سب بعد میں ڈیسائید کریں گے! “

ازلان نے گاڑی میں بٹھاتے اس کا لہنگا اختیاط سے سمیٹا اور اس کی باقی چیزیں پہلے کی طرح بیک سیٹ پر رکھیں۔

“مجھے کپ کیک کھانا ہے!” اس کی بے ڈھنگی فرمائش پر ازلان نے حیرت سے دیکھا۔

“وہاں میٹھا نہیں کھایا تھا۔”

“نہیں کیونکہ وہاں کپ کیک نہیں تھا” وہ کندھے اچکا گئی۔

ازلان نے کپ کیکس کی دکان پر گاڑی روکی۔

“نہیں یہاں سے نہیں۔”

تو؟

“لئیرز سے کھانا ہے!” فرشتے نے منہ بسوڑتے کہا۔

“وہ راستہ بالکل مختلف ہے فرشتے کافی دیر ہو جائے گی اور تم پہلے ہی تھک گئی ہو کل۔۔۔۔”

“آج اور بالکل ابھی! مجھے کھانے ہیں۔۔۔۔!”

وہ بضد ہوئی تو ازلان نے گاڑی چلائی اور اسے کپ کیسی دلوائے جو وہ کھانے لگیں۔

“اب پیاس لگی ہے!”

وہ کچھ دیر بعد بولی تو ازلان کی نظر اس کے ہاتھوں پر گئی کچھ کپ کیک کی چاکلیٹ اس کے ہاتھوں پر اور کچھ لبوں پر لگی تھی۔

“تم بچوں کی طرح کھا رہی ہو!” وہ بالکل نہیں چاہتا تھا وہ اپنا میک اپ خراب کرے۔

“ہاں تو! اب تو ہم گھر ہی جا رہے ہیں۔’

اس نے ہاتھ صاف کیے اور چہرے کی طرف ٹشو بڑھایا تو ازلان نے ٹشو کا ڈبہ اس کی پہنچ سے دور لیا۔

“کیا مسئلہ ہے ازلان؟”

“یہ میں صاف کر دوں گا اور خبردار تم نے اور کھایا تو بھوکی ندیدی ہی ہو گئی ہو تم تو!” ازلان نے ڈبٹا تو وہ چہرہ پھیر گئی۔

دل کی دھڑکنیں کہاں ترتیب سے چل رہی تھیں۔

اففف وہ کیا چاہتا تھا۔

“ہم یہاں کیوں؟” اس نے ازلان کے گھر کے اندر گاڑی داخل ہوتے دیکھ کر پوچھا۔

“میرا گھر ہے یہ!”

“ہاں لیکن۔۔۔۔میرا تو ۔۔۔۔”

“تم میری بیوی ہو تو یہی تھکانہ ہے اب سے تمہارا لیکن اس کے بعد کے پلینز میرے کچھ اور ہیں فلحال اترو!”

“نہیں! عجیب لگے گا میں نہیں اتروں گی۔”

“کچھ عجیب نہیں لگے گا سب کو معلوم ہے اور مہمان بھی نہیں ہیں زیادہ آج واپس جا چکے ہیں اور جو ہوئے بھی وہ سو گئے ہوں گے رات کے دو بج رہے ہیں۔

اور تم بیوی ہو میری گرل فرینڈ نہیں!”

“ازلان پلیزززز!”

“فرشتے مجھے سختی پر مجبور نہ کرو!’

ازلان نے اترتے اس کی چیزیں اٹھائی اور اسے مدد دیتے باہر نکلنے میں مدد دی اور اندر داخل ہوا تو واقعی کوئی نہیں تھا۔

ازلان! اپنی ماں کی آواز سنتے وہ مڑا۔

“ایسے لاتا ہے کوئی بہو کو خوری چھپے۔۔۔۔”

‘ایسے ہی لانا پڑا جتنی آپ کی بہو ڈرپوک اور شرمیلی ہے لوگوں کے سامنے بیہوش ہو کر گر پڑتی وہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا” میں وہ بولا۔

تو انہوں نے اسے گھورا اور فرشتے کو پیار دیا اور دعائیں دیتی چلی گئیں تو وہ اسے لیتا اپنے پورشن میں آیا۔

اعظم کے سامنے والا حصہ اسکا تھا جو بند تھا سارا۔۔۔۔گلاس والز کے اندر ٹی وی لاؤنج، کمرے، کچن سب علیحدہ تھا ان دونوں بھائیوں کا شروع سے۔

اس نے چیزیں وہیں صوفے پر رکھیں اور باہر کی ساری لائیٹس بند کرتا اندر داخل ہوا جہاں فرشتے دروازے پر ہی کھڑی تھی۔

کمرہ خوبصورتی سے سجا تھا اور سامنے ہی دیوار پر پھولوں سے بڑا بڑا سوری لکھا تھا۔

فرشتے نے ڈبڈبائی آنکھوں سے وہ سب دیکھا۔

ازلان نے پیچھے سے اسے حصار میں لیتے اس کے کندھے پر تھوڈی ٹکائی۔

“جانِ جاناں خوش آمدید!”

اس گھر میں اور اس کمرے میں کیونکہ دل میں تو آپ بہت سالوں سے براجمان ہیں وہ کہتا اسکی گردن پر جھکا تو فرشتے دور ہوئی۔